روزے کے احکام

نيت
وہ چيزيں جو روزہ کو باطل کرديتي ہيں
١۔ کھانا اور پينا
٢۔ جماع
٣۔ استمنائ
٤۔ خدا اور رسول
۰ پر جھوٹ بولنا
٥۔ گرد و غبار ِ غليظ کا حلق تک پہنچانا
٦۔ سر کو پاني ميں ڈبونا
٧۔ جنابت ، حيض اور نفاس پر اذان صبح تک باقي رہنا
٨۔ حقنہ کرنا (دستوري)
٩۔ قے کرنا
روزے کو باطل کرنے والي چيزوں کے احکام
روزہ کا کفارہ
قضا روزہ کے احکام
مسافر کے روزوں کے احکام
وہ اشخاص جن پر روزہ رکھنا واجب نہيں
حرام اور مکروہ روزے
مستحبي روزے

#روزے کے احکام
روزہ يہ ہے کہ اللہ تعاليٰ کے فرمان کو بجالانے کے لئے اذان صبح سے لے کرمغرب تک ان چيزوںسے جو روزہ کو توڑتي ہیں اور جن کي تفصيل بعد ميں آئے گي پرہيز کرے۔
#نيت
}(١٥٤٧) روزہ کي نيت کو دل سے گزارنا يا مثلا ً کہنا کہ کل روزہ رکھوں گا ضروري نہيں بلکہ وہ اللہ کي فرمانبرداري کے لئے اذان صبح سے لے کر مغرب تک وہ کام نہ کرے کہ جو روزہ کو باطل کرديتے ہيںتو کافي ہے البتہ اس بات کا يقين پيدا کرنے کے لئے کہ اس نے اس پوري مدت کا روزہ رکھا ہے چاہے کہ صبح کي اذان سے پہلے اور کچھ دير مغرب کے بعد تک وہ چيزيں چھوڑے رکھے جو کہ روزہ کو باطل کرديتي ہے۔
}(١٥٤٨)انسان ماہ رمضان ميں ہر رات اس کے آنے والے دن کے روزے کي نيت کرسکتا ہے۔ ليکن بہتر يہ ہے کہ ماہ مبارک کي پہلي رات کو بھي سارے مہينے کے روزوں کي نيت کرلے۔
}(١٥٤٩) ماہ رمضان کے روزہ کي نيت کا کوئي معين وقت نہيں ہے اذان صبح تک جب بھي کل کے روزے کي نيت کرے اس ميں اشکال نہيں۔
}(١٥٥٠) مستحبي روزہ کي نيت کا وقت رات کے شروع ہونے سے لے کر دوسرے دن مغرب ہونے سے پہلے اتني دير تک ہے کہ وہ نيت کرسکے تو اگر مغرب سے پہلے نيت کرنے کي مقدار تک کوئي ايسا کام نہ کيا ہوکہ جس سے روزہ باطل ہوتا ہے اور وہ اس وقت مستحبي روزہ کي نيت کرلے تو روزہ صحيح ہوگا۔
}(١٥٥١) جو شخص اذان صبح سے پہلے روزہ کي نيت کئے بغير سوجائے اگر ظہر سے پہلے جاگے اور نيت کرلے تو اس کا روزہ صحيح ہے چاہے واجب ہو يا مستحب۔ ہاںاگر ظہر کے بعد بيدار ہو تو پھر واجبي روزہ کي نيت نہيں کرسکتا۔
}(١٥٥٢) اگر رمضان کے علاوہ کوئي اور روزہ رکھنا چاہے تو اس روزہ کو معين کرے مثلاً نيت کرے کہ قضا کا روزہ يا نذر کا روزہ رکھتا ہوں ليکن ماہ رمضان ميں يہ ضروري نہيں کہ نيت کرے کہ ميں رمضان کا روزہ رکھتا ہوں بلکہ اگر اسے معلوم نہ ہو کہ ماہ رمضان ہے يا بھول جائے اور کسي اور روزہ کي نيت کرلے تو وہ روزہ ماہ رمضان کا شمار ہوگا۔
}(١٥٥٣)اگر علم ہو کہ رمضان کا مہينہ ہے اور پھرکسي اور روزے کي نيت کرلے تو پھر وہ روزہ نہ رمضان کا شمار ہوگا اور نہ ہي وہ روزہ کہ جس کا اس نے قصد کيا تھا۔
}(١٥٥٤) اگر رمضان کي پہلي تاريخ سمجھ کر کوئي پہلي کي نيت سے روزہ رکھ لے ليکن بعد ميں اسے معلوم ہوجائے کہ دوسري يا تيسري تھي تو اس کا روزہ صحيح ہے۔
}(١٥٥٥)اگر اذان صبح سے پہلے نيت کرے اور بے ہوش ہو جائے اور پھر دن کے کسي وقت ہوش ميں آجائے تو احتياط واجب ہے کہ اس روزہ کو تمام کرے اور اگر تمام نہيں کيا تو اس کي قضا دے۔
}(١٥٥٦) اگر صبح کي اذان سے پہلے نيت کرے پھر مست ہوجائے اور اسے دن کے کسي وقت ہوش آجائے تو احتياط واجب ہے کہ اس روزہ کو تمام کرے اور بعد ميں اس کي قضا بھي دے۔
}(١٥٥٧)اگر اذان صبح سے پہلے نيت کرلي پھر سوجائے اور مغرب کے بعد بيدار ہوتو اس کا روزہ صحيح ہے۔
}(١٥٥٨)اگر علم نہ ہو يا بھول جائے کہ ماہ رمضان ہے اور ظہر سے پہلے ملتفت ہوجائے تو اگر کوئي ايسا کام نہ کرچکا ہو جو روزہ کو باطل کرديتا ہے تو نيت کرلے اور اس کا روزہ صحيح ہوگا ليکن اگرکوئي ايسا کام کرچکا ہو جو روزہ کو باطل کرديتا ہے يا يہ کہ ظہر کے بعد اس کو معلوم ہوا ہو کہ ماہ رمضان ہے تو پھر اس کا روزہ تو باطل ہے ليکن پھر بھي وہ مغرب تک کوئي کام ايسا نہ کرے جو روزہ کو باطل کرديتا ہے اور رمضان کے بعد اس کي قضا بھي دے۔
}(١٥٥٩) اگر بچہ اذان صبح سے پيشتر بالغ ہوجائے تو اس دن کا روزہ اس پر واجب ہے اور اگر اذان کے بعدبالغ ہو تو پھر اس دن کا روزہ اس پر واجب نہيں۔
}(١٥٦٠) اگر کوئي شخص کسي ميت کے روزے رکھنے کا اجير ہو تواگر وہ مستحبي روزہ رکھنا چاہيے تو کوئي اشکال نہيں ليکن وہ شخص جس کے ذمہ قضا روزہ يا کوئي اور واجب روزہ ہو تو وہ شخص مستحبي روزہ نہيں رکھ سکتا۔ پس اگر بھول کر مستحبي روزہ رکھ لے تو اگر اس کو ظہر سے پہلے ياد آجائے تو اس کا مستحبي روزہ ختم ہوجائے گا اور اپني نيت کو واجب روزہ کي نيت سے بدل سکتا ہے اور ظہرکے بعد ملتفت ہو تو اس کا مستحبي روزہ باطل ہے اور اگر اسے مغرب کے بعد خبرہو تو پھر اس کا مستحبي روزہ صحيح ہے اگر چہ اشکال سے خالي نہيں۔
}(١٥٦١)اگر ماہ رمضان کے علاوہ کسي معين دن کا روزہ انسان پر واجب ہو مثلا ً نذر ماني ہو کہ فلاں معين دن روزہ رکھوں گا۔ چنانچہ جان بوجھ کر اذان صبح تک نيت نہ کرے تو اس کا روزہ باطل ہوجائے گا اور اگر اس کو علم نہ ہو کہ اس دن کا روزہ اس پر واجب ہے يا بھول چکا ہو اور پھر اسے ظہر سے پہلے ياد آجائے تو اگر وہ کوئي ايسا کام نہ کرچکا ہو جو کہ روزہ کو باطل کرديتا ہے اور روزہ کہ نيت کرے تو اس کا روزہ صحيح ہے ورنہ باطل۔
}(١٥٦٢) اگر کسي واجب غير معين روزے مثلا ً روزہ کفارہ کي نيت جان بوجھ کر ظہر تک نہ کرے اور اس ميں کوئي اشکال نہيں بلکہ اگر نيت سے پہلے اس دن اس کا ارادہ روزہ نہ رکھنے کا ہو يا متردد ہو کہ اس دن روزہ رکھے يا نہيں ۔ اب اگر وہ کوئي ايسا کام نہ کرچکا ہو جو روزہ کو باطل کرتا ہے اور ظہر سے پہلے نيت کرلے تو اس کا روزہ صحيح ہوگا۔
}(١٥٦٣) اگر ماہ رمضان ميں ظہر سے پہلے کافر مسلمان ہوجائے گااور اذان صبح سے اس وقت تک کوئي ايسا کام بھي نہ کرچکا ہو جو روزہ کو باطل کرتا ہے تو وہ روزہ نہيں رکھ سکتا اور اس کي قضا بھي نہيں۔
}(١٥٦٤) اگر بيمار ماہ رمضان کي ظہر سے پہلے ٹھيک ہوجائے اور اذان صبح سے اس وقت تک کوئي ايسا کام نہ کيا ہو جو روزے کو باطل کرتا ہے تو اس کو چاہيے کہ نيت کرے اور اس دن کا روزہ رکھے اور اگر وہ ظہر کے بعد صحت ياب ہو تو پھر اس دن کا روزہ اس پر واجب نہيں۔
}(١٥٦٥)جس دن کے متعلق انسان کو شک ہو کہ يہ دن آخر شعبان ہے يا اوّ ل رمضان تو اس دن کا روزہ رکھنا واجب نہيں اور اگر روزہ رکھنا چاہے تو ماہ رمضان کي نيت سے نہيں رکھ سکتا۔ ہاں اگر قضا يا کسي دوسرے روزے کي نيت کرے اور بعد ميں معلوم ہوجائے کہ وہ دن رمضان کا تھا تو وہ رمضان کا روزہ شمار ہوگا۔
}(١٥٦٦)جس دن کے متعلق شک ہو کہ شعبان کا آخري دن ہے يا رمضان کا پہلا دن اور اس د ن قضا کي نيت سے يا مستحبي روزہ کي نيت سے روزہ رکھ لے اور دن ميں کسي وقت معلوم ہوجائے کہ آج اوّل رمضان ہے تو پھر اس کو روزہ رمضان کي نيت کرني پڑے گي۔
}(١٥٦٧)اگر کسي خاص معين دن کے واجب روزے ميں (جيسے ماہ رمضان )روزے کي نيت سے روگرداني کرے تو اس کا روزہ باطل ہوگا۔ ہاں اگر کوئي شخص نيت کرے کہ وہ کوئي ايسا کام بجالائے کہ جس سے روزہ باطل ہوتا ہے تو اگر اس نے اس کام کو نہيں کيا تو اس کا روزہ باطل نہيں ہوگا۔
}(١٥٦٨) مستحب يا واجب روزہ ميں کہ جس کے لئے کوئي خاص دن مقرر نہيں (مثلا ً کفار ہ کا روزہ )اگر کوئي قصد کرے کہ وہ ايسا کام بجالائے کہ جو روزہ کو باطل کرتا ہے يا وہ متردد ہوجائے کہ وہ ايسا کام کرے يا نہيں تو اگر اس نے وہ کام نہيں کيا اور ظہر سے پہلے دوبارہ روزہ کي نيت کرلي تو اس کا روزہ صحيح ہوگا۔

 
احکام تقليد احکام طہارت احکام نماز  احکام روزہ
احکام خمس   احکام زکواۃ احکام حج خريد و فروخت کے احکام
احکام شرکت احکام صلح اجارہ (کرايہ )کے احکام احکام جعالہ
احکام مزارعہ مساقات (آبياري )کے احکام وہ اشخاص جو اپنے مال ميں خود تصرف نہيں کرسکتےکے احکام احکام وکالت
قرض کے احکام حوالہ (ڈرافٹ)دينے کے احکام رہن کے احکام ضامن بننے کے احکام
کفالت کے احکام وديعت (امانت)کے احکام عاريتاً دينے کے احکام نکاح (شادي بياہ)کے احکام
طلاق کے احکام غصب کے احکام جو مال انسان پالے اس کے احکام جانوروں کے ذبح اور شکار کرنے کے احکام
کھانے پينے کي چيزوں کے احکام نذر اور عہد کے احکام قسم کھانے کے احکام وقف کے احکام
وصيت کے احکام ميراث کے احکام احکام امر بالمعروف اور نہي عن المنکر دفاع کے مسائل و احکام
خاتمہ کے احکام بعض مسائل جو اس زمانے ميں  مورد حاجت ہيں امام خميني کي خدمت ميں چند جديد سوالات اور ان کے جوابات