نکاح (شادي بياہ)کے احکام

عقد کے احکام
نکاح دائمي پڑھنے کا طريقہ
نکاح متعہ پڑھنے کا طريقہ
عقد کے شرائط
وہ عيوب کہ جن کي وجہ سے نکاح فسخ کيا جاسکتا ہے
بعض وہ عورتيں کہ جن سے شادي کرنا حرام ہے
عقد دائم کے احکام
متعہ يا صيغہ
نگاہ کرنے کے احکام
نکاح کے متفرق مسائل
دودھ پلانے کے احکام
دودھ پلانے کے شرائط جو کہ محرم بننے کا سبب ہيں
دودھ پلانے کے آداب
دودھ پلانے کے متفرق مسائل

#نکاح (شادي بياہ)کے احکام:
عقد ازدواج کي ساتھ عورت مرد پر حلال ہوجاتي ہے اور اس کي دو قسميں ہيں:
١۔ عقد دائم ٢۔ عقد غير دائم
عقد دائم وہ ہے کہ جس ميں نکاح کي مدت معين نہيں ہوتي اور جس عورت کا اس قسم کا عقد ہو اہو اسے دائمہ کہتے ہيں۔
عقد غير دائم وہ ہے کہ جس ميںنکاح کي مدت معين ہوتي ہے مثلاً عورت کے ساتھ ايک گھنٹہ ، ايک دن ، ايک مہينہ ، ايک سال يا اس سے زيادہ مدت کے لئے عقد کيا جائے اور جس عورت سے اس قسم کا عقد ہوا ہو اسے متعہ يا صيغہ کا نام ديتے ہيں۔
#عقد کے احکام:
}(٢٣٦٠)نکاح دائمي ہو يا غير دائمي اس ميں صيغہ پڑھنا ضروري ہے اور صرف عورت مرد کا راضي ہوجانا کافي نہيں اورصيغہ عقد عورت و مرد خود پڑھيں يا کسي دوسرے شخص کو وکيل کريں جو اس کي طرف سے صيغہ پڑھے۔
}(٢٣٦١)جب تک عورت و مرد کو يہ يقين نہ ہوجائے کہ ان کے وکيل نے صيغہ پڑھ ليا ہے تو اس وقت تک وہ ايک دوسرے کي طرف محرمانہ نگاہ نہيں کرسکتے اور يہ گمان کافي نہيں کہ وکيل نے صيغہ پڑھ ليا ہے البتہ اگر وکيل کہہ دے کہ ميں صيغہ پڑھ ليا ہے تو کافي ہے۔
}(٢٣٦٢)وکيل کے لئے مرد ہونا ضروري نہيں ہے بلکہ عورت بھي صيغہ پڑھنے ميں دوسرے کي وکيل ہوسکتي ہے۔
}(٢٣٦٣)اگر عورت کسي کو وکيل کرے کہ مثلاً دس دن کے لئے اس کا نکاح (متعہ)کسي مرد سے کردے اور دس روز کي ابتدائ معين نہ کرے تو اگر عورت کے کلام سے يہ معلوم ہوجائے کہ اس نے وکيل کو پورا اختيار دے ديا ہے تو وکيل کو اختيار ہے کہ جس وقت وہ چاہے اس عورت کو اس مرد کے نکاح ميں دس دن کے لئے دے دے اور اگر معلوم ہو کہ عورت نے معين دن يا وقت کا قصد کيا تھا تو پھر عقد اس کے مطابق کيا جائے۔
}(٢٣٦٤)ايک ہي شخص دائمي اور غير دائمي عقد کا صيغہ پڑھنے کے لئے دونوں طرف سے وکيل ہوسکتا ہے اور اسي طرح کوئي شخص عورت کي طرف سے وکيل ہوکر اس کا نکاح اپنے ساتھ دائمي يا غير دائمي پڑھ سکتا ہے ليکن احتياط مستحب يہ ہے کہ دو آدمي عقد پڑھيں۔
#نکاح دائمي پڑھنے کا طريقہ:
}(٢٣٦٥)اگر عقد دائمي کا صيغہ خود عورت و مرد پڑھيں اور پہلے عورت کہے ’’ زوجتک نفسي عليٰ الصداق المعلوم ‘‘ يعني ميں نے اپنے کو تيري بيوي قرار ديا مہر معين پر ۔ اور اس کے بعد فوراً بغير فصل کے مرد کہے ’’ قبلت التزويج‘‘ ۔ يعني اس ازدواج کو ميں نے قبول کيا تو عقد صحيح ہے اور اگر کسي اور کو وکيل کريں کہ جوان کي طرف سے صيغہ پڑھے تو اگر مثلاً مرد کا نام احمد اور عورت کا فاطمہ ہے اور عورت کا وکيل کہے ’’ زوجت موکلتي فاطمۃ موکلک احمد علي الصداق المعلوم ‘‘ پس بلا فصل مرد کا وکيل کہے ’’ قبلت لموکلي احمد علي الصداق المعلوم ‘‘ تو بھي عقد صحيح ہے۔
#نکاح متعہ پڑھنے کا طريقہ:
}(٢٣٦٦)اگر خود عورت و مرد عقد متعہ کا صيغہ پڑھنا چاہيں تو بعد اس کے کہ مدت اور مہر معين کرليں۔ اگر عورت کہے ’’ زوجت نفسي في المدۃ المعلوم علي مہر المعلوم ‘‘ اور اس کے بعد مرد بلا فصل کہے ’’ قبلت ‘‘ تو صحيح ہے اور اگر کسي دوسرے شخص کو وکيل کريں اور پہلے عورت کا وکيل کہے ’’ متعت موکلتي موکلک في المدۃ المعلوم علي المہر المعلوم ‘‘ پھر مرد کا وکيل فوراً بغير کسي فاصلہ کے کہے ’’ قبلت لموکلي ھکذا ‘‘ تو صحيح ہے۔
#عقد کے شرائط :
}(٢٣٦٧)عقد نکاح کے چند شرائط ہيں:
١۔ احتياط واجب ہے کہ صحيح عربي زبان ميں پڑھا جائے اور اگر عورت ومرد عربي زبان ميں نہ پڑھ سکتے ہوں تو جس لفظ کے ساتھ صيغہ پڑھ ديں صحيح ہے اور يہ ضروري نہيں کہ کسي کو وکيل بنائيں البتہ ايسا لفظ کہيں کہ جو زوجت اور قبلت کا معني اداکرے۔
٢۔ يہ کہ مرد و عورت اور ان کا وکيل صيغہ پڑھتے وقت انشائ رکھتے ہوں يعني اگر خود مرد اور عورت صيغہ پڑھيں تو عورت ’’ زوجتک نفسي ‘‘ کہنے ميں يہ قصد رکھتي ہو کہ اپنے کو اس کي بيوي قرار دے رہي ہے اور مرد قبلت التزويج کہنے ميں اس کي بيوي ہونے کو قبول کررہا ہو اور اگر مرد و عورت کا وکيل صيغہ پڑھ رہے ہوں تو وہ زوجت اور قبلتکہنے ميں يہ قصد رکھتے ہوں کہ جس مرد عورت نے انہيں وکيل کيا ہے وہ بيوي و شوہر ہوجائيں۔
٣۔ صيغہ پڑھنے والا عقلمند ہو اور احتياط واجب يہ ہے کہ بالغ بھي ہو خواہ اپنے لئے پڑھ رہا ہو يا کسي کي طرف سے وکيل ہو۔ ليکن اگر مميز يا نابالغ قصد انشائ کے ساتھ صيغہ عقد کو کسي اور کے لئے وکالتاً يا فضولتاً جاري کرے اور موکل اجازت دے يا مميز اپنے لئے ولي کے حکم يا اجازت سے عقد کرے يا بالغ ہونے کے بعد اس عقد کو جو بالغ ہونے سے پہلے جاري ہوا تھا قبول کرے تو ان تمام صورتوں ميں عقد صحيح ہوگا۔
٤۔ اگر بيوي شوہر کے وکيل يا ولي صيغہ پڑھ رہے ہوں تو عقد ميں بيوي شوہر کو معين کريں مثلاً ان کا نام ليںيا ان کي طرف اشارہ کريں ۔ پس جس شخص کي چند لڑکياں ہوں ، اگر وہ کسي مرد سے کہے کہ ’’ زوجتک احدي بناتي ‘‘ يعني ميںنے اپني ايک بيٹي کو تيري بيوي قرار ديا اور وہ ’’ قبلت ‘‘ يعني ميں نے قبول کيا کہہ دے تو چونکہ عقد کے وقت لڑکي معين نہيں تھي ، لہذا عقد باطل ہے۔
٥۔ عورت مرد عقد پر راضي ہوں البتہ اگر عورت ظاہراً ناپسنديدگي سے اجازت دے ليکن يہ معلوم ہو کہ وہ دل سے راضي ہے تو عقد صحيح ہے۔
}(٢٣٦٨)اگر عقد ميںايک حرف بھي غلط پڑھا گيا جو معني کو بدل دے تو عقد باطل ہے۔
}(٢٣٦٩)جو شخص عربي زبان کے قواعد نہيں جانتا اگر اس کي قرآت صحيح ہو اور عقد کے ہر ہر کلمے کاعليحدہ عليحدہ معني جانتاہو اور ہر لفظ سے اس کا معني کا قصد بھي کرے تو وہ عقد پڑھ سکتاہے۔
}(٢٣٧٠)اگر کسي عورت کا کسي مرد سے ان کي اجازت کے بغير نکاح پڑھ ديں اور اس کے بعد عورت اور مرد کہہ ديں کہ ہم اس عقد پر راضي ہيں تو عقد صحيح ہے۔
}(٢٣٧١)اگر عورت و مرد دونوں يا ان ميں سے کسي ايک کو نکاح پر مجبور کريں اور عقد پڑھے جانے کے بعد وہ کہے کہ ميں اس عقد پر راضي ہوں تو عقد صحيح ہے۔
}(٢٣٧٢)باپ اور دادا نابالغ بچے اور اس ديوانہ کا کہ جو ديوانگي کي حالت ميں بالغ ہوا ۔ اسي طرح اگر ديوانگي بالغ ہونے کے بعد عارض ہوئي ہو ازدواج کرسکتا ہے اس کے کہ بچہ بالغ اور ديوانہ عقلمند ہوجائے اگر وہ نکاح ان کے لئے کوئي مفسدہ نہ رکھتا ہو تو وہ اس کو فسخ نہيں کرسکتے اور اگر اس ميںکوئي مفسدہ ہو تو پھر وہ اسے فسخ کرسکتے ہيں۔
}(٢٣٧٣)جو لڑکي حد بلوغ کو پہنچ گئي ہے اور رشيدہ بھي ہے يعني اپني مصلحت کي تشخيص کرسکتي ہے۔ اگر وہ شادي کرنا چاہے اب اگر وہ باکرہ ہو تو احتياط واجب يہ ہے کہ وہ اپنے باپ يا دادا سے اجازت حاصل کرے اور ماں و بھائي کي اجازت ضروري نہيں۔
}(٢٣٧٤)اگر باپ اور دادا غائب ہوں اور صورت حال يہ ہو کہ ان سے اجازت نہ لي جاسکتي ہو اور لڑکي کو شادي کرنے کي ضرورت بھي ہو توپھر باپ دادا کي اجازت ضروري نہيں اسي طرح اگر شادي کسي ايسے شخص سے ہوئي ہو جو شرعاً اور عرفاً اس کا کفو(لائق و برابر) ہو اور اسي طرح اگر لڑکي باکرہ نہ ہو بشرطيکہ اس کي بکارت شوہر کرنے کي وجہ سے زائل ہوئي ہو تو اس کے لئے باپ دادا کي اجازت ضروري نہيں۔
}(٢٣٧٥)اگر باپ يا دادا اپنے نابالغ لڑکے کي کسي عورت سے شادي کرديں تو بالغ ہونے کے بعد اس لڑکے کو بيوي کا خرچہ دينا پڑے گا۔
}(٢٣٧٦)اگر باپ يا دادا نے اپنے نابالغ لڑکے کي کسي عورت سے شادي کي ہو تو اگر عقد کے وقت لڑکے کا مال تھا تو وہ عورت کے حق مہر کا مقروض ہے اور اگر عقد کے وقت اس کے پاس کوئي مال نہ ہو تو باپ يا دادا کو اس کي عورت کا حق مہر دينا پڑے گا۔
#وہ عيوب کہ جن کي وجہ سے نکاح فسخ کيا جاسکتا ہے:
}(٢٣٧٧)اگر مرد کو عقد کے بعد معلوم ہوجائے کہ عورت ميں ان سات عيوب ميںسے کوئي ايک عيب ہے تو وہ نکاح فسخ کرسکتا ہے۔
١۔ ديوانگي ٢۔ جذام (کوڑھ) ٣۔ برص (سفيد داغ) ٤۔ نابينا
٥۔ اس طرح شل ہونا کہ جو معلوم ہو۔
٦۔ يہ کہ اس کا افضائ ہوجائے (پيشاب و حيض کا راستہ يا حيض و پاخانہ کا راستہ ايک ہوجائے) البتہ اگر حيض اور پاخانہ کا راستہ ايک ہوجائے تو عقد کو فسخ کرنا مشکل ہے اور احتياط کرني چاہيے۔
٧۔ يہ کہ گوشت ہڈي يا غدود (گلٹي)اس کي شرمگاہ ميں ہو جو جماع کرنے سے مانع ہو۔
}(٢٣٧٨)اگر عورت کو عقد کے بعد معلوم ہو کہ اسکا شوہر عقد سے پہلے پاگل تھا يا عقد کے بعد پاگل ہوا ہے يا عقد سے پہلے آلہ تناسل نہيں رکھتا تھا يا عقد سے پہلے عنين تھا اور دخول و ہمبستري نہيں کرسکتا يا عقد کے بعد ہمبستري کرنے سے پہلے ہي عنين ہوجائے يا اس کے خصيتين عقد سے پہلے نکال دئے گئے ہوں تو وہ عقد کو فسخ کرسکتي ہے۔
}(٢٣٧٩)اگر مرد يا عورت عيوب ميں سے کسي عيب کي وجہ سے جو کہ گزشتہ دو مسائل ميں بيان کئے گئے ہيں عقد کو فسخ کرديں تو وہ طلاق کے بغير ايک دوسرے سے جدا ہوجائيں گے۔
}(٢٣٨٠)اگر اس وجہ سے کہ مرد عنين ہے اور وطي و ہم بستري نہيں کرسکتا عورت عقد کو فسخ کردے تو بھي مرد کو آدھا حق مہر دينا پڑے گا البتہ اگر کسي اور عيب کي وجہ سے جو کہ بيان ہوچکے ہيں ۔ مرد يا عورت عقد کو فسخ کرديں تو اگر مرد نے عورت سے ہم بستري نہيں کي تو کوئي چيز اس پر نہيں اور اگر ہمبستري کرچکا ہے تو تمام حق مہر ادا کرے۔
#بعض وہ عورتيں کہ جن سے شادي کرنا حرام ہے:
}(٢٣٨١)ان عورتوں سے شادي کرنا جو مثل ماں بہن اور خوشدامن کے انسان کي محرم ہيں ، حرام ہے۔
}(٢٣٨٢)اگر کوئي شخص کسي عورت سے عقد کرلے تو اگرچہ اس سے ہمبستري نہ کي ہو تو اس عورت کي ماں ناني اور دادي اور جتنا اوپر چلي جائيں اس مرد کي محرم ہوجائيں گي۔
}(٢٣٨٣)اگر کوئي کسي عورت سے عقد کرلے اور اس سے ہمبستري بھي ہوجائے تو اس کي بيٹي نواسي اور پوتي اور جتنا نيچے چلي جائيں وہ عقد کے وقت موجود ہوں يا بعد ميں پيداہوں وہ اس مرد کي محرم ہيں۔
}(٢٣٨٤)اگرکسي عورت سے عقد کرلے چاہے اس سے ہمبستري بھي نہ کرے جب تک وہ اس کے نکاح ميں ہے تواس کي لڑکي سے شادي نہيں کرسکتا (يعني اگر ہمبستري کرنے سے پہلے اسے طلاق ديدے تو پھر اس لڑکي سے نکاح کرسکتا ہے اور اگر ہمبستري کرلي ہے تو پھر کبھي بھي اس سے نکاح نہيں ہوسکے گا)۔
}(٢٣٨٥)باپ کي پھوپھي اور خالہ اور دادا کي پھوپھي اور خالہ اور ماں کي پھوپھي و خالہ اور ناني کي پھوپھي اور خالہ جتنا اوپر کي طرف چلي جائيں انسان کي محرم ہيں۔
}(٢٣٨٦)شوہر کا باپ داد ا اور جتنا اوپر چلے جائيں اور اسکا بيٹا نواسہ اور پوتا اور جتنے نيچے چلے جائيں چاہے عقد کے وقت موجود ہوں يا اس کے بعد پيدا ہوں يہ بيوي کے محرم ہيں۔
}(٢٣٨٧)اگر کسي عورت سے نکاح کرے چاہے عقد دائمي ہو يا متعہ جب تک وہ عورت اس کے نکاح ميں ہے اس کي بہن سے شادي نہيں کرسکتا۔
}(٢٣٨٨)اگر اپني بيوي کواس طريقہ سے جو کہ کتاب طلاق ميں بيان کياجائے گا طلاق رجعي ديدے تو اس کي عدت کے زمانہ ميں اس کي بہن سے نکاح نہيں کرسکتا اگر طلاق بائن کي عدت کا زمانہ ہے تو بھي احتياط مستحب يہ ہے کہ اس کي بہن سے شادي کرنے سے اپنے آپ کو روکے رکھے۔
}(٢٣٨٩)اپني بيوي کي اجازت کے بغير بيوي کي بھانجي اور بھتيجي سے نکاح نہيں کرسکتا البتہ اگر اس کي اجازت کے بغير عقدکرے اور بعد ميں وہ کہہ دے کہ ميں اس عقد پر راضي ہوں تو پھر کوئي اشکال نہيں۔
}(٢٣٩٠)اگر بيوي کو يہ معلوم ہوجائے کہ اس کے شوہرنے اس کي بھتيجي يا بھانجي سے عقد کرلياہے اور وہ کوئي بات نہ کرے تو اگر بعد ميں اجازت نہ دے تو ان کا عقد باطل ہے بلکہ اس کے خاموش رہنے سے معلوم ہوکہ وہ باطني طور پر راضي ہے تو بھي احتياط واجب يہ ہے کہ اس کا شوہر اس کي بھتيجي سے الگ ہوجائے مگر يہ کہ وہ اجازت دے دے۔
}(٢٣٩١)اگر کوئي شخص اپني خالہ يا پھوپھي کي لڑکي سے نکاح کرنے سے پہلے اس کي ماں سے زنا کرے تو پھر ان سے شادي نہيں کرسکتا۔
}(٢٣٩٢)اگر اپني پھوپھي يا خالہ کي لڑکي سے نکاح کرلے اور ہمبستري سے پہلے اس کي ماں سے زنا کرے تو اس کے نکاح ميں کوئي اشکال نہيں۔
}(٢٣٩٣)اگر پھوپھي اور خالہ کے علاوہ کسي عورت سے زنا کرے تو احتياط واجب يہ ہے کہ اس کي لڑکي سے شادي نہ کرے البتہ اگر کسي عورت سے شادي کرے اور اس سے ہمبستري بھي ہوجائے اور اس کے بعد اس کي ماں سے زنا کرے تو وہ عورت اس پر حرام نہيں ہوتي اور يہي حکم ہے اگر ہمبستري سے پہلے اس کي ماں سے زنا کرے البتہ اس صورت ميں احتياط مستحب يہ ہے کہ اس عورت کو طلاق ديدے۔
}(٢٣٩٤)مسلمان عورت کافر کے عقد ميں نہيں آسکتي اور مسلمان مرد بھي کافر عورتوں سے عقد دائمي نہيں کرسکتا۔ البتہ يہود و نصاريٰ جيسي اہل کتاب عورتوں سے متعہ کرنے ميں کوئي حرج نہيں۔
}(٢٣٩٥)جو عورت طلاق رجعي کے عدت کے زمانہ ميں ہے اگر کوئي اس سے زنا کرے تو وہ عورت اس پر حرام ہوجاتي ہے اور اگر اس عورت سے زنا کرے جو عدت متعہ يا عدت بائن يا عدت وفات ميں ہے تو اس کے بعد اس سے نکاح کرسکتاہے اگرچہ احتياط مستحب يہ ہے کہ ان سے نکاح نہ کرے۔ طلاق رجعي طلاق بائن عدت متعہ اور عدت وفات احکام طلاق ميں بيان کي جائيں گي۔
}(٢٣٩٦)اگر بے شوہر عورت سے زنا کرے جو کہ عدت کے ايام نہيں گزار رہي تو اس کے بعد اس سے نکاح کرسکتا ہے البتہ احتياط مستحب يہ ہے کہ اتنا وقت صبر کرے کہ وہ عورت حيض ديکھ لے اور اسکے بعد اس سے شادي کرے اور يہي حکم ہے اگر اس کے علاوہ کوئي اور اس سے عقد کرنا چاہے۔
}(٢٣٩٧)اگر کسي عورت سے عقد کرے جو کہ کسي کي عدت ميں ہو ۔ اب اگر دونوں کو يا ان ميں سے کسي کو يہ معلوم ہے کہ عورت کي عدت پوري نہيں ہوئي اور يہ بھي جانتے ہوں کہ عدت کے دنوں ميں عورت سے عقد کرنا حرام ہے کہ عورت اس پر حرام ہوجائے گي اگرچہ مرد نے عقد کے بعد اس سے ہمبستري نہ کي ہو۔
}(٢٣٩٨)اگر کسي عورت سے عقد کرے اور بعد ميں معلوم ہو کہ وہ عدت ميں تھي۔ اگر ان ميں سے کوئي بھي نہيں جانتا تھا کہ عورت عدت ميں ہے اور يہ بھي انہيں معلوم نہيں تھا کہ عدت ميں عورت سے عقد کرنا حرام ہے تو اگر مرد نے اس سے ہمبستري کرلي ہے تو وہ عورت اس پر حرام ہے۔
}(٢٣٩٩)اگر کسي کو معلوم ہے کہ يہ عورت شوہر دار ہے اور اس کے باوجود اس سے شادي کرلے تو اس سے الگ ہوجائے اور اس کے بعد بھي اس سے عقد نہيں کرسکتا۔
}(٢٤٠٠)اگر شوہر دار عورت زنا کرائے تو بھي وہ اپنے شوہر پر حرام نہيں ہوتي۔ اب اگر وہ توبہ نہ کرے اور اپنے عمل پر باقي رہے تو بہتر يہ ہے کہ شوہر اسے طلاق ديدے البتہ اس کا حق مہر ادا کرے۔
}(٢٤٠١)جس عورت کو طلاق ہوچکي ہو اور وہ عورت جس نے متعہ کيا تھا اور اسکے شوہر نے اسے مدت متعہ بخش دي تھي يا اس کي مدت پوري ہوچکي تھي اگر وہ ايک مدت کے بعد نيا شوہر کرلے اور پھر اسے شک ہوجائے کہ دوسرے شوہر کے عقد کے وقت پہلے شوہر کي عدت پوري ہوگئي تھي يا نہيں تو وہ اپنے شک کي پرواہ نہ کرے۔
}(٢٤٠٢)جس لڑکے نے لواطت کرائي ہے اس کي ماں بہن اور بيٹي لواطت کرنے والے پر حرام ہے اگرچہ لواطت کرنے اور کرانے والا بالغ نہ ہو البتہ اگر اسے گمان ہو کہ دخول ہوا تھا يا شک کرے کہ دخول ہوا تھا يا نہيں تو اس پر حرام نہيں ہوں گي۔
}(٢٤٠٣)اگر کسي کي ماں بہن يا بيٹي کے ساتھ نکاح کرے اور شادي کے بعد اس شخص کے ساتھ لواطت کرے تو وہ اس پر حرام نہيں ہوں گي۔
}(٢٤٠٤)اگر کوئي شخص حالت احرام ميں جوکہ افعال حج ميں سے ايک ہے کسي عورت سے عقد کرے تو اس کا عقد باطل ہے۔ اب اگر اسے معلوم تھا کہ حالت احرام ميں کسي عورت سے نکاح کرنا حرام ہے توپھر دوبارہ اس عورت سے نکاح نہيں کرسکتا۔
}(٢٤٠٥)وہ عورت جو حالت احرام ميںہے اگر ايسے شخص سے نکاح کرے جوکہ حالت احرام ميں نہيں تو اس کا عقد باطل ہے اور اگر عورت کو معلوم تھا کہ حالت احرام ميںنکاح کرنا حرام ہے تو واجب يہ ہے کہ اس کے بعد اس مرد سے شادي نہ کرے۔
}(٢٤٠٦)اگر کوئي مرد طواف نسائ جو کہ افعال حج ميں سے ايک ہے نہ بجالائے تو اس کي بيوي جو کہ احرام باندھنے کي وجہ سے اس پر حرام ہوگئي تھي اس کے لئے حلال نہيں ہوگي اور اسي طرح اگر عورت طواف نسائ نہ کرے تو اس کا شوہر اس پر حلال نہيں ہوگا البتہ اگر بعد ميں طواف نسائ بجالائيں تو ايک دوسرے پر حلال ہوجائيں گے۔
}(٢٤٠٧)اگر کوئي شخص نابالغ لڑکي سے نکاح کرلے اور نو سال کي عمر تمام ہونے سے پہلے اس سے ہمبستري کرلے اور دخول کرلے تو اگر اس لڑکي کا افضائ ہوجائے تو پھر کسي وقت بھي اس سے ہمبستري نہيں کرسکتا۔
}(٢٤٠٨)جس عورت کو تين طلاقيں ہوجائيں تو وہ اپنے شوہر پر حرام ہوجاتي ہے البتہ ان شرائط کے ساتھ جو کتاب طلاق ميں بيان کي جائيں گي اگر کسي دوسرے شخص سے نکاح کرلے تو پھر شوہر دوبارہ اس سے عقد کرسکتا ہے۔
#عقد دائم کے احکام:
}(٢٤٠٩)جس عورت کا نکاح دائمي ہوجائے اس کو شوہر کي اجازت کے بغير گھر سے باہر نہيں جانا چاہيے اور اسے شوہر کي ہر لذت کے لئے اپنے آپ کو پيش کرنا چاہيے اور کسي عذر شرعي کے علاوہ شوہر کو ہمبستري سے نہ روکے۔ پس اگر ان چيزوں ميں شوہر کي اطاعت کرے تو غذا و لباس و مکان اور دوسرے لوازمات کا مہيا کرنا جو کتب فقہ ميں مذکور ہيں شوہر پر واجب ہے اور اگر يہ چيز مہيا نہ کرے چاہے قدرت رکھتا ہويا نہيں تو وہ بيوي کا مقروض ہے۔
}(٢٤١٠)اگر عورت ان کاموں ميں جو گزشتہ مسئلہ ميں بيان ہوچکے ہيںشوہر کي اطاعت نہ کرے تو گناہگار ہوگي اور غذا لباس مکان اور ايک بستر پر سونے کا عورت حق نہيں رکھتي البتہ عورت کا حق مہر ختم نہيں ہوگا (يعني وہ شوہر کے ذمہ واجب الادا ہے)۔
}(٢٤١١)مرد کو کوئي حق نہيں کي وہ عورت کو گھر کہ خدمت کے لئے مجبور کرے۔
}(٢٤١٢)عورت کا سفر خرچ اگر وطن ميں رہنے کے خرچ سے زيادہ ہے تو شوہر پر لازم نہيں البتہ اگر شوہر چاہتا ہو کہ عورت کو سفر پر لے جائے تو اس کا خرچ ادا کرے۔
}(٢٤١٣)جو عورت شوہرکي اطاعت کرتي ہے اگر خرچ کا مطالبہ کرے اور شوہر نہ دے تو وہ ہر دن کے خرچ کي مقدار شوہر کي اجازت کے بغير اس کے مال سے لے سکتي ہے اور اگر يہ ممکن نہ ہو تو اگر مجبور ہے کہ اپني معاش خود تلاش کرے تو جس وقت تہيہ معاش ميں مشغول ہے شوہر کي اطاعت اس پر واجب نہيں۔
}(٢٤١٤)مرد دائمي عقد والي عورت کو اس طرح نہيں چھوڑ سکتا کہ نہ وہ شوہر دار عورت کي طرح ہو اور نہ بے شوہر کي طرح ليکن يہ واجب نہيں کہ چار راتوں ميں سے ايک رات اس کے پاس رہے۔
}(٢٤١٥)شوہرنکاح دائمي والي بيوي سے چار مہينہ سے زيادہ ہمبستري ترک نہيں کرسکتا۔
}(٢٤١٦)اگر عقد دائمي ميں حق مہر معين نہ کريں تو عقد صحيح ہے۔ اب اگر شوہر بيوي سے جماع کرے تو اس کي رشتہ دار عورتوں کے مطابق اس کو حق مہر ادا کرے جو کہ اس عورت جيسي ہوں۔
}(٢٤١٧)اگر عقد دائمي پڑھتے وقت حق مہر ادا کرنے کي مدت معين نہ کي ہو تو پھر عورت حق مہر لينے سے پہلے شوہر کوہمبستري سے روک سکتي ہے۔ چاہے شوہر حق مہر ادا کرنے کي طاقت رکھتا ہو يا نہيں۔ البتہ اگر حق مہر لينے سے پہلے ہمبستري پر راضي ہوجائے اور شوہر اس کے ساتھ ہمبستري کرلے تو اب بغير کسي عذر شرعي کے شوہر کو ہمبستري سے منع نہيں کرسکتي۔
#متعہ يا صيغہ:
}(٢٤١٨)کسي عورت سے متعہ کرنا اگرچہ لذت حاصل کرنے کے لئے نہ ہو تو بھي صحيح ہے۔
}(٢٤١٩)شوہر چار مہينے سے زيادہ متعہ والي عورت سے ہم بستري ترک نہيں کرسکتا۔
}(٢٤٢٠)جس عورت سے متعہ ہورہا ہے اگر وہ عقد ميں شرط کرے کہ شوہر اس سے ہمبستري نہيں کرے گا تو عقد اور شرط دونوں صحيح ہيں اور شوہر صرف دوسري لذات حاصل کرسکتا ہے البتہ اگر بعد ميں ہمبستري پر راضي ہوجائے تو شوہر اس سے جماع کرسکتا ہے۔
}(٢٤٢١)متعہ والي عورت اگرچہ حاملہ ہوجائے خرچ کا حق نہيں رکھتي۔
}(٢٤٢٢)متعہ والي عورت (چار راتوں ميں سے ايک)ايک بستر پر سونے اور شوہر سے ارث پانے اور شوہر بھي اس کا وارث بننے کا حق نہيں رکھتا۔
}(٢٤٢٣)متعہ والي عورت کو اگرچہ علم نہ ہو کہ وہ اخراجات اور اکھٹا سونے کا حق نہيں رکھتي تب بھي اس کا عقد صحيح ہے اور نہ جاننے کي وجہ سے بھي شوہر پر کوئي حق نہيں رکھتي۔
}(٢٤٢٤)اگر کوئي عورت کسي مرد کو وکيل کرے کہ مدت اور مبلغ معين پر وہ خود اپنے ساتھ اس کا متعہ پڑھ لے تو اگر مرد عقد دائمي پڑھ لے يا مدت و مبلغ معين کئے بغير صيغہ پڑھ لے جب عورت کو اس کا علم ہوجائے تو اگر وہ کہہ دے کہ ميں راضي ہوں تو عقد صحيح ورنہ باطل ہے۔
}(٢٤٢٥)باپ اور دادا محرم بننے کے لئے ايک دو گھنٹے کے لئے اپنے نابالغ بيٹے سے کسي عورت کا متعہ پڑھ سکتے ہيں اور اسي طرح محرم بننے کے لئے اپني نابالغ لڑکي کا متعہ کسي شخص سے کرسکتے ہيں بشرطيکہ وہ عقد لڑکي کے لئے نقصان دہ نہ ہو۔
}(٢٤٢٦)اگر باپ يا دادا محرم بننے کے لئے اپني ايسي بچي کا متعہ کسي شخص سے پڑھ ليں جو کسي دوسري جگہ رہتي ہے اور اسے معلوم نہيں کہ وہ زندہ ہے يا مرچکي ہے تو بحسب ظاہر محروميت حاصل ہوجائے گي البتہ اگر بعد ميں معلوم ہوجائے کہ عقد کے وقت وہ لڑکي زندہ نہيں تھي تو عقد باطل ہے اور جو لوگ عقد کي وجہ سے ظاہراً محرم ہوچکے تھے اب نامحرم ہوجائيں گے۔
}(٢٤٢٧)اگر مرد متعہ کي مدت عورت کو بخش دے تو اگر اس سے ہمبستري کرچکا ہے تو جو کچھ اس کے لئے (حق مہر)معين کيا تھا وہ اس کو ديدے اور اگر ہمبستري نہيں کرچکا تو پھر اس کا آدھا دينا پڑے گا۔
}(٢٤٢٨)جس عورت نے کسي سے متعہ کيا تھا اور ابھي تک اس کي عدت ميں ہے تو وہ شخص اس سے نکاح دائمي کرسکتا ہے۔
#نگاہ کرنے کے احکام:
}(٢٤٢٩)مرد کا نامحرم عورت کے بدن پر نظر کرنا چاہے لذت کي نيت سے ہو يا بغير اس کے ، حرام ہے ۔ اور اس کے چہرہ اور ہاتھوں کي طرف نظر کرنا اگر لذت کي نيت سے ہو تو حرام ہے اور احتياط واجب ہے کہ بغير قصد لذت کے بھي نہ ديکھے اور اسي طرح عورت کے لئے بجز ہاتھ و چہرہ مرد کے بدن کو ديکھنا حرام ہے اور نابالغ لڑکي کے چہرے ، بال اور بدن کي طرف اگر قصد لذت سے نہ ہو اور يہ ڈر بھي نہ ہو کہ ديکھنے کي وجہ سے کسي حرام ميں مبتلا ہوگا تو ديکھنے ميں کوئي اشکال نہيں البتہ بنائ بر احتياط جو اعضائ ران اور شکم کي طرح ہيںکہ جنہيں معمولاً چھپايا جاتا ہے ان کي طرف نگاہ نہ کرے۔
}(٢٤٣٠)اگر انسان بغير قصد لذت کافروں کے بدن کے اس حصے پر کہ جسے وہ معمولاً نہيں چھپاتي ہيں، نگاہ کرے تو اگر حرام ميں مبتلا ہونے کا خوف نہيں ہوتو کوئي اشکال نہيں رکھتا۔
}(٢٤٣١)عورت کو چاہيے کہ وہ اپنا بدن اور بال نا محرم مرد سے چھپائے بلکہ احتياط واجب يہ ہے کہ اپنا بدن اور بال ايسے لڑکے سے بھي چھپائے جو اگرچہ بالغ نہيں ہوا ليکن اچھي بري چيز کي تميز رکھتا ہے اور اس کي عمر اس حد تک پہنچي ہوئي ہے کہ شہواني نگاہيں اس پر پڑسکتي ہيں۔
}(٢٤٣٢)دوسرے کي شرمگاہ کي طرف ديکھنا حرام ہے اگرچہ شيشہ، آئينہ اور صاف پاني وغيرہ کے واسطے سے ہي کيوں نہ ہو اور احتياط واجب يہ ہے کہ مميز بچہ کي شرمگاہ کي طرف بھي نہ ديکھيں البتہ بيوي شوہر ايک دوسرے کے تمام بدن کو ديکھ سکتے ہيں۔
}(٢٤٣٣)وہ مرد و عورت جو کہ ايک دوسرے کے محرم ہيں اگر قصد لذت نہ رکھتے ہوں تو شرمگاہ کے علاوہ ايک دوسرے کے پورے جسم کو ديکھ سکتے ہيں۔
}(٢٤٣٤)مرد قصد لذت سے دوسرے مرد کے جسم کو نہ ديکھے اور عورت کے لئے بھي لذت کي نيت سے دوسري عورت کي طرف ديکھنا حرام ہے۔
}(٢٤٣٥)کسي نامحرم عورت کا فوٹو لينا مرد کے لئے حرام نہيں البتہ اگر فوٹو لينے کے لئے مجبور ہو کہ کوئي اور فعل حرام انجام دے مثلاً اس کے ہاتھ اس کے بدن پر رکھے تو پھر اس کا فوٹو نہ لے اور اگر نامحرم عورت کو پہچانتا ہے تو اگر وہ عورت بے پردہ نہ ہو تو اس کا فوٹو نہ ديکھے۔
}(٢٤٣٦)اگر مجبوري کي حالت ميں عورت کسي عورت کو يا شوہر کے علاوہ کسي اور مرد کو حقنہ کرے يا اس کي شرمگاہ کو دھوئے تو کوئي چيز اسے اپنے ہاتھ پر لپيٹ ليني چاہيے تاکہ اس کا ہاتھ مرد کي شرمگاہ تک نہ پہنچے اور يہي حکم ہے اگر مرد کسي دوسرے مرد يا اپني بيوي کے علاوہ کسي عورت کا حقنہ کرے يا اس کي شرمگاہ کو دھوئے۔
}(٢٤٣٧)اگر مرد نامحرم عورت کے علاج کرنے کے لئے مجبور ہو کہ اس کو ديکھے اور اسکے بدن کوہاتھ لگائے تو کوئي اشکال نہيں ، البتہ اگر صرف ديکھنے سے علاج کرسکتا ہے تو ہاتھ نہ لگائے اور اگر صرف ہاتھ لگانے سے علاج کرسکے تو اس کي طرف نہ ديکھے۔
}(٢٤٣٨)اگر انسان کسي کا علاج کرنے کے لئے مجبور ہو کہ اس کي شرمگاہ کو ديکھے تو احتياط واجب يہ ہے کہ اس کے مد مقابل آئينہ رکھ کر اس کي طرف نگاہ کرے اور اگر خود شرمگاہ کو ديکھنے سے کوئي چارہ کار نہ ہو تو پھر اس کي طرف ديکھنے ميںکوئي اشکال نہيں۔
#نکاح کے متفرق مسائل:
}(٢٤٣٩)جو بيوي نہ ہونے کي وجہ سے حرام ميں مبتلا ہورہا ہے تو اس کے لئے شادي کرنا واجب ہے۔
}(٢٤٤٠)اگر شوہر عقد ميں شرط کرے کہ عورت باکرہ ہوني چاہيے اگر عقد کے بعد معلوم ہو کہ وہ باکرہ نہيں ہے تو وہ عقد کو فسخ کرسکتا ہے۔
}(٢٤٤١)اگر نامحرم عورت و مرد مقام خلوت ميں بيٹھے ہوںکہ جہاں کوئي اور شخص موجود نہ ہو اور نہ آسکتا ہو تو اگر انہيں ڈر ہے کہ وہ حرام ميں مبتلا ہوجائيں گے تو وہ وہاں سے چلے جائيں۔
}(٢٤٤٢)اگر مرد عقد ميں حق مہر معين کرے ليکن اس کي نيت ہو کہ حق مہر ادا نہيں کرے گا تو عقد صحيح ہے ليکن اسے حق مہر دينا پڑے گا۔
}(٢٤٤٣)جو مسلمان خدا يا رسول کا منکر ہوجائے يا ضروريات دين يعني وہ حکم جس کو مسلمان جزو دين اسلام سمجھتے ہيں۔ مثلاً نماز يا روزے کے واجب ہونے کا منکر ہوجائے تو اگر اس حکم کے انکار کي برگشت انکار خدا يا رسول کي طرف ہو تو وہ شخص مرتد ہے۔
}(٢٤٤٤)اگر عورت قبل اس کے کہ اس کا شوہر اس سے ہمبستري کرے مرتد ہوجائے جيسا کہ گزشتہ مسئلہ ميں بيان کيا جاچکا ہے تو اس کا عقد باطل ہوجائے گا اور يہي حکم ہے اگرہمبستري کے بعد مرتد ہوجائے جبکہ وہ يائسہ ہو يعني اگر سيداني ہے تو ساٹھ سال اور اگر سيداني نہيں تو پچاس سال اس کي عمر کے پورے ہوگئے ہوں البتہ اگر يائسہ نہيں تو اس دستور کے مطابق کہ جو احکام طلاق ميں بيان کيا جائے گا عدت گزارے پس اگر عدت کے درميان دوبارہ مسلمان ہوجائے تو عقد باقي رہے گا اور اگر آخر عدت تک مرتد رہے تو عقد باطل ہے۔
}(٢٤٤٥)جس شخص کے انعقاد نطفہ کے وقت اس کا باپ يا ماں مسلمان ہو تو اگر وہ بلوغ کے بعد اظہار اسلام کرے اور پھر مرتد ہوجائے تو اس کي بيوي اس پر حرام ہوجائے گي اور اتني مقدار جو احکام طلا ق ميں بيان کيا جائے گا عدت وفات گزارے۔
}(٢٤٤٦)وہ شخص کہ جس کي پيدائش کے وقت اسکے ماں باپ غير مسلمان تھے اور وہ مسلمان ہوجائے اگر وہ اپني بيوي سے ہمبستري کرنے سے پہلے مرتد ہوجائے تو اسکا عقد باطل ہے اور اگر ہمبستري کے بعد مرتد ہوجائے تو اگر اس کي بيوي اس سن ميں ہے جبکہ عورتيں حيض ديکھتي ہيں تو وہ اتني مقدا رجو کہ احکام طلا ق ميں بيان ہوگي عدت گزارے ۔ اب اگر عدت گزرنے سے پہلے اس کا شوہر مسلمان ہوجائے تو اس کا عقد باقي ورنہ باطل ہے۔
}(٢٤٤٧)اگر عقد نکاح ميں عورت مرد سے شرط کرے کہ وہ اسے شہر سے باہر نہ لے جائيگا اور مرد بھي قبول کرلے تو وہ اسے شہر سے باہر نہيں لے جاسکتا۔
}(٢٤٤٨)اگر کسي کي بيوي کي دوسرے شوہر سے لڑکي ہو تو وہ اس لڑکي کا نکاح اپنے اس لڑکے سے کرسکتا ہے جو اس کي دوسري بيوي سے ہے اور اسي طرح اگر کسي لڑکي کا اپنے لڑکے سے نکاح کرے تو اس لڑکي کي ماں سے خود شادي کرسکتاہے۔
}(٢٤٤٩)اگر کوئي عورت زنا سے حاملہ ہوجائے تواس کے لئے جائز نہيں کہ حمل کو وہ سقط کرادے۔
}(٢٤٥٠)اگر کوئي ايسي عورت سے زنا کرے جو کہ نہ شوہر دار ہے اور نہ کسي کي عدت ميں ہے تو اگر بعد ميں اس سے نکاح کرلے اور کوئي بچہ ان سے پيدا ہو تو اگر انہيں معلوم نہ ہو کہ نطفہ حلال سے پيدا ہوا ہے يا حرام سے تو وہ بچہ حلال زادہ سمجھا جائے گا۔
}(٢٤٥١)اگر مرد کو يہ معلوم نہ ہو کہ عورت عدت ميں ہے اور وہ اس سے شادي کرلے تو اگر عورت کو بھي معلوم نہ ہو اور بچہ ان سے پيدا ہوجائے تو وہ حلال زادہ ہوگا اور شرعاً دونوںکا بيٹا ہے ليکن اگر عورت کو معلوم تھا تو وہ بچہ شرعاً صرف باپ کا ہو گا اور دونوں صورتوں ميں ان کا عقد باطل اور وہ ايک دوسرے پر حرام ہوجائيں گے۔
}(٢٤٥٢)اگر عورت کہے کہ ميں يائسہ ہوں تو اس کي بات قبول نہيں کرني چاہيے۔ البتہ اگر وہ کہے کہ ميں بے شوہر ہوں تو يہاں اس کي بات قبول کي جائے گي۔
}(٢٤٥٣)بعد اس کے کہ کسي عورت سے شادي کرلے اگر کوئي شخص کہے کہ يہ عورت شوہر دار ہے اور عورت کہے کہ ميں شوہر دارنہيںہوں تو اگر اس کا شوہر دار ہونا شرعاً ثابت نہ ہو تو عورت کي بات قابل قبول ہوگي۔
}(٢٤٥٤)اگر کسي مسلمان آزاد اور عقلمند عورت کي ايک بيٹي ہو تو جب تک لڑکي کي عمر نو سال نہيں ہوتي باپ اس لڑکي کو ماں سے جدا نہيں کرسکتا۔
}(٢٤٥٥)مستحب ہے کہ جب لڑکي بالغ ہوجائے تو اس کي شادي ميں جلدي کي جائے۔ حضرت صادق عليہ السلام فرماتے ہيں کہ مرد کي سعادتوں ميں سے ايک يہ ہے کہ اسکي لڑکي اس کے گھر ميں حيض نہ ديکھے۔
}(٢٤٥٦)اگر عورت حق مہر ميں مرد کے ساتھ يوں مصالحت کرے کہ وہ دوسري بيوي نہيں کرے گا تو احتياط واجب يہ ہے کہ نہ عورت مہر لے اور نہ شوہر دوسري کرے۔
}(٢٤٥٧)حرامزادہ اگر شادي کرلے اور بچہ پيدا ہوجائے تو وہ بچہ حلال زادہ ہوگا۔
}(٢٤٥٨)اگر مرد روزہ ماہ رمضان ميں يا حالت حيض ميں اپني بيوي سے ہمبستري کرے تو گنہ گار ہوگا ليکن اگر بچہ پيداہوجائے تو وہ حلال زاد ہ ہے۔
}(٢٤٥٩)جس عورت کو يہ يقين ہوجائے کہ اس کا شوہر سفر ميں مر گيا ہے اگر وہ عدت وفات کے بعد جو کہ احکام طلاق ميں بيان کي جائے گي شوہر کرلے اور اس کا پہلا شوہر سفر سے واپس آجائے تو اسے دوسرے شوہر سے الگ ہوجانا چاہيے اور وہ پہلے کے لئے حلال ہے البتہ اگر دوسرا اس سے ہمبستري کرچکا ہو تو عورت کو عدت گزارنا پڑے گي اور دوسرے شوہر کو چاہيے کہ اس جيسي عورتوں والا حق مہر اسے ادا کرے البتہ عدت کا خرچ اس پر نہيں ہے۔
دودھ پلانے کے احکام:
}(٢٤٦٠)اگر عورت کسي بچے کو ان شرائط کے ساتھ جو مسئلہ نمبر ٢٤٧٠ ميں بيان کئے جائيں گے دودھ پلائے تو وہ بچہ حسب ذيل عورتوں کا محرم ہوجائے گا۔
١۔ خود دودھ پلانے والي عورت کا کہ جسے رضاعي ماں کہتے ہيں۔
٢۔ اس عورت کے شوہر کا کہ جس کا دودھ تھا کہ جسے رضاعي باپ کہتے ہيں۔
٣۔ دودھ پلانے والي عورت کے ماں باپ جتنے اوپر چلے جائيں اگرچہ وہ اس عورت کے رضاعي ماں باپ ہوں۔
٤۔ وہ بچے جو اس عورت سے پيدا ہوچکے ہوں يا پيدا ہوں گے۔
٥۔ اس عورت کي اولاد کي اولاد جتنا نيچے چلي جائے چاہے اس کي اولاد سے وہ اولاد پيدا ہوچکي ہو، يا اس کي اولاد نے ان بچوں کو دودھ پلايا ہو۔
٦۔ اس عورت کے بہن بھائي اگرچہ رضاعي ہوں يعني دودھ پينے کي وجہ سے اس عورت کے بہن بھائي بنے ہوں ۔
٧۔ اس عورت کا چچا اور پھوپھي اگرچہ رضاعي ہوں۔
٨۔اس عورت کے ماموں اور خالہ اگرچہ رضاعي ہوں۔
٩۔ اس عورت کے شوہر کے ماں باپ جبکہ دودھ اس شوہر کا ہو جتنا اوپر چلے جائيں۔
١٠۔ اس عورت کے شوہر کي اولاد جبکہ دودھ اس مرد کا ہو، جتنے نيچے چلے جائيں اگرچہ اس کي رضاعي اولاد ہوں۔
١١۔ اس شوہر کے بہن بھائي کہ جس کا دودھ ہے۔ اگرچہ وہ بھائي بہن رضاعي ہي ہوں۔
١٢۔ چچا، پھوپھي ، ماموں اور خالہ اس شوہر کا کہ جس کا دودھ ہے جتنے اوپر چلے جائيں چاہے رضاعي ہي کيوں نہ ہو ں۔ اسي طرح کچھ اور لوگ کہ جن کا ذکر بعد کے مسائل ميں آئے دودھ پلانے کي وجہ سے محرم ہوجاتے ہيں۔
}(٢٤٦١)اگر کوئي عورت کسي بچہ کو ان شرائط کے تحت جو مسئلہ نمبر ٢٤٧٠ ميں بيان کئے جائيں گے، دودھ پلائے تو اس بچے کا باپ ان لڑکيوں کے ساتھ جو اس عورت سے پيدا ہوچکي ہيں ، شادي نہيں کرسکتا ۔ اسي طرح اس عورت کے اس شوہر کي لڑکيوں سے بھي نکاح نہيں کرسکتا کہ جس کا دودھ تھا بلکہ احتياط واجب يہ ہے کہ اس کي رضاعي بيٹيوں کے ساتھ بھي نکاح نہ کرے البتہ اس عورت کي رضاعي بيٹيوں سے نکاح کرسکتا ہے اگرچہ احتياط مستحب يہ ہے کہ نہ ان لڑکيوں سے نکاح کرے اور نہ ان کي طرف ايسي نگاہ کرے کہ جو انسان اپني محرم عورتوں کي طرف کرسکتا ہے۔
}(٢٤٦٢)اگر کوئي عورت کسي بچے کو ان شرائط کے ساتھ جو مسئلہ نمبر ٢٤٧٠ ميں بيان کئے جائيں گے دودھ پلائے تو اس عورت کا وہ شوہر جو دودھ کا مالک ہے اس بچے کي بہنوں کا محرم نہيں ہوگا۔ البتہ احتياط مستحب يہ ہے کہ ان سے شادي نہ کرے اور اسي طرح شوہر کے رشتہ دار اس بچہ کے بہن بھائيوں کے محرم نہيں ہوں گے۔
}(٢٤٦٣)اگر کوئي عورت کسي بچہ کو دودھ پلائے تو وہ اس بچے کے بھائيوں کي محرم نہيں ہو گي اور اسي طرح اس عورت کے رشتے دار اس بچے کے بہن بھائيوں کے محرم نہيں ہوں گے کہ جس نے اس کا دودھ پيا ہے۔
}(٢٤٦٤)اگر انسان ايسي عورت سے نکاح کرے جس نے کسي بچي کو پورا دودھ پلايا ہے اور اس عورت سے ہم بستري بھي کرلے تو پھر اس لڑکي سے نکاح نہيں کرسکتا۔
}(٢٤٦٥)اگر انسان کسي لڑکي سے شادي کرے تو وہ اس عورت سے نکاح نہيں کرسکتا جس نے اس لڑکي کو پورا دودھ پلايا ہو۔
}(٢٤٦٦)انسان ايسي لڑکي سے نکاح نہيں کرسکتا کہ جسے اس کي ماں يا دادي نے پورا دودھ پلايا ہو۔ اسي طرح اگر اس کے باپ کي بيوي نے اس کے باپ کا دودھ کسي لڑکي کو پلايا ہو تو اس لڑکي سے بھي نکاح نہيں ہوسکتا۔ اگر کسي شير خوار لڑکي سے عقد کرلے اور اس کے بعد اس کي ماں دادي يا اس کے باپ کي بيوي نے اس کے باپ کا دودھ اس لڑکي کو پلاديا تو عقد باطل ہوجائے گا۔
}(٢٤٦٧)انسان اس لڑکي سے شادي نہيں کرسکتا جسے اس کي بہن يا اس کي بھاوج نے اس کے بھائي کا پورا دودھ پلايا ہو۔ اسي طرح حکم ہے اگر اس کي بھانجي ، بھتيجي يا بہن کي نواسي ، پوتي يا بھائي کي نواسي، پوتي اس لڑکي کو دودھ پلائے۔
}(٢٤٦٨)اگر کوئي عورت اپني بيٹي کے بچے کو دودھ پلائے تو اس کي بيٹي اپنے شوہر پر حرام ہوجائے گي اور يہي حکم ہے اگر اس بچے کو دودھ پلائے جو اس کي لڑکي کے شوہر کي دوسري بيوي سے ہے۔ البتہ اگر اپنے بيٹے کے بچے کو دودھ پلائے تو اس کے بيٹے کي بيوي جو کہ اس شير خوار بچے کي ماں ہے اپنے شوہر پر حرام نہيں ہوگي۔
}(٢٤٦٩)اگر کسي لڑکي کے باپ کي بيوي اس لڑکي کے بچے کو دودھ پلائے جبکہ اس لڑکي کے باپ کا ہو تو وہ لڑکي اپنے شوہر پر حرام ہوجائے گي۔ چاہے وہ بچہ اسي لڑکي سے ہو يا اس کے شوہر کي دوسري بيوي سے۔
#دودھ پلانے کے شرائط جو کہ محرم بننے کا سبب ہيں:
}(٢٤٧٠)وہ دودھ پلائي جو محرم ہونے کي علت ہے اس کے ٨ شرائط ہيں:
١۔ بچہ زندہ عورت کا دودھ پئے۔ پس اگر مردہ عورت کے پستان سے دودھ پئے تو اس کا کوئي فائدہ نہيں ہے۔
٢۔ اس عورت کا دودہ حرام سے نہ ہو۔ پس اگر حرا م سے پيدا شدہ بچے کا دودھ کسي دوسرے بچے کو پلائے تو اس دودھ کے ذريعے وہ بچہ کسي کا محرم نہيں ہوگا۔
٣۔بچہ دودھ پستان سے پئے۔ پس اگر دودھ بچے کے حلق ميں ڈالا جائے تو اس کا کوئي فائدہ نہيں۔
٤۔ دودھ خالص ہو اور وہ کسي چيز سے ملا ہوا نہ ہو۔
٥۔ دودھ ايک ہي شوہر کا ہو۔ پس اگر دودھ دينے والي عورت کو طلا ق ہوجائے اور وہ دوسرا شوہر کرلے اور حاملہ ہوجائے اور بچہ جننے تک پہلے شوہر کا دودھ باقي رہ جائے اور مثلاً آٹھ دفعہ بچہ جننے سے پہلے، پہلے شوہر کا دودھ اور سات دفعہ بچہ جننے کے بعد دوسرے شوہر کا دودھ کسي بچہ کو پلائے تو وہ بچہ کسي کا محرم نہيں ہوگا۔
٦۔ بچہ بيماري کي وجہ سے دودھ قے نہ کردے او ر اگر قے کرلے تو احتياط واجب يہ ہے کہ جو لوگ دودھ پينے کي وجہ سے اس بچے کے محرم بنتے ہيں وہ اس سے شادي نہ کريں اور اس کي طرف نگاہ محرمانہ سے بھي نہ ديکھيں ۔
٧۔ پندہ مرتبہ يا شب و روز جيسا کہ بعد کے مسئلہ ميں بيان کيا جائے گا دودھ سير ہوکر پئے يا اسے اتنا دودھ پلايا جائے کہ لوگ کہيں کہ اس دودھ سے اس کي ہڈي محکم ہوئي ہے اور اس کے بدن ميں گوشت پيدا ہوا ہے بلکہ اگر دس مرتبہ اسے دودھ پلائيں ۔ احتياط مستحب ہے کہ وہ اشخاص جو دودھ پينے کي وجہ سے اس کے محرم ہوجاتے ہيں اس سے شادي نہ کريں اور نظر محرمانہ بھي اس پر نہ ڈاليں۔
٨۔ بچے کي عمر پورے دوسال نہ ہوئي ہو اور اگر پورے دو سال ہونے کے بعد اسے دودھ پلايا جائے تو وہ کسي کا محرم نہيں ہوگا بلکہ اگر مثلاً دو سال پورے ہونے سے پہلے چودہ مرتبہ اور اس کے بعد ايک مرتبہ دودھ پي لے تو بھي کسي کا محرم نہيں ہوگا۔ البتہ اگر دودھ دينے والي عورت کو بچہ جنے دو سال سے زيادہ عرصہ گزر گيا ہو اور ابھي تک اس کا دودھ باقي ہو اور وہ کسي بچے کو دودھ پلادے تو وہ بچہ بيان شدہ اشخاص کا محرم ہوجائے گا۔
}(٢٤٧١)دودھ پينے والا بچہ شب و روز ميں غذا يا کسي اور عورت کا دودھ نہ پئے البتہ اگر اتني تھوڑي غذا کھا لے کہ لوگ نہ کہيں کہ اس نے درميان ميں غذا کھائي ہے تو اس ميں کوئي اشکال اور اسي طرح چاہيے کہ پندرہ مرتبہ ايک ہي عورت کا دودھ پئے اور پندرہ مرتبہ کے درميان کسي اور عورت کا دودھ نہ پئے اور ہر دفعہ بغير فصل کے دودھ پئے ۔ البتہ اگر دودھ پيتے ہوئے سانس لے لے يا اتنا سا صبر کرلے کہ جب سے اس نے پستان منہ ميں ليا ہے سير ہونے تک ايک ہي دفعہ شمار ہو تو کوئي اشکال نہيں۔
}(٢٤٧٢)اگر کوئي عورت اپنے شوہر کا دودھ ايک بچے کو پلائے اور اسکے بعد دوسرا شوہر کرلے اور اس شوہر کا دودھ بھي کسي دوسرے بچے کوپلائے تو وہ دونوں بچے آپس ميں محرم نہيں ہوں گے اگرچہ بہتر يہ ہے کہ نہ ايک دوسرے سے شادي کريں اور نہ ايک دوسرے پر نگاہ محرمانہ ڈاليں۔
}(٢٤٧٣)اگرايک عورت ايک ہي شوہر کا دودھ چند بچوں کو پلائے تو وہ سب آپس ميں رضاعي ماں باپ کے لئے محرم ہوں گے۔
}(٢٤٧٤)اگر ايک شخص کي چند بيوياں ہيں اور ان ميں سے ہر ايک ان شرائط کے ساتھ جو بيان کي گئي ہيں ايک ايک بچے کو دودھ پلائے تو وہ تمام بچے آپس ميں اس مرد اور ان تمام عورتوں کے محرم ہوجائيں گے۔
}(٢٤٧٥)اگر کسي شخص کي دودھ پلانے والي دو بيوياں ہوں اور ان ميں سے ايک کسي بچے کو آٹھ مرتبہ اور دوسري سات مرتبہ پلادے تو وہ بچہ کسي کا محرم نہ ہوگا۔
}(٢٤٧٦)اگر کوئي عورت ايک شوہر کے دودھ سے ايک لڑکے اور ايک لڑکي کو پورا دودھ پلائے تو اس لڑکي کے بہن بھائي اور اس لڑکے کے بہن بھائي آپس ميں محرم نہيں بنيں گے۔
}(٢٤٧٧)انسان اپني بيوي کي اجازت کے بغير ان عورتوں سے نکاح نہيں کرسکتا جو دودھ پينے کي وجہ سے اس کي بيوي کي بھانجياں يا بھتيجياں بن چکي ہيں اور اسي طرح اگر کسي لڑکے سے لواطت کرے تو اس لڑکے کي رضاعي بيٹي، بہن اور دادي سے نکاح نہيں کرسکتا۔
}(٢٤٧٨)جس عورت نے کسي انسان کے بھائي کو دودھ پلايا ہو تو وہ اس کي محرم نہيں ہوگي اگرچہ احتياط مستحب يہ ہے کہ اس سے شادي نہ کرے۔
}(٢٤٧٩)انسان دو بہنوں سے اگرچہ وہ رضاعي بہنيں ہوں شادي نہيں کرسکتا اور اگر دو عورتوں سے نکاح کرے اور اسے بعد ميں معلوم ہو کہ وہ آپس ميں بہنيں ہيں تو اگر ان کا نکاح ايک ہي وقت ميں ہوا ہے تو دونوں کا نکاح باطل ہے اور اگر ايک وقت ميں نہيں ہوا تو جس کا نکاح پہلے ہوچکا وہ صحيح اور دوسري کا باطل ہے۔
}(٢٤٨٠)اگر عورت اپنے شوہر کا دودھ ان لوگوں کو پلائے جن کا بيان ابھي بعد ميں ہوگا تو اس کا شوہر اس کے لئے حرام نہيں ہوتا اگرچہ بہتر يہ ہے کہ احتياط کريں۔
١۔ عورت کے اپنے بہن بھائي
٢۔ اس کے چچا ، ماموں اور خالہ
٣۔ اس کے چچا اور ماموں کي اولاد
٤۔ اس کا بھتيجا
٥ ۔ اس کے شوہر کا بھائي يا بہن
٦۔ عورت کا اپنا بھانجا يا شوہر کا بھانجا
٧۔ اس کے شوہر کا چچا، پھوپي ، ماموں اور خالہ
٨۔ شوہر کي دوسري بيوي کي اولاد کي اولاد۔
}(٢٤٨١)جو کسي کي پھوپي يا خالہ کي لڑکي کو دودھ پلائے تو وہ اس کي محرم نہيں ہوگي البتہ احتياط مستحب يہ ہے کہ اس سے شادي نہ کرے۔
}(٢٤٨٢)جو شخص کي دو بيوياں ہيں اگر ان ميں سے ايک دوسرے کے چچا کے بيٹے کو دودھ پلائے تو جس عورت کے چچا کے بيٹے نے دودھ پيا ہے وہ اپنے شوہر پر حرام نہيں ہوگي۔
#دودھ پلانے کے آداب:
}(٢٤٨٣)بچے کو دودھ پلانے کے لئے اس کي اپني ماں سب سے بہتر ہے اور بہتر يہ ہے کہ ماں دودھ پلانے کے لئے اپنے شوہر سے کوئي مزدوري نہ لے اور اچھي بات ہے کہ شوہر مزدور دے۔ اگر ماں چاہے کہ دايا سے زيادہ مزدوري لے تو شوہر اس سے بچہ لے کر دايا کے سپرد کرسکتا ہے۔
}(٢٤٨٤)مستحب يہ ہے کہ جو دايا بچہ کي تربيت کے لئے انتخاب کي جائے وہ اثنا عشري عقل و عفت اور خوبصورت ہو اور مکروہ ہے کہ کم عقل ، غير اثنا عشري ، بدصورت ، بدخلق يا حرام زادي ہو اور يہ بھي مکروہ ہے کہ ايسي دايا انتخاب کي جائے کہ جس کا بچہ زنا سے پيداہوا ہو۔
#دودھ پلانے کے متفرق مسائل:
}(٢٤٨٥)مستحب ہے کہ عورتوں کو اس بات سے منع کيا جائے کہ وہ ہر بچے کو دودھ پلائيں کيونکہ ممکن ہے کہ وہ بھول جائيں کہ کن کن بچوں کو دودھ پلا چکي ہيں اور بعد ميں دو ايسے افراد جو ايک دوسرے کے محرم ہيں آپس ميں شادي کرليں۔
}(٢٤٨٦)جو لوگ دودھ پلانے کي وجہ سے رشتہ دار ہوجاتے ہيں۔ مستحب ہے کہ ايک دوسرے کا احترام کريں۔ البتہ نہ وہ ايک دوسرے کے وارث بنيں گے اور نہ ہي انہيں وہ حقوق ميسر ہوں گے جو کسي انسان کے رشتہ دار کو ہوتے ہيں۔
}(٢٤٨٧)اگر ممکن ہو تو مستحب ہے کہ بچے کو پورے دو سال دودھ پلايا جائے۔
}(٢٤٨٨)اگر دودھ پلانے کي وجہ سے شوہر کا حق ضائع نہ ہوتا ہو تو عورت شوہر کي اجازت کے بغير کسي کے بچے کو دودھ پلاسکتي ہے البتہ يہ جائز نہيں کہ ايسے بچے کو دودھ پلائے کہ جس کي وجہ سے اپنے شوہر پر حرام ہوجائے۔ مثلاً اگر شوہر کسي شير خوار لڑکي سے نکاح کرے تو عورت اس لڑکي کو دودھ نہ پلائے کيونکہ اگر اس لڑکي کو دودھ پلائے تو وہ اپنے شوہر کي بيوي کي ماں اور اپنے شوہر پر حرام ہوجائے گي۔
}(٢٤٨٩)اگر کوئي شخص چاہے کہ اس کے بھائي کي بيوي اس کي محرم بن جائے تو کسي شير خوار بچي کے ساتھ مثلاً دود ن متعہ کرے اور ان ہي دونوں ميں ان شرائط کے ساتھ جو مسئلہ نمبر ٢٤٧٠ ميں بيان ہوچکے ہيں۔ اس کے بھائي کي بيوي اس لڑکي کو دودھ پلائے۔
}(٢٤٩٠)اگر مرد کسي عورت کے متعلق نکاح کرنے سے پہلے کہے کہ دودھ پينے کي وجہ سے يہ عورت مجھ پر حرام ہے مثلاً کہے کہ اس نے اس کي ماں کا دودھ پيا ہے تو اگر اس کي تصديق ممکن ہے تو اس عورت سے شادي نہيں کرسکتا اور اگر عقد کے بعد کہے اور عورت بھي اس کي بات کو قبول کرلے تو عقد باطل ہے۔ پس اگر مرد اس عورت کے ساتھ ہم بستري نہيں کرچکا يا ہم بستري کرچکا ہے ليکن ہم بستري کرتے وقت عورت کو معلوم تھا کہ يہ اس مرد پر حرام ہے تو اس کا حق مہر دينا نہيں پڑے گا اور اگر ہم بستري کے بعد اسے معلوم ہو کہ وہ اس پر حرام ہے تو اس جيسي عورتوں کي شان کے مطابق اسے حق مہر ادا کرے۔
}(٢٤٩١)اگر عورت عقد سے پہلے کہے کہ دودھ پينے کي وجہ سے ميں اس مرد پر حرام ہوں تو اگر اس بات کي تصديق ممکن ہو تو اس مر د سے شادي نہيں کرسکتي اور اگر عقد کے بعد کہے تو وہي صورت ہے کہ جب مرد عقد کے بعد کہے کہ يہ عورت اس پر حرام ہے اور اس کا حکم گزشتہ مسئلہ ميں بيان ہوچکا ہے۔
}(٢٤٩٢)وہ دودھ پلائي جو محرم ہونے کي علت ہے دو چيزوں سے ثابت ہوتي ہے۔
١۔ اتنے لوگوں کا خبر دينا کہ جن کے کہنے سے انسان کو يقين پيداہوجائے۔
٢۔ دو عادل مرد يا چار عادل عورتيں گواہي ديں البتہ وہ دودھ پلانے کے شرائط بھي بيان کريں مثلاً کہيں کہ ہم نے ديکھا ہے کہ فلاں بچے نے چوبيس گھنٹے فلاں عورت کے پستان سے دودھ پياہے اور درميان ميں کوئي اور چيز بھي نہيں کھائي پي۔ اسي طرح باقي شرائط جو مسئلہ نمبر ٢٤٧٠ ميں بيان ہوچکي ہيں اس کي تشريح کريں۔ البتہ اگر معلوم ہے کہ يہ شرائط کو جانتے ہيں اور عقيدے ميں ايک دوسرے کے مخالف بھي نہيں اور مرد و عورت کے ساتھ بھي ان مسائل ميں عقيدہً مخالف نہيں تو پھر ضروري نہيں کہ وہ شرائط تفصيل سے بيان کريں۔
}(٢٤٩٣)اگر شک کريں کہ بچے نے اتنا دودھ پيا ہے جو محرم ہونے کي علت ہے يا نہيں يا گمان ہو کہ بچے نے اتني مقدار ميں دودھ پي ليا ہے تو وہ بچہ کسي کا محرم نہيں ہوگا البتہ بہتر يہ ہے کہ احتياط کريں۔

 

احکام تقليد احکام طہارت احکام نماز  احکام روزہ
احکام خمس   احکام زکواۃ احکام حج خريد و فروخت کے احکام
احکام شرکت احکام صلح اجارہ (کرايہ )کے احکام احکام جعالہ
احکام مزارعہ مساقات (آبياري )کے احکام وہ اشخاص جو اپنے مال ميں خود تصرف نہيں کرسکتےکے احکام احکام وکالت
قرض کے احکام حوالہ (ڈرافٹ)دينے کے احکام رہن کے احکام ضامن بننے کے احکام
کفالت کے احکام وديعت (امانت)کے احکام عاريتاً دينے کے احکام نکاح (شادي بياہ)کے احکام
طلاق کے احکام غصب کے احکام جو مال انسان پالے اس کے احکام جانوروں کے ذبح اور شکار کرنے کے احکام
کھانے پينے کي چيزوں کے احکام نذر اور عہد کے احکام قسم کھانے کے احکام وقف کے احکام
وصيت کے احکام ميراث کے احکام احکام امر بالمعروف اور نہي عن المنکر دفاع کے مسائل و احکام
خاتمہ کے احکام بعض مسائل جو اس زمانے ميں  مورد حاجت ہيں امام خميني کي خدمت ميں چند جديد سوالات اور ان کے جوابات