وديعت (امانت)کے احکام

#وديعت (امانت)کے احکام:
}(٢٣٢٤)اگر کوئي شخص اپنا مال کسي کو دے دے اور کہہ دے کہ يہ تمہارے پاس امانت ہے اور وہ بھي قبول کرلے يا کوئي بات کئے بغير مالک اس کو سمجھا دے کہ يہ مال حفاظت کے لئے اسے دے رہا ہے اور وہ بھي حفاظت کي نيت سے لے لے تو اسے احکام وديعت و امانت پر عمل کرناہوگا۔جو بعد ميں بيان کئے جائيں گے۔
}(٢٣٢٥)امانت دار اور جو شخص امانت دے رہا ہے دونوں کو بالغ و عاقل ہونا چاہيے پس اگر کوئي شخص اپنا مال کسي بچہ يا ديوانہ کے پاس بطور امانت رکھے يا ديوانہ اور بچہ کسي کے پاس اپنا مال بطور امانت رکھيں تو صحيح نہيں ہے ۔
}(٢٣٢٦)اگر کسي بچے يا ديوانے سے کوئي چيز بطور امانت قبول کرے تو وہ اس کے مالک کو واپس کردے اور اگر وہ مال بچے يا ديوانے کا ہے تو اس کے ولي تک پہنچادے اور اگر مال تلف ہوجائے تو اس کا عوض ادا کرے البتہ اگر اس نيت سے بچہ سے لے کہ کہيں مال تلف نہ ہوجائے تو اگر اس کي حفاظت ميں کوتاہي نہ کي ہو تو اس کا ضامن نہيں ہوگا۔
}(٢٣٢٧)جو شخص امانت کي حفاظت نہيں کرسکتا تو احتياط واجب يہ ہے کہ امانت قبول نہ کرے ليکن اگر مالک اس کي حفاظت ميں اس سے زيادہ عاجز ہو اور کوئي ايسا شخص بھي نہيں جو اس سے بہتر اس کي حفاظت کرسکے تو پھر مذکورہ احتياط واجب نہيں۔
}(٢٣٢٨)اگر انسان مالک کو سمجھا دے کہ ميں اس مال کي حفاظت کے لئے حاضر نہيں تو اگر وہ مال وہيں رکھ کے چلا جائے اور يہ شخص بھي اس مال کو اٹھائے اور وہ تلف ہوجائے تو جس نے امانت قبول نہيں کي وہ اس کا ضامن نہيں ليکن احتياط مستحب يہ ہے کہ اگر ممکن ہو تو اس کي حفاظت کرے۔
}(٢٣٢٩)جو شخص کسي کے پاس کوئي امانت رکھتا ہے تو جب چاہے وہ واپس لے سکتا ہے اور جو شخص امانت کو قبول کرتا ہے تو جب چاہے مالک کو واپس کرسکتا ہے۔
}(٢٣٣٠)جب کوئي شخص امانت کي حفاظت سے روگرداني کرے اور وديعت کو فسخ کردے تو جتنا جلدي ہوسکے مال ، مالک ، اسکے وکيل يا ولي تک پہنچائے يا انہيں اطلاع دے کہ ميں حفاظت کے لئے حاضر نہيں اور اگر کسي عذر کے بغير مال ان کے سپرد نہ کرے اور انہيں اطلاع بھي نہ دے اور وہ تلف ہوجائے تو اس کا معاوضہ دينا پڑے گا۔
}(٢٣٣١)جو شخص امانت قبول کرے تو اگر اس کے لئے کوئي مناسب جگہ نہيں ہے تو مہيا کرے اور اس طرح اس کي حفاظت کرے کہ لوگ يہ نہ کہيںکہ اس نے امانت ميں خيانت يا اس کي حفاظت ميں کوتاہي کي ہے اور اگر کسي ايسي جگہ اسے رکھے جو اس کے لئے مناسب نہيں تھي اور وہ تلف ہوجائے تو اس کا معاوضہ دينا پڑے گا ۔
}(٢٣٣٢)جو شخص امانت کو قبول کرتا ہے اگر اس کي حفاظت ميں کوتاہي اور زيادتي بھي نہ کرے اور اتفاقاً وہ تلف ہوجائے تو اس کا ضامن نہيں ہوگا البتہ اگر اپني مرضي سے ايسي جگہ رکھ دے کہ جس کے متعلق گمان ہے کہ ظالم کو علم ہوجائے گا اور وہ اسے لے جائے گا اب اگر اس صورت ميں وہ تلف ہوجائے تو اس کا معاوضہ مالک کو ادا کرے مگر يہ کہ اس سے زيادہ محفوظ اس کے پاس نہ ہو اور نہ مال مالک تک پہنچا سکتا ہو اور نہ کسي ايسے شخص تک کہ جو اس کي بہتر حفاظت کرسکتا تھا تو پھر اس صورت ميں ضامن نہيں ہوگا۔
}(٢٣٣٣)اگر مالک ، مال کي حفاظت کے لئے کوئي جگہ معين کردے اور امانت قبول کرنے والے کو کہہ دے کہ مال کو اس جگہ محفوظ رکھنا اور اگرچہ تمہيں احتمال ہو کہ يہ تلف ہوجائے گا تو بھي کسي دوسري جگہ نہ لے جانا اگر امانت رکھنے والے کو يہ احتمال ہو کہ يہاں مال تلف ہوجائے گا اور اسے علم ہو کہ چونکہ مالک کے نزديک يہ جگہ حفاظت کے لئے بہتر تھي لہذا اس نے کہا تھا کہ يہاں سے باہر نہ لے جانا تو پھر وہ اس کو دوسري جگہ لے جاسکتا ہے۔ اب اگر اس جگہ لے جائے اور وہ تلف ہوجائے تو وہ ضامن نہيںہوگا ليکن اگر اسے معلوم نہ ہو کہ مالک نے يہ کيوں کہا تھا کہ دوسري جگہ نہ لے جانا تو اگر دوسري جگہ لے گيا اور مال تلف ہوگيا تو احتياط واجب يہ ہے کہ اس کا معاوضہ ادا کرے۔
}(٢٣٣٤)اگر مالک اپنے مال کي حفاظت کے لئے کوئي جگہ معين کرے ليکن اس نے امانت کو قبول کرنے والے سے نہ کہا ہو کہ اسے کسي دوسري جگہ نہ لے جانا تو اگر امانت دار کو يہ احتمال ہو کہ يہ مال يہاں تلف ہوجائے گا تو وہ مال کو اس جگہ لے جائے جو زيادہ محفوظ ہو۔ اب اگر مال وہاں تلف ہوجائے تو ضامن نہيںہوگا اور اگر مالک کو بھي اس جگہ مال کے تلف ہونے کا احتمال ہو تو اس صورت ميں جس نے امانت کو قبول کيا ہے تو اس پر وہاں سے مال منتقل کرنا لازم نہيں۔
}(٢٣٣٥)اگر مالک ديوانہ ہوجائے تو جس شخص نے بھي اس کي امانت قبول کي ہے وہ فوراً اس کے ولي کو واپس کردے يا ولي کو بتائے اور اگر عذر شرعي کے بغير ولي کو واپس نہ کرے اور اسے خبر دينے ميں بھي کوتاہي کرے اور مال تلف ہوجائے تو اس کا معاوضہ ادا کرے۔
}(٢٣٣٦)اگر مالک مر جائے تو امانت دار کو چاہيے کہ مال اس کے وارث کو دے دے يا وارث کو خبر دے اور اگر وارث کو نہ ديا اور اسے خبر دينے ميں بھي کوتاہي کي اور مال تلف ہوگيا تو ضامن ہوگا البتہ اگر يہ معلوم کرنے کے لئے جو شخص کہتا ہے کہ ميں ميت کا وارث ہوں سچ کہتا ہے يانہيں يا ميت کا اس کے علاوہ کوئي اور وارث ہے يا نہيں مال نہ دے اور اطلاع دينے ميں بھي کوتاہي کرے اور مال تلف ہوجائے تو ضامن نہيں ہوگا۔
}(٢٣٣٧)اگر مالک مر جائے اور اس کے چند وارث ہوں توجس شخص نے امانت قبول کي تھي وہ سب ورثائ کو جمع کرکے امانت واپس کردے يا کسي ايسے شخص کو دے دے کہ جسے ان سب نے مال کي وصولي سپرد کي ہو۔ پس اگر باقي ورثائ کي اجازت کے بغير سارا مال ايک وارث کو دے دے کہ جسے ان سب نے مال کي وصولي سپرد کي ہو۔ پس اگر باقي ورثائ کي اجازت کے بغير سارا مال ايک وارث کو دے دے تو باقيوں کے حصے کا ضامن ہوگا۔
}(٢٣٣٨)اگر امانت قبول کرنے والا ديوانہ ہوجائے يا مرجائے تو اس کے وارث يا ولي کا چاہيے کہ جتنا جلدي ہو سکے مالک کو اطلاع دے يا مال اس تک پہنچا دے۔
}(٢٣٣٩)اگر امانت دار اپنے ميں موت کي علامات محسوس کرے۔ اب اگر ممکن ہو تو امانت مالک يا اس کے وکيل کو پہنچا دے اور اگر ممکن نہ ہو تو حاکم شرع کو دے دے او راگر حاکم شرع تک دسترس نہيں رکھتا تو اگر اس کا وارث امين ہے اور اس امانت کي اطلاع بھي رکھتا ہے تو يہ ضروري نہيں کہ وصيت کرے۔ ورنہ وصيت کرے اور گواہ بنائے اور وصي و گواہ کو مالک کانام ، مال کي جنس اور اس کے خصوصيات اور اس کي جگہ بتائے۔
}(٢٣٤٠)اگر امانت دار اپنے ميں موت کي علامت ديکھے ليکن اس وظيفہ کے مطابق عمل نہ کرے جو گزشتہ مسئلہ ميں بيان ہوچکا ہے۔ اب اگر وہ امانت تلف ہوجائے تو اس کا معاوضہ دينا پڑے گا۔ اگرچہ اس نے اس کي حفاظت ميں کوئي کوتاہي نہ کي ہو اور اس کي بيماري بھي رفع ہوگئي ہو يا ايک مدت کے بعد پشيمان ہوجائے اور وصيت بھي کردے۔

 

احکام تقليد احکام طہارت احکام نماز  احکام روزہ
احکام خمس   احکام زکواۃ احکام حج خريد و فروخت کے احکام
احکام شرکت احکام صلح اجارہ (کرايہ )کے احکام احکام جعالہ
احکام مزارعہ مساقات (آبياري )کے احکام وہ اشخاص جو اپنے مال ميں خود تصرف نہيں کرسکتےکے احکام احکام وکالت
قرض کے احکام حوالہ (ڈرافٹ)دينے کے احکام رہن کے احکام ضامن بننے کے احکام
کفالت کے احکام وديعت (امانت)کے احکام عاريتاً دينے کے احکام نکاح (شادي بياہ)کے احکام
طلاق کے احکام غصب کے احکام جو مال انسان پالے اس کے احکام جانوروں کے ذبح اور شکار کرنے کے احکام
کھانے پينے کي چيزوں کے احکام نذر اور عہد کے احکام قسم کھانے کے احکام وقف کے احکام
وصيت کے احکام ميراث کے احکام احکام امر بالمعروف اور نہي عن المنکر دفاع کے مسائل و احکام
خاتمہ کے احکام بعض مسائل جو اس زمانے ميں  مورد حاجت ہيں امام خميني کي خدمت ميں چند جديد سوالات اور ان کے جوابات