|
#خمس
کے احکام
}(١٧٤٨)خمس سات چيزوںپر واجب ہوتا ہے۔
١۔ وہ نفع جو کسب (کاروبار) سے حاصل ہو۔
٢۔ معدن (کان)۔
٣۔ گنج (خزانہ)۔
٤۔ مال حلال مخلوط بحرام۔
٥۔ وہ جواہرات جو کہ دريا ميںغوطہ لگانے سے ہاتھ آئيں۔
٦۔ جنگ ميں مالِ غنيمت
٧۔ وہ زمين جوکافر ذمي نے مسلمان سے خريدي ہو۔
ان کے احکام مفصلا ً ذکر ہوں گے:
#١۔ منافع کسب
}(١٧٤٩) جب انسان تجارت يا صنعت يا کسي اور کاروبار سے کوئي مال
حاصل کرتا ہے اگرچہ کسي ميت کي نماز يا روزہ اجرت پر پڑھ کر اس سے
کچھ مال حاصل کيا ہو چنانچہ اس مال سے خود اپنے اہل و عيال کے
سالانہ اخراجات پر صرف کرنے کے بعد جو چيز بھي بچ جائے اس کا خمس
دينا ضروري ہے۔ اس دستور کے مطابق جو بعد ميں بيان ہوگا۔
}(١٧٥٠) اگر کسب کے بغير کوئي مال ہاتھ آجائے مثلا ً کوئي مال کسي
نے اسے بخش ديا ہو تو ايسے مال پر خمس واجب نہيں اگرچہ احتياط
مستحب يہ ہے کہ اگر ايسے مال سے سالانہ اخراجات نکال کر کوئي چيز
بچ جائے تو اس کا خمس ادا کرے۔
}(١٧٥١)عورت کو جو مہرملتا ہے اس پر خمس نہيں۔ اسي طرح وہ ارث جو
کسي کو پہنچتا ہے ہاں اگر ايسے شخص کا ترکہ ورثہ ميں مل جائے کہ جس
سے بہت دور کا رشتہ تھا اور اسے اس رشتہ کہ خبر بھي نہ تھي تو پھر
احتياط مستحب يہ ہے کہ اس ارث کے مال سے سال کے اخراجات کر چکنے کے
بعد اگر کوئي چيز بچ جائے تو ا س کا خمس ادا کرے۔
}(١٧٥٢)اگر کوئي ارث کا مال کسي کے ہاتھ آجائے کہ جس کے متعلق
جانتا ہو کہ جس شخص سے يہ مال ارث ميں ملا ہے اس نے اس مال کا خمس
ادا نہيںکيا ہے تو پھر اس مال کا خمس ديناہوگا اسي طرح اگر اس مال
ميں جو وارث کو ملا ہے خمس واجب نہ ہو ليکن ميراث پانے والا جانتا
ہو کہ ميت کے ذمہ خمس واجب الادا تھا تو اس کو اس کے مال سے خمس
ادا کرنا چاہيے۔
}(١٧٥٣)اگر قناعت کي وجہ سے سال کے اخراجات سے کچھ بچ جائے تو اس
کا خمس دينا چاہيے۔
}(١٧٥٤)جب کسي کا خرچ دوسرا آدمي ديتا ہو تو خود سے حاصل کردہ تمام
مال کا خمس دينا چاہيے۔
ہاں اگر اس مال سے کچھ حصہ زيارات اور اس قسم کي چيزوں پر خرچ
کياہو تو جومال باقي ہے اس کا خمس دينا ہوگا۔
}(١٧٥٥)جب کسي نے ملک کو معين افراد مثلا ً اپني اولاد کے لئے وقف
کيا ہو۔ اور اولاد اس ملک ميں زراعت کرنے يا درخت لگانے سے کچھ مال
حاصل کرے تو جب وہ مال ان کے سالانہ خرچ سے زيادہ ہو تو اس کا خمس
دينا واجب ہوگا۔
}(١٧٥٦)اگر کسي فقير کو خمس، زکوٰۃ ئ يا دوسرے مستحب صدقات سے کچھ
مال ہاتھ آئے اور اس مال سے اس کے سال کے خرچ سے بچ جائے تو اس کا
خمس دينا واجب نہيں البتہ جو مال اس نے حاصل کيا ہو اس سے کوئي نفع
حاصل ہو تو اس نفع کا خمس واجب ہے مثلا ً کسي سيّدکو جب ايک درخت
خمس ميں ديا جائے اور اس درخت سے جو ميوہ حاصل ہوتا ہے اگر اس درخت
کو منفعت اور کاروبار کے لئے رکھا ہو تو سال کا خرچ نکالنے کے بعد
جو کچھ بچ جائے اس پر خمس واجب ہوگا۔
}(١٧٥٧)اگر ايسے روپے سے کہ جس پر خمس واجب تھا خمس دئے بغير کوئي
جنس خريد کرے يعني بيچنے والے سے کہے کہ اس مال کو اس رقم سے
خريدوں گا يا خريدتے وقت اس کي نيت يہ ہو کہ اس مال کي قيمت اس
پيسے سے دے گا کہ جس کا خمس ادا نہيں کيا تو اگر حاکم شرع اس
معاملہ کے پانچويں حصے کي اجازت دے دے تو پھر معاملہ اس مقدار کا
بھي صحيح ہوگا اور اس کو چاہيے کہ جو چيز خريد لايا ہے اس کا
پانچواں حصہ حاکم شرع کو دے اور اگر حاکم شرع اجازت نہ دے تو اتني
مقدا رکا معاملہ باطل ہوگا پس اگر وہ رقم جو کہ بيچنے والے نے اس
سے لي ہے باقي ہو تو حاکم شرع اس رقم کا خمس حاصل کرے گا اور اگر
وہ رقم تلف ہوگئي ہو تو خمس کے عوض کو حاکم شرع بيچنے والے يا
خريدنے والے سے مطالبہ کرے گا۔
}(١٧٥٨)اگر کوئي چيز خريد لے اور معاملہ کے بعد اس کي قيمت ايسے
روپے سے ادا کرے کہ جس کا خمس ادا نہيں کيا اور خريدتے وقت بھي نيت
يہ نہ تھي کہ بغير خمس نکالي ہوئي رقم سے عوض دوں گا تو جو معاملہ
اس نے کيا ہے وہ صحيح ہے مگر چونکہ اس نے بغير خمس نکالي ہوئي رقم
سے قيمت ادا کي ہے تو وہ پانچواں حصہ رقم کا مديون ہوگا اور وہ رقم
جو بيچنے والے کو دي ہے اگر باقي ہے تو حاکم شرع اس کا پانچواں حصہ
لے گا اور اگر وہ رقم موجود نہ ہو تو اس کا عوض حاکم شرع بيچنے
والے يا خريدنے والے سے لے گا۔
}(١٧٥٩)اگر وہ مال کہ جس کا خمس ادا نہيں کيا گيا ہے خريد لے تو
اگر حاکم شرع اس معاملہ کے پانچويں حصہ کي اجازت نہ دے تو اتني
مقدار کے مطابق معاملہ باطل ہوگا اور حاکم شرع اس مال کا پانچواں
حصہ لے سکتا ہے اور اگر حاکم شرع کو ادا کرے اب اگر مال کي قيمت
بيچنے والے کو دے چکا ہو تو واپس لے سکتا ہے۔
}(١٧٦٠)جب ايسا مال کسي کو بخش ديا جائے کہ جس پر خمس واجب ہے تو
اس مال کا پانچواں حصہ اس شخص کا ملک نہيںہوگا۔
}(١٧٦١)اگر کافر يا کسي ايسے انسان سے کوئي مال ملے جو خمس دينے
کاعقيدہ نہيں رکھتے تو ايسے مال کا خمس دينا واجب نہيں۔
}(١٧٦٢)تاجر کاسب اور صنعت گر وغيرہ جب کسب شروع کريں اس وقت سے لے
کر ايک سال گزرنے تک ان کے سال کے مخارج کے بعد جو چيز بچ جائے تو
اس کا خمس واجب ہے ليکن وہ شخص جس کا کام کاسبي کرنا نہيں اگر
اتفاق سے اسے کوئي فائدہ حاصل ہوتو فائدہ حاصل ہونے کے وقت سے جب
ايک سال گزر جائے تو اس مقدار کا خمس جو اس کے سال کے مخارج سے بچ
جائے دينا واجب ہوگا۔
}(١٧٦٣)جب بھي سال کے دوران کوئي منفعت حاصل ہوتو اس کا خمس ديا
جاسکتا ہے البتہ سال ختم ہونے تک تاخير کرسکتا ہے اور اگر کوئي شخص
خمس دينے کے لئے شمسي سال معين کرنا چاہے تو بھي کوئي حرج نہيں ۔
}(١٧٦٤)جب کوئي تاجر يا کاسب خمس نکالنے کے لئے سال معين کرے اگر
وہ کوئي منفعت حاصل کرنے کے بعد سال تمام ہونے سے پہلے مرجائے تو
پھر اس منفعت سے صرف اس کے مرنے کے وقت تک کے مصارف منہا کئے جائيں
گے اور باقي ماندہ منفعت سے خمس دينا واجب ہوگا۔
}(١٧٦٥)وہ جنس جو کہ تجارت کے لئے خريدي گئي ہو اگر اس کي قيمت بڑھ
جائے ليکن وہ اسے فروخت نہ کرے اور پھر سال کے ختم ہونے سے پہلے
قيمت کم ہوجائے تو قيمت کي جو مقدار بڑھ گئي تھي اس کا خمس دينا
واجب نہيں۔
}(١٧٦٦)جب کسي ايسي چيز کي قيمت کہ جسے تجارت کے لئے خريدا تھا بڑھ
جائے ليکن وہ اسے اس اميد پر فروخت نہ کرے کہ اور زيادہ مہنگي
ہوجائے اور يوں ہي سال کے ختم ہونے تک فروخت نہ کرے اور پھر اس کي
قيمت گرجائے تو پھر جو مقدار بڑھ گئي تھي اس کا خمس دينا واجب ہے
بلکہ اگر مال کو اتني ہي مقدار روکے رکھے جو عام تاجر مال کے مہنگے
ہونے کے لئے روکے رکھتے ہيں تو پھر بھي اس زيادتي کا خمس دينا واجب
ہے۔
}(١٧٦٧)اگر مال تجارت کے علاوہ کوئي مال اس کے پاس تھا کہ جس کا
خمس دے چکا ہے يا اس پر خمس ہي نہيں مثلا ً کسي نے اسے بخش دياہے
اب اگر اس کي قيمت بڑھ جائے اگرچہ ا س کو فروخت بھي کردے تو جتني
قيمت بڑھ گئي ہے اس پر خمس نہيںہے البتہ اگر مثلا ً کوئي درخت
خريدے اور اس پر پھل لگ جائے يا بھيڑ بکري موٹي ہوجائے تو ان کے
رکھنے سے اس کا ارادہ يہ تھا کہ ان سے کوئي منفعت حاصل کرے تو
زيادتي کا خمس دينا پڑے گا۔
}(١٧٦٨)اگر باغ اس لئے لگائے کہ جب اس کي قيمت بڑھ جائے گي تو اس
کو فروخت کردوں گا تو درختوں کے پھل اور درختوں کے بڑھنے اور باغ
کي قيمت کي زيادتي کا خمس دينا پڑے گا البتہ اس کا قصد يہ ہو کہ
باغ کے پھل سے خود استفادہ کرے گا تو صرف پھلوں کا خمس دے۔
}(١٧٦٩)اگر بيد، چنار اور اس قسم کے درخت لگائے تو اگر اس سال کے
جوان کے بيچنے کا ہے انہيں فروخت نہ کرے تو بھي ان کا خمس دينا
ہوگا البتہ اگر مثلا ً ان کي شاخوں سے جو معمولا ً ہر سال کاٹي
جاتي ہيں کوئي استفادہ کرے اور صرف انہي سے يا اور منافع سے اس کا
کسب شدہ مال سال کے مخارج سے بچ جائے تو ہر سال کے آخر ميں اس کا
خمس دے۔
}(١٧٧٠) جس کے کئي کسب (کاروبار) ہيں يا ايک کاروبار ميں چند قسم
کے مستقل کسب ہيں مثلا ً جائيدادکا کرايہ خريد و فروخت اور زراعت
بھي کرتا ہے تو ہر کسب کا سرمايہ آمد و خرچ اور پيسہ رکھنے کا
صندوق عليحدہ ہے تو ہر کسب کے منافع کا حساب عليحدہ کرے اور اس کا
خمس دے اور اگر اس کسب ميں اسے کوئي نقصان پہنچا ہے تو دوسرے
کاروبار سے اس کا جبران نہيں کر سکتا اور اگر مختلف کسب آمد و خرچ
حساب اور صندوق ميں مشترک ہيں تو تمام کا آخر سال ميں ايک ہي حساب
ہوگا۔ اب اگرکوئي منفعت ہوئي تو اس کا خمس دے گا۔
}(١٧٧١)جو خرچ انسان کسي فائدے کو حاصل کرنے کے لئے کرتا ہے مثلا ً
دلالي اور حمالي تو ان کو سالانہ مخارج ميں حساب کرتا ہے۔
}(١٧٧٢)سال بھرميں منافع کسب سے خوراک، پوشاک، گھريلو سامان، مکان
کا خريدنا ، شادي کرنا، لڑکي کا جہيز ، زيارات اور اس قسم کي چيزوں
ميں جو مال خرچ ہوتا ہے، اگر اس کي شان سے زيادہ نہيں ہيں اور اس
نے ان ميں فضول خرچي نہيں کي تو ان پر خمس نہيں ہے۔
}(١٧٧٣)جو مال نذر اور کفارہ ميں خرچ کرے وہ سال کے مخارج کا جزو
شمار ہوگا اور اسي طرح جو مال کسي کو بخشتا ہے يا انعام کے طور پر
ديتاہے بشرطيکہ اس کي شان سے زيادہ نہ ہو تو وہ بھي سال کے اخراجات
ميں حساب ہوگا۔
}(١٧٧٤)اگر انسان بيٹي کا جہيز ايک دفعہ تيار نہيںکرسکتا اور مجبور
ہے کہ ہرسال کچھ جہيز تيار کرے يا ايسے شہر ميں ہے کہ جہاں معمولا
ً ہر سال ايک مقدار لڑکي کا جہيز تيار کرتے ہيں کہ جس کا تيار نہ
کرنا معيوب سمجھا جاتا ہے تو اگر درميان سال اس سال کے منافع سے
جہيز خريدے تو اس پر خمس نہيں ہوگا۔
}(١٧٧٥)جو مال حج اور دوسري زيارات کے سفر پر خرچ کرے اگر وہ مال
سواري کي طرح ہوکہ جس کي عين باقي رہ جاتي ہے اور اس کي منفعت سے
استفادہ کيا جاتا ہے تو وہ اس سال کے مخارج ميں شمار ہوگا کہ جس
سال ميں سفر کي ابتدائ کي ہے ۔ اگرچہ اس کا سفر آئندہ سال کے کچھ
حصہ تک طوالت پکڑ جائے۔ ہاں اگر وہ مال خوراک کي طرح ہو کہ استعما
ل کرنے سے ختم ہوجاتا ہے تو اس مقدار کا خمس دے جو بعد والے سال
ميں واقع ہوا ہے۔
}(١٧٧٦)کسب و تجارت سے مال حاصل کرنے والے کے پاس اگرکوئي دوسرا
ايسا مال بھي ہو جس کا خمس واجب نہيں ہوا کرتا ، تو وہ شخص اپنے
سال بھر کے خرچ کا حساب صرف کسب کے منافع سے کرسکتا ہے۔
}(١٧٧٧)اگر منفعت کسب سے کھانے پينے کي جو چيزيں سال بھرکے لئے
خريدي ہيںسال کے آخر ميں بچ جائيں تو ان کا خمس دے۔ اب اگر ان کي
قيمت دينا چاہے اور اس وقت کي قيمت اس کے خريد کے وقت کي قيمت سے
زيادہ ہوجائے تو سال کے آخر کي قيمت کا حساب کرے۔
}(١٧٧٨)اگر کاروباري نفع سے خمس دينے سے پہلے کوئي گھريلو سامان
خريد لے تو اگر دوران سال اس سامان سے اس کي احتياج برطرف ہوجائے
اور اس کو بيچ ڈالے تو واجب ہے کہ اس کا خمس دے اور يہي حکم ہے
زيورات وغيرہ کا اگر اثنائ سال ان زيورات سے تزّين کا وقت گزر
جائے۔
}(١٧٧٩)اگر کسي سال اسے نفع حاصل نہ ہوا تو اس سال کے اخراجات آنے
والے سال کے منافع سے کسر نہيں کرسکتا۔
}(١٧٨٠)اگر ابتدائ سال ميں کوئي نفع نہيں ہوا اوراصل پونجي سے خرچ
کرتا رہا اور سال پورا ہونے سے پہلے نفع حاصل ہوا تو جتني مقدار
سرمايہ سے صرف کي ہے اس کو منافع سے پورا کرسکتا ہے۔
}(١٧٨١)اگر اصل سرمايہ کا کچھ حصہ تلف ہوجائے اور بقيہ سے نفع
کمائے جو کہ سال کے خرچ سے بچ جائے تو جتني مقدار پونجي سے کم ہوئي
ہے وہ نفع سے نہيں لے سکتا ، البتہ وہ سرمايہ جو باقي رہ گيا ہے
اگر اس سے کوئي کاروبار نہ ہوسکتا ہو جو کہ اس کي پوزيشن کے مطابق
ہو يا جو نفع اس سے حاصل ہوتا ہے وہ اس کے سال کے خرچ کے لئے کافي
نہيں تو پھر جو کمي سرمايہ ميں آئي ہے اس کو منافع سے پورا کرسکتا
ہے۔
}(١٧٨٢)اگر سرمائے کے علاوہ کوئي اور چيز تلف ہوجائے تو وہ اس نفع
سے وہ چيز نہيںحاصل کرسکتا البتہ اگر اسي سال اس چيزکي ضرورت آپڑے
تو پھر دوران سال کاروبار کے منافع سے اس کو حاصل کرسکتا ہے۔
}(١٧٨٣)اگر ابتدائ سال ميں اپنے اخراجات کے لئے قرض لے اور سال
پورا ہونے سے پہلے نفع حاصل کرے تو مقدار قرض اس نفع سے منہا
کرسکتا ہے۔
}(١٧٨٤)اگر سال بھر نفع نہ ہوا اور اپنے اخراجات کے لئے قرض ليتا
رہا تو آئندہ سالوں کے منافع سے اپنا قرض ادا کرسکتا ہے۔
}(١٧٨٥)اگر مال ميں زيادتي کے لئے يا ايسي جائيداد خريدنے کے لئے
کہ جس کي ضرورت نہيں قرض لے لے تو کاروبار کے نفع سے اس قرض کو ادا
نہيں کرسکتا۔ البتہ جو مال اس نے قرض ليا تھا يا جو چيز اس قرض سے
خريدي تھي اگر تلف ہوجائے اور اس بات پر مجبور ہوجائے کہ اپنا قرض
ادا کرے تو پھر کاروبار کے نفع سے وہ قرض ادا کرسکتا ہے۔
}(١٧٨٦)احتياط واجب يہ ہے کہ مال مخلوط بالحرام (يعني جو حلال مال
حرام سے مل جائے اور ايک دوسرے کي تميز نہ ہو) کا خمس اس عين مال
سے ادا کرے البتہ اس کے علاوہ جتنے خمس ہيں وہ عين مال سے بھي دے
سکتا ہے اور اس مال کي قيمت کے برابر رقم بھي ادا کرسکتا ہے۔
}(١٧٨٧)جب تک کسي مال کا خمس ادا نہ کرے اس مال ميں تصرف نہيں
کرسکتا اگرچہ خمس دينے کا ارادہ بھي رکھتا ہو۔
}(١٧٨٨)جس شخص کو خمس دينا ہے اس کے لئے جائز نہيں کہ خمس اپنے ذمہ
لے لے يعني اپنے کو خمس لينے والوں کا مقروض جان لے اور اس مال ميں
تصرف شروع کردے اور اگر اس نے تصرف کيا اور مال تلف ہوگيا تب بھي
اسے خمس دينا پڑے گا۔
}(١٧٨٩)جس کو خمس دينا ہے اگر حاکم شرع سے مصالحت کرلے تو پھر پورے
مال ميں تصرف کرسکتا ہے اور مصالحت کے بعد جو نفع حاصل ہو وہ اس کا
اپنا ہوگا۔
}(١٧٩٠)اگر دو آدمي آپس ميں شريک ہوں اور ايک اپنے منافع سے خمس
نکالتا ہو اور دوسرا نہ نکالے اور سال ما بعد ميں اس مال کو جس کا
خمس نہيں ديا گيا ہے اپنے شريک کے ساتھ کاروبار ميں شرکت کے لئے
سرمايہ قرار دے تو ان ميں سے کوئي بھي اس مال ميں تصرف نہيں
کرسکتا۔
}(١٧٩١) اگرکسي چھوٹے بچے کے پاس سرمايہ تھا اور اس سے نفع حاصل
ہوا تو احتياط واجب يہ ہے کہ بالغ ہونے پر اس کا خمس ادا کرے۔
}(١٧٩٢)جس مال کے متعلق يقين ہے کہ اس کا خمس ادا نہيں کيا گيا اس
ميں تصرف نہيں کيا جاسکتا البتہ جس مال کے متعلق شک ہو کہ اس کا
خمس ادا ہوا ہے يا نہيں تو اس ميں تصرف کرسکتے ہيں۔
}(١٧٩٣)جس شخص نے ابتدائ تکليف سے خمس ادانہيں کيا اگر وہ کوئي
جائيداد خريدے اور اس کي قيمت بڑھ جائے تو اگر اس نے اس جائيداد کو
اس مقصد کے لئے نہ خريدا ہو کہ اس کي قيمت زيادہ ہوجائے تو اسے بيچ
ڈالوں گا مثلا ً اس نے کوئي زمين زراعت کے لئے خريدي تھي اگر بيچنے
والے کو وہ رقم دي ہے کہ جس کا خمس ادانہيں کيااور اس سے کہا کہ يہ
جائيداد اس رقم سے خريد رہا ہوں تو اگر حاکم شرع اس کے پانچويں حصہ
کي اجازت دے دے تو خريدار اس جائيداد کي قيمت کا پانچواں حصہ
اداکرے اور يہي حکم ہے احتياط واجب کي بنا پر اس چيز ميں بھي جس کے
خريدتے وقت يہ ارادہ رکھتا ہو کہ اس کي قيمت اس مال سے ادا کروں گا
کہ جس کا خمس ادا نہيں کيا گيا ہے۔
}(١٧٩٤)جس شخص نے ابتدائ تکليف سے خمس ادا نہيں کيا اگر وہ
کاروباري نفع سے کوئي ايسي چيز خريدے کہ جس کي اسے ضرورت نہ ہو اور
اس کي خريد کے بعدايک سال گزر جائے تو اس کا خمس ادا کرے اور اگر
گھر کا سامان يا کوئي اور چيز خريدے کہ جس ميں نفع حاصل ہوا ہے تو
اس کے خمس دينے کي ضرورت نہيں اور اگر يہ معلوم نہ ہو کہ دورانِ
سال خريداہے يا سال ختم ہونے کے بعد تو احتياط واجب يہ ہے کہ حاکم
شرع کے ساتھ مصالحت کرے۔
#٢۔ معدن (کان )
}(١٧٩٥)اگر سونا چاندي پيتل تانبا لوہا مٹي کا تيل ، پھٹکري کوئلے
، فيروزہ ، عقيق يا اس قسم کي دوسري چيزوں کي کان سے کوئي چيز اس
کے ہاتھ آجائے بشرطيکہ وہ بمقدار نصاب ہو تو اسکا خمس دينا پڑے گا۔
}(١٧٩٦)کان کا نصاب بنا بر احتياط ١٠٥ مثقال عادي چاندي يا ١٥
مثقال چاندي يا ١٥ مثقال سوناہو جو ہمارے حساب سے ٤٢ تولہ چاندي
سکہ دار يا ٦ تولہ سونا سکہ دار ہے (مترحم) تو احتياط واجب يہ ہے
کہ اس کا خمس ادا کيا جائے۔
}(١٧٩٧)جو فائدہ کان سے حاصل کيا گيا ہے اگر اس کي قيمت ١٠٥ مثقال
چاندي يا ١٥ مثقال سونے کے برابر نہ ہو تو اس پر خمس اس صورت ميں
واجب ہے جب صرف يہ مال يا دوسرے کاروبار کي منفعت کا مجموعہ اس کے
مصارف سال سے بڑھ جائے۔
}(١٧٩٨)گچ، چونا ، نمکين مٹي اور سرخ مٹي چونکہ ممکن ہے کہ کان کا
حکم رکھتي ہو تو اگر احتياطا ً ان کا خمس سال کے اخراجات سے پہلے
ادا کرے تو بہت اچھا ہے ۔
}(١٧٩٩)جس کو کان سے کوئي چيز حاصل ہوئي اس کا خمس ادا کرے چاہے
کان زمين کے اوپر ہو يا نيچے ۔ ايسي زمين ميں ہو جو کسي کي ملکيت
ہے يا جس کا کوئي مالک نہ ہو۔
}(١٨٠٠)اگر انسان کو يہ معلوم نہ ہو کہ جو چيزميں نے کان سے نکالي
ہے اس کي قيمت ١٠٥ مثقال چاندي يا ١٥ مثقال سونے کے برابر ہے يا
نہيں تو احتياط واجب يہ ہے کہ وزن کرنے سے يا کسي اور طريقہ سے اس
کي قيمت معلوم کرے۔
}(١٨٠١)اگر چند آدمي کوئي چيز کان سے نکاليں تو وہ اخراجات جو اس
کو حاصل کرنے کے لئے ہوئے ہيں۔ انہيں نکالنے کے بعد اگر ہر ايک کا
حصہ ١٠٥ مثقال چاندي يا ١٥ مثقال سونے کے برابر ہے تو ان کو اس کا
خمس ادا کرنا چاہيے۔
}(١٨٠٢)اگر ايسي کان سے کچھ نکالے جو کسي کي ملک ميں ہو تو جوکچھ
بھي اس کو ملا ہے، وہ مالک زمين کا ہے اور چونکہ مالک نے اس کے
نکالنے پر کچھ خرچ نہيںکيا لہذا تمام اس چيز کا خمس ادا کرے جو کہ
کان سے نکلي تھي۔
#٣۔ گنج (خزانہ)
}(١٨٠٣)خزانہ وہ مال ہے جو زمين ، درخت ، پہاڑ ي يا ديوار ميں چھپا
ہوا ہو اور کوئي اسے پالے اور وہ اس طرح ہو کہ اسے گنج (خزانہ) کہا
جاسکے۔
}(١٨٠٤)اگر انسان کسي زمين ميں سے خزانہ حاصل کرے جو کسي کي ملکيت
نہيں تو وہ اس کا اپنا مال ہوگا اور اس کا خمس دينا پڑے گا۔
}(١٨٠٥)خزانے کا نصاب احتياط کي بنا ئ پر ايک سو پانچ مثقال چاندي
يا پندرہ مثقال سونا ہے يعني اگر اس چيزکي قيمت جو خزانہ سے ملي ہے
ان اخراجات کے بعد جو اسے حاصل کرنے ميں کئے گئے ہيں ١٠٥ مثقال
چاندي يا ١٥ مثقال سونے کے برابر جو کہ ٤٢ تولہ چاندي اور ٦ تولہ
سونا بنتا ہے تو احتياط واجب يہ ہے کہ اس کا خمس دے۔
}(١٨٠٦)اگر کسي ايسي زمين ميںجو کہ کسي شخص سے خريدي ہے کوئي خزانہ
مل جائے اور اسے يہ معلوم ہو کہ يہ ان لوگوں کا مال نہيںجو مجھ سے
پہلے اس کے مالک تھے تو يہ اس کا اپنا ہي ملک ہوگا اور اسے اس کا
خمس دينا پڑے گا۔البتہ اگر يہ احتمال ہو کہ ان ميں سے کسي ايک کا
ہے تو اس کو اطلاع دے۔ اب اگر يہ معلوم ہوجائے کہ اس کا مال نہيں
تو اس سے پہلے والے مالک کو اطلاع دے اور اسي ترتيب سے تمام ان
لوگوںکو مطلع کرے جو اس سے پہلے اس زمين کے مالک تھے اب اگر معلوم
ہوا کہ ان ميں سے کسي کا ملک نہيں تو اپنا ہي ملک سمجھ کر اس کا
خمس اداکرے۔
}(١٨٠٧)اگر متعدد برتنوں ميں سے جو کہ ايک جگہ دفن ہيں کچھ مال ملے
کہ جس کي مجموعي قيمت ايک سو پانچ مثقال چاندي يا پندرہ مثقال سونا
ہو تو احتياط واجب يہ ہے کہ اس کا خمس ادا کرے البتہ اگر چند جگہوں
سے خزانہ حاصل ہوتو ان ميں سے جس کي قيمت اس مقدار کے برابر ہو تو
احتياط واجب يہ ہے کہ اس کا خمس دے اور جس کي قيمت اس مقدار کو نہ
پہنچے اس پر کوئي خمس نہيں۔
}(١٨٠٨)اگر دو آدميوںکو خزانہ ملے کہ ان ميں سے ہر ايک کے حصے کي
قيمت ١٠٥ مثقال چاندي يا ١٥ مثقال سونا ہو تو دونوں کو خمس ادا
کرنا چاہيے۔
}(١٨٠٩)اگر کوئي شخص ايک جانور خريدے اور اس کے پيٹ سے کوئي مال
ملے تو اگر يہ احتمال ہوکہ يہ بيچنے والے کا مال ہے تو احتياط واجب
يہ ہے کہ اسے اطلاع دے اور اگر معلوم ہوجائے کہ اس کي ملکيت نہيں
تو ترتيب وار پہلے مالکوں کو اطلاع دے ۔ اب اگر معلوم ہوجائے کہ ان
ميں سے کسي کا ملک نہيں تو اب اگرچہ اس کي قيمت ١٠٥ مثقال چاندي يا
١٥ مثقال سونے سے کم ہو تو احتياط واجب ہے کہ اس مال کا خمس ادا
کرے۔
#٤۔ مال حلال مخلوط بحرام
}(١٨١٠)اگر حلال مال حرام کے ساتھ اس طرح مل جائے کہ انسان ان ميں
سے ايک کو دوسرے سے تميز نہ کرسکے اور مالک مال کو مال حرام اور اس
کي مقدار بھي معلوم نہ ہو تو تمام مال کا خمس دے اور خمس دينے کے
بعد باقي مال حلال ہوجائے گا۔
}(١٨١١)اگر حلال مال حرام سے مل جائے اورانسان کو حرام کي مقدار
معلوم ہو ليکن اس کے مالک کو نہ پہچانتا ہو تو اتني مقدار مالک کي
طرف سے بطور صدقہ دے دے اور احتياط واجب يہ ہے کہ حاکم شرع سے
اجازت بھي لے۔
}(١٨١٢)اگر حلال مال حرام سے مل جائے اور انسان کو حرام کي مقدار
معلوم نہ ہو ليکن مالک کو پہچانتا ہو تو ايک دوسرے کو راضي کريں
اگر مالک مال راضي نہ ہو تو اگر انسان کو معلوم ہوکہ يہ معين چيزتو
اس کي ملکيت ہے ليکن اس سے زيادہ اس کي ملکيت ہے کہ نہيں، اس ميں
شک ہو، تو جس مقدار کا يقين ہو وہ اس کو دے دے اور احتياط مستحب يہ
ہے کہ وہ زيادہ مقدار جس کے متعلق احتمال ہے کہ اس کي ملکيت ہے وہ
اس کو دے دے۔
}(١٨١٣)اگر اس حلال مال کا خمس جو حرام سے ملا ہوا ہے دے دے اور
بعد ميں اسے معلوم ہو کہ حرام کي مقدار خمس سے زيادہ تھي تو احتياط
مستحب يہ ہے کہ جتني مقدار کے متعلق اسے علم ہے کہ يہ خمس سے زيادہ
ہے وہ مالک کي طرف سے بطور صدقہ دے دے۔
}(١٨١٤)اگر مال حلال جو حرام سے ملا ہوا ہے کا خمس دے دے يا وہ مال
کہ جس کے مالک کو نہيں پہچانتا مالک کي طرف سے صدقہ دے دے اس کے
بعد مالک مل جائے تو احتياط واجب يہ ہے کہ اس کے مال کي مقدار اسے
دے دے۔
}(١٨١٥)اگر مال حلال حرام سے مل جائے اور حرام کي مقدار معلوم ہو
اور انسان کو يہ علم ہو کہ اس کا مالک ان چند اشخاص ميں سے کوئي
ايک ہے ليکن اس کا تعين نہ ہو سکے تو قرعہ ڈالے اور جس کے نام پر
قرعہ نکلے مال اس کے حوالے کردے۔
#٥۔ وہ جواہرات جو دريا ميں غوطہ لگانے سے حاصل ہوں
}(١٨١٦)اگر غوطہ لگانے سے موتي ، مونگے يا اس قسم کے اور جواہرات
دريا سے مليں جو کہ دريا ميں غوطہ لگانے سے ہي حاصل ہوتے ہيں،
نکالي ہوئي چيز چاہے اگنے والي ہو يا معدني تو اگر باہر نکالنے کے
اخراجات کم کرنے کے بعد اس کي قيمت اٹھارہ نخود (چنے کے دانے کے
برابر) سونا ہو تو اس کا خمس ديا جائے چاہے ايک ہي دفعہ اسے دريا
سے نکالا گيا ہو يا کئي مرتبہ اور جو کچھ دريا سے نکالا ہے وہ ايک
جنس سے ہو يا مختلف اجناس سے البتہ اگر چند افراد نکاليں تو جس کے
حصے کي قيمت ١٨ نخود سونا ہے صرف اسي کو خمس دينا پڑے گا۔
}(١٨١٧)اگر دريا ميں غوطہ لگانے کے بغير کسي اور ذريعہ سے جواہرات
باہر نکالے اور اخراجات کم کرنے کے بعد ان کي قيمت ١٨ نخود سونے کے
برابر ہو تو احتياط واجب يہ ہے کہ اس کا خمس دے البتہ اگر دريا کے
اوپر سے يا کنارے سے جواہرات پکڑے تو اس صورت ميںخمس دينا پڑے گا
جبکہ يہ کام اس کا شغل ہو اور صرف اسي کام سے يا دوسري منفعتوں کے
ساتھ سال بھر کے اخراجات سے زيادہ ہو۔
}(١٨١٨)مچھلي اور اس قسم کے دوسرے حيوانات جن کو بغير غوطہ خوري کے
دريا سے حاصل کيا جاتا ہے، ان پر صرف اس صورت ميں خمس واجب ہوگا جب
ان کو کاروبار کے لئے حاصل کيا جائے اور صرف اس کام کے منافع يا
دوسرے کسب کے منافع کے ساتھ ملا کر سال بھر کے خرچ سے زيادہ ہو۔
}(١٨١٩)اگر بغير اس ارادے کے کہ وہ دريا سے کوئي چيز نکالے دريا
ميں غوطہ لگائے اور اتفاقا ً کچھ جواہرات اس کے ہاتھ آجائيں تو اگر
وہ قصد کرے کہ يہ چيز اس کي ملکيت ہے تو اس کا خمس ادا کرے۔
}(١٨٢٠)اگر انسان دريا ميں غوطہ لگائے اور کوئي جانور باہر نکالے
اور اس کے شکم ميں سے کوئي جوہر نکل آئے کہ جس کي قيمت ١٨ نخود
سونا يا اس سے زيادہ ہو تو اگر وہ جانور صدف جيسا ہو جس کے شکم ميں
عموما ً جوہر ہوتا ہے تو اس کا خمس ادا کرے اور اگر اتفاقاً اس
جانور نے جوہر نگلا ہو تو احتياط يہ ہے کہ اس پر خزانے والا حکم
جاري کيا جائے۔
}(١٨٢١)اگر دجلہ و فرات جيسے بڑے بڑے درياو ں ميں غوطہ لگا کر
جواہر نکالے اور وہ دريا ايسے ہوں کہ جن ميں جواہر بنا کرتے ہيں تب
اس کا خمس نکالنا چاہيے۔
}(١٨٢٢)اگر پاني ميں غوطہ لگائے اور کچھ عنبر نکالے کہ جس کي قيمت
١٨ نخود سونا يا اس سے بيشتر ہے تو اس کاخمس دے اور اگر پاني کي
سطح يا کنارے سے اس کے ہاتھ آئے اب اگر اس کي قيمت ١٨ نخود سونا
بھي نہ ہو تو اس کا اگر يہ کاروبار ہے اور صرف اسي کاروبار يا
دوسرے منافع کے ذريعہ سے اس کے سال کے خرچ سے کچھ بچ جائے تو اس کا
خمس دے۔
}(١٨٢٣)جس شخص کا کاروبار غوطہ لگانا يا کانيں نکالنا ہے اگر وہ اس
کا خمس ادا کرے اور پھر اس کے سال کے خرچہ سے بھي کچھ بچ جائے تو
ضروري نہيں کہ دوبارہ اس کا خمس دے۔
}(١٨٢٤)اگر کوئي بچہ کان نکالے يا اس کے پاس مال حلال جو حرام سے
ملاہوا ہے موجود ہو يا کوئي خزانہ اسے مل جائے يا دريا ميں غوطہ
لگانے سے کوئي موتي نکالے تو اس کا ولي اس کا خمس ادا کرے۔
#٦۔ غنيمت
}(١٨٢٥)اگر مسلمان بحکم امام عليہ السلام کفار سے جنگ کريں تو جو
بھي چيز اس جنگ ميںان کے ہاتھ آئے اس کو مال غنيمت کہا جاتا ہے اور
جو اخراجات اس غنيمت کے لئے کئے گئے ہيں مثلا ً اس کي حفاظت ، حمل
و نقل وغيرہ ميں جو صرف ہوا ہے اور وہ مقدار جسے امام مناسب سمجھتے
ہوئے صرف فرمائيں اور وہ چيزيں جو صرف امام ہي سے مخصوص ہيں ان سب
چيزوں کو مال غنيمت سے الگ کرکے بقيہ مال کا خمس نکالنا چاہيے۔
#وہ زمين جو کافر ذمي کسي مسلمان سے خريدے
}(١٨٢٦)اگر کافر ذمي کسي مسلمان سے کوئي زمين خريدے تو اس کا خمس
اسي زمين سے ادا کرے اور اگر اس کي قيمت بھي دے دے تو کوئي حرج
نہيں البتہ نقدي کے علاوہ کچھ دينا چاہے تو اس ميں حاکم شرع کي
اجازت ضروري ہے اور اسي طرح اگر مکان دو کان اور اس قسم کي کوئي
چيزکسي مسلمان سے خريدے تو اگر زمين کي قيمت الگ کرکے بيچا گياہوتو
اس زمين کا خمس دے اور اگر گھر اور دوکان کو بيچے اور زمين اس کے
ضمن ميں منتقل ہو تو اس زمين پر خمس نہيں ہے اور اس خمس دينے ميں
قصد قربت بھي ضروري نہيں بلکہ حاکم شرع جب يہ خمس لے رہا ہو تو اس
کے لئے بھي يہ ضروري نہيں کہ قصد قربت کرے۔
}(١٨٢٧)کافر ذمي جو زمين کسي مسلمان سے خريدے اگر کسي دوسرے مسلمان
ہي کے ہاتھ بيچ ڈالے اس کو زمين کا خمس دينا پڑے گا اور اگر کافر
ذمي مرجائے اور يہ زمين کسي مسلمان کو اس کے ترکہ ميںملے تو اس کا
خمس اسي زمين سے يا اس کے اور مال سے ادا کريں۔
}(١٨٢٨)اگر کافر ذمي زمين خريدتے وقت شرط کرے کہ اس کا خمس نہيں دے
گا يا يہ شرط کرے کہ اس کا خمس بيچنے والا دے گا تو اس کي شرط صحيح
نہيں اور اس کا خمس ادا کرنا چاہيے۔ البتہ اگر يہ شرط کرے کہ بيچنے
والا خمس کي مقدار کافر ذمي کي طرف سے خمس لينے والوں کو ادا کرے
تو اس ميں کوئي اشکال نہيں ۔
}(١٨٢٩)اگر مسلمان کوئي زمين خريد و فروخت کے بغير کافر کي ملک
قرار دے اور اس کا عوض لے لے مثلا ً اس کے ساتھ مصالحت کرے تو
احتياط واجب يہ ہے کہ کافر ذمي اس کا خمس دے۔
}(١٨٣٠) اگر کافر ذمي بچہ ہو اور اس کا ولي اس کے لئے زمين خريدے
تو احتياط واجب يہ ہے کہ بالغ ہونے کے بعد زمين کا خمس اس سے ليا
جائے۔
#مصرف خمس
}(١٨٣١)خمس دو حصوں ميں تقسيم کيا جائے ايک حصہ سہم سادات ہے اس
ميں احتياط واجب يہ ہے کہ وہ مجتہدين جامع الشرائط کي اجازت سے
فقير سيد يا يتيم سيد يا اس سيد کو ديا جائے جو سفر ميں بے خرچ ہو
جائے اور دوسرا آدھا حصہ سہم امام عليہ السلام ہے جو اس زمانہ
ميںمجتہد جامع الشرائط کو ديا جائے يا ايسے مصرف ميں صرف کيا جائے
کہ جس کي اجازت وہ مجتہد دے دے۔ البتہ اگر انسان اس مجتہد کو دينا
چاہے کہ جس کي وہ تقليد ميں نہيں ہے تو اس صورت ميں اس کو اجازت دي
جاتي ہے کہ جب دينے والے کو علم ہو کہ وہ مجتہد اور جس مجتہد کي وہ
تقليد کرتا ہے دونوں سہم امام کو ايک ہي طريقہ پر صرف کرتے ہيں۔
}(١٨٣٢)جس يتيم سيد کو خمس دينا چاہيں اس کا فقير ہونا شرط ہے
البتہ اگر کوئي سيد سفر ميں تنگ دست ہو اور پريشان ہو تو اس کو خمس
ديا جاسکتا ہے، چاہے وہ اپنے وطن ميں فقير نہ بھي ہو۔
}(١٨٣٣) جو سيد عادل نہيں ہے اسے خمس ديا جاسکتا ہے البتہ وہ سيد
جو اثنا عشري نہيں ہو اس کو خمس نہيں دينا چاہيے۔
}(١٨٣٤)وہ سيد جو سفر ميں بے خرچ ہوگيا ہے اگر اس کا سفر، سفر
معصيت ہو تو اس کو خمس نہ ديا جائے۔
}(١٨٣٥)اگر گناہ گار سيد کے لئے خمس دينا معصيت ميں تقويت کا سبب
بنتا ہو تو اسے خمس نہيںديا جاسکتا اور جو سيد عليٰ الاعلان گناہ
کرتا ہے اگرچہ اسے خمس دينا اعانت گناہ نہ ہو تب بھي احتياط واجب
يہ ہے کہ اسے خمس نہ ديا جائے۔
}(١٨٣٦) اگر کوئي شخص کہتا ہے کہ ميں سيد ہوں تو اسے خمس نہيں ديا
جاسکتا جب تک کہ دو عادل اس کے سيد ہونے کي تصديق نہ کريں يا لوگوں
کے لئے اس طرح معروف ہو کہ انسان کو يقين يا اطمينان پيدا ہوجائے
کہ يہ سيد ہے۔
}(١٨٣٧)جو شخص اپنے شہر ميں سيد مشہور ہے تو اگرچہ کسي انسان کو اس
کو اس کے سيد ہونے کا يقين نہ ہو تب بھي اسے خمس دے سکتا ہے۔
}(١٨٣٨)جس کي بيوي سيداني ہو تو احتياط واجب يہ ہے کہ وہ اس کو
اپنا خمس نہ دے جب کہ وہ اسے اپنے مصارف ميں صرف کرے البتہ اگر اس
سيداني پر دوسرے لوگوں کے اخراجات واجب ہوں اور وہ ان کے اخراجات
نہيںدے سکتي تو پھر جائز ہے کہ انسان اس عورت کو خمس دے تاکہ وہ ان
پر صرف کرے۔
}(١٨٣٩)اگر کسي سيداني کے اخراجات کسي پر واجب ہوں اور وہ اس کي
بيوي نہ ہو تو احتياط واجب يہ ہے کہ وہ خمس سے اس کا خوراک پوشاک
نہيں دے سکتا البتہ اگر کچھ خمس کي رقم اس سيداني کي ملکيت کردے کہ
وہ انہيں دوسرے اخراجات ميں صرف کرے جو کہ خمس دينے والے پر واجب
نہيں ہيں تو اس ميں کوئي حرج نہيں ۔
}(١٨٤٠)جس فقير سيد کے اخراجات کسي دوسرے شخص پر واجب ہيں اور وہ
اس سيد کے اخراجات نہيں دے سکتا تو اس سيد کو خمس ديا جاسکتا ہے۔
}(١٨٤١)احتياط واجب يہ ہے کہ ايک سال کے اخراجات سے زيادہ کسي فقير
سيد کو خمس نہيں ديا جاسکتا۔
}(١٨٤٢)اگر کسي کے شہر ميں کوئي سيد مستحق نہ ہواور يہ احتمال بھي
نہيں رکھتا کہ يہاں کوئي مل جائے گا يا خمس کي رقم کا محفوظ رکھنا
مستحق کے ملنے تک محدود نہ ہو تو وہ خمس کسي دوسرے شہر ميں لے جائے
اور مستحق تک پہنچائے اور احتياط يہ ہے کہ خمس کے دوسرے شہر ميں لے
جانے کے اخراجات خمس ميں سے نہ دے اور اگر خمس تک پہنچائے اور
احتياط يہ ہے کہ خمس کے دوسرے شہر ميں لے جانے کے اخراجات خمس ميں
سے نہ دے اور اگر خمس تلف ہوجائے تو اس کي حفاظت ميں اس نے کوتاہي
کي ہے تو اس کا عوض دے اور اگر کوتاہي نہيں کي تو پھر اس پر کوئي
چيز واجب نہيں۔
}(١٨٤٣)اگر اس کے شہر ميں کوئي مستحق نہيں ليکن احتمال ديتا ہے کہ
شايد کوئي مل جائے تو اگرچہ مستحق کے ملنے تک خمس کي حفاظت ممکن ہو
تو بھي خمس دوسرے شہر ميں لے جاسکتا ہے۔ اب اگر خمس کي حفاظت
ميںکوتاہي نہيں کي اور وہ تلف ہوگيا تو اس کو کچھ نہيں دينا ہوگا
البتہ خمس کے لے جانے کا خرچہ خمس سے نہيں لے سکتا۔
}(١٨٤٤)اگر اس کو اپنے شہر ميں مستحق مل جائے تو بھي خمس دوسرے شہر
کي طرف لے جاسکتا ہے اور وہاں کسي مستحق کو دے سکتا ہے البتہ لے
جانے کا خرچہ خود ادا کرے اور اگر خمس تلف ہوجائے توا گرچہ اس کي
حفاظت ميں کوتاہي نہ کي ہوتب بھي وہ ضامن ہے۔
}(١٨٤٥)اگر حاکم شرع کي اجازت سے خمس دوسرے شہر لے جائے اور وہ تلف
ہوجائے تو پھر دوبارہ خمس دينے کي ضرورت نہيں اور يہي حکم ہے
اگرکسي ايسے شخص کو دے جو حاکم شرع کي طرف سے خمس لينے ميں وکيل ہے
اور وہ اس شہر سے دوسرے شہر کي طرف لے جائے۔
}(١٨٤٦)اگر خمس اس مال سے نہ دے بلکہ حاکم شرع کي اجازت سے کسي
دوسري جنس سے ادا کرے تو اس جنس کي واقعي قيمت کا حساب لگائے۔ اب
اگر قيمت واقعي سے مہنگا حساب کيا ہے اگر چہ مستحق اس کي قيمت پر
راضي بھي ہوجائے تب بھي جتني مقدار زيادہ حساب کياہے وہ اس کو دينا
پڑے گا۔
}(١٨٤٧)اگرکوئي مستحق خمس سے اپنا قرض خمس کے حساب پر وصول کرنا
چاہتا ہے تو احتياط واجب يہ ہے کہ پہلے خمس مستحق کے ہاتھ ميں دے
دے پھر اس سے اپنا قرض واپس لے لے۔ البتہ اگر حاکم شرع کي اجازت سے
يہ کام انجام پايا ہے تو يہ احتياط ضروري نہيں۔
}(١٨٤٨)مستحق خمس لے کر مالک کو نہيں بخش سکتا البتہ اگر کسي کے
ذمہ کافي مقدار ميں خمس باقي ہے اور وہ فقير ہوچکا ہو اور اسے مال
دار ہونے کي اميد بھي نہ ہو اور وہ چاہے کہ مستحقين کا مقروض نہ
رہے تو اگر مستحق راضي ہوجائے کہ خمس اس سے لے کر اسے بخش دے تو اس
ميں کوئي اشکال نہيں۔
}(١٨٤٩)اگر خمس حاکم شرع سے يا اس کے وکيل سے يا کسي سيد سے دست
گردان کرے (يعني اس کے ہاتھ ميں دے اور وہ قبض کرنے کے بعد بطور
قرض اسے واپس کردے) اور چاہے کہ دوسرے سال اس کو ادا کرے تو اس قرض
کو اس سال کے منافع سے ادا نہيں کرسکتا۔ پس اگر مثلا ً ايک ہزار
روپيہ دست گردان کرايا اور دوسرے سال کے نفع ميں اس کے اخراجات سے
دو ہزار روپيہ بچ گئے تو پہلے ان دو ہزار کا خمس ادا کرے اور وہ
ہزار روپے جو خمس کے حساب سے قرض دار ہے بقيہ ميں ادا کرے۔ |