|
#احکام مزارعہ :
}(٢٢٢٥)مزارعہ اسے کہتے ہيں کہ مالک زمين يا وہ شخص جس کے اختيار
ميں زمين ہے زراعت کرنے والے سے اس طرح معاملہ کرے کہ زمين اس کے
اختيار ميں ديدے تاکہ وہ زراعت کرے اور زمين سے حاصل شدہ جنس ميں
سے کچھ مالک کو دے۔
}(٢٢٢٦)مزارعہ کي چند شرائط ہيں :
١۔ يہ کہ مالک زمين زراعت کرنے والے سے کہے کہ ميں زمين تيرے سپرد
کرتا ہوں اور زراعت کرنے والا کہے ميں قبول کرتا ہوں يا بات کئے
بغير مالک زمين زراعت کرنے والے کي سپردگي ميںديدے اوروہ اسے اپني
تحويل ميںلے لے۔
٢۔ مالک زمين اور زراعت کرنے والا دونوں بالغ و عاقل ہوں اور قصد و
اختيار سے عقد مزارعہ کوانجام ديںاور حاکم شرع نے انہيں اپنے اموال
ميں تصرف کرنے سے نہ روکا ہوا ہو بلکہ اگر بالغ ہوتے وقت وہ سفيہ
ہوں تو اگرچہ حاکم شرع نے انہيں تصرف کرنے سے نہ روکا ہو۔تب بھي وہ
عقد مزارعہ نہيں انجام دے سکتے اور يہ حکم تمام معاملات ميں جاري
ہے۔
٣۔ زمين سے تمام حاصل شدہ جنس ايک شخص سے مخصوص نہ کردي جائے۔
٤۔ ہر ايک کا حصہ مشاعاً ہو مثلاً حاصل شدہ جنس کا آدھا يا تيسرا
حصہ وغيرہ ہواور وہ معين ہو۔ پس اگر يوں قرار ديں کہ زمين کے ايک
ٹکڑے کے محصولات ايک کے ہيں اور دوسرے کے دوسرے کے ہيںتو صحيح نہيں
ہے اور اسي طرح اگر مالک کہے کہ اس زمين ميں زراعت کرو اور جتنا
چاہو مجھے دينا تو صحيح نہيں ہے۔
٥۔ جتني مدت زمين زراعت کرنے والے کے اختيار ميں رہني ہے، وہ معين
ہو اور مدت اتني ہو کہ محصولات زمين کا اس مدت ميں حصول ممکن ہو
اور زمين قابل زراعت ہو اور اگر زراعت اس ميں ممکن نہ ہو ليکن يہ
ممکن ہے کہ کوئي ايسا کام کريں کہ جس سے زراعت ہوجائے تو عقد
مزارعہ صحيح ہے۔
٦۔ اگر ايسي جگہ ہے کہ جہاں مثلاً صرف ايک قسم کي زراعت ہوتي ہے تو
اگرچہ اس کا نام بھي نہ ليں تو بھي وہ زراعت معين ہوگي اور اگر چند
قسم کي زراعت ہوتي ہے تو جو زراعت انجام دينا چاہتاہے۔ اس کو معين
کريں مگر يہ کہ ان کا کوئي معمول ہو کہ جس کے مطابق عمل کرتے ہوں۔
٧۔ مالک زمين کومعين کرے پس جس کے پاس زمين کے چند ٹکڑے ہيں اور وہ
آپس ميں تفاوت رکھتے ہيں۔ پس اگر زراعت کرنے والے سے کہے کہ ان ميں
سے کسي ايک ميں زراعت کرلو اور اس کو معين نہ کرے تو عقد مزارعہ
باطل ہے۔
٨۔ ہر ايک کو جو خرچ کرنا ہے وہ معين کيا جائے ۔ البتہ اگر ہر ايک
کو جو خرچ کرناہے وہ معلوم ہو پھر معين کرنے کي ضرورت نہيں ۔
}(٢٢٢٧)اگر مالک زراعت کرنے والے سے قرار داد کرے کہ محصولات کي
اتني مقدار توميري اور بقيہ ہم آ پس ميں تقسيم کرليں گے تو اگر يہ
معلوم ہو کہ اتني مقدار کے بعد کچھ باقي رہے گا۔ تو مزارعہ صحيح
ہے۔
}(٢٢٢٨) اگر مزارعہ کي مدت ختم ہوجائے اورابھي تک محصولات ہاتھ نہ
آئيں تو اگر مالک راضي ہوجائے کہ کرايہ کے ساتھ يا بغير کرايہ کے
زراعت زمين ميں باقي رہ جائے اور زراعت کرنے والا بھي راضي ہو تو
کوئي حرج نہيں اور اگر مالک راضي نہ ہوتا ہو تو وہ زراعت کرنے والے
کو زراعت کے کاٹنے پر آمادہ کرسکتا ہے اور اگر کاٹنے سے زراعت کرنے
والے کو کوئي ضرر پہنتا ہو تو ضروري نہيں اس کو اس کا عوض دے البتہ
اگر زراعت کرنے والا راضي ہو کہ مالک کوکوئي چيز ديدے تو بھي مالک
کو مجبور نہيں کرسکتا کہ زراعت زمين ميںباقي رہ جائے۔
}(٢٢٢٩)اگر کسي آفت کي وجہ سے زمين ميں زراعت کرنا ممکن نہ ہو
مثلاً پاني زمين سے منقطع ہوگيا ہو تو ااگر کچھ حصہ زراعت کا حاصل
ہوچکا ہے۔ يہاں تک کہ چارہ وغيرہ جو جانوروں کو کھلا سکتے ہيں تو
قرار داد کے مطابق يہ دونوںکا مال ہے اور بقيہ ميں مزارعہ باطل ہے
اور اگر زارع زراعت نہ کرے تو اگر زمين اس کے تصرف ميں ہو اور مالک
کا زمين ميں کسي قسم کا تصرف نہيں تو اس مدت کا کرايہ مالک کو
بمقدار معمول ادا کرے۔
}(٢٢٣٠)اگر مالک اور زارع صيغہ پڑھ ليں توايک دوسرے کي رضامندي کے
بغير مزارعہ کو فسخ نہيں کرسکتے اور يہي حکم ہے اگر مالک مزارعہ کے
ارادہ سے زمين کسي کے سپرد کردے اور لينے والا بھي اس قصد و ارادہ
سے لے لے البتہ اگر عقد کے ضمن ميں شرط کريں کہ ہر ايک يا کسي ايک
کو فسخ کرنے کا حق ہوگا تو وہ قرار داد کے مطابق اسے فسخ کرسکتے
ہيں۔
}(٢٢٣١)اگر مزارعہ کي قرار داد کے بعد مالک يا زارع مرجائے تو عقد
مزارعہ فسخ نہيں ہوگا اور ان کے وارث ان کي جگہ ہوں گے البتہ اگر
زارع مرجائے اور شرط يہ تھي کہ زارع خود زراعت انجام دے تو عقد
مزارعہ فسخ ہوجائيگا۔ اور اگر زراعت ظاہرہوچکي ہو تو اس کاحصہ اس
کے وارثوں کو ديا جائے گا اور دوسرے حقوق بھي جو زارع رکھتا تھا۔
وہ بھي اسکے ورثا بطور ارث لے جائيں گے ليکن وہ مالک کو مجبور نہيں
کرسکتے کہ زراعت زمين ميں باقي رہ جائے۔
}(٢٢٣٢)اگر زراعت کرنے کے بعد معلوم ہوجائے کہ معاملہ مزارعہ باطل
تھا اور اگر بيچ زراعت کرنے والے کا تھا تو محصول بھي اسي کي ہوگي
اور اس کو چاہيئے کہ زمين کا کرايہ اور وہ اخراجات جو مالک نے کئے
تھے اور بيل يا کسي اور حيوان کا کرايہ جو اس کا تھا اور زراعت
ميںکام کيا تھا مالک کو ديدے مگر يہ کہ مزارعہ کا باطل ہونا اس جہت
سے ہو کہ انہوں نے قرار داد کي تھي کہ تمام محصول زارع کا ہوگا۔ اس
فرض ميں لازم نہيںہے کہ زارع کوئي بھي چيز مالک کو ديدے۔
}(٢٢٣٣)اگر بيج زارع کا ملک تھا اورزراعت کے بعد انہيں معلوم ہواکہ
عقد مزارعہ باطل تھا تو اگر مالک اورزارع راضي ہوجائيں اوراگر مالک
راضي نہ ہو تو زراعت پکنے سے پہلے زارع کو مجبور کرسکتا ہے کہ
زراعت کاٹ لے اورزارع اگرچہ راضي ہو کہ مالک کو کچھ ديدے تو بھي
اسے مجبور نہيںکرسکتا کہ زراعت زمين ميں باقي رہ جائے اور اسي طرح
مالک، زارع کو مجبور نہيں کرسکتا کہ کرايہ ديدے اور زراعت زمين ميں
باقي رہ جائے۔
}(٢٢٣٤)اگر محصولات کے جمع کرنے اور مدت مزارعہ ختم ہونے کے بعد
زراعت کي جڑيں زمين ميں رہ جائيں اور اگلے سال محصولات حاصل ہوں تو
اگر مالک اور زارع زراعت سے صرف نظر کرچکے ہوں تواس کا حکم مباحات
کا ہے اور اگر قرارداد کي ہو کہ تمام محصول اور جڑ مشترک ہوگا توان
کو آپس ميں تقسيم کرنا چاہيئے اور اگر ان کي قرار داد فقط سال رواں
کے محصول کے لئے تھي تو دوسرے سال کا محصول صاحب بيج کا ہوگا۔
|