احکام شرکت

#احکام شرکت :
}(٢١٣٩)اگر دو شخص آپس ميں شراکت کرناچاہيں تو اگر ہر ايک اپنے مال کا کچھ حصہ دوسرے کے مال کے ساتھ اس طرح ملادے کہ ايک کي دوسرے سے تشخيص نہ ہوسکے اور عربي يا کسي اور زبان ميںشرکت کاصيغہ پڑھ ليں يا کوئي اور کام کريں کہ جس سے معلوم ہو کہ ہر ايک دوسرے کا شريک ہونا چاہتا ہے توان کي شرکت صحيح ہے۔
}(٢١٤٠)اگر چند آدمي اپنے کام کي مزدوري ميں ايک دوسرے کے شريک ہوجائيں مثلاً مالش کرنے والے يہ قرار داد پاس کريں کہ جتني مزدوري ليں گے اس کو آپس ميں تقسيم کريں گے تو ان کي شرکت صحيح نہيں۔
}(٢١٤١)اگر دو آدمي ايک دوسرے سے شرکت کريں کہ ہر ايک اپنے اعتبار پر جنس خريدے اور اس کي قيمت ہر ايک اپنے ذمہ لے ليکن جو جنس ہر ايک نے خريدي ہے اس ميں اوراس کے استفادہ ميں ايک دوسرے کے شريک ہوں تو وہ صحيح نہيں البتہ اگر ايک دوسرے کو وکيل کرے کہ وہ جنس اس کے لئے ادھار پر لے اور پھر ہر شريک جنس کو اپنے اور اپنے شريک کے لئے خريدے کہ دونوں مقروض ہوں تو شرکت صحيح ہے۔
}(٢١٤٢) جو اشخاص عقد شرکت ميں شرط کريں کہ جو شخص کام کرتا ہے يا دوسرے شريک کي نسبت زيادہ کام کرتا ہے وہ زيادہ نفع لے گا يا يہ شرط کريں کہ جو شخص کام نہيں کرتا يا تھوڑا سا کام کرتا ہے اسے زيادہ نفع ديا جائے گا تو انہيں اپني شرط پر عمل کرنا چاہئيے۔
}(٢١٤٣)اگر عقد شرکت ميں شرط کريں کہ جو شخص کام کرتا ہے يا دوسرے شريک کي نسبت زيادہ کام کرتا ہے وہ زيادہ نفع لے گا يا يہ شرط کريں کہ جو شخص کام نہيں کرتا يا تھوڑا سا کام کرتا ہے اسے زيادہ نفع ديا جائے گا توا نہيں اپني شرط پر عمل کرنا چاہيے۔
}(٢١٤٤)اگر قراردا دہو کہ تمام نفع ايک ہي شخص لے گا تو صحيح نہيں البتہ اگر يہ قرار دا د ہو کہ تمام ضرر يا اس کي اکثر مقدار ان ميں سے ايک اٹھائے گا تو شرکت اور قرارداد دونوں صحيح ہيں۔
}(٢١٤٥)اگر يہ شرط نہ کريں کہ ايک شريک زيادہ اٹھائے گا تو ان کا سرمايہ برابر ہو تو نفع و نقصان بھي برابر کا ہوگا اور اگر ان کا سرمايہ برابر برابر نہيں تو نفع بھي اس کي نسبت سے انہيں تقسيم کرنا چاہيے مثلاً اگر دو آدمي شرکت کريں اور ايک سرمايہ دوسرے سے دوگنا ہے تو اس کا حصہ بھي نفع و نقصان ميں اس کے حصہ سے دگنا ہوگا چاہے دونوں ايک جيسا کام کريں يا ايک تھوڑا کام کرے يا بالکل کام نہ کرے۔
}(٢١٤٦)اگر عقد شرکت ميں يہ شرط کريں کہ دونوں مل کر خريد و فروخت کريں يا ہر ايک عليحدہ معاملہ کرے يا ان ميں سے صرف ايک ہي شخص معاملہ کرے تو انہيں اپني قرار داد پر عمل کرنا چاہيے۔
}(٢١٤٧)اگر يہ معين نہ کريں کہ کون سرمايہ کے ساتھ خريد و فروخت کرے تو ان ميں سے کوئي بھي دوسرے کي اجازت کے بغير اس سرمايہ سے معاملہ نہيں کرسکتا۔
}(٢١٤٨)وہ شريک کہ سرمايہ شرکت کا اختيار جس کے ہاتھ ميں ہے۔ اسے چاہيے کہ قرار اداد شرکت کے مطابق عمل کرے مثلاً اگر اس سے قرار داد يہ ہے کہ وہ ادھار پر خريدے يا نقد بيچے يا جنس کسي خاص جگہ سے خريدے تو اس کو اس قرار داد پر عمل کرنا چاہيے اور اگر اس سے کوئي قرار داد نہ کي گئي ہو تو اس کو ايسا لين دين کرنا چاہيے جو شرکت کے لئے مضر نہ ہو اور معاملات کو بطور متعارف انجام دے مثلاً اگر معمول يہ ہے کہ نقد بيچے يا مال شرکت سفر ميں ساتھ نہ لے جائے تو وہ اسي طرح عمل کرے اور اگر معمول يہ ہے کہ ادھار پردے يا مال سفر ميں ساتھ لے جائے تو اسي طرح عمل کرسکتاہے۔
}(٢١٤٩)جو شريک سرمايہ شرکت کے ساتھ معاملہ کرتاہے ۔ اگر قرارداد کے خلاف خريد و فروخت کرے اور شرکت کو نقصان پہنچے تو وہ ضامن ہے البتہ اگر اس کے بعد قرار داد کے مطابق معاملہ کرے تو صحيح ہے اور اسي طرح اگر اس کے ساتھ کوئي قرار داد نہ ہوئي ہو اور وہ معمول کے خلاف معاملہ کرے تو ضامن ہوگا اور اگر بعد ميں معمول کے مطابق عمل کرے تو اس کا معاملہ صحيح ہوگا۔
}(٢١٥٠)جو شريک شرکت کے سرمائے سے معاملہ کرتا ہے اگر زيادتي نہ کرے اور سرمايہ کي حفاظت ميں کوتاہي نہ کرے ليکن اتفاقاً اس کا کچھ حصہ يا سارے کا سارا تلف ہوجائے تو وہ ضامن نہيں ہوگا۔
}(٢١٥١)جو شريک شرکت کے سرمائے سے معاملہ کرتاہے اگر کہے کہ سرمايہ تلف ہوگيا ہے اور حاکم شرع کے پاس قسم کھالے تو اس کي بات قبول کرنا پڑے گي۔
}(٢١٥٢)اگر تمام شريک ايک دوسرے کے مال ميں تصرف کي دي ہوئي اجازت سے پھر جائيں تو ان ميں سے کوئي بھي شرکت کے مال ميں تصرف نہيں کرسکتا اور اگر ان ميں سے صرف ايک اپنے اجازہ سے پھر جائے تو دوسرا شريک تصرف کا حق نہيں رکھتاجو اپني اجازت سے پھر گيا ہے وہ تصرف کرسکتا ہے۔
}(٢١٥٣)جس وقت شرکائ ميں سے کوئي ايک تقاضا کرے کہ سرمايہ شرکت کو تقسيم کيا جائے اگرچہ شرکت کي ايک مدت معين ہو تب بھي باقي شرکائ اس کي بات قبول کريں۔
}(٢١٥٤)اگر ايک شريک مرجائے يا ديوانہ يا بے ہوش يا سفيہہ ہوجائے اور حاکم شرع اس کو اپنے مال ميں تصرف کرنے سے روک دے تو دوسرے شرکائ مال شرکت ميں تصرف نہيں کرسکتے۔
}(٢١٥٥)اگر شريک کوئي چيز ادھار پر اپنے لئے خريدے تو نفع و نقصان اس کے اپنے ذمہ ہوگا۔ البتہ اگر شرکت کے لئے خريدے اور دوسرا شريک کہے کہ ميں اس معاملہ پر راضي ہوں تو نفع و نقصان دونوں کا ہوگا۔
}(٢١٥٦)اگر شرکت کے سرمايہ سے معاملہ کرنے کے بعد شرکت کے باطل ہونے کا علم ہوجائے تو اگر صورت حال يہ ہوکہ اگر ان دونوں کو معلوم بھي ہوجاتا کہ شرکت صحيح نہيں ہے پھر بھي ايک دوسرے کے مال ميں تصرف پر راضي رہے تب تو يہ معاملہ صحيح ہے۔اور جو کچھ اس معاملہ سے پيدا ہو وہ سب کا مال ہے اوراگر اس طرح نہ ہو تو اگر وہ لوگ جو دوسروں کے تصرف پر راضي نہيں تھے وہ کہيں کہ ہم اس معاملہ پر راضي ہيں تو معاملہ صحيح ورنہ باطل ہوگا اور بہر صورت جس نے بھي شرکت کے لئے کوئي کام کيا ہے اگر مفت کي نيت سے نہيں کيا تو اپني زحمتوں کي مزدوري معمول کے مطابق باقي شرکائ سے لے سکتا ہے۔ اور اس کا منافع سرمايہ کي نسبت کے حساب سے تقسيم ہوگا۔

 
احکام تقليد احکام طہارت احکام نماز  احکام روزہ
احکام خمس   احکام زکواۃ احکام حج خريد و فروخت کے احکام
احکام شرکت احکام صلح اجارہ (کرايہ )کے احکام احکام جعالہ
احکام مزارعہ مساقات (آبياري )کے احکام وہ اشخاص جو اپنے مال ميں خود تصرف نہيں کرسکتےکے احکام احکام وکالت
قرض کے احکام حوالہ (ڈرافٹ)دينے کے احکام رہن کے احکام ضامن بننے کے احکام
کفالت کے احکام وديعت (امانت)کے احکام عاريتاً دينے کے احکام نکاح (شادي بياہ)کے احکام
طلاق کے احکام غصب کے احکام جو مال انسان پالے اس کے احکام جانوروں کے ذبح اور شکار کرنے کے احکام
کھانے پينے کي چيزوں کے احکام نذر اور عہد کے احکام قسم کھانے کے احکام وقف کے احکام
وصيت کے احکام ميراث کے احکام احکام امر بالمعروف اور نہي عن المنکر دفاع کے مسائل و احکام
خاتمہ کے احکام بعض مسائل جو اس زمانے ميں  مورد حاجت ہيں امام خميني کي خدمت ميں چند جديد سوالات اور ان کے جوابات