|
#قرض
کے احکام :
قرض دينا ايک مستحب کام ہے کہ جس کي قرآني آيات اور احاديث ميں بہت
تاکيد کي گئي ہے ۔ پيغمبر اکرم
۰
سے روايت ہے کہ جو شخص اپنے مسلمان بھائي کو قرض دے اس کا مال
زيادہ اور ملائکہ اس پر رحمت بھيجيں گے اور اگر مقروض سے نرمي برتے
تو بغير حساب کے بہت تيزي سے پل صراط پر سے گزرے گا اور جب کوئي
مسلمان بھائي قرض طلب کرے اور وہ نہ دے تو جنت اس پر حرام ہوجاتي
ہے۔
}(٢٢٧٠)قرض کے لئے صيغہ پڑھنے کي ضرورت نہيں بلکہ کوئي چيز قرض کي
نيت سے کسي کو دے اور وہ بھي اسي نيت سے لے تو صحيح ہے ليکن قرض کي
مقدار کاملاًمعين ہوني چاہيے۔
}(٢٢٧١)اگر قرض کي ادائيگي کے لئے کوئي خاص وقت معين کيا گيا ہو تو
اس وقت سے پہلے قرض دينے والے کے لئے قرضہ کي واپسي کو قبول کرنا
ضروري نہيں اور اگر وقت کا تعين صرف مقروض کے تعاون کے لئے ہو اور
وہ وقت معين سے پہلے واپس ديدے تو اسے قبول کرنا ضروري ہے۔
}(٢٢٧٢)اگر قرض کے صيغے ميں قرض کي واپسي کے لئے کوئي مدت معين کي
گئي ہو تو قرض خواہ اس مدت سے پہلے مقروض سے مطالبہ نہيں کرسکتا
اگر مدت معين نہ کي گئي ہو تو پھر قرض خواہ جس وقت چاہے اس کا
مطالبہ کرسکتا ہے۔
}(٢٢٧٣)اگر قرض خواہ اپنے قرض کا مطالبہ کرے اور مقروض ادا کرنے پر
قادر ہو تو فوراً ادا کردينا چاہيے اور اگر اس ميں تاخير کرے تو
گناہگار ہوگا۔
}(٢٢٧٤)اگر مقروض کے پاس سوائے اس مکان کے جس ميں وہ رہ رہا ہے اور
سوائے گھر کے سامان کے کہ جس کي اسے ضرورت ہے اور کوئي چيز موجود
نہ ہو تو پھر قرض خواہ اس سے مطالبہ نہيں کرسکتا بلکہ اسے صبر کرنا
چاہيے يہاں تک کہ وہ قرض ادا کرنے پر قادر ہوجائے۔
}(٢٢٧٥)جو شخص مقروض ہو اور اپنا قرض ادا نہ کرسکتاہو۔ اگر وہ کاسب
ہے تو اسے قرضہ کي ادائيگي کے لئے کسب کرناہوگا اور جو کا سب نہيں
مگر کسب کرسکتا ہے تو احتياط واجب يہ ہے کہ وہ کسب کرے اور اپنا
قرض ادا کرے۔
}(٢٢٧٦)جس شخص کو اس کا قرض خواہ نہ ملے اور اسے ملنے کي اميد بھي
نہ ہو تو اسے چاہيے کہ حاکم شرع کي اجازت سے وہ قرض کسي فقير کو دے
دے اس ميںيہ شرط نہيں کہ فقير سيد نہ ہو۔
}(٢٢٧٧)جب ميت کا مال اس کے واجب کفن دفن اور قرض کي ادائيگي سے
زيادہ نہ ہو تو مال انہي چيزوں ميں صرف ہوگا اور اس کے وارثوں کو
کچھ نہيں ملے گا۔
}(٢٢٧٨)جب انسان کسي سے سونا يا چاندي کي رقم قرض لے اور اس کے بعد
سونے يا چاندي کي قيمت کم يا چند برابر ہوجائے تو جو مقدار اس نے
لي تھي۔ اسي مقدار کا واپس کرنا کافي ہے ہاں اگر دونوں کسي اور
مقدار پر راضي ہوجائيں تو اس ميں اشکال نہيں۔
}(٢٢٧٩)جس نے کسي مال کو بطور قرضہ حاصل کياہے۔ اگر وہ بعينہ
موجودہو اور قرض خواہ اس مال کا مطالبہ کرے تو احتياط مستحب يہ ہے
کہ مقروض اسي مال کو بعينہ واپسي کردے۔
}(٢٢٨٠)جب کوئي شخص اس شرط پر قرض دے کہ وہ اس سے زيادہ مقدار لے
گا مثلاً ايک من گندم کے دينے کے وقت شرط کرے کہ ايک من پانچ سير
دے يا مرغي کے دس انڈے دے کر گيارہ انڈے لينے کي شرط کرے تو يہ سود
اور حرام ہے بلکہ اگر قرض دينے ميں شرط کرے کہ مقروض اسکا کوئي کام
انجام دے يا جو جنس لي ہے اس کے علاوہ کوئي اور چيز بھي اس کے ساتھ
دے مثلا ً شرط کرے کہ ايک روپيہ دوں گا اور ايک روپيہ اور ايک ماچس
لوں گا تو يہ سود اور حرام ہے بلکہ اگر يہ شرط کرے جو جنس اس نے دي
ہے اسے ايک خاص کيفيت سے واپس کردے مثلاً سونا قرض ديا ہو اور اس
کے ساتھ يہ شرط کرے کہ اس کا زيور بنا کر واپس کرنا تو پھر بھي يہ
سود اور حرام ہے۔ ہاں اگر قرض دينے کے وقت اس کے ساتھ کوئي شرط نہ
کرے ليکن مقروض کچھ مقدار زيادہ واپس کردے تو اس ميں کوئي حرج نہيں
بلکہ يہ مستحب بھي ہے۔
}(٢٢٨١)سود دينا سود لينے کي طرح حرام ہے جس شخص نے سود والا قرض
ليا ہو وہ اس کا مالک نہيں ہوتا اور اس ميں تصرف نہيں کرسکتا ہاں
اگر اس طرح ہو کہ اگر ان کے درميان سود کي قرار داد بھي نہ ہوتي تب
بھي مالک اس بات پر راضي تھا کہ قرض لينے والا اس ميں تصرف کرے تو
پھر صحيح ہے۔
}(٢٢٨٢)اگر گندم وغيرہ کو سود پر قرض لے اور اس سے زراعت کرے تو
پھر جو فصل ہاتھ آئے وہ قرض والے کي ملک ہے۔
}(٢٢٨٣)اگر کوئي شخص لباس خريد لے ليکن بعد ميں اس کي قيمت ان
پيسوں سے ديگا جو سو د پر سے تھے، يا حلال پيسے سے جو کہ سود سے
ملا ہوا ہے ادا کرے تو اگر لباس کے خريدنے کے وقت اس کي نيت يہ تھي
کہ اسي پيسے سے دوں گا تو اس لباس کے پہننے اور اس ميں نماز پڑھنے
ميں اشکال ہے اور اسي طرح اگر اس کے پاس سود کا پيسہ ہو يا حلا ل
مال جو حرام سے ملا ہوا ہے موجود ہو اور بيچنے والے سے کہہ دے کہ
ميں يہ لباس اسي پيسے سے لوں گا تواس لباس کا پہننا حرام اور اگر
اسے معلوم ہو کہ اس لباس کا پہننا حرام ہے تو اس ميں نماز پڑھنا
بھي باطل ہے۔
}(٢٢٨٤)اگر کچھ روپيہ انسان کسي تاجر کو دے کہ وہ دوسرے شہر ميں اس
سے کم واپس لے گا تو اس ميں کوئي اشکال نہيں اوراس کو صرف برآت
کہتے ہيں۔
}(٢٢٨٥)جب کچھ مقدار روپيہ کسي کو دے کہ چند دن کے بعد وہ کسي
دوسرے شہر ميں اس سے زيادہ واپس لے گا مثلاً نو سو نوے روپے اس شرط
پر دے کہ دس دن کے بعد دوسرے شہر ميں ايک ہزار روپيہ لوں گا۔ يہ تو
سود اور حرام ہے ۔ ہاں اگر زيادہ لينے والا اس زيادہ مقدار کے
مقابل ميں کوئي جنس دے يا کوئي کام بجالائے تو اس ميں اشکال نہيں۔
|