مساقات (آبياري )کے احکام

#مساقات (آبياري )کے احکام:
}(٢٢٣٥)اگر انسان کسي کے ساتھ اس طرح کرے کہ پھل دار درخت کہ جن کے پھل کا يہ مالک ہے يا پھلوں کا اختيار اس کے ہاتھ ميں ہے۔ مدت معين تک کسي کے سپرد کردے کہ وہ ان کي تربيت کرے انہيں پاني دے اور جتني مقدار طے کريں اتنا پھل وہ لے لے اور اس معاملہ کو مساقات کہتے ہيں۔
}(٢٢٣٦)معاملہ مساقات ان درختوں ميں صحيح نہيں ہے جو بيد، چنار کي طرح پھل نہ ديتے ہوں البتہ مہندي کا درخت کہ جس کے پتوں سے يا وہ درخت کہ جس کے پھولوں سے فائدہ اٹھاتے ہيں اس ميں کوئي اشکال نہيں۔
}(٢٢٣٧)معاملہ مساقات ميں يہ ضروري نہيں کہ صيغہ پڑھا جائے بلکہ اگر درختوں کا مالک مساقات کے ارادہ سے درخت اس کے سپرد کردے اور جو شخص کام کرتاہے وہ اسي ارادہ سے اپني تحويل ميں لے لے تو معاملہ صحيح ہے ۔
}(٢٢٣٨)مالک اور جو شخص درختوں کي تربيت اپنے ذمہ لے رہا ہے دونوں بالغ و عاقل ہوں اور انہيں کسي نے مجبور نہ کيا ہو اور حاکم شرع نے انہيں اپنے مال ميں تصرف کرنے سے روکا بھي نہ ہو بلکہ اگر بالغ ہونے کے وقت وہ سفيہ ہوں تو اگرچہ حاکم شرع نے انہيں تصرف سے منع نہ کيا ہو تب بھي ان کا معاملہ صحيح نہيں ہے۔
}(٢٢٣٩)مدت مساقات معلوم ہوني چاہيے اور اگر اس کي ابتدائ معين کرليں اور اس کي انتہا اس وقت کو قرار ديں کہ جب اس سال کے پھل توڑ لئے جاتے ہيں تو بھي صحيح ہے۔
}(٢٢٤٠)ہر ايک کا حصہ مشاعي (نسبتي)طور پر مثلاً محصولات کا نصف يا تيسرا حصہ يا اس طرح کا کوئي ہونا چاہيے اور اگر يہ قرار داد کرليں کہ مثلاً سومن مالک کا مال ہے اور بقيہ کام کرنے والے کا ملک ہوگا تو معاملہ باطل ہے۔
}(٢٢٤١)معاملہ مساقات کي قرار داد پھل کے ظاہر ہونے سے پہلے ہوني چاہيے اور اگر پھل ظاہر ہونے کے بعد اور پک جانے سے پہلے قرار داد کرليں تو اگر کوئي ايسا کام جو درختوں کي تربيت کے لئے ضروري ہے باقي ہو مثلاً سيراب کرنا تو معاملہ صحيح ہے ورنہ محل الامکان ہے۔ اگرچہ ميوہ چننے اور اس کي حفاظت کرنے کي ضرورت بھي ابھي باقي ہو۔
}(٢٢٤٢)خربوزہ ، کھيرا اور اس قسم کے پودوں ميں معاملہ مساقات صحيح نہيں ہے۔
}(٢٢٤٣)وہ درخت جو بارش کے پاني يا زمين کي تري سے فائدہ اٹھاتا ہے اور اسے سيراب کرنے کي ضرورت نہيں اگر دوسرے کاموں کا مثلاً کھودنے اور کھاد دينے کا محتاج ہو تو اس ميں معاملہ مساقات صحيح ہے۔ البتہ اگر يہ کام ان کے زيادہ ہونے يا پھلوں کے اچھے ہونے ميں اثر انداز نہ ہوتے ہوں تو پھر معاملہ مساقات اشکال رکھتا ہے۔
}(٢٢٤٤)وہ افراد جنہوں نے معاملہ مساقات کيا ہے وہ ايک دوسرے کي رضامندي کے ساتھ معاملہ کو فسخ کرسکتے ہيں اور اسي طرح اگر صيغہ مساقات کے ضمن ميں شرط کريں کہ دونوں يا ان ميں سے ايک معاملہ کو فسخ کرنے کا حق رکھتا ہے تو قرار داد کے مطابق معاملہ کے فسخ کرنے ميں کوئي اشکال نہيں بلکہ اگر معاملہ ميں کوئي شرط قرار ديں اور اس پر عمل نہ ہوا ہو تو جس کے نفع کے لئے شرط کي گئي تھي وہ معاملہ کو فسخ کرسکتا ہے۔
}(٢٢٤٥)اگر مالک مرجائے تو معاملہ مساقات فسخ نہيں ہوگا اور اس کے وارث اس کي جگہ پر رہيں گے۔
}(٢٢٤٦)اگر وہ شخص مرجائے درختوں کي تربيت جس کے سپرد کي گئي تھي تو اگر عقد ميں يہ شرط نہيں تھي کہ وہ خود ان کي تربيت کرے تو اس کے وارث اس کي جگہ لے ليں گے اور اگر اس کے وارث اس عمل کو انجام نہ ديں اور کوئي اجير بھي نہ بنائيں تو حاکم شرع ميت کے مال سے کسي کو اجير بنائے گا اور محصولات ميت کے وارثوں اور مالک کے درميان تقسيم کرے گا اوراگر شرط کي ہو وہ خود درختوں کي تربيت کرے گا تو اگر يہ طے ہو اتھا کہ وہ کسي دوسرے کے سپرد نہيں کرے گا تو اس کے مرنے سے معاملہ فسخ ہوجائے گا اور اگر يہ طے نہيں ہوا تھا تو مالک عقد کو فسخ بھي کرسکتا ہے يا رضا مند ہوجائے کہ اس کے وارث يا جسے وہ اجير بنائيں وہ درختوں کي تربيت کرے۔
}(٢٢٤٧)اگر شرط کرے کہ تمام محصولات مالک کے ہوں گے تو مساقات باطل ہے اور پھل مالک کي ملکيت رہيں گے اور کام کرنے والا مزدوري کا مطالبہ نہيں کرسکتا۔ البتہ اگر مساقات کسي اور وجہ سے باطل ہو تو مالک کو چاہيے کہ سيراب کرنے اور دوسرے کاموں کي مزدوري مقدار معمول کے برابر درختوں کي تربيت کرنے والے کو ادا کرے ۔
}(٢٢٤٨)اگر زمين کسي کے سپرد کرے کہ وہ اس ميں درخت لگائے اور جو کچھ نفع ہوگا وہ دونوں کا ہے تو معاملہ باطل ہے۔ پس اگر درخت مالک زمين کے تھے تو تربيت کے بعد اس کي ملک رہيں گے اور اسے تربيت کرنے والے کو مزدوري ديني پڑے گي اور اگر تربيت کرنے والے کي ملکيت تھے تو تربيت کے بعد اسي کي ملک رہيں گے اور وہ انہيں وہاں سے اکھاڑ سکتا ہے البتہ اکھاڑنے کي وجہ سے جو گڑھے پڑ گئے ہيں انہيں پر کرے اور جس دن سے درخت لگائے گئے تھے اسي دن سے کرايہ مالک زمين کو ادا کرے اور مالک بھي اسے مجبور کرسکتا ہے کہ وہ درخت اکھاڑ کر لے جائے اور درخت اکھاڑنے کي وجہ سے کوئي عيب ان ميں پيد اہوجائے تو مالک درخت کو تفاوت قيمت بھي ادا کرے اور اسے مجبور نہيں کرسکتا کہ کرايہ کے ساتھ يا بغير کرايہ کے درخت زمين ميں رہنے دے۔

#وہ اشخاص جو اپنے مال ميں خود تصرف نہيں کرسکتے:
}(٢٢٤٩)جو بچہ بالغ نہيں ہوا وہ شرعاً اپنے مال ميں تصرف نہيں کرسکتا اور بالغ ہونے کي علامت تين ميں سے ايک ہے۔
١۔ شرمگاہ کے اوپر اور ناف کے نيچے سخت بالوں کا اگ آنا۔
٢۔ مني کا باہر آنا۔
٣۔ پندرہ سال قمري مرد کے لئے اور نو سال قمري عورت کے پورے ہوجانا۔
}(٢٢٥٠)چہرہ اور لبوں کے نيچے اور سينہ يا بغلوں کے نيچے سخت بالوں کا اگنا اور آواز کا بھاري ہونا اور ان جيسے دوسرے امور بلوغت کي نشاني نہيں ہيں مگر يہ کہ انسان ان چيزوں کي وجہ سے بالغ ہونے کا يقين کرے ۔
}(٢٢٥١)ديوانہ اور بے وقوف يعني وہ شخص جو اپنا مال فضول کاموں ميں صرف کرتا ہے ۔ اگر وہ بالغ ہوتے وقت بيوقوف ہو يا حاکم شرع اس کواپنے اموال ميںتصرف کرنے سے روک دے تو وہ اپنے مال ميں تصرف نہيں کرسکتا ۔
}(٢٢٥٢)جو شخص کبھي عقلمند اور کبھي ديوانہ ہوتاہے جو تصرف ديوانگي کے عالم ميں اپنے مال ميں کرے وہ صحيح نہيں۔
}(٢٢٥٣)انسان اس بيماري ميں کہ جس ميں وہ مرجائے اپنے مال ميں جتنا تصرف اپنے اور اپنے اہل و عيال اور مہمانوں اور دوسرے کاموں ميں کرنا چاہيے بشرطيکہ اسے فضول خرچي نہ سمجھا جاتا ہو کرسکتا ہے اور اسي طرح اگر اپنا مال کسي کو بخش دے يا سستي قيمت پر بيچ دے يا کرايہ پر دے تو صحيح ہے۔

 

احکام تقليد احکام طہارت احکام نماز  احکام روزہ
احکام خمس   احکام زکواۃ احکام حج خريد و فروخت کے احکام
احکام شرکت احکام صلح اجارہ (کرايہ )کے احکام احکام جعالہ
احکام مزارعہ مساقات (آبياري )کے احکام وہ اشخاص جو اپنے مال ميں خود تصرف نہيں کرسکتےکے احکام احکام وکالت
قرض کے احکام حوالہ (ڈرافٹ)دينے کے احکام رہن کے احکام ضامن بننے کے احکام
کفالت کے احکام وديعت (امانت)کے احکام عاريتاً دينے کے احکام نکاح (شادي بياہ)کے احکام
طلاق کے احکام غصب کے احکام جو مال انسان پالے اس کے احکام جانوروں کے ذبح اور شکار کرنے کے احکام
کھانے پينے کي چيزوں کے احکام نذر اور عہد کے احکام قسم کھانے کے احکام وقف کے احکام
وصيت کے احکام ميراث کے احکام احکام امر بالمعروف اور نہي عن المنکر دفاع کے مسائل و احکام
خاتمہ کے احکام بعض مسائل جو اس زمانے ميں  مورد حاجت ہيں امام خميني کي خدمت ميں چند جديد سوالات اور ان کے جوابات