|
#کفالت کے احکام:
}(٢٣١٩)کفالت کا مفہوم يہ ہے کہ کوئي شخص ضامن بنے کہ جب قرض خواہ
مقروض کو چاہے گا تو ضامن اسے اس کے سامنے پيش کرے گا اور يہي حکم
ہے اگر کسي کا کسي کے ذمہ کوئي حق ہے يا کسي حق کا وہ دعويٰ کرتا
ہے جبکہ وہ دعويٰ قابل قبول ہو تو اگر کوئي شخص ضامن ہوا ہے کہ جس
وقت صاحب حق يا مدعي حق، مدعي عليہ کو چاہے گا تو يہ اس کو اس کے
سامنے پيش کرے گا تو اس کام کو کفالت اور جو شخص اس طرح ضامن ہو اس
کو کفيل کہتے ہيں۔
}(٢٣٢٠)کفالت اس صورت ميں صحيح ہے جبکہ کفيل کسي لفظ کے ساتھ چاہے
وہ عربي کا نہ ہو قرض خواہ سے کہے کہ ميں ضامن ہوں کہ جب تو اپنے
مقروض کو چاہے گا اس کا ہاتھ تيرے ہاتھ ميں دوں گا اور قرض خواہ
بھي اس کو قبول کرے۔
}(٢٣٢١)کفيل کو بالغ و عاقل ہونا چاہيے اور اس کو کفالت پر کسي نے
مجبور بھي نہ کيا ہو او ر جس کا کفيل ہوا ہے اس کو حاضر بھي کرسکتا
ہو۔
}(٢٣٢٢)سات چيزوں ميں سے کوئي ايک کفالت کو ختم کرسکتي ہے:
١۔ کفيل مقروض کو قرض خواہ کے قبضہ ميں دے دے۔
٢۔ قرض خواہ کا قرضہ ادا ہوجائے۔
٣۔ قرض خواہ اپنے قرض سے دست بردار ہوجائے۔
٤۔ مقروض مرجائے۔
٥۔ قرض خواہ کفيل کو کفالت سے آزاد کردے۔
٦۔ کفيل مرجائے۔
٧۔ صاحب حق حوالہ يا کسي اور ذريعہ سے اپنا حق دوسرے کے سپرد کردے۔
}(٢٣٢٣)اگر کوئي شخص زبردستي مقروض کو قرض خواہ کے ہاتھ سے چھڑا دے
تو اگر قرض خواہ اس تک دسترس نہيں رکھتا تو جس نے مقروض کو چھڑايا
تھا وہ اسے قرض خواہ کے قبضہ ميں دے دے (يعني وہ خود بخود کفيل بن
جائے گا)
|