طلاق کے احکام

طلاق کي عدت
اس عورت کي عدت کہ جس کا شوہر مر گيا ہو
طلاق بائن اور طلاق رجعي
رجوع کرنے کے احکام
طلاق خلع
طلاق مبارات
طلاق کے متفرق مسائل

 

#طلاق کے احکام :
}(٢٤٩٤)جو شخص اپني بيوي کو طلاق دے رہا ہے وہ عقل مند ہو اور احتياط واجب يہ ہے کہ بالغ ہو اور اپنے اختيار سے طلاق دے اور اگر اسے مجبور کياگيا ہو کہ اپني بيوي کو طلا ق دے تو وہ طلاق باطل ہے اور اسي طرح چاہيے کہ وہ طلاق کا قصد رکھتا ہو ۔ پس اگر صيغہ طلاق مزاحاً کہہ دے تو طلاق صحيح نہيں۔
}(٢٤٩٥)عورت بوقت طلاق خون حيض و نفاس سے پاک ہو اور اسکے شوہرنے اس کي پاکيزگي کے زمانے يا حالت نفاس يا حيض ميں جو اس پاکيزگي کے زمانے سے پہلے تھا اس سے ہمبستري نہ کي ہو اور ان دو شرائط کي تفصيل آئندہ مسائل ميںبيان کي جائے گي۔
}(٢٤٩٦)عورت کو حيض يا نفاس ميںطلاق دينا تين صورتوں ميںصحيح ہے۔
١۔ يہ کہ اس کے شوہر نے نکاح کے بعد اس سے ہمبستري نہ کي ہو۔
٢۔ وہ حاملہ ہواور اگر اس کا حاملہ ہونا معلوم نہ ہو اور شوہرنے اسے حالت حيض ميںطلاق دي ہو اور اس کے بعد اسے معلوم ہو کہ وہ حاملہ تھي تو کوئي اشکال نہيں ہے۔
٣۔ يہ کہ غائب ہونے کي وجہ سے يا تحقيق کرنے ميں مشقت ہونے کي وجہ سے مرد يہ معلوم نہ کرسکتا ہو يا اس کے لئے يہ جاننا مشکل ہو کہ عورت حيض سے پاک تھي ۔
}(٢٤٩٧)اگر عورت کو خون حيض سے پاک سمجھتے ہوئے طلاق ديدے اور بعد ميں معلوم ہو کہ طلاق ديتے وقت وہ حالت حيض ميں تھي تو اس کي طلاق باطل ہے اور اگر اسے حالت حيض ميں سمجھتے ہوئے طلاق ديدے اور بعد ميںمعلوم ہو کہ وہ پاک تھي تو طلاق صحيح ہے۔
}(٢٤٩٨)جس شخص کو معلوم ہے کہ اس کي بيوي حالت حيض يا نفاس ميں ہے۔ اگروہ غائب ہوجائے مثلاً سفر کر لے اور اسے طلاق دينا چاہے تو اتني مدت تک صبر کرے کہ جس ميںعموماً حيض يا نفاس سے پاک ہوجاتي ہے۔
}(٢٤٩٩)جو شخص غائب ہے اگروہ اپني عورت کو طلاق دينا چاہے تو اگر وہ معلوم کرسکتا ہے کہ اس کي بيوي حالت حيض يا نفاس ميں ہے يا نہيں اگرچہ يہ اطلاع عورت کے حيض کي عادت کي بنائ پر ہو اور علامات کي وجہ سے جو کہ شريعت ميںمعين ہيں تو وہ اتني مدت تک صبرکرے کہ جس ميں عموماً عورتيں حيض يا نفاس سے پاک ہوجاتي ہيں۔
}(٢٥٠٠)اگر کوئي شخص اپني بيوي سے ہمبستري کرے جو کہ خون حيض و نفاس سے پاک ہے اور اسے طلاق دينا چاہے تو اتني مدت صبر کرے کہ وہ عورت دوبارہ حيض ديکھنے کے بعد پاک ہوجائے۔ البتہ وہ عورت جس کي عمر پورے نو سال نہيں ہوئي يا وہ حاملہ ہے اگر ہمبستري کے بعد اسے طلاق ديدے تو کوئي اشکال نہيں اور يہي حکم ہے اگر وہ يائسہ ہو يعني اگر وہ سيداني ہے تو اس کي عمر ساٹھ سال سے زيادہ اور اگر سيداني نہيں تو پچاس سال سے زيادہ ہو۔
}(٢٥٠١)اگر ايسي عورت سے ہمبستري کرے جو حيض و نفاس سے پاک ہے اور اسي پاکيزگي کے وقت اسے طلاق ديدے تو اگر بعد ميں اسے معلوم ہوجائے کہ بوقت طلاق وہ حاملہ تھي تو کوئي اشکال نہيں۔
}(٢٥٠٢)اگرايسي عورت سے ہمبستري کرے جو کہ حيض و نفاس سے پاک ہے اور سفر کرے تو اگر سفر ميںاسے طلاق دينا چاہے تو اتني مدت صبر کرے کہ جتنے دنوں ميں وہ عورت پاک رہنے کے بعد خون ديکھ کے دوبارہ پاک ہو جاتي ہے۔
}(٢٥٠٣)اگر مرد اپني ايسي بيوي کو طلاق دينا چاہے جو بيماري کي وجہ سے حيض نہيں ديکھتي تو جب سے اس نے اس عورت سے ہمبستري کي ہے تين ماہ تک اس سے ہمبستري کرنے سے اپنے آپ کو روکے رکھے اور اس کے بعد اس کو طلاق ديدے۔
}(٢٥٠٤)طلاق صحيح عربي کے ساتھ پڑھي جائے اور دو عادل مرد اسے سنيں اور اگر خود شوہر صيغہ طلاق جاري کرے اور اس کي بيوي کانام مثلاً فاطمہ ہو تو يوں کہے:
’’ زوجتي فاطمہ طالق ‘‘ ۔ يعني ميري بيوي فاطمہ آزاد ہے۔ اور اگر کسي دوسرے کو وکيل کرے تو وکيل کہے ’’ زوجۃ موکلي فاطمہ طالق ‘‘
}(٢٥٠٥)جس عورت کا متعہ ہوجائے مثلاً ايک مہينہ يا ايک سال کے لئے اس سے کوئي عقد (متعہ)کرے تو اس کے لئے کوئي طلاق نہيں اور اس کي آزادي اس ميں ہے کہ اس کي مدت پوري ہوجائے يا مرد اسے مدت بخش دے اور اس طرح کہے کہ ميں نے مدت تجھے بخشي ۔ گواہ بنانا اور عورت کا حيض سے پاک ہونا ضروري نہيں۔
#طلاق کي عدت:
}(٢٥٠٦)وہ عورت جس کي عمر نو سال نہيں ہوئي يا جو عورت يائسہ ہوچکي ہے تو اس کي کوئي عدت نہيں اگرچہ مرد نے اس سے ہمبستري کي ہو تو وہ طلاق کے بعد فوراً ہي کسي سے شادي کرسکتي ہے۔
}(٢٥٠٧)جس کي عمر نو سال ہوگئي ہو اور وہ يائسہ بھي نہ ہو اگر اس کا شوہر اس سے ہمبستري کرے اور اسے طلاق ديدے تو طلاق کے بعد اسے عدت گزارني ہوگي يعني بعد اس کے کہ اسے پاکيزگي کے دنوں ميں طلاق دے اتني مدت صبر کرے کہ دو مرتبہ خون حيض ديکھنے کے بعد پاک ہوجائے اور جس وقت بھي تيسري دفعہ خون حيض شروع ہوجائے تو اسکي عدت پوري ہوجائے گي اور دوسرا شوہر کرسکتي ہے ۔ البتہ اگر ہمبستري کرنے سے پہلے اسے طلاق ديدے تو اس کے لئے کوئي عدت نہيں يعني طلا ق کے فوراً بعد وہ شوہر کرسکتي ہے۔
}(٢٥٠٨)جس عورت کو حيض نہيں آتا ليکن وہ ايسي عورتوں کے سن ميں ہے کہ جنہيں حيض آتا ہے تو اگر اس کا شوہر اس سے ہمبستري کرنے کے بعد طلاق ديدے تو اسے چاہيے کہ طلاق کے بعد تين مہينے عدت گزارے۔
}(٢٥٠٩)جس عورت کي عدت تين ماہ ہے اگر اسے ابتدائے ماہ ميں طلاق ہوجائے تو وہ تين مہينے قمري يعني جب سے چاند نظر آيا ہے اس وقت سے لے کر تين ماہ تک عدت گزارے اور اگر مہينے کے درميان ميں اسے طلاق ہوئي ہے تو بقيہ مہينہ اور اس کے بعد دو ماہ اور اسي طرح جتنے دن پہلے ماہ کے کم تھے اتنے چوتھے مہينے سے عدت گزارے يہاں تک کہ تين ماہ پورے ہوجائيں مثلاً اگر بيسويں کے دن غروب کے وقت اسے طلا ق ہوئي اور وہ ماہ انتيس دن کا تھا تو اس ماہ کے نو دن اور ان کے بعد دو ماہ اور بيس دن چوتھے مہينے کے عدت گزارے اور احتياط مستحب يہ ہے کہ چوتھے ماہ کے اکيس دن عدت گزارے تاکہ جتنے دن اس سے پہلے ماہ کے گزارے ہيں ان کے ساتھ تيس دن ہوجائيں۔
}(٢٥١٠)اگر حاملہ عورت کو طلاق ديدي تو اس کي عدت بچے کے پيدا ہونے يا سقط ہوجانے تک ہے۔ اس بنائ پر اگر طلاق کے مثلاً ايک گھنٹہ بعد بچہ پيدا ہوجائے تو اس کي عدت پوري ہوجائے گي۔
}(٢٥١١)جس عورت کي عمر نو سال پوري ہوجائے اور وہ يائسہ بھي نہ ہو اور اسکا مثلاً ايک ماہ يا ايک سال کے لئے متعہ ہوجائے تو اگر اس کا شوہر اس سے ہم بستري کرلے اور اس کي مدت پوري ہوجائے يا شوہر اسے مدت بخش دے تو اگر اسے حيض آتا ہے تووہ حيض کي مقدار اور اگر حيض نہيں آتا تو پينتاليس دن تک وہ شوہر نہ کرے۔
}(٢٥١٢)عدت طلاق کي ابتدائ اس وقت سے ہے کہ جب سے صيغہ طلاق پورا ہوجائے چاہے عورت کو معلوم ہوجائے کہ اسے طلاق ہوگئي ہے يانہيں۔ اب اگر عدت تمام ہونے کے بعد اسے معلوم ہو کہ اس کو طلاق ديدي گئي ہے تو ضروري نہيں کہ دوبارہ عدت گزارے۔
#اس عورت کي عدت کہ جس کا شوہر مر گيا ہو :
}(٢٥١٣)جس عورت کا شوہر مرجائے اگر وہ حاملہ نہيں تو وہ چار مہينے اور دس دن عدت گزارے يعني کسي سے شادي نہ کرے اگرچہ وہ يائسہ اور متعہ والي ہو يا اس سے اس کے شوہر نے ہمبستري نہ کي ہو اور اگر حاملہ ہے تو بچہ جننے تک عدت گزارے ۔ البتہ اگر چار ماہ دس دن گزرنے سے پہلے اس کا بچہ پيدا ہوجائے تو اپنے شوہر کے مرنے سے چار مہينے دس دن تک صبر کرے اور اس عدت کو عدت وفات کہتے ہيں۔
}(٢٥١٤)جو عورت عدت وفات ميں ہو اس کے لئے رنگ برنگے کپڑے پہننا اور سرمہ لگانا حرام اور اسي طرح دوسرے ايسے کام کرنا جو زينت ميں شمار ہوتے ہيں وہ بھي حرام ہيں۔
}(٢٥١٥)اگر عورت کو يقين ہے کہ اس کا شوہر مرگيا ہے اور عدت پورا ہونے کے بعد وہ شوہر کرلے اب اگر معلوم ہوجائے کہ اس کا شوہر بعد ميں مرا تھا تو وہ دوسرے شوہر سے الگ ہوجائے اور اگر وہ حاملہ ہو تو اتني مقدار جو عدت طلاق ميں بيان کي جائے گي دوسرے شوہر کے لئے عدت طلاق اور پھرپہلے شوہر کے لئے عدت وفات گزارے اور اگر حاملہ نہيں ہے تو پہلے شوہر کے لئے عدت وفات اور پھر دوسرے شوہر کے لئے عدت طلاق گزارے۔
}(٢٥١٦)عدت وفات کي ابتدائ اس وقت سے شروع ہوتي ہے جبکہ عورت کو اطلاع ملے کہ اس کا شوہر مر گيا ہے۔
}(٢٥١٧)اگر عورت کہے کہ ميري عدت پوري ہوگئي ہے تو دو شرائط سے اس کي بات مقبول ہوگي۔
١۔ يہ کہ وہ جائے تہمت نہ ہو۔
٢۔ يہ کہ طلاق يا اس کے شوہر کے مرنے سے اتنا عرصہ گزر گيا ہو کہ اس مدت ميں عدت کا تمام ہونا ممکن ہو۔
#طلاق بائن اور طلاق رجعي :
}(٢٥١٨)طلاق بائن يہ ہے کہ طلا ق کے بعد مرد يہ حق نہيں رکھتا کہ اپني بيوي کي طرف رجوع کرے يعني بغير عقد کے اسے اپني بيوي بنالے اور اسکي پانچ قسميں ہيں:
١۔ اس عورت کي طلاق کہ جس کي عمر کے نو سال پورے نہ ہوں۔
٢۔ اس عورت کي طلاق جو يائسہ ہوگئي ہو يعني اگر سيداني ہے تو ساٹھ سال سے زيادہ اور اگر غير سيدہ ہو تو پچاس سال سے زيادہ اس کي عمر ہوگئي ہو۔
٣۔ اس عورت کي طلاق کہ جس کے شوہر نے عقد کے بعد اس سے ہمبستري نہ کي ہو۔
٤۔ اس عورت کي تيسري طلاق کے جسے تين دفعہ طلاق دي گئي ہو۔
٥۔ طلاق خلع اور مبارات اور ان کے احکام بعد ميں بيان کئے جائيں گے اور ان کے علاوہ طلاق رجعي ہے کہ جس ميں طلاق کے بعد جب تک عورت عدت ميں ہے مرد اس کي طرف رجوع کرسکتا ہے۔
}(٢٥١٩)جو شخص اپني بيوي کو رجعي طلاق دے تو اس کے لئے حرام ہے کہ وہ اسے گھر سے نکال دے کہ طلاق کے وقت جس گھر ميں وہ موجود تھي البتہ ايسے موارد ہيں جو مفصل کتب ميں بيان کئے گئے ہيں کہ جہاں اسے نکالنا کوئي اشکال نہيں رکھتا اور يہ بھي حرام ہے کہ عورت ضروري کاموں کے علاوہ اس گھر سے خود باہر نکلے۔
#رجوع کرنے کے احکام :
}(٢٥٢٠)طلاق رجعي ميںمرد دو طرح سے اپني بيوي کي طرف رجوع کرسکتا ہے۔
١۔ ايسي بات کرے کہ جس کے معني يہ ہوں کہ وہ دوبارہ اسے اپني بيوي قرار دے رہا ہے۔
٢۔ کوئي ايسا کام کرے کہ جس سے لوگ يہ سمجھيں کہ اس نے رجوع کرلياہے۔
}(٢٥٢١)رجوع کرنے کے لئے يہ ضروري نہيں کہ مرد کسي کو گواہ بنائے يا عورت کو خبر دے بلکہ اگر بغير اس کے کہ کسي کو معلوم ہو وہ کہے کہ ميں نے اپني بيوي کي طرف رجوع کيا ہے تو صحيح ہے۔
}(٢٥٢٢)جس شخص نے اپني بيوي کو طلاق رجعي دي ہے اور اگر اس سے کچھ مال لے اور اس سے مصالحت کرے کہ اب اس کي طرف رجوع نہيں کرے گا تو رجوع کرنے کا حق ختم ہوجاتا ہے۔
}(٢٥٢٣)اگرکسي عورت کو دو مرتبہ طلاق دے اور اس سے رجوع کرے يا دو مرتبہ طلاق دے اور ہر طلاق کے بعد اس سے عقد کرے تو تيسري طلاق کے بعد وہ عورت اس پر حرام ہوجائے گي البتہ اگر تيسري طلاق کے بعد وہ عورت کوئي اور شوہر کرلے تو چار شروط کے ساتھ پہلے شوہر کے لئے وہ حلال ہوجائے گي يعني وہ دوبارہ اس سے عقد کرسکے گا۔
١۔ يہ کہ دوسرے شوہر سے اس کا عقد دائمي ہو اور اگر مثلاً ايک ماہ يا ايک سال کے لئے متعہ کرلے تو اس سے جدا ہونے کے بعد پہلا شوہر اس سے عقد نہيں کرسکتا۔
٢۔ يہ کہ دوسرا شوہر بالغ ہو اور اس کے ساتھ ہمبستري اور دخول کرے اور بنا بر احتياط واجب معتبر يہ ہے کہ انزال بھي کرے۔
٣۔ يہ کہ دوسرا شوہر اس کو طلاق دے يا مرجائے۔
٤۔ يہ کہ دوسرے شوہر کي عدت طلاق يا عدت وفات پوري ہوجائے۔
#طلاق خلع :
}(٢٥٢٤)اس عورت کي طلاق جوکہ اپنے شوہر کي طرف مائل نہ ہو اور حق مہر يا کوئي اور مال اس کو بخشتي ہو کہ وہ اسے طلاق ديدے اسے طلاق خلع کہتے ہيں۔
}(٢٥٢٥)اگر شوہر صيغہ طلاق پڑھنا چاہتا ہو تو اگر اس کي بيوي کا نام مثلاً فاطمہ ہے اس کے بعد کہ وہ اپنا مہر شوہر کو بخش دے بدون فاصلہ شوہر کہے کہ ’’ زوجتي فاطمہ خالعتہا علي ما بذلت ھي طالق ‘‘ يعني اپني بيوي فاطمہ کو ميں نے طلاق خلع دي ہے ، وہ آزاد ہے۔
}(٢٥٢٦)اگر عورت کسي شخص کو وکيل کرے کہ وہ اس کا حق مہر اس کے شوہر کو بخش دے اور شوہر اس شخص کو وکيل کرے کہ وہ اس کي بيوي کو طلاق ديدے تو اگر شوہر کا نام محمد ہے اور عورت کا نام فاطمہ ہے تو وکيل صيغہ طلاق اس طرح پڑھے :’’ عن موکلتي فاطمہ بذلت مہرھالموکلي محمد ليخلعہا عليہ ‘‘ پھر بغير کسي فاصلہ کے کہے ’’ زوجۃ موکلي خالعتہا علي ما بذلت ھي طالق ‘‘ اور اگر عورت کسي کو وکيل کرے کہ حق مہر کے علاوہ کوئي اور چيز اس کے شوہر کو بخش دے تاکہ وہ اسے طلاق ديدے تو وکيل کلمہ ’’ مہرھا‘‘ کي جگہ اس چيز کا نام لے مثلاً اگر سو روپے دئے ہوں تو کہے : بذلت ماۃ روبيۃ
#طلاق مبارات :
}(٢٥٢٧)اگر بيوي و شوہر ايک دوسرے کو نہ چاہتے ہوں اور بيوي شوہر کو کچھ مال ديدے تاکہ وہ اسے طلاق دے تو اس طلاق کو مبارات کہتے ہيں۔
}(٢٥٢٨)اگر شوہر صيغہ مبارات پڑھنا چاہے تو اگر عورت کا نام فاطمہ ہے تو اسے کہنا چاہيے : بارات زوجتي فاطمۃ علي مہرھا فہي طالق ‘‘ يعني ميں نے اپني بيوي فاطمہ سے مبارات کي ہے اس کے مہر کے مقابلہ ميںپس وہ آزاد ہے۔ اور اگر کسي دوسرے کو وکيل بنائے تو وکيل کو کہنا چاہيے : بارات زوجہ موکلي فاطمہ علي مہرھا فہي طالق اور دونوں صورتوں ميں ’’ علي مہرھا‘‘ کي جگہ بمہرھا کہہ دے تو بھي کوئي اشکال نہيں۔
}(٢٥٢٩)خلع و مبارات کا صيغہ عربي صحيح ميں پڑھا جائے البتہ اگر عورت اپنا مال شوہر کو بخشنے کے لئے مثلاً اردو زبان ميں کہہ دے کہ طلاق کے لئے فلاں مال ميں نے تجھے بخش ديا ہے تو اس ميں کوئي اشکال نہيں۔
}(٢٥٣٠)اگر عورت طلاق خلع يا مبارات کي عدت کے دوران اپني بخشش سے پھر جائے تو شوہر بھي رجوع کرسکتاہے اور بغير عقد کے دوبارہ اسے اپني بيوي قرار دے سکتا ہے۔
}(٢٥٣١)جو مال شوہر طلاق مبارات کے لئے ليتا ہے وہ حق مہر سے زيادہ نہيں ہونا چاہيے البتہ اگر طلاق خلع ميں زيادہ ہو تو اس ميں کوئي اشکال نہيں۔
#طلاق کے متفرق مسائل :
}(٢٥٣٢)اگرکسي نامحرم عورت سے اس گمان ميں ہم بستري کرلے کہ وہ اس کي بيوي ہے خواہ عورت کو معلوم ہو کہ يہ اس کا شوہر نہيں يا اسے بھي يہ گمان ہو کہ يہ اس کا ہي شوہر ہے تو اسے عدت گزارني پڑے گي۔
}(٢٥٣٣)اگرکسي عورت سے يہ جانتے ہوئے کہ اس کي بيوي نہيں زنا کرے تو اگر وہ عورت نہ جانتي ہو کہ يہ شخص ميرا شوہر نہيں تو احتياط واجب يہ ہے کہ وہ عورت عدت گزارے۔
}(٢٥٣٤)اگر کوئي کسي عورت کو دھوکا دے کہ وہ اپنے شوہر سے طلاق لے کر اس کي بيوي ہوجائے تو طلاق اور عقد تو اس عورت کا صحيح ہے البتہ ان دونوں نے گناہ عظيم کيا ہے۔
}(٢٥٣٥)جب عورت ضمن عقد شوہر سے يہ شرط کرے کہ اگر شوہر سفر پر گيا يا مثلاً چھ مہينے اس نے اس کو خرچ نہ ديا تو اسے طلاق کا اختيار ہوگا تو يہ شرط باطل ہے البتہ اگر شرط کرے کہ اگر مرد سفر پر گيا يا مثلاً چھ مہينے اسے خرچہ نہ ديا تو وہ شوہر کي طرف سے اپنے آپ کو طلاق دينے ميں وکيل ہوگي تو اگر شوہر کے سفر کرنے کے بعد يا چھ ماہ خرچ نہ دينے کے بعد وہ اپنے آپ کو طلاق ديدے تو صحيح ہے۔
}(٢٥٣٦)جس عورت کا شوہر گم ہوجائے اگر وہ دوسرا کرنا چاہے تو مجتہد عادل کے پاس جائے اور اس کے حکم کے مطابق عمل کرے۔
}(٢٥٣٧)اگر مصلحت ہو تو ديوانے کا باپ دادا اس کي بيوي کو طلاق دے سکتے ہيں۔
}(٢٥٣٨)اگر باپ يا دادا اپنے بچے کا کسي عورت سے متعہ کرديں تو اگرچہ بچے کے بلوغ کا کچھ زمانہ متعہ کي مدت کا جزئ ہو مثلاً چودہ سال کے لڑکے کا کسي عورت سے دو سال کے لئے متعہ کرديں تو اگربچہ کے لئے اس ميں کوئي مصلحت ہو تو وہ اس عورت کو مدت متعہ بخش سکتے ہيں البتہ نکاح دائمي ميں نابالغ بچے کي بيوي کو باپ اور دادا طلاق نہيں دے سکتے ۔
}(٢٥٣٩)اگر ان علامات کي بنائ پر جوکہ شريعت نے معين کي ہيں کوئي شخص دو افراد کو عادل سمجھتا ہو اور ان کے سامنے اپني بيوي کو طلاق ديدے تو دوسرا جو شخص انہيں عادل نہيں سمجھتا اس کے لئے احتياط واجب يہ ہے کہ وہ اس عورت سے اپنا يا کسي دوسرے کا عقد نہ کرے۔
}(٢٥٤٠)اگر کوئي شخص بغير اس کے کہ اس کي بيوي کو معلوم ہو اسے طلاق ديدے اور اسے بيوي ہونے کے زمانہ کي طرح خرچ بھي ديتا رہے اور مثلاً ايک سال کے بعد کہے کہ ميں نے ايک سال پہلے تجھے طلاق ديدي تھي اور شرعي طور پر ثابت کردے تو وہ چيزيں جو اس زمانہ ميں اس کے لئے مہيا کي تھيں ليکن وہ انہيں صرف نہيں کرسکي تھي واپس لے سکتا ہے البتہ وہ چيزيں کہ جو وہ صرف کرچکي ہے ان کا مطالبہ نہيں کرسکتا۔

 

احکام تقليد احکام طہارت احکام نماز  احکام روزہ
احکام خمس   احکام زکواۃ احکام حج خريد و فروخت کے احکام
احکام شرکت احکام صلح اجارہ (کرايہ )کے احکام احکام جعالہ
احکام مزارعہ مساقات (آبياري )کے احکام وہ اشخاص جو اپنے مال ميں خود تصرف نہيں کرسکتےکے احکام احکام وکالت
قرض کے احکام حوالہ (ڈرافٹ)دينے کے احکام رہن کے احکام ضامن بننے کے احکام
کفالت کے احکام وديعت (امانت)کے احکام عاريتاً دينے کے احکام نکاح (شادي بياہ)کے احکام
طلاق کے احکام غصب کے احکام جو مال انسان پالے اس کے احکام جانوروں کے ذبح اور شکار کرنے کے احکام
کھانے پينے کي چيزوں کے احکام نذر اور عہد کے احکام قسم کھانے کے احکام وقف کے احکام
وصيت کے احکام ميراث کے احکام احکام امر بالمعروف اور نہي عن المنکر دفاع کے مسائل و احکام
خاتمہ کے احکام بعض مسائل جو اس زمانے ميں  مورد حاجت ہيں امام خميني کي خدمت ميں چند جديد سوالات اور ان کے جوابات