احکام طہارت

  مطلق اور مضاف پاني

  ١۔ کُر پاني

  ٢۔ قليل پاني:

  ٣۔ جاري پاني:

  ٤۔ بارش کا پاني:

  ٥۔ کنويں کا پاني:

  ٦۔ پاني کے احکام :   احکام بيتُ الخلائ   پيشاب پاخانہ کرنا :   استبرائ :
  بيت الخلائ کے مستحبّات و مکرُوہات   نجاسات :   ١،٢۔ پيشاب و پاخانہ :   ٣۔ مَني :   ٤۔ مُردار :
٥۔ خون  ٦۔ کُتّا  ٧۔ خنزير ٨۔ کافر   ٩۔ شراب :
  ١٠۔ فُقاع :   ١١۔ نجاست کھانے والے اُونٹ کا پسينہ :   نجاست ثابت ہونے کا طريقہ :   احکام نجاسات :   مطہّرات :
  پاک کرنے والي چيزيں   ١۔ پاني :   ٢۔ زمين :   ٣۔ سورج :   ٤۔ استحالہ :
  ٥۔ انگور کے پاني کا دوتہائي کم ہونا :   ٦۔ انتقال :   ٧۔ اسلام :   ٨۔ تبعيّت : ٩۔ عين نجاست کا دور ہونا
  ١٠۔ نجاست کھانے والے حيوان کا استبرائ :   ١١۔ مسلمان کا غائب ہونا :   برتنوں کے احکام :   وضو   وضو ارتماسي :
  احکام وضو :   کن چيزوں کے لئے وضو کرنا پڑتا ہے :   وہ چيزيں جو وضو کو باطل کرتي ہيں :   وضو جبيرہ کے احکام :   واجب غسل :
  احکام جنابت :   وہ چيزيں جو مجنب پر حرام ہيں :   وہ چيزيں جو مجنب کے لئے مکروہ ہيں :   غسل جنابت :   غسل ارتماسي
  احکام غسل   استحاضہ   احکام استحاضہ   حيض   احکام حيض
  حيض والي عورت کي اقسام :   ١۔ صاحب عادت وقتيہ اورعدديہ:   ٢۔ صاحب عادت وقتيہ:   ٣۔ صاحب عادت عدديہ:   ٤۔ مضطربہ:
  ٥۔ مبتديہ:   ٦۔ ناسيہ:   حيض کے مختلف مسائل   نفاس   غُسلِ مَسِ ميّت
  محتضر کے احکام   بعد از وفات کے احکام   غسل، کفن نماز اور دفن ميّت   احکام غسل ميّت   کفن ميّت کے احکام
  احکام حنوط   احکام نماز ميّت   نماز جنازہ پڑھنے کا طريقہ   مستحبات نماز ميّت   احکام دفن
  مستحبات دفن   مستحبات دفن  نبش قبر (قبر کو کھولنا)   مستحب غسل تيمم 
  پہلا مورد تيمم   دوسرا مورد تيمم   تيسرا مورد تيمم   چوتھا مورد تيمم   پانچواں مورد تيمم
  چھٹا مورد تيمم   ساتواں مورد تيمم   تيمم کا طريقہ

  احکام تيمم

 

  احکام طہارت:
  مطلق اور مضاف پاني
}(١٥) پاني يا مطلق ہے يا مضاف: مضاف وہ پاني ہے جو کسي دوسري چيز سے ليا گيا ہو جيسے تربوز اور گلاب کا پاني يا کسي دوسري چيز سے ملا ديا گيا ہو جيسے وہ پاني جسے کچھ مٹي وغيرہ کے ساتھ ملا ديا جائے کہ اب اسے صرف پاني نہ کہيں اور ان کے علاوہ باقي تمام پاني مطلق ہيں اور ان کي پانچ اقسام ہيں:
١۔ کُر پاني ٢۔ قليل پاني ٣۔ جاري پاني
٤۔ بارش کا پاني ٥۔ کنويں کا پاني
  ١۔ کُر پاني
}(١٦) کر پاني اس مقدار کو کہتے ہيں کہ اگر پاني کو کسي ايسے برتن ميں ڈاليں کہ جس کي لمبائي چوڑائي اور گہرائي ساڑھے تين بالشت ہو تو وہ اس برتن کو پُر کردے اور اس کا وزن بيس مثقال کم ايک سو اٹھائيس من تبريزي ہے جو کہ ٩٠٦٣٨٣ کلوگرام ہے۔ (تقريباً دس من بارہ سير) ليکن اقرب يہ ہے کہ کر کي مقدار ٤١٩٣٧١٧ کلوگرام ہے اور بنابر احتياط اکثر مقدار کا لحاظ کيا جائے۔
}(١٧) اگر عين نجاست مثل پيشاب اور خون کُر پاني ميں گرجائے تو اگر اس پاني کا رنگ بُو يا ذائقہ اس نجاست کي وجہ سے بدل جائے تو وہ پاني نجس ہوگا ورنہ نجس نہيں ہے۔
}(١٨) اگر کُر پاني کي بُو نجاست کے علاوہ کسي چيز سے متغيّر ہوجائے تو وہ پاني نجس نہيں ہوگا۔
}(١٩) اگر عين نجاست مثلاً خون کسي ايسے پاني ميں جا پڑے کہ جو کُر سے زيادہ ہے اور اس کے کچھ حصّے کي بُو، رنگ يا ذائقہ کو بدل دے تو پاني کا وہ حصّہ جو نجاست سے متغيّر نہيں ہوا، اگر کُر سے کم ہے تو تمام پاني نجس ہوجائے گا اور اگر کُر سے زيادہ ہے تو صرف وہ حصّہ جس کي بُو رنگ يا ذائقہ بدل گيا ہے، نجس ہے۔
}(٢٠) فوّارے کا پاني اگر کُر سے متّصل ہو تو وہ نجس پاني کو اس صورت ميں پاک کرے گا کہ اس سے پورے طور پر مل جائے۔ ہاں اگر ايک ايک قطرہ ہو کر نجس پاني پرپڑے تو اسے پاک نہيں کرے گا مگر يہ کہ فوّارے کے اُوپر کوئي چيز رکھ دي جائے کہ اس کا پاني قطرہ قطرہ ہونے سے پہلے نجس پاني سے متّصل ہو کر اس سے مل جائے۔
}(٢١) اگر کسي نجس چيز کو نلکے کي ٹوٹني کے نيچے رکھ کے دھويا جائے جو کہ کُر کے ساتھ متّصل ہو تو وہ پاني جو اس چيز سے گر رہا ہے اگر کُر سے متّصل ہو اور نجاست کي وجہ سے بُو، رنگ اور ذائقہ نہ بدل گيا ہو تو پاک ہے۔
}(٢٢) اگر کُر پاني کا ايک حصّہ برف بن جائے اور باقي ماندہ کُر نہ ہو تو نجاست کے لگنے سے يہ پاني نجس ہوجائے گا اور جتني برف بھي پگھلتي جائے گي نجس ہوتي جائے گي۔
}(٢٣) وہ پاني جو کُر تھا اگر انسان کو شک ہوجائے کہ کُر سے کم ہوگيا ہے تو وہ پاني کُر پاني کي طرح ہے يعني نجس چيز کو پاک کرتا ہے اور اگر کوئي نجاست اس سے لگے تو نجس نہيں ہوگا اور جو پاني کُر سے کم تھا اور انسان کو شک ہو کہ وہ کُر ہوگيا ہے کہ نہيں تو اس کا حکم کُر پاني والا نہيں ہوگا۔
}(٢٤) کسي پاني کاکُر ہونا دو طرح سے ثابت ہوتا ہے:
١۔ يہ کہ انسان خود اس کي تشخيص دے۔
٢۔ يہ کہ دو عادل مرد گواہي ديں۔
  ٢۔ قليل پاني:
}(٢٥) قليل پاني وہ ہے جو زمين سے نہ پھوٹے اور کُر سے کم ہو۔
}(٢٦) قليل پاني نجس چيز پر گرے يا نجس چيز اس پر لگے تو نجس ہوجاتا ہے۔ ہاں اگر بلندي سے زور سے نجس چيز پر گر رہا ہو تو جتني مقدار پاني کي اس نجاست سے لگ رہي ہے وہ نجس اور جو اس کے اُوپر ہے وہ پاک ہے اور فوارہ وغيرہ زور سے نيچے سے اوپر جارہا ہو جبکہ نجاست اوپر والے حصّے کو لگ رہي ہے تو نچلا حصّہ نجس نہيں ہوگا اور اگر نجاست نچلے حصّے سے لگے تو اوپر والا حصّہ نجس ہوجائے گا۔
}(٢٧) وہ قليل پاني جو عين نجاست دور کرنے کے لئے نجس چيز پر ڈالا جائے اور وہ اس سے جدا ہوجائے تو نجس ہے اور اس قليل پاني سے بھي اجتناب کيا جائے جو کہ عين نجاست دور ہونے کے بعد نجس چيز پر دھونے کے لئے ڈالا جاتا ہے اور اس سے جدا ہوجاتا ہے۔ وہ پاني کہ جس سے پيشاب اور پاخانہ کي جگہ کو دھوتے ہيں، پانچ شرطوں کے ساتھ پاک ہے۔
١۔ يہ کہ پاني کے بو، رنگ اور ذائقہ کو نجاست نے متاثر نہيں کيا ہو۔
٢۔ يہ کہ کوئي باہر کي نجاست اسے نہ لگے۔
٣۔ يہ کہ اندر سے کوئي اورنجاست مثلاً خون، پيشاب يا پاخانہ کے ساتھ باہر نہ ئے۔
٤۔ يہ کہ پاخانہ کے ذرّات پاني ميں نظر نہ ئيں
٥۔ يہ کہ نجاست پاخانہ کي جگہ سے معمول سے زيادہ نہ پھيلي ہو۔
  ٣۔ جاري پاني:
}(٢٨) جاري پاني وہ ہے جو زمين سے پھوٹ کر زمين پر بہہ رہا ہو جيسے کہ چشمہ اور نہر کا پاني۔
}(٢٩) جاري پاني اگرچہ کر سے تھوڑا ہي کيوں نہ ہو جب تک نجاست کے لگنے سے اس کابُو، رنگ اور ذائقہ تبديل نہ ہو وہ پاک ہے۔
}(٣٠) جب جاري پاني ميں نجاست پڑجائے تو اس پاني کا صرف وہي حصّہ نجس ہوگا کہ جس کا رنگ، بو اور ذائقہ نجاست کي وجہ سے بدل گيا ہو اور وہ حصّہ جو چشمے سے متصل ہو اگرچہ کُر سے کم ہي کيوں نہ ہو پاک ہے اور نہر کا وہ پاني جو بمقدار کُر ہو يا اس پاني کے ذريعہ سے جو کہ متغير نہيں ہوا چشمہ کے پاني کے ساتھ متصل ہو پاک ہوگا ورنہ نجس۔
}(٣١) وہ چشمہ جس کا پاني جاري نہيں ليکن اس طرح ہے کہ اگر اس سے پاني نکال ليا جائے تو اندر سے پاني نکل تا ہے تو وہ جاري پاني والا حکم رکھتا ہے يعني اگر اس ميں نجاست پڑجائے تو جب تک اس کا رنگ بُو اور ذائقہ نجاست کي وجہ سے متغيّر نہ ہو وہ پاک ہوگا۔
}(٣٢) وہ پاني جو کنارے پر کھڑا ہے اور نہر کے جاري پاني سے متصل ہے جاري پاني کا حکم رکھتا ہے۔
}(٣٣) وہ چشمہ جو سردي ميں پھوٹتا اور گرمي ميں خشک ہوجاتا ہے جب تک اس سے پاني پھوٹ رہا ہے وہ جاري کا حکم رکھتا ہے۔
}(٣٤) حمام کے حوض کا پاني اگرچہ کُر سے کم ہو مثل ب جاري ہے ليکن بنابر احتياط واجب اس کا اس خزانے کے ساتھ جو کُر کے برابر ہو يا اس حوض کے ساتھ جو کُر ہے، متصل ہونا لازم ہے۔ اس کا حکم جاري ہے۔
}(٣٥) حمام کے نلوں کا وہ پاني جو ٹونٹيوں اور فواروں سے گرتا ہے اگر کُر کے ساتھ متصل ہو تو جاري پاني کا حکم رکھے گا۔ اسي طرح گھروں کے نل اگر کُر سے متصل ہوں تو کُر والا حکم رکھتے ہيں۔
}(٣٦) وہ پاني جو زمين پر بہہ رہا ہے ليکن زمين سے نہيں پھوٹ رہا جب کُر سے کم ہو اور اس ميں نجاست پڑ جائے تو نجس ہوگا اور اگر اوپر سے نيچے کي طرف زور سے پڑے اور نچلے حصّے سے نجاست لگے تو اُوپر والا حصہ نجس نہيں ہوگا۔
  ٤۔ بارش کا پاني:
}(٣٧) اگر اس نجس چيز پر کہ جس ميں عين نجاست نہ ہو ايک مرتبہ بارش برس جائے تو جہاں جہاں بارش کا پاني پڑ رہا ہو وہ جگہ پاک ہوجائے گي۔ فرش اور لباس وغيرہ کا نچوڑنا ضروري نہيں ليکن بارش کے دو تين قطرے ہي پڑنا کافي نہيں بلکہ اس طرح ہو کہ عرفاً کہا جائے کہ بارش ہورہي ہے۔
}(٣٨) اگر بارش کا پاني عين نجاست پر پڑ رہا ہو اور اس کي چھينٹيں دوسري جگہ پر جارہي ہوں تو اگر چھينٹوں کے ساتھ عين نجاست نہ ہو اور نجاست کے رنگ و بُو يا ذائقہ سے متاثر بھي نہ ہوں تو پاک ہيں چنانچہ اگر بارش خون پر برس رہي ہو اور وہاں سے چھينٹيں اُڑ رہي ہوں تو اگر خون کے ذرّات ان ميں ہوں يا وہ خون کے رنگ، بُو يا ذائقہ سے متاثر ہوں تو نجس ہوں گي۔
}(٣٩) اگر مکان کي چھت يا کوٹھے پر عين نجاست پڑي ہو جب تک چھت پر بارش برس رہي ہے تو پاني جو اس نجس چيز سے لگ کر چھت يا پرنالے سے رہا ہے پاک ہے ليکن اگر بارش رک جانے کے بعد معلوم ہو کہ جو پاني گر رہا ہے وہ نجس چيز سے لگ چکا ہے تو وہ نجس ہے۔
}(٤٠) وہ نجس زمين جس پر بارش برس جائے پاک ہوجائے گي اور اگر بارش کا پاني زمين پر چل کر چھت کے نيچے نجس چيز تک پہنچ جائے تو اس کو بھي پاک کردے گا۔
}(٤١) نجس مٹي اگر بارش برسنے کي وجہ سے کيچڑ بن جائے اور پاني اس کو گھير لے تو پاک ہے اور اگر صرف تري اس کو لگے تو پاک نہيں ہوگي۔
}(٤٢) اگر بارش کا پاني کسي جگہ جمع ہوجائے چاہے وہ کُر سے کم ہي کيوں نہ ہو اگر بارش برستے وقت کسي نجس چيز کو اس ميں دھويا جائے اور نجاست سے پاني کا رنگ، بُو اور ذائقہ بھي نہ بدلے تو وہ نجس چيز پاک ہوجائے گي۔
}(٤٣) اگر اس پاک فرش پر جو نجس زمين کے اوپر ہے، بارش برس جائے اور بارش کا پاني نجس زمين پر جاري ہوجائے تو فرش نجس نہيں ہوگا اور زمين بھي پاک ہوجائے گي۔
  ٥۔ کنويں کا پاني:
}(٤٤) کنويں کا پاني جو زمين سے نکلتا ہے اگرچہ کُر سے کم ہي کيوں نہ ہو جب اس ميں نجاست پڑے تو جب تک اس کا رنگ، بُو اور ذائقہ اس نجاست کي وجہ سے متغير نہ ہو پاک ہے ہاں مستحب ہے کہ بعض نجاستوں کي وجہ سے مخصوص مقدار ميں جو مفصل کتابوں ميں لکھي ہوئي ہے۔ پاني نکالا جائے۔
}(٤٥) اگر کوئي نجاست کنويں ميں جا پڑے اور اس کے پاني کے رنگ، بو اور ذائقہ کو بدل دے اب اگر تغير زائل ہوجائے تو پاني کے پاک ہونے کے لئے ضروري ہے کہ وہ نيچے سے پھوٹنے والے پاني سے مل جائے۔
}(٤٦) اگر بارش کا پاني يا کوئي اور پاني کسي گڑھے ميں جمع ہوجائے اور کُر سے کم ہو تو اگر بارش کے بند ہونے کے بعد کوئي نجاست اس ميں مل جائے تو نجس ہوگا۔
  ٦۔ پاني کے احکام :
}(٤٧) مضاف پاني کہ جس کے معني معلوم ہوچکے ہيں نجس چيز کو پاک نہيں کرتا اور وضو اورغسل بھي اس سے باطل ہيں۔
}(٤٨) اگر ذرّہ برابر نجاست مضاف پاني ميں جا پڑے تو پاني نجس ہوجائے گا ہاں اگر مضاف اوپر سے نيچے کي طرف زور کے ساتھ پڑے تو صرف وہي حصہ نجس ہوگا جو نجاست سے مل گيا ہے اور اس سے اوپر والا حصہ پاک ہوگا مثلاً گلاب کے پاني کو گلاب دان سے نجس ہاتھ پر ڈالا تو جو پاني ہاتھ سے لگا ہے نجس اور اوپر والا جو ہاتھ تک نہيں پہنچا ہے وہ پاک ہے۔ اسي طرح اگر فوّارہ کي طرح پاني زور کے ساتھ نيچے سے اوپر کي طرف جائے تو اگر نجاست اوپر والے حصہ کو لگے تو نيچے والا حصہ نجس نہيں ہوگا۔
}(٤٩) اگر مضاف پاني جو نجس ہے، کر يا جاري پاني کے ساتھ اس طرح مل جائے کہ اسے مضاف پاني نہ کہا جائے تو وہ پاک ہوجائے گا۔
}(٥٠) جو پاني مطلق تھا اگر يہ معلوم نہ ہو کہ وہ مضاف ہوا ہے يا نہيں تو اس کا مطلق پاني والا حکم ہوگا۔ يعني نجس چيز کو پاک کرے گا اور اس سے غسل اور وضو کرنا بھي صحيح ہوگا اور جو پاني مضاف تھا اور يہ معلوم نہ ہو کہ مطلق ہوا ہے يا نہيں تو وہ مضاف پاني کي طرح ہے يعني نجس چيز کو پاک نہيں کرے گا اور اس سے غسل اور وضو باطل ہوں گے۔
}(٥١) جس پاني کے متعلق علم نہ ہو کہ وہ مطلق ہے يا مضاف اور يہ بھي معلوم نہ ہو کہ پہلے مطلق تھا يا مضاف وہ نجس چيز کو پاک نہيں کرے گا اور اس سے غسل اوروضو باطل ہيں۔ ہاں اگر وہ پاني کُر يا اس سے زيادہ مقدار ميں ہو اور اس ميں نجاست پڑجائے تو اس پر نجاست کا حکم نہيں لگايا جاسکتا۔
}(٥٢) وہ پاني کہ جس ميںعين نجاست مثلاً خون يا پيشاب جا پڑے اور اس کے رنگ، بُو يا ذائقہ کو متغير کردے۔ اگرچہ کُر يا جاري ہي کيوں نہ ہو وہ نجس ہوجائے گا ہاں اگر اس پاني سے عليحدہ قريب پڑي ہوئي نجاست کي وجہ سے اس کا رنگ، بُو يا ذائقہ تبديل ہوجائے مثلاً قريب پڑے مردار کي وجہ سے اس پاني کي بُو تبديل ہوجائے تو وہ نجس نہيں ہوگا۔
}(٥٣) وہ پاني جس ميں عين نجاست مثلاً خون يا پيشاب جا پڑے اور اس کے رنگ، بُو يا ذائقہ کو تبديل کردے اگر وہ کُر يا جاري سے متصل ہوجائے يا اس پر بارش برس جائے يا ہوا بارش کا پاني اس پر ڈال دے يا پرنالہ وغيرہ سے بارش کا پاني برستے وقت اس ميں جاگرے اور اس کا تغير ختم ہوجائے تو وہ پاک ہوجائے گا، ليکن ضروري ہے کہ بارش يا کُر يا جاري پاني اس پاني سے پورے طور پر مل جائے۔
}(٥٤) وہ پاني جو نجس شدہ چيز کو پاک کرنے کيلئے استعمال ہوتا ہے اور اس کوغسالہ کہتے ہيں، نجس ہے۔
}(٥٥) جو پاني پہلے پاک تھا اور معلوم نہ ہو کہ نجس ہوا ہے يا نہيں تو وہ پاک ہے اور جو پاني پہلے نجس تھا اور پھر يہ معلوم نہ ہو کہ پاک ہوا ہے يا نہيں تو وہ نجس ہے۔
}(٥٦) کُتے، خنزير اور کافر کے پيئے ہوئے سے جو بچ جائے وہ نجس اور اس کا پينا حرام ہے۔ باقي حرام گوشت جانوروں کے پيئے ہوئے سے بچا ہوا پاک اور اس کا پينا مکروہ ہے۔
  احکام بيتُ الخلائ
  پيشاب پاخانہ کرنا :
}(٥٧) ہر شخص پر واجب ہے کہ پيشاب و پاخانہ کرتے وقت اور ديگر حالات ميں اپني شرم گاہ بالغ، عاقل اشخاص سے چھپائے اگرچہ وہ اس کي ماں بہن ہي کيوں نہ ہوں جو کہ اس کي محرم ہيں اور اسي طرح اس ديوانہ اور بچے سے بھي چھپائے جو اچھائي اور بُرائي کو سمجھ سکتا ہے۔ ہاں شوہر و بيوي کے لئے يہ ضروري نہيں کہ وہ اپني شرم گاہ ايک دوسرے سے چھپائيں۔
}(٥٨) ضروري نہيں کہ شرم گاہ کو کسي خاص چيز سے چھپايا جائے مثلاً اگر ہاتھ سے ہي چھپالے تو کافي ہے۔
}(٥٩) بول و براز کرتے وقت بدن کا اگلا حصہ يعني شکم و سينہ قبلہ رخ نہ ہوں اور قبلہ کي طرف پشت بھي نہ ہو۔
}(٦٠) اگر پيشاب پاخانہ کرتے وقت بدن کا اگلا حصہ قبلہ رخ يا بقبلہ پشت ہو تو شرم گاہ کو صرف موڑ لينا کافي نہيں ہوگا اوراگر جسم کا اگلا حصہ قبلہ رخ يا قبلہ کي طرف پشت کئے نہ ہو تب بھي احتياط واجب يہ ہے کہ شرم گاہ روبقبلہ اور پشت بقبلہ نہ ہو۔
}(٦١) مقام پيشاب و پاخانہ کو پاک کرتے وقت قبلہ رخ يا پشت بقبلہ ہونے ميں کوئي اشکال نہيں۔ البتہ اگر استبرائ کرتے وقت پيشاب مقام پيشاب سے باہر جائے تو اس وقت روبقبلہ يا پشت بقبلہ ہونا حرام ہے۔
}(٦٢) اگر غيرمحرم کے ديکھنے سے بچنے کيلئے انسان مجبور ہو کر قبلہ رخ يا پشت بقبلہ بيٹھے تو پھر اسے قبلہ رخ يا پشت بقبلہ ہي بيٹھنا چاہيئے اور اگر کسي اور وجہ سے بھي مجبور ہوجائے تو بھي روبقبلہ يا پشت بقبلہ بيٹھنے ميں کوئي حرج نہيں۔
}(٦٣) احتياط واجب يہ ہے کہ بچے کو بول و براز کراتے وقت قبلہ رخ يا پشت بقبلہ نہ بٹھايا جائے۔ ہاں اگر بچہ خودبخود بيٹھ جائے تو اسے روکنا واجب نہيں۔
}(٦٤) چار مقامات پر بول و براز کرنا حرام ہے:
١۔ بندگليوں ميں جب تک ان گليوں کے مالک اجازت نہ ديں۔
٢۔ کسي کي مِلک ميں جب تک کہ مالک بول و براز کي اجازت نہ ديں۔
٣۔ ايسي جگہ ميں جو کسي خاص گروہ کے لئے وقف کي گئي ہو جيسے بعض مدارس۔
٤۔ ممنين کي قبور پر جب کہ ان کي بے حرمتي کا باعث ہو۔
}(٦٥) تين موارد ايسے ہيں کہ جہاں پاخانہ کي جگہ صرف پاني ہي سے پاک ہوسکتي ہے:
١۔ پاخانہ کے ساتھ کوئي اور نجاست مثلاً خون وغيرہ خارج ہو۔
٢۔ باہر کوئي نجاست مقام پاخانہ پر کر لگے۔
٣۔ مقام پاخانہ کے کنارے معمول سے زيادہ نجاست لود ہوگئے ہوں۔
ان تينوں صورتوں کے علاوہ اختيار ہے چاہے تو مقام پاخانہ کو پاني سے دھوئے ورنہ اس طريقہ سے جو بعد ميں ذکر کيا جائے گا۔ کپڑے کے ٹکڑے اور پتھر وغيرہ سے پاک صاف کرلے اگرچہ پاني سے دھونا ہي بہتر ہے۔
}(٦٦) مقام پيشاب صرف پاني ہي سے پاک ہوسکتا ہے اور اگر پيشاب کے ختم ہوجانے کے بعد ايک ہي مرتبہ دھويا جائے تو کافي ہے ہاں جنہيں پيشاب مقام مخصوص کے علاوہ کسي اور جگہ سے تا ہے ان کے لئے احتياط واجب يہ ہے کہ اس جگہ کو دو مرتبہ دھوئيں اور عورت کا حکم بھي مرد جيسا ہے۔
}(٦٧) اگر مقام پاخانہ کو پاني سے دھويا گيا ہو تو کوئي ذرّہ پاخانہ کا باقي نہيں رہنا چاہيئے۔ البتہ رنگ و بو کے باقي رہ جانے ميں کوئي حرج نہيں۔ اگر پہلي مرتبہ اس طرح دھوليا گيا ہے کہ پاخانہ کا کوئي ذرّہ باقي نہيں رہا تو دوبارہ دھونے کي ضرورت نہيں ہے۔
}(٦٨) جب پتھر اور ڈھيلا وغيرہ پاخانہ کو مقام مخصوص سے دور کرديں تو اگرچہ اس مقام کے پاک ہوجانے ميں تامّل ہے ليکن اس صورت ميں نماز پڑھي جاسکتي ہے اور اگر کوئي چيز اس مقام سے لگ جائے تو وہ نجس نہيں ہوگي۔ چھوٹے چھوٹے ذرّات اور مقام مخصوص کي چپک لچک اشکال نہيں رکھتے۔
}(٦٩) ضروري نہيں کہ پتھر يا کپڑے کے تين ٹکڑوں سے اس جگہ کو پاک کيا جائے بلکہ ايک پتھر يا ايک کپڑے کے تين اطراف کا استعمال بھي کافي ہے بلکہ اگر ايک مرتبہ استعمال کرنے سے پاخانہ برطرف ہوجائے تو کافي ہے ہاں اگر ہڈي گوبر يا ان چيزوں سے کہ جن کا احترام ضروري ہے(جس طرح وہ کاغذ جس پر نام خدا لکھا ہو) محل پاخانہ کو صاف کرے تو بنابر احتياط واجب نماز نہيں پڑھ سکتا۔
}(٧٠) اگر شک پيدا ہوجائے کہ ميں نے مقام مخصوص کو پاک کيا ہے يا نہيں اگرچہ ہميشہ پيشاب و پاخانہ کے بعد فوراً استنجائ کرتا رہتا ہو تب بھي طہارت کرنا ضروري ہے۔
}(٧١) اگر نماز پڑھ لينے کے بعد انسان شک کرے کہ نماز پڑھنے سے پہلے استنجائ کيا تھا يا نہيں تو جو نماز پڑھ چکا ہے وہ تو صحيح ہے البتہ بعد کي نمازوں کے لئے طہارت کرنا پڑے گي۔
  استبرائ :
}(٧٢) استبرائ ايک مستحب فعل ہے جسے مرد پيشاب خارج ہونے کے بعد انجام ديتے ہيں۔ اس کے کئي طريقے ہيں۔ ان ميں سے بہترين طريقہ يہ ہے کہ پيشاب رک جانے کے بعد اگر مقام پاخانہ نجس ہے تو پہلے اسے پاک کرلے اس کے بعد بائيں ہاتھ کي درمياني انگلي سے پاخانہ نکلنے والي جگہ سے لے کر لہ تناسل کي جڑ تک تين مرتبہ کھينچے پھر انگوٹھے کو لہ تناسل کے اُوپر اور انگوٹھے کے ساتھ والي انگلي کو نيچے رکھ کر تين مرتبہ ختنہ کي جگہ تک کھينچے اور اس کے بعد تين مرتبہ لہ تناسل کے سرے کو نچوڑے۔
}(٧٣) وہ تري جو مياں بيوي کي خوش فعلي کے بعد خارج ہوتي ہے کہ جسے مَذي کہتے ہیں۔ اسي طرح وہ تري جو کبھي کبھار مني نکلنے کے بعد خارج ہوتي ہے جسے وَذي کہا جاتا ہے اور وہ تري جو گاہے گاہے پيشاب کے بعد خارج ہوتي ہے کہ جسے وَدي کہتے ہيں اگر پيشاب کے قطرات اسے نہ لگ گئے ہوں تو پاک ہے اور اگر انسان پيشاب کرنے کے بعد استبرائ کرلے اور پھر کوئي تري خارج ہو جس کے متعلق شک ہو کہ يہ پيشاب ہے يا مذکورہ بالا چيزوں ميں سے کوئي ايک ہے تو وہ پاک ہے۔
}(٧٤) اگر انسان کو شک ہو کہ استبرائ کيا تھا يا نہيں اور کوئي تري خارج ہو اور معلوم نہ ہوسکے کہ پاک ہے يا نہيں تو وہ نجس ہوگي اور اگر وضو کرليا تھا تو باطل ہوجائے گا ہاں اگر شک ہے کہ جو استبرائ کيا تھا وہ صحيح تھا يا نہيں اور اس صورت ميں رطوبت خارج ہوئي کہ جس کے متعلق علم نہ ہوسکے کہ پاک ہے يا نجس تو وہ پاک ہوگي اور وضو بھي باطل نہيں ہوگا۔
}(٧٥) جس نے استبرائ نہ کيا ہو اب اگر کافي دير گزرنے کي وجہ سے يقين ہوجائے کہ پيشاب مجريٰ ميں باقي نہيں رہا اور کچھ رطوبت خارج ہو اور شک کرے کہ پاک ہے يا نہيں تو وہ تري پاک ہوگي اور وہ وضو بھي باطل نہيں ہوگا۔
}(٧٦) اگر انسان پيشاب کے بعد استبرائ کرے اور پھر وضو کرلے اور وضو کے بعد کوئي رطوبت خارج ہو کہ جس کے متعلق اسے يقين ہو کہ پيشاب ہے يا مني تو احتياط واجب يہ ہے کہ غسل کرے اور وضو بھي کرے ہاں اگر وضو نہ کرچکا ہو تو پھر وضو ہي کافي ہے۔
}(٧٧) عورت کے لئے پيشاب کے بعد استبرائ نہيں ہے۔ اب اگر اسے کوئي تري نظر ئے اور شک کرے کہ پاک ہے يا نجس تو وہ پاک ہوگي اور وہ تري وضو اور غسل کو بھي باطل نہيں کرے گي۔
  بيت الخلائ کے مستحبّات و مکرُوہات
}(٧٨) مستحب ہے کہ پيشاب و پاخانہ کے لئے انسان ايسي جگہ بيٹھے جہاں اسے کوئي ديکھنے والا نہ ہو اور بيت الخلائ ميں داخل ہوتے وقت پہلے باياں پاں اور نکلتے وقت پہلے داياں پاں رکھے۔ اسي طرح مستحب ہے کہ بول و براز کرتے وقت انسان کا سر ڈھکا ہو اور بدن کا بوجھ بائيں پاں پر ڈالا جائے۔
}(٧٩) بول براز کرتے وقت سورج يا چاند کي طرف منہ کر کے بيٹھنا مکروہ ہے۔ ہاں اگر کسي طرح اپني شرم گاہ کو چھپالے تو پھر مکروہ نہيں ہے اور بول براز کرتے وقت تيز ہوا کي طرف رخ کر کے شاہراہوں، سڑکوں، گلي کوچوں، ڈيوڑھيوں اور ميوہ دار درختوں کے نيچے بيٹھنا اور کچھ کھانا، زيادہ دير بيٹھے رہنا اور دائيں ہاتھ سے استنجائ کرنا مکروہ ہے۔ اسي طرح پيشاب پاخانہ کرتے وقت باتيں کرنا بھي مکروہ ہے۔ ہاں اگر بات کرنے پر مجبور ہو يا ذکر الہي کررہا ہو تو کوئي اشکال نہيں۔
}(٨٠) کھڑے ہو کر سخت زمين ، جانوروں کے بلوں ميں اور پاني کے اندر پيشاب کرنا خصوصاً کھڑے ہوئے پاني ميں مکروہ ہے۔
}(٨١) پيشاب و پاخانہ کو روکے رکھنا مکروہ ہے اور اگر مضر ہو تو پھر نہيں روکنا چاہيئے۔
}(٨٢) مستحب ہے کہ انسان نماز سے پہلے، سونے سے پہلے، جماع سے پہلے اور مني خارج ہونے کے بعد پيشاب کرے۔
  نجاسات :
}(٨٣) گيارہ چيزيں نجس ہيں:
١۔ پيشاب ٢۔ پاخانہ ٣۔ مني ٤۔ مُردار
٥۔ خون ٦۔ کُتّا ٧۔ خنزير ٨۔ کافر
٩۔ شراب ١٠۔ فُقاع (بيئر) ١١۔ نجاست خور اُونٹ کا پسينہ
  ١،٢۔ پيشاب و پاخانہ :
}(٨٤) انسان اور حرام گوشت جانورکا جو خون جہندہ رکھتا ہو (يعني اگر اس کي رَگ کو کاٹا جائے تو دھار مار کر خون نکلے) پيشاب و پاخانہ نجس ہے ہاں مچھر و مکھي جيسے چھوٹے جانوروں کا فُضلہ جو کہ گوشت نہيں رکھتے پاک ہے۔
}(٨٥) حرام گوشت پرندوں کا فضلہ (بيٹھ) نجس ہے۔
}(٨٦) نجاست خور جانور کا پيشاب و پاخانہ نجس ہے اور اسي طرح حکم ہے اس جانور کا جس سے کسي انسان نے بدکاري کي ہو اور اس بھيڑ بکري کا جس کا گوشت خنزير کے دودھ سے مستحکم ہوا ہو۔
  ٣۔ مَني :
}(٨٧) خون جہندہ رکھنے والے جاندار (جيسے انسان اور حيوان) کي مني نجس ہے۔
  ٤۔ مُردار :
}(٨٨) خون جہندہ رکھنے والے جانور کا مُر دہ نجس ہے چاہے وہ خودبخود مرگيا ہو يا شريعت کے معين شدہ طريقہ کے علاوہ اسے ذبح کيا گيا ہو اور مچھلي چونکہ خون جہندہ نہيں رکھتي اگرچہ پاني ميں ہي مرجائے وہ پاک ہے۔
}(٨٩) مُردار حيوان کي وہ چيزيں پاک ہيں جن ميں جان نہيں ہے جيسے پشم، بال، ہڈياں، دانت بشرطيکہ وہ حيوان کتے کي طرح نجس نہ ہو۔
}(٩٠) اگر انسان يا اس حيوان (جو خون جہندہ رکھتا ہے) کے بدن سے اس کي زندگي کي حالت ميں گوشت يا کوئي ايسي چيز جو جان رکھتي ہے جُدا کريں تو وہ نجس ہوگي۔
}(٩١) ہونٹوں کا مختصر چمڑہ اور اسي طرح دوسري جگہوں کا وہ چمڑہ کہ جس کے گرنے کا وقت قريب ہے اگر خود انسان اس کو کھينچ لے تو وہ پاک ہے ہاں احتياط واجب يہ ہے کہ وہ چمڑہ جس کے گرنے کا وقت قريب نہ پہنچا ہو اگر اسے کھينچ ليا جائے تو اس سے اجتناب کيا جائے۔
}(٩٢) وہ انڈا جو مُردہ مرغي کے پيٹ سے نکالا جائے اگر اس کي اُوپر والي چھال سخت ہوچکي ہو تو وہ پاک ہے ليکن اس کے ظاہري حصہ کو دھو لينا چاہيئے۔
}(٩٣) اگر بھيڑ يا بکري کا بچہ جب کہ ابھي وہ گھاس نہ کھاتا ہو مرجائے تو اس کے شيردان ميں جو پنير مايہ موجود ہے وہ پاک ہے البتہ اس کے اوپر والے حصہ کو دھونا پڑے گا۔
}(٩٤) بہنے والي دوائياں، عطر، روغنيات اور صابن وغيرہ جو باہر کے ملکوں سے تي ہيں اگر ان کے نجس ہونے کا يقين نہ ہو تو وہ پاک ہيں۔
}(٩٥) گوشت، چربي اور چمڑہ جو مسلمانوں کے بازاروں ميں فروخت کئے جاتے ہيں وہ پاک ہيں اور اگر ان ميں سے کوئي چيز مسلمان کے ہاتھ ميں ہو اور جانتا ہو کہ اس مسلمان نے کافر سے لي ہے اور احتمال ديں کہ اس مسلمان نے جانچ پڑتال کي ہے کہ يہ اس حيوان سے ہے جس کو دستور شرع کے مطابق ذبح کيا گيا ہے يا نہيں اور اسي طرح بنابر احتياط واجب وہ جانتا ہو کہ مسلمان نے اس چيز کو پاک قرار ديا ہے تو وہ چيز پاک ہے ليکن اگر جان لے کہ اس نے جانچ پڑتال نہيں کي ہے تو وہ چيز نجس ہے۔
  ٥۔ خون :
}(٩٦) انسان اور ہر اس حيوان کا خون نجس ہے جو کہ خون جہندہ رکھتا ہے يعني وہ حيوان کہ جس کي رَگ کاٹي جائے تو اس سے دھار مار کے خون نکلے لہذا وہ جانور جو خون جہندہ نہيں رکھتے جيسے مچھلي اور مچھر تو ان کا خون پاک ہے۔
}(٩٧) اگر حلال گوشت جانور کو دستور شرعي کے مطابق ذبح کيا گيا ہو اور مقدار متعارف خون اس سے خارج ہوچکا ہو تو بدن ميں باقي رہ جانے والا خون پاک ہے۔ ہاں اگر سانس لينے يا جانور کے سر کے بلند جگہ پر ہونے کي وجہ سے خون دوبارہ اس کے بدن ميں پلٹ گيا ہو تو وہ خون نجس ہے۔
}(٩٨) جو خون انڈے ميں ہوتا ہے نجس نہيں ليکن اس کا کھانا حرام ہے اور اگر خون کو انڈے کي زردي سے اس طرح ملايا جائے کہ خون باقي نہ رہے تو زردي کے کھانے ميں کوئي حرج نہيں۔
}(٩٩) جو خون کبھي کبھي دودھ دوہنے کے وقت نظر تا ہے وہ خون نجس ہے اور دودھ کو بھي نجس کرديتا ہے۔
}(١٠٠) جو خون دانتوں سے نکلتا ہے نجس ہے اور اس کا کھانا حرام ہے۔ ليکن اگر لعاب دہن سے ملنے کي وجہ سے ختم ہوجائے تو پاک ہے اور لعاب دہن کا نگل لينا بھي اس صورت ميں اشکال نہيں رکھتا۔
}(١٠١) وہ خون جو ناخن يا چمڑے کے نيچے چوٹ لگنے کي وجہ سے بے جان ہوجاتا ہے۔ اگر وہ ايسي حالت اختيار کرے کہ اب اسے خون نہ کہا جاتا ہو تو پاک ہے اور اگر اسے خون کہتے ہيں تو ناخن يا چمڑے ميں سوراخ ہوجانے کي صورت ميں اگر دشوار نہ ہو تو وضو اور غسل کے لئے اس خون کو نکال ديا جائے اور اگر باعث مشقّت ہو تو اس کے کنارے اس طرح دھوئيں کہ نجاست ميں زيادتي نہ ہو اور کوئي کپڑا يا کپڑے جيسي چيز اس پر ڈال دي جائے اور اس کپڑے وغيرہ پر تَر ہاتھ پھيرا جائے اور تيمم بھي کيا جائے۔
}(١٠٢) اگر انسان کو يہ معلوم نہ ہو کہ چمڑے کے نيچے بے جان خون ہے يا چوٹ لگنے کي وجہ سے گوشت کي يہ کيفيت ہوگئي ہے تو وہ پاک ہے۔
}(١٠٣) اگر ہنڈيا کے جوش کھانے کے وقت خون کا ايک ذرّہ اس ميں جاپڑے تو پورا سالن اور اس کا برتن نجس ہوجائے گا اور سالن کا اُبلنا يا حرارت گ اسے پاک نہيں کرسکيں گے۔

 
احکام تقليد احکام طہارت احکام نماز  احکام روزہ
احکام خمس   احکام زکواۃ احکام حج خريد و فروخت کے احکام
احکام شرکت احکام صلح اجارہ (کرايہ )کے احکام احکام جعالہ
احکام مزارعہ مساقات (آبياري )کے احکام وہ اشخاص جو اپنے مال ميں خود تصرف نہيں کرسکتےکے احکام احکام وکالت
قرض کے احکام حوالہ (ڈرافٹ)دينے کے احکام رہن کے احکام ضامن بننے کے احکام
کفالت کے احکام وديعت (امانت)کے احکام عاريتاً دينے کے احکام نکاح (شادي بياہ)کے احکام
طلاق کے احکام غصب کے احکام جو مال انسان پالے اس کے احکام جانوروں کے ذبح اور شکار کرنے کے احکام
کھانے پينے کي چيزوں کے احکام نذر اور عہد کے احکام قسم کھانے کے احکام وقف کے احکام
وصيت کے احکام ميراث کے احکام احکام امر بالمعروف اور نہي عن المنکر دفاع کے مسائل و احکام
خاتمہ کے احکام بعض مسائل جو اس زمانے ميں  مورد حاجت ہيں امام خميني کي خدمت ميں چند جديد سوالات اور ان کے جوابات