احکام وکالت

#احکام وکالت:
وکالت يہ ہے کہ انسان جس کام ميں خود دخل رکھتا ہے۔ کسي اور کے سپرد کردے تاکہ وہ اس کام کو اس کي طرف سے انجام دے مثلاً کسي کو وکيل کرے کہ وہ اس کے لئے مکان خريدے يا کسي عورت سے اس کا نکاح کردے پس وہ شخص جو سفيہ ہے جو کہ اپنا مال فضول کاموں ميں صرف کرتا ہے ۔ اگر حاکم شرع اس کو تصرف سے منع کردے يا بالغ ہوتے وقت وہ سفيہ ہو تو وہ اپنا مال بيچنے کے لئے کسي کو اپنا وکيل نہيں کرسکتا۔
}(٢٢٥٤)وکالت ميں صيغہ پڑھنا ضروري نہيں۔ پس اگر ايک شخص کسي کو يہ سمجھا دے کہ اس نے اسے وکيل کيا ہے اور وہ اسے سمجھائے کہ ميں نے قبول کرليا ہے مثلاً اپنا مال کسي کو دے دے کہ وہ اس کے لئے بيچے اور وہ مال لے لے تو وکالت صحيح ہے۔
}(٢٢٥٥)اگر انسان کسي ايسے شخص کو جو دوسرے شہر ميں رہتا ہے وکيل کرے اور اس کے لئے وکالت نامہ بھيج دے اور وہ قبول کرلے تو اگرچہ وکالت نامہ کچھ مدت کے بعد پہنچے تب بھي وکالت صحيح ہے۔
}(٢٢٥٦)وکيل کرنے والا اور وکيل ہونے والا بالغ و عاقل ہوں اور ارادہ واختيار سے اقدام کريں اور مميز بچہ بھي اگر صرف صيغہ پڑھنے ميں وکيل ہو اور صيغہ تمام شرائط کے ساتھ پڑھ دے تو اس کا پڑھا ہوا صحيح ہے۔
}(٢٢٥٧)جس کام کو انسان خود نہيں انجام دے سکتا يا شرعاً اسے انجام نہيں دينا چاہيے اس کام ميں کسي کا وکيل بھي نہيں بن سکتا ۔ مثلاً جو شخص احرام حج ميں ہے تو چونکہ وہ اپنے لئے صيغہ نکاح نہيں پڑھ سکتا لہذا دوسرے کي طرف سے بھي وکيل نہيں ہوسکتا۔
}(٢٢٥٨)اگر کوئي انسان کسي کو اپنے تمام کاموں کے لئے وکيل قرار دے تو وکالت صحيح ہے۔ البتہ اگر کسي ايک کام کے لئے وکيل کرے اور اس کام کو معين نہ کرے تو وکالت صحيح نہيں۔
}(٢٢٥٩)اگر انسان وکيل کو معزول کردے تو بعد اس کے کہ اسے اطلاع مل جائے وہ اس کام کو انجام نہيں دے سکتا ہاں اگر اطلاع پانے سے پہلے اس کام کو انجام دے چکا ہو تو صحيح ہے۔
}(٢٢٦٠)وکيل وکالت سے دستبردار ہوسکتا ہے اور اگر وکيل کرنے والا غائب بھي ہو تو کوئي اشکال نہيں۔
}(٢٢٦١)وکيل کو يہ حق نہيں پہنچتا کہ جس کام کي انجام دہي کے لئے اسے وکيل کيا گيا ہے وہ کسي اور کے سپرد کردے البتہ اگر موکل نے اسے اجازت دي ہو کہ وکيل بناسکتا ہے تو جس طرح وہ اسے دستور دے اس کے مطابق عمل کرے پس اگر اس نے کہا ہو کہ ميري طرف سے وکيل بنانا تو اسي کي طرف سے وکيل بنائے اور کسي کو اپني طرف سے وکيل نہيں بناسکتا۔
}(٢٢٦٢)اگر کوئي شخص اپنے موکل کي اجازت سے موکل کي طرف سے کسي کو وکيل بنائے تو اس وکيل کو معزول نہيں کرسکتا اور اگر پہلا وکيل مرجائے يا موکل اسے معزول کردے تو دوسري وکالت باطل نہيں ہوگي۔
}(٢٢٦٣)اگر کوئي شخص اپنے موکل کي اجازت سے اپني طرف سے وکيل قرار دے تو اس وکيل کو يہ خود معزول کرسکتا ہے اور اگر پہلا وکيل مرجائے يا معزول ہوجائے تو دوسري وکالت باطل ہوجائے گي۔
}(٢٢٦٤)اگر چند افراد کو کسي کام کے انجام دينے کے لئے وکيل کريں اور انہيں اجازت دے کہ ان ميں سے ہر شخص تنہا کام کرسکتا ہے تو ان ميں سے ہر شخص اس کام کو انجام دے سکے گا۔ اب اگر کوئي ان ميں سے مرجائے تو دوسروں کي وکالت باطل نہيں ہوگي البتہ اگر اس نے يہ نہ کہا ہو کہ مل کر يا عليحدہ عليحدہ وکيل ہو اور اس کي باتوں سے بھي معلوم نہ ہو کہ يہ عليحدہ عليحدہ انجام دے سکتے ہيں يا اس نے کہا ہو کہ مل کر انجام ديں تو وہ تنہا اقدام نہيں کرسکتے اور اگر ان ميں سے کوئي ايک مرجائے تو باقيوں کي وکالت باطل ہوجائے گي جبکہ وہ مل کر کام کرنے پر وکيل ہوئے تھے۔
}(٢٢٦٥)اگر وکيل يا موکل مرجائے يا ہميشہ کے لئے ديوانہ ہوجائے تو وکالت باطل ہوجاتي ہے اور اگر کبھي کبھي ديوانہ يا بے ہوش ہوجائے تو احتياط واجب يہ ہے کہ جو معاملہ وہ انجام دے اس پر ترتيب اثر نہ دي جائے اور اگر وہ چيز کہ جس کے انجام دينے کے لئے وکيل کيا گيا تھا ضائع ہوجائے مثلاً جس بھيڑ کو فروخت کرنے کے لئے وکيل کيا تھا وہ مرجائے تو وکالت باطل ہوجائے گي۔
}(٢٢٦٦)جب انسان کسي شخص کو کسي کام کے لئے وکيل کرے اور اس کے لئے کچھ مال قرار دے تو جب وہ کام بجالاچکے تو اسے وہ مقرر شدہ مال دينا پڑے گا۔
}(٢٢٦٧)اگر وکيل اس مال کي حفاظت ميں کہ جس کے لئے وکيل بنايا گيا تھا کوتاہي نہ کرے اور اس ميں ان تصرفات کے علاوہ جن کي اجازت مالک کي طرف سے تھي کوئي اور تصرف نہ کرے اور اتفاقاً وہ مال ضائع ہوجائے تو پھر اس کا معاوضہ دينا ضروري نہيں۔
}(٢٢٦٨)اگر وکيل مال کي حفاظت ميں کوتاہي کرے يا کہ ان تصرفات کے علاوہ جن کي اجازت مالک کي طرف سے تھي کوئي اور تصرف کرے اور پھر وہ مال تلف ہوجائے تو وکيل اس مال کا ضامن ہوگا مثلاً وہ لباس کہ جو اس کو فروخت کے لئے ديا تھا وہ اسے پہن لئے اور وہ لباس تلف ہوجائے تو اسے اس کا عوض دينا ہوگا۔
}(٢٢٦٩)اگر وکيل ان تصرفات کے علاوہ کہ جن کا مجاز تھا کوئي اور تصرف کرے مثلاً وہ لباس جو اس کو بيچنے کے لئے ديا گيا تھا وہ پہن لے اور پھر وہ تصرف بھي کرے کہ جس کي اجازت مالک نے دي ہے تو يہ تصرف صحيح ہوگا۔

 

احکام تقليد احکام طہارت احکام نماز  احکام روزہ
احکام خمس   احکام زکواۃ احکام حج خريد و فروخت کے احکام
احکام شرکت احکام صلح اجارہ (کرايہ )کے احکام احکام جعالہ
احکام مزارعہ مساقات (آبياري )کے احکام وہ اشخاص جو اپنے مال ميں خود تصرف نہيں کرسکتےکے احکام احکام وکالت
قرض کے احکام حوالہ (ڈرافٹ)دينے کے احکام رہن کے احکام ضامن بننے کے احکام
کفالت کے احکام وديعت (امانت)کے احکام عاريتاً دينے کے احکام نکاح (شادي بياہ)کے احکام
طلاق کے احکام غصب کے احکام جو مال انسان پالے اس کے احکام جانوروں کے ذبح اور شکار کرنے کے احکام
کھانے پينے کي چيزوں کے احکام نذر اور عہد کے احکام قسم کھانے کے احکام وقف کے احکام
وصيت کے احکام ميراث کے احکام احکام امر بالمعروف اور نہي عن المنکر دفاع کے مسائل و احکام
خاتمہ کے احکام بعض مسائل جو اس زمانے ميں  مورد حاجت ہيں امام خميني کي خدمت ميں چند جديد سوالات اور ان کے جوابات