|
#کھانے پينے کي چيزوں کے احکام:
}(٢٦٢٠)اس پرندے کا گوشت کھانا کہ جس کے شاہين کي طرح پنجے ہيں
حرام ہے۔ پرستو حلال ہے اور ہدہد کاکھانا مکروہ ہے۔
}(٢٦٢١)اگر زندہ جانور سے کوئي ايسي چيز جداکي جائے کہ جس ميںجان
ہوتي ہے مثلاً دنبے کي چربي يا زندہ دنبے کے گوشت کا کچھ حصہ کاٹ
ليں تو وہ نجس اور حرام ہے۔
}(٢٦٢٢)پندرہ چيزيں حلال گوشت جانوروں کي حرام ہيں:
١۔ خون ٢۔ فضلہ ٣۔ آلہ تناسل ٤۔ مادہ کا مقام پيشاب
٥۔ بچہ داني اور بنابر احتياط واجب جفت ٦۔ وہ غدوديں کہ جنہيں دشول
کہتے ہيں
٧۔ خصيتين ٨۔ وہ چيز جو کہ کھوپڑي کے مغز ميں چنے کے دانوں کي
مانند ہے۔
٩۔ حرام مغز جو کہ ريڑھ کي ہڈي کے دونوں طرف ہوتے ہيں ١٠ ۔ وہ پٹھے
جو کہ ريڑھ کي ہڈي کے دونوں طرف ہوتے ہيں
١١۔ پتہ ١٢۔ تلي ١٣۔ مثانہ ١٤۔آنکھ کا ڈھيلا
١٥۔ وہ چيز کہ جو سموں کے درميان ہوتي ہے اور اسے ذات الاشاجع کہتے
ہيں۔
}(٢٦٢٣)گوبر اور اس غلاضت کا کھانا پينا جو ناک سے پاني کي صورت
ميں نکلتي ہے حرام ہے اور احتياط واجب يہ کہ دوسري ان چيزوں سے بھي
اجتناب کريں کہ جو خبيث ہيں اور ان سے طبيعت نفرت کرتي ہے البتہ
اگروہ چيز پاک ہو اور اس کا کچھ حصہ حلال چيز کے ساتھ اس طرح مل
جائے کہ لوگوں کي نگاہ ميں وہ کالعدم ہو تو اس کے کھانے ميں کوئي
اشکال نہيں۔
}(٢٦٢٤)تھوڑي سي تربت سيد الشہدائ عليہ السلام شفا کے لئے کھانا
اور داغستاني اور ارمني مٹي کا علاج کے طور پر استعمال کرنا اگر
علاج ان کے کھانے ميںمنحصر ہوتو کوئي اشکال نہيں۔
}(٢٦٢٥)ناک کے پاني اور سينہ کے اخلاط جو کہ منہ ميں آجاتے ہيں
انہيں نگل جانا حرام نہيں ہے اور اسي طرح کھانے کے ايسے ٹکڑوں کو
نگل جانا جو کہ خلال کرتے وقت دانتوں کے درميان سے باہر آجاتے ہيں
اگر طبيعت ان سے نفرت نہ کرے تو ان ميں کوئي اشکال نہيں ۔
}(٢٦٢٦)ايسي چيزوں کا کھانا جو انسان کے لئے مضر ہے حرام ہے۔
}(٢٦٢٧)گھوڑے خچر اور گدھے کا گوشت کھانا مکروہ ہے اور اگر کوئي
شخص ان سے وطي کرلے تو پھر وہ حرام ہو جائيں گے اور انہيں شہر سے
باہر لے جاکر کسي اور جگہ بيچ ديا جائے۔
}(٢٦٢٨)اگر گائے بھيڑ بکري يا اونٹ کے ساتھ کوئي وطي کرے تو ان کا
پيشاب اور گوبر نجس اور ان کا دودھ پينا بھي حرام ہوجائے گا اور
بغير تاخير کئے اس جانور کو ذبح کرکے جلاديا جائے اور جس نے اس
جانور کے ساتھ وطي کي ہے وہ اس کي قيمت اس کے مالک کو ادا کرے بلکہ
اگر کسي اور جانور کے ساتھ وطي کرے تو اس کا دودھ بھي حرام ہوجائے
گا۔
}(٢٦٢٩)شراب کا پينا حرام ہے اور بعض روايات ميں اسے بہت بڑا گناہ
شمار کيا گيا ہے اور اگر کوئي شراب کو حلال سمجھے جب کہ وہ اس طرف
ملتفت ہو کہ اس کو حلال سمجھنے کا لازمہ تکذيب خدا اور رسول ہے تو
وہ کافر ہے۔ حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام سے روايت ہے کہ شراب
برائي کي جڑ اور گناہوں کے نشوونما کي جگہ ہے اور جو شخص شراب پيتا
ہے وہ اپني عقل کھوبيٹھتا ہے اور اس وقت وہ خدا کو نہيں پہچانتا
اور کسي گناہ کي پرواہ نہيں کرتا اور کسي کے احترام کو مدنظر نہيں
رکھتا اور اپنے قريبي رشتہ داروں کے حق کي رعايت نہيں کرتا اور
واضح برائيوں سے منہ نہيں پھيرتا۔ روح ايمان اور خدا کي معرفت اس
کے بدن سے نکل جاتي ہے اور ناقص خبيث روح اس کے بدن ميں باقي رہ
جاتي ہے جو کہ رحمت خدا سے دور ہے اور خدا و فرشتے و انبيائ اور
مومنين اس پر لعنت کرتے ہيں اور چاليس دن تک اس کي نماز قبول نہيں
ہوتي اور قيامت کے دن اس کا منہ کالا ہوگا اور اس کي زبان منہ سے
نکلي ہوگي اور اس کا لعاب دہن اس کے سينہ پر پڑ رہا ہوگا اوراس سے
العطش (پياس)کي صدا بلند ہورہي ہو گي۔
}(٢٦٣٠)جس دسترخوان پر شراب پي جاتي ہو اگر انسان ان ميں سے شمار
ہوجائے تو اس کو وہاں نہيں بيٹھنا چاہيے۔اور اس پر کچھ کھانے سے
اجتناب کرے۔
}(٢٦٣١)ہر مسلمان پر واجب ہے کہ اس کے نزديک اگر کوئي دوسرا مسلمان
بھوک ياپياس سے مررہا ہو تو اس کو کھانا پاني دے کر موت سے نجات
دلائے۔
#وہ چيزيں جو کھانا کھاتے وقت مستحب ہيں :
}(٢٦٣٢)کھانا کھاتے وقت چند چيزيں مستحب ہيں:
١۔ کھانا کھانے سے پہلے دونوں ہاتھ دھوئے۔
٢۔ کھانا کھانے کے بعد ہاتھ دھو کر رومال سے خشک کرے۔
٣۔ ميزبان سب سے پہلے شروع کرے اور سب سے آخر ختم کرے۔ کھانا کھانے
سے پہلے ميزبان ہاتھ دھوئے۔ اس کے بعد وہ شخص جو اس کے دائيں طرف
بيٹھا ہے اور اسي طرح دھوتے جائيں يہاں تک کہ نوبت اس شخص تک پہنچے
جو اس کے بائيں طرف بيٹھا ہے اور کھانا کھانے کے بعد سب سے پہلے وہ
شخص ہاتھ دھوئے جو ميزبان کے بائيں طرف ہے۔ اسي طرح دھوتے جائيں
يہاں تک کہ ميزبان کے دائيں طرف بيٹھنے والے کي نوبت آئے۔
٤۔ کھانے کي ابتدائ ميں بسم اللہ کہے۔ البتہ اگر ايک دسترخوان پر
کئي قسم کے کھانے ہوں تو ہر کھانا کھاتے وقت بسم اللہ کہنا مستحب
ہے۔
٥۔ دائيں ہاتھ سے کھانا کھائے۔
٦۔ تين يا تين سے زيادہ انگليوں کے ساتھ کھانا کھائے اور دو
انگليوں سے نہ کھائے۔
٧۔ اگر چند آدمي ايک دسترخوان پر بيٹھے ہوں تو ہر شخص اپنے سامنے
پڑے ہوئے کھانے سے کھائے۔
٨۔ چھوٹے چھوٹے لقمے اٹھائے۔
٩۔ دسترخوان پر زيادہ دير بيٹھے اور کھانا کھانے ميں طول دے۔
١٠۔ کھانا خوب چبائے۔
١١۔ کھانے کے بعد حمد خدا بجالائے۔
١٢۔ انگليوں کو چاٹے۔
١٣۔ غذا کے بعد خلال کرے، البتہ انار ، ريحان اور نے کي لکڑي اور
کھجور کے پتوں سے خلال نہ کرے۔
١٤۔ دسترخوان سے باہر جو ٹکڑے گريں انہيں جمع کرکے کھالے، البتہ
اگر بيابان ميںکھارہا ہے تو مستحب ہے جو کچھ گرے وہ پرندوں اور
جانوروں کے لئے رہنے دے۔
١٥۔ اول صبح اور سر شام کھانا کھائے اور دن کے وسط اور رات کے وسط
ميں کھانا نہ کھائے۔
١٦۔ کھانا کھانے کے بعد چت ليٹے اور داياں پاو ں بائيں پاو ں پر
رکھے۔
١٧۔ کھانے کي ابتدائ اور آخر ميں نمک کھائے۔
١٨۔ پھل کو کھانے سے پہلے دھولے۔
#وہ چيزيں جو کھانا کھاتے وقت مکروہ ہيں :
}(٢٦٣٣)چند چيزيں کھانا کھاتے وقت مکروہ ہيں
١۔ سيري کي حالت ميں کھانا کھانا۔
٢۔ زيادہ کھانا، روايت ميں ہے کہ ہر چيز سے زيادہ خداوند عالم کو
پرشکم برا لگتا ہے۔
٣۔ کھانا کھاتے وقت دوسروں کے چہرے کي طرف ديکھنا۔
٤۔ گرم کھانا کھانا۔
٥۔ جو چيز کھايا پي رہا ہے اس ميں پھونکنا۔
٦۔ دسترخوان پر روٹي رکھنے کے بعد کسي دوسري چيز کا انتظار کرنا۔
٧۔ چھري سے روٹي کاٹنا۔
٨۔ کھانے کے برتن کے نيچے روٹي رکھنا۔
٩۔ جو گوشت ہڈي پر لگا ہوا ہے اس کو اتنا صاف کرنا کہ اس ميں کوئي
چيز باقي نہ رہے۔
١٠۔ پھلوں کاچھلکا اتارنا۔
١١۔ پورے طور پر کھالينے سے پہلے پھلوں کو پھينک دينا۔
#پاني پينے کے مستحبات :
}(٢٦٣٤)پاني پيتے وقت چند چيزيں مستحب ہيں:
١۔ پاني چوس کر پئے۔
٢۔ دن کے وقت کھڑے ہو کر پاني پئے۔
٣۔ پاني پينے سے پہلے بسم اللہ اور پينے کے بعد الحمد للہ کہے۔
٤۔ تين سانس ميں پاني پئے۔
٥۔ خواہش اور ميل پر پاني پينا۔
٦۔پاني پينے کے بعد حضرت امام حسين ٴ اور ان کے اہل بيت کو ياد کرے
اور ان کے قاتلوں پرلعنت کرے۔
#پاني پينے کے مکروہات :
}(٢٦٣٥)زيادہ پاني پينا اور مرغن غذا کھانے کے بعد پاني پينا اور
رات کو کھڑے ہو کر پاني پينا مکروہ ہے اور اسي طرح بائيںہاتھ سے
لوٹے کي ٹوٹي ہوئي جگہ سے اور اس کے دستے والي جگہ سے پاني پينا
مکروہ ہے۔
|