جانوروں کے ذبح اور شکار کرنے کے احکام

     جانوروں کے ذبح کرنے کا طريقہ
     جانور کے ذبح کرنے کے شرائط
     اونٹ کے نحر کرنے کا طريقہ
     وہ چيزيں جو جانوروں کے ذبح کرنے کے وقت مستحب ہيں
     ہتھيار سے شکار کرنے کے احکام
     شکاري کتے کے ساتھ شکارکرنا
     مچھلي کا شکار
     ٹڈي کا شکار

#جانوروں کے ذبح اور شکار کرنے کے احکام :
}(٢٥٧٩)اگر حلال گوشت جانور کو اس طريقہ پر ذبح کيا جائے جو کہ بعد ميں بيان کياجائے گا۔ چاہے وہ جنگلي ہو يا اہلي توجان نکلنے کے بعد اس کا گوشت حلال اور اس کا بدن پاک ہے البتہ وہ جانور کہ جس سے کسي انسان نے وطي کي ہو اور وہ جانور کہ جو نجاست کھاتا ہو اگر اس طريقہ پر جو شريعت نے معين کيا ہے اس کا استبرائ نہ کيا گيا تو اس کے ذبح کرنے کے بعد اس کا گوشت حلال نہيں۔
}(٢٥٨٠)حلال گوشت جانور جو کہ وحشي و جنگلي ہے مثلاً ہرن ، چکور اور پہاڑي بکري اور وہ حلال گوشت جانور جو اہلي تھے ليکن بعد ميں وحشي بن گئے مثلاً گائے اور اونٹ جو کہ اہلي تھے اور بھاگ جانے سے وحشي ہوگئے تو اگر دستور کے مطابق جو بعد ميں بيان کيا جائے گا انہيں شکار کيا جائے تو وہ پاک اور حلال ہے البتہ حلال گوشت جانور مثلا ًگوسفند اور مرغ خانگي اور حلال گوشت وحشي جو تربيت کرنے سے اہلي ہو گيا ہو وہ شکار کرنے کي وجہ سے پاک اور حلال نہيں ہوگا۔
}(٢٥٨١)حلال گوشت وحشي جانور اس وقت شکار کرنے سے پاک اور حلال ہوتا ہے جبکہ وہ بھاگ يا اڑ سکتا ہو۔ اس بنائ پر ہرن کا وہ بچہ جو بھاگ نہ سکتا ہو اور چکور کا وہ بچہ جو اُڑ نہ سکتا ہو وہ شکارکرنے سے پاک اور حلال نہيں ہوگا اور اگر ہرن اور اس کے اس بچہ کو جو کہ بھاگ نہيں سکتا ايک تير سے شکار کريں تو ہرن حلال اور بچہ حرام ہوگا۔
}(٢٥٨٢)وہ حلال گوشت جانور مثلاً مچھلي کہ جو خون جہندہ نہيں رکھتا اگر خودبخود مرجائے توپاک ہے ليکن اس کا گوشت نہيں کھاسکتے۔
}(٢٥٨٣)حرام گوشت جانور جو کہ خون جہندہ نہيں رکھتے مثلاً سانپ تو وہ ذبح کرنے سے حلال نہيںالبتہ اس کا مردہ پاک ہے۔
}(٢٥٨٤)کتا اور خنزير ذبح کرنے يا شکار کرنے سے بھي پاک نہيں ہوتے اور ان کا گوشت کھانا بھي حرام ہے اور حرام گوشت جانور جو درندے ہيں اور گوشت کھاتے ہيں مثلاً بھيڑيا اور چيتا، اگر اس دستور کے مطابق جو بعد ميں بيان کيا جائے گا ان کو ذبح کيا جائے يا تير وغيرہ سے ان کا شکار کيا جائے تو وہ پاک ہيں ليکن ان کا گوشت حلال نہيں ہوگا اور اگر شکاري کتے کے ذريعے ان کا شکار کيا جائے تو ان کے بدن کا پاک ہونا بھي مشکل ہے۔
}(٢٥٨٥)ہاتھي، ريچھ ، بندر ، چوہا اور وہ جانور جو سانپ اور سوسمار کي طرح زمين ميں زندگي گزارتے ہيں اگر وہ خون جہندہ رکھتے ہوں اور خودبخود مرجائيں تونجس ہيں بلکہ اگر انہيں ذبح کرديں يا ان کا شکار کريں تو بھي ان کے بدن کا پاک ہونا مشکل ہے۔
}(٢٥٨٦)اگر زندہ جانور کے شکم سے مردہ بچہ باہر نکلے يا اسے نکالا جائے تو اس بچہ کا گوشت کھانا حرام ہے۔
#جانوروں کے ذبح کرنے کا طريقہ :
}(٢٥٨٧)جانور کے ذبح کرنے کا طريقہ يہ ہے کہ گردن کي چار بڑي رگيں جو نيچے کي طرف سے حلق کے نيچے ابھري ہوئي ہيں پورے طور پر کاٹ دي جائيں اور اگر ان کو چيراجائے توکافي نہيں۔
}(٢٥٨٨)اگر چار رگوں ميں سے بعض کو کاٹ ديں اور حيوان کے مرنے تک صبر کريں اور اس کے بعد بقيہ کو کاٹ ديں توکوئي فائدہ نہيں بلکہ اتني دير بھي صبرنہ کريں ليکن معمول کے مطابق چار رگوں کو پے در پے نہ کاٹيں۔ اگرچہ جانور کے جان دينے سے پہلے باقي رگيں کاٹ لي جائيں تو بھي اشکال ہے۔
}(٢٥٨٩)اگر بھيڑيا گوسفند کے حلق کو اس طرح جدا کرے کہ گردن کے کچھ حصے کو جدا کرے اور چار رگيں باقي ہوں يا بدن کے کسي اور حصے کو کاٹ لے تو اگر گوسفند زندہ ہو اور اس دستور کے مطابق جو بيان کيا جائے گا اس کو ذبح کرديں تو وہ حلال اور پاک ہوگا۔
#جانور کے ذبح کرنے کے شرائط:
}(٢٥٩٠)جانور کے ذبح کرنے کے پانچ شرائط ہيں:
١۔ جو شخص جانور کو ذبح کرے چاہے مرد ہو يا عورت اسے مسلمان ہونا چاہيے اور اہل بيت پيغمبر
۰ کے ساتھ اظہار دشمني نہ کرتا ہو اور مسلمان کا بچہ اگر مميز ہو يعني اچھائي برائي کو سمجھتا ہو تو وہ جانور کو ذبح کرسکتاہے۔
٢۔ جانور کو ايسي چيز سے ذبح کيا جائے جو لوہے سے بني ہو اور اگر لوہا نہ مل سکے اور صورتحال يہ ہو کہ اگر جانور کو ذبح نہ کيا گيا تو وہ مرجائے گا تو کسي تيز چيز کے ساتھ جو چار رگوں کو جدا کرسکے مثلاً شيشہ يا تيز پتھر سے اس کو ذبح کيا جاسکتا ہے۔
٣۔ ذبح کرتے وقت جانور کا گلو اور اگلا حصہ قبلہ کي طرف ہو اور جس شخص کو معلوم ہو کہ جانور قبلہ رخ ہونا چاہيے۔ اگر جان بوجھ کر اسے قبلہ کي طرف نہ کرے تو وہ جانور حرام ہوجائے گا اسي طرح اس صورت ميںجبکہ مسئلہ کو نہ جانتا ہو اور حيوان کو روبقبلہ نہ کرے ليکن اگر بھول جائے يا قبلہ ميں اشتباہ کرے يا اسے معلوم نہ ہو کہ قبلہ کس طرف ہے يا جانور کو قبلہ رخ نہ کرسکتا ہو توکوئي اشکال نہيں۔
٤۔ جس وقت حيوان کو ذبح کرنے لگے يا چھري اس کے گلے پر رکھ دے تو ذبح کرنے کي نيت سے اللہ کا نام لے اور اگر صرف بسم اللہ ہي کہہ دے توکافي ہے اور اگر نيت ذبح کئے بغير اللہ کا نام لے تو وہ جانور پاک نہيں ہوگا اور اسکا گوشت بھي حرام ہے اور اگر بھول کر اللہ کانام نہ لے تو کوئي اشکال نہيں۔
٥۔ يہ کہ جانور ذبح کرنے کے بعد حرکت کرے اگرچہ مثلاً آنکھ يا دم کو حرکت دے يا پاو ں زمين پر مارے يا خون اس طرح اس سے نکلے جس طرح ايک متعارف حيوان کو ذبح کرتے وقت نکلتا ہے کہ معلوم ہوجائے کہ زندہ تھا۔
#اونٹ کے نحر کرنے کا طريقہ:
}(٢٥٩١)اگر اونٹ کو ذبح کرنا چاہيں تاکہ وہ جان دينے کے بعد پاک و حلال ہو تو علاوہ ان پانچ شرطوں کے جو عام جانوروں کے ذبح کرنے کے لئے بيان ہو چکي ہيں چھري يا کوئي اور چيز جو لوہے سے بني ہوئي ہو اور کاٹنے والي ہو گردن اور سينہ کے درميان نشيب والي جگہ ميں گھونپ دي جائے۔
}(٢٥٩٢)جب چھري اونٹ کي گردن ميں گھونپنا چاہيں تو بہتر يہ ہے کہ اونٹ کھڑا ہو البتہ اگر اس وقت جب اس کے گھٹنے زمين سے لگے ہوں يا پہلوپر ليٹا ہو اور اگر اس کے بدن کا اگلا حصہ قبلہ رخ ہو، چھري اس کي گردن کي نشيب والي جگہ ميں گھونپ دي جائے تو بھي اشکال نہيں۔
}(٢٥٩٣)اگربجائے اس کے کہ چھري اونٹ کي گردن والي جگہ ميں گھونپي جائے اس کو ذبح کيا جائے يا بھيڑ بکري اور گائے وغيرہ کو اونٹ کي طرح نحر کيا جائے تو ان کا گوشت حرام اور بدن نجس ہوجائے گا۔ البتہ اگر اونٹ کي چار رگيں کاٹ کر جب تک کہ وہ زندہ ہے اس دستور کے مطابق جو بيان کيا گيا ہے چھري اس کي گردن کي نشيب والي جگہ ميں گھونپ دي جائے تو اس کا گوشت حلال اور بدن پاک ہے اور اگر چھري گائے يا گوسفند کي نشيب والي جگہ ميں گھونپ دي جائے اور جب کہ وہ زندہ ہو اس کو ذبح کرليں تو وہ حلال اور پاک ہے۔
}(٢٥٩٤)اگر جانور سرکش ہوجائے اور اس کو شريعت کے مقرر شدہ دستور کے مطابق نہ کرسکيں يا مثلاً کنويں ميں گرجائے اور احتمال ہو کہ وہ وہاں مرجائے گا اور اسکا ذبح کرنا شرعي دستور کے مطابق ممکن نہ ہو تو اگر کسي چيز کے ساتھ مثلاً (تلوار کہ جو تيز ہونے کي وجہ سے اس کے بدن پر زخم کردے گي اس کو زخم لگايا جائے اور زخم لگانے کي وجہ سے وہ مرجائے تو وہ حلال ہوجائے گا اور اسکا قبلہ رخ ہونا بھي ضروري نہيں البتہ باقي شرائط کہ جو جانوروں کے ذبح کے لئے بيان کئے گئے ہيں وہ اس ميں ہونے چاہيں۔)
#وہ چيزيں جو جانوروں کے ذبح کرنے کے وقت مستحب ہيں :
}(٢٥٩٥)چند چيزيں جانوروں کے ذبح کرنے ميں مستحب ہيں۔
١۔ بھيڑ، بکري کو ذبح کرتے وقت اس کے اگلے دونوں پير اور پچھلا پير کھلا ہوا اور گائے کو ذبح کرتے وقت اس کے چاروں پير بندھے ہوئے ہوں اور اس کي دم کھلي ہو اور اونٹ کو ذبح کرتے وقت اس کے دونوں اگلے پير ، زانوں يا بغل کے نيچے تک بندھے ہوئے ہوں اور پچھلے پير کھلے رہيں اور مستحب ہے کہ مرغ کو ذبح کرنے کے بعد چھوڑ دياجائے تاکہ وہ اپنے پروبال مارسکے۔
٢۔ جو شخص جانورکو ذبح کررہا ہو وہ قبلہ رخ ہو۔
٣۔ جانور کو ذبح کرنے سے پہلے اس کے سامنے پاني رکھا جائے۔
٤۔ ايسي صورت اختيارکرني چاہيے جس سے حيوان کو تکليف کم ہو مثلاً چھري بہت تيز اور جانو ر کو جلدي جلدي ذبح کريں۔
وہ چيزيں جو جانوروں کے ذبح کرنے ميںمکروہ ہيں!
}(٢٥٩٦)چند چيزيں جانوروں کے ذبح کرنے ميں مکروہ ہيں۔
١۔ يہ کہ چھري کا حلقوم کے نيچے لے جا کر باہر کي طرف نکالنا تاکہ حلقوم پيچھے سے کاٹا جائے۔
٢۔ جانور کو ايسي جگہ ذبح کرنا جہاںکوئي دوسرا جانور اسے ديکھ رہا ہو۔
٣۔ رات کے وقت ياجمعہ کے دن ظہر سے پہلے جانور کو ذبح کرنا البتہ اگر ضرورت ہو تو پھرکوئي عيب نہيں۔
٤۔ جس جانور کي پرورش خود انسان نے کي ہے اس کو ذبح کرنا اور احتياط مستحب يہ ہے کہ جان نکل جانے سے پہلے جانور کا چمڑا نہ اتاريں اور حرام مغز جو کہ ريڑھ کي ہڈي ميں ہوتا ہے اس کو نہ نکاليں البتہ اس کام سے جانور حرام نہيں ہوتا۔
#ہتھيار سے شکار کرنے کے احکام:
}(٢٥٩٧)اگر وحشي حلال گوشت جانور کو ہتھيار کے ساتھ شکار کريں تو پانچ شرائط کے ساتھ وہ حلال اور اسکا بدن پاک ہے۔
١۔ يہ کہ شکار کا آلہ مثل چھري اور تلوار کے کاٹنے والا ہويا مثل نيزہ کے تيز ہونے کي وجہ سے جانور کے بدن کو چيردے اور اگر جال ، لکڑي، پتھر اور اس قسم کي چيزوں کے ذريعے جانور کا شکار کريں تو وہ پاک نہيں ہوگااور اس کا کھانا حرام ہے اور اگر کسي جانور کو بندوق سے شکار کريں تو اس کي گولي تيز ہو جو کہ جانور کے بدن ميں چلي جائے اور اسکو چير ديتي ہو تو پاک اور حلال ہے اور اگر گولي تيز نہ ہو بلکہ زور سے دباو کي وجہ سے بدن ميں دھنس جاتي ہو يا اس کو مار ديتي ہو يا اس کي گرمي کي وجہ سے جانور کا بدن جل جائے اور جلنے کے نتيجے ميں جانور مرجائے تو اس کا پاک اور حلال ہونا اشکال رکھتا ہے۔
٢۔ يہ کہ جو شخص شکار کرتاہے وہ مسلمان ہو يا مسلمان کا بچہ ہو جو اچھائي اور برائي ميں تميز کرسکتا ہو اور اگر کافر يا ايسا شخص جو اہل بيت رسالت کے ساتھ دشمني کرتا ہے کسي جانور کا شکار کرے تو وہ شکار حلال نہيں ہے۔
٣۔ يہ کہ ہتھيار شکار کرنے کے لئے ہي چلايا ہو اور اگر مثلاً کسي جگہ کو اس نے نشانہ بنايا ہوا تھا اور اتفاقاً اس سے جانور مارا گيا تو وہ جانور پاک نہيں اس کا کھانا حرام ہے۔
٤۔ يہ کہ جب ہتھيار چلائے تو نام خدا لے اور اگر جان کر اس نے خدا کا نام نہ ليا ہو تو شکار حلال نہيں ہوگاالبتہ اگر بھول گيا تو کوئي اشکال نہيں۔
٥۔ يہ کہ جب جانور کے پاس پہنچے تو وہ مرچکا ہو يا اگر زندہ ہو تو اس کے ذبح کرنے کا وقت نہ ہو اور اگر ذبح کرنے کا وقت باقي ہے اوراس کو ذبح نہ کرے اور وہ مرجائے تو حرام ہے۔
}(٢٥٩٨)اگر دو آدمي کسي کو شکار کريں اور ان ميں سے ايک مسلمان اور دوسرا کافر ہو يا ان ميں سے ايک خدا کا نام لے اور دوسرا جان بوجھ کر نہ لے تو وہ جانور حلال نہيں ہوگا۔
}(٢٥٩٩)بعد اس کے کہ کسي جانور کو تير ماريں اگر وہ مثلاً پاني ميں گرجائے اور انسان کو معلوم ہو کہ يہ جانور تير اور پاني ميں گرنے کي وجہ سے مرا ہے تو وہ حلال نہيں ہوگا بلکہ اگر شک ہو کہ صرف تير کي وجہ سے مرا تھا يانہيں تو بھي حلال نہيںہوگا۔
}(٢٦٠٠)اگر غصبي کتے يا ہتھيار سے شکار کرے تو شکار حلال اور اس کي اپني ملکيت ہے البتہ علاوہ اس کے کہ اس نے گناہ کيا ہے اسے ہتھيار يا کتے کي اجرت اس کے مالک کو دينا پڑے گي۔
}(٢٦٠١) اگر تلوار يا کسي اور چيز سے کہ جس سے شکار کرنا صحيح ہے ان شرائط سميت جو پيچھے بيان ہوچکي ہيں کسي جانور کے دو ٹکڑے کردے اور اس کا سر و گردن ايک ٹکڑے کے ساتھ ہو اور انسان اس وقت اس جانور کے پاس پہنچے جبکہ اس کي جان نکل چکي ہو تو اس کے دونوں ٹکڑے حلال ہيں بشرطيکہ صرف اسي کاٹنے سے اس نے جان دي ہو اور اگر جانور زندہ ہے اور آداب شرعي کے مطابق اس کے ذبح کرنے کا وقت تنگ ہے تو جس حصہ ميں سر و گردن نہيں وہ حرام اور جس ميں سر و گردن ہيں اور اگر ذبح کرنے کا وقت موجود ہے تو وہ حصہ کہ جس ميں سر نہيں وہ حرام رہے بلکہ وہ حال نزع ميں ہو تو اگرچہ اسے ذبح کرليں پھر بھي احتياط واجب يہ ہے کہ اس سے اجتناب کيا جائے۔
}(٢٦٠٢)اگر لکڑي پتھر يا کسي ايسي چيز سے کہ جس سے شکار کرنا صحيح نہيںجانور کو دو ٹکڑے کرديا جائے تو جس حصہ ميں سر و گردن نہيں ہے وہ حرام اور جس ميں سر و گردن اگر وہ زندہ ہے اور اسے شرعي دستور کے مطابق ذبح کرليا گيا تو وہ حلال ہے ليکن اگر يہ ممکن نہ ہو کہ وہ کچھ دير زندہ رہ سکے بلکہ وہ جان کني کے عالم ميںہو تو اگرچہ اسے ذبح کرليں تب بھي احتياط واجب يہ ہے کہ اس سے اجتناب کريں۔
}(٢٦٠٣)اگر کسي جانور کو شکار کريں يا ذبح کريں اور زندہ بچہ اس کے شکم سے باہر آئے تو اگر اس بچہ کو شرعي دستور کے مطابق ذبح کرليں تو حلال ورنہ حرام ہوگا۔
}(٢٦٠٤)اگر کسي جانور کو شکار يا ذبح کريں اور اسکے شکم سے مردہ بچہ نکلے تو اگر اس کي خلقت پوري ہوچکي ہو اور بال ياپشم اس کے بدن پر اگ چکي ہو تو وہ پاک اور حلال ہے۔
#شکاري کتے کے ساتھ شکارکرنا :
}(٢٦٠٥)اگر شکاري کتا حلال گوشت وحشي جانور کو شکار کرے تو اس کے پاک و حلال ہونے کے چھ شرائط ہيں:
١۔ يہ کہ کتا اس طرح تربيت يافتہ ہو کر جب شکار پکڑنے کے لئے اس کو بھيجيں ، وہ چلا جائے اور جس وقت جانے سے روکيں وہ رک جائے البتہ اگر شکار کے قريب پہنچنے کے وقت اس کو روکا جائے اور وہ نہ رکے تو پھر کوئي حرج نہيں اور احتياط واجب يہ ہے کہ اگر اس کي عادت ہوگئي ہو کہ مالک کے پہنچنے سے پہلے وہ شکار کو کھاليتا ہے تو اسکے شکار سے اجتناب کيا جائے اگر اتفاقاً شکار کو کھالے تو کوئي اشکال نہيں۔
٢۔ مالک اسے شکار کے پيچھے بھيجے پس اگر خود شکار کي طرف جائے اور کسي جانور کو شکار کرے تو اس جانور کا کھانا حرام ہے بلکہ اگر خود شکار کے پيچھے جائے اور اس کے بعد مالک اسے للکارے کہ وہ شکار تک پہنچے اگرچہ اس کے للکارنے کي وجہ سے وہ جلدي کرے تب بھي احتياط واجب يہ ہے کہ اس شکار کو نہ کھايا جائے۔
٣۔ يہ کہ جو شخص کتے کو شکار پر بھيج رہا ہے وہ مسلمان ہو يا مسلمان کا بچہ ہو جو کہ اچھائي اور برائي کو سمجھتا ہے اور اگر کافر يا وہ شخص جو اہل بيت رسالت سے اظہار دشمني کرتا ہے کتے کو چھوڑے دے تو اس کتے کا شکار حرام ہے ۔
٤۔ يہ کہ کتا چھوڑتے وقت خدا کا نام لے اور اگر کتا چھوڑتے وقت جان بوجھ کر خدا کا نام نہ ليا اور قبل اس کے کہ کتا شکار تک پہنچے نام خدا لے لے تو احتياط واجب يہ ہے کہ اس شکار سے اجتناب کيا جائے۔
٥۔ يہ کہ شکار اس زخم سے مرے کہ جو کتے کے دانتوں سے لگا ہو پس اگر کتا شکار کا گلا گھونٹ لے يا شکار بھاگنے يا ڈر کے مارے مرجائے تو حلال نہيں ہے۔
٦۔ يہ کہ جس نے کتے کو چھوڑا ہے وہ اس وقت پہنچے کہ جب شکار مرچکا ہو يا اگر زندہ ہے تو ذبح کرنے کا وقت نہ ہو اور اگر اس وقت پہنچے کہ جب ذبح کرنے کا وقت ہے مثلاً وہ اپني آنکھ يا دم کو حرکت دے رہا ہو ياايڑياں رگڑ رہا ہو تو اگر اس کو ذبح نہ کيا گيا تو وہ حلال نہيںہے۔
}(٢٦٠٦)جو کتا چھوڑے اگر اس وقت پہنچے کہ جس وقت اسے ذبح کرسکتا ہے تو اگر معمول کے مطابق مثلاً جلدي سے چھري نکالے اور اسکے باوجود ذبح کرنے کا وقت گزر جائے اور وہ جانور مر جائے تو وہ حلال ہے۔ البتہ اگر غلاف خنجر کے تنگ ہونے يا اس سے چمٹے ہوئے ہونے کي وجہ سے خنجر نکالتے دير ہوجائے او ر وقت گزرجائے تو احتياط واجب يہ ہے کہ وہ جانور حلال نہيں ہے اور اسي طرح اگر اس کے پاک کوئي چيز نہ ہو کہ جس سے جانور ذبح کرے اور وہ مرجائے تو احتياط واجب يہ ہے کہ اس کے کھانے سے پرہيز کريں۔
}(٢٦٠٧)اگر کئي کتے چھوڑ دے اور وہ مل کر کسي جانور کو شکارکريں تو اگر ان تمام ميں وہ شرائط موجود تھے جو بيان کئے گئے ہيں تو شکار حلال ہے اور اگر ايک ميں بھي شرائط فاقد ہوں تو پھر شکار حرام ہے۔
}(٢٦٠٨)اگر کسي جانور کے شکار کے لئے کتے کو چھوڑے اور وہ کتا کسي دوسرے جانور کو شکار کرلے تو وہ شکار پاک اور حلال ہے اور اگر اس جانور کو دوسرے جانور سميت شکار کرے تو دونوں حلال و پاک ہيں۔
}(٢٦٠٩)اگر چند آدمي مل کر کتے کو چھوڑديں اور ان ميں سے ايک کافر ہو يا ان ميںسے ايک شخص جان بوجھ کر خدا کا نام نہ لے تو وہ شکار حرام ہے اور اسي طرح اگر بھيجے ہوئے کتوں ميں سے ايک اس طرح تربيت يافتہ نہ ہو جيسا کہ بيان ہوچکا ہے تووہ شکار حرام ہے۔
}(٢٦١٠)شکاري کتے کے علاوہ اگر باز يا کوئي اور جانور کسي جانور کو شکار کرے تو وہ حلال نہيں ہے البتہ اگر اس وقت پہنچے کہ جب جانور زندہ ہو اور دستور شرعي کے مطابق اس کو ذبح کرے تو پھر وہ حلال ہے۔
#مچھلي کا شکار :
}(٢٦١١)اگر چھلکے دار مچھلي زندہ پاني سے پکڑ لي جائے اور وہ پاني سے باہر مر جائے تو پاک اور اسے کھانا حلال ہے اور اگرپاني ميںمرجائے توپاک اس کا کھانا حرام ہے اور جس مچھلي کے اوپر چھلکے نہيں ہوتے اگرچہ وہ پاني سے زندہ پکڑ لي جائے اور پاني کے باہر وہ مرے تو وہ حرام ہے۔
}(٢٦١٢)اگر مچھلي پاني سے باہر آپڑے يا پاني کي لہر اسے باہر پھينک دے يا پاني زمين ميں دھنس جائے اور مچھلي خشکي پر رہ جائے تو اگر مرنے سے پہلے ہاتھ يا کسي چيز سے انسان اس کوپکڑ لے تو وہ مرجانے کے بعد حلال ہے ۔
}(٢٦١٣)مچھلي کا شکار کرنے والے کے لئے ضروري نہيں کہ وہ مسلمان ہو اور اس کو پکڑتے وقت خدا کا نام لے البتہ مسلمان کو يہ علم ہوکہ شکار ي نے زندہ مچھلي پکڑي ہے اور اس مچھلي نے پاني سے باہر جان دي ہے۔
}(٢٦١٤)مري ہوئي مچھلي کہ جس کے متعلق معلوم نہ ہو کہ يہ پاني سے زندہ پکڑي گئي ہے يا مردہ تو اگر وہ کسي مسلمان کے ہاتھ ميں ہو تو حلال ہے اور اگر کافر کے ہاتھ ميں ہو تو اگرچہ وہ کہے کہ ميں نے زندہ پکڑي تھي وہ حرام ہے۔
}(٢٦١٥)زندہ مچھلي کھانے ميں کوئي اشکال نہيں۔
}(٢٦١٦)اگر زندہ مچھلي کو پکانا شروع کرديں يا پاني سے باہر جان نکلنے سے پہلے اسے مارديں تو اس کے کھانے ميںکوئي اشکال نہيں۔
}(٢٦١٧)اگر مچھلي کو پاني سے باہر دو ٹکڑے کرديا جائے اور اسکا ايک حصہ جبکہ وہ زندہ ہے پاني ميں گرجائے تو اس حصے کا کھانا جو کہ پاني سے باہر رہ گيا ہے کوئي اشکال نہيں رکھتا۔
#ٹڈي کا شکار:
}(٢٦١٨)اگر ٹڈي ہاتھ سے يا کسي اور ذريعہ سے زندہ پکڑ لي جائے تو جان دينے کے بعد اس کا کھانا حلال ہے اور يہ ضروري نہيں کہ اسے پکڑنے والا مسلمان ہو اور اس نے پکڑتے وقت نام خدا ليا ہو البتہ اگر مردہ ٹڈي کسي کافر کے ہاتھ ميں ہو اور يہ معلوم نہ ہو کہ اس نے اسے زندہ پکڑا تھا يا مردہ تو اگرچہ وہ کہے کہ ميں نے زندہ پکڑا ہے وہ حلا ل نہيں ہے۔
}(٢٦١٩)اس ٹڈي کا کھانا کہ جس کے پروبال نہيں اگے اور جواڑ نہيں سکتي حرام ہے۔

 
احکام تقليد احکام طہارت احکام نماز  احکام روزہ
احکام خمس   احکام زکواۃ احکام حج خريد و فروخت کے احکام
احکام شرکت احکام صلح اجارہ (کرايہ )کے احکام احکام جعالہ
احکام مزارعہ مساقات (آبياري )کے احکام وہ اشخاص جو اپنے مال ميں خود تصرف نہيں کرسکتےکے احکام احکام وکالت
قرض کے احکام حوالہ (ڈرافٹ)دينے کے احکام رہن کے احکام ضامن بننے کے احکام
کفالت کے احکام وديعت (امانت)کے احکام عاريتاً دينے کے احکام نکاح (شادي بياہ)کے احکام
طلاق کے احکام غصب کے احکام جو مال انسان پالے اس کے احکام جانوروں کے ذبح اور شکار کرنے کے احکام
کھانے پينے کي چيزوں کے احکام نذر اور عہد کے احکام قسم کھانے کے احکام وقف کے احکام
وصيت کے احکام ميراث کے احکام احکام امر بالمعروف اور نہي عن المنکر دفاع کے مسائل و احکام
خاتمہ کے احکام بعض مسائل جو اس زمانے ميں  مورد حاجت ہيں امام خميني کي خدمت ميں چند جديد سوالات اور ان کے جوابات