|
امام خمینی (قدس سرہ) کے فتوے |
آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای (دام ظلہ) کے فتوے |
|
1۔
کسی انسان کے لئے اگر یہ احتمال ہو کہ آخر وقت میں شاید
کھڑے ہوکر نماز پڑھ سکے تب بھی اول وقت نماز پڑھ سکتا ہے
اگرچہ احتیاط یہ ہے کہ نماز میں تاخیر کرے۔ |
1۔
جس شخص کے لئے یہ احتمال ہو کہ شاید آخر وقت میں کھڑے ہوکر
اپنی نماز پڑھ سکے اسے احتیاط کی بنا پر اس وقت تک انتظار
کرنا چاہئے لیکن اگر کسی عذر کے تحت اس نے اول وقت اپنی
نماز بیٹھ کر پڑھ لی اور پھر آخر وقت تک اس کا عذر برطرف
نہ ہوا تو جو نماز اس نے پڑھی ہے وہ صحیح ہے اور اعادہ
ضروری نہیں ہے۔ اور اگر اول وقت کھڑے ہوکر نماز پڑھنے پر
قادر نہیں تھا اور اسے یقین تھا کہ کھڑے ہوکر نماز پڑھنے
سے متعلق اس کی عاجزی اور ناتوانی آخر وقت تک باقی رہے گی
لیکن آخر وقت گزرنے سے پہلے،وہ کھڑے ہوکر نماز پڑھنے کے
قابل ہوجائے تو اسے چاہئے کہ کھڑے ہوکر نماز کا اعادہ کرے۔ |
|
2۔
جو شخص بیٹھ کر نماز نہیں پڑھ سکتا اسے چاہئے کہ نماز کے
لئے دائیں کروٹ اس طرح لیٹ جائے کہ اس کے بدن کا اگلا حصہ
قبلہ کی طرف ہو اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو بائیں کروٹ اس
طرح لیٹے کہ اس کے بدن کا اگلا حصہ قبلہ کی طرف ہو اور اگر
یہ بھی ممکن نہ ہو تو اس طرح چت لیٹ جائے کہ اس کے پیروں
کے تلوے قبلہ کی طرف ہوں۔ |
2۔
جو شخص بیٹھ کر نماز نہیں پڑھ سکتا اسے چاہئے کہ لیٹ کر
نماز پڑھے اور احتیاط واجب کی بنیاد پر اگر ممکن ہو تو
دائیں کروٹ اس طرح لیٹے کہ اس کا چہرہ اور بدن قبلہ کی طرف
ہو، ورنہ بائیں کروٹ لیٹے اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو اس
طرح چت لیٹے کہ اس کے پیروں کے تلوے قبلہ کی طرف ہوں۔ |
|
3۔
روزانہ کی نماز پنجگانہ میں انسان کو پہلی اور دوسری رکعت
میں پہلے سورہ حمد اور اس کے بعد کوئی ایک مکمل سورہ پڑھنا
چاہیئے۔ |
3۔
روزانہ کی نماز پنجگانہ میں انسان کو چاہئے کہ پہلی اور
دوسری رکعت میں سورہ حمد پڑھے اور اس کے بعد احتیاط واجب
کی بنیاد پر ایک مکمل سورہ پڑھے۔ |
|
4۔
اگر(نماز میں)غلطی سے ایسا سورہ شروع کردے کہ جس میں سجدہ
واجب ہے تو اگر آیت سجدہ پر پہنچنے سے پہلے یاد آجائے تو
اس سورہ کو چھوڑ کر کوئی اور سورہ پڑھے۔ اور اگر سجدہ والی
آیت کو پڑھنے کے بعد یاد آئے تو نماز کے درمیان اشارہ کے
ذریعہ سجدہ بجا لائے اور پھر اسی سورہ کے پڑھنے پر اکتفا
کرے۔ |
4۔
نماز واجب میں سجدہ والے سوروں کا پڑھنا جائز نہیں ہے اور
اگر عمدا یا سہوا ان میں سے کسی سورے کو پڑھے اور سجدہ
والی آیت پر پہنچ جائے تو احتیاط واجب کی بنیاد پر(بیٹھ
کر)آیت سجدہ کی تلاوت کے سجدہ کو انجام دے اور پھر کھڑے ہو
کر اگر سورہ مکمل نہ ہوا ہو تو مکمل کرے اور پوری نماز اور
پھر نماز کا اعادہ بھی کرے۔ اور اگر سجدہ والی آیت پر
پہنچنے سے پہلے متوجہ ہوجائے تو احتیاط واجب یہ ہے کہ اس
سورے کو چھوڑ دے اور کوئی دوسرا سورہ پڑھے اور نماز کو
مکمل کرنے کے بعد پھر سے نماز کا اعادہ کرے۔ |
|
5۔
نماز میں جب کوئی سورہ پڑھنے کے لئے "بسم اللہ الرحمن
الرحیم" کہے تو کہ پہلے سے سورہ کو معین کرلے اور’’بسم
اللہ....‘‘ اسی سورہ کی نیت کے ساتھ پڑھے اور اگر سورہ کو
معین کرنے کے بعد اس سورہ کو چھوڑدے تو دوسرے سورہ کو
پڑھنے کے لئے اس سورہ کی نیت سے دوبارہ’’بسم اللہ...‘‘
پڑھے۔ |
5۔
سوال: جو انسان پہلے سے ہی سورہ حمد اور سورہ توحید پڑھنے
کی نیت رکھتا ہو یا اس کی عادت ہمیشہ یہی ہو اور کسی مخصوص
سورہ کا تعین کئے بغیر بلا ارادہ"بسم اللہ الرحمن
الرحیم"کھ دے تو کیا اس کے اوپر واجب ہے کہ سورہ کو معین
کرنے کے بعد پھر سے’’بسم اللہ...‘‘پڑھے؟جواب: ’’بسم
اللہ...‘‘کا دوبارہ پڑھنا واجب نہیں ہے بلکہ اسی ’’بسم
اللہ...‘‘پر اکتفا کرسکتا ہے اور حسب خواہش کوئی بھی سورہ
’’بسم اللہ...‘‘دہرائے بغیر پڑھ سکتا ہے۔ |
|
6۔
صبح، مغرب اور عشاء کی نماز میں حمد اور سورہ،عورت بلند
آواز سے اور آہستہ بھی پڑھ سکتی ہے۔ لیکن اگر کوئی نامحرم
اس کی آواز کو سن رہا ہو تو احتیاط واجب ہے کہ آہستہ پڑھے۔ |
6۔
صبح، مغرب اور عشاء کی نماز میں حمد اور سورہ عورت بلند
آواز سے یا آہستہ بھی پڑھ سکتی ہے۔ لیکن اگر کوئی نامحرم
اس کی آواز کو سن رہا ہو تو بہتر ہے آہستہ پڑھے۔ |
|
7۔
اگر تیسری اور چوتھی رکعت میں سورہ الحمد پڑھے تو احتیاط
واجب یہ ہے کہ اس کی بسم اللہ کو بھی آہستہ پڑھے۔ |
7۔
مرد اور عورت پر واجب ہے کہ تیسری اور چوتھی رکعت میں
تسبیحات اربعہ یا سورہ حمد کو آہستہ پڑھیں لیکن اگر سورہ
حمد پڑھیں تو فرادیٰ نماز میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
بلند آواز سے بھی پڑھ سکتے ہیں اگرچہ احتیاط یہی ہے
کہ’’بسم اللہ...‘‘آہستہ کہیں اور نماز جماعت میں یہ
احتیاط، واجب ہے۔ |
|
8۔
اگر تیسری یا چوتھی رکعت کے رکوع میں یا رکوع میں جاتے وقت
شک کرے کہ حمد یا تسبیحات اربعہ پڑھی ہے یا نہیں اپنے شک
پر دھیان نہیں دینا چاہیئے۔ |
8۔
اگر تیسری اور چوتھی رکعت کے رکوع میں شک کرے کہ حمد یا
تسبیحات اربعہ پڑھی ہے یا نہیں تو اپنے شک پر دھیان نہیں
دینا چاہیئے۔ لیکن اگر رکوع میں جاتے وقت جبکہ رکوع کی حد
تک نہ پہنچا ہو شک کرے تو احتیاط واجب کی بنیاد پر واپس
پلٹے اور حمد یا تسبیحات اربعہ پڑھ کر(رکوع میں جائے)۔ |
|
9۔
اگر شک ہو کہ کوئی آیت یا لفظ صحیح ادا کیا ہے یا نہیں تو
اگر اس کے بعد والی چیز میں مشغول نہ ہوا ہو تو پھر سے اس
آیت یا لفظ کو صحیح طور سے ادا کرنا چاہیئے۔ اور اگر اس کے
بعد والی چیز میں مشغول ہوچکا ہو اور وہ بعد کی چیز رکن ہو
مثلا رکوع میں شک کرے کہ سورہ کے فلاں لفظ کو صحیح پڑھا ہے
یا نہیں تو اس شک کی طرف دھیان نہ دے، اور اگر وہ(بعد
کی)چیز رکن نہ ہو مثلا اگر "اللہ الصمد" کہتے وقت شک کرے
کہ "قل ہو اللہ احد" صحیح طور پر پڑھا ہے یا نہیں تو بھی
یہ کرسکتا ہے کہ اپنے شک کی طرف دھیان نہ دے لیکن اگر
احتیاط کے طور پر اس لفظ کو(دوبارہ)صحیح طور سے ادا کرلے
تو بھی کوئی حرج نہیں ہے اور اگر کئی بار شک ہو تو کئی بار
دھرا سکتا ہے لیکن اگر(شک) وسواس کی حد تک پہنچ جائے اور
بار بار وہ لفظ ادا بھی کیا ہو تو احتیاط واجب یہ ہے کہ
نماز کو دوبارہ پڑھے۔ |
9۔
اگر کسی آیت کو تمام کرنے کے بعد شک کرے کہ صحیح پڑھا ہے
یا نہیں تو اپنے شک کی طرف دھیان نہیں دینا چاہیئے،اور یہی
صورت ہے اگر آیت کا ایک جملہ پورا کرنے کے بعد اس کے صحیح
پڑھنے کے بارے میں شک ہو مثلا"ایاک نعبد"کہنے کے بعد شک
کرے کہ صحیح ادا کیا ہے یا نہیں۔البتہ ان تمام صورتوں میں
جس چیز کے صحیح ادا ہونے کے بارے میں شک ہے اگر اسے
احتیاطا دوبارہ پڑھ لے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ |
|
10۔
اگر رکوع کی حد تک جھکے لیکن ہاتھوں کو گھٹنوں پر نہ رکھے
تو کوئی حرج نہیں ہے۔ |
10۔
احتیاط یہ ہے کہ رکوع میں ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھے۔ |
|
11۔
انسان رکوع میں جو بھی ذکر پڑھے وہ کافی ہے لیکن احتیاط
واجب یہ ہے کہ ذکر کی مقدار تین مرتبہ"سبحان اللہ" یا ایک
مرتبہ "سبحان ربی العظیم وبحمدہ" سے کم نہ ہو۔ |
11۔
رکوع میں ایک بار "سبحان ربی العظیم و بحمدہ" کہنا یا تین
بار"سبحان اللہ" کہنا واجب ہے اور اگر اس کی جگہ کوئی اور
ذکر مثلا "الحمد للہ" یا "اللہ اکبر" وغیرہ اسی مقدار میں
کہہ دے تب بھی کافی ہے۔ |
|
12۔
سجدہ میں جو بھی ذکر پڑھے کافی ہے لیکن احتیاط واجب یہ ہے
کہ ذکر کی مقدار تین مرتبہ"سبحان اللہ" یا ایک مرتبہ
"سبحان ربی الاعلی وبحمدہ" سے کم نہ ہو۔ |
12۔
سجدہ میں ایک بار "سبحان ربی الاعلی و بحمدہ" کہنا یا تین
بار"سبحان اللہ" کہنا واجب ہے اور اگر اس کی جگہ کوئی اور
ذکر مثلا "الحمد للہ" یا "اللہ اکبر"وغیرہ اسی مقدار میں
کہہ دے تب بھی کافی ہے۔ |
|
13۔
سجدوں میں ذکر واجب کے برابر انسان کا بدن ساکن ہونا
چاہئے۔ اور مستحب ذکر میں بھی،اگر اس ذکر کی نیت سے ہو کہ
جس کا حکم سجدہ کے لئے دیا گیا ہے،بدن کا ساکن ہونا ضروری
ہے۔ |
13۔
سجدوں میں ذکر واجب کہتے وقت بدن ساکن ہونا چاہئے حتی جس
وقت کوئی ذکر استحباب کی نیت سے سجدہ میں کہہ رہا ہو مثلا
"سبحان ربی الاعلی و بحمدہ" یا کسی اور ذکر کی تکرار کر
رہا ہو تب بھی احتیاط واجب یہ ہے کہ بدن میں حرکت نہ ہو۔ |
|
14۔
اگر پیشانی زمین پر رکھنے کے بعد یاد آئے کہ رکوع نہیں کیا
ہے تو احتیاط واجب کی بنیاد پر کھڑا ہوجائے اور رکوع بجا
لائے اور نماز کو مکمل کرنے کے بعد دوبارہ نماز پڑھے۔ |
14۔
اگر پہلے سجدہ میں یا اس کے بعد،دوسرے سجدہ میں داخل ہونے
سے پہلے یاد آئے کہ رکوع نہیں کیا ہے تو اٹھ کر کھڑا ہو
اور رکوع انجام دے اور پھر دونوں سجدے اور نماز تمام کرنے
کے بعد سجدہ اضافہ کے لئے احتیاطا دو سجدہ سہو کرے۔ |