خريد و فروخت کے احکام

   مکروہ معاملات
   باطل معاملات
   بيچنے اور خريدنے والے کے لئے شرائط
   جنس اور اس کے عوض کے شرائط
   خريدنے اور بيچنے کا صيغہ
   پھلوںکي خريد و فروخت
   نقد اور ادھار
   معاملہ سلف
   معاملہ سلف کے شرائط
   معاملہ سلف کے احکام
   سونے اور چاندي کو سونے اور چاندي کے مقابلہ ميں بيچنا
   وہ مقامات کہ جہاں انسان معاملہ کو توڑ سکتاہے
   متفرق مسائل

 

   خريد و فروخت کے احکام
وہ چيزيں جو خريد و فروخت ميں مستحب ہيں
}(٢٠٤٨)احکام معاملات کا سيکھنا جتنا کہ مورد احتياج ہوں ضروري ہے اور مستحب ہے کہ بيچنے والا اپنے خريداروں کے درميان جنس کي قيمت ميں فرق نہ کرے اور قيمت جنس ميں زيادہ سختي بھي نہ برتے اور جس شخص نے اس سے کوئي معاملہ کيا ہے ۔ اگر وہ پشيمان ہوجائے اور اس سے يہ تقاضا کرے کہ معاملہ توڑ ديں تو اس کي بات قبول کرے۔
}(٢٠٤٩)اگر کسي کو يہ معلوم نہ ہو کہ جو معاملہ کيا ہے وہ صحيح ہے يا باطل تو جو مال وہ لے چکا ہے۔ اس ميں تصرف نہيں کرسکتا البتہ اگر معاملہ کرتے وقت تواس اس کو احکام معلوم تھے اور معاملہ کے بعد شک کرے تو تصرف کرنے ميں کوئي اشکال نہيں اور معاملہ صحيح ہے۔
}(٢٠٥٠)جس شخص کے پاس مال نہيں اور اخراجات اس پر واجب ہيں مثلا ً بيوي بچے کا خرچہ تو وہ کاروبار کرے اور مستحب کاموں کے لئے مثلا ً اہل و عيال کو وسعت و سہولت دينے اور فقرائ اور مساکين کي مدد کرنے کے لئے کاروبار کرنا مستحب ہے۔
   مکروہ معاملات
}(٢٠٥١)اہم ترين مکروہ معاملات حسب ذيل ہيں:
١۔ جائيداد بيچنا ۔ ٢۔ قصابي کرنا ۔ ٣۔ کفن بيچنا ۔ ٤۔ پست قسم کے لوگوں سے معاملہ کرنا ۔
٥۔ اذان صبح اور طلوع آفتاب کے درميان معاملہ کرنا۔
٦۔ يہ کہ اپنا کاروبارصرف گندم ، جو اور اس قسم کي چيزيں قرار دے۔
٧۔ جو چيز کوئي دوسرا خريد رہا ہے اسے خريدنے کے لئے معاملہ ميں دخل دينا۔
   باطل معاملات
}(٢٠٥٢)چند مقامات پر معاملہ باطل ہے:
١۔ عين نجس کي خريد و فروخت مثلاً پيشاب ، پاخانہ اور مسکرات ، بنابر اقويٰ اور بعض ديگر ميں احتياط واجب کے طور پر اور بيماريوں کے علاج کے لئے خون کي خريد و فروخت جائزہے۔
٢۔ غصبي مال کي خريد و فروخت مگر يہ کہ اس کا مالک اجازت دے دے۔
٣۔ ايسي چيزوں کي خريد و فروخت جو کہ مال نہيں ہيں۔
٤۔ ايسي چيز کا معاملہ کرنا جس کے منافع عادي حرام ہيں مثلاً قمار و موسيقي کے آلات۔
٥۔ وہ معاملہ کہ جس ميں سود ہے اور معاملہ ميں غش کرنا حرام ہے يعني ايسي جنس کا بيچنا کہ جو دوسري جنس سے ملي ہوئي ہو جب کہ وہ چيز معلوم نہ ہو اور بيچنے والا بھي خريدار سے نہ کہے مثلا ً ايسا گھي بيچنا کہ جس ميں چربي ملي ہو اور اس عمل کو غش کہتے ہيں۔ رسول اکرم
۰ سے منقول ہے۔ وہ شخص ہم سے نہيں جو معاملہ ميں مسلمانوں سے غش کرتا ہے يا انہيں ضرر پہنچاتا ہے يا تقلب و فريب کاري کرتا ہے اور جو شخص کسي مسلمان بھائي سے غش کرے خدا وند عالم اس کي روزي سے برکت اٹھاليتا ہے اور اس کي معاش کا دروازہ بند کرديتا ہے اور اسے اس کے اپنے ہي سپرد کرديتا ہے۔
}(٢٠٥٣)ايسي پاک چيز کا بيچنا جوکہ نجس ہوگئي ہے۔ جب کہ اس کا پاک کرنا ممکن ہے کوئي اشکال نہيں رکھتا اور اگر خريدنے والا اس چيز کو کھانا چاہتاہے تو بيچنے والا اسے بتائے کہ يہ نجس ہے۔
}(٢٠٥٤)اگر کوئي پاک چيز نجس ہوجائے کہ جس کا پاک کرنا ممکن نہ ہو مثلاً گھي اور مٹي کا تيل تو اگر مثلاً نجس گھي کھانے کے لئے خريدار کو ديں تو معاملہ باطل اور يہ عمل حرام ہوگا اور اگر کسي ايسے کام کے لئے کہ جس ميںپاک ہونا شرط نہيں مثلا ً مٹي کا تيل اس لئے ليں کہ اسے جلايا جائے تو اس ميں کوئي اشکال نہيں۔
}(٢٠٥٥)ايسي دوائي (کہ جس کي عين شراب کي طرح نجس ہے) کا معاملہ نہ کريں البتہ ايسي دوائي کا معاملہ کرنا کہ جس کي عين نجس نہيں اگر اس کي ضرورت ہو تو کوئي حرج نہيں۔
}(٢٠٥٦)روغن اور بہنے والي دوائياں اور عطريات کہ جو غير اسلامي ممالک سے آتے ہيں۔ اگر ان کا نجس ہونا معلوم نہ ہو توا ن کي خريدو فروخت ميں کوئي اشکال نہيں البتہ وہ تيل جو کسي جانور سے اس کے مرنے کے بعد ليا گيا ہو تو اگر کفار کے شہر ميں کسي کافر کے ہاتھ سے ليں اور وہ ايسے جانور سے ليا گيا ہو کہ اگر اس کي رگ کاٹي جائے تو خون دھار مار کر نکلے تو وہ نجس اور معاملہ بھي باطل ہے بلکہ اگرمسلمانوں کے شہر ميں کافر کے ہاتھ سے ليں توبھي معاملہ باطل ہے مگر يہ کہ انہيں معلوم ہو کہ اس کافر نے مسلمان کے ہاتھ سے ليا ہے۔
}(٢٠٥٧)اگر لومڑي دستور شرعي کے مطابق ذبح نہ کي گئي ہو خود بخود مرگئي ہو تواس کے چمڑے کي خريد و فروخت حرام اور معاملہ باطل ہے۔
}(٢٠٥٨)گوشت چربي اور چمڑہ جو غير اسلامي ممالک سے آتا ہے يا کسي کافر کے ہاتھ سے ليا گيا ہو تو اس کي خريد و فروخت باطل ہے البتہ اگر انسان کو معلوم ہے کہ يہ چيزيں ايسے جانور کي ہيں کہ جسے دستور شرعي کے مطابق ذبح کيا گيا ہے تو ان کي خريد و فروخت ميں کوئي اشکال نہيں۔
}(٢٠٥٩)اس گوشت ، چربي اور چمڑے کي خريد و فروخت ميں اشکال نہيں ہے جو مسلمانوں کے ہاتھ سے ليا گيا ہو اور اسي طرح اگر ان چيزوں ميںسے کوئي ايک مسلمان کے ہاتھ ميں ہو اور جانتا ہو کہ اس مسلمان نے يہ چيز کافرسے لے لي ہے اور احتمال ديں کہ اس نے اس چيز کي تحقيق کي ہے اور بنابر احتياط واجب جانتے ہوں کہ يہ مسلمان اس چيز کے ساتھ پاک چيز کا رفتار کرتا ہے ۔ ليکن اگر جانتا ہو کہ مسلمان نے تحقيق نہيں کي ہے کہ يہ چيز ايسے حيوان کي ہے جو دستور شرع کے مطابق ذبح ہوا ہے يا نہيں تو اس کي خريد و فروخت حرام ہے اور اس کا معاملہ باطل ہے۔
}(٢٠٦٠)مسکرات و نشہ آور چيزوں کي خريد و فروخت حرام اور ان کا معاملہ کرنا باطل ہے۔
}(٢٠٦١)غصبي مال کا بيچنا حرام ہے اور بيچنے والے نے جو رقم خريدار سے لي ہے اسے واپس کردے۔
}(٢٠٦٢)اگر خريدار کي نيت يہ ہو کہ جنس کي قيمت ادا نہيں کروں گا تو معاملہ ميں اشکال ہے۔
}(٢٠٦٣)اگر خريدار چاہتا ہو کہ بعد ميںجنس کي قيمت حرام سے دوں گا اور ابتدائ سے بھي اس کي نيت يہي تھي تو معاملہ ميں اشکال ہے اور اگر ابتدائ سے اس کي نيت يہ نہ تھي تو معاملہ صحيح ہے البتہ جو کچھ دينا ہے وہ مال حلال سے ادا کرے۔
}(٢٠٦٤)آلات لہو و لعب مثلا ً تار و طنبورہ و سارنگي يہاں تک کہ چھوٹے سازوں کي بھي خريد و فروخت حرام ہے۔
}(٢٠٦٥)اگر کوئي ايسي چيز کہ جس سے حلال ميں استفادہ کيا جاسکتا ہے اس نيت سے بيچے کہ اس کو حرام ميںصرف کريں ، مثلا ً انگور اس نيت سے بيچے کہ ان سے شراب تيار کي جائے تو معاملہ حرام اور باطل ہے۔
}(٢٠٦٦)مجسمہ ، صابن اور اس قسم کي چيزيں کہ جن پر مجسمہ بنا ہے کي خريد و فروخت ميںکوئي حرج نہيں۔
}(٢٠٦٧)ايسي چيز کا خريدنا جو قمار بازي ، چوري يا کسي باطل معاملہ سے حاصل کي گئي ہے باطل اور اس مال ميں تصرف کرنا حرام ہے اور اگر کوئي شخص ايسي چيز کو خريد لے تو وہ مالک کو واپس کردے۔
}(٢٠٦٨)اگر وہ گھي کہ جس ميں چربي ملي ہے بيچے تو اگر اس کو معين کرے مثلا ً کہے کہ يہ ايک سير گھي ميں بيچتاہوں تو خريدنے والا معاملہ کو توڑ سکتا ہے اور اگر اسے معين نہ کرے بلکہ ايک سير گھي بيچے اور اس کے بعد ايسا گھي دے کہ جس ميں چربي ملي ہوئي ہے تو خريدنے والا وہ گھي واپس دے کہ خالص گھي کا مطالبہ کرسکتا ہے۔
}(٢٠٦٩)اگر ايسي جنس کي کچھ مقدار جو کہ وزن يا پيمانہ سے بيچي جاتي ہے۔ اسي جنس کي کچھ زيادہ مقدار کے مقابلہ ميںبيچے مثلاً ايک من گندم ڈيڑھ من گندم کے مقابلہ ميں بيچے تو يہ سود اور حرام ہے اورسود کے ايک درہم کا گناہ اس سے کہيں زيادہ ہے کہ ستر مرتبہ کسي اپني محرم سے زنا کرے بلکہ اگر ان دو اجناس ميں سے ايک صحيح سالم اور دوسري عيب دار ہو يا ايک کي جنس اچھي اور دوسري کي خراب ہو يا ايک دوسرے سے قيمت ميںمختلف ہوں اور جتنا دے رہا ہے۔اس سے زيادہ مقدار لے توپھر بھي سود ہے اور حرام ہے مثلاً اگر تانبے کا صحيح ٹکڑا دے اور ٹوٹا ہوا زيادہ تانبہ لے يا اچھے چاول بيچے اور ان کے مقابلہ ميںردي چاول زيادہ لے يا گھڑا ہوا سونا دے اور اس کے مقابلہ ميں اس سے زيادہ سونالے جو گھڑا ہوانہيں ہے تو سود اور حرام ہے۔
}(٢٠٧٠)اگر زيادتي اس جنس سے نہ ہو جو بيچ رہا ہے مثلا ً ايک سير گندم ايک سير گندم اور ايک آنے کے مقابلے ميں بيچے پھر بھي سود اور حرام ہے بلکہ اگر کچھ زيادتي نہ لے ليکن شرط کرے کہ خريدنے والا ميرا فلاں کام کردے توبھي سود اور حرام ہے۔
}(٢٠٧١)جو شخص کم مقدار دے رہا ہے اگر کوئي اور چيز اس کے ساتھ ملا کر اس لحاظ سے دے رہا ہو کہ وہ بيع مثل بمثل سے فرار کرے نہ کہ اس لئے دے رہا ہے کہ زيادہ مقدار کے عوض ميں ہو ، مثلا ايک من اچھي گندم اور ايک رومال کو ڈيڑھ من گھٹيا گندم کے عوض ميں فروخت کرے تو بھي کوئي اشکال نہيں ہے۔
}(٢٠٧٢)اگر کوئي ايسي چيز بيچي جائے کہ جسے ناپ يا اندازہ سے بيچا جاتا ہے مثلاً کپڑا يا ايسي چيز کہ جسے شمار کرکے بيچا جاتا ہے مثلاً اخروٹ يا انڈے وغيرہ اور اس کا عوض زيادہ ليا جائے مثلاً دس انڈے دے کر گيارہ انڈے لے تو اس ميں کوئي اشکال نہيں۔
}(٢٠٧٣)اگرکوئي چيز بعض شہروں ميں وزن يا پيمانہ سے فروخت ہوتي ہے اور دوسرے شہروں ميں شمار کرکے بيچتے ہيں اگر اس شہر ميں کہ جہاں وزن کرکے يا پيمانہ سے بيچي جاتي ہے زيادتي کے ساتھ ليں تو وہ سود اور حرام ہے البتہ دوسرے شہر ميں سود نہيں۔
}(٢٠٧٤)اگر وہ چيز جو بيچ رہا ہے اور اس کا عوض ايک جنس سے نہ ہوں تو ايسے مقام پر زيادہ لينے ميں کوئي اشکال نہيں پس اگر ايک من چاول بيچے اور دو من گندم لے تو معاملہ صحيح ہے۔
}(٢٠٧٥)اگر وہ جنس جو بيچ رہا ہے اور وہ عوض جو لے رہا ہے ۔ ايک ہي چيزسے بنائے گئے ہوں تو معاملہ کرتے وقت زيادہ نہ لے پس اگر ايک سير گھي بيچے اور اس کے عوض ڈيڑھ سير پنير لے تو يہ سود اور حرام ہوگا اور احتياط واجب يہ ہے کہ اگر پختہ پھل کا معاملہ ناپختہ پھل کے ساتھ کرے تو زيادتي نہ لے۔
}(٢٠٧٦)جو اور گندم سود ميں ايک جنس شمار ہوتے ہيںپس اگر ايک من گندم دے اور اس کے مقابلہ ميں ايک من پانچ سير جولے تو سود اور حرام ہوگا اور اسي طرح اگر دس من جو خريد کرے کہ وہ کٹائي کے وقت ١٠ من گندم دے گا تو چونکہ جو نقد لئے تھے اور گندم کچھ مدت کے بعد ديني ہے تو گويا اس نے زيادہ لي ہے لہذا حرام ہے۔
}(٢٠٧٧)اگر مسلمان کسي ايسے کافر سے سود لے جو کہ اسلام کي پناہ ميں نہيں تو کوئي اشکال نہيں اور اسي طرح باپ بيٹا بيوي اور شوہر بھي ايک دوسرے سے سود لے سکتے ہيں۔
   بيچنے اور خريدنے والے کے لئے شرائط:
}(٢٠٧٨)بيچنے اور خريدنے والے ميں چھ چيزيں شرط ہيں۔
١۔ يہ کہ بالغ ہو ۔٢۔ يہ کہ عقلمند ہو
٣۔ حاکم شرع نے انہيں اپنے مال ميں تصرف کرنے سے نہ روکا ہو يا درحال بلوغ بے عقل نہ ہو۔
٤۔ يہ کہ خريدنے اور بيچنے کا قصد رکھتے ہوں تو اگر مثلا ً مزاحاً کہے کہ ميں نے اپنا مال بيچا تو معاملہ باطل ہے۔
٥۔ يہ کہ کسي نے انہيں مجبور نہ کياہو۔
٦۔ يہ کہ جنس اور اس کا عوض جو دے رہے ہيں ان کے مالک ہوں يا مثل باپ دادا کے بچے کے مال کا اختيار ان کے ہاتھ ميں ہو اور ان کے احکام آئندہ مسائل ميں بيان کئے جائيں گے۔
}(٢٠٧٩)نابالغ بچہ کے ساتھ معاملہ کرنا باطل ہے۔ اگرچہ اس کے باپ داد ا نے اسے معاملہ کرنے کي اجازت دے رکھي ہو البتہ اگر مميز ہو اور کسي کم قيمت چيز کا معاملہ کرے جو عام طور پر بچہ کرليتے ہيں توکوئي اشکال نہيں اور اس طرح اگر بچہ صيغہ معاملہ کے اجرائ کے لئے وکيل ہو يا اس معاملہ کے لئے وسيلہ کا حکم رکھتا ہو کہ رقم بيچنے والے کو دے آئے اور جنس خريدار کو پہنچا آئے يا جنس خريدار کو دے اور رقم بيچنے والے تک پہنچائے تو چونکہ واقع ميں دو بالغ اشخاص ايک دوسرے سے معاملہ کررہے ہيں تو يہ معاملہ صحيح ہے۔ البتہ بيچنے والے اور خريدار کو يقين ہو کہ بچہ نے جنس اور رقم اسکے مالک کو پہنچا دي ہے۔
}(٢٠٨٠)اگر نابالغ بچے سے کوئي چيز خريدے يا کوئي چيز اس کے ہاتھ بيچے تو جو جنس يا رقم اس سے لي ہے۔ اس کے مالک کو ادا کرے يا اس کي رضا حاصل کرے اور اگر اس کے مالک کو نہيں پہچانتا اور اس کے پہچاننے کا کوئي ذريعہ بھي اس کے پاس نہيں تو جو چيز بچے سے لي ہے وہ مالک کي طرف سے رد مظالم ميں دے دے البتہ اگر وہ چيز جو اس نے لے لي ہے خود بچے کي ملکيت ہو تو اس کے ولي تک پہنچائے اور اگر وہ نہ مل سکے تو حاکم شرع کو دے دے۔
}(٢٠٨١)جو شخص کسي نابالغ بچہ سے معاملہ کرے اور جو جنس يا رقم بچے کو دي ہے وہ تلف ہوجائے تو بچے يا اس کے ولي سے اس کا مطالبہ نہيں کرسکتا۔
}(٢٠٨٢)اگر خريدار يا بيچنے والے کو کسي معاملہ پر مجبور کريں تو اگر وہ معاملہ کے بعد راضي ہوجائے اور کہے کہ ميں راضي ہوں تو معاملہ صحيح ہے البتہ احتياط مستحب يہ ہے کہ صيغہ معاملہ دوبارہ پڑھيں۔
}(٢٠٨٣)اگر انسان کسي شخص کا مال اس کي اجازت کے بغير بيچ ڈالے تو اگر مالک اس کے بيچنے پر راضي نہيں اور وہ اجازت نہ دے تو معاملہ باطل ہے۔
}(٢٠٨٤) بچے کا باپ دادا اس وقت بچے کے مال کو فروخت کرسکتے ہيں کہ جب اس کے لئے کوئي مفسدہ نہ ہو بلکہ بہتر يہ ہے کہ جب تک اس ميں کوئي مصلحت نہ ہو نہ بيچيں۔ باقي رہے باپ يا دادا کے وصي اور حاکم شرع وہ صرف اس صورت ميں بچے کا مال بيچ سکتے ہيں جب کہ بچے کے لئے اس ميں کوئي مصلحت ہي ہو۔
}(٢٠٨٥)اگر کوئي شخص مال غصب کرکے بيچ دے اور بيچنے کے بعد مالک مال معاملہ کي اپنے لئے اجازت ديدے تومعاملہ صحيح ہے اور احتياط واجب يہ ہے کہ خريدار اور مالک مال جنس اور عوض ميں ايک دوسرے سے مصالحت کريں۔
}(٢٠٨٦)اگر کوئي شخص کسي مال کو غصب کرکے اس قصد سے بيچ دے کہ اس کي رقم ميري ملکيت ہوگي تو اگر مالک مال سے معاملہ کي اجازت نہ دے تو معاملہ باطل ہے اور اگر اس شخص کے لئے اجازت بھي ديدے کہ جس نے غصب کيا ہے تومعاملہ کا صحيح ہونا اشکال رکھتاہے۔
   جنس اور اس کے عوض کے شرائط:
}(٢٠٨٧)جنس کہ جسے بيچتے ہيں اور وہ چيز جواس کے عوض ميں ليتے ہيں ۔ان کي پانچ شرائط ہيں:
١۔ يہ کہ ان کي مقدار وزن پيمانہ اور شمار وغيرہ سے معلوم ہو۔
٢۔ يہ کہ وہ ايک دوسرے کي سپردگي ميں دے سکيں۔ اس بنا پر وہ گھوڑا جو بھاگ گيا ہے اس کا بيچنا صحيح نہيں البتہ کوئي غلام جو بھاگ گيا ہے۔ ايسي چيز سميت جو کہ سپرد کي جاسکتي ہے مثلا ً فرش بيچيں۔ اگرچہ غلام نہ مل سکے تب بھي معاملہ صحيح ہے اور غلام کے علاوہ مشکل ہے۔
٣۔ وہ خصوصيات کہ جو جنس اور اس کے عوض ميں موجود ہيں کہ جن کے ذريعے لوگوں کا ميلان کسي معاملہ ميں مختلف ہوجاتا ہے انہيں معين کرليں۔
٤ ۔ کسي شخص کا اس جنس ميں کوئي حق نہ ہو پس وہ مال جو کسي کے ہاں رہن رکھاگيا ہے وہ اسکي اجازت کے بغير نہيں بيچ سکتا۔اور بنابر احتياط مستحب خود جنس کو بيچے نہ کہ اس کي منفعت کو ۔ پس اگر مکان کي ايک سالہ منفعت کو بيچے تو صحيح نہيں البتہ خريدار رقم کي جگہ کسي جائيداد کي منفعت ديدے مثلا ً کوئي فرش کسي سے خريدے اور اسکے عوض مکان کي ايک سالہ منفعت اس کے لئے واگذار کرے تو کوئي اشکال نہيں۔
}(٢٠٨٨)جس جنس کا معاملہ کسي شہر ميں وزن يا پيمانہ سے ہوتا ہے اس شہر ميں اس چيز کو وزن يا پيمانہ سے خريدے البتہ اسي جنس کا معاملہ جس شہر ميں صرف ديکھنے سے ہوتا ہے وہاں ديکھ کر خريد سکتاہے۔
}(٢٠٨٩)وہ چيز کہ جس کي خريد و فروخت وزن سے ہوتي ہے اس کا معاملہ پيمانہ سے بھي ہوسکتا ہے۔ اسطرح پر کہ اگر مثلاً دس من گندم بيچنا چاہتے ہيں تو ايسے سے جس ميں ايک من گندم آتي ہے دس پيمانے دے ديں ۔
}(٢٠٩٠)اگر ان شرائط ميںسے کوئي ايک شرط معاملہ ميں موجود نہ ہو جو کہ بيان ہوچکي ہيں تو معاملہ باطل ہے البتہ اگر خريدار اور بيچنے والا راضي ہوں کہ ايک دوسرے کے مال ميں تصرف کريں تو کوئي اشکال نہيں۔
}(٢٠٩١)وقف شدہ چيز کا معاملہ کرنا باطل ہے البتہ اگر مال وقف اس طرح خراب ہوجائے کہ جس مقصد کے لئے اسے وقف کيا گيا تھا اس ميں اس سے استفادہ نہيں کرسکتے مثلاًمسجد کي چٹائي اس طرح پھٹ گئي ہے کہ اب اس کے اوپر نماز نہيں پڑھ سکتے تو اس کے بيچنے ميں کوئي اشکال نہيں اور اگر ممکن ہو تو اس چٹائي کي رقم اسي مسجد ميں ايسي جگہ صرف کريں کہ جو وقف کرنے والے کے مقصود کے نزديک تر ہو۔
}(٢٠٩٢)جب ان اشخاص کے درميان اس قسم کا اختلاف ہوجائے کہ جن کے لئے مال وقف ہوا ہے کہ اگر مال وقف کو نہ بيچا گيا تو مال يا جان کے تلف ہونے کا گمان ہے تو اس مال کو بيچ کر ايسے مصرف ميں لے آئيں جو وقف کرنے والے کے مقصد کے زيادہ قريب ہو۔
}(٢٠٩٣)ايسي جائيداد کو بيچنا يا خريدنا کہ جو کسي کو کرايہ پر دي گئي ہے کوئي اشکال نہيں رکھتا البتہ کرايہ کي مدت ميں اس سے استفادہ صرف کرايہ دار ہي کرسکے گا اور اگر خريدار کو يہ علم نہ ہو کہ يہ جائيداد کرايہ پر دي گئي ہے يا اس گمان سے اس جائيداد کو خريدا تھا کہ اسکے کرايہ کي مدت تھوڑي ہے تو مطلع ہونے کے بعد وہ معاملہ کو توڑ سکتا ہے۔
   خريدنے اور بيچنے کا صيغہ :
}(٢٠٩٤)خريد و فروخت ميں ضروري نہيں کہ عربي ميںصيغہ پڑھا جائے مثلا ً اگر بيچنے والا فارسي زبان ميں کہے کہ ميں يہ مال اس رقم ميں بيچتا ہوں اور خريدنے والا کہے کہ ميں قبول کرتا ہوں تو معاملہ صحيح ہے البتہ خريدار اور بيچنے والا قصد انشائ رکھتے ہوں يعني ان دو جملوں کے کہنے سے ان کا مقصد خريد و فروخت ہو۔
}(٢٠٩٥)اگر معاملہ کرتے وقت صيغہ نہ پڑھيں ليکن بيچنے والا اس مال کے مقابلہ ميں جو خريدار سے لے رہا ہے ۔ اپنا مال اس کي ملکيت ميں ديدے اور وہ لے لے تو معاملہ صحيح ہے اور ان ميں سے ہر ايک مالک ہوجائے گا۔
   پھلوںکي خريد و فروخت :
}(٢٠٩٦)ايسے پھل کا بيچنا کہ جس کے پھول گر چکے ہوں اور دانے پڑ گئے ہوں اس طرح کہ عادۃ يہ آفت سے نکل چکا ہو توڑنے سے پہلے اسے بيچنا صحيح ہے اور اسي طرح کچے پھلوں کو جبکہ درخت کے اوپر ہوں۔ بيچنا کوئي اشکال نہيں رکھتا۔
}(٢٠٩٧)اگر اس پھل کو بيچنا چاہيں جو کہ درخت پر لگا ہے اور ابھي تک اس کے پھول نہيں گرے تو ضروري ہے کہ زمين کے محصولات ميں سے کسي چيز کو جو عليحدہ بيچي جاسکتي ہو مثال کے طور پر سبزي کے مانند اس کے ساتھ بيچيں يا ميوے ايک سال سے زيادہ کے لئے فروخت کريں۔
}(٢٠٩٨)اگرکھجور درخت کے اوپر ہيں جب کہ وہ زرد يا سرخ ہوجائيں بيچ دئے جائيں تو کوئي اشکال نہيں البتہ ان کا عوض کھجور نہ قرار پائيں۔ ہاں اگر کسي کے گھر يا باغ ميں کسي کا کھجور کا درخت ہے جب اس کي مقدار کا اندازہ لگايا جائے اور درخت کا مالک اسے مالک مکان يا مالک باغ کے ہاتھ بيچ دے اور اسکے عوض کھجوريں لے لے تو اگر وہ کھجوريں جو لي ہيں، اندازہ شدہ مقدار سے کم يا زيادہ نہ ہوں تو کوئي اشکال نہيں۔
}(٢٠٩٩)کھيرا، بينگن ، سبزياں اور اس قسم کي چيزوں کو بيچنا کہ جو سال ميں کئي دفعہ توڑي جاتي ہيں جب کہ وہ ظاہر و نماياں ہوں اور تعين بھي کرليا جائے کہ خريدنے والا سال ميں کتني بار توڑے گا تو کوئي اشکال نہيں۔
}(٢١٠٠)اگر گندم و جو کے خوشہ کو دانہ لگ جانے کے بعد گندم و جو کے علاوہ کسي چيز سے بيچ ديا جائے تو کوئي اشکال نہيں۔
   نقد اور ادھار
}(٢١٠١)اگر کوئي جنس نقد بيچيں تو خريدار اور بيچنے والا معاملہ کے بعد ايک دوسرے سے جنس اور رقم کا مطالبہ کرسکتے ہيں اور اپني اپني تحويل ميں لے سکتے ہيں اور تحويل کا معني زمين اور اس قسم کي چيزوں ميں يہ ہے کہ وہ خريدار کے اختيار ميں دے دي جائيں تاکہ وہ اس ميں تصرف کرسکے اور فرش و لباس وغيرہ کي تحويل يہ ہے کہ وہ خريدار کے اختيار ميں اس طرح دے دئے جائيں کہ اگر وہ انہيں کسي دوسري جگہ لے جانا چاہے تو بيچنے والا مانع نہ بنے۔
}(٢١٠٢)معاملہ نسيہ (ادھار)ميں مدت پوري طور پر معلوم ہو پس اگر کوئي جنس بيچے کہ کٹائي کے وقت اس کي قيمت لے گا چونکہ مدت پورے طور پر معين نہيںہوئي لہذا معاملہ باطل ہے۔
}(٢١٠٣)اگر کوئي جنس نسيہ(ادھار)کے طور پر بيچے تو مقرر شدہ مدت سے پہلے خريدار سے اس کے عوض کامطالبہ نہيں کرسکتاالبتہ اگر خريدارمر جائے اور اس کا کچھ مال ہو تو پھر بيچنے والا مدت تمام ہونے سے پہلے اپنے ادھار کا مطالبہ ورثائ سے کرسکتا ہے۔
}(٢١٠٤)اگر کوئي جنس ادھار پر لے تو مقرر شدہ مدت کے پورے ہونے کے بعد خريدار سے اس کے عوض کا مطالبہ کرسکتا ہے البتہ اگر خريدار نہيں دے سکتا تواس کو مہلت دے دي جائے۔
}(٢١٠٥)جو شخص کسي جنس کي قيمت نہيں جانتا اگر اسے کچھ مقدار ادھار پر ديدے اور اسے قيمت نہ بتائے تو معاملہ باطل ہے البتہ اگر ايسے شخص کو ادھار پر دے جو جنس کي نقد قيمت کو جانتا ہے اور مہنگا حساب رکھے مثلاً کہے کہ جو جنس ميں تمہيں ادھار پر دے رہا ہوں۔ روپے ميں سے ايک آنہ کي نسبت زيادہ لوں گا اور وہ قبول کرلے تو اس ميں کوئي اشکال نہيں۔
}(٢١٠٦)جو شخص کوئي جنس ادھار پر ديدے اور اس کي رقم لينے کے لئے ايک مدت معين کرلے تو اگر مثلاً آدھي مدت گزرنے کے بعد اپنے قرض کي کچھ مقدار کم کرے اور باقي نقد لے لے تو کوئي اشکال نہيں۔
   معاملہ سلف:
}(٢١٠٧)سلف والا معاملہ يہ ہے کہ خريدنے والا رقم ادا کرے کہ ايک مدت کے بعد جنس تحويل ميں لے گا اور اگر کہے کہ يہ رقم ديتا ہوں کہ مثلاً چھ ماہ کے بعد فلاں جنس لوں گا اور بيچنے والا کہے ميں قبول کرتا ہوں يا بيچنے والا رقم وصول کرے اور کہے کہ فلاں جنس بيچتا ہوں کہ جو چھ ماہ کے بعد تحويل ميں دوں گا تو معاملہ صحيح ہے۔
}(٢١٠٨)اگر کچھ رقم بطور سلف بيچے اور اسکے عوض ميں رقم وصول کرے تو معاملہ باطل ہے البتہ اگر کوئي جنس بطور سلف بيچے اور اس کا عوض کوئي دوسري جنس يا رقم لے لے تو معاملہ صحيح ہے اور احتياط مستحب يہ ہے کہ اس جنس کے عوض جو کہ بيچي ہے رقم لے اور دوسري جنس نہ لے۔
   معاملہ سلف کے شرائط:
}(٢١٠٩)معاملہ سلف کي چھ شرائط ہيں:
١۔ وہ خصوصيات کہ جن کي وجہ سے قيمت جنس ميں فرق پڑجاتا ہے انہيں معين کرليں البتہ زيادہ دقت کرنے کي بھي ضرورت نہيں بس اتني مقدار کافي ہے کہ لوگ کہيں کہ فلا ں چيز کي خصوصيات معلوم ہوچکي ہيں۔
پس معاملہ سلف روٹي گوشت اور جانور کے چمڑے وغيرہ ميں جب کہ ان خصوصيات کو اس طرح معين نہ کرسکيں کہ خريدنے والے کے لئے اس کي جہالت ختم ہوجائے اور معاملہ غرري ہوجائے (دھوکے والا رہے) تو باطل ہے۔
٢۔ اس سے پہلے کہ خريدار اور بيچنے والا ايک دوسرے سے جدا ہوں خريدنے والا پوري قيمت بيچنے والے کو دے دے يا اگر اتني مقدار رقم اس کو بيچنے والے سے ليني ہو تو اس صورت ميں بہتر يہ ہے کہ بيچنے والا جنس کي رقم خريدنے والے کے ذمہ قرار دے پھر خريدنے والے بيچنے والے سے جو کچھ لينا ہے وہ جنس کي رقم کے عنوان سے جو اس کے ذمہ ہے شمار کرلے اور اگر اس کي قيمت کا کچھ حصہ دے دے تو اگرچہ معاملہ اتني مقدار ميں صحيح ہے ليکن بيچنے والا اتني مقدار کے معاملہ کو توڑ سکتا ہے۔
٣۔ مدت پورے طور پر معين ہولہذا اگر مثلاً کہے کہ کٹائي کي ابتدائ تک ميںجنس تيري تحويل ميں دے دوں گا تو چونکہ مدت پورے طور پر معلوم نہيں ہوئي اس لئے معاملہ باطل ہے۔
٤۔ تحويل جنس کے لئے ايسا وقت معين کريں کہ جس وقت اس جنس کا کچھ نہ کچھ حصہ موجود ہوتا ہو اور يہ اطمينان ہو کہ وہ جنس ياناب نہيںہوگي۔
٥۔ اس کے وزن اور پيمانہ کو معين کريں اور وہ جنس کہ جس کا معاملہ ديکھ کر کياجاتا ہے اگر بطور سلف بيچيں تو اس ميں کوئي اشکال نہيں بشرطيکہ وہ مثل بعض اخروٹوں کے ہو کہ جس کے افراد کا اختلاف اتنا کم ہو کہ لوگوں کي نظروں ميںاہميت نہ رکھتا ہو۔

   معاملہ سلف کے احکام:
}(٢١١٠)جو جنس انسان نے ادھار پرلي ہے مدت پوري ہونے سے پہلے اسے نہيں بيچ سکتا اور مدت کے ختم ہونے کے بعد اگرچہ وہ جنس اس کي تحويل ميں نہ آئي ہو اسکے بيچنے ميں کوئي اشکال نہيں۔
}(٢١١١)معاملہ سلف ميںاگر بيچنے والا قرارداد کے مطابق جنس ديدے توخريدار کو چاہيے کہ قبول کرلے اور اسي طرح اگر قرار داد سے بہتر دے يعني وہ تمام اوصاف کچھ زيادتي کے ساتھ ہوں تو بھي خريدنے والا قبول کرلے اور اس طرح نہ ہو تو ضروري نہيں کہ قبول کرے مثلاً اس نے جاہل غلام خريداہو اور بيچنے والا عالم ديدے ۔
}(٢١١٢)بيچنے والا جو جنس دے رہا ہو وہ قرار داد سے پست ہو تو خريدنے والے کو حق ہے کہ قبول نہ کرے۔
}(٢١١٣)اگر بيچنے والا قرار داد کے علاوہ کوئي اور جنس ديدے جبکہ خريدنے والا راضي ہوجائے تو اشکال نہيں۔
}(٢١١٤)جو جنس بطور سلف بيچي ہے اگر تحويل ميں دينے کے وقت ناياب ہوجائے اور اسے مہيا نہ کرسکے تو خريدنے والے کو اختيار ہے۔ چاہے تو صبرکرے يہاں تک کہ وہ مہيا کرے يا معاملہ کو توڑ دے اور جو چيز دے چکا ہے وہ واپس لے لے۔
}(٢١١٥)اگر کوئي جنس بيچے اور يہ قرارداد کرے کہ ايک مدت کے بعد تحويل ميں دے گا اور رقم بھي ايک مدت کے بعد لے گا تو معاملہ باطل ہے۔
   سونے اور چاندي کو سونے اور چاندي کے مقابلہ ميں بيچنا:
}(٢١١٦)اگر سونا سونے کے مقابلہ اور چاندي چاندي کے مقابلہ ميں بيچے خواد دونوں سکہ دار ہوں يا بغير اس کے تو اگر ايک کا وزن دوسرے سے زيادہ ہو تو معاملہ حرام اور باطل ہے۔
}(٢١١٧)اگر سونا چاندي کے مقابلہ ياچاندي سونے کے مقابلہ ميں بيچے تو معاملہ صحيح ہے اور ضروري نہيں کہ ان کا وزن برابر ہو۔
}(٢١١٨)اگر سونے يا چاندي کو سونے کے بدلے بيچيں تو بيچنے والا اور خريدار ايک دوسرے سے جدا ہونے سے پہلے جنس اور اس کا عوض ايک دوسرے کي تحويل ميں دے ديں اور اگر مقرر شدہ کي کچھ مقدار بھي تحويل ميں دي گئي تو معاملہ باطل ہے۔
}(٢١١٩)اگر بيچنے والا يا خريدنے والا تو تمام وہ چيز تحويل ميں دے دے جو کہ مقرر کي گئي تھي ليکن دوسرا کچھ مقدار تحويل ميں دے اور ايک دوسرے سے جدا ہوجائيں تو اگرچہ اس مقدار کا معاملہ صحيح ہے ليکن جس شخص کے ہاتھ ميںپورا مال نہيں آيا وہ معاملہ کو توڑ سکتا ہے۔
}(٢١٢٠)اگر معدني چاندي کي مٹي ايک خاص مقدار چاندي کے مقابلہ ميں يا معدني سونے کي مٹي ايک مقدار خاص سونے کے مقابلہ ميںبيچي جائے تو معاملہ باطل ہے البتہ چاندي کي مٹي کا سونے کے مقابلے ميںيا سونے کي مٹي کا چاندي کے مقابلہ ميں بيچنا کوئي اشکال نہيں رکھتا۔
   وہ مقامات کہ جہاں انسان معاملہ کو توڑ سکتاہے :
}(٢١٢١)معاملہ کے توڑ دينے کے حق کو خيار کہتے ہيں۔ خريدنے والا اور بيچنے والا گيارہ صورتوں ميں معاملے کو توڑ سکتا ہے:
١۔ يہ کہ مجلس معاملہ سے جدا نہ ہوئے ہوں اس خيار کو خيار مجلس کہتے ہيں۔
٢۔ يہ کہ مغبون ہوگئے ہوں يعني وہ دھوکا کھا گئے ہوں اسے خيار غبن کہتے ہيں۔
٣۔ معاملے ميں يہ قرار داد ہوئي ہو کہ معين مدت تک دونوں يا ان ميں سے کوئي ايک معاملہ کو توڑ سکتا ہے، اسے خيارِ شرط کہتے ہيں۔
٤۔ يہ کہ بيچنے والا يا خريدنے والا اپنے مال کي اس کي حيثيت سے زيادہ تعريف کرے اور اس طرح پيش کرے کہ اس مال کي قيمت لوگوں کي نظروں ميں زيادہ ہوجائے اسے خيار تدليس کہتے ہيں۔
٥۔ يہ کہ بيچنے والا يا خريدنے والا شرط کرے کہ فلاں کام انجام دينا يا يہ شرط کرے کہ جو مال دے رہا ہے وہ خاص طرح کا ہو اور وہ اس شرط پر عمل نہ کرے تو اس صورت ميں دوسرا معاملہ کو توڑ سکتا ہے اسے خيارِ تخلف شرط کہتے ہيں۔
جنس يا اس کے عوض ميں کوئي عيب ہو۔ اسے خيارِ عيب کہتے ہيں۔
٧۔ معلوم ہوجائے کہ جو جنس بيچي گئي ہے اس کا کچھ حصہ کسي اور کا مال تھا تو اگر اس مال کا مالک اس معاملہ پر راضي نہ ہو تو خريدنے والا معاملے کو توڑ سکتا ہے ۔ يا يہ کہ اتني مقدار کي رقم بيچنے والے سے واپس لے لے اور اسي طرح اگر معلوم ہوجائے کہ خريدار نے جس چيز کو عوض قرار ديا ہے۔ اس کي کچھ مقدار کسي دوسرے شخص کي ہے اور اس کا مالک راضي نہيں تو بيچنے والا معاملہ کو يہاں بھي توڑ سکتا ہے يا يہ کہ اس مقدار کا عوض خريدار سے لے لے۔ اس کو خيار شرکت کہتے ہيں۔
٨۔ بيچنے والا جنس معين کي خصوصيات بيان کرے کہ جس کے خريد نے والے نے اس کو نہ ديکھا ہو اور بعد ميں معلوم ہو کہ جو خصوصيات اس نے بيان کي تھيں وہ اس ميں نہيں ہيں تو اس صورت ميں خريدنے والا معاملے کو توڑ سکتا ہے اور اسي طرح اگر خريد نے والا عوض کي خصوصيات بيان کرے اور بعد معلوم ہو کہ وہ چيزيں اس ميں نہيں تھيں بيچنے والا اس صورت ميں معاملے کو توڑ سکتا ہے اور اسے خيار روئت کہتے ہيں۔
٩۔ خريدنے والا اس جنس کي رقم کو جسے نقد خريدا ہے تين دن نہ دے اور بيچنے والا بھي جنس اس کي تحويل ميں نہ دے تو اگر خريدنے والے نے يہ شرط نہ کي ہو کہ رقم دينے ميں تاخير کي جائے گي اور جنس کي تاخير کي شرط بھي کي گئي ہو تو بيچنے والا معاملہ کو توڑ سکتاہے ۔ البتہ اگر وہ جنس جو خريدي ہے مثلاً بعض پھلوں ميں سے ہے کہ اگر ايک دن تک رہ جائے تو وہ ضائع ہوجائے گي تو اگر رات تک اس کي رقم نہ دے اور يہ شرط بھي نہ کي ہو کہ رقم کے دينے ميں تاخير کي جائے گي اور تاخير جنس کي شرط بھي نہ کہ گئي ہو تو بيچنے والا معاملہ کو توڑ سکتاہے اور اسے خيار تاخير کہتے ہيں۔
١٠۔ اگر کوئي جانور خريدے تو خريدنے والے کو تين دن تک معاملہ توڑنے کا حق ہے اور اسے خيار حيوان کہتے ہيں۔
١١۔ اگر بيچنے والا بيچي ہوئي جنس کو تحويل ميں نہ دے سکے مثلاً بيچا ہوا گھوڑا بھاگ جائے تو اس صورت ميں خريدنے والا معاملہ توڑ سکتا ہے اور اسے خيار تعذر تسليم کہتے ہيں اور ان کے احکام آئندہ مسائل ميں بيان کئے جائيں گے۔
}(٢١٢٢)اگر خريدار کو جنس کي قيمت معلوم نہ ہو يامعاملہ کرتے وقت غفلت کي ہو اور جنس عادي قيمت سے مہنگي خريدي ہو تو اگر اتني مہنگي خريدي ہو کہ لوگ اسے مغبون سمجھيں اور اتني کمي يازيادتي کو اہميت ديتے ہوں تو وہ معاملہ کو توڑ سکتا ہے اور اسي طرح بيچنے والے کو جنس کي قيمت معلوم نہ ہو يامعاملہ کرتے وقت وہ غفلت برتے اور جنس کو اس کي قيمت سے ارزاں بيچ ڈالے تو اگر لوگ اس کے اتنے ارزاں بيچنے کو اہميت ديتے ہوں اور اسے مغبون سمجھتے ہوں تو وہ معاملہ کو توڑ سکتا ہے۔
}(٢١٢٣)معاملہ بيع شرط ميں کہ مثلاً ہزار روپے کي قيمت والا مکان دو سو روپے ميں بيچا ہے اور يہ بات طے ہوئي ہو کہ اگر بيچنے والا فلاں وقت رقم ديدے تو معاملے کو توڑ سکتا ہے تو اگر خريدار اور بيچنے والا خريد و فروخت کا قصد، رکھتے تھے تو معاملہ صحيح ہے۔
}(٢١٢٤)معاملہ بيع شرط ميں اگرچہ بيچنے والے کو يہ اطمينان ہو کہ باوجوديکہ وقت معين پر وہ رقم نہ ادا کرے خريدنے والا ملک اسے دے دے گا تو معاملہ صحيح ہے البتہ اگر وقت معين پر اس نے رقم نہ دي تو اسے کوئي حق نہيں کہ خريدار سے ملک کا مطالبہ کرے اور اگر خريدار مر جائے تو اس ملک کا مطالبہ اس کے ورثا سے نہيں کرسکتا ۔
}(٢١٢٥)اگر عمدہ چائے ردي سے ملا کر عمدہ چائے کے نام پر بيچے تو خريدار معاملہ کو توڑ سکتا ہے۔
}(٢١٢٦)اگر خريدار کو يہ علم ہوجائے کہ جو مال خريدا ہے وہ عيب دار ہے مثلاً کوئي جانور خريدا ہے اور اسے معلوم ہوا ہے کہ وہ ايک آنکھ سے اندھا ہے تو اگر وہ عيب معاملہ کرنے سے پہلے اس مال ميں موجود تھا اور اسے معلوم نہيں تھا تو اسے اختيار ہے کہ اس معاملہ کو توڑ دے يا صحيح و سالم اور عيب دار کي قيمت کے فرق کو واپس لے لے مثلاً کوئي مال چار روپے پر خريدا ہے اگر اسے معلوم ہوجائے کہ يہ عيب دار ہے تو اگر اس کے صحيح سالم کي قيمت آٹھ روپے اور عيب دار کي قيمت چھ روپے ہے تو چونکہ صحيح سالم اور عيب دار کي قيمت کا فرق ايک چار کا ہے تو جو رقم اس نے دي ہے اس کا چوتھا حصہ يعني ايک روپيہ واپس لے لے۔
}(٢١٢٧)اگر بيچنے والے کو علم ہوجائے کہ جو عوض ميں نے ليا ہے وہ عيب دار ہے تو اگر وہ عيب معاملہ کرنے سے پہلے اس عوض ميں تھا اور اس کو معلوم نہيں تھا تو اسے اختيار ہے کہ معاملہ کو توڑ دے يا صحيح و سالم اور عيب دار کي قيمت ميں جو تفاوت ہے اس دستور کے مطابق جو گزشتہ مسئلہ ميں بيان ہوچکا ہے لے لے۔
}(٢١٢٨)اگر معاملہ کے بعد اور مال کے تحويل ميں لينے سے پہلے اس ميں کوئي عيب پيدا ہوجائے تو خريدار معاملہ کو توڑ سکتا ہے اور اسي طرح اگر عوض مال ميں معاملہ کے بعد اور تحويل سے پہلے کوئي عيب پيد اہوجائے تو بيچنے والا معاملے کو توڑ سکتا ہے اور اگر تفاوت قيمت لينا چاہے تو مشکل ہے۔
}(٢١٢٩)اگر معاملہ کے بعد مال کا عيب اسے معلوم ہوجائے اور يہ فوراً معاملہ کو نہ توڑے تو پھر اس کو توڑنے کا حق نہيں رکھتا۔
}(٢١٣٠)اگر جنس خريدنے کے بعد اس کا عيب معلوم ہوجائے تو اگرچہ بيچنے والا موجود نہ ہو يہ معاملہ کو توڑ سکتا ہے۔
}(٢١٣١)چار صورتيں ايسي ہيں کہ جہاں اگر خريدار کومعلوم ہوجائے کہ مال ميں عيب ہے تو نہ وہ معاملہ کو توڑ سکتا ہے اور نہ تفاوت قيمت لے سکتا ہے۔
١۔ يہ کہ خريدتے وقت اسے معلوم ہو مال عيب دار ہے۔
٢۔ عيب دار مال پر راضي ہوجائے۔
٣۔ معاملہ کرتے وقت کہے کہ اگر مال ميں عيب ہوا تو واپس نہيں دوں گا اور تفاوت قيمتي بھي نہيں لوں گا۔
٤۔ بيچنے والا معاملہ کرتے وقت کہے يہ مال چاہے اس ميں کوئي عيب ہو بيچتا ہوں البتہ اگر عيب کو معين کرے اور کہے مال کو اس عيب کے ہوتے ہوئے بيچتا ہوں اور معلوم ہو کہ اس ميں دوسرا عيب بھي ہے توخريدار کو اختيار ہے کہ اس عيب کي وجہ سے جو کہ بيچنے والے نے معين نہيں کيا۔ مال کو واپس کردے يا تفاوت قيمت لے لے۔
}(٢١٣٢)تين صورتيں ايسي ہيں کہ اگر خريدار کومعلوم ہوجائے کہ مال عيب دار ہے تو بھي وہ معاملہ کو نہيں توڑ سکتا البتہ قيمت کا تفاوت لے سکتا ہے۔
١۔ يہ کہ معاملہ کے بعد مال ميں ايسا تغير کردے کہ لوگ کہيں کہ جس طرح خريدا اور تحويل ميں ديا گيا تھا۔ ويسے باقي نہيں رہا۔
٢۔ معاملہ کے بعد معلوم ہو کہ مال ميں عيب ہے اور اس نے صرف واپس کرنے کے حق کو ساقط کيا تھا۔
٣۔ مال کو تحويل ميں لينے کے بعد کوئي اور عيب اس ميں پيدا ہوجائے البتہ اگر عيب دار جانور خريدے اور تين دن گزرنے سے پہلے اس ميں کوئي اور عيب پيد اہوجائے تو اگرچہ اس کو تحويل ميں لے چکا ہو پھر بھي اسے واپس کرسکتا ہے اور اسي طرح اگر صرف خريدارنے ايک مدت تک معاملہ کے توڑنے کا حق لياہو اور اس مدت ميں مال ميں کوئي اور عيب پيدا ہوجائے تو اگرچہ اس کو تحويل ميں لے چکا ہو پھربھي معاملہ کو توڑسکتا ہے۔
}(٢١٣٣)اگر انسان کا کوئي ايسامال ہو کہ جسے اس نے خود نہيں ديکھا اور کسي دوسرے شخص نے اس کي خصوصيات اس کے سامنے بيان کي ہوں۔ اب اگر اس نے وہي خصوصيات خريدنے والے سے بيان کي ہيں اور اسے بيچ ديا ہے اور اسکے بعد معلوم ہوا کہ وہ اس سے بہتر تھا تو وہ معاملہ کو توڑ سکتاہے۔
   متفرق مسائل :
}(٢١٣٤)اگر بيچنے والا جنس کي قيمت خريد، خريدنے والے کو بتائے تو اس کو وہ تمام چيزيں بھي بيان کرے کہ جن کي وجہ سے مال کي قيمت کم يا زيادہ ہوتي ہے ۔ چاہے کہ اسي قيمت پر بيچے يااس سے کم قيمت پر بيچے مثلاً وہ بتائے کہ نقد خريدي تھي ياادھار۔
}(٢١٣٥)اگر انسان کوئي جنس کسي کو دے اور اس کي قيمت معين کرے اور کہے کہ يہ جنس اس قيمت پر بيچو اور اس سے زيادہ جتني قيمت لو گے وہ تمہاري ہوگي اگر دلال اس قيمت کو بعنوان قيمت خريد نہ کہے توجتني بھي زيادہ قيمت لے وہ دلال کي ہوگي اور اسي طرح اگر کہے کہ يہ جنس ميں نے اتني قيمت پر تيرے ہاتھ بيچي ہے اور وہ کہے ميں نے قبول کي ہے يا بيچنے کي نيت سے کوئي چيز اس کو دے اور وہ بھي خريدنے کي نيت سے لے لے تو اس قيمت سے جتني زيادہ قيمت پر بيچے وہ اس کا اپنا مال ہوگا۔
}(٢١٣٦)اگر قصاب نر جانور کا گوشت بيچے اور اسکي جگہ مادہ کا گوشت ديدے تو گناہ گار ہوگا ۔ پس اگر اس گوشت کو معين کرتے ہوئے کہے کہ يہ نر جانور کا گوشت بيچتا ہوںتو خريدار کو اختيار ہے کہ معاملہ توڑ دے اور اگر اسے معين نہيں کيا تو اگر خريدنے والا لئے ہوئے گوشت پر راضي نہ ہو تو قصاب کو چاہيے کہ نر کا گوشت ديدے۔
}(٢١٣٧)اگر خريدار کپڑا فروش سے کہے کہ ايسا کپڑا چاہيے کہ جس کا رنگ زائل نہ ہو اور کپڑا فروش ايسا کپڑا دے کہ جس کا رنگ زائل ہوجائے تو خريدنے والا معاملہ کو توڑ سکتا ہے۔
}(٢١٣٨)معاملہ کرتے وقت قسم کھانا اگر سچي ہو تو مکروہ اور اگر جھوٹي ہو تو حرام ہے۔

 
احکام تقليد احکام طہارت احکام نماز  احکام روزہ
احکام خمس   احکام زکواۃ احکام حج خريد و فروخت کے احکام
احکام شرکت احکام صلح اجارہ (کرايہ )کے احکام احکام جعالہ
احکام مزارعہ مساقات (آبياري )کے احکام وہ اشخاص جو اپنے مال ميں خود تصرف نہيں کرسکتےکے احکام احکام وکالت
قرض کے احکام حوالہ (ڈرافٹ)دينے کے احکام رہن کے احکام ضامن بننے کے احکام
کفالت کے احکام وديعت (امانت)کے احکام عاريتاً دينے کے احکام نکاح (شادي بياہ)کے احکام
طلاق کے احکام غصب کے احکام جو مال انسان پالے اس کے احکام جانوروں کے ذبح اور شکار کرنے کے احکام
کھانے پينے کي چيزوں کے احکام نذر اور عہد کے احکام قسم کھانے کے احکام وقف کے احکام
وصيت کے احکام ميراث کے احکام احکام امر بالمعروف اور نہي عن المنکر دفاع کے مسائل و احکام
خاتمہ کے احکام بعض مسائل جو اس زمانے ميں  مورد حاجت ہيں امام خميني کي خدمت ميں چند جديد سوالات اور ان کے جوابات