نئے ايراني سال کي آغازاور موسم بہار کي آمد پر
رہبر انقلاب حضرت آيت اللہ العظميٰ سيد علي خامنہ اي دامت بر کاتہ
کے مشہد ميں
حضرت امام علي رضا کے حرم ميں لاکھوں زائرين سے خطاب

20/03/2008
 

اسلام کي بين الاقوامي قدرت سے خائف استکباري طاقتوں کي اسلام
اور رسالت کے خلاف سازشيں
اوراُن کواسلامي انقلاب کامنہ توڑجواب

دشمن ،رسول اکرم
۰ کي ذات کا نہيں بلکہ اُن کے آفاقي پيغام کا دشمن ہے
اسلام دشمن قوتوں کي اسلام کے خلاف فعاليت اُن کے خوف وترس کي وجہ سے ہے نہ کہ اُن کي طاقت وقدرت کي بنا پر!
توہين رسالت
۰کي مرتکب حکومتيں ،اسلام کي بين الاقوامي طاقت سے خائف ہيں!
امام صادق کي عظيم علمي درسگاہ اور اتحاد بين المسلمين کا عملي مظاہرہ
آج کي دنيا مکتب اہل بيت کي تعليمات کي تشنہ ہے!
عالم اسلام کے دشمن کو نہ شيعہ سے ہمدردي ہے اور نہ سُنّي سے کو ئي سروکار،وہ دونوں کے دشمن ہيں!
اپنے اپنے مذاہب کي حقانيت کو ثابت کرنے کي جگہ کوچہ و خيابان نہيں بلکہ علم تاريخ کے ماہرين کي علمي محافل ہيں
اسلامي انقلاب نے ظلم وستم کرنے اور اُسے سہنے والے دو بلاکوں ميں تقسيم دنيا کي سياست کوباطل کر ديا!
کسي قوم کا ظلم وستم کو سہنا دراصل استکباري طاقتوں کي ہمت افزائي کرنا اوراُن کے سامنے سر تسليم خم کرنا ہے
کسي ملک وقو م پر تسلط اور قبضہ دراصل اُس قوم کي تشخص کو سلب کرنا اوراُس کي تقدير کو اپنے ہاتھ ميں لينا ہے!
اسلامي انقلاب کي جرآت وبہادري
اسلامي انقلاب اوراسلامي جمہوريہ کے خلاف امريکا اوراستکباري طاقتوں کے حربے
ترقي و پيشرفت اور عدل وانصاف ؛ساتھ ساتھ!
جمہوريت کے علمبرداروں کي جمہوريت سے دوستي کي زند ہ مثاليں!
انساني حقوق کي علمبردار حکومتوںکے ہاتھوں انساني حقوق کي پا ئمالي

بسم اللّٰہ الرّحمٰن الرّحيم
آلحمدُ للّٰہ ربّ العالمين والصّلاۃُ والسّلامُ عليٰ سيّدنا و نبيّنا آبي القاسم المصطفٰي محمّد وعلي آلہ الآطيبين الآطھرين المنتجبين الھداۃ المعصومين المکرّ مين سيّما بقيّۃ اللّٰہ في الارضين


ميں خدا وند عالم کا شکر گزار ہوں کہ اُس نے اِس بندہ حقير کوا ِس بات کي توفيق عنايت کي کہ ميںايک نئے سال کے آغاز پرايک مرتبہ پھر حضرت امام رضا کے حرم ميں اپني عوام اور امام کے زائروں کوحضرت پيغمبر اکرم
۰ اورحضرت امام جعفر صادق کي ولادت با سعادت اورہمارے قومي جشن نو روز کي مبارک باد پيش کروں۔
چاليس سال تک کفار حجا ز کي طرف سے رسول اکرم
۰ کے صادق و امين ہو نے کي گواہي
ميں حضرت رسول اکرم
۰کي ولادت با سعادت کے بارے ميں ايک بات عرض کرنا چاہتا ہوںاوروہ يہ ہے کہ يہ آنحضرت ۰ کي يہ ولادت دراصل،توحيد ،عدل وانصاف،علم و دانائي اور پاکيزگي کي علمبردار ہے،’’ھُوَ الَّذِي بَعَثََ فِي الاُمِّيِيّنَ رَسُولاًمّنھُم يَتلُو عَلَيھِم آيَا تِہِ وَيُزَکّيھِم وَيُعَلّھُمُ الکِتَابَ وَالحِکمَۃَ‘‘؛اِن تمام اعلي انساني صفات کا مظہر رسول اکرم ۰کي ذات والا ہے۔اپني ولادت کے آغاز سے لے کر اپني بعثت کي ابتدائ يعني چاليس سال تک ہمارے نبي اکرم ۰پاکيزگي و پاکدامني،صداقت و سچائي ،امانتداري اورجوانمردي کي زندہ مثال تھے۔اُس دور ميں تمام دوست و دشمن اوراپنے پرائے سب ہي،قبائل کے سرداروں سے لے کر عام افراد تک،مکے سفر کرنے والے مسافرحتيٰ وہ افراد کہ جنہوں نے تجارتي سفر ميں رسول اکرم ۰کي زياري کي ،سبھي اِس کا اعتراف کرتے اورگواہي ديتے تھے کہ آپ بہت ہي بڑے ، عظيم،بزرگواراورنجيب انسان اورپاکيزگي و پاکدامني،صداقت وسچائي،امانتداري اور جوانمردي کا مظہر تھے۔اِس چاليس سال کي مدت ميں کسي ايک نے بھي آپ کي زندگي ميں ايک چھوٹااورمعمولي سا منفي عمل نہيں ديکھا ،ايک جھوٹ نہيں سنااورآپ کو کسي کے حقوق پر تجاوز کرتے نہيں ديکھا،اِس کا سب ہي اعتراف کرتے تھے اورتمام لوگ چاليس سال تک حضرت ختمي مرتبت ۰کو اِن صفات و خصال کے ساتھ پہچانتے تھے۔
دشمن ،رسول اکرم
۰ کي ذات کا نہيں بلکہ اُن کے آفاقي پيغام کا دشمن ہے
چاليس سال کے بعد جب آپ کي دعوت حق کا آغاز ہواتو اُس معاشرے کے اہم ترين لوگوں کي جانب سے نبي اکرم
۰کيلئے دشمني ،کينہ،تمہت اور جھوٹ کا سلسلہ شروع ہو گيا۔وہي لوگ جو آغاز ِ رسالت سے قبل آپ ۰کي پاکيزگي اورصداقت و امانتداري کي گواہي ديتے تھے اُنہي لوگوں نے دعوت توحيد کے آغاز کے بعدآ پ۰ کو ساحر،مجنون اورکذّاب کا لقب دياکہ قرآن کريم ميں بھي آپ پر لگائي جانے والي اِن تہمتوں کو ذکر کيا گيا ہے۔بنا بريں،آنحضرت ۰ کے دشمنوں کو رسول اکرم ۰کي ذات و شخصيت سے کوئي سروکار نہيں تھابلکہ اُن کي دشمني آپ ۰ کے پيغام حق سے تھي۔وہ تما م لوگ کہ جنہوں نے نبي اکرم ۰ کے خلاف گٹھ جوڑ کياہوا تھاوہ اُن کي لائے ہو ئے توحيد و عدل و انصاف کے پيغام اور اُن کے دين وآئين کي تعليمات سے دشمني کرتے تھے۔
اسلام دشمن قوتوں کي اسلام کے خلاف فعاليت اُن کے خوف وترس کي وجہ سے ہے نہ کہ اُن کي طاقت وقدرت کي بنا پر!
اِن چودہ سوسالوں ميں بھي مسلمانوں کو يہي مسئلہ درپيش رہا ہے ۔اگر آج اِس بات کا مشاہدہ کيا جا تا ہے کہ بعض مغربي ممالک کي ادبيات اور مغربي دنيا کے گوشہ وکنار سے تعلق رکھنے والے سياستدانوں کي زبانوں اور قلموں سے توہين رسالت
۰کے واقعات ومظاہر ديکھنے ميں آتے ہيں تويہ مسئلہ اُس گزشتہ دور کي جاہليت مربوط ہے۔آج بھي وہ لوگ جو پيغمبراکرم ۰سے دشمني کرتے ہيںوہ دراصل انسانوں کيلئے اُن کے لائے ہوئے توحيد وعدل انصاف اورنفساني خواہشات،شہوت وشيطان اور غير خدا کي بندگي کي زنجيروں سے آزادي کے پيغام کے مخالف ہيں ۔وہ تمام افراد کہ جنہوں نے ظلم وستم،دھوکہ و فريب،انسانوں کي تحقير واہانت اوراُنہيں غلام بنانے کے ذريعہ سے مال وثروت جمع کي ہے ،وہ سب اِس پيغام کے دشمن ہيں، وہ توحيد کے آفاقي پيام کي مخالفت کرتے ہيں،وہ پيغام توحيد لوگوں کو خدائے واحد کي عبوديت وبندگي کي جانب دعوت ديتاہے اورجو بھي خدائے واحد کا بندہ اور عبد بن جاتا ہے تو وہ مال وثروت ،طاقت و قدرت اور ظلم وستم کے خداوں کا بندہ نہيں بن سکتا۔
وہ تمام افراد کہ جنہوں نے اپني زندگي کو دوسري اقوام اور انسانوں کے درميان طبقاتي نظام کي بنيادوں پر قائم کيا ہے ،وہ نہ صرف يہ کہ پيغمبر اکرم
۰ کے پيغام عدل وانصاف کوہر گز پسند نہيں کرتے بلکہ اُس کي مخالفت بھي کرتے ہيں۔يہ دشمنياں اور مخالفتيں اُس دور ميں بھي اُن دشمنوں کے خوف وترس اورکمزوري کي نشاني تھي اور آج بھي ضعف وکمزوري اور خوف وترس کي علامت ہے۔
استکباري قوتيں اسلام کي بين الاقوامي طاقت و قدرت سے خوف زدہ ہيں
وہ افراد جو رسول اکرم
۰ اور اُن کے لائے ہو ئے آفاقي نظام ’’اسلام‘‘کي مخالفت کر تے ہيں،اُن سے کينہ رکھتے اور اُن کي توہين وتحقير کرتے ہيں ،وہ اِس آفاقي پيغام کے مقابلے ميں اپنے ضعف و کمزوري کي وجہ سے اِن نا پسند يدہ کاموں کوانجام ديتے ہيں، نہ کہ اپني قدرت و طاقت کي بناپر۔اُس زمانے ميںرسول اکرم ۰کے عدل وانصاف اور توحيد کے پيغام سے خوف کھاتے تھے اوراُس سے خطرہ محسوس کرتے تھے اورعصر حاضر ميںکہ جب پوري دنيا کي عوام ،معنويت کي تشنہ اور اُن کے دل بين الاقوامي ظالموں کے ظلم وستم سے متنفر ہيںتوآج کي بڑي طاقتيں اسلام سے خطرہ محسوس کررہي ہيں ۔يہ طاقتيں ايسے اسلام کو اپنے لئے ايک بہت بڑا خطر ہ سمجھتي ہيں جوعدل وانصاف اور مساوات کا علمبردار ہے،جو دنياميں روحانيت و معنويت اورخدا کي عبوديت و بندگي کے پرچم کو لہرا رہا ہے اور مختلف مادي نظاموں اور ازموں سے تھکي ہو ئي اور خستہ حال بشريت کو اپني جانب دعوت دے رہا ہے ۔آج بھي دنيا کي ظالم طاقتيں اور اُن کے گماشتے اپنے خوف وترس کي وجہ سے پيغمبر اسلام ۰ کي توہين کر رہے ہيں،يہ اِن کي شکست کي علامت ہے نہ کہ اِن کي قدرت و طاقت کي ۔
توہين رسالت
۰کي مرتکب حکومتيں ،اسلام کي بين الاقوامي طاقت سے خائف ہيں!
يہ بہت بڑي غلطي ہے کہ جو يہ تصور کرے کہ اِن مسائل ميں کوئي شخص يا کو ئي خريدا ہوا مصنّف مثلاً سلمان رشدي يا کوئي کارٹونسٹ گماشتہ کہ جنہوں نے بعض يو رپي ممالک ميں ايسا کچھ انجام دياہے،اسلام کے مد مقابل آکھڑا ہوا ہے بلکہ يہ سب بد نام زمانہ اور نگوں بخت عالمي استکباري طاقتوں کے ’’پيادہ فوجي‘‘ہيں۔اِن مسائل ميں جو چيز اسلام کے مد مقابل ہے وہ اِن طاقتوں کي سيا ست ہے اورآج اسلام کو استکباري اور استعماري دنيا کے نيٹ ورک کا سامنا ہے نيزغدّار وخونخوار صہيوني اوراُن کے زير تسلط بہت سے سياستدانوںکا ايک بين الاقوامي نيٹ ورک آج اسلام کے مقابلے پرصف آرا ہوگيا ہے۔يہي وجہ ہے کہ آپ ديکھتے ہيں کہ يورپي يو نين کا ايک انتہائي ذمہ دار منصب دار رسمي طور پر واضح اعلان کرتا ہے کہ مغرب کے تمام ذرائع ابلاغ کو چاہئے کہ وہ پيغمبر اسلام
۰کي توہين کريں!اِس قسم کے مسائل ميں يہ باتيں خود اِس با ت کا بيّن ثبوت ہيں کہ يہ طاقتيں اِس ميں ملوث ہيں۔
يہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اسلام نے پو ري دنيا ميں پھيلے ہو ئے لوگوں کے دلوں کو مجذوب وتسخير کر کے دنيا کي ظالم و جابر طاقتوں کو بہت زيادہ خوف وہراس ميں مبتلا کرديا ہے اوروہ اِس کا علاج اِس چيز ميں ديکھ رہے ہيںکہ وہ پيغمبر اکرم
۰سے دشمني کريں۔اُس زمانے ميں بھي شکست اُن کا مقدر بني تھي اورآج بھي خدا وندعالم کي مدد و نصرت سے مسلمانوں کے ذريعہ شکست کھائيں گے۔
امام صادق کي عظيم علمي درسگاہ اور اتحاد بين المسلمين کا عملي مظاہرہ
ايک بات امام ناطق حضرت امام جعفر صادق کے ميلاد کے بارے ميں عرض کروں۔ہمارے اما م ششم ٴکو اپني زندگي ميں دوسرے اماموں سے زيادہ فرصت ملي کہ وہ تعليمات اہل بيت کو يعني خالص اسلام کي تعليمات کومشتاق اور تشنہ افراد تک پہنچائيں۔يہ ايک غلطي ہے کہ اگر کو ئي يہ خيال کرے کہ امام صادق کي شاگردي ميں زانوئے تلمذّطے کرنے والے ہزاروں شاگرد سب شيعہ اوراُن کي امامت کا عقيدہ رکھنے والے تھے؛ہر گز نہيں،اُن کي شاگردي ميں بہت سے ايسے افراد بھي تھے جو امام صادق کي امامت کے اُس طرح قائل نہيں تھے جيسا کہ شيعہ قائل ہيںليکن وہ سب امام جعفر صادق کے علم و دانش اور اُن کي تعليمات سے مستفيد ہوتے تھے۔
آج کي دنيا مکتب اہل بيت کي تعليمات کي تشنہ ہے!
ہماري روايات ميں بہت سي ايسي روايات ہيں کہ جن کے راوي اہل سنّت ہيں اورمکتب تشيع سے اُن کا کوئي تعلق نہيں ہے ليکن اِس کے باوجود وہ حضرت امام صادق سے روايات کو نقل کرتے ہيں۔اِس کا معنٰي يہ ہے کہ آج بھي دنيا ئے اسلام اور امت مسلمہ اہل بيت ،امام صادق اورتمام ائمہ اہل بيت کي تعليمات کي ضرورت مندہے۔ عصر حاضر کي اسلامي دنيا اہل بيت ،امام صادق اوربقيہ تمام ائمہ کي تعليمات کي محتاج ہے لہذا تمام مسلمانوں کو اِس سے استفادہ کرنا چاہئے۔امت مسلمہ کے مختلف طبقات و افرا د اِس وسيلے کے ذريعہ سے مل جل کرآپس ميںعلمي جدوجہد کريں تاکہ اسلامي تعليمات کي سطح بلندہو۔اِس کا لازمي نتيجہ يہ ہو ناچاہئے کہ دشمني ،کينہ اورخصومت مسلمانوں کے مختلف مکا تب فکر ميں تفرقہ اندازي کا با عث نہ بنے،يہ ہے اسلامي اتحاد و يگانگت کا صحيح مفہوم۔
ہفتہ وحدت کا حقيقي مفہوم
(حضرت امام خميني
۲ کے فرمان کے مطابق 12تا 17 ريبع الاوّل کو منايا جانے ولا)ہفتہ وحدت نزديک ہے۔ہفتہ وحد ت ميں اسلامي جمہوريہ ايران کي دعوت کا مطلب يہ نہيں ہے کہ سني يا شيعہ اپنے مذہب سے ہاتھ اٹھا ليں اور دوسرے کا مذہب و عقيدہ اختيار کر ليں؛بلکہ اسلامي جمہوريہ ايران کي دعوت يہ ہے کہ تمام اسلامي مکاتب فکر کي مشترکہ باتيں ،احکامات اور تعليمات کو سامنے لايا جائے اور مسلمانوں ميں فاصلہ ڈالنے والي دشمن کي بنائي ہو ئي کينے و عداوت کي ديواروں کو ہٹا ديا جائے،تمام مسلمان ايک جگہ جمع ہوںتعليمات اہل بيت کے سائے اسلام کي حقيقي تعليمات کو سنيں اور اُس پر غور فکر کريں۔ہمارے دشمن آج پہلے سے زيادہ اِس خصومت و دشمني اور کينہ کي ديواروحائل کو مستحکم بنانے کي کوششوں ميں مصروف عمل ہيںاوراُن کي پوري کوشش ہے کہ مسلمانوں کو ايک ددوسرے سے جدا کرديں۔
عالم اسلام کے دشمن کو نہ شيعہ سے ہمدردي ہے اور نہ سُنّي سے کو ئي سروکار،وہ دونوں کے دشمن ہيں!
امريکا،صہيوني نيٹ ورک اور دوسري عالمي استکباري طاقتوں کو نہ شيعوں سے کو ئي دلچسپي ہے اورنہ اُنہيں اہل سنت سے کوئي ہمدردي ہے،يہ دونوں کے دشمن ہيں؛يہ ہر اُس مسلمان سے جو خدانام خدا اور اپنے ايمان کي طاقت کے بل بوتے اِن کے ظلم وستم کے مقابلے پر آتاہے تو وہ اُس کے دشمن ہو جا تے ہيں۔آپ ملاحظہ کيجئے کہ وہ لبنان ميں شيعہ حزبُ اللہ کے اُتنے ہي دشمن ہيں جتنا کہ فلسطين ميں حما س اور جہاد نامي سُنّي تنظيموں کے۔ايران ميں اسلامي حکومت کے قيام سے قبل طاغوتي دورِحکومت ميں وہ اپني ايجنٹ پہلوي حکو مت کے جو صرف نا م کي شيعہ تھي، اُتنے ہي طرفدار تھے جتنا کہ دوسرے ممالک ميں اِسي جيسي صرف نا م کي دوسري سُنّي حکومتوں کے!يہ طاقتيں اُس اسلام کي مخالف ہيں جواِن کے ظلم وستم کے مقابلے ميں سيسہ پلائي ہو ئي ديوار بن جائے، اِن کي استکباريت کے سامنے ڈٹ جائے،اقوام عالم کے قدرتي وسائل کولوٹنے کي راہ ميں اِن کيلئے رکاوٹ بن جائے اوراپنے حق کامطالبہ کرے؛اُن کيلئے شيعہ سُنّي سب برابرہيں۔ہاں البتہ امت مسلمہ کو ايک بڑي قوت بننے سے روکنے کيلئے تا کہ وہ پو ري دنيا ميں ايک آواز ہو کر صدائے حق بلند نہ کر سکے،اُن کي سياست يہ ہے کہ مسلمان بھائيوں ميں،شيعہ سُنيوں ميں،خود شيعوں اورسُنيوں کے درميان موجودمختلف فرقوں ميں تفرقہ اندازي کريں۔اُن کاکام اختلافات کو ہوا دينا ہے اورہمارے مفکرين،دانشور حضرات اورہماري عوام کويہ بات اچھي طرح ذہن نشين کر ني چاہئے۔
اپنے اپنے مذاہب کي حقانيت کو ثابت کرنے کي جگہ کوچہ و خيابان نہيں بلکہ علم تاريخ کے ماہرين کي علمي محافل ہيں
ہم اِس با ت پر فخر محسوس کرتے ہيں کہ ہم مکتب اہل بيت کے پيروکار ہيں،شيعہ ہيں اورامير المومنين کي امامت اور اُن کے خليفہ بلا فصل ہو نے کا عقيدہ و يقين رکھتے ہيں،ہميں اِس با ت پر فخر ہے ليکن اِس بات کو ثابت کرنے کي جگہ کو چہ وخيابان نہيں بلکہ اِس قسم کے علمي اورتاريخي مسائل کو ثابت کرنے کيلئے اُنہيں اہل فن علمي اور تاريخي ماہرين اورتعليم يافتہ شخصيات کے درميان زير بحث لا نا چاہئے۔اِس سے بڑھ کر اہم بات يہ کہ اِس قسم کي بحثوں کو علم کلام اور علم منطق کے اُصولوں کے مطابق ہو نا چاہئے ۔اپنے مدّعا کو ثابت کرنے کيلئے ايک دوسرے کي بد گوئي کرنا،عيوب کو بيان کرنا،گالم گلوچ اور نا زيبا کلمات کو زبان پر لانا،ايک دوسرے کے خلاف اسلحہ استعمال کرنا(اورايک دوسرے پر کفر و شرک کا فتويٰ لگانا)دراصل دشمنا ن اسلام کي مدد و اعانت ہے جو شيعوں کے بھي دشمن ہيں اور سُنيوں کے خون کے بھي پياسے ہيں۔ہم نے اپنے اسلامي انقلاب کے ذريعہ سے اسلامي اتحاد کا پر چم بلند کيا ہے اور ايراني قوم اِسي چيز کو بيان کرنا چاہتي ہے۔
موسم بہار کي آمد؛جہان وفطرت کا نيا لباس زيب تن کرنا
اب ايک بات نوروز کے بارے ميں،نوروز يعني فصل بہار کاآغاز،يعني ہر چيز کا ايک نيا لباس زيب تن کرنا اورايک نيا روپ اختيار کرنااور کھلنا ہے،ہم نے اِس سال کو ’’جدت،نوآوري اور صلاحيتوں کے کھلنے‘‘ کاسال قرار ديا ہے ۔فصل بہار کي آمد دراصل خود ايک قسم کي جدت ،نوآوري اور فطرت کا کھلنا ہے کہ جس ميں يہ پورا جہان اورفطرت ايک نيالباس زيب تن کرتے ہيں اورہر طرف ہر يالي اور سبزہ ہي سبزہ چھا جا تا ہے۔ہم چاہتے ہيں کہ يہ نيا شمسي سال ايراني عوام کيلئے جدت ،نوآوري اور صلاحيتوں کے کھلنے کا سال ہو۔
اسلامي انقلاب نے ظلم وستم کرنے اور اُسے سہنے والے دو بلاکوں ميں تقسيم دنيا کي سياست کوباطل کر ديا!
اِس سال کو جدت ،نوآوري اور صلاحيتوں کے کھلنے کا سال اِس لئے قرار ديا ہے کہ ہمارااسلامي انقلاب خود تاريخ کي ايک بہت بڑي جدت ونو آوري تھاکہ جسے ايراني قوم نے اپني ملکي اور بشريت کي تاريخ ميں سنہرے الفاظ سے رقم کيا ہے۔ہمارا اسلامي انقلاب دراصل خود ايک جدت تھا نيزہمارا اسلامي جمہوريہ نظام حکومت بھي ايک قسم کي نوآوري تھا۔
دنيا ميں استعماري نظام کے رائج ہو نے کے بعد دنيا دو بلاکوں ميں تقسيم ہو گئي تھي ؛ايک ظلم وستم کرنے اور تسلط جمانے والي قوتوں کا بلاک اور دوسرا اُ س ظلم و ستم اور تسلط کو قبول کرنے والے ممالک کا بلاک۔جن حکومتوںنے علم ودانش،ٹيکنالوجي وپيشرفت کي بنياد،اسلحے کے سہارے اورفريب و جھوٹ کي بنا پر دوسرے ممالک پر اپنا قبضہ وتسلط جمايا وہ تسلط طلب بلاک ميں شامل ہوئيں جبکہ دوسري اقوام و ممالک ،خواہ مخواہ،اُس قبضہ و تسلط کو قبول کرنے والے بلاک ميں شامل ہو گئے ۔يوں دنيا نے قبضہ و تسلط جمانے اور تسلط کو قبول کرنے کي تقسيم کے نظام کي عادت کر لي اورظاہر سي بات ہے کہ کچھ اقوام کوخود بخود بعض حکومتوں اوراقوام کے استکبار واستثمار کے زير تسلط جمع تو ہو نا تھا۔اسي اثنائ ميں دنيا ميںاسلامي انقلاب نے جنم ليا اور اسلامي حکومت تشکيل پا ئي اوراِس نے اِس باطل نظام اوراقوام عالم اور حکومتوں کي غيرعادلانہ تقسيم کے توازن کو درہم برہم کرديا۔اسلامي جمہوريہ نے يہ اعلان کيا کہ وہ تسلط و قبضہ جمانے والي طاقتوں کے خود ساختہ بين الاقوامي نظام کا مخالف ہے اوراگر وہ خود بھي قدرت و طاقت کو حاصل کر لے تو وہ کبھي بھي دوسري حکومتوں اورقوموںپر تسلط وقبضہ کي سياست کو ہرگز نہيں اپنا ئے گا۔
کسي قسم کاظلم وستم سہنا دراصل استکباري طاقتوں کي ہمت افزائي کرنااوراُن کے سامنے سر تسليم خم کرنا ہے
جس طرح ہماري اسلامي جمہوريہ نظام حکومت دوسري اقوام و ممالک پرتسلط جمانے کا مخالف ہے اُسي طرح وہ ظلم وستم اور استکباري طاقتوں کے تسلط و قبضہ کو بھي قبول کرنے کا زيادہ مخالف ہے۔ظلم وستم اور بڑي طاقتوں کے تسلط کو قبول کرنادراصل استکباري طاقتوں کي ہمت افزائي کرنااوراُن کے سامنے سر تسليم خم کرنا ہے۔وہ قوم جو اپنے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بيٹھ جا تي ہے کہ يہ استعماري طاقتيں آئيں اور اُس کي قومي دولت اور قدرتي ذخائر کو لوٹ کر لے جائيںاوراُس کي تقدير کو اپنے ہاتھوں ميں لے ليں تو يہ قوم درحقيقت استثماري طاقتوں کي ہمت افزائي کرتي اور اُنہيں شوق دلاتي ہے اوراپنے ہي ہاتھو ں اپني قبر کھودتي ہے۔
کسي ملک وقو م پر تسلط اور قبضہ دراصل اُس قوم کي تشخص کو سلب کرنا اوراُس کي تقدير کو اپنے ہاتھ ميں لينا ہے!
اخلاقي نکتہ نگاہ سے کسي ملک پرظلم وستم سے تسلط جمانا اوراُس کا استثمار کرناقوموں کي تحقير اور اُن کے تشخص وحقيقت کو سلب کرنا ہے۔جب قوميں استکباري طاقتوں کے زير تسلط آجا تي ہيں تواپني ثقافت،شخصيت اور تشخص کو بتدريج کھو بيٹھتي ہيںاوراُن کي قومي عزت وغيرت اُن سے چھين لي جا تي ہے۔سياسي اصطلاح کے مطابق دوسروں پر تسلط اور قبضہ جماناايک قوم کي تقدير اور مستقبل کو اپنے ہاتھ ميں لينا ہے۔بالکل اُسي طرح جيسا کہ طاغوتي دورِحکومت ميں امريکي حکومت اور امريکي سياستدان ہمارے ملک پرقابض تھے اورہماري قوم کي کوئي حيثيت نہيں تھي،اُنہوں نے ايک آمر اور ڈکٹيٹر کو اقتدار ديا ہو اتھا اور اُس کي ظاہري حکومت کے ذريعہ سے ہماري قوم کو اپنے پنجوں ميں دبوچا ہوا تھا ۔يہ لوگ ہمارے ملک کے داخلي مسائل ميں دخالت کرتے تھے،جس کو چاہتے معزول کرتے اور جس کو چاہتے نصب کرتے،حکومت کي سياست کا خود تعين کرتے ،اپني مرضي کا وزير اعظم بر سر اقتدار لاتے اور( اپنے مذموم مقاصد کو عملي جامہ نہ پہنانے کي صورت ميں اُس )وزير اعظم کو معزول کر ديتے حتيٰ حکومتي کابينہ کے وزيروں اور فوج کے کمانڈروں کے تعين ميں بھي دخالت کرتے تھے۔
اقتصادي لحاظ سے بھي تسلط و قبضہ جماناايک ملک وقوم کے قدرتي ذخائر کو غارت کرنايا اُس قوم کو اُس کے منابع سے مستفيد ہو نے سے روکنا ہے۔
اسلامي انقلاب کي جرآت وبہادري
اسلامي انقلاب آيا اور اُس نے اِن تمام غير عادلانہ نظاموں پر خط بطلان کھينچ ديا اورتقريباًتيس سال سے اسلامي جمہوريہ ايران اپنے تاريخي موقف کي بنا پر اُن تمام ظالم و استکباري طاقتوں کے مقابلے ميں سيسہ پلائي ہو ئي ديوار بناہواہے جو دنيا (پر قبضہ)کواپنا حق سمجھتے ہيں۔يہ وہ خطہ ہے کہ جہاں امريکا عيش کرتا تھااوراِسے اپني سلطنت سمجھتا تھااورمشرق وسطيٰ کا خطہ امريکي سياستدانوں اور مستکبروں کے نزول وخروج کا مرکز بنا ہوا تھا۔اُس زمانے ميںايران جو اِس خطے کا جغرافيائي مرکز اورمشرق وسطيٰ کا گوہرہے، اُن کے تحت نفوذ تھا،اسلامي انقلاب آيا اور اُس نے اِس تمام بساط کو لپيٹ ديااوراسلامي جمہوريہ کا نظام اپني پوري شجاعت و شہامت کے ساتھ اِس معرکہ کے بالکل وسط ميں کھڑا ہو گيا اور اُس نے حالات کو بدل کر رکھ ديا۔
آج کا مشرق وسطيٰ امريکا کي شکست و ناکامي کا منہ بولتا ثبوت ہے
آپ آج ملاحظہ کيجئے کہ آج کا مشرق وسطيٰ امريکي نا کامي اورشکست کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔اِن طاقتوں نے گزشتہ تين دہائيوں ميں اسلامي نظام کے رشد اور اُس کي قدرت کو روکنے کيلئے جوہو سکتا تھاوہ اُنہوں نے انجام ديا ۔
اسلامي انقلاب اوراسلامي جمہوريہ کے خلاف امريکا اوراستکباري طاقتوں کے حربے
اگرا پ تصور کريں کہ اسلامي نظام کي کمر توڑنے کيلئے وہ جو کاري ضرب لگا سکتے تھے اوراُنہوں نے وہ نہ لگائي ہوتو يہ خيال بالکل غلط ہے ۔اُن کے بساط ميں جو کچھ تھا اُنہوں نے وہ انجام ديا اور اپنے ترکش کاہر تير چلايا؛ايران پر تھونپي جانے والي آٹھ سالہ جنگ کو ہي لے ليجئے،اُن کے بزدلانہ حملوں کو ہي ملاحظہ کيجئے ،اسلامي جمہوريہ کے خلاف اُن کي جانب سے پا س ہونے والي قراردادوں، محاصروں اور بائيکاٹ پر توجہ کيجئے،ايراني قوم کے خلاف اُن کے نفسياتي جنگ کوديکھئے، اُن کي زہر اُگلنے والي پروپيگنڈا مشينري کے پروگراموں پر نظر ڈاليے اوراسلامي جمہوريہ کے خلاف دنيا ميں کيے جانے والے اُن کے شور شرابے اورجنجال پر غور کيجئے ؛ليکن اِن تمام چالوں ، دھوکہ و فريب اور پہلے سے تيار شدہ سياست کے مقابلے ميںاسلامي جمہوريہ ايران اپني عوام کي حمايت و پشت پناہي کے ساتھ ڈٹ کر کھڑا ہو گيا ،اُس کے ڈٹ کر کھڑے ہو نے کا معنيٰ يہ نہيں ہے کہ وہ صرف کھڑا ہو گيا اورصرف اپني حفاظت کر سکا اور اُس نے اپنے آپ کو نابود ہو نے سے محفوظ کر ليابلکہ وہ دن بہ بدن اپني قوت و قدرت ميں اضافہ کرتا چلا گيا۔
اسلامي انقلاب کي ثمرات اور اسلامي جمہوريہ کي خدمات وپيشرفت!
آج اسلامي انقلاب کا پيغام نہ صر ف يہ کہ دنيا ميں پھيلا ہے بلکہ اُس کي جڑيں مستحکم بھي ہوئي ہيں۔اے ايراني قوم ،آج دنيا کي مختلف اقوام آپ کو حيرت و تعجب اور تحسين آميز نگاہوں سے ديکھ رہي ہيں،يہ قوميں صرف ہمارے ہمسائے ميں رہنے والي قوميں نہيں ہيں بلکہ يہ (دنيا کے گوشہ و کنار ميں پھيلي ہو ئي)وہ اقوام ہيںجو اسلامي جمہوريہ ايران کے اعليٰ حکام اور صدر،پارليمنٹ کے اسپيکر اور محکمہ عدليہ کے سر براہ سے عشق ومحبت کرتے ہيں۔ ہمارے اسلامي انقلاب کي شہرت اور ايراني قوم کي استقامت و پائيداري اوراِس قوم کي اپنے اُصول واقدار کي پابندي کا دنيا کے گوشہ گوشہ ميں چرچاہو نے لگا ہے۔
اسلامي انقلاب اور اسلامي جمہوريہ ايران کے پوري دنيا ميں ہو نے والے چرچوںاور اِس کي جڑوں کے مستحکم ہونے کي وجہ سے اسلامي جمہوريہ ايران ميں يہ صلاحيت پيدا ہو ئي ہے کہ وہ ملک کو علمي،ٹيکنالوجي،اجتماعي وسياسي لحاظ سے آگے بڑھائے اورعوام کي فلاح وبہبود اور رفا ہ وآسائش کيلئے کيے جانے والے ہزاروں بيش بہا کاموں کوانجام دے۔ اِن گزشتہ تيس سالوں ميں مختلف حکومتوں کي جانب سے انجام دي جانے والي تمام خدمات،کام اور فعاليتيںطاغوتي دورکي مختلف حکومتوں سے کسي بھي طرح قابل موازنہ نہيں ہيں ؛عصر حاضر کے ايران ميںاقتصادي ،اجتماعي اور سيا سي ميدانوں ميں ايک عظيم الشان تحريک نے جنم ليا ہے ، ہماري قومي عزت ووقار آج زبان زدِخاص وعام ہے، کسي زمانے ميں دنيا کے سب سے پسماندہ ترين شمار کيے جانے والے اِس ملک کے مختلف شعبہ ہائے زندگي ميںآج ہماري علمي ترقي وپيشرفت دنيا ميں ہو نے والي آخري اور جديدترين پيشرفت کے بالکل برابر ہے،آج آپ ديکھ رہے ہيں کہ اسلامي جمہوريہ ايران بہت سے کاموںميں دنيا کے آٹھ ،نو يادس ممالک سے آگے کھڑا ہے يا اُن کے برابر کھڑا ہے،دنيا کے ترقي يا فتہ ممالک نے جس راہ کو سالوں ميں طے کيا ہے ،ايراني قوم نے (صرف تيس سالوں ميں)اُسے اپنے نوجوانوں کي جدوجہد او ر کو ششوں اوراپني مدد آپ کے بل بوتے مختلف شعبہ ہائے زندگي ميں طے کيا ہے،ہمارااُفق روشن اور ايراني قوم کا مستقبل اُميد بخش ہے ؛يہ ہے ايراني قوم کي پيشرفت!
ترقي و پيشرفت اور عدل وانصاف ؛ساتھ ساتھ!
اب ہم اسلامي انقلاب کي چوتھي دھائي ميں داخل ہو رہے ہيںاِن آئندہ دس سالوں ميں ہميںدو اہم ترين چيزوں کوہرصورت ميں حاصل کرنا ہو گا،؛ايک پيشرفت وترقي اور دوسري عدل وانصاف۔ہم دنيا کے بہت سے ممالک اور نظام ہائے حکومت کي مانند صرف ترقي کي فکر نہيں کرتے بلکہ ہم ترقي کو اجتماعي عدل انصاف کے ساتھ حاصل کرنے کے خواہاں ہيں۔بہت سے ممالک ہيں کہ جنہوں نے بہت زيادہ ترقي کي ہے اورجب ہم اُن کے اقتصادي اعدادو شمار پر نظر ڈالتے ہيں تو ديکھتے ہيں کہ اُن کي سالانہ درآمد بہت زيادہ ہے،ليکن اِس سے زيادہ اہم ترين مسئلہ يہ ہے کہ يہ سالانہ درآمد اُس قوم ميں کس طرح تقسيم کي جا تي ہے اور يہ وہي نکتہ ہے کہ جس پر غير خدائي نظاموں اور استکباري طاقتوں کے تشخيص کردہ نسخوں پر عمل درآمد کرنے والے دنيا کے مختلف نظام ہائے حکومت بالکل توجہ نہيں کرتے ہيں۔ايسا ہر گز نہيں ہو سکتا کہ ہم اِس پر توجہ نہ کريں،ہم اِس بات کے خواہاں ہيں کہ ہمارا ملک تما م جہات سے ،علمي ،اقتصادي،ٹيکنالوجي اور سياسي لحاظ سے ترقي کرے اور عوام رفاہ وآسائش حاصل کريں۔ليکن اِس ترقي کے ساتھ ساتھ ہم يہ چاہتے ہيں کہ ملک کو عدل وانصاف کے ساتھ چلايا جائے اور يہ بہت اہم بات ہے۔بغير ترقي و پيشرفت کے نہ عدل وانصاف مطلوب ہے اور نہ بغير عدل وانصاف کے ترقي کوئي معنيٰ ديتي ہے۔
نہ صرف ترقي اور نہ صرف عدالت!
بغير ترقي و پيشرفت کے عدل وانصاف اور عدالت کامطلب يہ ہے کہ عقب ماندگي ، پسماندگي اورفقر ميں برابري؛اورہم اِس بات کو ہرگز پسند نہيں کرتے۔اِسي طرح ہم بغير عدالت کے ترقي و پيشرفت کابھي استقبا ل نہيں کريں گے،ترقي کو عدالت کے ساتھ ہونے چاہئے۔ہمارے معاشرے ميں موجود طبقاتي نظام کوختم ہو نا چاہئے،جن افرادميں ترقي کي صلاحيت و استعداد ہے اُنہيں زيادہ سے زيادہ مواقع فراہم کرنے چاہئيں،اگر کوئي سستي او رکاہلي سے کام ليتا ہے تو وہ اپني سستي اور کا ہلي کاخود ذمہ دار ہے۔ايسا نہ ہو کہ ملک کے بعض حصوں ميں علمي تحريک نہ چلائي جائے يا وہاں اقتصادي ترقي کيلئے کو ئي کام انجام نہ دياجائے ليکن دوسرے صوبوں اورشہروں کے لوگ زيادہ امکانات اور وسائل سے بہرہ مند ہوں ۔
مختلف شعبہ ہائے زندگي ميں ترقي وپيشرفت!
ملک کوتمام شعبہ ہائے حيات ميں ترقي کرني چاہئے؛ دولت و ثروت کو بڑھانے،ملکي پيداوار کو زيادہ کرنے اوراُس سے بہرہ مند ہو نے ،قومي عزم و ارادے ميں ترقي،قومي اتحاد او ر بين الصوبائي يگانگت ميں پيشرفت، علم وٹيکنالوجي ميں ترقي،اخلاق وروحانيت ميں ترقي،طبقاتي فاصلوں کو کم کرنے ميں پيشرفت،عوامي رفاہ و آسائش کے مواقع فراہم کرنے اجتماعي نظم وضبط کو برقرار کرنے،لوگوں ميں احساس ذمہ داري پيدا کرنے،امن و امان اخلاق،سياسي شعور وآگاہي اورقوم کے اعتمادِ نفس ميں ترقي و پيشرفت ہوني چاہئے اور يہ سب ترقي و ہ پيشرفت عدالت اور عدل وانصاف کے سائے ميں انجام پائے اور عدل وانصاف کے ہاتھوں کو ہي مضبوط بنائے۔
ترقي و پيشرفت کا ہمارا فارمولا
ممکن ہے کہ بعض اقتصاد ماہرين يہ کہيں کہ جناب والا!يہ کام ممکن نہيں ہے،اگر آپ اقتصادي ترقي کے خواہاں ہيں تو آپ کو مجبوراً طبقاتي نظام قبول کرنا ہو گا۔يہاں ہم يہ کہيں گے کہ ’’يہ وہ مقام ہے کہ جہاںجدت و نوآوري کو لانا چاہئے‘‘۔ہميں ہر گز يہ خيال نہيں کرنا چاہئے کہ مغرب کے پيش کردہ اقتصادي فارمولے ہي دنيائے بشريت کے آخري نسخے اورواحد راہِ نجات ہيں،نہيں؛ہماراپيش کردہ فارمولابھي ايک فارمولا ہے اوراِس کا اپنا ايک وقت ہے ،جب اُس کا وقت ہو جائے گا تونئے افکاروخيالات ميدان عمل ميں داخل ہو جائيں گے اور يہ آپ کا کام ہے کہ اُس نئي فکر ،جدت اور نو آوري کو ڈھونڈيں ۔
ملک ميں سرمايہ گذاري ايک امر عبادت بھي ہے اور کارِ ثواب بھي!
ہم چاہتے ہيں کہ ہمارا ملک ثروت مند ہواورہماري خواہش ہے کہ ملکي پيداوار بڑھانے کيلئے سر مايہ گذاري کو عام کيا جائے۔آج ہمارے ملک ميں بہت زيادہ ثروت مند افراد موجود ہيںجوسود مند سرمايہ گذاري کرکے عوام کيلئے ملازمت کے مواقع فراہم کر سکتے ہيں۔اُن کي يہ سرمايہ گذاري نہ صرف يہ کہ خود اُن کيلئے فائدہ مند ثابت ہو گي بلکہ خود عوام کيلئے خوشحالي کا پيغام لائے گي اور سا تھ ہي خدا وند عالم کي خوشنودي کا باعث بھي بنے گي۔ملک کے صاحبان ثروت کي سرمايہ گذاري جو ملکي پيدا وار بڑھانے کا سبب بنے ،وہ ايک عبادت و ثواب ہے،يہ راہ کھلي ہو ئي ہے اور جو چاہے اِس ميں سرمايہ گذاري کر سکتا ہے اور قومي دولت کو بڑھانے ميں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔حکومت بھي اِس با ت کا پو را پورا خيال رکھے کہ معاشرے کے تمام طبقات سميت معاشرے کاپسماندہ طبقہ بھي اِس سے بہر ہ مند ہوتا کہ وہ فقراورمالي ضعف اور بحران سے نجات حاصل کريں۔
ہم نے اِن تيس سالوں ميں بہت ترقي کي ہے اوراِن تمام تيس سالو ں ميں ہمارا دشمن ہي مغلوب ہوا ہے اوراسلامي انقلاب کي ابتدا ئ سے لے کر آج تک ہماري قوم کے دشمن يعني صہيوني شيطان اور مستکبر امريکا کے نيٹ ورک نے ہماري قوم کے ہاتھوں شکست کھائي ہے۔
امريکا اور انساني حقوق کي طرفداري!
آج کي موجودہ دنيا کے افکارِعمومي ميں امريکا ايک قابل نفرت نام ہے،آج اُن کے نعروں کا کوئي خريدار نہيں اورنہ ہي کوئي اُس کي باتوں کا يقين کرنے والا ہے۔کون ہے کہ جو يہ يقين کرتا ہے کہ امريکي حکومت انساني حقوق اور جمہوريت کي طرفدار اور حمايتي ہے؟امريکا کون سے انساني حقوق کا علمبردار ہے؟! 11ستمبر 2002 کہ جب نيويورک ميں ٹريڈ سينٹر کا واقعہ رونماہوا ہے، کے بعد سے لے کر آج تک امريکا نے اپنے ہي ملک کے تين کروڑبيس لاکھ( 32ملين )افراد سے باز پرس کي ہے!بتيس ملين افراد!يہ وہ اعداد وشمار ہيں کہ جو اُن کے اپنے ديئے ہو ئے ہيں !وہ ٹيليفونوں کو کنٹرول کرتے ہيںاورافراد کو زندانوں ميں شکنجے ديتے ہيں۔
امريکي کا نگريس نے قيديوں کو اذيت و آزار پہنچانے اور شکنجہ دينے کے خلاف ايک قانون پاس کيا مگر امريکي صدر نے اُس قانون کو ويٹو کر ديا يعني قيديوں کو شکنجہ دينا صحيح ہے!يہ لوگ کيا جانتے ہيں کہ انساني حقوق کيا ہو تے ہيں؟!پوري دنيا ميں امريکا کے تقريباً 200خفيہ قيد خانے ہيں کہ جن ميں سے کئي زندان خود يورپ ميں موجود ہيں،يہ وہي يورپي ہيں کہ’’ انساني حقوق کي حمايت و پاسداري ‘‘کا ذکر شب وروز وردِ زبان ہے اورجس کيلئے وہ دنيا بھر ميں سفرکرتے پھرتے ہيں،وہ جہاں بھي جاتے ہيں انساني حقوق کي بات کرتے ہيںکہ ہم انساني حقوق کے حمايتي ہيں!کيا تمہارے يہ سب افعال اور حرکتيں حقوق بشر پر تمہاري سنجيدگي اور حمايت کي دليل ہے؟ليکن جو ’’ہولوکاسٹ‘‘کے من گھڑت واقعہ پر سوال يا اعتراض کرتا ہے ،اِن کي عدالتيں،حکومتيں اور اِن کے اخبارات اورذدرائع ابلاغ سب مل کر اُس کے خلاف گٹھ جوڑ کر ليتے ہيں ليکن توہين رسالت
۰کے مسئلے پر نہ صرف يہ کہ اعتراض نہيں کرتے بلکہ اُس کے ہم صدا وہم آوازہو جاتے ہيں!کيايہي انساني حقوق کي طرفداري ہے؟کيا يہي انسانوں اور انسانيت کا احترام ہے؟
جمہوريت کے علمبرداروں کي جمہوريت سے دوستي کي زند ہ مثاليں!
اور تو اور بڑي ڈھٹائي سے يہ کہتے ہيں کہ ہم دنيا ميں جمہوريت کے طرفدار ہيں ليکن دنيا ميں جہاں بھي عوام اُن کے منافع کے مخالف ہو تو دھونس ودھمکي سے اُس جمہوري اورعوامي کي منتخب حکومت سے مقابلہ کرتے ہيں!اِس کي ايک زندہ مثال فلسطين ميں ’’حماس ‘‘کي حکومت ہے،کيا حماس کي حکومت وہاں کے عوام کي منتخب شد ہ حکومت نہيں ہے؟! اِن کي جمہوريت سے دوستي کي ايک اور مثال اسلامي جمہوريہ ايران کے خلاف اِن کي خالي دھمکياں اور گيڈر بھبکياں ہيں، اسلامي جمہوريہ ايران ميں اتنے بڑے پيمانے پر عوامي جمہوريت موجود ہے کہ پورے خطے اور دنياکے کئي ممالک ميں جس کي مثل ونظير نہيں ملتي کہ جہاں تيس سال سے کم عرصے ميں تيس سے زيادہ اہم ترين انتخابات منعقد ہو ئے ہيں۔يہ اسلامي جمہوريہ ايران کے خلاف بيانات ديتے ہيں ،افواہيں اڑاتے ہيں،دھمکياں ديتے ہيں،اُس کابائيکاٹ کرتے ہيں اوراُسے فوجي حملوں کي دھمکياں ديتے ہيں۔کيا تم نے ہم پر فوجي حملہ نہيں کيا تھا؟کيا تم نے ہمارابائيکاٹ نہيں کيا تھا؟کيا تم لوگ آج تک ہم سے خوش اخلاقي سے پيش آتے رہے ہو؟!
انساني حقوق کي علمبردار حکومتوںکے ہاتھوں انساني حقوق کي پا ئمالي
آج اِس قوم کے پاس جو کچھ ہے و ہ اِس کي اپني استقامت اورشجاعت کي وجہ سے ہے اور اِس نے اپني قدرت و طاقت کو اپني مدد آپ کے تحت حاصل کيا ہے۔يہ لوگ حقوق بشر کي پاسداري کے علمبردار بنتے ہيںاورساتھ ہي اسرائيل کي خونخوار اور غدار صہيوني حکومت کي حکومت جو اتنے جرائم کي مرتکب ہو رہي ہے،کا دفاع بھي کرتے ہيں۔ مجھے بعض يورپي حکومتو ں پر تعجب ہوتا ہے کہ وہ امريکي حکومت کي سر نوشت سے عبرت کيوں نہيں ليتيں کہ دنيا ميںجس سے کتني شديد نفرت کي جا رہي ہے۔اِن حکومتوں ميں سے بعض صہيوني سرمايہ داروں کي چاپلوسي اور خوش آمد گوئي کيلئے غصب شدہ فلسطين کا دورہ کرتے ہيںاورجعلي صہيوني حکومت کي پارليمنٹ ميں ايران کے خلاف باتيں کرتے ہيں اور اسلامي جمہوريہ ايران کي مذمت کرتے ہيںتا کہ اُن کي حمايت کو حاصل کرسکيں۔يہ کيوں نہيں عبرت لے رہے ہيں؟آج صہيوني حکومت اوراُس کي پشت پناہ امريکي حکومت دنيا ميں نفرت کي جانے والي حکومتوں ميں سر فہرست ہيں۔ آج انساني حقوق کي پائمالي دنيا کي تمام حکومتوں اور اقوام عالم سے يہ مطالبہ کررہي ہے کہ وہ امريکي حکومت اور امريکا پر قابض صہيونيوں کے ظلم وستم کے خلاف يک متحدہ محاذ تشکيل ديں اورايراني قوم اِس محاذ ميںدوسري اقوام کي بہ نسبت سب سے زيادہ شجاعت کے ساتھ ڈٹ کر کھڑي ہوئي ہے۔
ہم اپني قوم کي نيت خالص اور عزم راسخ کے ساتھ اسلامي اقدار کي سر بلندي کيلئے سر گرم عمل حکومت اور نئي پارليمنٹ اور اِس قوم کي پشت پناہي کے ساتھ اپنے ملک کو آگے سے آگے لے کر جائيں گے؛ليکن اِس شرط کے ساتھ کہ ہمارے اعليٰ حکام جدت ونوآوري ،تخليقي صلاحيتوںاورنئے افکار اور فکر خيال کے نئے زاويوں کو مختلف روشوں کے ساتھ متعارف کرانے کو اپني ايک ذمہ داري سمجھيں۔
خدا وندا! قلب حضرت بقيۃ اللہ کو ہم سے راضي و خشنود کردے،ہميں اسلام ،مسلمانوں اوراِس ملک وقوم کي خدمت کرنے کي توفيق اوراُس ميں کاميابي عطا فرما،
پرودگارا! حضرت امام خميني
۲
اور تمام شہدائ کے درجات ميں بلندي عطا فرما۔

والسّلام عليکم ورحمۃُ اللّٰہ وبرکاتہ