|
#وہ
اشخاص جو اپنے مال ميں خود تصرف نہيں کرسکتے:
}(٢٢٤٩)جو بچہ بالغ نہيں ہوا وہ شرعاً اپنے مال ميں تصرف نہيں
کرسکتا اور بالغ ہونے کي علامت تين ميں سے ايک ہے۔
١۔ شرمگاہ کے اوپر اور ناف کے نيچے سخت بالوں کا اگ آنا۔
٢۔ مني کا باہر آنا۔
٣۔ پندرہ سال قمري مرد کے لئے اور نو سال قمري عورت کے پورے
ہوجانا۔
}(٢٢٥٠)چہرہ اور لبوں کے نيچے اور سينہ يا بغلوں کے نيچے سخت بالوں
کا اگنا اور آواز کا بھاري ہونا اور ان جيسے دوسرے امور بلوغت کي
نشاني نہيں ہيں مگر يہ کہ انسان ان چيزوں کي وجہ سے بالغ ہونے کا
يقين کرے ۔
}(٢٢٥١)ديوانہ اور بے وقوف يعني وہ شخص جو اپنا مال فضول کاموں ميں
صرف کرتا ہے ۔ اگر وہ بالغ ہوتے وقت بيوقوف ہو يا حاکم شرع اس
کواپنے اموال ميںتصرف کرنے سے روک دے تو وہ اپنے مال ميں تصرف نہيں
کرسکتا ۔
}(٢٢٥٢)جو شخص کبھي عقلمند اور کبھي ديوانہ ہوتاہے جو تصرف ديوانگي
کے عالم ميں اپنے مال ميں کرے وہ صحيح نہيں۔
}(٢٢٥٣)انسان اس بيماري ميں کہ جس ميں وہ مرجائے اپنے مال ميں جتنا
تصرف اپنے اور اپنے اہل و عيال اور مہمانوں اور دوسرے کاموں ميں
کرنا چاہيے بشرطيکہ اسے فضول خرچي نہ سمجھا جاتا ہو کرسکتا ہے اور
اسي طرح اگر اپنا مال کسي کو بخش دے يا سستي قيمت پر بيچ دے يا
کرايہ پر دے تو صحيح ہے۔
|