اجارہ (کرايہ )کے احکام

#اجارہ (کرايہ )کے احکام :
}(٢١٧٠)کرايہ پر کوئي چيز لينے اور دينے والے کو مکلف و عاقل ہونا چاہيے اور اپنے اختيار سے کرايہ کے معاملے کو انجام دے رہے ہوں اور اپنے مال ميںحق تصرف بھي رکھتے ہوں پس وہ سفيہ و بيوقوف جو اپنے مال کو بيہودہ اور فضول کاموں ميںصرف کرتا ہے تو اگر حاکم شرع نے اسے اس کے اموال ميں تصرف کرنے سے روک رکھا ہو يا حالتِ بلوغ ميں بے عقل ہو تو وہ اگر کوئي چيز کرايہ پر لے يا کرايہ پردے تو صحيح نہيں ہے۔
}(٢١٧١)انسان کسي کا وکيل بن کر اس کے مال کو کرايہ پر دے سکتا ہے۔
}(٢١٧٢)اگر ولي يا بچے کا نگران اس کے مال کو کرايہ پر دے يا بچے کو کسي کا اجير بنائے تو اس ميںکوئي اشکال نہيں اور اگر اس کے بالغ ہونے کي مدت کے کچھ حصہ کو جزو اجارہ قرار دے تو بعد اس کے کہ بچہ بالغ ہوجائے وہ باقي مدت اجارہ کو توڑ سکتاہے ليکن اگر صورت حال يہ تھي کہ اگر بچے کے بالغ ہونے کي مدت کے کچھ حصہ کو جزاجارہ قرار نہ ديتا تو بچے کي مصلحت کے خلاف تھا تو بچہ اجارہ کو نہيں توڑ سکے گا۔
}(٢١٧٣)وہ چھوٹا بچہ کہ جس کا ولي نہيں ہے اسے مجتہد کي اجازت کے بغير مزدور نہيں بنايا جاسکتا اور جو شخص مجتہد تک دسترس نہيں رکھتا وہ کسي مومن عادل سے اجازت لے کر اسے مزدور بناسکتاہے۔
}(٢١٧٤)کرايہ پر دينے والا اور کرايہ پر لينے والا ضروري نہيں کہ صيغہ عربي زبان ميں پڑھے بلکہ اگر مالک کسي کو کہہ دے کہ ميں اپني ملک تجھے کرايہ پر ديتا ہوں اور وہ کہے کہ ميںقبول کرتا ہوں تو اجارہ صحيح ہے اور اسي طرح اگرکوئي بات نہ کريں ليکن مالک اس قصد سے کہ ملک کو کرايہ پر دے رہا ہوں کرايہ پر دينے والے کے سپرد کردے اور وہ بھي کرايہ پر لينے کے قصد سے لے لے تو اجارہ صحيح ہے۔
}(٢١٧٥)اگرکوئي شخص صيغہ اجارہ پڑھنے کے بغير چاہے کہ کسي کام کو انجام دينے کے لئے اجير بنے تو جب مدمقابل کي رضا سے عمل شروع کرے گا تو اجارہ صحيح ہوجائے گا۔
}(٢١٧٦)جو شخص بات نہيں کرسکتا تو اگر وہ اشارہ سے سمجھا دے کہ ملک کرايہ پر دي ہے يا کرايہ پر لي ہے تو صحيح ہے۔
}(٢١٧٧)اگر انسان مکان ، دکان يا کمرہ کرائے پر لے اور مالک اس سے شرط کرے کہ اس ميںسے صرف تم ہي فائدہ اٹھاسکتے ہو تو کرايہ پر لينے والا کسي اور کو کرايہ پر نہيں دے سکتا اور اگر يہ شرط نہ کرے تو پھر دوسرے کو کرايہ پر دے سکتا ہے البتہ جتنے کرايہ پر ليا تھا اس سے زيادہ پر دينا چاہے تو اس ميں کوئي کام کرے مثلاً کوئي چيز تعمير کرے يا سفيدي کرائے يا جس جنس پر اس نے کرايہ پرليا تھا اس کے علاوہ کسي جنس کے عوض کرايہ پر دے مثلاً اگر رقم کے عوض کرايہ پر ليا تھا تو گندم يا اس قسم کي کسي دوسري چيز کے عوض کرايہ پر دے ۔
}(٢١٧٨)اگر مزدور انسان سے شرط کرے کہ صرف تمہارا کام کروں گا تو اس کو دوسرے کا مزدور نہيں بنايا جاسکتا اور اگر يہ شرط نہ کرے تو اگر اس کو اس جنس پر مزدور قرار دے کہ جس پر اس نے مزدور بنايا تھا تو وہ زيادہ نہيں لے سکتا اور اگر کسي اور جنس کے مقابلہ ميں مزدور بنائے تو زيادہ لے سکتا ہے۔
}(٢١٧٩)اگر مکان و دکان و کمرہ و مزدور کے علاوہ کوئي اور چيز کرايہ پرلے مثلاً زمين اور مالک اس کے ساتھ شرط نہ کرے کہ فقط خود اس سے استفادہ کرو تو جتني رقم پر اس نے کرايہ پر لي تھي اگر اس سے زيادہ پر اجارہ پر دے تو کوئي اشکال نہيں ہے۔
}(٢١٨٠)اگر کسي مکان يا دکان کو مثلاً ايک سال کے لئے سو روپے کرايہ پر لے اور آدھے سے خود فائدہ اٹھائے تو اس کے آدھے حصہ کو سو روپے کرايہ پر اٹھوا سکتا ہے البتہ اگر اس آدھے کو تمام مکان يا دکان کے اصل کرايہ سے زيادہ پر دينا چاہے مثلاً ايک سو بيس روپے کرايہ پر دينا چاہے تواس ميں تعمير وغيرہ کا کوئي کام انجام دے يا کسي جنس پر کرايہ پر دے۔
#اس مال کے شرائط جوکرايہ پر ديا جارہاہے:
}(٢١٨١)جو مال کرايہ پر اٹھايا جاتا ہے اس کي چند شرطيں ہيں:
١۔ يہ کہ وہ معين ہو پس اگر کہے کہ ميں نے اپنے گھروں ميں سے ايک گھر کرايہ پر دياہے تو درست نہيں۔
٢۔ کرايہ پر لينے والا اس کو ديکھے يا کرايہ پر دينے والا اس کي خصوصيات اس طرح بيان کرے کہ وہ پورے طور پر معلوم ہوجائے۔
٣۔ اس کا سپرد کرنا ممکن ہو تو جو گھوڑا بھاگ گيا ہے اس کو کرايہ پر دينا باطل ہے۔
٤۔ وہ مال ايسا ہو کہ اس سے نفع اٹھانے کے باوجود ختم نہ ہوتا ہو پس روٹي پھل اور اس قسم کي دوسري کھانے کي چيزيں کرايہ پر ديناصحيح نہيں۔
٥۔ جس فائدہ کے لئے کرايہ پر ليا گيا ہو وہ فائدہ اس سے حاصل ہوسکے۔ پس ايسي زمين کرايہ پر زراعت کے لئے دينا کہ جس کے لئے بارش کا پاني کافي نہ ہو اور نہر کے پاني سے سيراب نہ کي جاسکتي ہو صحيح نہيں ہے۔
٦۔ جو چيز کرايہ پر دے رہاہے وہ اس کي اپني ملکيت ہو اور اگر کسي اور شخص کے مال کو کرايہ پر دے تو اس صورت ميں صحيح ہے جب کہ مالک راضي ہوجائے۔
}(٢١٨٢)درخت کو اس غرض سے کرايہ دياجاسکتاہے کہ اس کے پھل سے استفادہ کياجائے۔
}(٢١٨٣)عورت کے دودھ پلانے کي وجہ سے شوہر کا حق ضائع ہوتا ہو تو اس کي اجازت کے بغير اجير نہيں بن سکتي۔
# اس فائدہ کے شرائط کہ جس کے لئے مال کرايہ پر ديا جائے :
}(٢١٨٤)وہ فائدہ کہ جس کے لئے مال کو کرايہ پر ديا جاتا ہے اس کي چار شرطيں ہيں۔
١۔ يہ کہ وہ حلال ہو تو اس بنائ پر دکان شراب بيچنے يا رکھنے کے لئے يا کوئي جانور شراب کے نقل و حمل کے لئے کرايہ پر دينا باطل ہے۔
٢۔ اس فائدہ کے لئے رقم خرچ کرنا عقلائ کے نزديک فضول اور بيہودہ کام نہ ہو۔
٣۔ جو چيز کرايہ پر دي جارہي ہو اگر اس ميں کئي فوائد ہوں تو جو فائدہ مستاجر کوليناہے اس کا تعين کيا جائے مثلاً کوئي ايسا جانور کرايہ پر ديں جس پر سواربھي ہوسکتے ہيں اور بار بھي لادا جاسکتاہے توکرايہ پر ديتے وقت يہ بات طے ہوجائے کہ سواري کے لئے يا بوجھ اٹھانے کے لئے يا تمام کے لئے مستاجر کا حق ہے۔
٤۔ فائدہ حاصل کرنے کي مدت مقرر کي جائے اور اگر مدت معلوم نہ ہو ليکن عمل کا تعين ہوجائے مثلاً درزي سے طے کيا جائے کہ فلاں لباس فلاں طرز پر سي کردو تو يہ بھي کافي ہے۔
}(٢١٨٥)اگر کرايہ کي مدت ابتدائ معين نہ کي گئي ہو تواس کي ابتدائ صيغہ کرايہ پڑھ لينے کے بعد سے شروع کي جائيگي۔
}(٢١٨٦)اگر مکان مثلاً ايک سال کے لئے کرايہ پر ديں اور اس کي ابتدائ صيغہ کرايہ پڑھنے کے ايک مہينہ بعد سے قرار ديں تو اجارہ صحيح ہے۔ اگرچہ صيغہ پڑھتے وقت وہ مکان کسي اور کے پاس کرايہ پر ہو۔
}(٢١٨٧)اگر مدت کرايہ معين نہ کرے اور کہے کہ جب سے تو مکان ميں رہائش کرے گا اس وقت سے ہرمہينہ کے دس روپے ہوں گے تو اجارہ صحيح نہيں۔
}(٢١٨٨)اگر کرايہ دار سے کہے کہ مکان ايک مہينہ کے لئے دس روپے پر تمہيں ديتا ہوں اور بقيہ بھي اسي قيمت پر تو پہلے مہينہ کااجارہ صحيح ہے اور اگر کہے کہ ہر مہينہ کے دس روپے ہيں اور اسکے اوّل و آخر کا تعين نہ کرے تو اجارہ پہلے مہينہ کے لئے بھي باطل ہوگا۔
}(٢١٨٩)وہ مکان کہ جس ميں مسافر اور زائر آکر رہتے ہيں اور يہ معلوم نہيں کہ کتنے دن رہيں گے اگر يہ طے کرليں کہ مثلاً ہر رات کے لئے ايک روپيہ اور گھر کا مالک راضي ہوجائے تو اس گھر سے فائدہ اٹھانے ميں کوئي اشکال نہيں ليکن چونکہ مدت اجارہ معين نہيں اجارہ صحيح نہيں ہوگا اور مالک جب چاہے انہيں مکان سے نکال سکتاہے۔
#کرايہ کے متفرق مسائل :
}(٢١٩٠)اجارہ کرنے والا جو مال کرايہ کے عنوان سے ديتا ہے وہ معلوم ہونا چاہيے تو اگر ايسي چيزوں ميں سے کہ جن کا وزن کے ساتھ معاملہ ہوتاہے مثلاً گندم تو اس کا وزن معلوم ہو اور اگر ايسي چيز ہے کہ جس کا معاملہ شمار کرنے سے ہوتا ہے مثلاً انڈے تو ان کي تعداد معلوم ہو اور اگر گھوڑا اور بھيڑبکري کي طرح ہے تو کرايہ پر دينے والا نہيں ديکھ چکا ہو يا کرايہ پر لينے والا ان چيزوں کي خصوصيات کو بيان کرے۔
}(٢١٩١)اگر کوئي زمين گندم يا جو يا کسي اور پيداوار کي زراعت کے لئے کرائے پر دے اور کرايہ اسي زمين ميں سے حاصل شدہ پيداوار کو قرار دے تو اجارہ صحيح نہيں۔
}(٢١٩٢)جس نے کوئي چيز کرايہ پر دي ہے جب تک وہ تحويل ميں نہ ديدے اسے حق نہيں پہنچتا کہ کرايہ کا مطالبہ کرے اور اسي طرح اگرکسي کام کو انجام دينے کے لئے اجير بنا ہو تو کام تمام کرنے سے پہلے مزدوري کا مطالبہ نہيں کرسکتا۔
}(٢١٩٣)جب وہ چيز تحويل ميں ديدے کہ جسے کرايہ پر ديا ہے تو اگرچہ کرايہ پر لينے والا تحويل ميں نہ لے يا تحويل ميں تو لے لے ليکن کرايہ کي آخري مدت تک اس سے فائدہ نہ اٹھائے تو بھي کرايہ اسے دينا پڑے گا۔
}(٢١٩٤)اگر انسان اجير بنے کہ فلاں دن فلاں کام انجام دے اور پھر اس کا کام کرنے کے لئے اجير حاضر ہوجائے تو جس شخص نے اسے اجير بنايا ہے اگرچہ وہ کام اس سے نہ کرائے اس کي اجرت اسے ديني پڑے گي مثلاً اگردرزي کو کسي خاص سينے کے لئے اجير بنائے اور درزي اس دن کام کرنے کے لئے تيارہو اگرچہ يہ کپڑا اسے نہ دے کہ وہ اسے سيئے تو اس کي اجرت دينا پڑے گي۔ چاہے درزي کوئي کام نہ کرے اور چاہے اپنا يا کسي اور کا کام کرتا رہے۔
}(٢١٩٥)اگر کرايہ کي مدت ختم ہونے کے بعد معلوم ہو کہ کرايہ باطل تھا تو کرايہ پر لينے والا کرايہ کي رقم مقدار معمول کے برابر مالک کو ادا کرے مثلاً کوئي مکان ايک سال کے لئے سو روپے کرايہ پر ليا ہے اور بعد ميں معلوم ہو کہ اجارہ باطل ہے تو اگر اس مکان کا عادي کرايہ پچاس روپے ہے تو وہ پچاس روپے مالک کو ادا کرے اور دو سو روپے ہے تو دو سو روپے ادا کرے اور اس طرح اگر کچھ مدت گزرنے کے بعد معلوم ہو کہ اجارہ باطل ہے تو اتني ہي مدت کا عادي کرايہ مالک کو ادا کرے۔
}(٢١٩٦)جو چيز کرايہ پر لي ہے اگر وہ تلف ہوجائے تو اگر اس کي حفاظت ميں کوتاہي نہيں کي ہے اور اس سے فائدہ اٹھانے ميں زيادتي نہيں کي تو ضامن نہيں ہوگا اور اسي طرح اگر وہ کپڑا جو درزي کو دياہے ضائع ہوجائے ۔ اگر درزي نے نہ زيادتي کي ہے اور نہ حفاظت ميں کوتاہي تو اس کا معاوضہ دينے کي ضرورت نہيں۔
}(٢١٩٧)کاريگر جو چيز لے کر ضائع کردے وہ اس کا ضامن ہے۔
}(٢١٩٨)اگر قصاب کسي جانور کا سر کاٹ کر اسے حرام کردے چاہے اس کي مزدوري لي ہو يا مفت کام کيا ہو تو اس کي قيمت اس کے مالک کو ادا کرے۔
}(٢١٩٩)اگر کوئي جانور کرايہ پر لے اور معين کرے کہ کتنا بوجھ اس پر لادنا ہے اگر اس سے زيادہ بوجھ اس پر لادے اور وہ جانور مرجائے يا عيب دارہوجائے تو وہ ضامن ہے اور اسي طرح اگرچہ بوجھ کي مقدار معين نہ کي گئي ہو اور وہ معمول سے زيادہ بار لادے اور جانور تلف يا عيب دار ہوجائے تو اس کا ضامن ہوگا۔
}(٢٢٠٠)اگر کوئي جانور ٹوٹ جانے والے سامان کو اٹھانے کے لئے کرايہ پر دے چنانچہ جانور کو ٹھوکر لگے يا وہ ڈر جائے اور سامان ٹوٹ جائے تو جانور کا مالک اس کاضامن نہيں ہوگا البتہ اگر مالک کے مارنے يا اس قسم کے کسي کام کي وجہ سے جانور گرجائے اور سامان جائے تو پھر ضامن ہوگا۔
}(٢٢٠١)اگر کوئي شخص کسي بچے کا ختنہ کرے اور اس بچے کو کوئي ضرر پہنچے يا وہ مرجائے تو اگر اس نے عادت سے زيادہ کاٹا ہو تو ضامن ہوگا اور اگر معمول سے زيادہ نہ کاٹا ہوتو پھر ضامن نہيں ہے۔
}(٢٢٠٢)اگر ڈاکٹر اپنے ہاتھ سے بيمار کو دوا دے يا مريض کو مرض اور دوائي بتائے اور بيمار وہ دوائي کھالے تو اگر علاج ميں غلطي کرے اور اس سے مريض کو ضرر پہنچے يا وہ مرجائے تو ڈاکٹر ضامن ہے البتہ اگر ڈاکٹر کہے کہ فلاں دوا فلاں بيماري کے لئے مفيد ہے اور دوا کھانے کي وجہ سے بيمار کو کوئي ضرر پہنچے يا وہ مرجائے تو ڈاکٹر ضامن نہيں ہوگا۔
}(٢٢٠٣)جب ڈاکٹر بيمار يا اس کے ولي کو کہہ دے کہ اگر بيمار کو کوئي ضرر پہنچايا تو وہ مرگيا تو ميں ضامن نہيں ہوں جبکہ وہ پوري وقت اور احتياط سے علاج کرے اور بيمار کو ضرر پہنچے يا وہ مرجائے تو ڈاکٹر ضامن نہيں ہوگا۔
}(٢٢٠٤)کرايہ پر کوئي چيز لينے اور دينے والا ايک دوسرے کي رضامندي سے معاملہ کو توڑ سکتے ہيں اور اسي طرح اگر عقد اجارہ ميں شرط کريں کہ دونوں کو يا کسي ايک کو معاملہ توڑنے کا حق ہوگا تو وہ قرارد اد کے مطابق اجارہ کو توڑ سکتے ہيں۔
}(٢٢٠٥)اگر کرايہ پر دينے يا لينے والا يہ سمجھے کہ وہ گھاٹے ميں رہا ہے تو اگر صيغہ پڑھتے وقت وہ ملتفت نہ تھا کہ ميں مغبون و گھاٹے ميں ہوں تو وہ اجارہ کو توڑ سکتاہے البتہ اگر صيغہ اجارہ ميں يہ شرط کي گئي تھي کہ اگر کسي کو گھاٹا بھي ہوا توبھي اسے معاملہ توڑنے کا حق نہيں توپھر اجارہ کو نہيں توڑ سکيں گے۔
}(٢٢٠٦)اگر کوئي چيز کرايہ پر دے اور تحويل ميں دينے سے پہلے کوئي اسے غصب کرلے تو کرايہ پرلينے والا معاملہ کو توڑ سکتا ہے اور جو چيز کرايہ پر دينے والے کو دے چکاہے وہ واپس لے لے يا اجارہ کو نہ توڑے اور جتني مدت وہ غاصب کے پاس رہے اتني مدت کا کرايہ عادت کے مطابق اس سے وصول کرے۔ پس اگر کوئي جانور ايک مہينہ کے لئے دس روپے کرايہ پر لے اور کوئي شخص اسے دس دن تک غصب کئے رکھے اور اس کا عادي کرايہ دس دن کے لئے پندرہ روپے ہو تو وہ غصب کرنے والے سے پندرہ روپے لے سکتا ہے۔
}(٢٢٠٧)جو چيز کرايہ پر لي ہے اگر وہ تحويل ميں لے لے اور اس کے بعد کوئي اسے غصب کرے تو يہ اجارہ کو نہيں توڑ سکتا اور صرف اسے يہ حق ہے کہ اس چيز کا کرايہ بمقدار معمول غاصب سے لے لے۔
}(٢٢٠٨)اگر مدت کرايہ ختم ہونے سے پہلے وہ جائيداد مستاجر کے ہاتھ بيچ دے تو اجارہ نہيں ٹوٹے گا بلکہ کرايہ دار کو چاہيے کہ کرايہ کي مدت تک مالک کو کرايہ ديتا رہا اور يہي حکم ہے اگر کسي اور کے ہاتھ دے۔
}(٢٢٠٩)اگر مدت کرايہ کي ابتدائ سے پہلے ملک ايسي خراب ہوجائے کہ اس سے کسي قسم کا فائدہ نہ اٹھايا جاسکتا ہو يااس فائدہ کے قابل نہ رہا ہو جس کي شرط کي گئي تھي تو اجارہ باطل ہوجائے گا اور جو رقم مستاجر نے مالک ملک کو اد ا کي ہے۔وہ اس کي طرف پلٹ آئے گي بلکہ اگر اس قسم کا ہو کہ کچھ نہ کچھ اس سے فائدہ اٹھايا جاسکتا ہے تو بھي اجارہ کو توڑسکتا ہے۔
}(٢٢١٠)اگر کوئي جائيداد کرايہ پر لے اور مدت اجارہ ميںسے کچھ مدت گزرنے کے بعد وہ اس طرح خراب ہوجائے کہ اس سے بالکل فائدہ حاصل نہ ہوسکتا ہو يا جس فائدہ کي شرط کي گئي ہے۔ اس کے قابل نہ رہا ہو تو باقي مدت کا اجارہ باطل ہے اور اگر مختصر قسم کا فائدہ بھي اس سے اٹھاسکتا ہے۔ تب بھي بقيہ مدت کا اجارہ ختم کرسکتا ہے۔
}(٢٢١١)اگر کوئي گھر کرايہ پر دے کہ مثلاً جس ميں دو کمرے ہيں اور اس کا ايک کمرہ خراب ہوجائے تو اگر فوراً اسے بنوادے اور اس سے فائدہ حاصل کرنے کي کوئي مقدار درميان سے ضائع نہيں ہوئي تو اجارہ باطل نہيں ہوگا اور نہ مستاجر اس کو توڑ سکتا ہے۔ البتہ اگر اس کا بنوانا اتني طوالت پکڑ جائے کہ مستاجر کے فائدے اٹھانے سے کچھ مدت ضائع ہوجائے تو اتني مقدار باطل ہوجائے گا اور مستاجر بقيہ مدت اجارہ کو بھي فسخ کرسکتا ہے۔
}(٢٢١٢)اگر کرايہ دينے والا يا لينے والا مرجائے تو اجارہ باطل نہيں ہوگا البتہ اگر مکان کرايہ پر دينے والے کي ملکيت نہ ہو مثلا ً کسي نے وصيت کي ہو کہ جب تک يہ (کرايہ پر دينے والا) زندہ ہے۔ اس مکان کا نفع اس کي ملکيت ہے تو اگر وہ مکان کرايہ پر ديدے اور کرايہ کي مدت پوري ہونے سے پہلے مرجائے تو اس کے مرنے کے وقت سے اجارہ باطل ہے۔
}(٢٢١٣)اگر مالک نجار يا گلکار کو وکيل قرار دے کہ اس کے لئے مزدور مہيا کرے چنانچہ وہ جتني مزدوري مالک سے مزدوروں کے نام پر ليتا ہے اس سے کم مزدوروں کو دے تو بقيہ رقم اس کے لئے حرام ہے اور وہ مالک کو واپس کردے البتہ اگر اس کو اجير بنائے کہ يہ مکان مکمل تعير کرے اور وہ مالک سے يہ اختيار حاصل کرلے کہ خود مکان بنوائے يا کسي سے بنوائے۔ اب اگر جتني مقدار پر خود اجير بنا ہے۔اس سے کم مقدار پر دوسرے کو اجير کرے تو بقيہ اس کے لئے حلا ل ہے۔
}(٢٢١٤)اگر رنگريز سے طے ہوجائے کہ مثلاً کپڑے کو نيل سے رنگے گا تو اگر کسي اور رنگ سے رنگ ديا تو کوئي چيز لينے کا حق نہيں رکھتا۔

 
احکام تقليد احکام طہارت احکام نماز  احکام روزہ
احکام خمس   احکام زکواۃ احکام حج خريد و فروخت کے احکام
احکام شرکت احکام صلح اجارہ (کرايہ )کے احکام احکام جعالہ
احکام مزارعہ مساقات (آبياري )کے احکام وہ اشخاص جو اپنے مال ميں خود تصرف نہيں کرسکتےکے احکام احکام وکالت
قرض کے احکام حوالہ (ڈرافٹ)دينے کے احکام رہن کے احکام ضامن بننے کے احکام
کفالت کے احکام وديعت (امانت)کے احکام عاريتاً دينے کے احکام نکاح (شادي بياہ)کے احکام
طلاق کے احکام غصب کے احکام جو مال انسان پالے اس کے احکام جانوروں کے ذبح اور شکار کرنے کے احکام
کھانے پينے کي چيزوں کے احکام نذر اور عہد کے احکام قسم کھانے کے احکام وقف کے احکام
وصيت کے احکام ميراث کے احکام احکام امر بالمعروف اور نہي عن المنکر دفاع کے مسائل و احکام
خاتمہ کے احکام بعض مسائل جو اس زمانے ميں  مورد حاجت ہيں امام خميني کي خدمت ميں چند جديد سوالات اور ان کے جوابات