حرم امام رضا علیہ السلام پر رہبر معظم کا عوام سے خطاب

21/03/2010

بسم اللہ الرحمن الرحيم


ميں دل کي گہرائيوں سے خدا وند متعال کا شکر گزار ہوں کہ اُس نے ايک بار پھر اور ايک اور سال يہ توفيق عنايت کي کہ سال کے پہلے دن آپ برادران اور خواہران کہ جو اِس سر زمين پاک و مقدس کے زائر اور مجاور ہيں ، کے ہمراہ حضرت ابو الحسن علي بن موسي الرضا کے مرقد مطہر کے نزديک موجود ہوں اور اس دن کے فيوضات اور آپ برادران اور خواہران کے ديدار کي اِس بڑي فرصت بہرہ مند ہو سکيں۔ سب سے پہلے تمام ملت ايران کوحلول سال نو اور عيد نو روز کي مبارک باد پيش کرتا ہوں ، آپ برادران و خواہران عزيز کو، اور اس مناسبت سے کچھ مطالب عرض کروں گا۔
پہلا مطلب جو عرض کرنا ہے ، نظام جمہوري کے استقرار کے اکتيس سال گزرنے کي مناسبت سے ، نظامِ مقدس اسلامي اور حکومت اسلامي کي ايک تعريف قرآني ہے۔ حکومت اسلامي کي اساس اور اسکي عمدہ شاخص ايمان کے استقرار سے عبارت ہے؛ خدا پر ايمان، انبيائ کي تعليمات پر ايمان اور اس صراط مستقيم پر چلنا کہ جو انبيائ الھي نے لوگوں کے سامنے پيش کيا۔ اساس، ايمان ہے۔ انسانوں کي ھدايت کے ليے پيغمبروں کو بھيجنااور ديني اورالھي معاشروں کي طول تاريخ ميں آج تک ايجاد ، اس مقصد کے ليے درجہ اول ميں ہيں۔ اسي ليے فرمايا((انّا ارسلناک شاھدا و مبشّرا و نذيرا لتومنوا باللّٰہ و رسولہ و تعزّروہ و توقّروہ و تسبّحوہ بکرۃ و اصيلا))(١) يعني پيغمبران الھي کے بھيجنے کا مقصد، خدا پر ايمان، ذات الھي اور راہ الھي سے دل باندھنا اور ان تعليمات سے دل باندھنا جو انبيائ الھي نے انسانوں کو تعليم کي ہيں۔ يہ سورہ مبارکہ ((انّا فتحنا )) ہے، سورہ مبارکہ احزاب ميں فرمايا((انّا ارسلناک شاھدا و مبشّرا و نذيرا و داعيا الي اللّٰہ)) (٢) رسالت پيغمبر، خدا کي طرف دعوت ہے۔ يہ کام کي اساس ہے۔ وہ چيز کہ جو شاخص کے عنوان سے نظام اسلامي اور اسلامي معاشرے ميں اور تمام بشري معاشروں ميں پائي جاتي ہے، اس نکتہ کے درجہ اول ميں ہے۔ خدا پر ايمان کا مسئلہ ، غيب پر ايمان، اس راہ پر ايمان کہ جو خدا وند متعال نے انسان کي دنيوي اور اخروي سعادت کے ليے بشريت کے سامنے پيش کيا ہے ۔اگر آج نظام جمہوري اسلامي کے پاس دنيا کے مختلف نظاموں کے سامنے کہنے کے لئے کچھ ہے اگر مادي مادي نظاموں کے سامنے چيلنج کے لئے جمہوري اسلامي ميں کوئي مطلب موجود ہے اسي لئے ہے کہ جمہوري اسلامي کا عمدہ ترين شاخص (نماياں ايمان ) ہے ،آج انسان ايمان نہ نہ ہونے کي وجہ سے زندگي مختلف بھنور ميں پھنسا ہو ا ہے ۔
اس بنا پر عمدہ ترين شاخص (مظہر )ايمان ہے، خدا پر اور راہ خدا انبيا ئ پر ايمان کہ جو ان تعاليم پر عمل کے ساتھ ہے فقظ معنوي عروج کے لئے نہيںہے ،اگر چہ اس کا عمدہ ترين مظہر معنوي عروج اور انساني و اخلاقي تکامل ہے ،اس لئے کہ دنيا آخرت کي کھيتي ہے ۔دنيا کي زندگي کي حرکت کي وجہ سے انسان مدارج اورمعراج کو طے کرسکتا ہے اور آگے بڑھ سکتا ہے لہذا مادي زندگي بھي خدا پر ايمان کے ساتھ بندھي ہوئي ہے ۔پس خدا پر ايمان نہ صرف معنوي سعادت کا باعث ہے بلکہ مادي سعادت کا باعث بھي ہے خداے متعال پر ايمان اس بات کا موجب بنتا ہے کہ انسان اپني ماد ي زندگي ميں ہر وہ چيز جس کا محتاج ہے حاصل کرسکے ۔
(ولو انّھم اقاموا التورۃ والانجيل و ما انزل اليھم من ربّھم لاکلوا من فوقھم ومن تحت ارجلھم )
اگر دين قائم ہوجائے، اگر معاشرے ميں اسلامي تعليمات پر عمل کيا جانے لگے، تو انسان رفاہ کے لحاظ اس مقام پر پہنچ جائے کہ کوئي احتياج اس کي ايسي باقي نہ رہے کہ جو مہيا نہ ہوسکے، انسان کي معنوي اور نفسياتي آسائش کے لحاظ سے، امنيت اورسکون کے احساس کے لحاظ سے بھي ايمان کا نقش آشکار ہے قرآن کي زباني ميں (قد جائکم من اللّٰہ نور وکتاب مبين ويہدي بہ اللہ من اتبع رضوانہ سبل السلام )
سلامتي کي راہ ،سکون کي راہ ،نفسياتي امنيت کي راہ، قرآن انسان کو تعليم ديتا ہے ۔يہ راہ ہے کہ جو انسان کو نفسياتي سکون فراہم کرتي ہے يعني وہي شئي کہ آج کي دنيا ميں جس کے فقدان کي وجہ سے آگ لگي ہوئي ہے ۔مادي ترقي ہے، ٹيکنالوجي اور علمي ترقي ہے، کلياتي (ميکرو) ثروتيں اور دولتيں معاشروں کے ہاتھ ميں ہيں ليکن آسائش نہيں ہے يہ سب انسان کي زندگي ميں اس اساسي عنصر کي کمي کي وجہ سے ہے کہ جسے ايمان سے تعبيرکياجاتا ہے ۔
يہ ايک اساسي مطلب ہے کہ جو قرآن سے حاصل کيا گيا ہے ،کہ جمہوري اسلامي ميں ،ميں اور آپ ہمارے تمام افراد ،ہمارے تمام جوان ،تمام نسليں جب بھي آگے بڑھنا چاہتي ہيں، کل کي سعادتمندي کو اپنے ملک کے لئے، خود اپنے لئے ، اپني اولاد کے ليے مہيا کرنا چاہتے ہيں تو اس نکتہ پر توجہ رکھني چاہيے کہ نظام اسلامي ميں ہر کام کي اساس ايمان ہے اور يہ ايمان مہيا کيا جانا چاہيے نہ فقط دل ميں بلکہ عمل ميں ،پلا ننگ ميں اور ہر قدم پر ۔
يہ سال بتيسواں سال ہے کہ جمہوري اسلامي کي تشکيل ہوئي ہے يعني اس عشرے کا دوسرا سال ہے کہ جس کے لئے اعلان کيا گيا تھا کہ عدالت اور ترقي کا عشرہ ہے ۔ترقي اور عدالت کا نعرہ ايک محوري نعرہ ہے ايک اساسي سي مطلب ہے، ايک ضرورت ہے اس مرحلہ ميں ہمارے مسؤلين اور ہماري ملت ِعزيز کا کلي ہدف ترقي اور عدالت ہونا چاہيے۔ ترقي اور عدالت دوضرورتيں ہيں کہ انسان ان کا نياز مند ہے۔ ترقي يعني علم وعمل اور وہ جو کہ دنيا ميں ايک معاشرے کے لئے لازم ہے ،مطلوبہ نتائج تک پہنچے ،عدالت بھي يعني انسان کے درميان تفريق نہ پائي جائے ،بے عدالتي نہ ہو ،ظلم نہ ، ہو دونوں ضرورتيں ،انسان کي اساسي ،اصلي اور ديرينہ ضرورتوں کا جزو ہيں کہ جہاں تک تاريخ بشر پائي جاتي ہے يہ دونوں اصلي ضرورتيں موجود ہيں ۔ ترقي اور عدالت، يہ نعرے لگائے جاسکتے ہيں ،مہم يہ ہے کہ ان نعروں پر عمل کيا جائے ہم نے اس چوتھے عشرے کو ان د و نعروں تک پہنچنے کے لئے مناسب وقت پايا ہے۔ ترقي کو اس کے حقيقي معنا ميں حاصل کيا جاسکتا ہے اور عدالت کو بھي اس رشد کے ساتھ کہ جو ہمارے معاشرے ميں ہے، آگاہي اور بصيرت جو بحمداللہ ہمارے لوگ پيدا کرچکے ہيں ،موانع کي شناخت کرچکے ہيں ،اہداف کو تشخيص دے چکے ہيں ،ہمارے جوان آج دوست اور دشمن کو تشخيص ديتے ہيں اگر ايک مسؤل عدالت کے پيچھے (چاہتا ) ہو ہمارے معاشرے ميں عدالت کا مل کے استقرارکے مقدمات فراہم کرسکتا ہے ، البتہ يہ کام تھوڑي مدت کا نہيں ہے طولاني مدت کا کام ہے اس لئے اس عشرے کو ترقي اور عدالت کا عشر ہ قرارديں گے ،ہر اقدام جو کيا جائے گا، ہر پلاننگ جو کي جائے گي ان ميںان دو عناصر کو ملحوظ رکھنا چاہيے ۔معاشرے کي ترقي کي جھت ميں بھي ہوني چاہيے اور معاشرے کي عدالت کي جھت ميں بھي۔
عزيز جوانو!آج تمھارے ملک ميں وہ چيزيں ہيں کہ جو ايران کو دنيا کے پہلے دس ممالک کي صف ميں يا آٹھ پہلے ممالک کي صف ميں قرار دينے والي ہيں ،کم نہيں ہيں مختلف شعبوں ميں ،سياسيات کے شعبے ميں ،فضائي علوم ،مختلف ديگر علوم ميں آپ ديکھيں کہ ملک کے سائنسدانوں کہ جن کي اکثريت يہي پر شور پر شوق اور پر نشاط جوان ہيں ،کہ جن کي کوششوں سے ملک اس مقام تک پہنچا ہے کہ کہا جاسکتا ہے کہ ايران دنيا کے پہلے ٨ممالک کا جزو ہے يا يہ کہا جاسکتا ہے کہ ايران دنيا کے پہلے دس ممالک کا جزہے يعني يہ ہمارے ملک کے لئے ايک عظيم ترقي ہے اور ايک مہم مقام ہے ۔
علاقائي اور بين المللي اعتبار اور اقتدار کے حوالے سے ،آج نظام جمہوري اسلامي اور ہمارے ملک کي اسلامي مشينري ،دنيا کے ممالک کي نظر ميں اس اہميت اور عظمت کا حامل ہے کہ ہمارے دشمن بھي اس بات کا اعتراف کرتے ہيں کہ بين المللي اعتبار کے حوالے سے جمہوري اسلامي ان کے برابر کے ممالک (ان کے ہم سطح )،برترين ممالک کا جزو ہے اور ان ممالک ميں سے ہے کہ جو تاثير گذار ہو سکتے ہيں۔ کہا جاسکتا ہے کہ علاقائي لحاظ سے، بين المللي اعتبار کے حوالے سے ملک درجہ اول پر ہے ۔وہ افراد ،کہ جن کے لئے بہترين تعبير اس طرح سے کي جاسکتي ہے کم نظر ہيں اور دقت نظر نہيں رکھتے ،اُن کي طرف سے گاھاًسننے ميں آتاہے کہ فلان مغربي مستکبر ملک کے صدر ،يا فلان وزير خارجہ، يا فلان بين المللي مامورنے ايران کے بارے ميں برے الفاظ استعمال کئے ہيں ،اس کو ايران کي بے اعتباري کي دليل سمجھتے ہيں ۔يہ غلطي (اور خطائ)ہے، آج جمہوري اسلامي ملتوں کي نگاہ ميں ،حکومتوں کي نظر ميں، حتي خود اپنے دشمنوں کي نگاہ ميں اعتبار اور اقتدار کا حامل ہے اور تاثير گذارحکومت ہے ۔جہاني مسائل ميں نظام جمہوري اسلامي کاحضورايک محسوس حضور ہے اور کسي ملک سے وضعِ اقتصادي اور عمومي دولت کي وضعيت کے لحاظ سے قابل مقائيسہ نہيں ہے کہ کوئي ايران کے برابر ہو يعني اير ان ان تمام ممالک سے کہ جو اقتصادي وضعيت کے لحاظ سے ہم آگے ہيں يا ہمارے برابر ہيں، علاقے ميں سياسي تاثير کے حوالے سے سب سے بالا ہے ۔
يہ سب بنياديں ہيں ،تيس سال کي خدمت گذاري اور مديريت کا جمع شدہ تجربہ جمہوري اسلامي کے نظام کے مسؤلين کے ہاتھ ميںہے۔ مستقل حرکت اور استقرار اور نظامِ جمہوري کا ثبات ،اس اہميت کا حامل ہے ،اس نے يہ عظيم اثر ڈالا ہے کہ مسائل جھاني اور علاقائي اور داخلي مسائل سے نپٹنے کا ايک قيمتي جمع شدہ تجربہ بھي ہمارے کے پاس موجود ہے اور يہ خود ايک بہت اہم بنياد ہے ايک قابل توجہ اساس ہے ۔
نظام کي کي ايک بڑي سہولت، ہمارے ملک ميں موجود يہ تعليم يافتہ پر انرجي اور پر تشويق جوان نسل ہے ۔ يہ فارغ التحصيل ہيں ،تعليم يافتہ ہيں ،مختلف شعبوں کے مختلف مسائل کے فھم و ادراک کي راہ ميں کوشش کرنے والے ہيں، اعتماد نفس کے حامل ہيں۔ آج ہم احساس کرتے ہيں کہ ہمارے جوانوں ميں اعتماد بہ نفس ہے جو پہلے نہيں ہوا کرتا تھا اور شايد ہي کسي اور ملت ميں اس کا مشاہدہ کيا جاسکے ۔اقتصادي ،ٹيکنيکل ،سياسي اور اجتماعي مسائل ميں سے ہر ايک، علم اور تخصص چاہتا ہے۔ جب انسان ان کو جوانوں کے اجتماع ميں اور اہلِ تحقيق کے سامنے پيش کرتا ہے تو ديکھتا ہے کہ يہ پر اعتماد ہيں کہتے ہيں کہ ہم کرسکتے ہيں ، احساس نہيں کرتے کہ عاجز ہيں ، احساس کرتے ہيں کہ کرسکتے ہيں۔ يہ اعتماد نفس بہت قيمتي ہے کہ ايک ملت يہ احساس کرے وہ کرسکتي ہے ۔اس لئے کہ گذشتہ سالوں ميں ہميں يہ تلقين کي جاتي تھي کہ تم نہيں کرسکتے ،ہماري قوم سے کہا جاتاتھا کہ تمھارے پاس ہمت نہيں ہے۔ ظالم حاکم کہ جو ہمارے ملک پر مسلط تھے اور غالباََ ان کے ہاتھ ہمارے دشمنوں کے ہاتھ ميں تھے ،يہ لوگ اکثر ہمارے ملک کو ،ہماري قوم کو ،ہمارے جوانوں کو تلقين کرتے تھے کہ تم کچھ نہيں کرسکتے ۔يعني ہميں چاہيے کہ ہم بيٹھے رہيں اور دوسرے تحقيق کريں، ترقي کريں ہم ان سے بھيک مانگيں ،گدائي کريں ،ان سے ليں، ہم خود اپنے اند رسے نہيں پھوٹ سکتے تھے ۔ہماري قوم وملت اور ہمارے جوانوں کو يہ سکھايا جاتا تھا اور يہي ہمارا يقين تھا۔
ہماري جواني کے دور ميں اس طرح کہ جو معاشرے ميں واضح تھا،يہ احساس تھا کہ ايراني کچھ نہيں کرسکتے ۔انگريز ،يورپي ،امريکيوں کو چاہيے کہ وہ آگے بڑھيں ۔ہميں ان کے پيچھے حرکت کرني چاہيے اور ان سے سيکھنا چاہيے يہ کہ ہم خود کوئي راستہ ڈھونڈيں ،حرکت شروع کريں ، زندگي کي اہم سرحدوں ميں سے کسي ايک سرحد کو فتح کريں ،يہ ہماري قوم کے لئے ايک امرِ ناممکن تھا ۔آج بالکل بالعکس ہوگيا ہے ايراني جوان کے لئے کوئي مہم چيلنج ايسا نہيں ہے کہ جس کے بارے ميں وہ يہ کہے کہ وہ نہيں کرسکتا ۔عرض کيا تھا ،عملي مسائل ميں ،فني مسائل ميں سياسي مسائل ميں ،وہ چيز جو کہ اہل تحقيق وکوشش کے مجمع کے لئے ،کہ جن کي اکثريت ہمارے ملک کے جوان ہيں، کے سامنے پيش کي جاتي ہے ،مختلف کام اور ترقي جب ان کے سامنے پيش کي جاتي ہے تو ايراني جوان احساس کرتا ہے کہ وہ بھي کرسکتا ہے۔ يہ اعتماد بہ نفس ايک بہت اہم چيز ہے علمي اور تحقيقاتي اجتماعات ميں يہ اعتماد نفس قومي اعتماد سے مدد ليتاہے۔ وہ چيز کي جو ميں نے کچھ سال پہلے ذکر کي تھي کہ ہماري قوم اعتماد ِ قومي حاصل کرے يعني احساس کرے کہ ہر بڑے کام کو ارادہ ،خواہش اور حرکت سے انجام ديا جاسکتا ہے۔ ہم کسي کام ميں عاجز نہيں ہيں يہ ترقي بنيادي ہيں۔
ہم نے اس سال کے بارے ميں عرض کيا ہے کہ يہ سال ’’سال ہمت ِمضاعف وکارِ مضاعف ‘‘ہوگا يعني ہمت برتر اور بيشتر کام۔ مضاعف کي تعبير يعني ۔کئي گنا، ايک آيڈيل شکل ہے اگر دو برا بر(دو گنا) ہوتاہے ،تين برابرہوتاہے ،دس برابر ،ہم قانع نہيںہيں ليکن ايسا بھي نہيں ہے کہ اگر ايک جگہ ہم دگنا کام نہيں کرسکتے ،ڈيڑھ گنا کام کريں مايوس ہو جائيں، نہ مہم يہ ہے کہ ہمارے پاس اس سے برتر ہمت ہوني چاہئے جو گزر چکا ہے۔ اور ماضي سے زيادہ کام کريں ۔
البتہ گذشتہ سال ہماري قوم کے لئے ايک مہم سال تھا ميري نظر ميں سال ٨٨،ايراني قوم کا سال تھا ،اير اني قوم کي کاميابي کاسال تھا يہ سال ملت ايران کے ،نظام اسلامي اور ہمارے ملک ميں زندگي کے عظيم حصے ميں نماياں حضور کا سال تھا ۔ايک طرف بائيس خرداد کو چار کروڑ افراد ووٹ دينے کے لئے پولنگ اسٹيشن تک گئے يعني ٨٥افراد انتخابات ميں شرکت ۔يہ ايک بہت مہم چيز ہے يقيناََ لوگوں اور عوام کا حضور ايک نظام کي مشروعيت ميں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔
وہ لوگ جو مغرب ميں افراد کي شرکت کو اپني مشروعيت کي اساس شمار کرتے ہيں اور کسي بھي دوسرے عامل کو اس ميں داخلے کي اجازت نہيں ديتے انہوں نے بھي آج تک ايسا حضور نہيں ديکھا ہمارے انتخابات کے زمانے ميں انگلستان ميں بھي انتخابات ہوئے ہيں جس ميں تقريباََ ٣٠ عوام نے شرکت کي ہے ٨٥کہاں اور ٣٠ کہاں۔
يہ عوامي تحريک ہے ،لوگوں کي شرکت بہت اہميت رکھتي ہے ۔دنيا کے مسائل کي سياسي تحليل و تفسير کرنے والے اتني آساني سے ان چيزوں سے صرف نظر نہيں کرسکتے ۔ممکن ہے اپني مطبوعات ميں ان کا ذکر نہ کريں ،ممکن ہے کہ سياستدان اپنے اُن الفاظ ميں کہ جو دنيا ميں نشر کئے جاتے ہيں، ميں ان کو زبان پر نہ لائيں اواسے چھپائيں ،ليکن ان کے دلوں پر اس کي تاثير ہے اور وہ خود يہ بات جانتے ہيں ۔
يہ قوم خود اپنے پيرو ں پر کھڑي ہے يہ ہماري قوم کي ايک عظيم تحريک تھي ۔ہماري قوم نے اس ملک کي تاريخ ميں يہ ثابت کيا ہے کہ نظام اسلامي کے استقرار کے تيس سالوں کے بعد بھي ۔وہ نظام کہ جس کي اساس اسلام اور جمہوريت پر ہے اور يہ ايک دوسرے سے جدا نہيں ہو سکتے وہ لوگ کہ جو ان کو ايک دوسرے سے جدا کرتے ہيں دراصل جمہوري اسلامي کو پہچانتے نہيں ہيں ۔يہ قوم اس طرح اس نظام کے مباني کے پابند ہيں کہ انتخابات ميں اتنے ذوق وشوق سے، اتني عظمت کے ساتھ شرکت کي ہے۔ خوب ! يہ لو گوں کي ايک عظيم تحريک تھي ان کے مقابلے ميں ايراني قوم کے دشمنوں نے بھي بہت سارے نقشے بنائے تھے اور ان نقشوں پر انہوں نے عمل کرنا شروع کرديا ۔اگر آپ عوام کا بائيس خرداد سال ٨٨کے انتخابات ميںشرکت ،ايک ضعيف شرکت تھي اگر بجائے چارکڑوڑ کے تين کڑوڑ افراد نے شرکت کي ہوتي۔ تو بہت زيادہ احتمال ہے کہ آپ کے دشمن کا مياب ہوگئے ہوتے ۔يہ نقشے پہلے سے تيار شدہ تھے ۔ميں کسي پر تہمت نہيں لگارہا ،ليکن دشمن کي چال کو خوب سمجھتا ہوں، انہيں ديکھتا ہوں، تشخيص ديتا ہوں ،ميں ان کا انکا ر نہيں کرسکتا ۔دشمن کي چاليں مشخص اور واضح چاليں تھيں ،اس طرح کے کام اور جگہوں پر بھي کيے ہيں جب بين المللي مستکبر قوتيں کسي نظام سے ناراض ہوجائيں اور خوش نہ ہوں تو ايک راہ جواِن کے پاس ہے اس پر عمل کرتے ہيں ،وہ يہ ہے کہ وہ انتخابات کي فرصت کے انتظار ميں ہوتے ہيں اس کے بعد اس انتخابات ميں اگر وہ لوگ کہ جنہيں وہ(مستکبرين) نہيں چاہتے ، کامياب ہوجائيں، اور جن کو وہ چاہتے ہيں، وہ ناکام رہ جائيں ،تو اس عوام کي ايک نمائشي (جھوٹي )تحريک سے حالات کو پلٹا ديتے ہيں۔ عوامي گرہوں کے نعروں کو اس معاملے ميں لے آتے ہيں اور سڑکوں پر اس معاملے ميں زور اور فشار کے ساتھ اس چيز کو کہ جو قانون کے راستے حاصل کي گئي تھي ، خشونت سے بدل ديتے ہيں ۔يہ ايسا نقشہ ہے کہ جس کي شناخت ہوچکي ہے ۔اگر آپ ملاحظہ کريں توجو حوادث انتخابات کے بعد پيش آئے ہيں، لوگوں کے ذہن ميں، تحليل وتجزيہ کرنے والوں کے اذہان ميں جو کہ مستقل ،صادق اور تيز بين ہيں، وہ ان حوادث کو خارجي عوامل سے نسبت ديتے ہيں ۔يہ سب اسي سے پيدا ہوئے ہيں اگر کسي کو بھي پس پردہ باتوں کي کوئي اطلاع نہ ہو ،وہ اطلاعات کہ جو صاحبِ اطلاع افراد حاصل کرتے ہيں، اگر يہ اطلاعات بھي دسترس ميں نہ ہوں، انسان کسي کام کو ديکھ کر اندازہ لگا سکتا ہے کہ يہ کام قوم کے دشمنوں کا کام ہے ،غيروں کا کام ہے۔ ايک انتخاباتي مہم انجام پاتي ہے ايک قانوني تحريک واقع ہوتي ہے جو اپنے پيچھے ايک نتيجہ لے کر آتي ہے پھر اس نتيجہ کو خشونت کے زور سے تبديل کرنے کي کوشش کي جاتي ہے۔ بعض افراد کو اس منظر ميں کھينچ کر لايا جاتا ہے اور اگر احياناََ اقتضا ئِ حالات ہو تو خشونت بھي دکھاتے ہيں، آگ لگاتے ہيں، بينک کو آگ لگاتے ہيں، بسوں کو آگ لگاتے ہيں، صرف اس ليے کہ قانوني نتائج کو پھير ديں ۔خوب يہ(جھوٹي) تحريک شريعت کے خلاف ہے اور قانون کے خلاف بھي ۔ظاہر ہے کہ يہ تحريک غيروں کي طرف سے چلائي گئي ہے وہ چاہتے تھے کہ ايسے اتفاقات ہمارے ملک ميں رونما ہوں ۔
يہ ملک کے لئے ايک بہت مہم امتحان تھا۔ ميں آپ سے عرض کررہا ہوں، بہت اہم امتحان تھا۔ بہت سا ري عبرتيں اس ميں تھيں اور بہت سارے درس بھي تھے۔ اس امتحان ميں ملت ايران کامياب ہوئي ہے ۔وہ چاہتے تھے کہ عوام کو دو گروہوں ميں تقسيم کرديں ايک اقليت اور ايک اکثريت ميں ۔ايک گروہ جو کہ انتخابات ميں جيت گئے اور ايک وہ گروہ کہ جو انتخابات ميں مطلوبہ نتائج حاصل نہ کرسکے۔ ان دونوں گروہوں کو ايک دوسرے کے مقابل لے آئيں ،ملت کے دو ٹکڑے کرديں۔ کچھ فسادي بھي وارد ميدان ہوں اور فساد ايجاد کر کے ملک ميں داخلي جنگ برپا کرديں ۔ان کي يہي اميد يں تھيں ليکن ہو شيار اور بيدا ر قوم نے جواب ديا۔ آپ نے ديکھا کہ انتخابات کے دن عوام١٣، ١٤،ميلين اور٢٤، ٢٥،ميلين کے دو گروہوں ميں تقسيم ہوگئے ليکن تھوڑي سي مدت گزرنے کے بعد دوبارہ ايک ہوگئے۔ کسي بھي قوم کي بيداري کو يہاں سے سمجھا جاسکتا ہے ۔وہ چاہتے تھے کہ لوگوں کے درميان فساد پيدا کريں ہمارے بدخواہ جو تيس سال سے انقلاب اور ہماري قوم کے خلاف ،جوکچھ وہ کرسکتے تھے انہوں نے کيا ،انہوں نے بھي اس فرصت کو غنيمت جانا اور اپني تشہير کے ذريعے سے ميدان ميں وارد ہوگئے ،ليکن اس سے زيادہ کچھ بھي نہ کرسکے ۔اگر امريکي ،انگلستان اور صيہونست، تہران کي گليوں ميں اپني قوت اتار سکتے ہوتے تو وہ ضرور ايسا کرتے ۔اگر ان کے لئے ممکن ہوتا کہ اپنے خارجي وابستگان اورنوکروں کو حاضر کرکے، سارے معاملے کو جس طرح وہ چاہتے تھے ويسا کرديں ،تو وہ ضرور ايسا کرتے ۔منتھيٰ ،وہ جانتے تھے کہ ہر ايسا کام ان کے نقصان پر ختم ہو گا۔ وہ کام کہ جويہ لوگ کرسکتے تھے وہ يہ تھا کہ اپني تشہير ات ميں،سياست جہاني ميں ،فسادي اور فتنہ گرافراد کي حمايت کريں ۔مستکبر ممالک کے صدور اس معاملے ميں وارد ميدان ہوئے، فسادي اور فتنہ گر کہ جو آگ لگاکر اپنے موجود ہونے کو ثابت کر رہے تھے ، ان کوايراني قوم کا نام دينے لگے۔ شايد اس طرح حالات کودنيا کے افکارِ عمومي اور اپنے ممالک کے افراد کے سامنے ،اپني خواہشات کے مطابق تصوير کشي کرسکيں، ليکن انہيں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
ہماري قوم نے قوي ترين اور آخري ضرب ’٩‘دَي اور ’٢٢‘ بہمن کو ان پر لگائي ہماري ملت کا ٢٢ بہمن کا اقدام بہت عظيم اقدام تھا اور ٩دَ ي کو بھي اسي طرح سے ملت کي يگانگي آشکار ہوئي ۔وہ تمام افراد کہ جنہوں نے سياسي معاملات ميں ،جس کسي کو بھي ووٹ ديا تھا ،جب انہوں نے ديکھا کہ دشمن صفوں ميں موجود ہے ،جب وہ سمجھ گئے کہ دشمنِ پليد کے اہداف کيا ہيں، تو جن لوگوں کے بارے ميں عوام خوش بين تھے ،عوام نے تجديد نظر کي اور سمجھ گئے کہ راہ انقلاب يہ ہے،صراط مستقيم يہ ہے۔ ٢٢بہمن کو ملت ايک نعرہ کے ساتھ وارد ميدان ہوئي ،بہت کوشش کي گئي کہ ملت کو دو حصوں ميں بانٹ ديں ليکن ناکام ہوئے اور عوام ڈٹي رہي۔ يہ عوام کي فتح تھي ٢٢خرداد سے ٢٢بہمن تک ٨ماہ ايراني قو م کے لئے ايک پر افتخار اور پر عبرت فصل تھي ۔يہ ايک درس بن گيا ،جديد آگا ہي وجود ميں آئي، ملت ايران کے لئے بصيرت کي ايک نئي فصل کھِل گئي ۔يہ ايک بہت اہم بنياد اور اساس ہے ۔ہميں چاہيے کہ اس اساس پرحرکت کريں ۔
البتہ ہمارے لئے چيلنج بھي ہيں ،موانع بھي ہيں ۔ہم وہ قوم نہيں ہيں کہ دنيا ميں کسي سے ہماري دشمني نہ ہو۔ اُن قوموں کا کوئي دشمن نہيں ہوتا کہ جن کے وجود کي کوئي ارزش وقيمت نہيں ہوتي ۔وہ قوم کہ جس کے پاس راستہ ہو ،ہدف ہو ،کوشش کرنے والي قوم ہو ،تو اس کے دشمن بھي پيدا ہوجاتے ہيں ۔البتہ دشمن صرف دشمن کي حد تک ۔امريکي حکومت کے بھي دنيا ميں بہت سارے دشمن ہيں ليکن امريکي حکومت کا دشمن کون ہے ؟’’اقوام‘‘ ۔وہ اقوام کہ جو امريکي حکومت سے متنفر ہيں، مکدّر ہيں ۔امريکي حکومت اِنہيں بري لگتي ہے۔ کيوں ؟اس لئے کہ امريکي حکومت کا پچاس سالہ يا ساٹھ سالہ کا ايک سابقہ ہے، تجاوز اور قبضہ اور دخالت کا سابقہ جو ِان کي فائلوں ميں ثبت ہے ۔پچھلے پچاس سالوں ميں امريکي حکومت نے تقريباََ ساٹھ ممالک کو مورد تجاوز قرار ديا ہے۔ کيا يہ مذاق ہے ؟کيا يہ کم ہے ؟خوب! پس اس کے بھي دشمن ہيں ، نظام جمہوري اسلامي کے بھي دشمن ہيں۔نظام جمہوري اسلامي کے بھي دشمن کون ہيں ؟ ’’مستکبر حکومتيں ‘‘۔صہيونسٹ، سرمايہ دار، بشريت کے دشمن ،سفاک اور غدارجاسوسي کي ايجنسياں۔اس لئے دشمن ہيں اور يہ دشمن فعاليت بھي کررہا ہے اور کوشش بھي۔
ہماري قوم اور ملک کے مسؤلين کو ہوشيار رہنا چاہيے ۔اس دشمن کا محاسبہ کريں۔ ان دشمنيوں سے مقابلہ کے لئے تدبير اور شجاعت کے ساتھ عمل کريں۔ تدبير بھي لازم ہے اور شجاعت بھي لازم ہے۔ اگر شجاعت موجود نہ ہو تو ہيبت وعظمت اور مسکتبر حکومتوں کے کرخت چہروں کے مقابل ميں، اگر کوئي اپنے دل سے کھيلے، تو حتماََ شکست سے دوچار ہوگا ۔مستکبر حکومتوں کے کاموں ميں سے ايک کام دھمکي دينا ہے ،کرخت اور افسردہ چہرہ بنانا ہے، حق کو ناحق بنا نا ہے۔ اگر ان کے مقابلے ميں شجاعت نہ ہوتو،اگر ہمارے ملک کے مسؤلين ان مخاصمانہ (آپس ميں لڑانے والي) اور مستکبرانہ تحريک کے مقابل ميں اپنے پيروں پر کھڑے نہ ہوسکيں ، تو حتماََ ان کا سر اس معرکہ ميں جھک جائے گا۔ خود بھي شکست کھائيں گے اور قوم کو بھي شکست سے دچار کريں گے۔ اس لئے شجاعت لازمي ہے ۔تدبير بھي لازمي ہے۔ تدبير يعني ہر اس چيز سے آگاہي جو دشمن کے پروگرام کا حصہ ہے اور ان کے مقابلے ميں صحيح اور درست فيصلہ۔ دشمن مختلف شکلوں ميں ظاہر ہوتا ہے آج آپ ملاحظہ کريں ايراني قوم اور نظام جمہوري اسلامي کے مقابل ميں ،صہيونسٹ ہيں ،امريکي حکومت موجود ہے، کبھي يہ بھيڑيے کا لباس پہن کر آتے ہيں ،کبھي لومڑ کا ،کبھي اپنے غصے بھرے اورکرخت چہرے کو دکھاتے ہيں اور کبھي فريب کا ر چہرے کو۔ ہميں چاہيے کہ ہم ان کي طرف متوجہ رہيں ۔
ميں نے پچھلے سال، سال کے پہلے دن، آپ عوام کے اسي عظيم مجمع کے سامنے عرض کيا تھا امريکہ کے نئے صدر کے اظہارات کے مقابلے ميں ،کہ’’ ہم دوستي کا ہاتھ بڑھاتے ہيں ‘‘،ہم تيز بين نگاہوں سے اس کاجائزہ ليں گے، ہم ديکھيں گے کہ کيا واقعي دوستي کا ہاتھ ہے ؟ يہ ہمارے لئے بہت اہم ہے پچھلے سال کہا تھا، اگر مخملي دستانے کے نيچے لوہے کا ہاتھ اور لوہے کا پنجہ ہو تو ہم اپنا ہاتھ نہيں بڑھا سکتے ،دوستي کو قبول نہيں کريں گے ۔ اگر مسکرہٹ کے پيچھے ،پس پشت خنجر چھپا ہو ا ہو، تو ہمارے حواس جمع ہيں ۔متاسفانہ (افسوس کے ساتھ )جو کچھ بھي ہو ا وہي چيز تھي کہ جو محسوس کي جارہي تھي، امريکي حکومت نے اپنے جديد تشکلات اور جديد صدر کے ذريعے سے دوستي اور عادلانہ اور صحيح روابط کا دعوي کيا ،خط لکھے ،پيغا م بھيجوائے ،اسپيکروں پرکہا، اپني خصوصي محفلوں ميں باربار تکرار کيا، کہ ہم جمہوري اسلامي کے ساتھ عادي اور معمول کے مطابق روابط رکھنا چاہتے ہيں ليکن متاسفانہ اس کے بالعکس عمل انجام ديا۔ انتخابات کے بعد کے ٨ماہ کے معاملات ميں انہوں نے بدترين جگہ کا انتخاب کيا ۔امريکي صدرنے فساد پھيلانے والوں اور فتنہ گروں کو مدني (شہري) جنبش کا عنوان ديا ۔بنک کو آگ لگانے ، بسوں کو آگ لگانے، بے خبر اور بے گناہ پيدل چلنے والوں کو مارپيٹ کرنے کو، شہيد کي ماں اور بہن کے سرسے چادر رکھنے کي وجہ سے مارپيٹ کرنے کو ،جوان موٹر سائيکل والے کو اس لئے مارنے کو کہ اس نے داڑھي رکھي ہوئي تھي ، مدني جنبش يا شہري اور مہذب تحريک کہتے ہيں ؟
آپ حقوق انساني کا دم بھرتے ہيں ،جمہور يت کا دم بھرتے ہيں ليکن لوگوں کو انکے انتخاب کي عظيم تحريک ميں ، ان کے انتخابات ميں ،ان معاملات ميں ان کے حضور کو نہيں ديکھتے اور ناديدہ قرار ديتے ہيں ۔فساد پھيلانے والوں اور فتنہ گروں کي طرفداري کرتے ہيں اور اسے مہذب تحريک کانام ديتے ہيں ۔شرم نہيں آتي ؟دعوي کرتے ہيں کہ ہم حقوق بشر کے طرفدار ہيں۔ حقوق بشر کي نسبت احساس مسؤليت رکھتے ہيں ۔آپ اس حيثيت ميں نہيں ہيں کہ کسي سے حقوق بشر کي بات کريں ،آپ نے ان گذشتہ سالوں ميں اپنے اقدامات ميں سے کس ميں تبديلي پيدا کي ہے ؟افغانسان ميں خونريزي کم کي ہے ؟ عراق ميں دخل اندازي کم کي ہے ؟کيا آپ نے غزہ کي وحشيانہ خونريزي اور بچوں کے قتل کي حمايت نہيں کي ہے ؟ کہ اب حقوق بشر کے طرفدار ہونے کا عوي کررہے ہيں۔
ميں آج دوبارہ اعلان کرتا ہوں ،حالت استکبار ي ميں موجود حکومتيں اپني مستکبرانہ روح کے ساتھ چاہتے ہيں کہ ايراني قوم اور جمہوري اسلامي کے مسؤلين کا سامنا کريں۔ وہ يہ جان ليں کہ ايراني قوم اور جمہوري اسلامي کے مسؤلين کي جانب سے وہ لوگ ردّکئے جاچکے ہيں ۔آپ صلح اور دوستي کي طرف مائل ہونے کا دم نہيں بھر سکتے، ليکن اسي حالت ميں سازش کرتے ہيں ،فتنہ ايجاد کرتے ہيں اپنے وہم وگمان ميں جمہوري اسلامي پر ضربيں لگانا چاہتے ہيں ۔
قوم بيد ار ہے ،مسؤلين بيدار ہيں ، تدبير يہ ہے کہ انسان اس مخاصمانہ رفتار کو نظر ميں رکھے، يہ ديکھںکہ يہ لوگ کيا کرنا چاہتے ہيں ۔نہ بھيڑيے کے لباس ميں اورنہ لومڑي کے لباس ميں، يہ ايراني قوم کي نگاہوں سے پوشيدہ ومخفي نہيں رہنے چاہييں ،بے شناخت نہيں رہنے چاہييں۔ ملت ايران کو چاہيے کہ ہوشيار ي سے فيصلے کريں اور ہم انشائ اللہ توفيق ِالٰہي سے، ہوشياري کے ساتھ فيصلے کريں گے ہم دشمن کے تيوري چڑھانے اور دھمکي کے مقابلے ميں اپني ملت کے منافع کو ہاتھ سے جانے نہيں ديں گے ۔ اس ملت کي ترقي کي راہ ميں جو ضروري ہے اقدام کريں گے۔ ہم مطمئن ہيں اور يہ جانتے ہيں کہ يہ ملت کامياب ہے ۔ اسي طرح سے کہ جيسے ان تيس سالوں ميں کامياب رہي ہے ۔ ان تيس سالوں ميں جو کچھ بھي ہمارے دشمن ملت ِايران کے ساتھ انجام دينا چاہتے تھے اس ميں شکست کھاچکے ہيں۔ يہ لوگ جمہوري اسلامي کا بال بيکا بھي نہيں کرسکتے اور اسے کوئي نقصان نہيں پہنچا سکتے۔ وہ عوام کو نظام جمہوري اسلامي سے جدا نہيں کرسکتے۔اس کے بعد بھي يہي ہو گا۔ اس کے بعد بھي توفيق الٰہي سے ،بحول وقوۃ الٰہي ،ملت ايران کي سرنوشت کا ميابي اور ترقي ہے اور ملت ايران کے دشمنوں کي سرنوشت شکست اور عقب ماندگي ہے ۔
پروردگارا! ہميں صراط مستقيم ، خداو قرآن پرايمان اور اسلام کے مقدس آين پر ثابت قدم رکھ۔ پروردگارا! ہمارے دلوں کو اپني طرف توجہ اوراپنے مقابل ميں تضرع سے غافل نہ فرما۔ پروردگارا! ہميں حضرت بقيۃ اللہ (ارواحنا فداہ) کي دعاوں سے محروم نہ فرما۔ اس ملت کو، ان جوانواں کو، ان ولولہ انگيز اور پرجوش دلوں کو ہميشہ اپنے لطف اور تفضل کا مورد قرار دے۔ پروردگارا! ہر دم اس ملت اور ديگر مسلمان ملتوں کے درميان برادري کے تعلق کو مستحکم تر فرما، دشمن کے دھوکے کو باطل فرما۔
والسلام عليکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔