احکام نماز

 واجب نمازيں ہر دن کي واجب نمازيں  نماز ظہر و عصر کا وقت  نماز مغرب و عشا کا وقت  نماز صبح کا وقت
احکام وقت نماز مستحب نمازيں نوافل يوميہ کا وقت نماز غفيلہ  قبلہ کے احکام
 حالت نماز ميں بدن کا چھپانا  نماز پڑھنے والے کا لباس مکان نمازي وہ جگہيں جہاں نماز پڑھنا مکروہ ہے  احکام مسجد
 اذان و اقامت  اذن اور اقامت کا ترجمہ نماز ميں گيارہ چيزيں واجب ہيں نيت تکبيرۃ الاحرام
 قيام (کھڑا ہونا)  قرائت رکوع سجود  مستحبات و مکروہات سجدہ
قران کے واجب سجدے تشہد سلام نماز  ترتيب قنوت
ترجمہ نماز تعقيبات نماز مبطلات نماز  شکيات نماز نماز احتياط
سجدہ سہو سجدہ سہو کا طريقہ بھولے ہوئے سجدے اور تشہد کي قضا  اجزائ اور شرائط نماز کا کم و زيادہ ہونا  نماز مسافر
متفرق مسائل  نماز قضا نماز جماعت  پيش نماز کے شرائط  جماعت کے احکام
 وہ چيزيں جو نماز جماعت ميں مستحب ہيں  وہ چيزيں جو نماز جماعت ميں مکروہ ہيں  نمازا يات  نمازا يات بجالانے کا طريقہ  اجرت پر نماز پڑھوانا

 احکام نماز
ديني اعمال ميں سے اہم ترين عمل نماز ہے اگر يہ بارگاہ ايزدي ميں قبول ہوئي تو دوسري عبادات بھي قبول ہوں گي اور اگر شرف قبوليت سے نہ نوازي گئي تو باقي اعمال بھي رد کرديئے جائيں گے اور جس طرح اگر دن رات ميں انسان پانچ مرتبہ کسي نہر ميں غسل کرے تو اس کے بدن پر ميل کچيل باقي نہيں رہتي اسي طرح پانچ وقت کي نماز بھي انسان کو گناہوں سے پاک و صاف کرديتي ہے اور بہتر ہے کہ انسان نماز اول وقت ميں بجالائے اور جو شخص نماز کو پست اور سان سمجھے اس شخص کے مانند ہے جس نے نماز نہ پڑھي ہو۔
پيغمبر اکرم
۰ کا ارشاد ہے کہ جو شخص نماز کو اہميت نہ دے اور اس کو خفيف سمجھے وہ خرت کے عذاب کا مستحق ہے۔ ايک دن حضور۰ مسجد ميں تشريف فرما تھے کہ ايک شخص يا اور نماز پڑھنے لگا اور وہ رکوع و سجود پورے طور پر بجا نہ لايا تو حضرت نے فرمايا کہ يہ شخص جب کہ اس کي نماز کي يہ حالت ہے اگر مر جائے تو يہ ميرے دين پر نہيں مرا۔ پس انسان کو چاہيئے کہ نماز عجلت اور تيزي سے نہ پڑھے اورحال نماز ميں ياد خدا خضوع و خشوع اور وقار کے ساتھ ہو اور اس بات کي طرف متوجہ ہو کہ کس ذات سے گفتگو کر رہا ہوںاور اپنے پ کو عظمت و بزرگي خداوند عالم کے سامنے پست و ناچيز سمجھے اور اگر انسان نماز ميں پورے طور پر اس چيز کي طرف توجہ کرے تو وہ اپنے پ سے بے خبر ہوجاتا ہے چنانچہ حالت نماز ميں حضرت امير الممنين حضرت علي ٭ کے پاں سے تير نکالتے ہيں اور نجناب۰ اس کي طرف متوجہ نہيں ہوتے ۔نماز ادا کرنے والے کو چاہيئے کہ وہ توبہ و استغفار کرے اور وہ گناہ جو قبوليت نماز سے مانع ہيں مثلاً حسد، تکبير، غيبت، حرام کھانا، نشہ ور چيزوں کا پينا، خمس و زکوٰۃ نہ دينا بلکہ ہر گناہ ترک کرے اور اسي طرح ايسے کام بھي نہ کرے جو نماز کے ثواب کو کم کرديتے ہيں مثلاً جب نيند رہي ہے يا پيشاب روک کر نماز کے لئے کھڑا ہو اور نماز پڑھتے وقت سمان کي طرف نہ ديکھے اور وہ کام بھي بجا لائے جو نماز کے ثواب کو زيادہ کرتے ہيں مثلاً عقيق کي انگوٹھي ہاتھ ميں پہننا اور صاف ستھرا لباس رکھنا، کنگھي اور مسواک کرنا اور خوشبو لگانا۔
 واجب نمازيں
چھ نمازيں واجب ہيں:
١۔ نماز يوميہ
٢۔ نماز يات
٣۔ نماز ميت
٤۔ نماز طواف واجب خانہ کعبہ
٥۔ ماں باپ کي قضا نمازيں جو بڑے بيٹے پر واجب ہيں۔
٦۔ وہ نماز جو اجارہ، نذر، قسم اور عہد کي وجہ سے واجب ہوگئي ہو۔
ہر دن کي واجب نمازيں
ہر دن کي واجب نمازيں پانچ ہيں:
ظہر و عصر ہر ايک کي چار رکعت
مغرب کي تين رکعت
عشا کي چار رکعت
صبح کي دو رکعت
}(٧٢٨) سفر ميں چار رکعتي نماز ان شرائط کے ساتھ جو بيان کي جائيں گي دو رکعت پڑھے۔
 نماز ظہر و عصر کا وقت
}(٧٢٩) اگر لکڑي يا اس قسم کي چيز کو سيدھا ہموار زمين ميں گاڑ ديا جائے تو جب صبح کے وقت سورج نکلتا ہے تو اس کا سايہ مغرب کي طرف پڑتا ہے او ر جتنا سورج بلند ہوتا جاتا ہے۔ يہ سايہ کم ہوتا جاتا ہے اور ہمارے شہروں ميں ظہر شرعي کے اول وقت ميں سايہ کمي کي خري درجہ تک پہنچ جاتا ہے۔ جب ظہر کا وقت ہوتا ہے تواس کا سايہ مشرق کي طرف پلٹ جاتا ہے اور جتنا سورج مغرب کي طرف ہوتا جائے سايہ زيادہ ہوتا جاتا ہے اس بنا پر سايہ جب کمي کے خري درجہ تک پہنچ جائے اور دوبارہ بڑھنا شروع ہو تو معلوم ہوگا کہ ظہر شرعي کا وقت ہوگيا ہے۔ البتہ بعض شہروں ميں (مثلاً مکہ) کبھي سايہ ظہر کے وقت بالکل ختم ہوجاتا ہے۔ جب دوبارہ سايہ پيدا ہو تو معلوم ہوتا ہے کہ ظہر کا وقت ہوگيا ہے۔
}(٧٣٠) لکڑي يا اسي قسم کي دوسري چيز ظہر کے وقت کو معين کرنے کے لئے زمين پر نصب کي جاتي ہے اسے شاخص کہتے ہيں۔
}(٧٣١) نماز ظہر و عصر ميں سے ہر ايک کا ايک مخصوص اور ايک مشترک وقت ہے۔ نماز ظہر کا مخصوص وقت وہ اول وقت ظہر سے لے کر نماز ظہر کے پڑھ لينے کي مقدار تک ہے اور نماز عصر کا مخصوص وقت وہ ہے جب مغرب سے اتنا وقت باقي رہ جائے کہ نماز عصر پڑھي جاسکے ۔پس اگر کسي شخص نے اس وقت تک عمداً نماز ظہر نہيں پڑھي تو اس کي نماز قضا ہو جائے گي اور وہ نماز عصر پڑھے ليکن اگر کسي نے بھول کر نماز عصر کو مقدم کيا تو وہ نماز ظہر کو ادا کي نيت سے عصر کے وقت اختصاصي ميں بجالائے ۔ نماز ظہر کے مخصوص اور نماز عصر کے مخصوص وقت کے درميان والا حصہ ظہر اور عصر کا مشترک وقت ہے اور اگر کوئي شخص اشتباہاً اس مشترک وقت ميں نماز ظہر يا عصر کو دوسري کے وقت ميں پڑھ لے تو اس کي نماز صحيح ہے۔
}(٧٣٢) اگر نماز ظہر پڑھنے سے پہلے بھول کر نماز عصر شروع کرے اور اثنائے نماز ميں اسے ياد ئے کہ اس نے اشتباہ کيا ہے تو اگر مشترک وقت ميں پڑھ رہا ہے تو نيت ظہر کي طرف پلٹا دے يعني يہ نيت کرے کہ جو پڑھ چکا ہوں اور جو پڑھ رہا ہوں اور جو بعد ميں پڑھوںگا، يہ تمام نماز ظہر ہے اور بعد اس کے کہ يہ نماز ختم کرے نماز عصر پڑھے اورا گر نماز عصر ظہر کے مخصوص وقت ميں پڑھ رہا ہو تو نيت ظہر کي طرف پلٹا کے نماز کو تمام کرے اور پھر نماز عصر پڑھے اور نماز عصر کو نماز ظہر کے وقت خاص ميں پڑھے اور وقت مشترک ميں سے کچھ بھي درک نہ کرے تو احتياط واجب کي بنا پر نماز عصر کو دوبارہ پڑھے اور بہتر يہ ہے کہ دونوں نمازوں کو دوبارہ پڑھے۔
}(٧٣٣) جمعہ کے دن انسان ظہر کے بدلے دو رکعت نماز جمعہ پڑھ سکتا ہے ليکن بہتر يہ ہے کہ نماز جمعہ پڑھے اور احتياط مستحب ہے کہ اگر نماز جمعہ پڑھے تو نماز ظہر بھي پڑھ لے اور يہ احتياط بہت مطلوب ہے۔
}(٧٣٤) احتياطاً واجب يہ ہے کہ نماز جمعہ اس وقت سے جسے عرفاً اول وقت ظہر کہتے ہيں مخر نہ کرے اور اگر اول وقت ظہر سے تاخير کي تو پھر بجائے جمعہ کے نماز ظہر پڑھے۔
 نماز مغرب و عشا کا وقت
}(٧٣٥) مغرب کا وقت وہ ہے جب طرف مشرق کي سرخي جو غروب فتاب کے وقت پيدا ہوتي ہے ختم ہوجائے۔
}(٧٣٦) مغرب و عشائ ميں سے ہر ايک کا مخصوص اور مشترک وقت ہے۔ نماز مغرب کا مخصوص وقت اول مغرب سے تين رکعت پڑھ لينے کي مقدار تک ہے توا گر کسي مسافر نے مثلاً تمام نماز عشا بھول کر اس وقت پڑھ لي تو احتياط مستحب يہ ہے کہ وہ نماز مغرب پڑھ لينے کے بعد دوبارہ نماز عشا پڑھے اور نماز عشا کا مخصوص وقت وہ ہے جب دھي رات سے نماز عشا پڑھنے کي مقدار بھر وقت باقي رہ جائے اگر کسي نے اس وقت تک نماز مغرب جان بوجھ کر نہ پڑھي تو پہلے عشا اور پھر مغرب پڑھے ليکن اگر بھول کر نماز عشا کومقدم کرے تو نماز مغرب کو بقصد ادا نماز عشا کے خاص وقت ميں انجام دے سکتا ہے اور مغرب و عشا کے مخصوص وقت کے درميان نماز مغرب اور عشا ئ کا مشترک وقت ہے کہ اگر کسي نے اشتباہاً نماز عشا و مغرب سے پہلے اس وقت پڑھ لي اور نماز کے بعد ملتفت ہوا تو اس کي نماز صحيح ہے اور اسے چاہيئے کہ نماز مغرب بعد ميں پڑھ لے۔
}(٧٣٧) وقت مخصوص اور مشترک کہ جن کے معني گذشتہ مسئلہ ميں بيان ہوچکے ہیں اشخاص کے لحاظ سے مختلف ہے مثلاً اگر دو رکعت کي مقدار اول ظہر سے گزر چکي ہے تو مسافر کا وقت مخصوص ختم ہوگيا ہے اور وقت مشترک داخل ہوگيا ہے اور جو مسافر نہيں اس کے لئے چار رکعت کي مقدار وقت مخصوص ہوگا۔
}(٧٣٨) اگر نماز مغرب سے پہلے بھول کر نماز عشا شروع کرے اور نماز کے دوران معلوم ہو کہ اشتباہ کيا ہے چنانچہ اگر پوري نماز يا اس کا کچھ حصہ مشترک وقت ميں پڑھا ہے اور ابھي تک چوتھي رکعت کے رکوع ميں نہيں گيا تو نيت مغرب کي طرف پلٹا دے اور نماز کو ختم کرے اور اس کے بعد نماز عشا پڑھے اور اگر چوتھي رکعت کے رکوع ميں جاچکا ہو تو نماز عشا ئ باطل ہوجائے گي تو اس کو پہلے نماز مغرب اور پھر نماز عشا ئ ادا کرنا چاہيئے اوراحتياط مستحب يہ ہے کہ نماز عشا ئ کي چوتھي رکعت کو تمام کرے اور پھر نماز مغرب اور عشا ئ کو بجالائے۔
}(٧٣٩) نماز عشا کا خري وقت دھي رات ہے اور احتياط واجب يہ ہے کہ مغرب و عشا وغيرہ کے لئے اول غروب سے لے کر اذان صبح تک کے وقت کو رات شمار کرے اور نماز تہجد وغيرہ کے لئے طلوع فتاب تک حساب کرسکتا ہے۔
}(٧٤٠) اگر گناہ کے طور پر يا کسي عذر کي وجہ سے نماز مغرب يا عشا کو دھي رات تک نہيں پڑھا تو احتياط واجب يہ ہے کہ اذان صبح سے پہلے تک ادا و قضا کي نيت کے بغير بجالائے۔
 نماز صبح کا وقت
}(٧٤١) اذان صبح کے قريب مشرق کي طرف سے ايک سفيدي اوپر کي طرف اٹھتي ہے کہ جسے فجر اول (صبح کاذب) کہتے ہيں۔ جب وہ سفيدي پھيل جائے تو فجر دوم (صبح صادق) اور وہ اول وقت نماز صبح ہے اورنماز صبح کا خري وقت سورج نکلنے تک ہے۔
 احکام وقت نماز
}(٧٤٢) انسان اس وقت نماز شروع کرسکتا ہے جب خود اسے يقين ہوجائے يا اسے دو عادل مرد يہ کہيں کہ وقت داخل ہوگيا ہے۔
}(٧٤٣) نابينا يا وہ شخص جو قيد ميں ہے اور اسي قسم کے لوگوں کے لئے احتياط واجب يہ ہے کہ جب تک انہيں يقين نہ ہو کہ وقت داخل ہوگيا ہے نماز شروع نہ کريں البتہ اگر انسان بادل اور غبار وغيرہ کي وجہ سے جو تمام لوگوں کے لئے يقين پيدا کرنے سے مانع ہيں اول وقت نماز ميں وقت کے داخل ہونے کا يقين پيدا نہ کرسکے تو اگر اسے گمان و ظن ہوجائے کہ وقت داخل ہوگيا ہے تو نماز شروع کرسکتا ہے۔
}(٧٤٤) اگر دو عادل مرد وقت کے داخل ہونے کي خبر ديں اور انسان خود يقين کرے کہ نماز کا وقت ہوگيا ہے اور نماز شروع کرے اور اثنائ نماز ميں اسے معلوم ہوجائے کہ ابھي تک وقت داخل نہيں ہوا تواس کي نماز باطل ہے اور يہي حکم ہے اگر نماز سے فارغ ہونے کے بعد معلوم ہو کہ پوري نماز وقت سے پہلے پڑھي ہے البتہ اگر اثنائ نماز ميں اسے معلوم ہو کہ وقت داخل ہوگيا ہے يا نماز سے فارغ ہونے کے بعد معلوم ہو کہ اثنائ نماز ميں وقت داخل ہوگيا تھا تو اس کي نماز صحيح ہے۔
}(٧٤٥) اگر انسان اس مسئلہ کي طرف ملتفت نہ ہو کہ اسے يقين پيدا کرنے کے بعد ہي نماز شروع کرني چاہيئے تو اگر نماز سے فارغ ہونے کے بعد اسے معلوم ہو کہ پوري نماز وقت کے اندر پڑھي ہے تو اس کي نماز صحيح ہے اور اگر اسے معلوم ہو کہ پوري نماز وقت سے پہلے پڑھي ہے يا يہ معلوم ہو کہ اثنائ نماز ميں وقت داخل ہوگيا تھا تو اس کي نماز باطل ہے۔
}(٧٤٦) اگر اسے يقين ہو کہ وقت داخل ہوگيا ہے اور وہ نماز شروع کرے اور اثنائے نماز ميں يہ شک ہوجائے کہ وقت داخل ہوا تھا يا نہيں تو اس کي نماز باطل ہے ہاں اگر اثنائے نماز ميں يقين ہوجائے کہ اب تو وقت ہوگيا ہے ليکن يہ شک کرے کہ جتني نماز پڑھ چکا ہوں وہ وقت ميں تھي يا نہيں تو اس کي نماز صحيح ہے ليکن اگر جان لے کہ نماز کي بعض مقدار خارج وقت ميں انجام دي ہے تو اس کي نماز باطل ہے۔
}(٧٤٧) اگر وقت نماز اتنا تنگ ہے کہ بعض مستحبات بجالانے کي وجہ سے کچھ حصہ نماز کا خارج از وقت ميں پڑھا جائے گا تو مستحبات بجا نہ لائے مثلاً اگر قنوت پڑھنے کي وجہ سے نماز کا کچھ حصہ وقت کے بعد پڑھنا پڑے گا تو قنوت نہ پڑھے۔ اورا گر اس کے باوجود پڑھ لے تو وہ گہنگار ہے ليکن اس کي نماز صحيح ہے۔
}(٧٤٨) جس شخص کے پاس ايک رکعت پڑھنے کا وقت ہے تو وہ ادا کي نيت سے نماز پڑھے البتہ اسے جان بوجھ کر نماز ميں اتني تاخير نہيں کرني چاہيئے۔
}(٧٤٩) جو شخص مسافر نہيں اگر اس کے پاس مغرب تک پانچ رکعات پڑھنے کا وقت ہے تو وہ ظہر اور عصر دونوں کو پڑھے اور اگر اس سے کم وقت ہے تو صرف نماز عصر او راس کے بعد نماز ظہر کي قضا کرے اور اگر دھي رات تک چار رکعات پڑھنے کا وقت ہے تو نماز مغرب اور عشا دونوں کو پڑھے اور اگر اس سے کم وقت ہے تو صرف عشا پڑھے اور بعد ميں نماز مغرب پڑھے اور احتياط واجب يہ ہے کہ ادا اور قضا کي نيت نہ کرے۔
}(٧٥٠) جو شخص مسافر ہے اگر مغرب تک تين رکعات کا وقت اس کے پاس ہے تو نماز ظہر اورعصر دونوں پڑھے اوراگر اس سے کم ہے تو صرف نماز عصر پڑھے اور بعد ميں نماز ظہر کي قضا کرے اور اگر دھي رات تک اس کے پاس چار رکعات کا وقت ہے تو مغرب اور عشائ دونوں پڑھے اور اگر اس سے کم ہے تو صرف عشائ پڑھے اور بعد ميں مغرب بغير نيت ادا و قضا کے بجالائے اور اگر نماز عشائ پڑھنے کے بعد اسے معلوم ہوجائے کہ ايک رکعت يا اس سے زيادہ وقت دھي رات سے رہتا ہے تو فوراً نماز مغرب ادا کي نيت سے بجالائے۔
}(٧٥١) مستحب ہے کہ انسان نماز اول وقت ميں پڑھے اور اس کي بہت تاکيد کي گئي ہے اور جتنا اول وقت کے قريب ہوگي اتنا بہتر ہے مگر يہ کہ تاخير کسي اور وجہ سے بہتر ہو مثلاً انتظار کرے تاکہ نماز جماعت کے ساتھ پڑھے۔
}(٧٥٢) جب انسان کوئي عذر رکھتا ہے کہ اگر اول وقت ميں نماز پڑھنا چاہے تو مجبور ہے کہ تيمم يا نجس لباس کے ساتھ اسے نماز پڑھني پڑے گي تو اگر اسے معلوم يا احتمال ہو کہ اس کا عذر خري وقت تک باقي رہے گا تو وہ اول وقت ميں نماز پڑھ سکتا ہے البتہ اگر اس کا لباس نجس ہے يا کوئي اور عذر ہے اور اسے احتمال ہے کہ يہ عذر دور ہوجائے گا تو احتياط واجب يہ ہے کہ صبر کرے يہاںتک کہ اس کا عذر دور ہوجائے اور اگر عذر دور نہ بھي ہو تو خر وقت ميں نماز پڑھ لے گا اور يہ ضروري نہيں کہ صبر کرے يہاں تک کہ صرف نماز کے واجب افعال بجالائے بلکہ اگر مستحبات نماز کا بھي وقت ہے مثلاً اذان و اقامت اور قنوت تو وہ تيمم کر کے مستحبات کے ساتھ نماز پڑھ سکتا ہے۔
}(٧٥٣) جس شخص کو مسائل نماز شکيات و سہويات معلوم نہيں اگر اطمينان رکھتا ہو کہ يہ نماز ميں پيش ئيں گے تو اس کے لئے واجب ہے کہ ان کو سيکھ لے بلکہ احتياط واجب کي بنا پر وہ مسائل جن کے پيش نے کا احتمال ہوسکتا ہے ان کو بھي ياد رکھنا چاہيئے البتہ اگر اسے اطمينان ہے کہ ميں نماز کو صحيح طور پر مکمل کر لوں گا تو وہ اول وقت ميں نماز شروع کرسکتا ہے تو اگر اثنائ نماز ميں کوئي ايسا مسئلہ پيش نہ يا کہ جس کا حکم اسے معلوم نہيں تو اس کي نماز صحيح ہے اور اگر کوئي مسئلہ پيش گيا کہ جس کا حکم اسے معلوم نہيں تو وہ احتمال کي دونوں اطراف ميں سے ايک پر عمل کرسکتا ہے اور نماز کو تمام کرنے کے بعد جا کر مسئلہ پوچھے اگر اس کي نماز باطل ہے تو دوبارہ پڑھے۔
}(٧٥٤) اگر نماز کا وقت وسيع ہے اور کوئي صاحب حق اس سے اپنے حق کا مطالبہ کرتا ہے تو اگر ممکن ہو تو پہلے اس کا قرض ادا کرے اس کے بعد نماز ادا کرے اور يہي حکم ہے اگر کوئي اور ايسا کام پيش ئے کہ جسے فوراً بجالانا ہے مثلاً يہ ديکھے کہ مسجد نجس پڑي ہے تو پہلے مسجد کو پاک کرے اور اس کے بعد نماز پڑھے اور اگر اس نے پہلے نماز پڑھ لي تو وہ گنہگار ہوگا ليکن اس کي نماز صحيح ہے۔
وہ نمازيں کہ جنہيں ترتيب سے پڑھنا ضروري ہے۔
}(٧٥٥) انسان کو چاہيئے کہ نماز عصر، ظہر کے بعد اور عشا مغرب کے بعد پڑھے اور اگر جان بوجھ کر اس نے عصر ظہر سے پہلے اور عشا مغرب سے پہلے پڑھ لي تو باطل ہے۔
}(٧٥٦) اگر ظہر کي نيت سے نماز شروع کي اور اثنائ نماز ميں ياد يا کہ ظہر تو پڑھ چکا ہوں تو وہ نيت عصر کي طرف نہيں پلٹ سکتا بلکہ نماز توڑ کر عصر کي نماز پڑھے اور يہي حکم ہے مغرب اور عشا کا۔
}(٧٥٧) اگر نماز عصر کے درميان اسے يقين ہوجائے کہ نماز ظہر نہيںپڑھي اور نيت نماز ظہر کي طرف پلٹا دي اور کسي رکن ميں داخل ہوگيا اور اس کے بعد ياد يا کہ نماز ظہر پڑھ چکا ہوں تو اس کي نماز باطل ہے اور اسے چاہيئے کہ نماز عصر پڑھے۔ البتہ کسي رکن ميں داخل ہونے سے پہلے اگر اسے ياد ئے تو نيت عصر کي طرف پلٹا دے اور جتنا حصہ نماز کا ظہر کي نيت سے پڑھا ہے دوبارہ عصر کي نيت سے پڑھے اور اس کي نماز صحيح ہے۔
}(٧٥٨) اگر نماز عصر کے درميان شک ہوجائے کہ نماز ظہر پڑھي تھي يا نہيں تو وہ نيت نماز ظہر کي طرف پلٹا دے البتہ اگر وقت اتنا کم ہے کہ نماز کے ختم ہوتے ہي مغرب کا وقت ہوجائے تو وہ نماز عصر کي نيت سے نماز پوري کرے اور ظہر کي نماز کي قضا دے۔
}(٧٥٩) اگر نماز عشا ميں چوتھي رکعت کے رکوع تک پہنچنے سے پہلے شک کرے کہ نماز مغرب پڑھي ہے يا نہيں تو اگر وقت اتنا کم ہے کہ نماز تمام کرنے کے بعد دھي رات ہوجائے گي تو عشائ کي نيت سے نماز کو تمام کرے اور اگر وقت زيادہ ہے تو پھر نيت کو نماز مغرب کي طرف پھير دے اور نماز کو تين رکعات پر ختم کردے اور پھر نماز عشا پڑھے۔
}(٧٦٠) اگر نماز عشا ميں چوتھي رکعت کے رکوع تک پہنچنے کے بعد شک کرے کہ نماز مغرب پڑھي تھي يا نہيں تو وہ اس نماز کو تمام کرے اور اس کے بعد نماز مغرب پڑھے اور اگر يہ شک اس وقت تھا جو نماز عشا کے ساتھ مخصوص ہے تو پھر نماز مغرب کا پڑھنا ضروري نہيں۔
}(٧٦١) اگر انسان پڑھي ہوئي نماز احتياطاً دوبارہ پڑھے اور نماز ميں ياد جائے کہ جو نماز اس نے پڑھني تھي نہيں پڑھي تو وہ اس کي طرف نيت نہيں پھير سکتا مثلاً جس وقت نماز عصر احتياطاً پڑھ رہا ہے اگر اسے ياد ئے کہ ميں نے نماز ظہر نہيں پڑھي تو وہ نماز ظہر کي طرف نيت نہيں پلٹا سکتا۔
}(٧٦٢) نماز قضا سے ادا کي طرف اور مستحب سے واجب کي طرف نيت نہيں پلٹائي جاسکتي۔
}(٧٦٣) اگر ادا نماز کا وقت وسيع ہے تو انسان حالت نماز ميں نيت قضا کي طرف پلٹا سکتا ہے بشرطيکہ نيت نماز قضا کي طرف پلٹائي جاسکتي ہو مثلاً اگر نماز ظہر ميں مشغول ہے تو اس صورت ميں نماز صبح کي قضا کي طرف نيت پلٹا سکتا ہے کہ ابھي تيسري رکعت ميں داخل نہ ہوا ہو۔
 مستحب نمازيں
}(٧٦٤) مستحب نمازيں کافي ہيں اور انہيں نافلہ کہتے ہيں اور مستحبي نمازوں ميں سے رات دن کے نوافل پڑھنے کي بہت تاکيد کي گئي ہے اور ان کي تعداد روز جمعہ کے علاوہ چونتيس رکعت ہے۔ ٹھ رکعت نوافل ظہر اور ٹھ رکعت نوافل عصر ہيں اور چار مغرب کي اور دو رکعت عشا کي اور گيارہ رکعت تہجد کي اور دو صبح کي ہيں اور چونکہ عشا کي دو رکعت ميں احتياط واجب يہ ہے کہ بيٹھ کر ادا کي جائيں تو وہ ايک رکعت شمار ہوں گي البتہ جمعہ کے دن ظہر و عصر کي سولہ رکعت کے ساتھ چار رکعت کا اضافہ ہوجائے گا۔
}(٧٦٥) نماز تہجد کي گيارہ رکعات ميں سے ٹھ نماز تہجد کي نيت سے اور دو نماز شفع اور ايک رکعت وتر کي نيت سے پڑھي جائيں اور نماز تہجد کي پوري کيفيت دعاں کي کتابوں ميں تحرير کي گئي ہے۔
}(٧٦٦) نوافل کو بيٹھ کر بھي پڑھا جاسکتا ہے البتہ بہتر يہ ہے کہ بيٹھ کر پڑھے ہوئے دو نوافل کو ايک شمار کيا جائے مثلاً جو شخص چاہتا ہے کہ ظہر کے نوافل کو جو ٹھ رکعت ہيں بيٹھ کر پڑھے تو بہتر يہ ہے کہ سولہ پڑھے اور اگر نماز وتر کو کوئي بيٹھ کر پڑھنا چاہے تو دو نمازيں ايک ايک رکعتي بيٹھ کر پڑھے۔
}(٧٦٧) ظہر و عصر کے نوافل سفر ميں نہ پڑھے جائيں البتہ نوافل عشا ئ اس نيت سے کہ شايد مطلوب ہيں بجالايا جاسکتا ہے۔
 نوافل يوميہ کا وقت
}(٧٦٨) نماپز ظہر کے نوافل نماز ظہر سے پہلے پڑھے جاتے ہيں اور ان کا وقت ظہر کے اول وقت سے لے کر اس وقت تک ہے کہ شاخص کا سايہ جو (اول) ظہر کے بعد پيدا ہوتا ہے شاخص کے ٧٢ کے برابر ہوجائے اگر شاخص مثلاً سات بالشت ہے تو جس وقت وہ سايہ جو (اول) ظہر کے بعد پيدا ہوتا ہے دو بالشت کے برابر ہوجائے تو وہ نافلہ کا خري وقت ہوگا۔
}(٧٦٩) عصر کے نوافل نماز عصر سے پہلے پڑھے جاتے ہيں اور ان کا وقت اس وقت تک ہے کہ شاخص کے سايہ کي وہ مقدار جو (اول) ظہر کے بعد پيدا ہوتي ہے ٧٤ کے برابر ہوجائے اگر کوئي شخص نافلہ ظہر يا عصر کو ان کے وقت کے بعد پڑھنا چاہے تو بہتر يہ ہے کہ نافلہ ظہر کو نماز ظہر کے بعد پڑھے اور احتياط واجب يہ ہے کہ ادا يا قضا کي نيت نہ کرے۔
}(٧٧٠) نافلہ مغرب کا وقت نماز مغرب کے تمام ہوجانے کے بعد سے لے کر اس وقت تک ہے کہ وہ سرخي جو مغرب کي طرف سورج کے غروب ہوجانے کے بعد شروع ہوتي ہے زائل ہوجائے۔
}(٧٧١) عشا کے نافلہ کا وقت نماز عشا کے تمام ہوجانے سے دھي رات تک ہے اور بہتر يہ ہے کہ نماز کے بعد بلافصل پڑھے جائيں۔
}(٧٧٢) صبح کے نوافل نماز صبح سے پہلے پڑھے جاتے ہيں اور ان کا وقت دھي رات کے بعد گيارہ رکعت نماز تہجد پڑھنے کي مقدار کے بعد سے ہے البتہ احتياط يہ ہے کہ فجر اول (صبح کاذب) سے پہلے نہ پڑھيں مگر يہ کہ نماز تہجد کے فورا بعد پڑھيں تو کوئي حرج نہيں۔
}(٧٧٣) نوافل تہجد کا وقت دھي رات سے لے کر اذان صبح تک ہے اور بہتر يہ ہے کہ اذان صبح کے نزديک پڑھي جائيں۔
}(٧٧٤) مسافر اور وہ شخص کہ جس کے لئے نماز تہجد کا دھي رات کے بعد پڑھنا مشکل ہو تو وہ ابتدائ رات ميں انہيں پڑھ سکتا ہے۔
 نماز غفيلہ
}(٧٧٥) مستحب نمازوں ميں سے ايک نماز غفيلہ ہے جو کہ نماز مغرب اور عشا کے درميان پڑھي جاتي ہے اور اس کا وقت نماز مغرب کے بعد سے لے کر اس وقت تک ہے کہ مغرب کي طرف والي سرخي زائل ہوجائے اور اس نماز کي پہلي رکعت ميں الحمد کے بعد کسي سورہ کے بجائے يہ يت پڑھيں۔
واذاالنون اذذھب مغاضباًفظن ان لن نقدر عليہ فنادٰي في الظلمٰت ان لا الہ الا انت سبحنک (ق صلے) اني کنت من الظلمين فاستجبنالہ لاونجينہ من الغم ط وکذلک نُجْي المومنين۔
اور دوسري رکعت ميں الحمد کے بعد يہ سورہ کے بدلے ميں يہ پڑھيں۔
وعندہ مفاتح الغيب لايعلمہاالا ھوط ويعلم مافي البروالبحرط وماتسقط من ورقۃ لايعلمہا ولاحبۃ في ظلمت الارض ولارطب ولايابس الافي کتب مبين
اور اس کے قنوت ميں کہے۔
اللھم اني اسئلک بمفاتح الغيب التي لايعلمہا الاانت ان تصلي علي محمد وآل محمدوان تفعل بي کذاوکذا‘‘
اول لفظ کذا وکذا کي جگہ اپني حاجات بيان کرے اور پھر کہے۔
اللھم انت ولي نعمتي والقادر علي طلبتي تعلم حاجتي فاسئلک بحق محمد وآل محمدعليہ وعليھم السلام لما قضيتھالي۔
 قبلہ کے احکام
}(٧٧٦) قبلہ خانہ کعبہ ہے جو مکہ معظمہ ميں ہے اور اس کے روبرو نماز پڑھي جائے۔ البتہ وہ شخص جو دور ہے اگر اس طرح کھڑا ہو کہ لوگ کہيں قبلہ رخ نماز پڑھ رہا ہے تو کافي ہے اور يہي حکم ہے دوسرے ان امور کا جنہيں قبلہ رخ انجام دينا ہے مثلاً جانوروں کو ذبح کرنا۔
}(٧٧٧) جو شخص نماز واجب کھڑے ہو کر پڑھ رہا ہو وہ اس طرح کھڑا ہو کہ لوگ کہيں يہ قبلہ رخ کھڑا ہے اور يہ ضروري نہيں کہ اس کے گھٹنے اور اس کے پاں کے کنارے قبلہ رخ ہوں۔
}(٧٧٨) جو شخص بيٹھ کے نماز پڑھ رہا ہو اگر وہ معمول کے مطابق نہيں بيٹھ سکتا اور بيٹھتے وقت پاں کے تلوے زمين پر لگائے ہوئے ہيں تو اسے چاہيئے کہ بوقت نماز اس کا چہرہ شکم اور سينہ قبلہ رخ ہوں اور يہ ضروري نہيں کہ اس کي پنڈلياں قبلہ رخ ہوں۔
}(٧٧٩) جو شخص بيٹھ کر نماز نہيں پڑھ سکتا اسے چاہيئے کہ حالت نماز ميں داہني کروٹ اس طرح ليٹے کہ اس کے بدن کا اگلا حصہ قبلہ رو ہو اور اگر ممکن نہ ہو تو بائيں کروٹ اس طرح ليٹے کہ اس کے بدن کا اگلا حصہ قبلہ رو ہو اور اگر يہ بھي نہ ہوسکے تو وہ اس طرح چت ليٹے کہ اس کے پاں کے تلوے قبلہ رو ہوں۔
}(٧٨٠) نماز احتياط اور بھولے ہوئے سجدہ و تشہد کو قبلہ رو بجالائے اور سجدہ سہو ميں احتياط مستحب يہي ہے۔
}(٧٨١) مستحبي نماز چلتے ہوئے اور سواري پر پڑھي جاسکتي ہے اور اگر ان دو حالات ميں نماز مستحب پڑھے تو قبلہ رخ ہونا ضروري نہيں۔
}(٧٨٢) جو شخص نماز پڑھنا چاہتا ہے تو وہ قبلہ تلاش کرنے کي کوشش کرے يہاں تک کہ يہ يقين کرلے کہ قبلہ کس طرف ہے اور دو عادل گواہوں کے کہنے پر جو حسي علامات سے گواہي دے رہے ہيں يا اس شخص کي بات پر جو قواعد علمي کي رو سے قبلہ کو پہچانتا ہے اور محل اطمينان ہے عمل کرسکتا ہے اور اگر يہ چيزيں ممکن نہ ہوں تو اس گمان پر جو مسلمانوں کي مسجد کے محراب يا ان کي قبروں يا کسي اور ذريعے سے پيدا ہوجائے عمل کرسکتا ہے۔ يہاں تک کہ اگر کسي فاسق يا کافر کے کہنے پر جو قواعد علمي سے قبلہ کو پہچانتا ہے قبلہ کے متعلق گمان پيدا ہوجائے تو کافي ہے۔
}(٧٨٣) جو شخص قبلہ کے متعلق گمان رکھتا ہے اگر وہ اس سے زيادہ قوي گمان پيدا کرسکتا ہے تو وہ اپنے موجودہ گمان پر عمل نہ کرے مثلاً اگر مہمان، ميزبان کے کہنے پر قبلہ کے متعلق گمان پيدا کرے ليکن دوسرے راستے سے اس سے زيادہ قوي گمان پيدا ہوسکتا ہے تو ميزبان کي بات پر عمل نہ کرے۔
}(٧٨٤) اگر قبلہ معلوم کرنے کا کوئي ذريعہ نہ ہو يا باوجود کوشش کرنے کے اس کا گمان کسي ايک طرف نہيں جاتا تو اگر وقت نماز وسيع ہے تو وہ چار نماز چاروں طرف پڑھے اور اگر چار نمازوں کے لئے وقت نہيں تو جتنا وقت ہے اتني نمازيں پڑھے مثلاً اگر صرف ايک نماز کا وقت ہے تو صرف ايک ہي نماز جس طرف چاہے پڑھے اور اسے چاہيئے کہ نمازيں اس طرح پڑھے کہ اسے يقين ہوجائے کہ ايک نماز يقيناً قبلہ رخ ہوگئي ہے يا اگر قبلہ سے کچھ ہٹ کر بھي تھي تو بھي قبلہ کي دائيں يا بائيں طرف تک نہيں پہنچي۔
}(٧٨٥) اگر اسے يقين يا گمان ہو کہ قبلہ ان دو اطراف ميں سے ايک طرف ہے تو دونوں طرف نماز پڑھے۔ البتہ احتياط مستحب يہ ہے کہ گمان والي صورت ميں چاروں طرف نماز پڑھے۔
}(٧٨٦) جس شخص کو کئي طرف نماز پڑھني ہے اگر وہ چاہے کہ نماز ظہر اور عصر يا مغرب و عشا پڑھے تو بہتر يہ ہے کہ پہلے پہلي نماز کو جتني دفعہ پڑھنا ہے پڑھے اور پھر دوسري نماز شروع کرے۔
}(٧٨٧) جس شخص کو قبلہ کا يقين نہيں اگر وہ چاہے کہ نماز کے علاوہ کوئي اور کام کرے کہ جسے قبلہ رخ انجام دينا چاہيئے مثلاً وہ کسي حيوان کو ذبح کرنا چاہتا ہے تو وہ گمان پر عمل کرے اور اگر گمان پيدا کرنا ممکن نہيں تو جس طرف انجام دے صحيح ہے۔

احکام تقليد احکام طہارت احکام نماز  احکام روزہ
احکام خمس   احکام زکواۃ احکام حج خريد و فروخت کے احکام
احکام شرکت احکام صلح اجارہ (کرايہ )کے احکام احکام جعالہ
احکام مزارعہ مساقات (آبياري )کے احکام وہ اشخاص جو اپنے مال ميں خود تصرف نہيں کرسکتےکے احکام احکام وکالت
قرض کے احکام حوالہ (ڈرافٹ)دينے کے احکام رہن کے احکام ضامن بننے کے احکام
کفالت کے احکام وديعت (امانت)کے احکام عاريتاً دينے کے احکام نکاح (شادي بياہ)کے احکام
طلاق کے احکام غصب کے احکام جو مال انسان پالے اس کے احکام جانوروں کے ذبح اور شکار کرنے کے احکام
کھانے پينے کي چيزوں کے احکام نذر اور عہد کے احکام قسم کھانے کے احکام وقف کے احکام
وصيت کے احکام ميراث کے احکام احکام امر بالمعروف اور نہي عن المنکر دفاع کے مسائل و احکام
خاتمہ کے احکام بعض مسائل جو اس زمانے ميں  مورد حاجت ہيں امام خميني کي خدمت ميں چند جديد سوالات اور ان کے جوابات