|
رہبر معظم کے دورہ یزد
کی مکمل تفصیلات اور تقاریر و
خطابات کا اجمالی خلاصے کے ساتھ ساتھ تصوری رپورٹ
صوبہ یزد کےسیکڑوں
علماء و فضلاء نے رہبر معظم سے ملاقات کی ۔
(12:39:38 - 02/01/2008)
رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ
العظمی خامنہ ای نے آج رات صوبہ یزد کےسیکڑوں علماء و فضلاء سے
ملاقات میں سیاسی ، اقتصادی اور سماجی میدان میں پیچیدہ مسائل کے
رونما ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے علم دین کو آج کے دور میں
معاشرے کی سب سے زیادہ ضرورت قراردیا اور بصیرت ،آگاہی ، زہد و
تقوی ، علمی بنیاد کو مضبوط بنانا اور عوام کے مختلف طبقات کی
دینی ضروریات کا صحیح اور درست جواب دینے کو علماء کی آج کی اہم
ذمہ داری قراردیاہے ۔
رہبر معظم نے فرمایا : صاحب نظر علماء
جن کی علمی بنیاد قوی اور مضبوط ہے اور جن کی نگاہ موجودہ مسائل
پر بھی ہےوہ اپنی تلاش و کوشش کو دو برابرکریں اور فقہی بنیادوں
پر موجودہ ضروریات اور مختلف مسائل کے سلسلے میں جواب دینے میں
مصروف ہوجائیں۔
رہبر معظم نے حوزہ علمیہ کی علمی بنیاد اور
ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور اس کے رشد و ترقی کو لازم قراردیااور
حوزہ علمیہ میں موجودہ پیشرفت و بالندگی کو مبارک قدم
قراردیتےہوئےفرمایا:اس مبارک پیشرفت و بالندگی کا سلسلہ اس طرح
جاری رہنا چاہیےکہ کچھ عرصے کے بعد ملک کے تمام شہروں میں ممتاز
مجتہدین کا حضور ملموس ہوجائے اور اس کام کے لئے حوزہ علمیہ کی
علمی بنیاد کو قوت بہم پہنچانا ضروری ہے۔
رہبر معظم نے وسیع
النظری کوعلماء و فضلاء کے لئے ضروری قراردیا اورحوزات علمیہ میں
عالمی اور اجتماعی مسائل بیان کرنے کے سلسلے میں امام خمینی (رہ)
کی گرانقدرخدمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اگر عالم دین
وسیع النظری کا حامل نہ ہو تو وہ احکام اور اوامر الہی کے حقیقی
مصادیق کو نہیں پہچان پائے گا اور مختلف زوایا میں سعادت بخش
آیات کو مختصر ،محدوداور منحصر کردےگا۔
رہبر معظم نےاس سلسلے
میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے
فرمایا:امر بالمعروف کا کامل مصداق، اسلامی حکومت کا وجود اور
نہی عن المنکر کا کامل مصداق طاقوتی سماج کی نہی ہے لیکن وسیع
النظری کے فقدان کی وجہ سے خدا وند متعال کا یہ عظیم حکم جزوی
مسائل میں خلاصہ ہو کر رہ گیا ہے۔
رہبر معظم نے بصیرت کو
علماء کی ایک اور خصوصیت قراردتے ہوئے فرمایا : مفید عالم یعنی
بصیر و آگاہ عالم دین ، کیونکہ اگر انسان بصیر نہ ہو تو اپنے اور
اپنےدشمن کے مابین مقام کی تشخیص میں اشتباہ کرےگا۔
اور جیسا
کہ سیاسی، دینی اور سماجی مسائل میں بارہا یہ چیز دیکھنے میں آئی
ہے کہ ایسےلوگوں نے ہمیشہ اپنے ہی محاذ اور ساتھیوں پر حملہ کیا
ہے ۔
رہبر معظم نے فرمایا : طالب علم صرف مطالعہ اور حجرے تک
محدود نہیں رہ سکتا اور نہیں رہنا چاہیے طالب علموں کے لئے بہت
ہی ضروری ہے کہ وہ ملکی اور عالمی سیاسی مسائل اور دشمن کے نفوذ
کے راستوں سے مکمل طور پر باخبر اور آگاہ رہے۔
رہبر معظم نے
طلباء اور علماء کے مخاطبین کے مختلف النوع ہونے کی طرف اشارہ
کرتے ہوئے فرمایا : افراد کے صرف ظاہر کو دیکھ کر انھیں دین سے
بے بہرہ تصور نہیں کرنا چاہیےبلکہ تمام افراد کو مخاطب قراردینا
چاہیے اور ان کے درمیان تبلیغ دین کے سلسلے میں مکمل تیاری رکھنی
چاہیے ۔
رہبر معظم نے ایرانی عوام کی دینداری کے جوہر کے درک
کرنے کو امام خمینی (رہ) کے عظیم درس اور برکات میں شمار کیا اور
عوام پر امام خمینی (رہ) کے بھر پوراعتماد کی طرف اشارہ کرتے
ہوئےفرمایا:لوگ آج بھی " دین ، قرآن اور علماء
" سے محبت رکھتے
ہیں اور علماء کو چاہیے کہ وہ تکراری باتوں سے اجتناب کرتے ہوئے
عوام کے مختلف طبقات کےسامنے نئے اور جذاب موضوع پیش
کریں۔
رہبر معظم نے اس سلسلے میں شہید مرتضی مطہری کے آثار کو
بار بار پڑھنے اور مطالعہ کرنے کی تاکید کی اوراسے مبلغین کے لئے
واجب قراردیا ۔
رہبر معظم نے علم و دانش کے ساتھ زہد و تقوی
کوعلماء کی ایک اور خصوصیت قراردیتے ہوئے فرمایا : علماء کو اس
طرح عمل کرنا چاہیے تاکہ لوگ ان کے عمل و رفتار میں یہ مشاہدہ
کریں کہ یہ دنیا کے حریص نہیں ہیں اور اس خصوصیت سے بہرہ مند
ہونے کے لئے تہذیب نفس اور معنویت میں اضافہ کرنا ضروری
ہے۔
رہبر معظم نے علماء اور ملک کے اجرائی اداروں کے درمیان
صمیمی اور محبت آمیز رابطے پربھی تاکید فرمائی ۔
رہبر معظم
نےاپنے خطاب میں صوبہ یزد کو دار العبادہ اور دارالعلم قراردیا
اور صوبے کی ممتاز علمی شخصیات کی گرانقدر خدمات کو سراہتے ہوئے
فرمایا : یزد علم دین کا گہوارہ رہا ہے اور اس صوبے کے طلباء اور
علماء کو صوبے کی علمی سطح کو درخشاں اور تابناک مرحلے تک
پہنچانا چاہیے ۔جس پر ہمیں ماضی سے لیکر اب تک فخر رہا ہے ۔
رہبر معظم نے شہید آیت اللہ صدوقی ، مرحوم آیت اللہ خاتمی
اور مرحوم آیت اللہ اعرافی کی یاد تازہ کرتے ہوئے فرمایا :صوبہ
یزد کی ان تین ممتاز شخصیات میں ممتاز خصوصیات تھیں اور جوان
طلباء کوبڑی جد وجہد اور محنت کے ساتھ ان کے راستے پر گامزن رہنا
چاہیے ۔
اس ملاقات کے آغاز میں یزد کے امام جمعہ اور صوبے
میں نمائندہ ولی فقیہ حجت الاسلام والمسلمین صدوقی نے حوزہ علمیہ
یزد کے فاضل اور توانا طلاب کی تربیت کے سلسلے میں رہبر معظم کو
رپورٹ پیش کی ۔
رہبر
معظم نے یزد
میں ایک بےمثال عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے
انتخابات کی
اہمیت پر روشنی ڈالی۔
(20:06:59 - 02/01/2008)
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے آج یزد کے عوام
کے ایک بے مثال اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے عوام کے مخلصانہ ،
صمیمانہ اور محبت آمیز احساسات پر شکریہ ادا کیا اورایرانی عوام
کی مختلف شعبوں میں علمی پیشرفت و ترقی اور کامیابی کا اصلی راز
قومی خود اعتمادی کو قراردیتے ہوئے فرمایا : پارلیمنٹ کے آٹھویں
مرحلے کے انتخابات میں عوام کی وسیع پیمانے پرشرکت بڑی اہمیت کی
حامل ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای
نے پارلیمنٹ کے آٹھویں مرحلے کے انتخابات میں وسیع پیمانے پر
عوام کی شرکت کوبڑی اہمیت کا حامل قراردیتے ہوئے فرمایا ہے:
دوسرا مسئلہ جو کافی اہمیت کا حامل ہے وہ اصلح نمائندے کے انتخاب
میں دقت اور شناخت کا مسئلہ ہے۔
اور اس سلسلے میں باصلاحیت
ترین نمائندے کا انتخاب اور اس کے بارے میں دقت و شناخت ، اخلاق
و ادب کی رعایت اور دوسرے نمائندوں کی توہین و تخریب سےاجتناب کو
لازمی اور اہم قراردیا ہے ۔
رہبر معظم نے موجودہ سال میں
انتخابات کو ایرانی عوام کا اہم ترین مسئلہ قراردیتے ہوئے فرمایا
:
ایرانی عوام اس میدان میں بصیرت ، دانائی اور قومی رشد اور
استقامت و پائداری کا بھر پور اظہار کریں گے ۔رہبر معظم نے
فرمایا : دشمن نے اسلامی جمہوری نظام میں انتخابات کے باب کو
مسدود قراردینےکے لئے بڑی تلاش و کوشش کی لیکن خداوند متعال کے
لطف و کرم کے سائے میں دشمن کی اس سلسلے میں تمام کوششیں ناکام
ہوگئیں ۔اور ایرانی عوام نے انتخابات میں شرکت کرکے دینی جمہوری
نظام کو خاص شکوہ و عزت عطا کی ۔
رہبر معظم نے پارلیمنٹ کے
آٹھویں مرحلے کے انتخابات میں عوام کی وسیع پیمانے پر شرکت کو
بڑی اہمیت کا حامل قراردیتے ہوئے فرمایا : دوسرا مسئلہ جو کافی
اہمیت کا حامل ہے وہ یہ ہے کہ عوام باصلاحیت ترین فرد کا دقت اور
شناخت کے ساتھ انتخاب کریں ۔
رہبر معظم نے گارڈین کونسل کی
طرف سے متفاوت ومختلف صلاحیتوں کے حامل افراد کی تائید کی طرف
اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : ملک کے مختلف شہروں کے عوام کا سب سے
بڑا ہنر اور کارنامہ یہ ہے کہ وہ ان افراد کے درمیان سے ایمان ،
اخلاص ، امانت ، دینداری سے سرشار اور
انقلاب کے میدان میں
جو خدمت کا زیادہ جذبہ رکھتا ہو اس کا انتخاب کریں ۔ ایسے افراد
کو ووٹ دیں جو عوام کے دردسے آشنا اور ان کے لئےدرد
مندہوں۔
رہبر معظم نے عوام کی آراء سے منتخب ہونے والے بہترین
نمائندوں پرمشتمل پارلیمنٹ کو ملک کی ضرورت قراردیتے ہوئےفرمایا:
نمائندوں کی شناخت کے لئے تبلیغات کےرنگا رنگ پروگرام
،
لمبے چوڑے اور غیر عملی وعدوں کو ملاک و معیار قرارنہیں دینا
چاہیے کیونکہ اس قسم کے اقدامات حکومتسے متعلق ہیں۔ اور پارلیمنٹ
کے نمائندوں کا کام صرف صحیح بنیادوں پر قانون
منظور کرنا
ہےتاکہ قوہ مجریہ اور عدلیہ کے اقدامات
کے لئے صحیح
راہیں ہموار ہوسکیں ۔
رہبر معظم نے انتخابات میں حصہ لینے
والے نمائندوں اور ان کے طرفداروں پر زوردیا ہے کہ وہ انتخابات
کے دوران بد اخلاقی ، تہمت ، تخریب جیسی بری صفات سے اجتناب کریں
۔ اورمطبوعات ، اخبارات ۔ انٹرنیٹ ، مخفی لٹریچر کی تقسیم یا
دوسرے وسائل کے ذریعہ دوسرے نمائندوں کی توہین سے پرہیز کریں
کیونکہ یہ عمل ناقابل قبول ہے اورمیں اس سلسلے میں درخواست اور
اس بات پر تاکیدکرتا ہوں کہ نمائندوں کے طرفدار صرف اپنے
نمائندوں کے بارے میں تبلیغات انجام دیں اور دوسرے ممالک میں
رائج غلط اور تخریبی تبلیغات سے بالکل پرہیز کریں ۔
رہبر
معظم انقلاب اسلامی نے قومی خود اعتمادی کوفکری اور روحی دوا
قراردیا اور انقلاب اسلامی کی کامیابی اورمختلف میدانوں میں خود
اعتمادی کے بارے میں تشریح کرتے ہوئے فرمایا : ایران کی بزرگ
عوام کا اپنے اصولوں کو عملی جامہ پہنانا یعنی اسلامی معاشرے کی
تشکیل اور اس قابل فخر راستے پر گامزن رہنا، قومی اعتماد کو قوت
بہم پہنچانے کے بغیرممکن نہیں ہے۔
حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ
ای نے سماجی انصاف کے محقق ہونے ، اسلامی اخلاق کے فروغ ، شجاعت
، عزت ، اقتدار اور زندگی کے مواہب سے بہرہ مند ہونےکو اسلامی
معاشرے کے بنیادی اصولوں میں قراردیتے ہوئے فرمایا : یہ تمام
اصول معاشرے میں خاص معنی و مفہوم پیدا کرتے ہیں اور کامیابی و
سعادت کو خدا کی بندگی اور اس کی عبودیت
میں جستجو کیاجانا
چاہیے ۔ اور ایران کی مؤمن قوم بھی ان اصولوں کا دل و جان سے
پیچھا کرےگی ۔
رہبر معظم نے مغرب میں لیبرل ڈیموکریسی پر مبنی
خاندانی ، جنسی ، اخلاقی اور اقتصادی بحرانوں کی طرف اشارہ کرتے
ہوئے فرمایا: ان بحرانوں سے صاف ظاہر ہوگيا ہے کہ علمی اور مادی
پیشرفت کے ذریعہ لوگ انسانی اصولوں تک نہیں پہنچ سکتےاورنہ ہی اس
سے سعادت و سکون اورآرام میسر ہوسکتا ہے۔
رہبر معظم نے
ایرانی عوام کے ارادوں اور با مقصد کوششوں کو ایسے نظام کی تشکیل
کا باعث قراردیاجو عوام کی آراء پر مشتمل ہے ۔ اور علاقہ کا کوئی
بھی ملک ایران کے مانند عوامی آراء پر
اسوار نہیں ہے لیکن
بعض افراد دشمنوں کو خوش کرنے کے لئے یا سیاسی و حزبی مسائل کی
خاطر مسلسل منفی سوچ رکھتے ہیں اور متعدد بارآزاد انتخابات منعقد
کرانے اور مختلف نظریات سے تعلق رکھنے والے افراد کی انتخابات
میں شرکت کے باوجود یہ کہتے ہیں کہ ایران میں ڈیموکریسی نہیں ہے
۔
رہبر معظم نے دینی عوامی جمہوری نظام کو تازہ اور جدید روش
پر مبنی قراردیا اور دنیا میں جمہوریت کے مختلف خد وخال کی طرف
اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ایران کے غیور اور بہادر عوام نے اپنے
جمہوری نظام کو اسلام کے محور پر منتخب کیا ہے اور دینی عوامی
جمہوری نظام کو دنیا کے سامنے پیش کیا ہے اور مسلمان قومیں اسی
وجہ سے ایرانی عوام کو عزت و عظمت کی نگاہ سے دیکھتی ہیں
۔
رہبر معظم نے دینی عوامی جمہوری نظام ، خواتین کے مسائل
،خارجہ پالیسی اور دنیا کی بڑي طاقتوں کے ساتھ ایران کے روابط کے
سلسلے میں دشمن کی فرسودہ اور بے معنی تبلیغات کی طرف اشارہ کرتے
ہوئے فرمایا :ایران کی عظيم عوام دشمن کےگمراہ کن پروپیگنڈوں کے
فریب میں نہ کبھی آئی ہے اور نہ کبھی آئے گی اور اپنے قومی
اعتماد کو قوت باہم پہنچاتے ہوئے اپنے تابناک مستقبل کی طرف
گامزن رہےگي ۔
رہبر معظم نے ایٹمی ٹیکنالوجی اور جدید علوم
اورصعب العلاج بیماریوں کے علاج میں ایران کی پیشرفت و ترقی کو
قومی اعتماد کے نشانات میں قراردیتے ہوئے فرمایا : ایرانی عوام
اپنے نفس پر اعتماد رکھتے ہوئے ترقی و پیشرفت کے راستے پر گامزن
رہے گی ۔
حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے حکومت کی طرف سے
صوبائی دوروں پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ان دوروں میں منظور
ہونے والے پروگراموں پر عمل درآمد کو ضروری قراردیتے ہوئےفرمایا
:
عوامی مشکلات کو حل کرنا آسان کام نہیں ہے لیکن حکومت موانع کو
بر طرف کرنے کے لئے مسلسل کوشش میں مصروف ہے اور یہ کوشش و تلاش
قابل قدر ہے ۔
رہبر معظم نے حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد
کو عمیق قراردیتے ہوئے فرمایا: دشمن ملک میں مختلف قوا اور
اداروں کو کمزور بنانے اور عوام کو پریشان کرنےکے لئے الزام
تراشی کی تلاش و کوشش کررہا ہے ۔لیکن ایرانی عوام ہوشیار اور
بیدار ہیں اور حکومت کی تلاش و کوشش کو درک کررہے ہیں اور اسی
وجہ سے حکومت اور عوام کے درمیان رابطہ مزید مضبوط اور مستحکم
ہوتا جائے گا ۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب میں
یزد کے عوام کو بہت ہی مخلص ، مؤمن ، محنتی، صمیمی اور دیندار
قراردیتے ہوئے فرمایا :
یزد کا ماضی تاریخي ، علمی اور
سیاسی اعتبار سے تابناک ہے یزد کے افق پر بڑے بڑے علماء رونمائے
ہوئےجنھوں نے علمی میدان میں گرانقدر خدمات انجام دیں رہبر معظم
نے انقلاب کی کامیابی کے سلسلے میں یزد کے عوام کی کوششوں کی
تعریف کرتے ہوئے فرمایا : یزدی عوام کا یہ مختصراور گرانقدرتشخص
ہے اور جوانوں کو چاہیے کہ وہ اس بے مثال تشخص کی قدر کرتے ہوئے
اس کے بارے میں معلومات حاصل کرتے رہیں۔
رہبر معظم کے خطاب سے
قبل یزد کے امام جمعہ اور صوبے میں نمائندہ ولی فقیہ حجت الاسلام
والمسلمین صدوقی نے اس علاقے کے مؤمن اور انقلابی عوام کی
خصوصیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : رہبر معظم نے اس سال کو
قومی اتحاد اور اسلامی انسجام کا سال قراردیا ہے اور صوبے کے
عوام مکمل ہوشیا ری کے ساتھ انقلاب اور اسلام کے اصولوں پر عمل
پیرا ہیں اور پارلیمنٹ کے آٹھویں مرحلے کے انتخابات میں بھر پور
حصہ لیں گے۔
رہبر
معظم : امریکہ
کے ساتھ رابطہ برقرار کرنے میں ایرانی عوام کا کوئی
فائدہ نہیں
ہے۔
(14:24:39 - 03/01/2008)
رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ
العظمی خامنہ ای نے آج صبح صوبہ
یزد
کی یونیورسٹیوں
کے ہزاروں طلباء کے شاندار اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے قومی خود
اعتمادی کو ملک کی پیشرفت و ترقی کا اصلی عامل قراردیا اور قومی
خود اعتمادی کو کمزور بنانے والے تین عوامل کی تشریح کرتے ہوئے
فرمایا: ایرانی عوام کے دشمن اپنی وسیع ناکامیوں کے بعد اب دوسرے
اور نئے حیلوں اور مکر فریب کی تلاش و کوشش میں ہیں۔ ایرانی عوام
اور بالخصوص ممتاز افراد کو مکمل ہوشیا رہنا چاہیےاور قومی خود
اعتمادی کوفروغ دیتے ہوئے اسے کمزور بنانے والے دشمن کے ان تین
عوامل کو خاک ميں ملا دینا چاہیے۔
رہبر معظم نے یونیورسٹی کے
طلباء کے عظیم ، با نشاط اور محبت آمیز اجتماع میں اپنے حضور پر
خوشی ومسرت کا اظہار کیا اور انقلاب اسلامی ، دفاع مقدس میں
کامیابی ، امام خمینی (رہ) کی ممتاز وسحر انگیزشخصیت اور مختلف
علمی شعبوں ، بالخصوص ایٹمی توانائی کے شعبے میں کامیابی کے
عوامل کو قومی خود اعتمادی کےسلسلےقابل قبول حد میں قراردیتے
ہوئے فرمایا : ایرانی عوام نے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر
علمی پیشرفت کی دوڑ اور اپنے اہداف و مقاصد تک پہنچنے کے لئے
ابھی آدھا سفرہی طے کیا ہے اور ایران کو بیس سالہ منصوبے کے
اختتام تک علاقائی سطح پر مختلف علمی میدانوں میں پہلے مقام
پرپہنچنا چاہیے اور اس مقصد تک پہنچنے کے لئے قومی خود اعتمادی
کو قوت بہم پہنچانے اور ملک کی ترقی اور پیشرفت میں سرعت عمل کی
سخت ضرورت ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایرانی عوام کے
ساتھ عالمی سامراجی طاقتوں کی دشمنی کی علت کی وضاحت کرتے ہوئے
فرمایا: امریکی حکومت جو شیطان مجسم ہے اور دوسری تسلط پسند
طاقتیں ایرانی عوام کے قیام اور بیداری کو اپنے ناجائز اہداف تک
پہنچنے کے لئے بہت بڑا مانع تصور کرتی ہیں یہ مسئلہ ایران اور
مغربی طاقتوں کے درمیان نزاع کا اصلی سبب ہے کیونکہ وہ اسلامی
نظام کو مشرق وسطی میں اپنی شکست اور مغربی ممالک کی طرف سے
جمہوریت اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے جھوٹے دعوؤں کو برملا کرنے
کا اصلی سبب قراردیتے ہیں ۔
رہبر معظم نے ایٹمی ٹیکنالوجی
میں ایران کی پیشرفت کو روکنے کے سلسلے میں امریکی شکست کی طرف
اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : امریکہ ایک دن ایران میں پانچ
سنٹریفیوجز کی تنصیب کا مخالف تھا اور کچھ مہینے پہلے تک ایران
کے دشمن اس بات پر مصر تھے کہ ایران کو اپنی تمام ایٹمی کوششوں
کو ترک کردینا چاہیے لیکن ایرانی عوام کی استقامت اور پائداری نے
معاملہ یہاں تک پہنچا دیا ہےکہ اب یہ کہہ رہے ہیں ایران جہاں تک
پہنچ گیا ہے اب یہیں پررک جائے ۔
رہبر معظم نے دشمنوں کی طرف
سے ایرانی عوام کو نقصان پہنچانے کے لئے جدید اور نئي راہیں تلاش
کرنے کو انکی مسلسل ناکامیوں کا قدرتی نتیجہ قراردیتے ہوئے
فرمایا: آج قومی خود اعتمادی ہمیشہ کی نسبت بہت ضروری ہے اور
ایرانی عوام کو کمزور بنانے کے لئے دشمن کی جدید اور نئی راہوں
کو یونورسٹی کےطلباء بالخصوص ممتاز افراد اور اعلی حکام شناخت
کرکے ان کو غیر مؤثر بنانے کی کوشش کریں ۔
رہبر معظم نے قومی
خود اعتمادی کے مثبت آثار کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا : اگر کسی
قوم میں یہ بنیادی عامل نہ ہو تو وہ قوم ہمیشہ پسماندہ اور
دوسروں کی مدد کی محتاج رہے گی ۔ لیکن عام قومی خود اعتمادی قوم
کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی فکر کوممتاز شخصیات کے ذہنوں میں
اجاگر کرتی ہےاور استعدادوں کو کام میں لانے اور انکی شکوفا
بنانے کا سبب فراہم کرتی ہے جس کے بعد کامیابیاں حاصل ہوتی ہیں
اور ان میں ہر ایک کی بدولت دوسری کامیابیوں کی راہیں ہموار ہوتی
ہیں اور ایرانی عوام نے دفاع مقدس کے دوران اس کا مختلف میدانوں
میں خوب تجربہ کیا ہے۔
رہبر معظم نے مایوسی اور نا امیدی ،
استعدادوں کو منحرف کرنا اور فوجی حملے کی دھمکیوں پر مبنی تین
عوامل کو دشمن کی طرف سے قومی خود اعتمادی کو کمزور بنانے اور اس
میں خلل ایجاد کرنے کا سبب قراردیتے ہوئے فرمایا : دشمن کے ان
تین عوامل کے بارے میں قوم اور دانشمندوں و مفکرین کو ہوشیا رہنا
چاہیے ۔ دشمن یہ کوشش و جد و جہد کررہاہے کہ مایوسی نا امیدی
پیدا کرکے ، ایرانی قوم اور ترقی یافتہ قوموں کے درمیان بڑے
فاصلے کو بیان کرکے اور مستقبل کا افق تاریک قراردیکر ، عوام اور
بالخصوص جوانوں کے درمیان نا امیدی پھیلائے ۔ لیکن ایرانی عوام
حقائق کو درک کرتے ہوئے اپنے جوانوں کی توانائیوں اور ان کے
حالیہ تین دہائیوں کے تجربوں پر اعتماد کرتے ہوئے قومی ضرورتوں
کو پورا کرنے ، رشد و ترقی اور پیشرفت کی بلندیوں کی سمت سرعت کے
ساتھ اپنا سفر جاری رکھے گي ۔
رہبر معظم نے ملک کے اندر ان
افراد پر تنقید کی جو بیرونی طاقتوں کی ایسی تبلیغات کی ہمنوائی
کرتے ہیں جو قوم میں مایوسی اور نا امیدی پھیلاتے ہیں ایک گروہ
نے ایٹمی توانائی کے سلسلےمیں یہ دعوی کیا کہ سنٹریفیوجز کا
ایران میں بنانا اورانکی تنصیب ممکن نہیں ۔ لیکن
جب ایرانی
جوانوں نے اس بات کو عملی طور پر ثابت کردیا تو کہنے لگے کہ اس
کام پر بہت بڑا خرچہ آئے گا اور اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔اور یہ
ان کا دوسرا جھوٹ ثابت ہوا ۔
رہبر معظم نے اس سلسلے میں
فرمایا : ایرانی قوم کے پاس 20 سال میں کم سے کم 20 ہزار میگاواٹ
ایٹمی بجلی ہونی چاہیے ورنہ اسے ترقی اور پیشرفت سے ہاتھ اٹھا
دینا چاہیے ایٹمی انرجی کے حصول میں حکومتی عمل میں آج بھی دیر
ہوچکی ہے ۔
رہبر معظم نے ایٹمی بجلی گھر بنانے کے سلسلے میں
ایرانی جوانوں اور دانشمندوں کے بارے میں عدم مہارت اور ناتوانی
کے دعوؤں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اس قسم کی باتوں کی جڑ
مخالفین کی ان تبلیغات میں پوشیدہ ہے جو ایران کی پیشرفت اور
ترقی کے مخالف ہیں ۔ لیکن وہ قوم جس کے جوانون نے یورینیم افزودہ
کرنے کے عظیم مراکز قائم کئے ہیں وہ اپنے جوانوں کی علمی فکر
وسوچ کے سائے میں ایٹمی بجلی گھر بھی بنائے گی اور اس کام میں
تاخیر کو جائز نہیں سمجھتی ہے۔
رہبر معظم نے امریکی صدر کے اس
بیان کی طرف اشارہ کیا جس میں امریکی صدر نے کہا تھا کہ روس
ایران کو ایٹمی ایندھن فراہم کررہا ہے اور اب ایران کو یورینیم
کی افزودگی روک دینی چاہیے آپ نے فرمایا : امریکی صدر کی یہ بات
مضحکہ خیز ہے اور یہ ایسا ہی ہے کہ جوملک تیل کے ذخائر سے سرشار
ہے اس سے کہا جائے کہ تم اپنی تیل کی ضروریات کو دوسرے ملکوں سے
پورا کرو ۔
رہبر معظم نے اس سوال کو پیش کیا کہ اگر موجودہ
ایٹمی ایندھن فراہم کرنے والے کسی بنا پر آئندہ ایران کو ایٹمی
ایندھن کی فراہمی بند کردیں یا اس کے لئے سخت شرائط لگا دیں تو
کیا قوم ان کے سامنے مجبور اور تسلیم نہیں ہوجائے گی ؟
رہبر
معظم انقلاب اسلامی نے ایٹمی ٹیکنالوجی کے میدان میں عظیم پیشرفت
پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: یہ ترقی اور پیشرفت قومی خود
اعتمادی کو قوت بہم پہنچانے کا سبب ہے لیکن بعض افراد حکومت کو
اسی پیشرفت اور ترقی کے سلسلے میں تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اور
دانستہ یا غیر دانستہ طور پر قومی خود اعتمادی کو کمزور کرنے کی
کوشش کرتے ہیں اور قوم کو اس قسم کے افکار سے ہوشیار رہنا
چاہیے۔
رہبر معظم نے گذشتہ چند سال میں ایٹمی ٹیکنالوجی کے
میدان میں دشمن کی مطالبوں کے سامنے ایران کی عقب نشینی کے اثرات
کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اس اقدام سے ایرانی عوام اور
عالمی رائے عامہ پر واضح ہوگيا کہ مغربی ممالک کے وعدے کھوکھلے
ہیں کیونکہ ایران کی طرف سے عارضی اور رضاکارانہ طور پر یورینیم
کی افزودگي کے متوقف کرنے کی وجہ سے دشمن کو یہ جرات حاصل ہوگئی
کہ اس نے ایران کے ایٹمی پروگرام کے مکمل بند کرنے کا مطالبہ
شروع کردیا اور میں نے اسی وقت یہ تاکید کی کہ اگر دشمن کی طرف
سے غیر منطقی مطالبات کا سلسلہ جاری رہا تو میں خود میدان میں
اتر جاؤں گا اور یہ عمل انجام پایا اور ایٹمی پروگرام متوقف ہونے
کے بجائے ایٹمی سرگرمیوں میں پیشرفت کا موجب بن گیا۔
رہبر
معظم نے دشمن کے نفوذ اور قومی خود اعتمادی کو کمزور بنانے کے
سلسلے میں امریکہ کے ساتھ رابطے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
امریکہ کے ساتھ رابطہ منقطع کرنا ہماری بنیادی پالیسیوں کا حصہ
ہےلیکن ہم نے کبھی یہ نہیں کہا ہے کہ یہ رابطہ ہمیشہ منقطع رہے
گا بلکہ امریکی حکومت کے شرائط کچھ ایسے ہیں کہ اس کے ساتھ رابطہ
قائم کرنا ہماری قوم کے لئے مضر اور نقصان دہ ہےاور قدرتی طور
پرہم ایسانہیں کریں گے۔
رہبر معظم نے امریکہ کے ساتھ رابطہ
قائم کرنے کے منفی اثرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اول یہ
کہ امریکہ کے ساتھ رابطہ استوار کرنے سے امریکہ کی طرف سے لاحق
خطرہ کم نہیں ہوگا کیونکہ امریکہ کا عراق کے ساتھ سیاسی رابطہ
تھا لیکن اس کے باوجود امریکہ نے عراق پر حملہ کیا ۔ دوسرے یہ کہ
امریکہ کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کی بنا پر امریکی جاسوسوں کو ملک
میں نفوذ اور خلل ایجاد کرنے کا موقع فراہم ہوجائے گا لہذا بعض
افراد کے قول کے بر خلاف امریکہ کے ساتھ اس وقت رابطہ قائم کرنا
ایرانی عوام کے لئے سود مند اور مفید نہیں ہے اور جس دن امریکہ
کے ساتھ رابطہ قائم کرنا ایرانی عوام کے لئے مفید ہوگا تو سب سے
پہلے میں اس کی تائید کروں گا ۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے
فرمایا : بعض ہم پر الزام عائد کرتے ہیں کہ ہم امریکہ کے ساتھ
دشمنی کو ہوا دے رہے ہیں جبکہ امریکہ کی دشمنی ایرانی عوام کے
اصولوں کے ساتھ ہے اور اس کا سلسلہ انقلاب اسلامی کے آغاز سے
جاری ہے۔
رہبر معظم نے حکومت کے خلاف بعض غیر منطقی اعتراضات
و اشکالات کو قوم کی نشاط و امید کو کمزور بنانے کا سبب قراردیتے
ہوئے فرمایا : موجودہ حکومت کی بعض خصوصیات بے مثل و نظیرہیں
لیکن دوسری حکومتوں کی طرح اس میں بھی خامیاں موجود ہیں اور ان
خامیوں کو دردمندی کے ساتھ یاد دلانا چاہیے لیکن ہمیشہ بہانہ
بنانا درست نہیں ہے ۔
رہبر معظم نے حکومت کی مصروفیت ، صدر
اور کابینہ کے صوبائی دوروں پر گہری خوشی اور مسرت کا اظہار کرتے
ہوئے فرمایا:مطبوعات ، ذرائع ابلاغ اور جو لوگ عوام کے ساتھ
ہمکلام ہیں انھیں ہر کام پر اشکال نہیں کرنا چاہیے اور عوام میں
نا امیدی پیدا نہیں کرنی چاہیےکیونکہ ایسا کرنا ملک کی مصلحت و
مفاد میں نہیں ہے ۔
رہبر معظم نے غلط اور بے بنیاد تبلیغات کو
مغربی ذرائع ابلاغ کی روش قراردیا اور ایران میں حقوق انسانی کے
نقض کے سلسلے میں ان کی بےبنیاد تبلیغات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے
فرمایا : جن لوگوں نےگوانتانامو بے اور ابوغریب جیسی خوفناک
جیلوں کو وجود بخشا اور جن کے جرائم کی وجہ سے انسانیت کی پیشانی
پسینے میں ڈوبی ہوئی ہے وہ ایران سمیت اپنی ہرمخالف حکومت پر
انسانی حقوق کے نقض کا الزام عائد کرتے ہیں ۔
رہبر معظم نے
ایران میں عدم جمہوریت کے بارے میں غلط تبلیغات کومغرب کا دوسرا
تبلیغاتی دباؤاور قومی خود اعتمادی کو کمزور بنانے کا حربہ
قراردیتے ہوئے فرمایا : ایرانی عوام تقریبا ہر سال شوق و نشاط کے
کے ساتھ انتخابات میں شرکت کرتے ہیں اور مختلف جماعتوں سے اپنے
پسندیدہ نمائندے کومنتخب کرتے ہیں کیا دوسرے ممالک میں جمہوریت
کا اس کے علاوہ کوئي دوسرا معنی اور مفہوم بھی ہے؟
رہبر معظم
نے خواتین کے بارے میں مغرب کی منفی سوچ اور غلط تبلیغات کوایران
کے خلاف انکا ایک اور سیاسی حربہ اور مغربی ممالک میں وسیع
پیمانے پر خواتین کے حقوق ان کی حرمت ، کرامت اور شرافت کے پامال
اور ضائع ہونے کیطرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :مغربی حکومتیں خود
وسیع پیمانے پر خواتین کے حقوق کو ضائع اور پامال کرتی ہیں اور
ایران کی غیور و شریف عوام پر اس سلسلے میں بے بنیاد الزام عائد
کرتی ہیں۔ لیکن ان کےغلط اور بے بنیاد پروپیگنڈے ملک کے اندر غیر
مؤثر ثابت ہونگے ۔
رہبر معظم حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای
نے حجاب کو عورت کی عزت و شرف قراردیا اور دو تین صدیوں پہلے
یورپ میں اعیان و اشراف عورتوں کے ایک قسم کے حجاب کی طرف اشارہ
کرتے ہوئے فرمایا : قدیم ایران میں بھی اعیان واشراف عورتیں با
حجاب تھیں اور اسلام نے اس تبعیض کو ختم کرکے تمام عورتوں کی
شرافت و کرامت کو مد نظر رکھتے ہوئے حجاب و پردے کو سب کے لئےعام
کردیا۔اور اب مغربی ممالک کو اس سلسلے میں جواب دینا چاہیے کہ وہ
عورتوں کی عزت و شرف اور کرامت کو کیوں پامال کرتی ہیں۔
رہبر
معظم نے قومی خود اعتمادی کو کمزور بنانے کے سلسلے میں امریکہ کے
فوجی حملے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : البتہ امریکہ کی طرف
سے فوجی حملے کا احتمال آج بہت کم ہے ۔لیکن ایرانی عوام کو
انقلاب اسلامی کی کامیابی بالخصوص دفاع مقدس کے بعد دشمن کی طرف
سے فوجی حملے کے خطرات لاحق رہے ہیں ۔ بہر حال امریکی حملے کے
خطرے کو کم کرنے کا سب سے بڑا عامل ایرانی عوام کی قدرت نمائی
اور قومی خود اعتمادی پر مبنی ہے۔
رہبر معظم نے تاکید کرتے
ہوئے فرمایا : دشمن کی طرف سے فوجی کارروائی کا احتمال کم ہونے
کے باوجود قوم اور حکام کو ہمیشہ ہوشیار رہنا چاہیے کہ خدا وند
متعال کی مدد و نصرت سے ہوشیارہیں ۔
اس ملاقات کے آغاز میں
یزد یونیورسٹی کے سربراہ ڈاکٹر میر محمدی میبدی نے صوبہ یزد کی
یونورسٹیوں کو توسیع دینے کے سلسلے میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے
اعلان کیا کہ انقلاب اسلامی کی کامیابی سے قبل یزد میں صرف 200
طلباء تحصیل علم میں مشغول تھےاور اس وقت 59 ہزار طلباء مختلف
شعبوں میں صوبے کی 30 یونیورسٹیوں اور اعلی تعلیمی اداروں منجملہ
ڈاکٹری کے 21 شعبوں میں تعلیم میں مشغول ہیں ۔
اس کے بعد
صوبہ یزد کی یونیورسٹیوں کے بعض اساتید اور طلباء نے یونورسٹی کے
مختلف ، علمی ، ثقافتی ، سماجی اور سیاسی مسائل کے بارے میں اپنے
اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ خطاب کرنے والے طلباء و اساتید کے
نام حسب ذيل ہیں :
٭ ڈآکٹر محمد افخمی اردکانی ، استاد ، شہید
صدوقی میڈيکل یونورسٹی۔
٭ مہدی زارع ، یزد یونیورسٹی کے رضا
کار فورس کے انچارج ۔
٭ فاطمہ آیت اللہی،ڈنٹیئل شعبے میں پی
ایچ ڈي کی ممتاز طالبہ ۔
٭نوید نصیر زادہ ، پی ایچ ڈي اور
ممتاز علمی مقالہ نویس۔
٭علی زنجانی ، ممتاز طالب علم، مرکز
تربیت معلم شہید پاکنژاد ۔
٭ندا سر استاد ، پیام نور
یونورسٹی۔
٭حسین زمانیان، ممتاز طالب علم ، آزاد یونورسٹی
۔
٭امیر ناصری دہکردی، اسلامی انجمنوں کے انچارج۔
یزد
یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور طلباء نے مندرجہ ذيل اہم نکات کی طرف
اشارہ کیا ہے :
٭ ملک کی پیشرفت کے 20 سالہ منصوبے میں
یونیورسٹیوں کے لئے زیادہ کردار کا موقع فراہم کرنا ۔
٭
یونیورسٹیوں میں تحقیقات کے لئے جامع اور متمرکز امکانات میں
اضافہ کرنا۔
٭سیاسی دشمنوں کے نفسیاتی پرپیگنڈوں کے خلاف عوام
اور بالخصوص طلباء کا ہوشیار رہنا۔
٭اعلی تعلیمی نظام کی
اصلاح ۔
٭ معاشرے کی سعادت و پیشرفت کی بنیاد مضبوط بنانےکے
لئے ثقافت کے شعبے میں مزید توجہ مبذول کرنا۔
٭تربیت معلم
کےمراکز کو مزید مضبوط بنانا۔
٭صنعت اور یونیورسٹی کے سلسلے
میں موجود مشکلات کو برطرف کرنا۔
٭پیام نور یونورسٹی کے
امکانات میں اضافہ اور تمام یونیورسٹیوں کے درمیان امکاناتو
وسائل کا منصفانہ ہونا۔
٭ سافٹ ویئر اور علمی میدان میں ممتاز
طلباء کے نقش پر کامل توجہ۔
٭طلباء کی شادیوں کے سلسلے میں
مزید سہولیات فراہم کرنا ۔
٭ طلباء کی علمی ، سیاسی ، ثقافتی
سرگرمیوں پر وسیع توجہ کی ضرورت۔
٭ پارلیمنٹ کے انتخابات میں
طلباء کی بھر پور شرکت اور سب سے زیادہ با صلاحیت فرد کا انتخاب
۔
رہبر
معظم : شہداء
نہ صرف ایرانی قوم کے لئے باعث فخر ہیں بلکہ آج کی
انسانی نسل کے
لئے فخرکا باعث ہیں ۔
(21:23:51 - 03/01/2008)
رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ
العظمی خامنہ ای نے آج عصر کے وقت " شہیدوں ، جانبازوں اور رہائی
پانے والوں کے خاندان والوں سے ملاقات میں " شہیدوں اور جانبازوں
کو انقلاب اسلامی کا مضبوط و تن آور درخت کی جڑیں قراردیتے ہوئے
فرمایا: اسلام کی دوبارہ حیات کا تاریخی اور عظیم ظہور اور امت
اسلامی کی بیداری ایرانی عوام کی تحریک اور شہیدوں کے خاندان
والوں کی فداکاری کا نتیجہ ہےاور حالیہ تین دہائیوں میں کئی
صدیوں کے برابر پیشرفت حاصل ہوئی ہے ۔
رہبر معظم نے نابرابر
اور تحمیلی جنگ کے دوران شہیدوں کی شجاعت ، پائمردی ، راسخ عزم
کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: شہداء نہ صرف ایرانی عوام کے لئے
باعث فخر ہیں بلکہ آج کی انسانی نسل کے لئے فخر ومباہات کا باعث
ہیں ۔
رہبر معظم نے جانبازوں کو زندہ شہید قراردیا اور ان کی
بعض مشکلات اور سختیوں کو یاد دلاتے ہوئے فرمایا : عزیز جانباز
ہر لحظہ جو سختیاں اور درد خدا کی یاد میں برداشت و تحمل کرتے
اور اس پر شکر ادا کرتے ہیں اس پر انھیں جہاد کا اجر ملتا ہے اور
اگر وہ اسی حالت میں خدا سے ملاقات کریں تو انھیں شہید کا اجر
نصیب ہوگا
رہبر معظم نے شہیدوں کے خاندان والوں اور جانبازوں
کے صبر و استقامت کی ستائش اور ان کے عظیم ورفیع مقام کی طرف
اشارہ کرتے ہوئے انکوانقلاب اسلامی کی مضبوط بنیاد اور ستون
قراردیا اور ان عزیزوں کی قدر ومنزلت کی حفاظت کو سب کی ذمہ داری
اور وظیفہ قراردیا۔
رہبر معظم نے فداکاری کو ہرانقلاب اور
پیشرفت کا لازمی حصہ قراردیا اور ایرانی عوام کے ہاتھوں پرچم
اسلام کی سربلندی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ایرانی عوام کے
انقلاب کی بدولت آج کی مادی دنیا میں " دین اور معنویت " کی طرف
رجحان دوبارہ زندہ ہوگیا ہےاو ایرانی عوام دنیا کی نظر میں عزیز
اور مقتدر بن گئی ہے۔اور یہ فخر سب سے پہلے شہیدوں اورجانبازوں
اور ان کے خاندان والوں سے متعلق ہے۔
رہبر معظم نے ملک کے
جوانوں میں سیاسی ، سماجی ، علمی اور ثقافتی میدانوں مجاہدت کے
جذبے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: آج کے جوان بھی ایران اور
اسلام کی برتری کےلئے فداکاری اور ایثار کے علمبردار ہیں اور
ایرانی عوام خدا وند متعال کی ذات پر توکل رکھتے ہوئے شہیدوں کے
پر افتخار راستے پر گامزن رہےگي۔
رہبر معظم نے اپنے خطاب کے
اختتام میں شہید محراب آیت اللہ صدوقی اور صوبہ یزد کے چار ہزار
شہیدوں کی یاد کو تازہ کیا ۔
اس ملاقات کے آغاز میں شہیداشرف
اور محترمہ فاطمہ راسخی نژاد " شہید کی ہمسر اور جانباز کی بہن
"
نے رہبر معظم انقلاب اسلامی کو خیر مقدم عرض کیا ۔
رہبر
معظم : ایران
کی عوام اور اس کے منتخب نمائندے امن و صلح پسند ہیں
(22:39:19 - 04/01/2008)
رہبر معظم انقلاب اسلامی اور مسلح افواج کے
سربراہ حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آج صبح صوبہ یزد کی
مسلح افواج کی مشترکہ پریڈ میں 8 سال تک دفاع مقدس میں مسلح
افواج کی مجاہدت اور تلاش و کوشش کوایرانی عوام کے لئے بہت بڑا
اور گرانقدر ذخیرہ قراردیتے ہوئے فرمایا: ایرانی عوام
اقتداراورآمادگي کے سائے میں آرام اور امن کے ساتھ مختلف میدانوں
میں ترقی و پیشرفت کی سمت گامزن رہے گی ۔
اس مراسم کے آغاز
میں جمہوری اسلامی ایران کا قومی ترانا پیش کیا گیا اور رہبر
معظم نےشہیدوں کی یادگار پر حاضر ہوکر ان بہادروں کے درجات کی
بلندی کے لئے دعا فرمائی ۔
اس کے بعد گراؤنڈ میں موجود سپاہ ،
رضاکارفورس اور پولیس کے جوانوں نے رہبر معظم انقلاب اسلامی کو
سلامی پیش کی اور رہبر معظم نے وہاں موجود جانبازوں سے محبت کا
اظہار کیا ۔
اس مشترکہ پریڈ میں رہبر معظم نے اپنےخطاب میں 8
سالہ دفاع مقدس میں صوبہ یزد کی الغدیر یونٹ کی گرانقدر خدمات کی
طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: مسلح افواج کے اس گروہ کانام ہمیشہ
سرافراز و سربلند ہے جس نے جنگ کے مشکل اور دشوار دنوں میں
مجاہدت اور اخلاص کے اعلی نمونے پیش کئے ۔
مسلح افواج کے
سربراہ نے ایرانی عوام کی عظیم شائستگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے
فرمایا : ایران کے عظیم عوام ، حضرت امام (رہ) ، عظیم المرتبت
شہداء اور انقلاب اسلامی کے اعلی اہداف اس بات کے سزاوار ہیں کہ
مسلح افواج روزبروز اپنی صلاحیتوں اورکوششوں میں اضافہ کرے
۔
رہبر معظم نے ایرانی عوام کی طرف سے "خدا پرستی و خداجوئی
پر مبنی آزادی کے پرچم کی سربلند ی " کو امت اسلامی کے لئے ہدیہ
قراردیتے ہوئے فرمایا: تاریخ ساز پیغامات کو فداکاری کے بغیر
پہنچانا ممکن نہیں ہےاور ایران کی عظیم عوام نے قوی ایمان اور
راسخ عزم کے سائے میں اس عظیم کام کو انجام دیا ہے ۔
رہبر
معظم نے اقتدار ، خود باوری اور ایرانی عوام کی معنوی قدرت کی
طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: کوئی بھی اس قوم اور اس کے منتخب
نمائندوں میں جنگ طلبی کے علائم پیدا نہیں کرسکتا لیکن ایران کی
امن و صلح پسند قوم ہر حملہ آور کو ایسا تاریخی اور عبرتناک درس
دیا جائےگا جس کی بنا پر حملہ آور کے ذہن سے حملے کی فکر ہمیشہ
کے لئے نابود ہوجائے گی۔
رہبر معظم اور مسلح افواج کے کمانڈر
انچیف نے مسلح افواج کی پیشرفت و ترقی ، نظم و انسجام پر خوشی
اور مسرت کا اظہار کرتے ہوئے تاکید فرمائی : ایرانی عوام اور
مسلح افواج اپنی آمادگی و اقتدار کو بیداری و ہوشیاری کے طور
پربرقراررکھیں اور اس کو قوت بہم پہنچائیں ۔
اس تقریب میں
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے سربراہ میجر جنرل جعفری نے
رپورٹپیش کرتے ہوئے کہا : مسلح افواج، سپاہ پاسداران انقلاب
اسلامی ، فوج ، رضاکار فورس علاقے میں دشمن کی تمام حرکات و
سکنات کو زیر نظر رکھے ہوئے ہیں اور انقلابی مدیریت ،و جدیدترین
وسائل کے ساتھ اسلام و انقلاب کے لئے ہر قسم کی فداکار کرنے کے
لئے آمادہ ہیں ۔
صوبہ یزد میں سپاہ کے کمانڈر محمد علی اللہ
دادی " سپاہ یزد اور الغدیر یونٹ کے سینئر کمانڈر " نے بھی صوبہ
یزد کے چار ہزار شہید وں کی یاد کو تازہ کرتے ہوئے صوبہ یزد میں
مسلح افواج کی سرگرمیوں کے بارے میں مختصر رپورٹ پیش کی
۔
الغدیر چھاؤنی میں منعقد ہونے والی اس تقریب کے اختتام پر
گراؤنڈ میں موجود دستوں نے رہبر معظم کو سلامی پیش کرتے ہوئے
عبور کیا ۔
ابر
کوہ کے شہیدوں
کے مزار پر حاضری ۔
(15:14:39
- 05/01/2008)
رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ
العظمی خامنہ ای نے ابر کوہ کے شہیدوں کے مزار پر حاضر
ہوکر ان
کی بلند روح کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی ۔
رہبر
معظم صوبہ یزد
میں امامزادہ جعفر کے مزار پر حاضر ہوئے ۔
(15:18:46 - 05/01/2008)
رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ
العظمی خامنہ ای نے صوبہ یزد میں امام زادہ جعفر کے
مرقد پر حاضر
ہوئے اور ان کی پاک روح کے لئے سورہ فاتحہ کی تلاوت کا
شرف حاصل
کیا۔
رہبر
معظم : ملک کے
ماہر وممتاز افراد کا احترام اور ان کے مقام ومنزلت کی
قدر
وحفاظت ضروری ہے۔
(15:05:13
- 05/01/2008)
صوبہ یزد میں قرآنی ، علمی ،ثقافتی ، ہنری ،
صنعتی ، زراعتی اوراقتصادی شعبوں سے تعلق رکھنے والی
ممتاز و
منتخب شخصیات نے سنیچر کی شب رہبر معظم انقلاب اسلامی
حضرت آیت
اللہ العظمی خامنہ ای کے ساتھ تین گھنٹے اور تیس منٹ تک
ملاقات
کی ۔ اس ملاقات میں صوبے کے 17ممتاز افراد نے اپنے اپنے
خیالات
کا اظہار کرتے ہوئے مختلف تجاویز بھی پیش کیں ۔
رہبر معظم نے
صوبہ یزد کے ممتاز و منتخب افراد کے اجتماع میں اپنے
حضور کو ملک
کے دوسرے علاقوں کے ممتاز افراد کے اجتماع میں اپنے
حضور کی طرح
لذت بخش اور شیریں قراردیتے ہوئے فرمایا: اس قسم کے
اجلاس کے
انعقاد کا ایک حقیقی اور عملی پہلو اور دوسرا علامتی
پہلو ہےجس
میں ملک کے ممتازافراد کی زحمات و خدمات پرشکریہ ادا
کرنا
ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اجلاس کا علامتی
پہلو
اس پیغام کا حامل ہے کہ اگر ایرانی عوام ، نوجوان اور
حکومت کے
ارکان ملک کے اعلی و ارفع اہداف کی جانب سرعت کے ساتھ
پیشرفت کے
خواہاں ہیں تو ان پرملک کے ماہر وممتاز افراد کا احترام
اورملک
میں ان کے مقام ومنزلت کی حفاظت ضروری ہے۔
رہبر معظم نے ماہر
افراد کی طرف سے عوام کو فائدہ پہنچانے کو خدا وند
متعال کی رضا
و خشنودی حاصل کرنے کا سبب قراردیتے ہوئے فرمایا: ممتاز
و ماہر
افراد اپنی عزت و استقلال اور اپنی توانائیوں پر اعتماد
کرتے
ہوئے اور سختیوں اور مشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے ملک کی
پیشرفت
کے سلسلے میں اپنے سفر پر گامزن رہیں۔
رہبر معظم نے فرمایا
:
ایرانی عوام پیشرفت کی شاہراہ پر گامزن ہے اورملک کے
ماہر و
ممتاز و منتخب افرادکو بھی ملک کی ترقی اور پیشرفت کے
سلسلے میں
اپنا اہم وظیفہ ایفا کرنا چاہیے۔
رہبر معظم نے استاد مہدی
آذری کے گرانقدر ثقافتی آثار پر ان کی تعریف و تمجید
فرمائی ۔
اس ملاقات کے آغاز میں مندرجہ ذيل افراد نے اپنے اپنے
خیالات
کا اظہار کیا : سيد عباس پاك نژاد، آزادہ و یزد کے
نمائندے
–
مرضيہ سادات نقيب القُراء، شعبہ ثقافت اور مدرس حوزہ
علمیۃ
خواہران
–
محمدرضا شائق، حافظ كل قرآن و ہنرمند و ممتاز خوشنويسي
–
ابوالفضل رمضاني زادہ، صوبائی اور ملکی سطح پر منتخب
کاریگر
–
محمدمہدي رازي، مدرس ہنرو گرافیک
–
محمدحسين فنائي، انجینئر
–
راقبيان، انجینئر–
اسفنديار اختياري، ڈاکٹر
–
حاج محمدحسين
نجفي،بازاری اصناف کا نمائندہ
–
زكريا اخلاقي، شاعر
–
علي كريمي
زارچي، الکٹرانک شعبے کا طالب علم اور 10 چیزوں کا
مخترع وموجد
–
عباس افلاطونيان، خواتین کی بیماریوں کے ماہر
–
محمدرضا اوليا،
یزد یونیورسٹی کے استاد
–
فاطمہ دانش يزدي، ماہر آثار قدیمہ
–
ليلا نوروزي،ملکی سطح پر قالین بافی کے شعبے میں منتخب
–
محمدرضا
صديقي،صوبہ یزد کے گلخانہ داروں کے نمائندے
–اور
مجيد روحاني،
ورزش کے میدان میں منتخب ۔
اس ملاقات میں پیش کی گئی تجاویز
کا خلاصہ حسب ذیل ہے:
٭صوبہ یزد میں صنعت و معدن کے شعبہ پر
خاص توجہ مبذول کرنا۔
٭صوبہ یزد میں سورج کی انرجی سے استفادہ
کرنے کے وسیع امکانات کے پیش نظر تحقیقاتی مرکز کا
قیام۔
٭
مختلف مدارس میں دینی معارف کا فروغ اور جوان نسل کے
شبہات کا
جواب ۔
٭ بشری ضرورتوں کو پورا کرنے کے سلسلے میں قرآن مجید
پر خاص توجہ مبذول کرنا ۔
٭ درسی کتب کے متن اور کیفیت پر
تجدید نظر۔
٭ دینی تعلیمات واصولوں کی بنیاد پر ذرائع ابلاغ
کو خاندان کے مسائل پر توجہ مرکوز کرنا۔
٭گزشتہ ہنر پر توجہ
اور اسے نئی روشوں کے مطابق احیاء کرنا۔
٭ شہری تعمیر و ترقی
کے سلسلے میں ایرانی و اسلامی معماری کے احیاء پر توجہ
۔
٭لیبر مسائل پر زیادہ سے زیادہ توجہ اور عارضی معاہدوں
پر
خصوصی توجہ رکھنا۔
ممتاز و منتخب افراد کی جامع
تعریف۔
صنعت و ریسرچ کے درمیان قریبی رابطہ و تعاون۔
٭
صوبہ یزد کے دستی صنائع پر خاص توجہ مبذول کرنا۔
رہبر
معظم :ایران کی
زندہ اورجوان قوم انتخابات میں شرکت کرکے دشمن کو مایوس
بنادے
گی۔
(19:13:03
- 05/01/2008)
رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ
العظمی خامنہ ای نے آج صبح صوبہ یزد کےاپنے سفر کے
چوتھے دن ابر
کوہ کے عوام کے عظیم اجتماع میں " حکومت وحکام کا عوام
کے بارے
میں ذمہ داری کا احساس " اور " ہمت و قومی خود باوری "
کوملک کی
پیشرفت کے دو اہم عامل قراردیا اور پارلیمنٹ کے آٹھویں
مرحلے کے
انتخابات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : ایران کی
زندہ ، جوان
اور پر نشاط عوام دشمن کی تبلیغات کے بر خلاف ان
انتخابات میں
شرکت کرکے ان کو بےمثال انتخابات میں بدل دیں گے ۔
رہبر معظم
نے ابر کوہ کےقدیمی اور کہن شہر کے عوام کے گرم جذبات و
احساسات
پر شکریہ ادا کیا اور ایرانی عوام کے اندر جذبات اور
احساسات کو
انقلاب اسلامی کی برکات قراردیتے ہوئے فرمایا: قوم کا
جوان اور
بامقصد ہونا اس ملک کےاچھےمستقبل کی ضمانت ہے اور خدا
وند متعال
کی مدد سے ایرانی عوام کی روح پرامید اور جوان ہے ۔
رہبر معظم
نے عوام کی نسبت عدم ذمہ داری کوگذشتہ حکومت کے دردناک
آفات میں
شمار کرتے ہوئے فرمایا:گذشتہ حکومت کے لوگ صرف انھیں
علاقوں میں
کام کرتے تھے جہاں ان کے مفادات وابستہ ہوتےتھے لیکن
انقلاب
اسلامی نے اس روش کو بدل دیا ہے ۔اور ملک کے تمام
علاقوں کے عوام
پر یکساں توجہ مبذول کرنے کو حکومت کے ارکان کی ذمہ
داری قراردیا
ہے ۔اور ملک کے مختلف شہروں اور علاقوں میں حکومت کی
تلاش و کوشش
اور کابینہ کے دورے اس ذمہ داری کے احساس اور درک کا
نتیجہ
ہیں۔
رہبر معظم نے ہمت و خودباوری کو ملک کی پیشرفت کا دوسرا
عامل قراردیااوراحساس کمتری میں ایرانی عوام کو مبتلا
کرنے کی
استعماری و سامراجی طاقتوں کی تبلیغات کی طرف اشارہ
کرتے ہوئے
فرمایا: انقلاب اسلامی نے معاشرے سے احساس کمتری کو
بالکل ختم
کردیا ہے اور ایرانی عوام اپنی پوشیدہ ومخفی اور خداداد
صلاحیتوں
اور تابناک و درخشاں تاریخ اور اسلام اور ایمان کے
سہارے پیشرفت
اور ترقی کی جانب گامزن رہےگی ۔
رہبر معظم نےقوم کو مستقبل پر
امید کی نگاہیں رکھنے کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا :
انقلاب کے
بعدملک میں اچھی خاصی پیشرفت ہوئی ہےلیکن اس کے نتائج
ایرانی
عوام کی شان ومنزلت و مقام کے لئے ابھی کافی نہیں ہیں
اور اس
عظیم مقام تک پہنچنے کے لئے ملک کی پیشرفت میں سرعت عمل
کی ضرورت
ہے۔
رہبر معظم نے قومی ہمت کو ملک و قوم کی توفیقات کا
استمرار قراردیتے ہوئےفرمایا:اس عظیم اور وسیع ملک میں
جہاں کہیں
کوئی رہتا ہے اس کو اس عزیز و عظیم ملک کی پیشرفت کے
سلسلے میں
اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے ۔اور اپنے وظائف پر
صحیح عمل
کرتے ہوئے ملک کے اعلی و ارفع اہداف تک پہنچنے کے لئے
اپنا فعال
کردار ادا کرنا چاہیے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایرانی
عوام کی طرف سے زمانے کے مطابق اسلام پیش کرنےکو انسانی
معاشرے
کے لئے یادگار خدمت قراردیتے ہوئےفرمایا: آج ایران نے
اسلام کی
پیشرفتہ سیاسی اور سماجی فکرکو پیش کیا ہے جو معنویت
اور سعادت
کی تشنہ قوموں کے لئے سرمشق اور نمونہ عمل بن سکتی ہے
اور دنیا
کے منصف مزاج مفکرین نے اس حقیقت کے درست ہونے کا
اعتراف بھی کیا
ہے ۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا : حکومت عوامی
مشکلات
کو برطرف کرنے کے لئےحقیقت میں تلاش و کوشش کررہی ہے
۔اور عوام
کو مادی و عمرانی خدمات پپہنچانے کے علاوہ سر بلندی و
سرافرازی
کے ساتھ انقلاب اسلامی کے اصولوں کی پاسداری کررہی ہے ۔
رہبر
معظم نے عوام کے راسخ عزم اور شوق ونشاط کو دشنوں کے
لئے مایوسی
وناامیدی کا سبب قراردیتے ہوئے فرمایا:ایرانی عوام
عالمی سطح پر
کسی بھی معاملے میں کمزوری اور ضعف کا اظہار نہیں
کرےگی۔
رہبر
معظم نے ایٹمی معاملےمیں عوام اور حکومت کی استقامت و
پائداری کی
تعریف کرتے ہوئے فرمایا :یہ استقامت و پائداری ایک قومی
ضرورت ہے
کیونکہ اگر آج ہم ایٹمی ٹیکنالوجی حاصل کرنے کی کوشش
نہیں کریں
گے تو دنیا سےپیچھے رہ جائیں گے اور اگر منفعل عمل کریں
گے تو
دشمن کو آگے بڑھنے کی جرات مل جائے گی جیسا کہ قوم کی
ہر فرد کا
ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول پراصرار ہے ایٹمی ٹیکنالوجی کی
عظیم
علمی قدرت ایرانی عوام کا مسلّم حق ہے ۔
رہبر معظم نے آئندہ
پارلیمانی انتخابات میں عوام کی وسیع پیمانےپر شرکت کو
انکے عزم
راسخ و طاقت و قدرت نمائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئےفرمایا
: دشمنوں
نے انتخابات کو کم اہمیت بنا کر پیش کرنے کی ہمیشہ کوشش
کی ہے
لیکن ایرانی عوام ہمیشہ دشمن کے مد مقابل ظاہر ہوئے اور
انتخابات
میں وسیع پیمانے پر شرکت کرکے دشمن کو مایوس کیا ہے اور
امید ہے
کہ آئندہ انتخابات میں بھی ایسا ہی ہوگا ۔
رہبر معظم انقلاب
اسلامی نے انتخابات کو ایک مثبت ، مفید با نشاط مقابلہ
قراردیا
اور انتخابات میں نمائندوں اور ان کے طرفداروں
کوایکدوسرے کی
توہین ، بد اخلاقی اور تہمت جیسے برے صفات سے پرہیز
کرنے کی
تاکید کرتے ہوئے فرمایا:امید ہے کہ خداوند پارلیمنٹ کے
آٹھویں
مرحلے کے انتخابات میں بھی ایرانی عوام کو اپنی ذمہ
داری پورا
کرنے کی توفیق عطا فرمائے گا ۔
رہبر معظم نے اپنے خطاب میں
صوبہ یزد اور ابرکوہ کے عوام کی مشکلات کو دور کرنے پر
تاکید
کرتے ہوئے فرمایا : ملک آج بہترین وسائل ،اچھےاور دلسوز
حکام اور
اچھے افراد سے سرشار ہےاور اس وقت منظم پروگرام کے تحت
عوام کی
مشکلات کو بر طرف کرنے پر توجہ مبذول کرنے کی ضرورت ہے۔
اس
ملاقات کے آغاز میں ابر کوہ کے امام جمعہ نےرہبر معظم
کا خیر
مقدم کیا اور اس شہرکو درپیش مشکلات کے بارے میں رپورٹ
پیش کی جس
میں پانی کی مشکلات شامل ہے ۔
|