|
#رہن
کے احکام:
}(٢٢٩٧)رہن يہ ہے کہ مقروض اپنے مال کي کچھ مقدارقرض خواہ کے پاس
رکھ دے کہ اگر ا س کا قرض ادا نہ کرے تو قرض خواہ اس سے اپنا قرض
وصول کرسکے۔
}(٢٢٩٨)رہن ميں صيغہ پڑھنا ضروري نہيںہے بلکہ جب رہن کي نيت سے
اپنا مال قرض خواہ کو ديدے اور قرض خواہ بھي اسي نيت سے لے لے تو
رہن صحيح ہے۔
}(٢٢٩٩)رہن دينے والا اور رہن رکھنے والا اور رہن رکھنے والا دونوں
کو بالغ و عاقل ہونا چاہيے اور مجبور بھي نہ ہوں اور رہن رکھنے
والا بالغ ہوتے وقت بے وقوف بھي نہ ہو يعني اپنے مال کو فضول کاموں
ميں صرف نہ کرتا ہو بلکہ اگر تجارت ميں نقصان ہو جانے کي وجہ سے يا
يہ کہ بالغ ہونے کے بعد وہ بے وقوف ہوگيا ہو اور حاکم شرع نے اسے
اپنے اموال ميں تصرف کرنے سے روک ديا ہو تو وہ اپنے مال کو گروي
نہيں رکھ سکتا۔
}(٢٣٠٠)انسان اس مال کو گروي رکھ سکتا ہے کہ جس ميں شرعاً وہ تصرف
کرسکتا ہو اور اگر کسي دوسرے شخص کا مال گروي رکھ دے تو اس صورت
ميں صحيح ہوگا جبکہ مالک مال کہے کہ ميں گروي رکھنے پر راضي ہوں۔
}(٢٣٠١)جس چيز کو گروي رکھ رہا ہے اس کي خريد و فروخت صحيح ہوني
چاہيے۔ پس اگر شراب يا اس قسم کي کوئي چيز گروي رکھے تو صحيح نہيں۔
}(٢٣٠٢)گروي شدہ چيز سے جو فائدہ حاصل ہو وہ گروي رکھنے والے کا
ہے۔
}(٢٣٠٣)قرض خواہ اور مقروض گروي شدہ مال کو ايک دوسرے کي اجازت کے
بغير کسي کي ملکيت ميں نہيں دے سکتے مثلاً کسي کو بخشنا يا بيچنا
چاہيں ليکن اگر ان ميں سے ايک بخش دے يا بيچ ڈالے اوراس کے بعد
دوسرا کہے کہ ميں راضي ہوں تو کوئي حرج نہيں۔
}(٢٣٠٤)اگر قرض خواہ گروي شدہ چيز کو مقروض کي اجازت سے بيچ دے تو
اس کي قيمت اصل مال کي طرح گروي ہوگي۔
}(٢٣٠٥)جس وقت کہ اس کو قرض ادا کرنا چاہيے تھا اور قرض خواہ
مطالبہ بھي کرے ليکن وہ ادا نہ کرے تو قرض خواہ کو يہ اختيار ہے کہ
وہ گروي شدہ مال بيچ کر اپنا قرض وصول کرے اور بقايا مقروض کو واپس
کردے البتہ اگر حاکم شرع تک دسترس ہو تو بيچنے کے لئے حاکم شرع سے
اجازت لے۔
}(٢٣٠٦)اگر مقروض علاوہ اس مکان کے کہ جس ميں رہتا ہے اور علاوہ ان
چيزوں کے جو گھر کے لئے ضروري ہيں کوئي چيز نہ رکھتا ہو تو قرض
خواہ اپنے قرض کا اس سے مطالبہ نہيں کرسکتا۔ البتہ اگر وہ مال جسے
گروي رکھا ہے وہ مکان اور گھر کا سامان ہو تو قرض خواہ اسے بيچ کر
اپنا قرض وصول کرسکتا ہے۔
|