|
#غصب
کے احکام:
غصب يہ ہے کہ انسان بطور ظلم کسي کے مال يا حق پر اپنا تسلط جمالے
اور غصب گناہاں کبيرہ ميں سے ايک ہے کہ اگر کوئي اسے انجام دے تو
قيامت کے دن وہ سخت عذاب ميں مبتلا ہو گا۔ حضرت رسول اللہ
۰
نے ارشاد فرمايا کہ جو شخص کسي کي ايک بالشت زمين غصب کرے تو قيامت
کے دن اس مقدار زمين کے سات طبقے بطور طوق اس کي گردن ميں ڈال دئے
جائيں گے۔
}(٢٥٤١)اگرکوئي شخص مسجد ، مدرسہ ، پل اور اس قسم کي چيزوں سے جوکہ
عام لوگو ں کے لئے بنائي گئي ہيں لوگوں کو استفادہ نہ کرنے دے تو
اس نے ان کا حق غصب کيا ہے اور يہي حکم ہے اگر کوئي شخص مسجد
ميںکوئي جگہ اپنے لئے قرار دے اور دوسرے کسي شخص کو وہاں سے
استفادہ نہ کرنے دے۔
}(٢٥٤٢)جوشخص کوئي چيز اپنے قرض خواہ کے پاس گروي رکھ ديتا ہے تو
وہ چيز اس کے ہي پاس رہني چاہيے تاکہ اگر اس کا قرضہ ادانہ کرے تو
وہ اپنا قرض اس چيز سے وصول کرسکے پس اگر قرضہ ادا کرنے سے پہلے اس
سے وہ چيز چھين لے تو اس نے اس کا حق غصب کيا ہے۔
}(٢٥٤٣)جو مال کسي کے پاس گروي رکھا گيا ہو اگرکوئي شخص اسے غصب
کرلے تو مالک اور قرض خواہ غصب شدہ چيز کا مطالبہ کرسکتے ہيں۔ اب
اگر وہ چيز اس سے لے ليں توپھر بھي وہ گروي رہے گي اور وہ چيز تلف
ہوگئي ہو اور اس کا معاوضہ ليں تو وہ معاوضہ بھي اس چيز کي طرح
گروي رہے گا۔
}(٢٥٤٤)اگر انسان کوئي چيز غصب کرلے تو وہ اس کے مالک کو واپس کرے
اور اگر وہ چيز تلف ہوجائے تو اسکا بدل دينا پڑے گا۔
}(٢٥٤٥)اگر غصب شدہ چيز سے کوئي نفع حاصل ہو مثلاً اگر غصب شدہ
گوسفند سے بچہ پيدا ہوجائے تو و ہ مالک کا ملک ہوگا اور اسي طرح
اگر کسي نے مکان غصب کيا ہے تو اگرچہ اس ميں اس نے رہائش نہ کي ہو
تب بھي اس کا کرايہ دينا پڑے گا۔
}(٢٥٤٦)اگرکسي بچے يا ديوانے سے کوئي چيز غصب کرلے تو وہ چيز اس کے
ولي کو واپس کرے اور اگر تلف ہوگئي ہے تو اس کا عوض دے۔
}(٢٥٤٧)جب دو آدمي مل کر کوئي چيز غصب کريں تو اگرچہ ہر ايک تنہا
اس کو غصب کرسکتا تھا تو بھي ہرايک اس مقدار کا جس پر وہ مسلط ہے
ضامن ہوگا۔
}(٢٥٤٨)اگر غصب شدہ چيز کسي اور چيز سے ملا دے مثلاً غصب کي ہوئي
گندم جو سے ملادے تو اگر اس کا جدا کرنا ممکن ہو خواہ باعث زحمت ہي
کيوں نہ ہو تو وہ اسے الگ کرے اور مالک کو واپس کردے۔
}(٢٥٤٩)اگر کوئي سونے چاندي کے برتن يا کوئي اور چيز کہ جس کا گھر
ميں رکھنا جائز ہے غصب کرلے اور اسے توڑ دے تو اسے چاہيے کہ وہ چيز
اس کي بنوائي کي اجرت کے ساتھ مالک کو واپس کرے اور اگر بنوانے کي
مزدوري بني ہوئي اور نہ بني ہوئي کے تفاوت سے کم ہو تو قيمت کا
تفاوت بھي ادا کرے اور اگر مزدوري ادانہ کرنے کي وجہ سے کہے کہ ميں
پہلے کي طرح بنواديتا ہوں تو مالک مجبور نہيں کہ اسے قبول کرے اور
اسي طرح مالک اسے مجبور نہيں کرسکتا کہ اس کو پہلے کي طرح بنوادے۔
}(٢٥٥٠)جس چيز کو اس نے غصب کيا ہے، اگر اس طرح بدل دے کہ پہلے سے
وہ بہتر ہوجائے مثلاً جس سونے کو اس نے غصب کيا تھا اسے گوشوارہ
بنادے تو اگرمالک کہے کہ مال اسي شکل ميں واپس کردو تو اس کو ديدے
اور جو تکليف اس نے اٹھائي ہے اس کي مزدوري نہيں لے سکتا بلکہ مالک
کي اجازت کے بغير حق نہيں رکھتا کہ اس کو پہلي شکل ميں کردے اور
اگر اس کي اجازت کے بغير اس چيز کو پہلي شکل ميں لے آئے تو اس کو
بنوانے کي مزدوري بھي مالک کو ادا کردے اور اگر بنوانے کي مزدوري
بنے ہوئے اور نہ بنے ہوئے کے تفاوت سے کم ہو تو تفاوت قيمت بھي
اداکرے۔
}(٢٥٥١)اگر غصب شدہ چيز کو اس طرح کہ وہ پہلے سے بہتر ہوجائے اور
مالک کہے کہ اس کو اس کي پہلي صورت ميں کرکے لاو تو واجب ہے کہ اس
کو صورت اوليٰ ميں بدل کے لے آئے اور اگر اس کي قيمت تغير کي وجہ
سے کم ہوجائے تو قيمت کا تفاوت بھي مالک کو ادا کرے پس وہ سونا کہ
جس کو اس نے غصب کيا تھا اگر اس کا گوشوارہ بنا لے اور مالک کہے کہ
اس کو پہلي صورت ميں لے آو تو اگر پگھلانے کي وجہ سے اس کي قيمت
گوشوارہ بننے سے پہلے کي نسبت کم ہوجائے تو تفاوت قيمت ادا کرے۔
}(٢٥٥٢)اگر غصب کي ہوئي زمين ميں زراعت کرے يا درخت لگائے تو زراعت
درخت اور اسکا پھل اسکا اپنا ہوگا۔ اب اگر مالک زمين راضي نہيں کہ
زراعت اور درخت زمين ميں رہ جائيں توجس نے غصب کيا ہے وہ فوراً
زراعت اور اپنے درخت زمين سے اکھاڑلے اگرچہ اس ميں اس کا ضرر ہي
کيوںنہ ہو اور جتني مدت زراعت اور درخت اس زمين ميں رہے ہيں ان کا
کرايہ بھي مالک کو ادا کرے اور جو خرابياں زمين ميں پيدا ہوگئي ہيں
وہ ٹھيک کرے مثلاً درخت لگانے کي جگہ پر کرے اور وہ مالک زمين کو
مجبور نہيں کرسکتا کہ زمين اس کے پاس بيچ دے ياکرايہ پر دے دے اور
مالک زمين بھي اس کو مجبور نہيں کرسکتا کہ يہ درخت اور زراعت اس کے
پاس بيچ دے۔
}(٢٥٥٣)اگر مالک زمين راضي ہوجائے کہ درخت اور زراعت اس کي زمين
ميں باقي رہ جائيں تو غصب کرنے والے کے لئے ضروري نہيں کہ وہ زراعت
اور درخت اکھاڑکے لے جائے البتہ زمين کا کرايہ اس وقت سے لے کر کہ
جب غصب کيا ہے اس وقت تک کے لئے ادا کرے کہ جب مالک زمين راضي ہوا
ہے۔
}(٢٥٥٤)اگر غصب شدہ چيز تلف ہوجائے تو اگر وہ گائے اور گوسفند کي
طرح ہے کہ اس کے اجزائ کي قيمت ايک دوسرے سے فرق رکھتي ہے مثلاً اس
کے گوشت کي ايک قيمت ہے اور اس کے چمڑے کي دوسري قيمت ہے تو اس چيز
کي قيمت اد اکرے اور اگر بازار کي قيمت ميں فرق ہوجائے تو احتياط
واجب يہ ہے کہ روز غصب سے لے کر روز غصب سے لے کر غرامت
(معاوضہ)اداکرنے کے دن تک کے درميان سب سے زيادہ قيمت کو حساب کرے
اور ايک دوسرے کي رضامندي کو حاصل کریں۔
}(٢٥٥٥)اگر غصب شدہ چيز جو کہ تلف ہوگئي ہے گندم و جو کي طرح ہے کہ
جس کے اجزائ کي قيمت ميں فرق نہيں ہے تو غصب شدہ چيز کي مثل ادا
کرے البتہ جو چيز دے رہا ہے اس کي خصوصيات غصب شدہ چيز کے مانند
ہوں جو کہ تلف ہوگئي ہے۔
}(٢٥٥٦)اگر کسي ايسي چيز کو غصب کرے کہ مثل گوسفند کے اس کے اجزائ
فرق رکھتے ہوں اور وہ تلف ہوجائے تواگر اس کي بازار کي قيمت ميں تو
فرق نہيں آيا البتہ مثلاً جتني مدت اس کے پاس رہي تھي اس ميں وہ
موٹي ہوگئي تھي تو موٹے پن کي قيمت بھي ادا کرے جو کہ تلف ہوچکا
ہے۔
}(٢٥٥٧)جو چيز اس نے غصب کي ہے اگر کوئي اور شخص اس سے غصب کرلے
اور وہ چيز تلف ہوجائے تو مالک کو حق ہے کہ ان دونوں ميں سے جس سے
چاہے اس کا عوض و بدل لے لے۔ پس اگر پہلے غاصب سے لے تو پہلا دوسرے
سے مطالبہ کرے۔ البتہ اگر دوسرے نے پہلے کو واپس کردي ہو اور اس کے
پاس جا کر تلف ہوگئي ہو تو وہ اس دوسرے سے مطالبہ نہيں کرسکتا۔
}(٢٥٥٨)جو چيز بيچي گئي ہو اگر اس ميں شرائط معاملہ ميں سے کوئي
شرط موجود نہ ہو مثلاً جس چيز کو وزن کرکے بيچنا خريدنا چاہيے اگر
اس کا معاملہ بغير وزن کے ہوا ہو تو وہ معاملہ باطل ہے اب اگر
بيچنے والا اور خريدنے والا معاملہ سے قطع نظر کرتے ہوئے اس بات پر
راضي ہوجائيں کہ ان ميں سے ہر ايک دوسرے کے مال ميں تصرف کرے تو اس
ميں کوئي اشکال نہيں ورنہ جو چيز انہوں نے ايک دوسرے سے لي ہے وہ
مثل غصبي مال کے ہے اور چاہيے کہ وہ ايک دوسرے کو واپس کرديں اور
اگر ہر ايک کا مال دوسرے کے ہاتھ ميں تلف ہوگيا ہو چاہے اسے معلوم
ہو کہ معاملہ باطل ہے يا نہيں تو اس کا معاوضہ دينا پڑے گا۔
}(٢٥٥٩)جب بيچنے والے سے کوئي مال لے لے تاکہ اسے ديکھ سکے يا ايک
مدت اس کے پاس رہے تاکہ اگر اسے پسند آجائے توخريدلے تو اب اگروہ
مال تلف ہوجائے تو اس کا معاوضہ اس کے مالک کو ادا کرے۔
|