بسمہ تعاليٰ
رہبر انقلاب اسلامي حضرت آيت اللہ العظميٰ سيد علي خامنہ اي دامت برکاتہ
نے26جنوري 2010 کو ايک اہم خطاب فرمايا ،خطاب کي افاديت کے پيش نظر اُس کے اہم نکات کا ترجمہ قارئين کي خد مت ميں پيش کيا جا رہا ہے۔
اسلامي انقلاب اور اسلامي نظام کي بنياديں عوام کے دلوں ميں مضبوط و مستحکم ہيں!
غافل و احمق دشمن اپنے ماضي سے عبرت و سبق کيوں نہيں ليتا!
اسلامي نظام کے مخالفوں اور معارضوں کي غلط فہمي

بسم اللّٰہ الرَّحمٰن الرَّحيم
 


آپ تمام بہن بھائيوں کو جو يہاں تشريف لائے ہيں،صدق دل سے خوش آمديد کہتا ہوں۔
شہر آمل ميں ٢٨ سال قبل رونماہونے والے واقعے کو جس ميں شہر آمل کے لوگوں نے منافقوں کے سامنے محاذ بنائے اور اُن سے جنگ کي ،خود امام خميني ۲ نے بھي اُس کي افاديت و اہميت کے پيش نظر اُسے اپنے وصيت نامے ميں ذکر کيا ہے۔يہ ايک ايسا تاريخي واقعہ ہے کہ جس نے اسلامي انقلاب کي بنيادوں کو مستحکم کيا۔امام خميني ۲ کا يہ اقدام اِس واقعے کي اہميت کے پيش نظر تھا تا کہ يہ واقعہ فراموش نہ کيا جائے۔اِن ٢٨ سالوں ميں نہ اسلامي جمہوريہ ايران کا نظام تبديل ہوا ہے اور نہ اُس کے دشمن اوراُس کي سازشيں تبديل ہو ئي ہيں۔يہ واقعہ جائے عبر ت بھي ہے اورمقام درس بھي۔
اِس واقعے کي وجہ سے شہرآمل کو ’’ايک ہزار محاذوں کا شہر‘‘کہا جاتا ہے!يہ کوئي معمولي تعبير نہيں ہے کہ جسے اِس شہر کيلئے استعمال کيا جاتا ہے۔ميں يہاںايک اور اندازاورزاویے سے اِس واقعے اور اِس تعبير کے متعلق کچھ نکات بيان کربانا چاہتا ہوں۔
اسلامي انقلاب سے محبت و عشق ،قلوب ميں موجزن ہے
اِس واقعے کا ظاہري پہلو يہ ہے کہ اِس شہر کے باشندے منافقين اور بد معاش افراد کے مقابلے ميں ايک ہزار محاذ ومورچے بناتے ہيں،ممکن ہے کہ يہ مورچے ايک ہزار سے کم ہوں يا زيادہ ،ليکن وہ نکتہ کہ جسے ميں يہاں بيان کرنا چاہتا ہوں ،يہ ہے کہ يہ مورچے اور محاذ ،سڑکوںاورروڈوں پر نہيں بنائے گئے تھے بلکہ يہ ايک ہزار مورچے دلوں کے اندر تھے اوراِن مورچوں کي تعداد ايک ہزار نہيں بلکہ ہزاروں کي تعداد ميں يہ مورچے اور محاذ ہماري عوام کے دلوں ميں موجود ہيں۔
قوموں کي بد بختي و شکست کا سبب،موجود حالات سے لاعملي اور بے خبري!
ہر با شرف انسا ن ا ورمومن اپنے دل ميںدشمن کے ہونے والے حملوں کے جواب ميں مورچے بنائے ہوا ہے۔ايک ہدف کي جانب گامزن ايک قوم جب اِس بات سے لا علم ہو کہ اُس کي راہ ميں کيا کيا خطرات موجود ہيںاور کون کون سے دشمن کمين ميں اُس کي تاک ميں بيٹھے ہيں اور اُسے اُن کے جواب ميں کيا اقدامات کرنے چاہئيںاور وہ خود کو حالات کے سپرد کر دے اور کسي بھي لازمي اُصول وقوانين کي پابندي نہ کرے اور اپنے انتظار ميں موجود حالات سے بے خبر ہوجائے تو وہ منہ کي کھائے گي۔
دنيا کي وہ تمام اقوام جو اپنے ہدف کي راہ ميں حرکت کر رہي تھيںاور اُنہوں نے منزل ہر پہنچنے سے قبل ہي منہ کي کھائي اور ايسے گریں کہ وہ صديوں تک زمين سے اُٹھا نہ سکيںتو جان ليجئے کہ اُن کي تمام مشکلات ا ور بد بختيوں کا آغاز يہاں سے ہوا ہے کہ وہ اِس بات سے بے خبر ہو گئيں کہ اُن کا دشمن اُن کي تاک ميں بيٹھا ہے اور اُنہيں اُس کے مقابلے ميں کيا اقدمات کرنے چاہئيںاوراُنہوں نے خود کو اُن سخت حالات کيلئے تيار نہيں کيا۔تاريخي واقعات کا مطالعہ اوراُن ميں غوروفکر ہميں يہ درس ديتا ہے کہ ہم اُن سے عبرت ليں ،اُن واقعات کو سمجھيں اورکمين ميں تاک لگائے ہوئے دشمن کو بھي پہچانيں۔
اسلام انقلاب کے دھارے ميں شامل افرادکے اسلامي انقلاب و نظام سے الگ ہونے کي وجوہات!
آپ لوگوں کي جاں فشاني اورفدا کاري سے اسلامي انقلاب کامياب ہوا،لوگوں نے شاہ کي جابر حکومت کے خلاف نہتے ہاتھوںسے قيام کيااور اسلامي انقلاب کو کامياب کيا۔يہي عوام ہي تھے جو سامنے آئے اور اُنہوں نے اسلامي انقلاب کے حق ميں ووٹ ڈال کر اُسے کامياب بنايا۔اُس وقت بہت سے لوگ ميدان ميں اُترے اور اُنہوںنے خود کو عوام کا چاہنے والا بتايا ،کسي نے خود کو جموريت و ڈموکريسي کاعاشق بتايااورکچھ نے خود کو’’خلق پارٹي ‘‘کا بتايا۔يہ خلقي تھے کہ جواِسي انقلاب کو بھاري قيمت چکا کر لانے ميں اِسي قوم کے ساتھ ساتھ تھے ليکن اُنہوں نے اُس کے بعد اِسي انقلاب سے دوبدومقابلہ کرنا شروع کر ديا۔اِ س پارٹي ميں بہت سے منافق تھے،بہت سے کافر تھے ،بہت سے ايسے افراد تھے جو مغرب کے طرفدار تھے اور بہت سے تو ايسے بھي تھے جو ظاہراًاسلامي کي پيروي کرتے تھے ،يہ سب آپس ميں مل گئے اور اِنہوں نے گٹھ جوڑ کر ليااور مل کر اسلامي انقلاب اور عوا م کے خلاف ايک متحدہ محاذ بنا ليا۔يہ وہي لوگ تھے کہ جنہوں نے اسلامي انقلاب کي ابتدائ ميں عوام کي حمايت و طرفداري کي بات کي تھي ليکن اب اِسي عوام سے دست و گريباں ہو گئے ۔يہ وہي لوگ تھے جو کل تک جمہوريت کي بنيادوں کے استحکام اور عوامي ووٹوں کي پا سداري کي بات کيا کرتے تھے اب جمہوريت کي بنيادوں کو ڈھانے اور عوامي ووٹوں کي اہميت وقدر وقيمت کو پاما ل کر نے لگے۔يہ وہي لوگ تھے جو کل تک آزادرہ کر فکر کرنے اورسوچنے اور روشن فکري کي بات کياکرتے تھے ،اب زمانہ حجر کي طرف لوٹنے والوں کي مانند مغرب کي جانب سے اذہان ميں ڈالے ہوئے اسلامي نظام کي نسبت بد دلي اور اُس کا برا چاہنے جيسے افکارکو قبول کرتے ہوئے مغرب کي حمايت کرنے لگے اورعوام کے سامنے آکر کھڑے ہوگئے۔
اِنہوں نے سب سے پہلے روشن فکري يا روشن فکر کي ہي طرح کے انداز سے اما م خميني ۲ ،اسلامي جمہوريہ اور اُس کي بنيادوں پر اعتراض و تنقيد کر نا شروع کيا،اُس کے بعد آہستہ آہستہ اپني نقاب اُتار کر ميدان ميں اُتر آئے اور اپنے سياسي اور افکار و نظريات کے مقابلے کو کنارے رکھ کر عوام ، اسلامي انقلاب اوراسلامي نظام سے مسلحانہ مقابلہ کرنا شروع کر ديا۔يہ ہماري تاريخ کي بات نہيں ہے بلکہ يہ اسلامي انقلاب کے ابتدائي دس سالوں کي بات ہے،يعني ١٩٧٩ سے ١٩٨٩ کي ۔اِنہوں نے ملک وقوم کي مشکلات کو سمجھنے ، اُسے درک کرنے اور اُنہيں حل کرنے ميں عوام اور حکومت کي مدد کرنے کے بجائے حکومت کي مخالفت شروع کر دي اور عوام سے اپنے مسلحانہ مقابلے کا آغاز کرديا۔
اسلامي نظام ،عوام کے ايمان اور عزم و ارادے کي بنيادوں پر قائم ہے!
اسلامي جمہوريہ کا نظام عوام کے ايمان اورعزم وارادے کے علاوہ کسي اور بنياد پر قائم نہيں ہے اور آج بھي ايسا ہي ہے۔ہم تو کچھ بھي نہيں ہيں اور نہ ہي ہماري کوئي حيثيت ہے ،يہ خد اہے جو لوگوں اوراُن کے قلوب کے ذريعے سے اِس اسلامي نظام کي حمايت کر تا ہے۔’’ھُوَالَّذِي اَيَّدَکَ بِنَصرِہِ بِالمُومِنِينَ‘‘(وہي خدا ہے کہ جس نے اے رسول ۰ آپ کي اِن مومنين کے ذريعے مدد کي ۔انفال ٦٢)اسلامي جمہوريہ کا نظام کل بھي ايسا ہي تھا اور آج بھي ايسا ہي ہے۔ہمارے پاس اِس کي حفاظت کا کوئي اور وسيلہ نہيں ہے ،سوائے عوام کے ايمان کے جوہر اسلحے اور وسيلے سے زيادہ موثر اور کار گر ہے۔
يہي عوام تھے جو ايسے افراد کے سامنے آئے اور اُن کا ايسا صفايا کيااورايسي جھاڑوپھيري کہ اُن کانام و نشان ہي مٹ گيا۔توجہ رہے کہ جب ايک سازش مٹ جاتي ہے تو اِس کا معنيٰ يہ نہيں ہوتا کہ وہ جڑوں سے ختم ہو کر مٹ گئي۔دشمن تو بيدار و ہوشيار ہے،وہ جب ديکھتا ہے کہ ايک سازش ختم ہو گئي ہے تو وہ دوسري کوشش شروع کر کے ايک اور نياکھيل شروع کر ديتا ہے ۔ايسے وقت ميں عوام اگر بيدار و ہوشيار ہوں تواُن کيلئے فرق نہيں ہوتا کہ ايک سازش ہو يا دشمن کي جانب سے اُن کيلئے سو سازشوں کا جال بچھايا جائے ،وہ سامنے آکر ڈٹ جاتے ہيں اور اُن سب کا مقابلہ کرتے ہوئے اپني تحريک کو جاري وساري رکھتے ہيں۔
اسلامي نظام کے مخالفوں اور معارضوں کي غلطياں!
اسلامي جمہوريہ ايران کے مخالفوں اور معارضوں ميں بہت سے خطائيں اور غلطياں موجود ہيں کہ جب تک يہ ہيں ممکن ہے کہ وہ عوام کو اذيت و آزار پہنچائيںليکن اُن کے تمام کاموںاور منصوبوں کا نقصان زيادہ تر اُنہيں ہي ہوتا ہے۔
پہلي غلطي:خو دکو عوام سے بالا تر سمجھنا
اُن کي ايک غلطي يہ ہے کہ اسلامي جمہوريہ ايران کے معارض اورمخالف خود کو ہميشہ عوام سے بالا تر سمجھتے ہيں ۔اُن کي دوسري غلطي يہ ہے کہ اُنہوں نے ہماري عوام کے دشمنوں سے اُميد اور ادل لگايا ہو اہے ، يہ اُن کي دو بڑي غلطياں ہيں۔جب ايک گروہ خود کو عوام سے بالا شان والا تصور کرے تو اِس کالازمہ يہ ہو گا کہ جب بھي عوام کوئي تحريک چلائے،ايک قانوني قدم اُٹھائے،کسي چيز کا جائز مطالبہ کرے يا کسي چيز کو رد کرے ،انتخابات ميں حصہ لے يا کوئي بھي عمل انجام دے تو يہ کہيں گے کہ نہيں،تمہاري بات صحيح نہيں ہے ، يہ پبلک تو ’’عوام‘‘ہے ،يہ تو عام سے لوگ ہيں،يہ تو عوام گرائي يا پيوپل ازم ہے اورہميں يہ بات منظور نہيں۔خود کو عوام سے اونچا جاننااوربڑا تصور کرنا يہاں سامنے آتا ہے۔اپنے عوامي ہونے اور عوام کے ساتھ ہونے کا دعويٰ کافي نہيں بلکہ عمل ميں بھي اِس کي تصديق ہو ني چاہیے۔يہ ہے پہلي غلطي۔
دوسري غلطي:دشمن سے اُميديں وابستہ کرنااوردل لگانا
اِن کي دوسري غلطي يہ ہے کہ اِنہوںنے اِس عوام کے دشمنوں سے کہ جن کي دشمني ہم سب کيلئے واضح اور ثابت ہے،دل لگا يا ہو اہے اور اُس سے اُميديں وابستہ کي ہوئي ہيں ۔وہ کون ہے کہ جس نے اِن تيس سالوں ميں ہماري عوام سے دشمني کي ہے؟کيا ہمارے پاس پہلے درجے پر امريکا اور صيہونيوں کے علاوہ کوئي اور بھي ہے کہ جس نے اسلامي جمہوريہ کے اسلامي نظام سے دشمني کي ہو؟يہ وہ ہيں کہ جنہوں نے روزِ اول ہي سے اسلامي جمہوريہ کے خلاف قيام کيا ہو اہے اورآج بھي يہي ہيں جو ہمارے سب سے زياد ہ دشمن ہيں۔
جب ميں عالمي سياست پر نگاہ ڈالتا ہوں تو ديکھتا ہوں کہ بعض مغربي حکومتوں ميں سے کچھ حکومتيںبہت ہي بے تکي اوربے ربط باتيں کرتي ہيں ليکن اُن کي اِن باتوں کا اصلي محرّک ،صہيوني ہيں،اِس کا اصلي عامل اِن حکومتوں پر وہي لوگ مسلط ہيں جو امريکي حکومت پر مسلط ہيںاوراِس سارے ڈرامے کو ڈائريکشن دے رہے ہيں۔يہ ہيں ہمارے اصلي دشمن۔اب اگر کوئي عوام کے سامنے مقابلے پر آجائے تواور اِن سے دل لگالے تو دشمن سے دل لگانا اور اُس سے اُميد يں وابستہ کرنا دوسري غلطي ہے ۔
دشمن کي تمام کوششيںبيکار ہيں!
جب ہم يہ ديکھتے ہيں کہ دشمن ميدان ميں داخل ہو چکا ہے تو ہميں چاہیے کہ ہم اُسے پہچانيںاوراگر کسي خطا اور غلطي کے مرتکب ہو ئے ہيں تو ہميں چاہیے کہ اُس کا ازالہ کريں۔اسلامي انقلاب کي کاميابي کے پہلے ہي دن سے امريکيوں نے ہمارے خلاف سازشيں کرني شروع کر ديںليکن اُن کي تمام چاليں ،سازشيں اور منصوبے نقش بر آب ثابت ہوئے ،کيونکہ اگر وہ کار گر ہوتے توآج اسلامي نظام کا کوئي نام ونشان باقي نہ رہتاليکن ہم ديکھ رہے ہيں کہ اسلامي نظام اُس پہلے دن کي بہ نسبت اِن تمام سازشوں کے مقابلے ميں دس گنا زيادہ طاقتور ہو گيا ہے۔پس يہ نتيجہ اخذ کرتے ہيں کہ اُن کي وہ تمام کوششيں بيکار تھيں۔موجود ہ حالات ميں بھي وہ مسلسل کو ششيں کر رہے ہيں اور اپنے جديد سے جديد منصوبوں کو عملي جامہ پہنانے کي سر توڑ کو ششوں ميں مصروف ہيں ليکن وہ گزشتہ واقعات سے عبرت نہيں ليتے۔
تعجب ہے تم پر کہ عبرت نہيںليتے!
مجھے تعجب ہوتا ہے کہ وہ اپنے گزشتہ واقعات سے عبرت کيوں نہيں ليتے کہ ہم نے اتني کوششيں کيں،سازشوں کے جال بچھائے ،خطير رقم خرچ کيں،اِدھر ادھر ہاتھ پير مارے ،ايران کے اندر ايجنٹوں کو پرورش دي اورپوري دنيا کو ايران کے خلاف اُکساياتا کہ اسلامي جموريہ کو شکست دے سکيںليکن اِن تمام کوششوں کا کوئي نتيجہ نہيں نکلاتو ايران کو شکست دينے کي غرض سے دوبارہ سر جوڑکر بيٹھے اور ٤٥ ملين ڈالر کا بجٹ پا س کيا!يہي لوگ تھے کہ جنہوں نے انٹر نيٹ کے ذريعے سے ہمارے اسلامي نظام کو شکست دينے کيلئے بجٹ پا س کيا!آپ ملاحظہ کيجئے کہ يہ دشمن بھي کتنا زيادہ عاجز و درماندہ دشمن ہے!
حسرت و ياس کے علاوہ تم کو کچھ حاصل نہيں ہو گا!
تم نے اب تک ٤٥ ملين ڈالر جيسے دسيوں بجٹ پاس کیے اور اُنہيں خرچ کيا،اسلامي نظام کي شکست کيلئے ڈپلوميسي کي روش کو اپنايا،اقتصادي بائيکاٹ کيا،جاسوسوں کو تربيت دے کر بھيجااورمختلف قسم کي سازشيں تيار کيں ليکن کيا تم کو اُن کا کوئي نتيجہ ملاتواب تم چاہتے ہو کہ عوام کے راستے سے اندر داخل ہو اور عوام کو اپنے زعم وخيال کے مطابق اسلامي انقلاب سے جدا اور دور کردو!دشمن اِس بات کو نہيں جانتا ہے۔يہ خدا کا وہي اٹل قانون اور سنت ہے کہ جس کے مطابق وہ دشمن کے چشم و گوش پر پردہ ڈال ديتا ہے کہ وہ کچھ بھي سمجھ نہ سکے۔’’فَسَيُنفِقُونَھَا ثُمَّ تَکُونُ عَلَيہمِ حَسرَۃً‘‘(پس و ہ بہت جلد مال ودولت خرچ کريں گے ليکن اُس کے باوجود اُنہيں سوائے حسرت و ياس کے کچھ اور حاصل نہيں ہوگا۔انفال٣٦)اتني رقم خرچ کرنے کے بعد بھي اُنہيں صرف افسوس اور حسرت ہي ہو گي ،اِس لیے کہ اُن کي تمام کوششيں بے فائدہ ہيں۔
مجھے نہيں معلوم کہ اُنہوں نے تہران ميں ايک بلوا کرانے کيلئے کتنا عرصہ کام کيا ،سر جوڑ کربيٹھے اور کتنے منصوبوں کے بعد يہ منصوبہ تيار کيا!خدا ہي جانتا ہے کہ اُنہوں نے کتنے عرصے قبل سے اِس کي تياري شروع کي تھي،تو جناب يہ بتائيے کہ اِس کا کيا نتيجہ نکلا؟سوائے اِس کے کہ ہماري عوام پہلے سے زيادہ بيدار ہو گئي ؟!اگر اِن واقعات سے قبل کوئي يہ خيال کرتا تھاکہ اُسے اب اسلامي نظام کے دفاع کيلئے ميدان ميں نہيں آنا چاہیے تو اِ ن واقعات کے بعد سب نے اپني شرعي ذمہ داري سمجھي کہ وہ ميدا ن عمل ميں آئیں اور اسلامي نظام کا دفاع کریں۔
اسلامي نظام کبھي بھي تمہارے سامنے نہيں جھکے گا
دشمن کبھي کبھي جو مختلف قسم کي بازي چلتا ہے تو صرف اِس لیے ہے کہ وہ ايران سے باج( غنڈہ ٹيکس )لے۔انقلاب کي ابتدائ سے ايسا ہي تھا،کبھي کبھي راستے ميں روہڑے اٹکانے کي کو شش کرتے تھے تو وہ بھي اِسي وجہ سے تھاکہ اسلامي نظام کو مجبور کرے کہ وہ اُنہيں قدرت و حکومت ميں شريک کرے اورکسي حق و استحقاق اورعوامي حمايت کے بغير اُنہيں حکومت ميں حصہ دے۔کبھي ايسا بھي ہوتا ہے کہ بين الاقوامي سامراج اِس طرح کے آشوب،بلوے اور جنجال برپا کرتا ہے تا کہ وہ اسلامي جمہوريہ کے نظام کو غنڈہ ٹيکس دينے پر مجبور کرے ،بالکل اُن حکومتوں کي مانند جو جيسے ہي ايک خطرے کو محسوس کرتي ہيںتو فوراًہي اپنے بڑے سرداروں اور ارباب کے پا جا کر اِس بات کيلئے تيار ہو جاتي ہيں کہ وہ اُنہيں رقم ادا کريںاورسياسي ٹيکس ديں۔ليکن اما م خميني ۲ نے کبھي بھي کسي بھي قسم کا کوئي ٹيکس نہيں ديا اور ہم بھي اپني عوام کي جانب سے کوئي ايسا ٹيکس نہيں ديں گے۔
ہماري حق بات اور اُس کيلئے ہماري استقامت
ہمارے پا س ايک حق بات ہے او ر ہم نے اُس کيلئے قيام کيا ہے اور ہم جانتے ہيںکہ ہم نے اُ س حق بات کو کہنے ميں کسي قسم کا کوئي گناہ نہيں کيا ہے۔ہم چاہتے ہيں کہ ہم ايک ايسي قوم بنيں کہ جس پر دنيا کے ظالم وستمگر اور بڑي طاقتيں مسلط نہ ہوں،ہم خود اپنے تمام اُمور،کاموں اور مستقبل کا فيصلہ خود کريںاور آگے کي سمت حرکت کريں۔ہم چاہتے ہيںکہ ہم ايک ايسي قوم بنيں کہ ہم اسلام پر عمل پيرا ور مسلمان ہو نے کو عمل ميں ثابت کريںکہ ہم اسلامي احکامات پر عمل کرتے ہيں،نہ کہ صرف زباني دعووں ميں۔ہماري خواہش ہے کہ ہمارا معاشرہ ايک اسلامي معاشرہ ہو۔ہم کسي قيمت پر بھي يہ نہيں چاہتے کہ مغرب کے مادي نظريات کے حامل مفکروں کے فرضيوں،نظريوں اور سياست دانوں کي باتوں کو اپني زندگي کيلئے ايک دستور العمل کي حيثيت سے قبول کريں،ہم تو چاہتے ہيں کہ ہم صرف حکم خدا کو قبول کريں۔تو کيا يہ جرم ہے؟
ہميں اپنے عقيدے اور ہدف کے دفاع کيلئے طاقتور ہونا ضروري ہے
ہم نے اِس بات کو جان ليا ہے کہ اگر ہم چاہتے ہيں کہ ايک مسلمان کي طرح زندگي بسر کريںتو ہميں طاقت و قدرت کا مالک ہونا چاہیے تا کہ ہم اپنے دشمن کے مقابلے ميں اپنا،اپنے ہدف اور عقائد کا دفاع کر سکيں،ہميں طاقت کا مالک ہونا چاہیے تاکہ ہم اپنے ملک وقوم کے حقوق کا دفاع کر سکيں۔يہ ہے ہمارا ہدف،تو کيا ايک قوم کيلئے يہ سوچنا اور اُسے عملي جامہ پہنانا جرم کي بات ہے؟!پس ہماري بات ،حق ہے اورہم اِس حق بات کيلئے ڈٹ گئے ہيں۔ہميں اِس بات کا بھي يقين کامل ہے کہ جب حق و باطل کي قوتيں ايک دوسرے کے مد مقابل آتي ہيںتو اگر اہل حق سچے ہوں اور اپنے حقوق کے دفاع کيلئے ڈٹ جائيں اور استقامت کا مظاہرہ کريں تو باطل يقينا شکست کھائے گا۔ہم نے اِن تيس سالوں ميں اِس بات کا تجربہ کيا ہے کہ جب بھي ہم نے استقامت کا مظاہرہ کياتو ہم نے ترقي کي اور کاميابي نے ہمارے قدم چومے يا جب بھي ہم نے کوئي عقب نشيني کي يا ہميں کسي ناکامي کا سامنا کرناپڑاتو يہ اِس وجہ سے تھا کہ ہم نے استقامت ميں سستي اور کاہلي سے کام ليا۔
اپني ذمہ داريوں سے کسي بھي صورت ميں پہلو تہي نہ کريں
جو چيز ہمارے لیے لازمي و ضروري ہے ،وہ يہ ہے کہ عوام ،اعليٰ حکام بالخصوص نوجوان طبقہ ،خاص طور پر وہ افراد کہ جن کي باتوں کي تاثير ہے اوراُن کي باتوں کو معاشرے ميں توجہ سے سنا جاتا ہے ،وہ ميدان عمل ميں اپني حاضري کي ذمہ داري کو کسي بھي صورت ميں نہ چھوڑيں۔کوئي بھي يہ نہ کہے کہ ميري کوئي ذمہ داري نہيں ہے ،اِس سلسلے ميں ہم سب جوابدہ اورذمہ دار ہيں۔ذمہ دار ہونے کا معنيٰ يہ نہيں ہے کہ ہم اسلحہ سجا کر روڈ پر آجائيں،نہيںبلکہ اِس سے مراد يہ ہے کہ ہم جس کام کو بھي انجام دے دے رہے ہيں،اُسي ميںاحساس ذمہ داري پيدا کريں۔اسلام نظام اور اسلامي انقلاب کے دفاع کا مطلب يہ ہے کہ ہم اسلام،عوام کے حقوق اور اپنے ملک کي عزت کا دفاع کريں۔
يہ پہلي شرط ہے کہ ہم احساس ذمہ داري کريںاور ميں ديکھ رہا ہوں کہ ہماري عوام نے يہ ثابت کر دياہے کہ وہ ايک ذمہ دار قوم ہے۔٣٠دسمبر ٢٠٠٩ کو ہماري عوام کے ملک گير اجتماعات نے يہ بات ثابت کر دي کہ وہ ايک زندہ اور ذمہ دار قوم ہے ۔يہ ايک مثال اور اِس کي دوسري مثال ١١ فروري کا دن ہے کہ جس عوام اسلامي انقلاب و نظام سے اپني حمايت کو ثابت کريں گے۔
مشکلات کا شکار دشمن!
دشمن کا ايک ہدف عوام کو اپنے ملک کے اعليٰ حکام سے بے اعتماد کر نا ہے۔دشمن افغانستان ميں پھنسا ہو اہے ،عراق کي دلد ل اُسے غرق کیے دے رہي ہے،وہ پاکستان ميں مشکلات کا شکارہيں اور اب يمن ميں بھي خود کو مشکلات ميں پھنسا ليا ہے۔اُنہيں ہمارے خطے کي قوموںسے مشکل ہے بلکہ اُنہيں اپني قوموں سے بھي مشکل ہے ،وہ يورپ ميں بھي مشکلات کا شکار ہيں۔
ايک دوسرے کے ہاتھوں کو مضبوط بنائيے
ايک دوسرے کے ہاتھوں کو مضبوط کرنا چاہیے۔اگر کسي کے پا س کوئي نظر اور رائے ہے تو وہ اپني نظر اوررائے کو پيش کر ے اور اگر وہ تنقيد اوراعتراض بھي کرتا ہے تو اُس کے اعتراض ا ور تنقيد کو مقابلہ نہيں ہو نا چاہیے کہ وہ مد مقابل شخص کے مقابلے پر اتر آئے بلکہ اِس سے اُس کا مقصد يہ ہو کہ وہ اپنے مد مقابل شخص کي مدد وہمراہي کرے ،بالکل ايسا ہي کہ جيسے ايک مورچے ميں بيٹھے ہوئے دو فوجي جو ممکن ہے کہ ايک دوسرے پر اعتراض کريںليکن وہ کبھي بھي ايک دوسرے کے سامنے اسلحہ تان کر کھڑے نہيں ہوتے ۔
ميرے عزيزدوستوں.!يہ بات اچھي طرح جان لو کہ خدا کادست ِ قدرت اور ارادہ الٰہي بہت زيادہ قرائن کي روشني ميں آپ کے ساتھ اور آپ پر سايہ فگن ہے اور حضرت امام زمانہ کي مستجاب دعا بھي آپ کے ساتھ ساتھ ہے اوران شائ اللہ يہ قوم اپنے بلند مقاصد کو ضرور حاصل کر ے گي اورساتھ ہي اپنے دشمنوں کو ذليل وخوار کرے گي۔

والسلام عليکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ