حوالہ (ڈرافٹ)دينے کے احکام

#حوالہ (ڈرافٹ)دينے کے احکام:
}(٢٢٨٦)جب انسان اپنے طلب گار کو حوالہ دے کہ اپنا قرض فلاں شخص سے لے لو اور طلبگار قبول کر لے تو جب يہ حوالہ درست ہوجائے تو پھر وہ انسان کہ جس کي طرف حوالہ کيا گيا ہے مقروض ہوگا۔اس کے بعد طلب گا رکو يہ حق نہيں کہ اپنا مطالبہ پہلے شخص سے کرے۔
}(٢٢٨٧)مقروض، قرض خواہ اور قرض کا حوالہ جس کے نام پر ديا گيا ہے وہ بالغ و عاقل ہوں اور انہيں کسي نے مجبور بھي نہ کيا ہو اور بے وقوف بھي نہ ہوں يعني اپنے مال کو فضول کاموں ميں صرف نہ کرتے ہوں، البتہ اگر بالغ ہونے کے بعد بيوقوف ہوگئے ہوں تو جب تک حاکم شرع انہيں ان کے اموال ميں تصرف کرنے سے منع نہ کرے تو ان کا معاملہ کوئي اشکال نہيںرکھتا اور اگر حاکم شرع کسي شخص کو تجارت وغيرہ ميں نقصان آجانے کي وجہ سے اس کے اموال ميں تصرف کرنے سے منع کردے تو اس کو کوئي حوالہ نہيں ديا جاسکتا کہ وہ اپنا قرض کسي سے جاکر وصول کرے اور وہ خود بھي کسي کو حوالہ نہيں دے سکتا۔ البتہ اگر کسي کے نام پر حوالہ دے جو کہ اس کا مقروض نہيں تو کوئي اشکال نہيں۔
}(٢٢٨٨) اگر ايسے شخص کے نام پر حوالہ دے جوکہ اس کا مقروض ہے تو احتياط واجب يہ ہے کہ وہ قبول کرے البتہ ايسے شخص کے نام پر حوالہ دينا جو کہ مقروض نہيں۔ اس صورت ميں صحيح ہے کہ جب وہ قبول کرلے اور اسي طرح اگر انسان کسي ايسے شخص کو جس کے کسي جنس کا انسان قرضدار ہے دوسري جنس کو حوالہ دينا چاہے مثلاً اگر انسان نے جو قرض لئے ہوں اس کو گندم کا حوالہ دے تو جب تک وہ قبول نہ کرے حوالہ صحيح نہيں ہوگا۔
}(٢٢٨٩)جس وقت انسان حوالہ دے رہا ہے اس وقت وہ اس کا مقروض ہو ۔ پس اگر کسي شخص سے قرض لينا چاہتا ہے تو جب تک اس سے قرض نہ لے لے اسے اس طرح حوالہ نہيں دے سکتا کہ جو قرض ميں بعد ميں تم سے لوں گا وہ فلاں شخص سے لے لو۔
}(٢٢٩٠)حوالہ دينے اور لينے والا مقدار حوالہ اور جنس حوالہ کو جانتے ہوں ۔ پس اگر مثلاً دس من گندم اور دس روپے کسي کا مقروض ہے اور اسکو کہے کہ اپنے ہر دو قرضوں ميں سے کوئي ايک فلاں شخص سے جاکر لے لو اور معين نہ کرے تو حوالہ درست نہ ہوگا۔
}(٢٢٩١)اگر قرض واقع کے لحاظ سے تو معين ہو ليکن مقروض اور قرض خواہ حوالہ ديتے وقت اس کي مقدار يا جنس کو نہ جانتے ہوں تو حوالہ صحيح ہے ۔ مثلاً اگر کسي کا قرض رجسٹر ميں درج ہے اور وہ رجسٹر ديکھنے سے پہلے حوالہ ديدے اور پھر اسے ديکھ کر قرض خواہ کو کہے کہ تمہارا قرض اتنا ہے تو حوالہ صحيح ہے۔
}(٢٢٩٢)قرض خواہ کو يہ حق ہے کہ حوالہ قبول نہ کرے اگرچہ جس کے نام پر حوالہ دياگيا ہے وہ فقير نہ ہو اور حوالہ ادا کرنے ميںکوتاہي بھي نہ کرے۔
}(٢٢٩٣)اگر ايسے شخص کے نام حوالہ دے کہ جو مقروض نہيںہے۔ اب اگر وہ حوالہ قبول کرلے تو حوالہ ادا کرنے سے پہلے مقدار حوالہ کو حوالہ دينے والے سے نہيں لے سکتا اور اگر قرض خواہ اپنے قرض سے کم مقدار پر صلح کرلے تو جس نے حوالہ قبول کيا ہے وہ صرف اسي مقدار کا حوالہ دينے والے سے مطالبہ کرسکتا ہے۔
}(٢٢٩٤)جب حوالہ صحيح ہوجائے تو اس کے بعد حوالہ دينے والا اور وہ شخص جس کي طرف حوالہ ديا گيا ہے۔ اس حوالہ کو ختم نہيں کرسکتے اور جب وہ شخص کہ جس کے نام پر حوالہ ديا گيا ہے حوالہ کے وقت فقيرنہ ہو يعني قرض ميں جو چيزيں مستثنيٰ ہيں ان کے علاوہ اس کے پاس مال ہو کہ جس سے حوالہ ادا کرسکے تو اگرچہ بعد ميں فقير ہوجائے تو بھي قرض خواہ حوالہ کو ختم نہيں کرسکتا اور يہي حکم ہے ۔ اگر حوالہ کے وقت فقير ہو اور قرض خواہ کو اس کے فقير ہونے کا علم بھي ہو۔ البتہ اگر اسے معلوم نہ ہو کہ فقير ہے اور بعد ميں معلوم ہوجائے تو اگرچہ اس وقت مال دار ہوچکا ہو۔تب بھي قرض خواہ حوالہ کو فسخ کرکے اپنا قرض حوالہ دينے والے سے لے سکتا ہے۔
}(٢٢٩٥)اگر مقروض قرض خواہ اور وہ کہ جس کے نام پر حوالہ ديا گيا ہے يا ان ميںسے کوئي ايک حوالہ فسخ کرنے کا حق لے لے تو مقررہ دستور کے مطابق وہ حوالہ کو فسخ کرسکتے ہيں۔
}(٢٢٩٦)اگر حوالہ دينے والا اپنا قرض خود ادا کرے تو اگر جس کے نام پر حوالہ ديا گيا ہے ۔ اسکي خواہش سے ايسا کرے تو وہ بري الذمہ ہوجائے گا اور وہ دي ہوئي چيز کو لے سکتا ہے اور اگر اس کي خواہش کے بغير ديا ہے اور اس کي نيت يہ تھي کہ اس کا عوض نہيں لوں گا تو جو چيز دے چکا ہے اس کا مطالبہ نہيں کرسکتا۔

 

احکام تقليد احکام طہارت احکام نماز  احکام روزہ
احکام خمس   احکام زکواۃ احکام حج خريد و فروخت کے احکام
احکام شرکت احکام صلح اجارہ (کرايہ )کے احکام احکام جعالہ
احکام مزارعہ مساقات (آبياري )کے احکام وہ اشخاص جو اپنے مال ميں خود تصرف نہيں کرسکتےکے احکام احکام وکالت
قرض کے احکام حوالہ (ڈرافٹ)دينے کے احکام رہن کے احکام ضامن بننے کے احکام
کفالت کے احکام وديعت (امانت)کے احکام عاريتاً دينے کے احکام نکاح (شادي بياہ)کے احکام
طلاق کے احکام غصب کے احکام جو مال انسان پالے اس کے احکام جانوروں کے ذبح اور شکار کرنے کے احکام
کھانے پينے کي چيزوں کے احکام نذر اور عہد کے احکام قسم کھانے کے احکام وقف کے احکام
وصيت کے احکام ميراث کے احکام احکام امر بالمعروف اور نہي عن المنکر دفاع کے مسائل و احکام
خاتمہ کے احکام بعض مسائل جو اس زمانے ميں  مورد حاجت ہيں امام خميني کي خدمت ميں چند جديد سوالات اور ان کے جوابات