ضامن بننے کے احکام

#ضامن بننے کے احکام:
}(٢٣٠٧)اگر انسان کسي کا ضامن ہونا چاہے کہ اس کا قرض ادا کرے گا تو اس کا ضامن ہونا اس صورت ميں صحيح ہے جبکہ وہ کسي زبان ميں اگرچہ عربي زبان ميں نہ ہو قرض خواہ سے کہے کہ ميں ضامن ہوں کہ تيرا قرض اداکروں گا اور قرض خواہ بھي اپني رضامندي کا اظہار کرے ليکن مقروض کا راضي ہونا شرط نہيں۔
}(٢٣٠٨)ضامن اور قرض خواہ کو بالغ و عاقل ہونا چاہيے اور کسي نے انہيں مجبور نہ کيا ہو اور بالغ ہوتے وقت سفيہ بھي نہ ہوں کہ اپنے مال کو فضول کاموں ميںخرچ کرتے ہوں البتہ اگر بالغ ہونے کے بعد سفيہ ہوجائيں اور حاکم شرع انہيں تصرف کرنے سے نہ روکے تو کوئي اشکال نہيں اور جس شخص کو تجارت ميں نقصان ہوجانے کي وجہ سے حاکم شرع اپنے اموال ميںتصرف کرنے سے روک دے تو جو قرض اس نے ليا ہے اس کا کوئي شخص ضامن نہيں ہوسکتا۔
}(٢٣٠٩)جب اپنے ضامن ہونے کي کوئي شرط قرار دے مثلاً کہے کہ اگر مقروض نے تيرا قرض نہ ديا تو ميں دوں گا تو احتياط واجب يہ ہے کہ اس کے ضامن ہونے پر کوئي اثر مرتب نہ کريں۔
}(٢٣١٠)جس کا کوئي ضامن بن رہا ہے وہ پہلے مقروض ہو۔ پس اگر کوئي شخص کسي سے قرض لينا چاہتا ہو جب تک قرض نہ لے لے توکوئي دوسرا اس کا ضامن نہيں ہوسکتا۔
}(٢٣١١)انسان اس صورت ميں ضامن ہوسکتاہے جب قرض خواہ مقروض اور قرضہ کي جنس معين ہو۔ پس اگر دو آدميوں کا کسي پر قرض ہو اور انسان کہہ دے کہ ميں ضامن ہوں کہ ان دو ميں سے ايک کا قرض اد اکروں گا تو چونکہ اس نے معين نہيں کيا کہ کس کے قرض کو ادا کرے گا لہذا اس کا ضامن ہونا باطل ہے اور اسي طرح اگر کسي کا دو اشخاص پر قرض ہو اور انسان قرض خواہ سے کہہ دے کہ ميں ضامن ہوں کہ ان ميں سے ايک کا قرض تم کو ادا کروں گا تو چونکہ اس نے معين نہيںکيا کہ کس کا قرض ادا کرے گا لہذا اس کا ضامن ہونا باطل ہے اور اسي طرح اگر کوئي کسي دوسرے سے مثلاً دس من گندم کا ضامن ہے يا رقم کا تو ضمانت صحيح نہيں ہوگي۔
}(٢٣١٢)اگر قرض خواہ اپنا قرضہ ضامن کو بخش دے تو ضامن مقروض سے کوئي چيز نہيں لے سکتا اور اگر اس ميں سے کچھ بخش دے تو اتني مقدار کا مطالبہ نہيں کرسکتا۔
}(٢٣١٣)اگر انسان ضامن ہو کہ فلاں کا قرض ادا کروں گا تو وہ اپنے ضامن ہونے سے نہيں پھر سکتا۔
}(٢٣١٤)ضامن اور قرض خواہ يہ شرط کرسکتے ہيں کہ جس وقت چاہيں گے ضامن کي ضمانت کو فسخ کرديں گے۔
}(٢٣١٥)جبکہ کوئي شخص ضامن ہونے کے وقت قرض خواہ کا قرضہ ادا کرسکتاہو بعد ميں اگرچہ فقير ہوجائے تو قرض خواہ اس کي ضمانت کو فسخ کرکے اپنے پہلے مقروض سے قرض کا مطالبہ نہيں کرسکتا اور يہي حکم ہے اگر ضامن ہوتے وقت اس کا قرض ادانہ کرسکتاتھا ليکن قرض خواہ يہ جاننے کے باوجود اس کے ضامن ہونے پر راضي ہوگيا ہو۔
}(٢٣١٦)اگر ضامن ہوتے وقت قرض ادا نہ کرسکتا ہو ليکن قرض خواہ کو اس وقت علم نہ ہو اور اس کے بعد ملتفت ہو تو وہ اس کي ضمانت کو فسخ کرسکتا ہے۔
}(٢٣١٧)اگر کوئي شخص مقروض کي اجازت کے بغير ضامن ہو کہ وہ اس کا قرضہ ادا کرے گا تو وہ مقروض سے کسي چيز کا مطالبہ نہيں کرسکتا۔
}(٢٣١٨)اگر کوئي شخص مقروض کي اجازت سے ضامن بنے کہ وہ اس کا قرضہ ادا کرے گا تو جتني مقدار کا ضامن ہوا ہے اس کا مطالبہ کرسکتا ہے البتہ اگر اس جنس کے بدلے کہ جس کا وہ مقروض تھا کوئي اور جنس دے دے تو جو کچھ اس نے ديا ہے اس کا مطالبہ نہيں کرسکتا مثلاً وہ دس من گندم کا مقروض تھا اور ضامن دس من چاول دے دے تو وہ مقروض سے چاولوں کا مطالبہ نہيں کرسکتا البتہ وہ خود راضي ہوجائے کہ ضامن چاول دے تو پھر چاول کے مطالبے ميںکوئي اشکال نہيں۔

 

احکام تقليد احکام طہارت احکام نماز  احکام روزہ
احکام خمس   احکام زکواۃ احکام حج خريد و فروخت کے احکام
احکام شرکت احکام صلح اجارہ (کرايہ )کے احکام احکام جعالہ
احکام مزارعہ مساقات (آبياري )کے احکام وہ اشخاص جو اپنے مال ميں خود تصرف نہيں کرسکتےکے احکام احکام وکالت
قرض کے احکام حوالہ (ڈرافٹ)دينے کے احکام رہن کے احکام ضامن بننے کے احکام
کفالت کے احکام وديعت (امانت)کے احکام عاريتاً دينے کے احکام نکاح (شادي بياہ)کے احکام
طلاق کے احکام غصب کے احکام جو مال انسان پالے اس کے احکام جانوروں کے ذبح اور شکار کرنے کے احکام
کھانے پينے کي چيزوں کے احکام نذر اور عہد کے احکام قسم کھانے کے احکام وقف کے احکام
وصيت کے احکام ميراث کے احکام احکام امر بالمعروف اور نہي عن المنکر دفاع کے مسائل و احکام
خاتمہ کے احکام بعض مسائل جو اس زمانے ميں  مورد حاجت ہيں امام خميني کي خدمت ميں چند جديد سوالات اور ان کے جوابات