|
#احکام جعالہ :
}(٢٢١٥)جعالہ يہ ہے کہ کوئي مقرر کرے کہ جو شخص ميرا فلاں کام کرے
گا۔ ميں اس کے مقابلہ ميں مال معين دوں گا۔ مثلا ً کہے کہ جو شخص
ميري گم شدہ چيز کو تلاش کر لائے تو اس کو دس روپے دوں گا تو جو
شخص يہ مقرر کرے جاعل اور جو شخص کام انجام دے اسے عامل کہتے ہيں
اور جعالہ اور کوئي شخص کسي کا اجير بنے اس ميں فرق يہ ہے کہ اجارہ
ميں عقد پڑھنے کے بعد اجير کو کام کرنا پڑے گا اور جس نے اسے اجير
بنايا ہے اسے اس کي اجرت دينا ہوگي البتہ جعالہ ميں عامل کو اختيار
ہے کہ وہ کام نہ کرے اور جب تک کام انجام نہ دے جاعل کے ذمہ بھي
کوئي چيز نہيں۔
}(٢٢١٦)جاعل کو بالغ و عاقل ہونا چاہيے اور ارادہ و اختيار سے قرار
داد کرے اور شرعا ً اپنے مال ميں تصرف بھي کر سکتا ہو تو اس بنائ
پر سفيہ و بے وقوف کا جعالہ جو کہ اپنا مال فضول کاموں ميں صرف
کرتا ہے صحيح نہيں ہے جب کہ حاکم شرع نے اس کو عمل کرنے سے روک
رکھا ہو يا بالغ ہونے کي حالت ميں بے عقل ہو۔
}(٢٢١٧)جاعل کے کہنے پر جو کام کرنا ہے وہ حرام نہ ہو اور وہ ايسا
بے فائدہ بھي نہ ہو کہ جس سے کوئي غرض عقلائي متعلق نہ ہو پس اگر
وہ کہے کہ جو شخص شراب پئيے يا رات کے وقت تاريک مقام پر جائے تو
اس کو دس روپے دوں گا تو جعالہ صحيح نہيں ہے۔
}(٢٢١٨)جس مال کے دينے کا معاہدہ کيا ہے اگر اسے معين کرے مثلاً
کہے جو شخص ميرا گھوڑا تلاش کر لائے يہ گندم ميں اسے دوں گا تو يہ
ضروري نہيں کہ يہ بھي کہے کہ يہ گندم کس جگہ کي ہے اور اس کي کتني
قيمت ہے۔ البتہ اگر مال کو معين نہ کرے مثلاً کہے کہ جو شخص ميرا
گھوڑا تلاش کر لائے تو اس کو دس من گندم دوں گا تو اس کي خصوصيات
پورے طور پر معين کرے ۔
}(٢٢١٩)اگر جاعل کوئي معين مزدوري اس کام کے لئے قرار نہ دے مثلاً
کہے کہ جو شخص ميرا بچہ تلاش کر لائے ۔ ميں اسے کچھ رقم دوں گا اور
اس کي مقدار معين نہ کرے تو اگر کوئي شخص اس عمل کو بجالائے تو اس
کي مزدوري اتني ادا کرے کہ جو لوگوں کي نظر ميں اس کام کي ہوسکتي
ہے۔
}(٢٢٢٠)اگر عامل يا کوئي اور شخص قرار داد سے پہلے کام انجام دے
چکا ہو يا قرار داد کے بعد اس نيت سے کام کرچکا ہو کہ ميں اس کے
مقابلہ ميں پيسے نہيںلوں گا تو وہ مزدوري کا مستحق نہيں ہوگا۔
}(٢٢٢١)قبل اس کے کہ عامل کام شروع کرے ۔ جاعل اور عامل جعالہ کو
فسخ کرسکتے ہيں۔
}(٢٢٢٢)بعد اس کے کہ عامل کام شروع کردے اگر جاعل جعالہ کو فسخ
کرنا چاہے توکوئي اشکال نہيں۔ البتہ جتنا کام وہ کرچکاہے ۔ اس کي
مزدوري ادا کرے۔
}(٢٢٢٣)عامل کام کو ادھورا چھوڑ سکتا ہے البتہ اگر کام کو ناقص
چھوڑنا جاعل کے لئے مضر ہے تو پھر اس کو تمام کرے مثلاً اگر کوئي
کہے کہ جو شخص ميري آنکھ کا آپريشن کرے تو اتني رقم اس کو دوں گا
اورآپريشن کرنے والا ڈاکٹر کام شروع کردے۔ اب يہ صورت ہوکہ اگر کام
نہ کرے تو اس کي آنکھ عيب دار ہوجائے گي تو اس کو تمام کرے تو اگر
پورا نہ کيا تو جاعل سے کسي چيز کے لينے کا مستحق نہيںہوگا۔
}(٢٢٢٤)اگر عامل کام کو ناتمام چھوڑ ے تو اگر وہ کام ايسا ہے کہ جب
تک اسے پورا نہ کيا جائے۔ جاعل کے لئے اس ميں کوئي فائدہ نہيں
مثلاً گم شدہ گھوڑے کا تلاش کرنا تو پھر عامل کسي چيز کا مطالبہ
نہيں کرسکتا اور يہي حکم ہے کہ اگر جاعل نے عمل پورا کرنے کي
مزدوري قرار دي ہو مثلا ً کہے جو ميرے کپڑے سئيے گا اس کو دس روپے
دوں گا البتہ اگر اس کا مقصد يہ ہو کہ جتنا عمل کوئي کرے گا اتني
مزدوري اسے دوں گا تو جاعل کو چاہيے کہ عامل نے جتنا کام کيا ہے
اتني مزدوري اسے ديدے ۔ اگرچہ احتياط يہ ہے کہ بطور مصالحت ايک
دوسرے کو راضي کريں۔
|