|
احکام زکواۃ
}(١٨٥٠) نو چيزوں پر زکواۃ واجب ہے۔
١۔ گندم ٢۔ جو ٣۔ کھجور ٤۔ کشمش ٥۔ سونا
٦۔ چاندي ٧۔ اونٹ ٨۔ گائے ٩۔ بھيڑ بکري۔
اگر کوئي شخص ان نو چيزوں ميں سے کسي ايک کا مالک ہو تو ان شرائط
کے ساتھ جو بعد ميں بيان ہوں گے معين شدہ مقدار مقرر شدہ مصارف ميں
سے کسي ايک مصرف ميں صرف کرے۔
}(١٨٥١)سلت : جو ايک قسم کے دانے ہيں جن ميں گندم کي نرمي اور جوکي
خاصيت پائي جاتي ہے ان پر زکواۃ واجب نہيں البتہ الس کو گندم کي
طرح ہوتي ہے اور صنعا کے لوگوں کي خوراک ہے احتياط واجب يہ ہے کہ
اس کي زکواۃ دي جائے۔
زکواۃ کے واجب ہونے کے شرائط
}(١٨٥٢)زکواۃ اس صورت ميں واجب ہوگي جب مال نصاب کي مقدار ہو جو
بعد ميں بيان کيا جائے گا اور اس مال کا مالک بالغ، عاقل اور آزاد
ہو اور اس مال ميں تصرف بھي کرسکتا ہو۔
}(١٨٥٣) بعد اس کے کہ انسان بارہ مہينے گائے، بھيڑ ، بکري، اونٹ،
سونے اور چاندي کا مالک رہا ہو تو ان کي زکواۃ ادا کرے ۔ البتہ
بارہويں مہينے کي ابتدائ سے کوئي ايسا تصرف مال ميں نہيںکرسکتا کہ
جس کي وجہ سے مال ختم ہوجائے اور اگر اس نے ايسا کيا تو اس کا ضامن
ہوگا اور اگر بارہويں مہينے ميں اس کے اختيار کے بغير زکواۃ کے
شرائط ميں سے کوئي مفقود ہوجائے تو زکواۃ اس پر واجب نہيں۔
}(١٨٥٤)اگر گائے ، بھيڑ، اونٹ، سونے اور چاندي کا مالک دوران سال
بالغ ہوجائے تو اس پر زکواۃ واجب نہيں ہوگي۔
}(١٨٥٥)گندم اور جو کي زکواۃ اس وقت واجب ہوگي جب انہيں گندم و جو
کہا جا سکے اور کشمش کي زکواۃ احتياطا ً اس وقت واجب ہوگي جب کہ وہ
غورہ (ناپختہ) ہو اور جب کھجوريں کچھ خشک ہوجائيں کہ انہيں تمر کہا
جائے تو ان کي زکواۃ واجب ہوجاتي ہے البتہ زکواۃ دينے کا وقت وہ ہے
جب گندم اور جو خرمن ہوجائيں اور گھاس اس سے جداکرليا جائے (يعني
صاف ہوجائے)اور کھجوريں اور کشمش کا وقت وہ ہے جب وہ خشک ہوجائيں۔
}(١٨٥٦)گندم ، جو ، کشمش اور کھجوروں کي زکواۃ واجب ہونے کے وقت جو
گزشتہ مسئلہ ميں بيان ہوچکا ہے اگر ان کا مالک بالغ ہوتو اس کو ان
کي زکواۃ دينا چاہيے۔
}(١٨٥٧)اگر گائے، گوسفند ، اونٹ ،سونے اور چاندي کا مالک تمام سال
ديوانہ رہا ہو تو اس پر زکواۃ واجب نہيں ہے البتہ اگر سال کے کچھ
دن ديوانہ رہا ہو اور آخر سال ميںعقلمند ہوجائے تو اگر ديوانگي کي
مدت اتني کم ہو کہ لوگ کہيںکہ تمام سال عقلمند رہا ہے تو احتياط
واجب يہ ہے کہ زکواۃ اس پر واجب ہوگي۔
}(١٨٥٨)اگر گائے، بھيڑ ، بکري، اونٹ، سونے اور چاندي کا مالک سال
کے کچھ دن مست يا بے ہوش رہا ہے تو زکواۃ اس سے ساقط نہيں ہوگي اور
يہي حکم ہے اگر گندم ، جو ، خرما، کشمش ، کي زکواۃ واجب ہونے کے
وقت ان کا مالک مست يا بيہوش ہو۔
}(١٨٥٩)انسان اس کے اس غضب شدہ مال پر جس پر وہ تصرف نہ کرسکتا ہو،
زکواۃ نہيں ہے۔ اسي طرح اگر زراعت غصب کرلي جائے اور جس وقت اس پر
زکواۃ واجب ہوتي ہے وہ غاصب کے ہاتھ ميں ہو تو جب مالک کي طرف لوٹ
آئے تواس پر زکواۃ نہيں ہے۔
}(١٨٦٠)اگر سونا چاندي يا کوئي اور چيز کہ جس پر زکواۃ واجب ہے
بطور قرض لے اور ايک سال اس کے پاس رہے تو اس کو اس کي زکواۃ دينا
چاہيے اور قرض دينے والے پر کوئي چيز واجب نہيں۔
گندم ، جو ، خرما اور کشمش کي زکواۃ
}(١٨٦١)گندم ، جو ۔ خرمااور کشمش کي زکواۃ اس وقت واجب ہوتي ہے جب
يہ چيزيں نصاب کو پہنچ جائيں اور ان کا نصاب ٤٥ مثقال کم ٢٨٨ من
تبريزي ہے جو کہ ٢٠٧/٨٤٧ کيلو گرام ہے ليکن چونکہ اہل فن کي نظر
مختلف ہے اس لئے اقرب يہ ہے کہ نصاب کي مقدار ١٩٣ ئ ٨٤٩ کيلو گرام
ہے ۔ ويسے احتياط يہ ہے کہ زکواۃ ميں کم مقدار کا لحاظ کيا جائے ۔
}(١٨٦٢)اگر زکواۃ دينے سے پہلے انگور ، خرما ، جو اور گندم کہ جن
پر زکواۃ واجب ہے ميں سے کچھ خود انسان يا اس کے اہل و عيال کھاليں
يا مثلا ً کسي فقير کو دے دے تو صرف شدہ مقدار کي زکواۃ دينا واجب
نہيں ہے۔
}(١٨٦٣)اگر گندم، جو ، خرما اور انگور کي زکواۃ واجب ہونے کے بعد
ان کا مالک مرجائے تو بمقدار زکواہ اس کے مال سے ادا کريں اور اگر
زکواۃ واجب ہونے سے پہلے مرجائے تو جس وارث کا حصہ نصاب کي مقدار
ہے تو وہ اپنے حصے کي زکواۃ ادا کرے۔ جبکہ نمو وارث کے مالک بننے
کے بعد ہو ا ہو۔ اسي طرح جب مال نمو کے بعد وارث کي طرف منتقل
ہوجائے ليکن زکواۃ واجب ہونے سے پہلے تو بنابر احتياط واجب زکواۃ
واجب ہے۔
}(١٨٦٤)جو شخص حاکم شرع کي طرف سے زکواۃ جمع کرنے پر معمور ہے وہ
گندم اور جو کھليان ميں صاف کرنے کے وقت اور خرما و انگور کے خشک
ہوجانے کے بعد زکواۃکا مطالبہ کرے اور اگر مالک نہ دے اور جس
چيزميں زکواۃ واجب ہوتي تھي ، وہ تلف ہوجائے تو مالک کو اس کا عوض
دينا ہوگا۔
}(١٨٦٥)اگر درخت خرما و انگور يا زراعت گندم و جو پر کسي کے مالک
ہونے کے بعد زکواۃ واجب ہوجائے مثلا ً کھجوريں اس کے ملک ميں زرد
يا سرخ ہوجائيں تو اس کو اس کي زکواۃ دينا چاہيے۔
}(١٨٦٦)اگر گندم ، جو ، کھجوريں يا انگور پر زکواۃ واجب ہونے کے
بعد ان کي زراعت اور درخت کو بيچے تو بيچنے والے کو زکواۃ ديني
چاہيے۔
}(١٨٦٧)اگر انسان گندم ، جو ، کھجوريںيا انگور خريدے اور اسے معلوم
ہو کہ بيچنے والے نے اس کي زکواۃ ادا کردي ہے۔يا اسے شک ہو کہ اس
نے زکواۃ دي ہے يا نہيں تو اس پر کوئي چيز واجب نہيں اور اگر اسے
علم ہو کہ مالک نے زکواۃ نہيں دي تو اگر حاکم شرع اتني مقدار
معاملہ کي اجازت نہ دے جو کہ زکواۃ ميں ديني چاہيے تو اتني مقدار
ميںمعاملہ باطل ہوگا اور حاکم شرع بمقدار زکواہ خريدار سے لے سکتا
ہے اور اگر بمقدار زکواۃ معاملہ کي اجازت حاکم شرع دے دے تو معاملہ
صحيح ہے اور خريدنے والا اس مقدار کي قيمت حاکم شرع کو ادا کرے اور
اگر اتني مقدار کي قيمت بيچنے والے کو دے چکا ہوتو وہ اس سے واپس
لے سکتا ہے ۔
}(١٨٦٨)اگر گندم، جو، خرما اور کشمش کا وزن جب کہ وہ تر ہيں ٤٥
مثقال کم ٢٨٨ من تبريزي ہو اور خشک ہونے کے بعد اس مقدار سے کم
ہوجائے تو اس کي زکٰواۃ واجب نہيں۔
}(١٨٦٩)اگر گندم، جو ، خرما اور کشمش خشک ہونے سے پہلے استعمال
کرليںاگرچہ خشک ہوجانے کے بعد بمقدار نصاب ہوتي تو بھي اس کي زکواۃ
واجب نہيں البتہ احتياطا ً اس کي زکواۃ دے دے تو بہت اچھا ہے۔
}(١٨٧٠)جو کھجوريں تازہ تبازہ کھائي جاتي ہيں اگر باقي رہ جائيں تو
بہت کم ہو جاتي ہيںتو اگر اس کي مقدار خشک ہونے کے بعد ٤٥ مثقال کم
٢٨٨ من تبريزي ہو تو زکواۃ واجب ہو۔
}(١٨٧١)گندم ، جو ، کھجور ، کشمش کي زکواۃ جب ادا کردي جائے اب اگر
کئي سال اس کے پاس پڑي رہيں تو ان پر زکواۃ نہيں ہوگي۔
}(١٨٧٢) اگر گندم ، جو ، خرما اور انگور کو بارش کے پاني سے بھي
سيراب کيا جائے اور ڈول وغيرہ سے بھي استفادہ کيا جائے تو اگر اس
طرح ہو کہ لوگ کہيں کہ ڈولوں سے سيرابي زيادہ غالب ہے تو اس کا
بيسواں حصہ زکٰواۃ ہوگي اور اگر کہيں کہ نہر اور بارش سے سيرابي ہے
تو اس کي زکٰواۃ دسواں حصہ ہوگي بلکہ اگر يہ نہ کہيں کہ بارش اور
نہر سے سيرابي غلبہ رکھتي ہے ۔ ليکن بارش و نہر سے زيادہ سيراب کيا
گيا ہوبہ نسبت ڈول وغيرہ کے پاني کے تواحتياط واجب يہ ہے کہ اس کي
زکواۃ دسواں حصہ نکالي جائے۔
}(١٨٧٣)اگر گندم ، جو، خرما اور انگور کو بارش کے پاني سے بھي
سيراب کيا جائے اور ڈول وغيرہ سے بھي استفادہ کيا جائے اگر اس طرح
ہو کہ کہا جائے کہ اس کو ڈولوں سے سيراب کيا گيا ہے نہ کہ بارش سے
تو اس کي زکواۃ بيسواں حصہ ہے اور اگر کہيں کہ اسے بار ش کے پاني
سے سيراب کيا گيا ہے تو اس کي زکواۃ دسواں حصہ ہوگي۔
}(١٨٧٤)اگر شک کرے کہ بارش کے پاني سے سيراب کيا گيا ہے يا ڈول
وغيرہ سے تو بيسواں حصہ زکواۃ واجب ہوگي۔
}(١٨٧٥)اگر گندم، جو، خرما اور انگور نہر اور بارش سے سيراب کئے
گئے ہوں اور کنويں وغيرہ کے پاني کي ضرورت باقي نہ ہو ليکن کنويں
کے پاني سے بھي سيراب کرليا جائے اور کنويں کے پاني نے محصولات کي
زيادتي ميں مدد نہ دي ہو تو ان کي زکواۃ دسواں حصہ ہوگي اور اگر
کنويں وغيرہ سے سيراب کيا گيا ہو اور نہر و بارش کے پاني کي ضرورت
نہ ہو ليکن اسے نہر و بارش کے پاني سے بھي سيراب کر ليا گيا ہو تو
اس کي زکواۃ بيسواں حصہ ہے۔
}(١٨٧٦)اگر کسي زراعت کو ڈول وغيرہ سے سيراب کريں اور اس زمين
ميںزراعت کريں جو کہ اس کے پہلو ميںہو کہ وہ اس زمين کي رطوبت سے
فائدہ حاصل کرے اور سيراب کرنے کي محتاج نہ ہوتو اس زراعت کي زکواۃ
جو ڈول کے ذريعے سيراب کي گئي ہے بيسواں حصہ ہوگي اور وہ زراعت جو
اس کے پہلو ميں ہے اس کي زکواۃ دسواں حصہ ہوگي۔
}(١٨٧٧)وہ اخراجات جو گندم، جو ، خرما اور انگور کے لئے کئے گئے
ہيں تو اگر انہيںمنہا کرنے سے پہلے حاصل شدہ زراعت کي مقدار ٤٥
مثقال کم ٢٨٨ من تبريزي ہو تو بقيہ کي زکواۃ اداکرے۔
}(١٨٧٨)بوتے وقت بيج کي جو قيمت رہي ہو اس کو بھي اخراجات ميں شمار
کياجاسکتا ہے۔
}(١٨٧٩)اگر زمين اور اسباب زراعت يا دونوں ميںسے کوئي ايک اس کي
اپني ملکيت ہوں تو ان کا کرايہ اخراجات ميں شمار نہيں کرسکتا اور
اسي طرح وہ کام جو اس نے خود انجام دئے ہيں يا کسي دوسرے شخص نے
مزدوري کے بغير کئے ہيں ان ميں سے کوئي چيز بھي حاصل شدہ زراعت سے
منہا نہيں کي جاسکتي ۔
}(١٨٨٠)اگر انگور يا کھجور کا درخت خريدے تو اس کي قيمت جزو يا
اخراجات حساب نہيں ہوگي البتہ اگر خرما يا انگور توڑنے سے پہلے
خريدے تو جو رقم ان کے لئے ادا کي گئي ہے وہ اخراجات ميں داخل
ہوگي۔
}(١٨٨١)اگر کوئي زمين خريدے اور اس زمين ميں گندم ياجو بوئے تو وہ
رقم جو زمين کي قيمت ميں ادا کي ہے وہ خرچہ ميں داخل نہيں ہوگي
البتہ اگر زراعت خريدے تو جو رقم اس کے خريدنے پر خرچ کي ہے وہ
اخراجات ميں شمار کرسکتا ہے اور حاصل شدہ چيز سے منہا کرسکتا ہے۔
باقي رہي بھوسے کي قيمت جو اسے حاصل ہوئي ہے تو اس کو اس رقم سے
منہا کرلے جو زراعت کے خريدنے ميں ادا کي ہے مثلا ً اگر کوئي زراعت
پانچ سو روپے ميں خريدے اور اس ميںسو روپے کي گھاس نکلے تو صرف چار
سو روپے اخراجات ميںشمار نہيں کرسکتا ہے۔
}(١٨٨٢)جو شخص بيل اور دوسري چيزوں کے بغير جوکہ زراعت کے لئے
ضروري ہوتي ہيں زراعت کرسکتا ہو اور پھر انہيں خريد لے تو جو رقم
ان پر خرچ کي ہے وہ اخراجات ميں شمار نہيں کرسکتا ہے۔
}(١٨٨٣)جو شخص بيل اور دوسري چيزوںکے بغير جو کہ زراعت کے لئے
ضروري ہيں زراعت نہيں کرسکتا اگر زراعت کي وجہ سے وہ چيزيں بالکل
ختم ہوجائيں تو ان کي پوري قيمت اخراجات ميں شمار کرسکتا ہے اور
اگر ان کي قيمت کا کچھ حصہ کم ہوجائے تو وہ مقدار اخراجات ميں شمار
کرسکتا ہے البتہ اگرزراعت کے بعد ان کي قيمت ميں سے کوئي چيز کم نہ
ہوئي ہو تو احتياط واجب کي بنا پر ان کي قيمت ميں سے کسي بھي چيز
کو اخراجات ميں سے شمار نہ کرے۔
}(١٨٨٤)اگر ايک ہي زمين ميں جو ، گندم ، چاول اور لوبيا جيسي چيز
کہ جس پر زکواۃ واجب نہيں بوئي جائے تو جو اخراجات جس کے لئے کئے
گئے ہيںصرف اسي کے لئے شمار ہوں گے البتہ دونوں کے لئے خرچ کيا ہے
تو دونوں پر تقسيم کئے جائيں مثلا ً اگر دونوں کے لئے برابر خرچ
ہوا ہے تو آدھے اخراجات زکواۃ والي جنس سے منہا کرسکتا ہے۔
}(١٨٨٥)اگر پہلے سال کے لئے کوئي کام کياجائے مثلا ً کھيتوں کي
جتائي اگرچہ وہ آئندہ سالوں کے لئے مفيد ہو تو بھي اس کا خرچہ پہلے
سال سے منہاکيا جائے گا اور اگر چند سالوں کے لئے عمل کرے تو ان کے
درميان اسے تقسيم کرے۔
}(١٨٨٦)اگر کسي انسان کے چند شہروں ميں (کہ جن کي فصل ايک دوسرے سے
اختلاف رکھتي ہے اور زراعت و پھل ان کے ايک وقت ميں نہيں حاصل
ہوتے) گندم، جو ، کھجوريں يا انگور ہوں اور وہ سب ايک ہي سال کے
محصولات حساب ہوں تو اگر وہ چيزجو پہلے درآمد ہوئي ہے ۔ نصاب کے
برابر يعني ٤٥ مثقال کم٢٨٨ من تبريزي ہے تو اس کي زکواۃ اس کے حصول
کے وقت ادا کرے اور بقيہ کي زکواۃ اس وقت ادا کرے جب وہ حاصل ہو
اور اگر وہ جو پہلے حاصل ہوئي ہے۔ نصاب کے برابر نہيں تو صبر کرے
يہاں تک کہ باقي چيزيں بھي حاصل ہوجائيں تو اگر سب کي مجموعي مقدار
نصاب کے برابر ہے تو اس کي زکواۃ واجب ہوگي اور اگر نصاب کے برابر
نہيں تو اس کي زکواۃ واجب نہيں ہوگي۔
}(١٨٨٧)اگر کھجور يا انگور کا درخت سال ميں دو مرتبہ پھل دے تو اگر
ان کي مجموعي مقدار نصاب کے برابر ہو تو احتياطا ً اس کي زکواۃ
واجب ہوگي۔
}(١٨٨٨)اگر کھجور يا انگور کے پھل کي کچھ مقدار تر و تازہ ہے کہ جو
خشک ہونے کے بعد نصاب کے برابر ہوجائے گي اگر زکواۃ کي نيت سے ترو
تازہ سے اتني مقدار مستحق کو دے دے کہ اگر خشک ہوجائے تو جتني
زکواۃ اس پر واجب ہے اس کے برابر ہو تو کوئي حرج نہيںہے۔
}(١٨٨٩)اگر خشک کھجور ياکشمش کي زکواۃ کسي پر واجب ہو تو ا س کي
زکواۃ تازہ کھجور يا انگور سے نہيں دے سکتا اور اسي طرح اگر اس پر
تازہ کھجور يا انگور کي زکواۃ واجب ہو تو وہ خشک کھجور يا کشمش اس
کي زکواۃ ميںنہيںدے سکتا البتہ اگر ان ميں سے کوئي ايک يا کوئي اور
چيز زکواۃ کي قيمت کي نيت سے دے دے تو کوئي حرج نہيں۔
}(١٨٩٠)جو شخص مقروض ہے اور ايسا مال بھي اس کے پاس ہے کہ جس پر
زکواۃ واجب ہے اگر وہ مرجائے تو پہلے جس مال ميں زکواۃ واجب ہے اس
کي پوري زکواۃ دي جائے اس کے بعد اس کا قرضہ ادا کريں۔
}(١٨٩١)جو شخص مقروض ہے اور گندم ، جو ، خرما اور انگور بھي اس کے
پاس ہيں اگر وہ مرجائے اور قبل اس کے کہ ان پر زکواۃ واجب ہو وارث
اس کا قرض کسي اور مال سے ادا کرديں تو جس کا حصہ ٤٥ مثقال کم ٢٨٨
من تبريزي ہو تو وہ زکواۃ ادا کرے اور اگر زکواۃ واجب ہونے سے پہلے
اس کا قرض ادا نہ کريں تو اگر ان کا سارا مال قرض کے برابر ہو تو
ان چيزوں کي زکواۃ دينا واجب نہيں اور اگر ميت کا مال قرض سے زيادہ
ہو تو اگر قرض اتنا ہے کہ اگر اسے ادا کرنا چاہيں تو گندم ، جو ،
خرما اور انگور کا کچھ حصہ بھي قرض خواہ کو دينا پڑے گا تو جتنا
قرض خواہ کو دينا ہے اس پر زکواۃ نہيں اور بقيہ ورثا ئ کا مال ہے
تو جس کا حصہ نصاب کے برابر ہوگا اس کو زکواۃ ديني پڑے گي۔
}(١٨٩٢)اگر گندم، جو ، خرما اور کشمش کہ جن پر زکواۃ واجب ہے کچھ
عمدہ جنس کے ہيں اور کچھ خراب کے تو اچھي کي زکواۃ اس اچھي جنس سے
اور خراب کي خراب سے دے اور سب کي زکواۃ خراب سے نہيں دے سکتا۔
سونے کانصاب
}(١٨٩٣)سونے کے دو نصاب ہيں :
١۔ بيس مثقال شرعي کہ ہر مثقال کي مقدار ١٨ نخود (چنے کا دانہ) کے
برابر ہے پس جب سونا بيس مثقال شرعي (جو کہ ١٥ مثقال عرفي بنتا ہے)
کو پہنچ جائے تو اگر اور شرائط بھي موجود ہوں کہ جو بيان کئے جاچکے
ہيں تو اس کا چاليسواں حصہ جو کہ نو دانے چنے کے برابر ہے عنوان
زکواۃ سے دے اور اگر اس مقدار تک نہ پہنچے تواس پر زکواۃ واجب
نہيں۔
٢۔ چار مثقال شرعي ہيں جو کہ عرفي تين مثقال بنتے ہيں يعني اگر
عرفي پندرہ مثقال کے ساتھ تين اور کا اضافہ ہو جائے تو١٨ مثقال کي
زکواۃ اس کا چاليسواں حصہ ادا کرے اور تين مثقال سے کم کا اضافہ ہو
تو صرف ١٥ مثقال کي زکواۃ ادا کرے اور اس زيادتي پر کوئي زکواۃ
نہيں اور يہي حکم ہے جتنا بھي بڑھتا جائے يعني اگر ٣ مثقال کا
اضافہ ہوتا جائے تو پورے کي زکواۃ ديني پڑے گي اور اگر اس سے کم
اضافہ ہو تو اس اضافہ پر زکواۃ نہيں ہے۔
چاندي کا نصاب
}(١٨٩٤)چاندي کے دو نصاب ہيں :
١۔ يہ کہ ١٠٥ مثقال عرفي ہو تو اگر چاندي ١٠٥ مثقال کے برابر ہو
اور باقي شرائط بھي جو بيان کئے گئے ہيں موجود ہوں تو انسان کو
چاہيے کہ اس کا چاليسواں حصہ جوکہ ٢ مثقال اور ١٥ نخود (چنے کے
دانے) بنتا ہے از بابت زکواۃ دے اس سے کم پر زکواۃ واجب نہيں ہے۔
٢۔ يہ کہ ٢١ مثقال يعني اگر ١٠٥ مثقال پر ٢١ مثقال کا اضافہ ہوجائے
تو ١٢٦ مثقال کي زکواۃ (جيسا کہ بيان ہوچکا ہے)ادا کرے اور ٢١
مثقال سے کم اضافہ ہو تو صرف ١٠٥ مثقال کي زکواۃ دينا پڑے گي اور
اس زيادتي پر کوئي زکواۃ نہيں اور يہي حکم ہے جتني مقدار بڑھتي
جائے يعني اگر ٢١ مثقال بڑھتے جائيں تو سب کي زکواۃ ديني ہوگي اور
اگر اس سے تھوڑا اضافہ ہو تو اضافہ شدہ مقدار جو ٢١ مثقال سے کم ہے
اس پر زکواۃ نہيں ہوگي اس بنا ئ پر اگر انسان کے پاس جتنا سونا
چاندي ہے سب کا چاليسواں حصہ زکواۃ ادا کرے تو جو زکواۃ اس پر واجب
ہے وہ ادا کرچکا ہے اور بعض اوقات تو واجب مقدار سے بھي زيادہ ادا
کرچکا ہوگا۔ مثلا ً ايک شخص کے پاس ١١٠ مثقال چاندي ہے اور اس نے
سب کا چاليسواں حصہ دے ديا تو ١٠٥ مثقال کي زکواۃ اس نے ادا کي جو
کہ اس پر واجب تھي اور ٥ مثقال کي بھي دي جو کہ واجب نہ تھي۔
}(١٨٩٥)جس کے پاس سونا يا چاندي نصاب کے برابر ہے اگرچہ اس کي
زکواۃ دے چکا ہو تو جب تک پہلے نصاب سے کم نہ ہو تو ہر سال اس کي
زکواۃ ادا کرے۔
}(١٨٩٦)سونے يا چاندي پر اس وقت زکواۃ واجب ہوتي ہے جب کہ وہ سکہ
دار ہوں اور کاروبار ميں رائج ہوں اور اگر اس کا سکہ ختم ہوگيا ہو
تب بھي اس کي زکواۃ ادا کرے۔
}(١٨٩٧)وہ سکہ دار سونا يا چاندي جسے عورتيں زينت کے لئے استعمال
کرتي ہيں۔ اس پر زکواۃ نہيں اگرچہ وہ رائج الوقت ہي کيوںنہ ہو۔
}(١٨٩٨)اگرکسي شخص کے پاس سونا بھي ہو اور چاندي بھي اور ان ميں سے
کوئي بھي پہلے نصاب کے برابر نہ ہو مثلا ً چاندي ١٠٤ مثقال اور
سونا ١٤ مثقال ہے تو اس پر زکواۃ واجب نہيں۔
}(١٨٩٩) جيساکہ پہلے بيان ہوچکا ہے سونے اور چاندي کي زکواۃ تب
واجب ہوتي ہے کہ انسان پورے گيارہ مہينے نصاب کا مالک رہا ہو اور
اگر گيارہ مہينے کے دوران سونايا چاندي پہلے نصاب سے کم ہوجائيں تو
اس پر زکواۃ واجب نہيں ہوگي۔
}(١٩٠٠)اگر گيارہ مہينوں کے درميان جو سونا ياچاندي اس کے پاس تھا
اسے دوسرے سونے يا چاندي سے يا کسي اور چيز سے بدل لے يا
انہيںپگھلوالے تو اس پر زکواۃ واجب نہيں البتہ اگر زکواۃ سے فرار
کرنے کے لئے ايسا کرے تو احتياط مستحب يہ ہے کہ وہ زکواۃ ادا کرے۔
}(١٩٠١)اگر بارہويں مہينے سکہ دار سونے يا چاندي کو پگھلوالے تو اس
کي زکواۃ دينا پڑے گي اور اگر پگھلوانے کي وجہ سے ان کا وزن يا
قيمت کم ہوجائے تو پگھلوانے سے پہلے جتني زکواۃ اس پر تھي وہ ادا
کرے۔
}(١٩٠٢) جو سونا اور چاندي اس کے پاس ہيں ان ميں کچھ عمدہ اور کچھ
ردي ہو تو ہر ايک کي زکواۃ خود اسي سے ادا کرسکتا ہے ليکن بہتر يہ
ہے کہ سب کي زکواۃ عمدہ سونے يا چاندي سے اد ا کرے۔
}(١٩٠٣)اگر سونا يا چاندي ميں معمول سے زيادہ کوئي دھات ملي ہوئي
ہو تو اگر خالص کي مقدار جو بيان ہوچکي ہے وہ نصاب کے برابر ہو تو
اس کي زکواۃ ادا کرے اور اگر شک ہو کہ خالص کي مقدار نصاب کے برابر
ہے يا نہيں تو اس پر زکواۃ واجب نہيں۔
}(١٩٠٤)جو سونا اور چاندي اس کے پاس موجود ہے اگر اس ميں ملي ہوئي
دھات معمول کے مطابق ہے تو يہ اس سونے اور چاندي سے اس کي زکواۃ
ادا نہيں کرسکتا کہ جس ميں ملي ہوئي دھات معمول سے زيادہ ہے ۔
البتہ اگر اتني مقدار ادا کرے کہ اس کو يقين ہوجائے جو خالص سونا
اور چاندي اس ميں موجود ہے وہ زکواۃ کے برابر ہے تو اس ميں کوئي
حرج نہيں۔
اونٹ گائے اور بھيڑ بکري کي زکواۃ
}(١٩٠٥)اونٹ گائے اور بھيڑ بکري ميں علاوہ ان شرائط کے جو بيان
ہوچکي ہيں دو اور شرائط ہيں۔
١۔ يہ کہ جانور پورا سال بے کار رہا ہو اور اگر پورے سال ميں ايک
دو دن اس سے کام ليا گيا ہو تو احتياطا ً اس کي زکواۃ واجب ہے۔
٢۔ يہ کہ پورا سال جنگل ميں چرتا رہا ہو تو اگر پورا سال يا سال کا
کچھ حصہ کاٹے ہوئے گھاس يا مالک کي اپني زراعت سے يا کسي اور زراعت
سے چرتا رہا ہے تو اس پر زکواۃ نہيں ہے۔ البتہ اگر سال ميں ايک يا
دو دن مالک کے گھاس سے کھاتا رہا ہے تو احتياطا ً اس کي زکواۃ واجب
ہوگي۔
}(١٩٠٦) اگر انسان اپنے اونٹ، گائے اور بھيڑ بکري کے لئے کوئي ايسي
چراگاہ خريدے جو کسي نے نہ بوئي يا کرايہ پرلے يا وہاں چرانے کے
لئے باج ديتا ہو تو اس کي زکواۃ دينا پڑے گي۔
اونٹ کا نصاب
}(١٩٠٧)اونٹ کے بارہ نصاب ہيں :
١۔ پانچ اونٹ اور ان کي زکواۃ ايک بکري ہے اور جب تک اونٹوں کي
تعداد پانچ تک نہ پہنچے زکواۃ نہيں ہے ۔
٢۔ دس اونٹ اور ان کي زکواۃ دو بکرياں ہيں۔
٣۔ پندرہ اونٹ اور ان کي زکواۃ تين بکرياں ہيں۔
٤۔ بيس اونٹ اور ان کي زکواۃ چار بکرياں ہيں۔
٥۔ پچيس اونٹ اور ان کي زکواۃ پانچ بکرياں ہيں۔
٦۔ چھبيس اونٹ اور ان کي زکواۃ ايک ايسا اونٹ ہے جو دوسرے سال ميں
داخل ہوا ہو۔
٧۔ چھتيس اونٹ اور ان کي زکواۃ ايک ايسا اونٹ ہے جو تيسرے سال ميں
داخل ہوا ہو۔
٨۔ چھياليس اونٹ اور ان کي زکواۃ ايک ايسا اونٹ ہے جو چوتھے سال
ميں داخل ہوا ہو۔
٩۔ اکسٹھ اونٹ اور ان کي زکواۃ دو ايسے اونٹ ہيں جو چھٹے سال ميں
داخل ہوا ہو۔
١٠۔ چھتّر اونٹ اور ان کي زکواۃ ايسے اونٹ ہيں جو تيسرے سال ميں
داخل ہوئے ہوں۔
١١۔ اکانوے اونٹ اور ان کي زکواۃ دو ايسے اونٹ ہيں جو چوتھے سال
ميں داخل ہوئے ہوں۔
١٢۔ ايک سو اکيس اونٹ يااس سے زيادہ تو اب يا چاليس چاليس کا حساب
کيا جائے اور ہر چاليس کے عدد کے لئے ايک ايسا اونٹ ديا جائے جو
تيسرے سال ميں داخل ہو اور يا پچاس پچاس کا حساب کرليں اور ہر پچاس
کے عدد کے لئے ايک ايسا اونٹ ديا جائے جو چوتھے سال ميں داخل ہو
اور يا چاليس و پچاس دونوں کا حساب کيا جائے ليکن ہر صورت ميں ايسا
حساب کرے کہ کوئي چيز باقي نہ رہ جائے اور اگر کوئي چيز باقي رہ
جائے تو وہ نو سے زيادہ نہ ہو مثلا ً اگر ايک سو چاليس اونٹ ہيں تو
سو کے لئے دو ايسے اونٹ دے جو چوتھے سال ميں ہوں اور چاليس کے لئے
ايک ايسي مادہ اونٹني دے جو تيسرے سال ميں داخل ہو اور زکواۃ ميں
اونٹني دينا چاہيے۔
}(١٩٠٨)دو نصابوں کے درميان زکواۃ واجب نہيں ہے لہذا اگر اونٹوں کي
تعداد پہلے نصاب سے جو کہ پانچ ہے بڑھ جائے تو جب تک دوسرے نصاب تک
جو کہ دس ہے نہ پہنچے تو فقط پانچ اونٹوں کي زکواۃ دينا پڑے گي اور
يہي حکم ہے دوسرے نصابوں کا۔
گائے کا نصاب
}(١٩٠٩)گائے کے دو نصاب ہيں :
١۔ تيس گائے ۔ جب گائيں تيس ہوجائيں تو اگر وہ شرائط جو بيان کئے
گئے ہيں ۔ ان ميں موجودہيں تو انسان کو چاہيے کہ زکواۃ ميں ايک
ايسا بچھڑا دے جو دوسرے سال ميں داخل ہو۔
٢۔ چاليس گائے۔ اور اس کي زکواۃ ايک ايسي بچھڑي دے جو تيسرے سال
ميں داخل ہو۔ تيس اور چاليس کے درميان زکواۃ واجب نہيں ہے مثلا ً
جس کے پاس انتاليس گائيں ہيں تو وہ صرف تيس گائيوں کي زکواۃ دے اور
اسي طرح اگر چاليس سے زيادہ گائيں اس کے پاس ہيں تو جب تک ساٹھ تک
نہ پہنچيں صرف چاليس کي زکواۃ دے گا اور جب ساٹھ کو پہنچ جائيں تو
چونکہ پہلے نصاب کا دوگنا ہوگيا ہے تو ايسے دو بچھڑے دينے ہوں گے
جو دوسرے سال ميں داخل ہوں اور يہي حکم ہے اگر گائيں بڑھتي جائيں
تو ياتيس تيس حساب کرلے يا چاليس چاليس يا تيس اور چاليس دونوں اور
ان کي زکواۃ اسي دستور کے مطابق دے جو بيان کيا جاچکا ہے ليکن
اسطرح حساب کرے کہ کوئي چيز باقي نہ رہ جائے۔ اور اگر کچھ باقي بچے
تو نو سے زيادہ نہ ہو مثلا ً اگر ستر گائيں ہيں تو تيس اور چاليس
کا حساب کرے گا اور تيس کے لئے تيس والي اور چاليس کے لئے چاليس
والي زکواۃ دے گا۔ کيونکہ اگر صرف تيس کا حساب کرے تو دس گائيں
بغير زکواۃ کے رہ جائيں گي۔
بھيڑ بکريوں کا نصاب
}(١٩١٠) بھيڑ بکريوں کے پانچ نصاب ہيں:
١۔ چاليس اور اس کي زکواۃ ايک بھيڑ يا بکري ہے اور جب تک بھيڑ
بکرياں چاليس کو نہ پہنچيں ان کي زکواۃ نہيں ہے۔
٢۔ ايک سو اکيس اور اس کي زکواۃ تين بھيڑيں يا تين بکرياں ہيں۔
٣۔ دو سو ايک اور اس کي زکواۃ تين بھيڑيں يا تين بکرياں ہيں۔
٤۔ تين سو ايک اور اس کي زکواۃ چار بھيڑيں يا چار بکرياں ہيں۔
٥۔ چار سو يا اس سے زيادہ ہو تو ايک ايک سو کا حساب کرے اور ہر سو
کے لئے ايک بھيڑ يا بکري دے اور ضروري نہيں کہ زکواۃ خود انہي بھيڑ
بکريوں سے دي جائے بلکہ اگر اور بھيڑ بکريوں سے دي جائے يا ان کي
رقم کے برابر قيمت ادا کي تو کافي ہے البتہ اگر کوئي اور جنس دينا
چاہے تو بہتر ہے کہ ايسي جنس دے جو فقرا کے لئے بہتر ہو۔
}(١٩١١) دو نصابوں کے درميان زکواۃ واجب نہيں پس اگر بھيڑ بکريوں
کي تعداد پہلے نصاب سے جو کہ چاليس ہے بڑھ جائے جب تک دوسرے نصاب
تک جوکہ ايک سو اکيس ہے نہ پہنچے صرف چاليس کي زکواۃ دينا پڑے گي
اور زيادتي پر کوئي زکواۃ نہيں اور يہي حکم ہے بعد کے نصابوں کا۔
}(١٩١٢)اونٹ گائے اور بھيڑ بکرياں جب نصاب کو پہنچ جائيں تو ان کي
زکواۃ واجب ہے ۔ چاہے سب کے سب نر ہوں يا مادہ يا بعض نر ہوں اور
بعض مادہ۔
}(١٩١٣) گائے اور بھينس زکواۃ ميں ايک جنس ہيں۔ عربي اور غير عربي
اونٹ بھي ايک جنس ہيں اور اسي طرح بکري بھيڑ اور دنبہ زکواۃ ميں
کوئي فرق نہيں رکھتے۔
}(١٩١٤) اگر بھيڑ زکواۃ ميں دے تو کم ازکم دوسرے سال ميں داخل ہو
اور اگر بکري دے تو تيسرے سال ميں داخل ہو ۔
}(١٩١٥)جو بھيڑ بکري زکواۃ ميں دے رہا ہو اگر اس کي قيمت تھوڑي سي
باقي بھيڑ بکريوں سے کم ہو تو کوئي حرج نہيں البتہ بہتر يہ ہے کہ
ايسي بھيڑ بکري دے جس کي قيمت تمام سے زيادہ ہو اور يہي حکم ہے
گائے اور اونٹ کا۔
}(١٩١٦)اگر چند آدمي آپس ميں شريک ہوں تو جس کا حصہ پہلے نصاب تک
پہنچ جائے ، وہ زکواۃ دے اور جس کا حصہ پہلے نصاب سے کم ہو اس پر
زکواۃ واجب نہيں ہے۔
}(١٩١٧)اگر ايک شخص کي کئي ايک جگہ پر گائيں ، اونٹ يا بھيڑ بکرياں
ہيں اور ان کي مجموعي تعداد نصاب کے برابر ہے تو وہ زکواۃ دے۔
}(١٩١٨) اگر وہ گائيں بھيڑ بکرياں اور اونٹ جو اس کے پاس ہيں مريض
اور عيب دار ہوں توبھي ان کي زکواۃ دے۔
}(١٩١٩)اگر گائيں بھيڑ بکرياں اور اونٹ سب کے سب بيمار، عيب دار
اور بوڑھے ہوں تو خود انہيں ميں سے دے سکتا ہے البتہ اگر سب صحيح
سالم ، بے عيب اور جوان ہوں تو ان کي زکواۃ ميں عيب دار يا بوڑھے
نہيں دے سکتا بلکہ بعض اگر ان ميں سے تندرست اور بعض مريض ہوں يا
کچھ عيب دار يا بوڑھے ہوںيا ايک مقدار سن رسيدہ اور باقي جوان ہوں
تو احتياطا ً واجب يہ ہے کہ ان کي زکواۃ کے لئے صحيح سالم بے عيب
اور جوان دے۔
}(١٩٢٠) اگر گيارہواں مہينہ پورا ہونے سے پہلے گائے بھيڑ بکرياں
اور اونٹ جو اس کے پاس ہيں۔ کسي دوسري چيز سے بدل لے ياجو نصاب اس
کے پاس ہے اس کو اسي جنس کے ايک نصاب کے ساتھ بدل دے مثلا ً چاليس
بکرياں دے کر چاليس بکرياں لے لے تو اس پر زکواۃ واجب نہيں ہے۔
}(١٩٢١) جس شخص کو گائے بھيڑ بکريوں اور اونٹوں کي زکواۃ ديني ہے
اگر ان کي زکواۃ کسي اور مال سے دے دے تو جب تک ان کي تعداد نصاب
سے کم نہ ہو ہر سال زکواۃ دينا پڑے گي اور اگر خود انہي سے زکواۃ
ادا کرے اور وہ نصاب اول سے کم ہوجائے توا س پر زکواۃ واجب نہيں
ہے۔ مثلا ً جس شخص کے پاس چاليس بکرياں تھيں اگر وہ دوسرے مال سے
زکواۃ دے دے تو جب تک بکرياں چاليس سے کم نہ ہوجائيں تو ہر سال ايک
بکري ديني پڑے گي اور اگر خود انہي سے ادا کرے تو جب تک ان کي
تعداد چاليس تک نہ پہنچے گي تو اس پر زکواۃ واجب نہيں ہے۔
زکواۃ کا مصرف
}(١٩٢٢)انسان زکواۃ کو آٹھ جگہوں پر صرف کرسکتا ہے :
١۔ فقير : اور يہ وہ شخص ہے جو اپنا اور اپنے اہل و عيال کا خرچ نہ
رکھتا ہو اور جو شخص کوئي کاريگري ، جائيداد يا سرمايہ رکھتا ہے کہ
جس سے اپنے سال کا خرچ پورا کرسکے تو وہ فقير نہيں ہے۔
٢۔ مسکين : يہ وہ شخص ہے جو فقير سے بھي زيادہ سختي ميں زندگي
گزارا رہا ہو۔
٣۔ وہ شخص ہے جو امام ٴ يا نائب امام کي طرف سے مامور ہو کہ زکواۃ
جمع کرے۔ اس کي حفاظت کرے اس کا حساب و کتاب رکھے اور اسے امام ٴ ،
نائب امام يا فقرا و مساکين تک پہنچائے۔
٤۔ وہ کفار کہ جنہيں اگر زکواۃ دے دي جائے تو اسلام کي طرف مسائل
ہوں گے يا جنگ ميں مسلمانوں کي مدد کريں گے۔
٥۔ غلاموں کو خريد کرنا اور انہيں آزاد کرنا۔
٦۔ وہ مقروض جو اپنا قرضہ نہ ادا کرسکتا ہو۔
٧۔ سبيل اللہ : يعني وہ کام جو مثل مسجد بنانے کے قومي و ديني
منفعت رکھتا ہو۔ مثلا ً پل بنانا ، اور کسي راستے کو درست کرناکہ
جس کا نفع عام مسلمانوں کو پہنچتا ہو يا وہ چيز جو اسلام کے لئے
نفع مند ہو وہ جس طرح بھي ہو۔
٨۔ ابن سبيل : يعني وہ مسافر جو سفر ميں بے خرچ ہوگيا ہو۔ ان سب کے
احکام آئندہ مسائل ميں بيان کئے جائيں گے۔
}(١٩٢٣)احتياط واجب يہ ہے کہ فقير و مسکين اپنے اور اہل و عيال کے
سال کے خرچے سے زيادہ زکواۃ سے نہيں لے سکتا اور کچھ مقدار رقم يا
جنس اس کے پاس موجود ہے تو صرف اتنا لے کہ سال بھر کا خرچہ پورا
ہوجائے۔
}(١٩٢٤) جس کے پاس سال بھر کا خرچہ موجود ہو اگر اس ميں سے کچھ صرف
کرنے کے بعد اسے شک ہوجائے کہ جو باقي موجود ہے وہ سال کے خرچ کے
برابر ہے يا نہيں تو وہ زکواۃ نہيں لے سکتا۔
}(١٩٢٥) وہ کاريگر مالک يا تاجر کہ جس کي آمدني اس کے سال کے خرچ
سے کم ہے تو وہ اپنے خرچ کي کمي زکواۃ سے وصول کرسکتا ہے اور يہ
ضروري نہيں کہ وہ اپنے کام کے ہتھيار جائيداد يا اپنا سرمايہ اپنے
اخراجات ميں صرف کرے۔
}(١٩٢٦)وہ فقير کہ جس کے پاس اس کے اپنے اور اپنے اہل و عيال کے
لئے سال کا خرچ نہيں اگر اس کے پاس کوئي مکان ہے جو اس کي ملکيت ہے
اور وہ اس ميں رہائش رکھتا ہے يا اس کے پاس سواري ہے تو وہ اگر ان
کے بغير زندگي نہيں گزار سکتا اگرچہ اس کي حفظِ عزت کے لئے ہي ہو
تو وہ زکواۃ لے سکتا ہے اور يہي حکم رکھتا ہے ۔ گھر کا سامان ،
برتن اور گرمي سردي کے لباس اور وہ چيزيں جن کي اسے ضرورت ہے۔ اور
وہ فقير جس کے پاس يہ چيزيں نہيں ہيں اور اسے ان کي ضرورت ہو تو وہ
زکواۃ سے خريد سکتا ہے۔
}(١٩٢٧) وہ فقير جس کے لئے کوئي کاريگري سيکھنا مشکل نہ ہو تو
احتياط واجب يہ ہے کہ وہ زکواۃ لے کرزندگي بسر نہ کرے البتہ جب تک
اس کے سيکھنے ميں مشغول ہے زکواۃ لے سکتا ہے۔
}(١٩٢٨) جو شخص پہلے فقير تھا اور اب کہتا ہے کہ ابھي تک فقير ہوں
تو اگرچہ انسان کو اس کے کہنے پر اطمينان نہ ہو تب بھي اسے زکواۃ
دے سکتا ہے۔
}(١٩٢٩)جو شخص کہتا ہے کہ ميں فقير ہوں اور پہلے فقير نہيں تھا يا
يہ معلوم نہ ہو کہ فقير تھا يا نہيں تو اگر اس کے ظاہر حال سے
معلوم ہو کہ يہ فقيرہے تو اسے زکواۃ دي جاسکتي ہے۔
}(١٩٣٠) جس شخص کو زکواۃ ديني ہے اگر اس کو کسي فقير سے کچھ لينا
ہو تو اپنا قرض زکواۃ ميں حساب کرسکتا ہے ۔
}(١٩٣١)اگر فقير مرجائے اور کسي کو اس سے قرض لينا ہو تو وہ زکواۃ
ميں حساب کرسکتا ہے۔
}(١٩٣٢)جو شخص کوئي چيز بطور زکواۃ کسي فقير کو دے تو ضروري نہيں
کہ اسے بتائے کہ يہ زکواۃ ہے بلکہ اگر فقير زکواۃ لينے سے شرماتا
ہے تو مستحب ہے کہ اس طرح پيشکش کے نام پر دے کہ وہ جھوٹ نہ بنے
البتہ زکواۃ کي نيت کرے۔
}(١٩٣٣) اگر اس خيال سے کسي کو زکواۃ دے کہ يہ فقير ہے اور بعد ميں
معلوم ہو کہ وہ فقير نہيں تھا يا مسئلہ نہ جاننے کي وجہ سے کسي کو
زکواۃ دے جو فقير نہيں تھا تو جو چيز اس کو دي ہے اگر باقي ہو تو
اس سے واپس لے کر کسي مستحق کو دے اور اگر تلف ہوگئي ہے تو اگر وہ
شخص جس نے وہ چيزلي تھي احتمال ديتا تھا کہ وہ زکواۃ ہے تو انسان
اس سے اس کا عوض لے کر مستحق کو دے دے ۔ البتہ اگر زکواۃ کے علاوہ
کسي عنوان سے دي ہو تو کوئي چيز اس سے نہيں لے سکتا اور اپنے ہي
مال سے مستحق کو زکواۃ دے بلکہ تمام صورتوں ميں اپنے مال سے زکواۃ
دے سکتا ہے اور جس نے اس سے ليا تھا اس سے مطالبہ نہ کرے۔
}(١٩٣٤) جو شخص مقروض ہے اور اپنا قرض ادا نہيں کرسکتا اگر چہ اس
کے پاس اپنے سال کا خرچہ موجود ہو تو وہ اپنا قرض ادا کرنے کے لئے
زکواۃ لے سکتا ہے بشرطيکہ جو مال اس نے قرض ليا تھا وہ گناہ ميں
خرچ نہ کياہو يا اگر گناہ ميں خرچ کيا تھا تو اس گناہ سے توبہ
کرچکا ہو کيونکہ اس صورت ميں فقرا کے حصے ميں سے اسے زکواۃ دي
جاسکتي ہے۔
}(١٩٣٥) اگر کسي ايسے شخص کو مال زکواۃ ديا جو کہ مقروض تھا اور
اپنا قرض ادا نہيں کرسکتا تھا۔ اس کے بعد اسے معلوم ہو کہ اس نے
قرض کا مال گناہ ميں صرف کيا تھا تو اگر وہ مقروض فقير ہے تو جو
کچھ يہ دے چکا ہے وہ زکواۃ ميں حساب کرلے البتہ اگر اس نے جو مال
ليا ہے وہ شراب خوري يا اعلانيہ گناہ ميں صرف کيا ہے اور اپنے گناہ
سے توبہ بھي نہيں کي تو احتياط واجب يہ ہے کہ جو مال اسے ديا ہے وہ
زکواۃ ميں حساب نہ کرے ۔
}(١٩٣٦) جو شخص مقروض ہے اور اپنا قرضہ ادا نہيں کرسکتا اگرچہ وہ
فقير نہ ہو قرض خواہ اپنا قرضہ زکواۃ ميں حساب کرسکتا ہے ۔
}(١٩٣٧) جس مسافر کا خرچہ ختم ہوگيا ہو يا اس کي سواري بيمار ہوگئي
ہو تو اگر اس کا سفر، سفر گناہ نہيں اور وہ قرض لے کر يا کوئي چيز
بيچ کر اپنے مقصد تک نہيں پہنچ سکتا تو وہ شخص اگرچہ اپنے وطن ميں
فقير نہ ہو زکواۃ لے سکتا ہے البتہ اگر کسي اور جگہ وہ قرض لے سکتا
ہے يا کوئي چيز بيچ سکتا ہے تو صرف اتنے پيسے زکواۃ ميں سے لے سکے
گا جو اسے اس جگہ تک پہنچائيں۔
}(١٩٣٨) جو شخص سفر ميں بے بس ہو گيا تھا اور اس نے زکواۃ لي تھي
جس وقت وہ وطن ميں پہنچ جائے اگر زکواۃ کي کچھ مقدار اس کے پاس بچ
گئي تو اگر بے مشقت زکواۃ دينے والے يا اس کے نائب تک اس بقيہ کو
نہيں پہنچاسکتا تو وہ حاکم شرع کو دے دے اور اس سے کہے کہ يہ زکواۃ
ہے۔
مستحقينِ زکواۃ کے شرائط:
}(١٩٣٩) جو شخص لے رہا ہو وہ شيعہ اثنا عشري ہو اور اگر شرعي طريقہ
سے کسي کا شيعہ ہونا ثابت ہوجائے اور اس کو زکواۃ دے دے اور مال
زکواۃ تلف ہوجائے اور پھر بعد ميں معلوم ہوجائے کہ وہ شيعہ نہيں ہے
تو ضروري نہيں کہ دوبارہ زکواۃ دے۔
}(١٩٤٠) اگر کوئي شيعہ بچہ يا ديوانہ ہو تو انسان اس کے ولي کو
زکواۃ اس نيت سے دے سکتا ہے کہ جو کچھ دے رہا ہے يہ اس بچے يا
ديوانہ کي ملکيت ہے۔
}(١٩٤١) اگر بچہ يا ديوانہ کے ولي تک انسان کي رسائي نہيں تو انسان
خود بخود يا کسي شخص امين کے ذريعہ زکواۃ بچے يا ديوانہ پر صرف
کرسکتا ہے اور جب زکواۃ ان کے مصرف ميں آرہي ہو اس وقت نيت زکواۃ
کرے۔
}(١٩٤٢) گداگر فقير کو بھي زکواۃ دے سکتے ہيں البتہ ايسے شخص کو
نہيں دے سکتے جو زکواۃ کو گناہ کے کاموں ميں صرف کرے۔
}(١٩٤٣) جو شخص علي الاعلان گناہ کبيرہ کرتا ہے تو احتياط واجب يہ
ہے کہ اس کو زکواۃ نہ ديں۔
}(١٩٤٤) جو شخص قرض دار ہے اور اپنا قرضہ ادا نہيں کرسکتا اگرچہ اس
کا خرچہ زکواۃ دينے والے پر واجب ہو تو بھي اس کو زکواۃ دے سکتا ہے
۔ البتہ اگر بيوي اپنے خرچہ کے لئے قرض لے تو شوہر اس کا قرض زکواۃ
سے ادا نہيں کرسکتا بلکہ اگر کوئي اور شخص بھي کہ جس کے اخراجات اس
پر واجب ہيں۔ اپنے خرچ کے لئے لے تو احتياط واجب يہ ہے کہ اس کا
قرضہ زکواۃ سے ادا نہ کرے۔
}(١٩٤٥) انسان ايسے شخص کو زکواۃ سے خرچہ نہيں دے سکتا کہ جن کا
خرچ اس پر واجب ہے مثلا ً اولاد البتہ اگر يہ ان کا خرچہ نہيں ديتا
تو دوسرے لوگ ان کو زکواۃ دے سکتے ہيں۔
}(١٩٤٦) اگر کوئي انسان اپنے بيٹے کو زکواۃ دے کہ وہ اسے اپني
بيوي، نوکر يا خادمہ پر خرچ کرے تو اس ميں کوئي حرج نہيں۔
}(١٩٤٧) اگر بيٹے کو علمي و ديني کتب کي ضرورت ہو تو باپ ان کي
خريد کے لئے زکواۃ دے سکتا ہے۔
}(١٩٤٨) باپ بيٹے کو زکواۃ شادي کرنے کے لئے دے سکتا ہے اور بيٹا
بھي باپ کو دے سکتا ہے ۔
}(١٩٤٩) وہ عورت جس کا شوہر اسے خرچ ديتا ہے يا ديتا تو نہيں ليکن
يہ اسے دينے پر مجبور کرسکتي ہے ۔ وہ زکواۃ نہيں لے سکتي۔
}(١٩٥٠) وہ عورت جس نے کسي سے متعہ کيا ہو اگر فقير ہو تو اس کا
شوہر اور دوسرے لوگ اس کو زکواۃ د ے سکتے ہيں البتہ اگر اس کے شوہر
نے عقدکے ضمن ميں شرط کي تھي کہ اس کا خرچہ دے يا کسي اور وجہ سے
خرچ دينا اس پر واجب ہو جائے تو جب وہ عورت کے اخراجات دے سکتا ہے
يا عورت اس کو دينے پر مجبور کرسکتي ہے تو وہ زکواۃ نہيںلے سکتي۔
}(١٩٥١) بيوي اپنے فقير شوہر کو زکواۃ دے سکتي ہے اگرچہ شوہر وہ
زکواۃ اپني بيوي پر ہي خرچ کرے۔
}(١٩٥٢) سيّد غير سّيد کي زکواۃ نہيں لے سکتا البتہ اگر خمس اور
ديگر وجوہات اس کے اخراجات کے لئے کافي نہيں اور وہ زکواۃ لينے پر
مجبور ہو تو پھر غير سّيد کي زکواۃ لے سکتا ہے البتہ احتياط واجب
يہ ہے کہ اگر ممکن ہو تو صرف روزانہ کے خرچ کي مقدار لے کہ جس کے
لينے پر مجبور ہے۔
}(١٩٥٣) جس شخص کے متعلق معلوم نہيں کہ سّيد ہے يا نہيں تو اسے
زکواۃ دے سکتے ہيں۔
نيتِ زکواۃ
}(١٩٥٤) انسان زکواۃ بقصد قربت کے ساتھ ادا کرے يعني حکم الہي
بجالانے کے لئے دے اور نيت ميں معين کرے کہ جو کچھ دے رہا ہے يہ
زکواۃِ مال ہے يا زکواۃ فطرہ البتہ اگر مثلا ً گندم يا جو کي زکواۃ
اس پر واجب ہے تو ضروري نہيں کہ معين کرے کہ جو دے رہا ہے يہ گندم
کي زکواۃ ہے يا جوکي ۔
}(١٩٥٥) جس شخص پر کئي اموال کي زکواۃ واجب ہے اگر کچھ مقدار زکواۃ
دے اور کسي مال کي نيت نہ کرے تو جو کچھ ديا ہے اگر ان اموال ميں
سے کسي ايک کا ہم جنس ہے تو اسي جنس کي زکواۃ شمار ہوگا اور اگر ان
ميں سے کسي کا ہم جنس نہيں تو سب پر تقسيم ہوجائے گي پس جس شخص
پرچاليس بکريوں اور پندرہ مثقال سونے کي زکواۃ واجب ہے تو اگر وہ
ايک بکري زکواۃ کے عنوان سے دے اور ان ميںسے کسي ايک کي نيت نہ کرے
تو وہ بکريوں کي زکواۃ شمار ہوگي البتہ اگر کچھ چاندي دے دے تو جو
زکواۃ بکريوں اور سونے کي اس کے ذمہ ہے اس پر تقسيم ہوجائے گي۔
}(١٩٥٦)اگر کسي کو وکيل قرار دے کہ اس کے مال کي زکواۃ ادا کرے تو
اگر وکيل فقير کو زکواۃ ديتے وقت مالک کي طرف سے زکواۃ کي نيت کرلے
تو کافي ہے۔
}(١٩٥٧) اگر مالک يا اس کا وکيل بغير قصد قربت کے زکواۃ فقير کو دے
دے اور قبل اس کے کہ مال تلف ہو خود مالک زکٰواۃ کي نيت کرے تو
زکٰواۃ شمار ہوجائے گي۔
زکواۃ کے متفرق مسائل
}(١٩٥٨) جب گندم اور جو کو صاف کرليا جائے اور جس وقت کھجوريں اور
انگور خشک ہوجائيں تو انسان کو چاہيے کہ ان کي زکواۃ فقير کو دے دے
يا اپنے مال سے الگ کردے ، سونے چاندي ، گائے، بھيڑ ، بکري اور
اونٹ کي زکواۃ بارہويں مہينے کے پورے ہونے کے بعد فقير کو دے دے يا
اپنے مال سے الگ کرلے ۔ البتہ اگر کسي معين فقير کا منتظر ہو کسي
ايسے فقير کو دينا چاہے جو کسي وجہ سے برتري رکھتا ہے تو اسے
اختيار ہے کہ زکواۃ کو اپنے مال سے جدا نہ کرے۔
}(١٩٥٩) زکواۃ عليحدہ کرنے کے بعد ضروري نہيں کہ فورا ً مستحق کو
دے دے البتہ اگر جس شخص کو زکواۃ دي جاسکتي ہے اس تک دسترس رکھتا
ہے تو احتياط واجب يہ ہے کہ زکواۃ دينے ميں تاخير نہ کرے۔
}(١٩٦٠) جو شخص مستحق تک زکواۃ پہنچاسکتا ہے ۔ اگر نہ پہنچائے اور
اس کي کوتاہي کي وجہ سے مال تلف ہوجائے تو اسے اس کا عوض دينا پڑے
گا۔
}(١٩٦١) جو شخص مستحق تک پہنچا سکتا ہے اگر نہ دے اور بغير اس کے
کہ اس نے اس کي حفاظت ميں کوتا ہي کي ہو تلف ہوجائے تو اگر زکواۃ
دينے ميں اس نے اتني تاخير کي ہے کہ لوگ نہ کہيں کہ اس نے فورا ً
ادا کي تو اس کا عوض دينا پڑے گا اور اگر اس قدر تاخير نہيں کي
مثلا ً دو گھنٹے تاخير کي اور انہي دو گھنٹوں ميں وہ تلف ہوگئي اور
کوئي مستحق وہاں نہ تھا تواس پر کوئي چيز واجب نہيں ہے اور اگر
مستحق موجود تھا تو احتياط واجب يہ ہے کہ اس کا عوض دے۔
}(١٩٦٢) اگر زکواۃ خود اسي مال سے الگ کرلے تو بقيہ مال ميں تصرف
کرسکتا ہے اور اگر دوسرے مال سے الگ کرے تو تمام ميں تصرف کرسکتا
ہے۔
}(١٩٦٣)جس زکواۃ کو الگ کرچکا ہے اسے اپنے لئے لے کر دوسري چيز اس
کي جگہ پر نہيں رکھ سکتا ۔
}(١٩٦٤) وہ زکواۃ جو الگ کردي ہے اگر اس ميں کوئي منفعت حاصل
ہوجائے مثلا ً بکري جو زکواۃ کے لئے الگ کي تھي وہ بچہ جن دے تو وہ
فقير کا مال ہوگا۔
}(١٩٦٥) جس وقت زکواۃ الگ کي ہے اگر کوئي مستحق موجودہو کہ وہ
زکواۃ اسے دے دے مگر يہ کہ اس کي نظر ميں کوئي ايسا شخص ہو کہ جسے
زکواۃ دينا کسي وجہ سے بہترہے۔
}(١٩٦٦)اگر اس عين مال سے جو زکواۃ کے لئے الگ کيا ہے اپنے لئے
تجارت کرے تو تجارت صحيح نہيں اور اگر حاکم شرع کي اجازت سے زکواۃ
کي مصلحت کے لئے تجارت کرے تو تجارت صحيح اور اس کا نفع زکواۃ ميں
داخل ہوگا۔
}(١٩٦٧)اگر قبل اس کے کہ زکواۃ اس پر واجب ہو کوئي چيز عنوان زکواۃ
سے فقير کو دے دے تو وہ زکواۃ شمار نہيں ہوگي اور بعد ميں اس کے کہ
زکواۃ اس پر واجب ہوجائے تو جو چيز فقير کو دے چکا تھا اگر تلف نہ
ہوئي ہو اور فقير اپنے فقر پر باقي ہو تو دي ہوئي چيز عنوان زکواۃ
ميں حساب کرسکتا ہے۔
}(١٩٦٨)جس فقير کو پتا ہے کہ فلاں انسان پر زکواۃ واجب نہيں ہوئي
اگر کوئي چيز زکواۃ کے عنوان سے اس سے لے لے اور اس کے پاس سے تلف
ہوجائے تو وہ اس کا ضامن ہے پس اگر زکواۃ واجب ہونے کے وقت وہ فقير
اپنے فقر پر باقي ہو تو وہ چيز جو اس کو دي تھي اس کا عوض عنوان
زکواۃ ميں حساب کرلے۔
}(١٩٦٩) وہ فقيرکہ جسے يہ معلوم نہيں کہ کسي انسان پر زکواۃ واجب
نہيں ہوئي اگر کوئي چيز زکواۃ کے عنوان سے لے اور اس کے پاس سے تلف
ہوجائے تو وہ اس کا ضامن نہيں اور وہ انسان اس کے عوض کو بھي زکواۃ
کے عنوان سے حساب نہيں کرسکتا۔
}(١٩٧٠) مستحب ہے کہ گائے بھيڑ بکريوں اور اونٹ کي زکواۃ ايسے فقرا
کو دي جائے جو کہ عزّت دار ہيں اور زکواۃ دينے ميں اپنے رشتہ داروں
کو دوسروں پر اور اہلِ علم و فضل کو ان کے غير پر جو لوگ سوال نہيں
کرتے ان کو سوال کرنے والوں پر مقدم رکھے البتہ اگر کسي فقير کو
کسي دوسري جہت سے زکواۃ دينا بہتر ہو تو مستحب ہے کہ اسے زکواۃ دے۔
}(١٩٧١) بہتر ہے کہ زکواۃ ظاہر کرکے اور مستحب صدقہ مخفي طور پر
ديں۔
}(١٩٧٢) اگر زکواۃ دينے والے کے شہر ميں کوئي مستحق نہ ہو اور
زکواۃ کسي اور مصرف ميں بھي جو اس کے لئے معين ہے نہ دے سکتا ہو تو
اگر يہ اميد نہيں کہ بعد ميں کوئي مستحق پيدا ہوجائے گا تو زکواۃ
دوسرے شہر ميں لے جائے اور اسے مصرف زکواۃ ميں خرچ کرے البتہ دوسرے
شہر ميں لے جانے کا خرچ اس کے اپنے ذمہ ہوگا اور اگر زکواۃ تلف
ہوجائے تو ضامن نہيں ہوگا۔
}(١٩٧٣) اگر اس کے شہر ميں مستحق موجود ہو تب بھي زکواۃ دوسرے شہر
کي طرف لے جاسکتا ہے البتہ اس شہر کي طرف لے جانے کا خرچ خود اسے
دينا پڑے گا اور اگر زکواۃ تلف ہوگئي تو اس کا ضامن بھي ہوگا مگر
يہ کہ حاکم شرع کي اجازت سے لے گيا ہو۔
}(١٩٧٤) گندم ، جو ، کشمش اور کھجوروں کے وزن اور پيمانہ کي مزدوري
جو زکواۃ ميں دے رہا ہے اس کے اپنے ذمہ ہے۔
}(١٩٧٥) جس شخص کے ذمے دو مثقال اور پندرہ نحود يااس سے زيادہ
زکواۃ کے عنوان سے چاندي ہو تو وہ دو مثقال اور پندرہ نحود چاندي
سے کم مقدار ايک فقير کو بھي دے سکتا ہے اور اسي طرح چاندي کے
علاوہ کوئي چيز مثلا ً گندم يا جو اس کے ذمہ ہوں اور اس کي قيمت دو
مثقال اور پندرہ نحود چاندي کے برابر ہو تو وہ ايک فقير کو اس سے
کم دے سکتا ہے۔
}(١٩٧٦) مکروہ ہے کہ انسان مستحق سے يہ درخواست کرے کہ اس نے جو
زکواۃ اس سے لي ہے وہ اس کے پاس بيچ دے ۔البتہ اگر مستحق لي ہوئي
چيز کو بيچنا چاہے اور بعد اس کے کہ کي قيمت معين ہوجائے تو جس نے
اس کو زکواۃ دي ہے وہ اس کے خريدنے ميں دوسروں پر مقدم ہے۔
}(١٩٧٧) اگر شک کرے کہ جو زکواۃ مجھ پر واجب تھي وہ اداکردي ہے يا
نہيں تو وہ زکواۃ ادا کرے اگرچہ اس کا شک گذشتہ سالوں کي زکواۃ کے
متعلق ہي کيوں نہ ہو۔
}(١٩٧٨) فقير زکواۃ کي مقدار سے کم مقدار لينے پر صلح نہيں کرسکتا
اور نہ ہي کسي ايسي چيز کو عنوانِ زکواۃ سے قبول کرسکتا ہے کہ جس
کي قيمت اس سے گراں تر ہو اور نہ زکواۃ ہي مالک سے لے کر اسے بخش
سکتا ہے البتہ وہ شخص جس کے ذمے کافي زکواۃ ہے اور وہ فقير ہوگيا
ہے اور زکواۃ نہيں دے سکتا اور مال دار ہونے کي اميد بھي نہيں رکھ
سکتا اگر وہ توبہ کرنا چاہے تو پھر فقير اس سے زکواۃ لے کر اسے بخش
سکتا ہے۔
}(١٩٧٩) زکواۃ کے مال سے انسان قرآن ، کوئي ديني کتاب يا دعاو ں کي
کتاب خريد کر وقف کرسکتاہے ۔ اگرچہ وہ اپني اولاد اور ان اشخاص پر
وقف کرے کہ جس کاخرچ اس پر واجب ہے اور اسي طرح وقف کي توليت اپنے
يا اپني اولاد کے لئے بھي قرار دے سکتا ہے۔
}(١٩٨٠) انسان زکواۃ سے کوئي جائيداد خريد کر اپني اولاد يا ان
اشخاص پر جن کا خرچ اس پر واجب ہے وقف نہيں کرسکتا تاکہ اس کا
فائدہ يہ اپنے خرچ کے مصارف ميں صرف کريں۔
}(١٩٨١) کوئي فقير حج و زيارت پر جانے کے لئے اور دوسري اس قسم کي
چيز پر زکواۃ لے سکتا ہے البتہ اگر اس نے اپنے سال کے خرچ کي مقدار
زکواۃ لي ہو تو وہ زيارت اور اس قسم کي چيزوں کے لئے زکواۃ نہيں لے
سکتا۔
}(١٩٨٢)اگرمالک فقير کو وکيل بنائے کہ اس کے مال کي زکواۃ ادا کردے
تو اگر مالک کے لفظ سے يہ سمجھا نہ جائے کہ مالک نے غير فقير کو
ارادہ کيا ہو تو فقير جو وکيل ہے اپنے لئے بھي اٹھا سکتا ہے اور
اگر اسے يقين ہو کہ مالک کا يہ ارادہ نہيں تھا تو پھر خود بھي لے
سکتا ہے۔
}(١٩٨٣) اگر کوئي فقير ، اونٹ ، گائے، بھيڑ ، بکرياں اور سونا
چاندي زکواۃ سے لے تو اگر وہ شرطيں جو زکواۃ کے واجب ہونے کے سلسلے
ميں بيان کي گئي ہيں ان ميں جمع ہوجائيں تو وہ ان کي زکواۃ ادا
کرے۔
}(١٩٨٤) اگر دو شخص کسي مال ميں شريک ہوں کہ جس پر زکواۃ واجب
ہوگئي ہے اور ان ميں سے ايک اپنے حصہ کي زکواۃ ادا کردے اور اس کے
بعد مال کو تقسيم کرليں تو اگر معلوم ہو کہ اس کے شريک نے اپنے حصہ
کي زکواۃ نہيں دي تو اس کے لئے بھي اپنے حصے ميں تصرف کرنا مشکل
ہے۔
}(١٩٨٥) جس کے ذمہ خمس يا زکواۃ ہو اور کفارہ نذر اور اس قسم کي
چيزيں بھي اس پر واجب ہوں اور مقروض بھي ہو تو اگر يہ تمام چيزيں
ادا نہيں کرسکتا تو اگر وہ مال جس پر خمس يا زکواۃ واجب ہے تلف نہ
ہوا ہو تو خمس اور زکواۃ ادا کرے اور اگر وہ تلف ہوگيا ہو اور اسے
اختيار ہے کہ خمس يا زکواۃ دے يا کفارہ نذر يا قرض وغيرہ ادا کرے۔
}(١٩٨٦) جس شخص کے ذمے خمس يا زکواۃ ہو اور نذر وغيرہ بھي اس پر
واجب ہوں اور قرض دار بھي ہو اور مرجائے اور اس کا مال ان تمام
چيزوں کے لئے کافي نہ ہو تو اگر وہ مال کہ جس پر خمس و زکواۃ واجب
ہے تلف نہ ہوگيا ہو توخمس يا زکواۃ ادا کرے اور اسکے باقي مال کو
دوسري چيزوں پر جو واجب ہيں تقسيم کرديں اور اگر وہ مال کہ جس پر
خمس يا زکواۃ واجب ہے تلف ہوجائے تو اسکے مال کو خمس زکواۃ قرض نذر
اور دوسري چيزوں پر تقسيم کيا جائے مثلا ً اگر چاليس روپے خمس اس
پر واجب تھا اور بيس روپے اس کو قرض ادا کرنا ہے اور اس کا سارا
مال تيس روپے ہے تو بيس روپے خمس کے عنوان ميں اور دس روپے قرض ميں
دے ديں۔
}(١٩٨٧) جو شخص تحصيلِ علم ميں مشغول ہے وہ اگر تحصيل چھوڑ دے تو
اپنا کسب معاش کرسکتا ہے تو اگر تحصيلِ علم اس پر واجب يا مستحب ہے
تو وہ زکواۃ لے سکتا ہے اور اگر اس پر علم کي تحصيل واجب يا مستحب
نہيں تو اسے زکواۃ دينا مشکل ہے۔
زکواۃ فطرہ
}(١٩٨٨)جو شخص عيد الفطر کي رات کے غروب کے وقت يعني شب عيد فطر کے
غروب ہونے سے پہلے اگر چند لحظہ ہي کيوں نہ ہو تو اپني طرف سے اور
ان اشخاص کي طرف سے جن کا يہ کفيل ہے في نفر ايک صاع جو تقريبا ً
تين کلو جو سوا تين سير ہے گندم، جو ، کھجوريں ، کشمش ، چاول اور
اس قسم کي چيزوں ميں سے کسي مستحق کو دے اور اگر ان ميں سے کسي کي
قيمت ادا کردے تو بھي کافي ہے۔
}(١٩٨٩)جو شخص اپنا اور اپنے اہل و عيال کا سال کا خرچ نہيں رکھتا
اور اس کا کوئي کاروبار بھي نہيں ہے کہ جس سے اپنا اور اپنے اہل و
عيال کا خرچ پورا کرسکے تو وہ فقير ہے ۔ اس پر زکواۃ اداکرنا واجب
نہيں۔
}(١٩٩٠) انسان کو چاہيے کہ ان لوگوں کا فطرہ جو عيد الفطر کي رات
غروب کے وقت اس کے دستر خوان پر کھانا کھائيں ادا کرے چھوٹے ہوں يا
بڑے مسلمان ہوں يا کافر ان کا خرچ اس پر واجب ہو يا نہ اس کے اپنے
شہر ميں ہوں يا کسي دوسرے شہر ميں۔
}(١٩٩١)اگر اس شخص کو جس کي خوراک اس کے ذمہ ہے اور وہ کسي اور شہر
ميں ہے وکيل کرے کہ وہ اس کے مال سے فطرہ ادا کردے تو اگر اسے
اطمينان ہو کہ وہ اپنا فطرہ ادا کردے گا تو ضروري نہيں کہ اس کا
فطرہ اد اکرے۔
}(١٩٩٢) وہ مہمان جو عيد الفطر کي رات کے غروب سے پہلے صاحبِ خانہ
کي رضا سے اس کے گھر وارد ہو اور وہ اس کے دستر خوان پر کھانے
والوں ميں شمار ہو تو اس کا فطرہ اس پر واجب ہے۔
}(١٩٩٣) اس مہمان کا فطرہ کہ جو عيد الفطر کي رات غروب سے پہلے
صاحبِ خانہ کي مرضي کے بغير وارد ہو اور اگر اس کا نان خوار حساب
ہوگا تو فطرہ واجب ہے اور يہي حکم ہے اس شخص کا جس کے خرچ دينے پر
کسي کو مجبور کيا گيا ہو۔
}(١٩٩٤)اس مہمان کا فطرہ جو عيد الفطر کي رات غروب کے بعد وارد ہو
صاحبِ خانہ پر واجب نہيں اگرچہ غروب سے پہلے اسے دعوت دے چکا ہو
اور اس کے گھر ميں ہي آکر افطار کرے۔
}(١٩٩٥)جو شخص عيد الفطر کي رات غروب کے وقت ديوانہ يا بے ہوش ہو
اس پر زکواۃ فطرہ واجب نہيں۔
}(١٩٩٦) اگر غروب سے پہلے بچہ بالغ، ديوانہ عقلمند اور فقير غني
ہوجائے تو اگر فطرہ کے واجب ہونے کے شرائط اس ميں پائے جائيں تو وہ
زکواۃ فطرہ ادا کرے۔
}(١٩٩٧) جس شخص پر عيد الفطر کي رات غروب کے وقت زکواۃ فطرہ واجب
نہ ہو اگر عيد کے دن ظہر سے پہلے فطرہ کے واجب ہونے کے شرائط اس
ميں موجود ہوجائيں تو اس کے لئے زکواۃ فطرہ دينا مستحب ہے۔
}(١٩٩٨) جو کافر عيد الفطر کي رات غروب کے بعد مسلمان ہوجائے تو اس
پر فطرہ واجب نہيں البتہ اگر کوئي مسلمان شيعہ ہوجائے تو اگر چاند
ديکھنے کے بعد شيعہ ہوا ہو تو وہ زکواۃ فطرہ اداکرے۔
}(١٩٩٩)جس شخص کے پاس صرف ايک صاع (جو تقريبا ً تين کلو ہے) گندم
يا اس قسم کي کوئي چيز ہو تو اس کے لئے زکواۃ فطرہ دينا مستحب ہے۔
اور اگر اس کے اہل و عيال ہوں اور ان کا فطرہ بھي دينا چاہے تو
فطرہ کي نيت سے وہ ايک صاع اپنے اہل و عيال ميں کسي ايک کو دے دے
اور وہ بھي اس نيت سے کسي دوسرے کو دے دے اور اسي طرح کرتے جائيں
يہاں تک کہ آخري فرد تک پہنچ جائے اور بہتر ہے کہ آخري شخص نے جو
کچھ ليا ہے کسي ايسے شخص کو دے جو ان ميں سے نہ ہو اور اگر ان ميں
سے کوئي بچہ ہو تو اس کا ولي اس کے بجائے لے لے اور احتياط يہ ہے
کہ جو چيز بچے کے لئے لي جائے وہ کسي اور کو نہ دے۔
}(٢٠٠٠)اگر عيد الفطر کي رات غروب کے بعد بچہ پيدا ہوجائے يا کوئي
شخص اس کا کھانا کھانے والوں ميں شمار ہوجائے تو اس کا فطرہ دينا
واجب نہيں۔ اگرچہ مستحب يہ ہے کہ جو شخص غروب کے بعد عيد کے دن ظہر
سے پہلے اس کے کھانے والوں ميں شمار ہوجائے تو اس کا فطرہ ادا کرے۔
}(٢٠٠١) جو شخص کسي کے ہاں کھانا کھاتا رہا ہو اور غروب سے پہلے
کسي اور شخص کے کھانا کھانے والوں ميں شمار ہوجائے تو اس کا فطرہ
اس پر واجب ہوگا کہ جس کے کھانا کھانے والوں ميں اب شمار ہورہا ہے
مثلا ً اگر لڑکي غروب سے پہلے شوہر کے گھر چلي جائے تواس کا شوہر
اس کا فطرہ اد ا کرے۔
}(٢٠٠٢) جس کا فطرہ کسي اور کے ذمہ ہے اس کو خود اپنا فطرہ دينا
واجب نہيں ہے۔
}(٢٠٠٣) اگر کسي کا فطرہ دوسرے شخص پر واجب ہے اور وہ ادا نہ کرے
تو خود اس پر واجب نہيں ہوگا۔
}(٢٠٠٤)جس شخص کا فطرہ کسي دوسرے پر واجب ہے اگر يہ خود اپنا فطرہ
ديدے تو جس پر واجب ہے اس سے ساقط نہيں ہوگا۔
}(٢٠٠٥) جس عورت کا شوہر اس کا خرچ ادا نہيں کرتا اور وہ کسي اور
کے ہاں کھانا کھاتي ہے تو اس کا فطرہ اس شخص پر واجب ہوگا اور اگر
کسي کے ہاں کھانا نہيںکھاتي اگر وہ فقير نہيں تو اپنا فطرہ خود ادا
کرے۔
}(٢٠٠٦) جو شخص سيّد نہيں وہ کسي سيّد کو فطرہ نہيں دے سکتا۔ يہاں
تک کہ اگر کوئي سيّد اس کے ہاں کھانا کھاتا ہے تو اس کا فطرہ کسي
اور سيّد کو نہيں دے سکتا۔
}(٢٠٠٧)اس بچے کا فطرہ جو ماں يا دايہ کا دودھ پيتا ہے۔ اس شخص کے
ذمہ ہے کہ جو ماں يا دايہ کا خرچ ديتا ہے البتہ اگر ماں يا دايہ
اپنا خرچ بچے کے مال سے ليتي ہیں تو بچے کا فطرہ کسي پر واجب نہيں۔
}(٢٠٠٨) انسان اگرچہ اپنے اہل و عيال کا خرچ مال حرام سے ديتا ہے
تو بھي ان کا فطرہ مال حلال سے ادا کرے۔
}(٢٠٠٩) اگر انسان کسي شخص کو اجير بنائے اور شرط کرے کہ اس کا خرچ
يہ ادا کرے گا تو اگر يہ اپني شرط پر عمل کرتا رہے اور اس کا شمار
اس کے ہاں کھانے والوں ميں ہو تو اس کا فطرہ بھي دے۔ البتہ اگر يہ
شرط کرے کہ اس کے خرچ کا کچھ حصہ يہ دے گا اور مثلا ً خرچ کے لئے
اسے کچھ رقم ديتا رہا ہو تواس پر فطرہ دينا واجب نہيں۔
}(٢٠١٠) اگر کوئي شخص عيد الفطر کي رات غروب کے بعد مرجائے تواس کا
اور اس کے اہل و عيال کا فطرہ اس کے مال سے ديا جائے البتہ اگر
غروب سے پہلے مرجائے اس کا اور اس کے اہل و عيال کا فطرہ اس کے مال
سے دينا واجب نہيں۔
زکواۃ فطرہ کا مصرف
}(٢٠١١)اگر زکواۃ فطرہ کو ان آٹھ مصارف ميں سے جن کا پہلے مال
زکواۃ ميں ذکر ہوچکا ہے کسي ايک ميں صرف کياجائے تو کافي ہے۔ البتہ
احتياط مستحب يہ ہے کہ صرف شيعہ فقرائ کو دياجائے۔
}(٢٠١٢) اگر کسي شيعہ کا بچہ فقير ہو تو انسان اس پر صرف کرسکتا ہے
يا ولي کے ذريعے سے بچے کي ملکيت قرار دے۔
}(٢٠١٣)جس فقير کو فطرہ دينا ہے ضروري نہيںکہ وہ عادل ہو۔ البتہ
احتياط واجب يہ ہے کہ شرابخور اور جو ظاہر بظاہر گناہ کبيرہ کرتاہے
اسے فطرہ نہ دے۔
}(٢٠١٤) جو شخص فطرے کو گناہ ميں صرف کرے اسے فطرہ نہ ديں۔
}(٢٠١٥) احتياط واجب يہ ہے کہ ايک فقير کو اس کے سال کے خرچ سے
زيادہ اور ايک صاع سے کم جو تقريبا ً تين کلو ہوتا ہے ، فطرہ نہ
ديں۔
}(٢٠١٦) اگر کسي ايسي جنس سے کہ جس کي قيمت عام جنس کي قيمت کے دو
برابر ہے۔ مثلا ً ايسي گندم کہ جس کي قيمت عام گندم کي قيمت کے دو
برابر ہے۔ آدھا صاع کہ جس کا معني دوسرے مسئلہ ميں بيان ہوچکا ہے
ديدے تو کافي نہيں اور اگر وہ قيمت فطرہ کي نيت سے بھي دے تو بھي
اس ميں اشکال ہے۔
}(٢٠١٧) کوئي شخص آدھا صاع ايک جنس سے مثلا ً گندم اور آدھا صاع
دوسري جنس سے مثلا ً جو نہيں دے سکتا اور اگر فطري کي قيمت کي نيت
سے بھي دے تو بھي اس ميں اشکال ہے۔
}(٢٠١٨)مستحب ہے کہ زکواۃ فطرہ کے دينے ميں اپنے فقير رشتہ داروں
کو دوسرے پر مقدم رکھے اور ان کے بعد فقير ہمسائے اور ان کے بعد
صاحبانِ علم فقير ہيںالبتہ اگر دوسرے فقرائ کسي اور جہت سے برتر
ہوں تو مستحب ہے کہ انہيں مقدم رکھا جائے۔
}(٢٠١٩) اگر انسان اس خيال سے کہ يہ فقير ہے کسي کو فطرہ دے اور
بعد ميں معلوم ہو کہ وہ فقير نہيں تھا تو اگر وہ مال جو اسے ديا ہے
تلف نہيں تو اس سے واپس لے کر مستحق کو دے سکتا ہے اور اگر واپس نہ
لے سکے تو اپنے مال سے فطرہ دے اور اگر تلف ہوگيا ہے تو جبکہ لينے
والا جانتا يا احتمال ديتا ہو کہ جو کچھ ليا ہے وہ فطرہ ہے تو اس
کا عوض ادا کرے ورنہ عوض کا دينا واجب نہيں اور انسان کو دوبارہ
فطرہ دينا ہوگا۔
}(٢٠٢٠) اگر کوئي شخص کہے کہ ميں فقير ہوں تو اسے فطرہ نہيں ديا
جاسکتا مگر يہ کہ اطمينان يا اس کے ظاہر حال سے گمان پيدا ہوجائے
کہ يہ فقير ہے اور يا انسان کو معلوم ہو کہ يہ پہلے فقير تھا۔
زکواۃ فطرہ کے متفرق مسائل
}(٢٠٢١) انسان زکواۃ فطرہ نيت قربت سے يعني حکم خدا بجالانے کے لئے
دے اور جس وقت دے رہا ہو تو فطرہ دينے کي نيت کرے۔
}(٢٠٢٢) اگر ماہ رمضان سے پہلے فطرہ دے دے تو صحيح نہيں ہے۔ احتياط
واجب يہ ہے کہ ماہِ رمضان کے درميان بھي فطرہ نہ دے البتہ اگر ماہِ
رمضان سے پہلے يا ماہِ رمضان کے دوران کسي فقير کو قرض ديدے اور
بعد ميں اس پر جب فطرہ واجب ہوجائے تو اپنے قرض کو عنوانِ فطرہ ميں
شمار کرے تو کوئي حرج نہيں ہے۔
}(٢٠٢٣) گندم يا کوئي اور چيز جو فطرہ ميںدے رہا ہے وہ کسي اور جنس
يا مٹي سے ملي ہوئي نہ ہو اور اگر کوئي چيز ملي ہوئي ہو تو اتني کم
ہو کہ اس کي پرواہ نہ کي جاتي ہو اور اگر اس مقدار سے زيادہ ہے تو
صرف اس صورت ميں صحيح ہوگا جب کہ خالص گندم ايک صاع کے برابر ہو
البتہ ايک صاع گندم ميں اتني مقدار ميں مٹي ملي ہو کہ اس کا جدا
کرنا متعارف سے زيادہ خرچ يا مشقت ہو تو اس کا دينا کافي نہيں۔
}(٢٠٢٤)اگر زکواۃ فطرہ کسي عيب دار چيز ميں دے تو کافي نہيں ہے ۔
ہاں اگر ايسي جگہ رہتا ہے کہ جہاںکي غالب خوراک عيب دار ہے تو کوئي
اشکال نہيں ۔
}(٢٠٢٥)جو شخص کئي آدميوں کا فطرہ دے رہا ہے تو ضروري نہيں کہ تمام
ايک ہي جنس سے دے اور اگر مثلا ً بعض کا فطرہ گندم اور بعض کا جو
سے دیدے تو کافي ہے۔
}(٢٠٢٦) جو شخص نماز عيد الفطر پڑھنا چاہتا ہے تو احتياط واجب يہ
ہے کہ فطرہ نماز عيد سے پہلے ادا کرے البتہ اگر نماز عيد الفطر
نہيں پڑھتا تو وہ فطرہ دينے ميں دوپہر تک تاخير کرسکتا ہے۔
}(٢٠٢٧)اگر فطرہ کي نيت سے کچھ مال الگ کرلے اور عيد کے دن دوپہر
تک مستحق کو نہ دے تو احتياط واجب يہ ہے کہ جب بھي دے فطرہ کي نيت
کرے۔
}(٢٠٢٨) اگر جس وقت زکواۃ فطرہ دينا واجب ہو اور يہ فطرہ نہ دے اور
نہ اسے الگ کرکے تو احتياط واجب يہ ہے کہ بعد ميں بغير نيت ادا و
قضا کے فطرہ ديدے۔
}(٢٠٢٩) اگر فطرہ الگ کرے تو اپني ذات کے لئے اس ميں سے نہيں لے
سکتا اور نہ ہي دوسرا مال اس کي جگہ پر رکھ سکتا ہے۔
}(٢٠٣٠) اگر کسي انسان کے پاس کوئي ايسا مال ہے جس کي قيمت مقدار
فطرہ سے زيادہ ہے اور اگر وہ فطرہ نہ دے اور يہ نيت کرے کہ اس مال
کا کچھ حصہ فطرہ کے لئے ہے تو اس ميں اشکال ہے۔
}(٢٠٣١) اگر وہ مال جو فطرہ کے لئے عليحدہ کررکھاہے تلف ہوجائے تو
اگر فقير تک دسترس رکھتا تھا اور فطرہ دينے ميں تاخير کي تھي تو
عوض ادا کرے اور اگر فقير تک دسترس نہيں رکھتا تھا تواس کا ضامن
نہيں مگر يہ کہ اس کي حفاظت ميں کوتاہي کرے۔
}(٢٠٣٢) اگر اس کے اپنے شہر ميں مستحق موجود ہو تو احتياط واجب يہ
ہے کہ فطرہ دوسري جگہ نہ لے جائے اور اگر دوسري جگہ لے گيا اور وہ
مال تلف ہوگيا تو اس کا معاوضہ دينا پڑے گا۔
|