|
#احکام صلح :
}(٢١٥٧)صلح يہ ہے کہ ايک انسان دوسرے کے ساتھ طے کرے کہ اپنا کچھ
مال يا مال کا نفع دوسرے کا ملک قرار دے يا اپنا قرض اور اپنا حق
چھوڑ دے تاکہ وہ بھي اس کے عوض ميں کچھ مال يا مال کا نفع اسے
واگذار کرے يا اپنے قرض يا اپنے حق کو چھوڑ دے۔
}(٢١٥٨)دو آدمي جو کسي چيز ميں ايک دوسرے سے صلح کرتے ہيں وہ بالغ
اور عاقل ہوں۔ کسي نے انہيں مجبور نہ کياہو اور وہ صلح کا ارادہ
بھي رکھتے ہوں اور حاکم شرع نے انہيں اموال ميں تصرف کرنے سے روک
بھي نہ رکھا ہو اور بالغ ہونے کي حالت ميں بے عقل نہ ہو۔
}(٢١٥٩)ضروري نہيں کہ صلح کا صيغہ عربي زبان ميں پڑھا جائے بلکہ جو
لفظ يہ مفہوم سمجھاسکے کہ انہوں نے ايک دوسرے سے صلح کرلي ہے وہ
کافي اور صحيح ہے۔
}(٢١٦٠)اگر کوئي شخص اپني بھيڑ بکرياں کسي چرواہے کو دے کہ مثلاً
وہ ايک سال تک ان کي حفاظت کرے اور ان کے دودھ سے استفادہ کرے اور
کچھ گھي مالک کو بھي دے تو اگر بھيڑ بکريوں کے دودھ کو چرواہے کي
زحمات اور گھي کے مقابلے ميں صلح کرلے تو صحيح ہے ليکن اگر بھيڑ
بکرياں ايک سال کے لئے چرواہے کو کرايہ پر دے کہ ان کے دودھ سے
فائدہ اٹھائے اور اس کے عوض ميں کچھ گھي دے تو اس ميں اشکال ہے۔
}(٢١٦١)اگر کوئي شخص چاہے کہ اپنے قرض کے سلسلے ميں دوسرے سے
مصالحت کرے تو يہ اس وقت صحيح ہوگي جب دوسرا وقبول بھي کرے۔
}(٢١٦٢)اگر انسان کسي کا مقروض ہے اور قرضہ کي مقدار اسے معلوم ہے
ليکن قرض خواہ کو معلوم نہيں تو اگر قرض خواہ اس مقدار سے کم پر
صلح کرلے جو واقع ميں ہے مثلاً پچاس روپے اس کو لينے ہوں اور وہ دس
روپے پر صلح کرے تو بقيہ مقروض کے لئے حلال نہيں مگر يہ کہ قرضے کي
مقدار بيان کرے اور اسے راضي کرلے يا اس طرح ہو کہ اگر اسے قرض کي
مقدار معلوم ہوتي تو پھر بھي وہ اس مقدار پر صلح کرليتا۔
}(٢١٦٣)اگر دو چيزوں پر ايک دوسرے سے صلح کرنا چاہيں جن کي جنس ايک
ہے اور ان کا وزن معلوم ہے تواس صورت ميں صحيح ہوگا جب کہ ايک کا
وزن دوسري سے زيادہ نہ ہو ليکن اگر ان کا وزن معلوم نہ ہو تو اگرچہ
يہ احتمال ہو کہ ايک کا وزن دوسري سے زيادہ ہے تو صلح صحيح ہے۔
}(٢١٦٤)اگر دو آدمي کسي ايک شخص سے قرض خواہ ہوں يا دو آدمي دوسرے
دو آدميوں سے قرض خواہ ہوں اور وہ چاہيں کہ اپنے قرض کي ايک دوسرے
سے مصالحت کريں تو اگر ان کا قرض ايک جنس کا ہو اور ان کا وزن بھي
ايک جيسا ہو مثلاً دونوں دس من گندم کي طلب رکھتے ہوں توان کي صلح
صحيح ہے اور يہي حکم ہے اگر ان کے قرضے ايک جنس نہ ہوں مثلاً ايک
کو دس من گندم اور دوسرے کو بارہ من چاول لينے ہوں ليکن اگر ان کا
قرض ايک جنس کا ہو اور ہوبھي ايسي چيز کہ عموماً اس کا معاملہ وزن
يا پيمانہ سے ہوتاہے تو اگر ان کا وزن يا پيمانہ برابر نہيں توان
کي صلح مشکل ہے۔
}(٢١٦٥)اگر کسي سے قرض لينا ہو جو کہ ايک مدت کے بعد لينا ہوتو اگر
اپنے قرض کي تھوڑي مقدار پر صلح کرلے اور اس کا مقصد يہ ہو کہ
ميںکچھ قرضہ چھوڑوں اور باقي نقد لے لوں تو اس ميں کوئي اشکال
نہيں۔
}(٢١٦٦)اگر دو آدمي کسي چيز پر آپس ميں صلح کرليں تو وہ ايک دوسرے
کي مرضي سے اس صلح کو توڑ سکتے ہيں اور اسي طرح اگر معاملہ کے ضمن
ميں دونوں يا کسي ايک کو معاملہ توڑنے کا حق ديا گيا ہو تو حق
رکھنے والا عقد صلح کو توڑ سکتاہے۔
}(٢١٦٧)جب تک خريدار اور بيچنے والا مجلس معاملہ سے جدانہ ہوں وہ
معاملہ کو توڑ سکتے ہيں اور اسي طرح اگر خريدار کوئي جانور خريدے
تو تين دن تک وہ معاملہ توڑ سکتاہے اور اسي طرح جس جنس کو نقداً
خريدا ہے اگر اس کے پيسے تين دن تک نہ دے اور نہ جنس لے تو بيچنے
والا معاملہ کو توڑ سکتا ہے ليکن جو شخص کسي مال پر صلح کررہا ہے
وہ ان تين صورتوں (خيار حيوان ، خيار مجلس ، خيار تاخير)ميں صلح
توڑنے کا حق نہيں رکھتا۔ البتہ آٹھ صورتوں ميں کہ جو خريد و فروخت
کے احکام ميں بيان کي جاچکي ہيں صلح کو توڑ سکتا ہے۔
}(٢١٦٨)جو چيز صلح ميں لي ہے۔ اگر عيب دار ہو تو وہ صلح کو توڑ
سکتا ہے البتہ صحيح اور عيب دار کي قيمت کا تفاوت نہيں لے سکتا۔
}(٢١٦٩)اگر کسي سے اپنے مال ميں صلح کرے اور اس سے شرط کرے کہ
اگرميرے مرنے کے بعد ميرا کوئي وارث نہ ہوا تو جس چيز ميں ميں نے
صلح کي ہے اسے وقف کردينا اور وہ بھي اس شرط کو قبول کرلے تو اسے
شرط پر عمل کرنا چاہيے۔ |