تقليد

تقليد:
}(١) ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اصول دين پر يقين رکھتا ہو اور احکام غيرضروري دين (١) ميں يا مجتہد ہو جو احکام کو دليل سے حاصل کرسکے يا کسي مجتہد کي تقليد کرے يعني اس کے فتوے کے مطابق عمل کرے يا احتياط پر اس طرح عمل کرے کہ اسے يقين ہوجائے کہ ميں تکليف شرعي کو انجام دے چکا ہوں مثلاً اگر کسي عمل کو بعض مجتہدين حرام جانتے ہوں اور کچھ دوسرے مجتہدين اسي عمل کے متعلق کہتے ہوں کہ حرام نہيں ہے تو اس عمل کو انجام نہ دے اور اگر کسي عمل کو بعض واجب اور بعض مستحب سمجھتے ہوں تو اسے بجالائے تو جو اشخاص نہ مجتہد ہيں اور نہ احتياط پر عمل کرسکتے ہيں ان پر واجب ہے کہ کسي مجتہد کي تقليد کريں۔
}(٢) احکام ميں تقليد کسي مجتہد کے فتوے کے مطابق عمل کرنے کا نام ہے اور ايسے مجتہد کي تقليد کرني چاہئيے جو مرد، بالغ، عاقل، شيعہ اثناعشري، حلال زادہ، زندہ اور عادل ہو اور احتياط واجب يہ ہے کہ ايسے مجتہد کي تقليد کرے جو دنيا پر حريص نہ ہو اور دوسرے مجتہدين سے اعلم ہو يعني حکم خدا کے سمجھنے ميں اپنے زمانہ کے تمام مجتہدين سے ماہر تر ہو۔
}(٣) مجتہد اور اعلم کو تين طريقوں سے پہچانا جاسکتا ہے۔
الف: يہ کہ خود انسان کو يقين ہوجائے يعني يہ کہ وہ خود اہل علم ميں سے ہو اور مجتہد اور اعلم کي تشخيص کرسکتا ہو۔
ب: يہ کہ دو عالم عادل جو مجتہد اور اعلم کي تشخيص کرسکتے ہوں کسي کے مجتہد يا اعلم ہونے کي تصديق کريں بشرطيکہ دوسرے دو عالم عادل ان کے کہے ہوئے کي مخالفت نہ کريں۔
ج: يہ کہ اہل علم کي ايک جماعت جو مجتہد اور اعلم کي تشخيص کرسکتے ہوں اور ان کے کہنے سے اطمينان بھي حاصل ہوجائے وہ کسي کے مجتہد يا اعلم ہونے کي تصديق کريں۔
}(٤) اگر اعلم کي پہچان مشکل ہوجائے تو ايسے شخص کي تقليد کرے کہ جس کے اعلم ہونے کا گمان ہو بلکہ اگر احتمال ضعيف رکھتا ہو کہ فلاں اعلم ہے اور يہ جانتا ہو کہ دوسرا اس سے اعلم نہيں ہے تو بنا بر احتياط واجب اس کي تقليد کرے اور اگر اس کي نظر ميں چند اشخاص دوسروں سے اعلم ہيں اور پس ميں برابر ہوں تو ان ميں سے کسي ايک کي تقليد کرے۔
}(٥) مجتہد کے فتوے کو معلوم کرنے کے چار راستے ہيں:
١۔ خود مجتہد سے سننا
٢۔ دو عادل اشخاص سے فتوي مجتہد کو سننا
٣۔ ايسے شخص سے سننا جو مورد اطمينان ہونے کے علاوہ سچا بھي ہو۔
٤۔ مجتہد کے رسالہ عمليہ ميں ديکھا جائے جبکہ انسان کو اس رسالہ کے صحيح ہونے پر اطمينان ہو۔
}(٦) جب تک انسان کو مجتہد کے فتوي کے بدل جانے کا يقين نہ ہو اس کے رسالہ ميں لکھے ہوئے فتوي پر عمل کرسکتا ہے اور اگر اسے احتمال ہو کہ مجتہد کا فتوي بدل گيا ہے تو جستجو لازم نہيں ہے۔
}(٧) اگر مجتہد اعلم کسي مسئلہ ميں فتوي دے تو اس کي تقليد کرنے والا اس مسئلہ ميں دوسرے مجتہد کے فتوي پر عمل نہيں کرسکتا۔ ہاں اگر مجتہد اعلم فتوي نہ دے اور يہ کہے کہ احتياط اس طرح عمل کرنے ميں ہے مثلاً يہ کہے کہ احتياط يہ ہے کہ نماز کي تيسري اور چوتھي رکعت ميں تسبيحات اربعہ يعني سبحان ا والحمد ولا الہ الا ا وا اکبر کو تين مرتبہ کہيں تومقلد يا تو اس احتياط پر عمل کرے کہ جسے احتياط واجب کہتے ہيں اور تين مرتبہ پڑھے يا دوسرے مجتہد کے فتوي پر عمل کرے اور بنا بر احتياط واجب اس مجتہد کے فتوي پر عمل کرے جو مجتہد اعلم سے کم اور باقي مجتہدوں سے زيادہ علم رکھتا ہو۔ پس اگر وہ ايک مرتبہ تسبيحات اربعہ کو کافي سمجھتا ہو تو ايک ہي مرتبہ کہے اور يہي صورت ہے اگر مجتہد اعلم کسي مسئلہ ميں کہے کہ يہ مسئلہ محل تامّل يا محل اشکال ہے۔
}(٨) اگر مجتہد اعلم کسي مسئلہ ميں فتوي کے بعد احتياط کہے مثلاً نجس برتن کے متعلق کہے کہ ايک مرتبہ پاني ميں دھونے سے پاک ہوجاتا ہے اگرچہ احتياط تين مرتبہ دھونے ميں ہے تو اس کا مقلد اس مسئلہ ميں دوسرے مجتہد کے فتوي پر عمل نہيں کرسکتا بلکہ اسے چاہيئے کہ يا اس کے فتوي پر عمل کرے يا فتوي کے بعد والي احتياط پر کہ جسے احتياط مستحبي کہتے ہيں مگر يہ کہ دوسرے مجتہد کا فتوي احتياط سے زيادہ قريب ہو۔
}(٩) اگر وہ مجتہد جس کي کسي نے تقليد کي ہوئي ہے فوت ہوجائے تو اسے مجتہد زندہ کي تقليد کرنے چاہيئے ہاں اگر اس نے اپنے مجتہد کے فتوي کے مطابق بعض مسائل پر عمل کيا ہو تو اس کے مرنے کے بعد تمام مسائل ميں اس کي تقليد کرسکتا ہے۔
}(١٠) اگر کسي مسئلہ ميں کسي مجتہد کے فتوي کے مطابق عمل کيا ہو اور اس کے مرنے کے بعد اسي مسئلہ ميں زندہ مجتہد کے فتوي کے مطابق عمل کرے تو دوبارہ مردہ مجتہد کي طرف رجوع نہيں کرسکتا۔ ہاں اگر زندہ مجتہد کسي مسئلہ ميں فتوي نہ دے اوراحتياط کرے اورمقلد ايک مدت تک اس احتياط پر عمل کرتا رہا ہو تو دوبارہ وہ مُردہ مجتہد کے فتوي کے مطابق عمل کرسکتا ہے مثلاً اگر مجتہد سبحان ا والحمد ولا الہ الا ا وا اکبر کو تيسري اور چوتھي رکعت ميں ايک مرتبہ کافي سمجھتا ہو اور مقلد ايک مدت تک اس فتوي کے مطابق عمل کرتا رہا ہو۔ اب اگر وہ مجتہد مرجائے اور زندہ مجتہد احتياط واجب کے طور پر تين مرتبہ کہنے کو ضروري سمجھے اور مقلد ايک مدت تک اس احتياط پر عمل کرتے ہوئے تين مرتبہ کہتا رہا ہو تو دوبارہ وہ مردہ مجتہد کے فتوي کے مطابق ايک مرتبہ پڑھ سکتا ہے۔
}(١١) جن مسائل کي انسان کو عموماً ضرورت پڑتي ہے ان کا سيکھنا واجب ہے۔
}(١٢) اگر انسان کو کوئي مسئلہ درپيش ہو کہ جس کا حکم وہ نہيں جانتا تو وہ مجتہد اعلم کے فتوي کو معلوم کرنے تک صبر کرسکتا ہے اور اگر احتياط ممکن ہو تو احتياط پر عمل کرے بلکہ اگر احتياط ممکن نہ ہو تو اگر اس عمل کے انجام دينے ميں کوئي خوف نہ ہو تو ايک طرف پر بنا رکھے جب تک علم حاصل کرے پھر اگر معلوم ہو کہ اس کا عمل مخالف واقع يا مخالف فتوي مجتہد تھا تو اسے دوبارہ انجام دے۔
}(١٣) اگر کوئي شخص کسي مجتہد کا فتوي دوسرے کو بتائے اور پھر مجتہد کا فتوي بدل جائے تو بتانے والے پر لازم نہيں ہے کہ اسے جا کر فتوي کے بدلنے کي اطلاع دے۔ ہاں اگر فتوي نقل کرنے کے بعد اسے معلوم ہو کہ ميں نے اشتباہ کيا تھا۔ اب اگر ممکن ہو تو اس اشتباہ کو دور کرے۔
}(١٤) اگر کوئي شخص ايک مدت تک بغير تقليد کے اعمال بجالاتا رہا ہو تو اس کے اعمال تب صحيح ہوسکتے ہيں جب اسے يقين ہو کہ وہ واقع کے مطابق يا جس مجتہد کي اسے اس وقت تقليد کرني تھي اس کے فتوي کے مطابق ہوں مگر يہ کہ اس نے اس طرح عمل کيا ہو کہ اس کا عمل ان کے فتوي کے بہ نسبت احتياط کے زيادہ قريب ہو تو اس صورت ميں بھي اس کا عمل صحيح ہے۔

احکام تقليد احکام طہارت احکام نماز  احکام روزہ
احکام خمس   احکام زکواۃ احکام حج خريد و فروخت کے احکام
احکام شرکت احکام صلح اجارہ (کرايہ )کے احکام احکام جعالہ
احکام مزارعہ مساقات (آبياري )کے احکام وہ اشخاص جو اپنے مال ميں خود تصرف نہيں کرسکتےکے احکام احکام وکالت
قرض کے احکام حوالہ (ڈرافٹ)دينے کے احکام رہن کے احکام ضامن بننے کے احکام
کفالت کے احکام وديعت (امانت)کے احکام عاريتاً دينے کے احکام نکاح (شادي بياہ)کے احکام
طلاق کے احکام غصب کے احکام جو مال انسان پالے اس کے احکام جانوروں کے ذبح اور شکار کرنے کے احکام
کھانے پينے کي چيزوں کے احکام نذر اور عہد کے احکام قسم کھانے کے احکام وقف کے احکام
وصيت کے احکام ميراث کے احکام احکام امر بالمعروف اور نہي عن المنکر دفاع کے مسائل و احکام
خاتمہ کے احکام بعض مسائل جو اس زمانے ميں  مورد حاجت ہيں امام خميني کي خدمت ميں چند جديد سوالات اور ان کے جوابات