|
#عاريتاً دينے کے احکام
}(٢٣٤١)عاريہ يہ ہے کہ انسان اپنا مال کسي کو ديدے اور و اس سے
فائدہ اٹھائے اور اس کے معاوضہ ميں کوئي چيز بھي اس سے نہ لے۔
}(٢٣٤٢)يہ ضروري نہيں کہ عاريہ ميں کوئي صيغہ پڑھا جائے اور اگر
مثلاً لباس عاريہ کے قصد سے کسي کو ديدے اور وہ اس قصد سے لے لے تو
عاريہ صحيح ہے۔
}(٢٣٤٣)کسي غصبي چيز کا عاريۃ دينا يا کسي ايسي چيز کا جو انسان کي
ملکيت تو ہے ليکن اس کي منفعت کسي کے سپرد کررکھي ہے مثلاً وہ چيز
کرايہ پر دي ہوئي ہے اس صورت ميں صحيح ہے جبکہ غصبي چيز کا مالک يا
جو شخص کرايہ دار ہے وہ کہہ دے کہ ميں عاريہ دينے پر راضي ہوں۔
}(٢٣٤٤)جس چيز کا نفع کسي کي ملکيت ہے مثلاً وہ چيز کرايہ پر لي
ہوئي ہے تو اس کو عاريۃ دے سکتا ہے البتہ اگر کرايہ ميں شرط کي گئي
تھي کہ صرف وہ خود ہي اس سے فائدہ اٹھاسکتا ہے تو پھر وہ کسي کو
عاريۃ نہيں دے سکتا۔
}(٢٣٤٥)اگر ديوانہ يا بچہ اپنا مال عاريۃ ديدے تو صحيح نہيں ہے
البتہ اگر بچہ کا ولي مصلحت کي بنا پر عاريہ ديدے اور اسي طرح ولي
کي اجازت سے عاريہ ديدے تو اس ميں اشکال نہيں ہے۔
}(٢٣٤٦)اگر عاريۃ لي ہوئي چيز کي حفاظت ميں کوتاہي نہ کرے اور اس
سے فائدہ اٹھانے ميں بھي زيادتي نہ کرے اور اتفاقاً وہ چيز تلف
ہوجائے تو ضامن نہيں ہے البتہ اگر يہ شرط کي گئي تھي کہ اگر تلف
ہوگئي تو عاريۃ لينے والا اس کا ضامن ہے يا جو چيز عاريۃ لي ہے وہ
سونا يا چاندي تھي تو اس کا معاوضہ دينا پڑے گا۔
}(٢٣٤٧)اگر سونا يا چاندي عاريۃ لے اور شرط کرے کہ اگر تلف ہوگئي
تو ضامن نہيں ہوگا۔ اب اگر تلف ہوجائے تو ضامن نہيں۔
}(٢٣٤٨)اگر عاريۃ دينے والا مرجائے تو عاريۃ لينے والے کو چاہيے کہ
وہ چيز اس کے ورثا کو ديدے۔
}(٢٣٤٩)اگر عاريۃ دينے والا ايسا ہوجائے کہ شرعاً اپنے مال ميں
تصرف نہ کرسکتاہو مثلاً ديوانہ ہوجائے تو عاريۃ لينے والے کو چاہيے
کہ وہ مال اس کے ولي کو ديدے۔
}(٢٣٥٠)جس نے کوئي چيز عاريۃ دي ہے جب چاہے اسے واپس لے سکتا ہے
اور جس نے عاريۃ لي ہے وہ بھي جب چاہے واپس کرسکتاہے۔
}(٢٣٥١)اگر سونے اور چاندي کے برتن کمرے کي زينت کے لئے عاريۃ ديدے
تو کوئي اشکال نہيں البتہ اگر کسي حرام فائدہ کے لئے دے تو باطل
ہے۔
}(٢٣٥٢)گوسفند اس لئے عاريۃ دينا کہ اس کے دودھ اور ريشم سے فائدہ
حاصل کيا جائے اور نر جانور اس لئے دينا کہ وہ مادہ سے جفتي کرے
صحيح ہے۔
}(٢٣٥٣)وہ چيز جو عاريۃ لي ہے اگر مالک يا اس کے وکيل يا ولي کو
ديدے اور اس کے بعد وہ چيز تلف ہوجائے تو عاريۃ لينے والا ضامن
نہيں ہوگا اور اس صورت کے علاوہ ضامن ہوگا اگرچہ مثلاً اسے وہاں لے
جائے کہ جہاں مالک عموماً اسے لے جاتا تھا مثلاً گھوڑا اصطبل ميں
باندھ دے کہ جو مالک نے اس کے لئے بنايا ہے۔
}(٢٣٥٤)اگر نجس چيز کھانے پينے کے استعمال کے لئے عاريۃ دے تو اس
کا نجس ہونا عاريۃ لينے والے کو بتائے ۔
}(٢٣٥٥)جو چيز عاريۃ لي ہے وہ مالک کي اجازت کے بغير کرايہ پر يا
عاريۃ نہيں دے سکتا۔
}(٢٣٥٦)اگر عاريۃ لي ہوئي چيز مالک کي اجازت سے کسي اور کو عاريۃ
ديدے تو اگر جس نے پہلے عاريۃ لي تھي وہ مرجائے يا ديوانہ ہوجائے
تو دوسرا عاريۃ باطل نہيں ہوگا۔
}(٢٣٥٧)اگر معلوم ہوجائے کہ عاريۃ لي ہوئي چيز غصبي ہے تو وہ مالک
کو واپس ديدے اور عاريۃ دينے والے کو واپس نہيں دے سکتا۔
}(٢٣٥٨)جس مال کے متعلق معلوم ہے کہ يہ غصبي ہے اگر وہ عاريۃ لے
اور اس سے فائدہ اٹھائے اوراس کے قبضہ ميں وہ تلف ہوجائے تو مالک
مال کو اختيار ہے کہ اپنے مال کا معاوضہ اس سے يا غصب کرنے والے سے
طلب کرے اور اسي طرح ان فوائد کا مطالبہ بھي عاريۃ لينے والے سے
کرسکتا ہے کہ جن کو اس نے حاصل کيا ہے اور اگر غصب سے لينا چاہے تو
اس ميں اشکال ہے اور اگر مال کا معاوضہ فوائد سميت عاريۃ لينے والے
سے طلب کرے تو جو چيز وہ مالک کو دے رہا ہے اس کا عاريۃ دينے والے
سے مطالبہ نہيں کرسکتا۔
}(٢٣٥٩)اگر اسے معلوم نہ ہو کہ جو مال اس نے عاريۃ ليا ہے وہ غصبي
ہے اور وہ مال اس کے ہاتھ ميں تلف بھي ہوجائے تو اگر مالک مال اس
کا معاوضہ اس سے لے لے تويہ بھي جو کچھ مالک کو دے چکا ہے اس کا
مطالبہ عاريۃ دينے والے سے کرسکتا ہے۔ البتہ اگر عاريۃ لي ہوئي چيز
سونا يا چاندي ہے يا عاريۃ دينے والے نے اس سے شرط کي ہوکہ اگر وہ
چيز تلف ہوگئي تو اس کا معاوضہ دينا پڑے گا تو پھر جو چيز مالک کو
ديدے اس کا مطالبہ عاريۃ دينے والے سے نہيں کرسکتا۔
|