|
١٩ جنوري ٢٠١٠ئ کو
رہبر انقلاب اسلامي حضرت آيت اللہ العظميٰ خامنہ اي دامت برکاتہ
نے شورائے تبليغات اسلامي کے اراکين سے ايک اہم خطاب کيا،
خطاب کے اہم نکات کو آپ کي خدمت ميں پيش کرنے کي سعادت حاصل کر رہے ہيں۔
حالات کے تقاضوں کے مطابق اپني ذمہ داري پر عمل نہ کرنا سب سے بڑي اجتماعي
بيماري ہے!
دوست اوردشمن کي شناخت کا اسلامي فارمولا!
فتنہ کيا ہے اوردوست کون اور فتنہ گر کون؟
بسم اللّٰہ الرّحمن الرّحيم
(شورائے ہمآہنگي تبليغات ،اسلامي جمہوريہ ايران کا ايک ايسا انقلابي ادارہ ہے
جو اسلامي انقلاب کي کاميابي سے قبل علمائ مجتہدين کي سر براہي ميں وجود ميں
آيا۔يہي وہ ادارہ ہے کہ جس نے امام خميني ۲کي فرانس سے تہران واپس پر عظيم
الشان تاريخي استقبال ترتيب ديا اور اسلامي انقلاب کي کاميابي کے بعد بھي يہ
ادارہ فعال ہے اور مختلف اہم اسلامي اور ملي مناسبتوں پر مختلف پروگرام مرتب
کرتا ہے)
وقت کي حساسيت وتقاضوں کو سمجھ کرعمل بجا لانا بہت اہم بات ہے!
ميں اِس بات پر بہت خوشحال ہوں کہ ايک طويل مدت کے بعد مجھے اِس بات کي توفيق
نصيب ہوئي کہ آپ بہن بھائيوں سے ملاقات کروں جو ايک نہايت ہي موثر ترين ادارے
ميں رہتے ہوئے نہايت ہي بنيادي ترين اُمور کي انجام دہي کو اپنے ذمہ ليے ہوئے
ہيں۔
ِ ’’شورائے تبليغات اسلامي ‘‘ہمارے ملک کا قديمي اور فعال ادارہ ہے۔ يہ بات بہت
زيادہ اہميت کي حامل ہے کہ ملک کي بنيادي ضرورت وحاجت کو سامنے رکھتے ہوئے ايک
ايسے ادارے کي داغ بيل ڈالي جائے جو اِس تمام عرصے ميں رونماہونے والے مختلف
حالات وواقعات ميںاُس بنيادي ضرورت و ہدف کو مد نظر رکھے اور عمل کا حق بجا
لائے۔شورائے تبليغات بھي ايک ايسا ہي ادارہ ہے ،اِس ادارے نے اِس تمام مدت ميں
صحيح راستے پر ہي قدم اُٹھايا ،حالات وواقعات کو صحيح انداز سے پہچانا اور اُن
کے تقاضوں کے مطابق مناسب کام انجام ديا ہے۔
وقت ناشناسي اور حالات کے تقاضوں کے مطابق اپني ذمہ داري پر عمل نہ کرنا سب سے
بڑي اجتماعي بيماري ہے!
اکثر اداروں اور شخصيات کي اجتماعي مشکلات ميں سے ايک مشکل يہ ہے کہ وہ ايمان
بھي رکھتے ہيں اور اشتياق ومحبت سے عمل کرتے ہيں ليکن وقت شناس نہيں ہيں ۔
حالات کے دھارے کو ديکھنا،نوشتہ ديوار کو پڑھنا اور وقت کي نزاکت کو سمجھنا
چاہيے نيز ضروري ہے کہ وقت کي ضرورت وتقاضے کو بھي اچھي طرح سمجھا جائے۔
توّابين اگر ساتھ ديتے تو حالات کا رُخ کچھ اورہي ہوتا!
فرض کيجئے کہ کوفے ميں موجود وہ تمام افراد کہ جن کے قلوب ميں امام حسين اور
اہل بيت کي محبت موجود تھي،کچھ ماہ تاخير سے ميدان عمل ميں اُترتے،سب نے درجہ
شہادت حاصل کيا اور خدا کے حضور اجروثواب کے حقدار ہوئے۔ليکن اُنہوں نے جو کچھ
انجام ديا ،وہ کام نہيں تھا جو اُنہيں انجام دينا چاہيے تھا،يعني اُنہوں نے
حالات کو نہيں پہچانا،عاشورا کي اہميت کو درک نہيں کيا اور اُس زمانے ميں کوئي
انجام نہيں ديا۔
توّابين اگر وہي کام جو اُنہوں نے عاشورا کے کچھ مدت بعد انجام ديا،اگر حضرت
مسلم کے کوفے آنے والے دن انجام ديتے تو حالات يکسر ہي بدل جاتے اور واقعات کسي
اور انداز سے رونما ہوتے۔پس ہميں يہ نتيجہ اخذکرنا چاہيے کہ حالات کو پہچاننا
اور وقت کي حساسيت ونزاکت کا احساس کرتے ہوئے تقاضوں کے مطابق عمل انجام دينا
بہت ہي اہميت کا حامل ہے۔
فتنوں کي آگ کو خاموش کرنا ايک ضروري اقدام ہے
آپ کي اِس شورائے تبليغات اسلامي بھي ايسي ہي خصوصيت کي حامل ہے کہ جس کي ايک
مثال ٣٠دسمبر ٢٠٠٩ئ کے عظيم الشان ملک گير مظاہرے ہيں ۔اِس طرح دس سال قبل ١٤جون
١٩٩٩ ئ کو(محمد خاتمي کے دورِ حکومت ميں ہونے والے فتنے اور مظاہروں کے بعد جو
٧،٨اور ٩جون کو برپاہوئے اور اصلاح طلب اورحزب دوم خرداد(٢٣مئي) نے ملک کے
اندروني حالات کافي خراب کيے اورقانون کو پامال کياتو)پوري قوم نے شورائے
تبليغات کي کال پر اُن مظاہروں اور فتنے کي مذمت کي۔يہ کوئي معمولي کا نہيں تھا۔
٣٠دسمبر ٢٠٠٩ ئ کو بھي ايسے ہي ملک گير عظيم الشان مظاہرے ہوئے۔وقت کي نزاکت
وحساسيت کو سمجھنا ،ضرورت اور تقاضوں کو درک کرنا اور اُس کے مطابق ميدان عمل
ميں موقع کي مناسبت سے قدم اُٹھانا ايک مومن انسان کے کاموں اور فعاليت کي
بنياد ہوني چاہيے کہ جسے وہ کبھي بھي اپنے عمل سے جدا نہ کرے ،تاکہ نہ صرف يہ
کہ اُس کا اپنا وجود موثر ہو بلکہ وہ اپنے کام اور ذمہ داري کو بھي بطريق احسن
انجام دے سکے۔
دو اہم نکات کي جانب توجہ
يہاں دواہم نکات کي جانب اشارہ ضروري سمجھتا ہوں؛ايک اسلامي انقلاب کي
سالگرہ(١١فروري)سے متعلق ہے اور دوسرا نکتہ ملک کي شفاف فضا سے دشمن کي ناراضگي
سے۔
١۔عوامي اجتماعات اور پروگرام ،دشمن کا ہدف ہيں!
دہہ فجر يا اسلامي انقلاب کي کاميابي کے دس دن،اسلامي انقلاب اور اسلامي
جمہوريہ ايران کے نظام اور تاريخ کا منفرد واقعہ ہيں۔دنيا کے تمام انقلاب اور
عوامي قياموں کي جو عوام کے ہاتھوں سے تاريخ کے اوراق ميں ثبت ہوتے ہيں،کي
سالگرہ کے مخصوص دن ہوتے ہيں۔جشن آزادي ،قيام اورانقلاب کي سالگرہ کو اِنہي
عوامل وعناصر کے ساتھ منانا جو اُس آزادي اور قيام وانقلاب کو وجود ميں لے کر
آئے ، تاکہ يہ آزادي اور قيام وانقلاب اذہان ميں زندہ رہے۔اِس بات کي بہت زيادہ
اہميت ہے۔
معاشرے کے اجتماعي ذہن پر کئي سالوںاور کچھ دہائيوں تک باقي رہنے والے دنيا کے
مختلف انقلابوں کي سالگرہ يا جشن آزادي کو ايک رسمي طريقے سے منايا جاتا ہے۔اِن
انقلابات ميں بہت سے ايسے انقلاب بھي ہيں جو ايک مدت کے بعد تاريخ کے اوراق ميں
دفن ہوجاتے ہيں اور معاشروں کے اذہان سے اُن کے نقوش مٹ جاتے ہيں ۔مثلا ًآپ
’’روسي انقلاب ‘‘کو ملاحظہ کيجئے جو کئي دہائيوں تک زندہ رہا يا اِس سے کم درجے
کا’’ انقلاب فرانس‘‘ يا دنيا کے دوسرے علاقوں ميں رونما ہونے والے عوامي انقلاب
يا عوامي انقلاب کي شبيہ جيسے انقلابوںکي سالگرہ اور جشن آزادي کے موقع پر
تين،چار سال کے بعد عوامي شرکت سرد پڑ جاتي ہے اور ايسے جشن آزادي يا سالگرہ کو
صرف حکومتي سطح پر رسمي حيثيت سے منايا جاتا ہے،حکومتي عہديدار آتے ہيں ،مسلح
افواج کي پريڈ ہوتي ہے اور کچھ تماشائي،اِس کے علاوہ کچھ اور نہيں ہوتا۔
اسلامي انقلاب ،عوام کے ايمان کي بنيادوں پر قائم ہے
ہمارے اسلامي انقلاب کي کاميابي کو تيس سال کا عرصہ ہوگيا ہے۔ان تيس سالوں ميں
ہمارے عوام ہي تھے کہ جنہوں نے اسلامي انقلاب کے جشن کو مجسم کيا ،زندہ رکھا
اور عوامي سطح پر جشن منايا۔ہر سال ١١ فروري کو کروڑوں افراد سڑکوں پر نکل کر
اپني اِس سياسي واجتماعي عيد،جشن اور انقلاب کے زندہ ہونے کا اعلان کر تے
ہيں۔اِن سب کا کيا مطلب ہے؟اِن تمام باتوں کا مطلب يہ ہے کہ اسلامي انقلاب اب
بھي عوام کے ايمان کي بنياديوں پر قائم ودائم ہے اور اسلامي انقلاب اور اُس کے
نتيجے ميں جنم لينے والے اسلامي نظام کے مخالفين کا مقابلہ عوام سے ہے۔دشمنوں
اور مخالفين کے کامياب نہ ہونے کا راز بھي يہي ہے۔
ورنہ تو دنيا ميں کوئي ايسا انقلاب يا نظام حکومت نہيں ہے کہ جسے سياسي حربوں
اور امن وامان کے مسئلے کو ہاتھ ميں لے کر متزلزل نہ کيا جا سکے۔ليکن وہ نظام
حکومت جو اپني عوامي طاقت پر تکيہ وبھروسہ کرتا ہے ،اُس کے مخالفين اپنے باطل
عسکري نظام،دولت کي ريل پل اور امن ومان کو خراب کرنے ميں نہايت ہي مہارت
وتجربہ رکھنے اور مضبوط ومستحکم اقتصاد کاحامل ہونے کے باوجود اِس نظام کي
بنيادوں کي متزلزل نہيں کر سکتے ۔اِس کا راز بھي يہي ہے کہ يہ نظام اور انقلاب
،عوامي بنيادوں پر قائم ہے،اُن کے ايمان کي بنيادوں پر اور اس اساس پر کہ جس نے
اِس انقلاب ونظام کو وجود بخشا ہے اور يہ چيز بہت زيادہ اہميت کي حامل ہے۔
٢٠٠٩ئ ميںاسلامي اجتماعات کے خلاف دشمن کي سازش
دشمن اور مخالفين کي کوشش ہے جيساکہ ٢٠٠٩ ئ ميں مختلف تجربات حاصل ہوئے ہيں کہ
وہ ہر اُس پروگرام اور مراسم کو جو بھر پور عوامي طاقت کي شرکت سے منعقد ہوتے
ہيں ، کسي نہ کسي طريقے سے خراب کريں ۔ يوم القدس ميں جو اسرائيل کي مخالفت کے
اعلان کرنے کا دن ہے ،ايک نہايت ہي مختصر ساگروہ سامنے آتا ہے اور فلسطين کے
خلاف اور اسرائيل کي حمايت ميں نعرے لگاتا ہے!٤نومبر کو جو امريکي سامراج سے
ايراني قوم کے مقابلے اور نفرت کے اعلان کرنے کا دن ہے،ايک مختصر ساگروہ سڑکوں
پر نکل کر اُس تحريک،اسلامي نظام اور ہمارے اسلامي وجود کے خلاف نعرے لگاتا
ہے۔اِن تمام حرکتوں کا کيا مطلب ہے ؟ا ِس کا معني يہ ہے کہ دشمن کو اسلامي
جمہوريہ کے نظام اور اُس کي حمايت ميں عوام کي بھر پور شرکت سے بہت خطرہ لاحق
ہے۔يہ ايسي عوامي شرکت ہے جو اپنے مختلف سياسي رجحانات رکھنے کے باوجود متحد ہو
کر شرکت کرتي ہے۔ہماري قوم کي جہت اور ہدف ‘روشن اور مشخص ہے اورہمارا دشمن يہي
چاہتا ہے کہ اس متحد حرکت کو اپنے پروپيگنڈے سے نشانہ بنائے،قوم کو گروہوں ميں
تقسيم کرکے اُن گروہوں ميں سے سے ہر ايک گروہ کو جدا گانہ حقيقت وقطب کي صورت
ميں پيش کرے۔يہ دشمن کا ہدف ہے اور ہميں اِس کا مقابلہ کرنا چاہيے ۔اسلامي
جمہوريہ کا نظام،عوام کے چاہنے اور اُن کے ايمان سے وجود ميں آيا ہے اور اُس نے
آج تک اِنہي چيزوں کے ذريعے اقتدار وعزت کے ساتھ پيش رفت کي ہے ۔
٢۔ملک کي شفاف سياسي و اجتماعي فضا ،دشمن کي آنکھ کا کانٹا
دوسرا نکتہ يہ کہ جسے گزشتہ کئي ماہ سے بيان کيا ہے،يہ ہے کہ ہمارا دشمن ملک کي
فضا کے شفاف ہونے سے نالان وناراض ہے ۔ہمارے دشمن اِس آزاد،جمہوري اور شفاف فضا
کو کسي بھي صورت ميں برداشت نہيں کرتے ہيں ۔وہ ايک ايسي فضا کے آرزو مند ہيں کہ
جہاں گردوغبار ہوتا کہ وہ اپنے مذموم مقاصد کو عملي جامہ پہنا سکيں اور ہماري
قوم کي اجتماعي حرکت پر کاري ضرب لگا سکيں۔يہاںغبارآلود فضا سے مراد’’فتنہ‘‘ہے۔
فتنہ کيا ہے اور کہاں سے جنم ليتاہے؟!
فتنے کا معني يہ ہے کہ ايک گروپ ظاہراً دوست بن کر اپنے باطن ميں دشمني وکينہ
رکھتے ہوئے ميدان ميں قدم رکھے،فضا کو غبارآلود کرے تاکہ ايسي غبار آلود فضا
ميں چہرے کو چھپا کراسلامي نظام پر کاري ضرب لگاسکے۔
يہ جو حضرت اميرالمومنين ٴ نے فرمايا ’’اِنَّمَا بَدئُ وُقُوعِ الفِتَنِ
اَھوَآئ� تُتَّبَعُ وَآَحَکَام� تُبتَدَعُ‘‘بے شک فتنوں کي ابتدا ئ ا تباع کي
جانے والي خواہشات اور گڑھ ليے جانے والے نئے اور جديد احکامات سے ہوتي ہے ۔اِس
کے بعد فرماتے ہيں:
’’فَلَو اَنَّ البَاِطَل خَلَصَ مِن مِزَاجِ الحَقِّ لَم يَخفَ عَلَي
المُرتَادِينَ وَلَو اَنَّ الحَقَّ خَلَصَ مِن لُبسِ البَاطِلِ اِنقَطَعَت
عَنہُ اَلسُنُ المُعَانِدِينَ وَلٰکِن يُوخَذُ مِن ھٰذَاضِغث � وَّمِن ھٰذَا
ضِغث � فَيُمزَ جَان‘ِ ‘۔(نہج البلاغہ؛خطبہ٥٠)
’’اگر باطل حق کي آميزش سے الگ ہوجائے تو وہ حق کے طلبگاروں پر مخفي نہيں رہے
گا اور اگر حق‘ باطل کي ملاوٹ سے الگ ہو جائے تو دشمنوں اور معاندين کي
زبانيں بند ہو جاتيں ۔(ليکن حقيقت کو مشتبہ بنانے کيلئے)ايک حصہ اِس(حق) سے ليا
جاتا ہے اور ايک حصہ اُس (باطل )سے اور دونوں کو آپس ميں مخلوط کرديتا ہے۔
’’فَحِينَئِذٍ يَشتَبِہُ الحَقُّ عَليٰ اَولِيٰآئِہِ‘‘اُس وقت حق کے متلاشيوں
کيلئے صورتحال حال متشبہ ہو جاتي ہے اور اِسي کو فتنہ کہا جاتا ہے۔
فتنے کي آتش کو خاموش کرنے کيلئے عوام و ’’خواص ‘‘کي ذمہ داري
عوام بيدار و ہوشيار رہيں اور ’’خواص‘‘دشمن سے اعلان برآت کريں!
ايسي صورتحال کاکيسے مقابلہ کيا جائے ؟ايسي صورتحال ميںعقل بھي حکم ديتي ہے اور
شريعت بھي کہتي ہے:اِس کا علاج يہ ہے کہ حق کو صراحت سے بيان کيا جائے۔جب آپ
ديکھتے ہيں کہ انتخابات کے بہانے ايک تحريک چلائي جاتي ہے اور بعد ميں دشمن کے
آلہ کار اِس غبارآلود فضا ميںداخل ہوتے ہيں اورجب آپ مشاہدہ کريں کہ دشمن کے
آلہ کار کي باتيں ،نعرے جو اُس کے ما في الضمير کي عکاسي کرتے ہيں،ميدان ميں
آجائيںتو يہاں اپنے اور دشمن کے درميان سرحدوں کو مشخص کرنا چاہيے۔ يہاں سب کا
وظيفہ ہے،خاص طور پر معاشرے کے ’’خواص‘‘،معاشرے پر موثر افراد کا،وہ افراد کہ
جن کي باتوں کو معاشرے ميں سنا جاتا ہے کہ وہ اپنے اور دشمنوں کے درميان موجود
سرحدوں کو واضح اور مشخص کريں تاکہ يہ معلوم ہوسکے کہ کون کيا کہہ رہا ہے؟
’’خواص‘‘ذو معني ٰ بات کرنے کے بجائے صراحت سے اپنا موقف بيان کريں!
ايسا نہ ہو کہ باطل خود کو ميدان ميں اُٹھنے والے گردوغبار ميں مخفي کرلے،کمين
ميں بيٹھ کر کاري ضرب لگائے اور اہل حق کو يہ معلوم نہ ہوسکے کہ اُنہيں کہاں سے
نقصان پہنچايا جا رہا ہے۔يہ وہ مقام ہے کہ جہاں معاشرے کے’’ خواص ‘‘سے ذومعني
بات کرنا اچھي بات نہيں !’’ خواص ‘‘ کو چاہيے کہ وہ اپني بات کو روشن اور واضح
اور اپنے مطلب کو صراحت سے بيان کريں۔ يہ کسي خاص سياسي گروہ سے مخصوص نہيں
ہے،مختلف رجحان ونظريات رکھنے والي جماعتيں اور تحريکيں اسلامي نظام کے سائے
ميں ہي موجود ہيں ،اِن سب کا فريضہ ہے کہ وہ اپنے واضح بيانات ديں تاکہ عالمي
استکبار ملک ميں جن گروہوں کي حمايت کررہے ہيں،آيا وہ اُنہيں قبول ہے يا نہيں ؟جب
عالمي استکبار کے سرکردہ افراد، ظالم، اسلامي ممالک پر قابض افراد اور فلسطين
وعراق سميت دوسرے ممالک ميں انسانوں کے قاتل ميدان ميں قدم رکھتے ہيں ،باتيں
کرتے ہيں،اپنا موقف بيان کرتے ہيں تو ہميں بھي معلوم
ہونا چاہيے کہ جو اسلامي جمہوريہ کے نظام ميں موجود ہے،اُس کا اِن کے مقابلے
ميں کيابيان اور موقف ہے؟کيا وہ اِن سے دوري اور بري الذّمہ ہونے ،اُنہيں اپنا
دشمن اور مخالف کہنے کيلئے تيار ہے ؟
جب فتنہ گر فتنے کے اندر اپني زبان سے اسلام اور انتخابات پر اعتراض کرے تو يہ
وہ مقام ہے کہ جہاں ’’خواص ‘‘کو دشمن اور فتنہ گروں سے اپني سرحديں کومشخص
اوراپنے بيانات اورموقف کوواضح کرنا چاہيے۔ذومعني بات کرنا در حقيقت فضا کو
غبار آلود کرنے کے مترادف ہے،يہ فتنے کو ختم کرنے ميں مدد نہيں ہے۔اُن کا يہ
عمل ،فضا کو صاف وشفاف بنانے کے بجائے دشمن کو سبز چراغ دکھانے اور فضا کومزيد
غبار آلود بنانے ميں دشمن کي مدد کرنا ہے۔يہ خود ايک نشاني وعلامت ہے کہ کون
اپنے بيان ،موقف اور عمل سے معاشرے کي فضا کو شفاف بنا رہا ہے اور کو ن ہے جو
فضا کو غبارآلود کرکے دشمن کي مدد کررہا ہے؟آپ کو چاہيے کہ اِس پر توجہ کيجئے
اور اِسي کو معيار قرار ديجئے۔
’’پھونکوں سے يہ چراغ بجھا يا نہ جائے گا!‘‘
آخري بات يہ کہ ميرے بھائیوں اور بہنوں،آپ سب جانتے ہيں کہ اسلامي انقلاب ايک
حقيقت ہے جس نے خداوند عالم کے ايک قانون پر عمل پيرا ہونے کے نتيجے ميں جنم
ليا ہے لہٰذا اِسے متزلزل يا نابود نہيں کيا جاسکتا ۔ جب تک ہماري عوام کے پاس
ايمان کي دولت ہے اور وہ عشق کي نعمت سے مالا مال ہيں نيز ہاتھ ميں ہاتھ ڈال کر
اتحاد سے قدم بڑھاتے رہيں گے تو وہ يہ بات جان ليں کہ دنيا کي تمام بڑي طاقتيں
مل کر بھي اِس انقلاب ،اسلامي نظام اور ہماري متحد عوام کو کوئي نقصان نہيں
پہنچا سکتیں۔اِس سلسلے ميں بہت سي ذمہ داريا ں ہيں کہ جنہيں انجام دينا ضروري
ہے اور بہت سے راستے ہيں کہ جن پر کاميابي کے حصول کيلئے قدم اُٹھاناناگزير
ہے۔اِن ميں سے بعض راستے سخت اور بعض آسان ہيں ۔
دشمن ہميشہ ہے ،آپ ہوشيار وآگاہ رہيں!
آپ کي خدمت ميں عرض کروں کہ دشمن ہميشہ ہے، آج ايک دشمن ہے،کل دوسرا دشمن ؛اِس
کے بعد بھي دشمن ايک دوسري شکل اپنے دوسرے حربوں کے ساتھ موجود رہے گا۔جب ايک
قوم بيدار ہو،آگاہ وہوشيار ہو،عزم راسخ اور مستحکم ايمان کي حامل ہو،زندہ ہو
اور وہ حيات اور نشوونما رکھتي ہو تو اُس کيلئے اِن تمام مشکلات اور دشمنوں سے
مقابلہ آسان ہوجائے گا۔
خداوندعالم آپ سب کو کاميابي سے ہمکنار کرے،امام خميني ۲ اور ہمارے شہدائ پر
اپني رحمتيں نازل کرے اور امام زمانہ کے قلب کو ہم سے راضي و خشنود کرے۔
والسّلام عَلَيکم ورحمۃُ اللّٰہ وبرکاتہ
|