|
#جو
مال انسان پالے اس کے احکام :
}(٢٥٦٠)جو مال انسان کو کہيں سے پڑا ہوا مل جائے تو اگر اس پر کوئي
ايسا نشان نہ ہو کہ جس کے ذريعہ اس کا مالک معلوم ہوسکے تو احتياط
واجب يہ ہے کہ اسے مالک کي طرف سے صدقہ ديدے۔
}(٢٥٦١)اگر کوئي ايسا مال ملے کہ جس پر کوئي نشان ہو اور اس کي
قيمت 12/6نخود سکہ دار چاندي سے کم ہو تو اگر اس کا مالک معلوم ہو
ليکن انسان يہ نہ معلوم کرسکے کہ وہ راضي ہے يا نہيں تو اسے مالک
کي اجازت کے بغير نہيں اٹھا سکتا اور اگر معلوم نہ ہو تو اس نيت سے
کہ اس کا اپنا ملک ہوجائے اسے اٹھالے اور اس صورت ميں اگر تلف
ہوجائے تو اس کا عوض دينے کي ضرورت نہيں بلکہ اگر ملک بنانے کي نيت
نہ بھي کي ہو اور کوتاہي کئے بغير تلف ہوجائے تو اس کا معاوضہ دينا
واجب نہيں۔
}(٢٥٦٢)جب پائي ہوئي چيز ميں کوئي علامت ہو کہ جس کے ذريعہ سے اس
کا مالک مل سکتا ہے تو اگرچہ اسے معلوم ہو کہ اس کا مالک کافر ہے
ليکن مسلمانوں کي امان ميں ہے تو اگر اس چيز کي قيمت 12/6 نخود
2-1/2 ماشہ سکہ دار چاندي کے برابر ہو تو اعلان کرے۔ اب اگر جس دن
سے اسے وہ چيز ملي ہے ايک ہفتہ تک روزانہ اور اس کے بعد ايک سال تک
ہر ہفتہ ميں ايک دفعہ لوگوں کے جمع ہونے کي جگہ اعلان کرتا رہے تو
کافي ہے۔
}(٢٥٦٣)اگر انسان خو د اعلان نہ کرنا چاہے تو کسي ايسے شخص کے
ذريعے اعلان کراسکتا ہے کہ جس پر اسے اطمينان ہو۔
}(٢٥٦٤)اگر ايک سال تک اعلان کرے اور مالک نہ ملے ، اگر پائي ہوئي
چيز حرم کے حدود ميں پيدا ہوئي ہو تو اس کو صدقہ کے عنوان سے دے
سکتاہے۔ اس کے بعد اگر اس کا مالک پيدا ہوجائے تو اس کا ضامن ہوگا۔
يا اس مال کي حفاظت کرے جب تک اس کا مالک پيدا ہوجائے ليکن اگر مال
کو غير حرم ميں پايا ہے تو پانے والا اس چيز کو اپنے لئے اٹھاسکتا
ہے اس قصد سے کہ جس وقت بھي اس کا مالک مل جائے اس کا عوض مالک کو
ادا کروں گا يا مالک کي طرف سے بطور امانت رکھ لے کہ جب وہ ملے تو
اس کو واپس کردے۔ البتہ احتياط مستحب يہ ہے کہ مالک کي طرف سے صدقہ
کردے۔
}(٢٥٦٥)اگر ايک سال کے اعلان کے باوجود مالک نہ مل سکے اور مال کے
مالک کي طرف سے نگہداري کرتا رہے اور وہ تلف ہوجائے تو اگر اس نے
اس کي حفاظت ميں کوئي کوتاہي يا اس ميں کوئي زيادتي نہيں کي تو اس
کا ضامن نہيں البتہ اگر مالک کي طرف سے صدقہ کرديا ہو يا اسے اپنے
لئے رکھ ليا ہو تو پھر دونوں صورتوں ميں اس کا ضامن ہے۔
}(٢٥٦٦)جو شخص کوئي مال پائے اگر جان بوجھ کر ذکر شدہ دستور کے
مطابق اس کا اعلان نہ کرے تو علاوہ اس کے کہ اس نے گناہ کيا ہے پھر
بھي اس پر واجب ہے کہ اس کا اعلان کرے۔
}(٢٥٦٧)اگر نابالغ بچہ کو کوئي چيز ملے تو اس کے ولي کو اعلان کرنا
چاہيے۔
}(٢٥٦٨)انسان اگر دوران سال کہ جس ميں اعلان کررہا ہے مالک کے ملنے
سے مايوس ہوجائے تو احتياط واجب يہ ہے کہ اسے صدقہ کردے۔ يا اس کي
حفاظت کرے جب تک مالک پيد اہوجائے۔
}(٢٥٦٩)اگر دوران سال کہ جب اعلان کررہا ہے مال تلف ہوجائے تو اگر
اس نے اس کي حفاظت ميں کوتاہي کي ہے اور يا اس ميں زيادہ روي سے
کام ليا ہے تو اس کا معاوضہ مالک کو ادا کرے اور اگر کوتاہي نہيں
کي اور زيادہ روي سے بھي کام نہيں ليا تو اس پر کوئي چيز واجب
نہيں۔
}(٢٥٧٠)اگر کوئي مال کہ جس ميں کوئي علامت موجود ہے اوراس کي قيمت
بھي 12/6نخود سکہ دار چاندي کے برابر ہے کسي ايسي جگہ مل جائے کہ
جس کے متعلق معلوم ہے کہ اعلان کے باوجود بھي مالک نہيں مل سکے گا
تو پہلے ہي دن اس کو مالک کي طرف سے صدقہ دے سکتا ہے اور اگر اس کا
مالک مل جائے اور وہ صدقہ دينے پر راضي نہ ہو تو اس کا معاوضہ اسے
ديدے اور اس صدقہ کا ثواب خود اسي کو ملے گا۔
}(٢٥٧١)اگر کوئي چيز کسي کو مل جائے اور وہ يہ خيال کرے کہ يہ اس
کا اپنا ہي مال ہے اور اس کو اٹھانے کے بعد معلوم ہو کہ اس کا مال
نہيں تھا تو اسے چاہے کہ ايک سال تک اعلان کرے۔
}(٢٥٧٢)ضروري نہيںکہ اعلان کرتے وقت پائي ہوئي چيز کي جنس بيان کرے
بلکہ صرف يہ کہہ دے کہ کوئي چيز مجھے ملي ہے تو کافي ہے۔
}(٢٥٧٣)اگرکسي شخص کو کوئي چيز ملے اور دوسراکہے کہ يہ ميرا مال ہے
تو اس صورت ميں اسے ديدے جبکہ وہ اس کي علامات بتادے البتہ يہ
ضروري نہيں کہ وہ علامات بتائے کہ جن کي طرف عموماً صاحب مال بھي
ملتفت نہيں ہوتا۔
}(٢٥٧٤)اگر پائي ہوئي چيز کي قيمت 12/6نخود سکہ دار چاندي کے برابر
ہو اگر اس کا اعلان نہ کرے اور مسجد يا کسي اور ايسي جگہ ميں رکھ
دے جہاں لوگوں کا اجتماع ہوتا ہے اور وہ چيز تلف ہوجائے يا کوئي
شخص اس کو اٹھالے تو جس کو يہ چيز ملي تھي وہ اس کا ضامن ہے۔
}(٢٥٧٥)اگر کوئي ايسي چيز مل جائے کہ اگر وہ باقي رکھي تو خراب
ہوجائے گي تو جتنا ہو اسے رکھے پھر اس کي قيمت کرے اور خود اسے لے
لے يا بيچ دے اور اس کي قيمت رکھ لے اور اگر اس کا مالک نہ ملے تو
اس کي طرف سے صدقہ ديدے اور احتياط مستحب يہ ہے کہ صدقہ کرنے کے
لئے حاکم شرع سے اجازت لے۔
}(٢٥٧٦)اگر کوئي چيز انسان کو مل جائے اور وضو کرتے اور نماز پڑھتے
وقت اس کو ساتھ رکھتا ہو تو اگر اس کا مقصد اس سے يہ ہو کہ اس کے
مالک کو تلاش کرے تو پھر کوئي اشکال نہيں۔
}(٢٥٧٧)اگر کوئي اس کا جوتا لے جائے اور اس کي جگہ کوئي دوسرا جوتا
رکھ دے تو اگر اسے معلوم ہو کہ جو جوتا پڑا ہے يہ اسي شخص کا ہے جو
اس کا جوتا لے گيا ہے تو اگر اس کے ملنے سے مايوس ہوجائے يا اس کا
تلاش کرنا اس کے لئے باعث مشقت ہو تو پھر اپنے جوتے کي جگہ اس کو
اٹھالے۔ البتہ اگر اس کي قيمت اس کے جوتے سے زيادہ ہے تو جس وقت اس
کا مالک مل جائے تو قيمت کي زيادتي اسے ديدے اور اگر اس کے ملنے سے
نااميد ہوجائے تو حاکم شريعت کي اجازت سے وہ زيادہ قيمت اس کے مالک
کي طرف سے صدقہ کردے اور اگر اسے احتمال ہو کہ پڑا ہوا جوتا اس کا
نہيں ہے جو اس کا جوتا لے گيا ہے تو اگر اس کي قيمت 12/6نخود سکہ
دار چاندي سے کم ہے تووہ خود وہ جوتا لے لے اور اگر زيادہ ہے تو
ايک سال تک اعلان کرے اور سال کے بعد احتياطاً مالک کي طرف سے صدقہ
ديدے۔
}(٢٥٧٨)اگر ايسا مال ملے کہ جس کي قيمت 12/6نخود سکہ دار چاندي سے
کم ہو اور وہ اس سے صرف نظر کرے اور مسجد يا کسي اور جگہ اسے رکھ
دے تو اگر کوئي شخص اٹھالے تو وہ اس کے لئے حلال ہے۔
|