|
٩ جنوري ٢٠١٠ کو
رہبر انقلاب اسلامي حضرت آيت اللہ العظميٰ خامنہ اي
نے شہر قم کے ايک عظيم اجتما ع سے خطاب فرمايا۔
عالمي سامراج کو ايران کي انقلابي عوام کا منہ توڑ جواب
بسم اللّٰہ الرَّحمٰن الرَّحيم
اسلامي انقلاب سے قبل ٩ جنوري ١٩٧٧ کا تاريخي واقعہ ايک بے مثال واقعہ ہے
اوراپنے مختلف ابعاد و جہات سے قابل غور ہے ۔اِ س واقعے ميں بصيرت بھي نظرآتي
ہے اور حالات و اقعات کا صحيح طور پر تجزيہ اور اُن کي شناخت بھي ،اِس ميں دشمن
شناسي بھي موجو دہے اور جہاد و شجاعت اور ايثار وفدا کاري بھي موجزن ہے۔آج سے
بتّيس سال قبل رونما ہونے والا يہ واقعہ دوسري جہت سے ہماري قوم ميں ايک بڑي
اور انقلابي تبديلي کا پيش خيمہ ثابت ہوا،اِن تمام جہات سے يہ واقعہ بہت زيادہ
اہميت کا حامل ہے۔يہ واقعہ درس و بصيرت ديتا ہے ،راہ کو دکھاتاہے ،سال کے تمام
دنوں ميں اپنے تشخص کو واضح کرتا ہے اور درحقيقت يہ ايک ايسا پرچم ہدايت ہے جو
راہ کو دوسروں کيلئے واضح کرتا ہے۔
امام حسين نے عاشور کو تاريخي دن بنايا
اگر صرف ايک دن کے حوالے سے ديکھا جائے تو في نفسہ عاشور کا دن دوسروں ايام سے
کسي فرق کا حامل نہيں ہے۔يہ حسين ابن علي ہیں جو اِس دن کو اہميت ،حقيقي معنيٰ
اور جان عطا کرتے ہيں اور اُسے عرش تک اوج و بلندي بخشتے ہيں۔يہ امام حسين کے
اصحاب کا جہاد ہے جو اِس دن کو اہم بناتا اور اُسے اہميت عطا کرتا ہے ۔٩جنوري
١٩٧٧ کا دن بھي ايسا ہي ہے ،اِسي طرح ٣٠ دسمبر(٢٠٠٩) کاتاريخي دن اور اُس کے
عظيم الشان مظاہرے بھي اِسي خصوصيت کے حامل ہيں۔
خدا کا دست ِقدر ت ہمارے انقلاب کے ساتھ ہے !!
٩ اور ١٠جنوري ميںکوئي فرق نہيں ہے جو چيز اُسے تاريخي کردار اداکرتي ہے وہ
عوام ،اُن کي دشمن شناسي اور بصيرت وآگاہي ہے اورحالات کو سمجھ کر اپني ذمہ
داري کو ادا کرنا اور اُس کي راہ ميں جہاد و کوشش کرناہے۔اِسي طرح ٣٠دسمبر کا
دن بھي ٢٠٠٩ ميںايک ممتا ز او رتاريخي دن تھابلکہ ايک لحاظ سے يہ کہا جا سکتا
ہے کہ ملک کے موجودہ حالات ميںجب سياسي گرد و غبار سے فضا آلودہ تھي توايسے وقت
ميں عوام کي خود جوش کھانے والي اُن کي اِس تحريک کي اہميت دو برابر تھي اور يہ
ايک بہت عظيم کام تھا۔انسان جب بھي اِ ن واقعات کے گوشہ وکنارو ں او رابعاد
وجہا ت کو ديکھتا او راُن پر غور وفکر کرتا ہے تو وہ اِس ميںخدا وند معتال کے
دست ِ قدرت ، دست ِ ولايت اورروح حسين ابن علي کو ديکھتا ہے۔ يہ ايسا کوئي کام
نہيں تھاجو ہم جيسے انسانوںسے انجام پائے ،يہ خدا کا کام ہے اور اُسي کا دست ِ
قدرت تھا۔جيسا کہ امام خميني ۲ نے بہت سے حساس موقعوں پر يہ فرمايا تھا:’’ميں
نے (اپني تحريک کي ابتدا سے لے کراپني حيات کے آخري ايام تک کي )اِس مدت
ميں(ملک ميں) رونما ہو نے والے واقعات کے پيچھے دست ِ قدرت ِالٰہي کو ديکھا ہے!‘‘
حالات و واقعات کے تجزیے و تحليل کيلئے بصيرت وآگاہي کي ضرورت ہے
فتنے والے حالات ميں کام مزيد دشوار ہو جاتا ہے ،البتہ خدا وند عالم ہر زمانے
اور ہر حالات ميں اپني حجت کو تمام کر تا ہے ۔کبھي تاريخ ميں ايسا نہيںہوا کہ
لوگوںکو خدا پر اعتراض کرنے کا موقع ملاہو کہ تو نے اپني حجت ہم پر پوري نہيں
کي تھي اورتو نے راہنما نہيں بھيجے تھے اور ہم اِسي وجہ سے گمراہ ہو گئے۔قرآن
کريم نے متعدد مقامات پر يہ بات بيان کي ہے۔خدا وندعالم کے اشارے کا ہاتھ ہر
جگہ ديکھا جا سکتاہے ،اِسے ديکھنے کيلئے چشم بينااور بابصيرت آنکھ کي ضرور ت
ہے۔اگر ہم نے اپني آنکھيں نہيں کھوليں توہم پہلي کا چاند نہيں ديکھ سکتے ،ليکن
نہ ديکھنے کا مطلب يہ تو نہيںہے کہ چاند ہي موجود نہيںہے ،چاند موجود ہے ليکن
ہم نے اپني آنکھيں بندکي ہوئي ہيں۔اِس کيلئے ہميں چاہیے کہ ہم آنکھيں
کھوليں،ديکھيں ،توجہ کريںاور اپنے پاس موجود تمام امکانات سے استفادہ کريںتا کہ
اُس حقيقت کو کہ جسے خدا وند عالم نے ہمارے سامنے قرار ديا ہے ،ديکھيں۔
انسان اپني ذمہ داري کوادا کر ے،خدا اُس کي مدد فرمائے گا!
حالات و واقعات ميں سب سے اہم بات يہ ہے کہ انسان اپني ذمہ داري کو ادا کرے اور
اپنے مقصد کے حصول کي راہ ميں جد جہد کرے۔انسان کي يہ کوشش و جد جہد خود اُسي
کے فائدے ميںہے ۔خدا وند عالم بھي اِس راہ اُ س کي ميں کوشش کرنے کي مدد فرمائے
گا۔٩جنوري ١٩٧٧ ہو يا ٣٠ دسمبر ٢٠٠٩ کا دن ،يہ سب اِسي خصوصيت کے حامل ہيں۔روز
عاشور ہونے والے واقعات کي مذمت کرتے ہوئے عوام کے ٣٠ دسمبر کے جلسے جلسوں اور
مظاہروں ميں کروڑوں افراد کي شرکت ايک بہت عظيم پہلو کي حيثيت رکھتي ہے۔
حق وباطل ميں فرق کرنے کيلئے بصيرت ضروري ہے
آپ توجہ کيجئے کہ جنگ صفين ميں حضرت امير المومنين کے مد مقابل کفار نہيں تھے ،اُن
کے مقابلے ميںوہ افراد موجود تھے جو نماز بھي پڑھتے تھے ،قرآن کي تلاوت بھي
کرتے تھے اورظاہر ميں اسلامي احکامات ميں پيروکار بھي کرتے تھے ۔ايسے موقع پر
ايسے لوگوں کے مد مقابل آنے پر کون ہے جوتاريک فضاکو روشن کرے اور لوگوں کے
سامنے حقائق کو پيش کرے؟يہ وہ منزل تھي کہ جب کچھ لوگوں نے اپنے سامنے ظاہر
اسلامي لوگوں کو ديکھاتواُن کے افراد کے قدم لڑکھڑا گئے ۔جب انسان ،تاريخ جنگ
صفين کا مطالعہ کرتاہے تو اُس کا دل دھل جاتا ہے۔حضرت امير المومنين اپنے تيار
کیے ہوئے لشکرکے ساتھ جب شام کے علاقے ميں معاويہ کے مد مقابل ہوتے ہيں تو لوگو
ں کے قدم لڑکھڑانے لگے۔يہ صرف ايک دودون کامسئلہ نہيں ہے بلکہ يہ واقعات کئي
مرتبہ تکرار ہوئے۔اِس لیے کہ يہ جنگ کئي ماہ تک لڑي گئي۔
حضرت عمار ياسر کا استدلال
ايک مرتبہ حضرت کي خد مت ميںخبر لائي جاتي کہ فلاں جگہ ايک مجاہد کو مد مقابل
لشکر کے باطل ہونے ميں شبہ پيدا ہو گيا ہے اوريہ وہ مسلسل کہہ رہا ہے کہ جناب
ہم ايسے با ايمان لوگوں سے کيوں جنگ کر رہے ہيں؟آخر اِس جنگ کا کيا فائدہ ہے کہ
جس ميں دومسلمان باہم دست و گريباں ہيں؟اوراِسي طرح کي دسيوں باتيں۔ايسے کٹھن
حالات ميں يہ حضرت امير المومنين کے خالص اصحاب اور سچے اوروفادار ساتھي تھے جو
اسلام کي ابتدا ہي سے امير المومنين کے ساتھ ساتھ تھے،اُن سے جد ا نہيں ہوئے
بلکہ آگے بڑھتے ہيںاورقدم اُٹھاتے ہيں۔حضرت عمار ياسر سلام اللہ عليہ ايسے نازک
وقت ميں اہم ترين کاموں کي انجام دہي کو اپنے ذمہ ليتے ہيں۔ايک مرتبہ اُنہوں نے
ٹھوس قسم کے استدلال پيش کیے ۔آپ اِن استدلالوںکو ملاحظہ کيجئے کہ يہ کيسے ٹھوس
استدلا ل تھے کہ جنہيں انسان زندہ استدلال کي صورت ميں ہميشہ اپنے پاس محفوظ
رکھ سکتا ہے۔
آنکھيں کھولو اور بصيرت سے ديکھو!
جب عمار ياسر نے ديکھا کہ ايک گروہ شبہ کا شکا ر ہو گيا ہے تو وہ جلدي سے وہا ں
پہنچے اور حق و باطل کو بيان کرنے اور اُن ميں فرق واضح کرنے کيلئے تقرير کي ۔اُن
کي اُس تقرير کے کچھ الفاظ يہ ہيں:
’’مد مقابل لشکر ميںتمہيں جو پرچم نظر آرہا ہے ،ميں نے اِسي پرچم کو جنگ اُحد
اور جنگ بدر ميں رسول اللہ ۰ کے مد مقابل ديکھا تھا۔‘‘ بنو اُميہ کے پرچم تلے
آج وہي افراد جمع ہيں،يعني معاويہ اور عمرو بن العاص ، بنو اُميہ کے دوسرے
سرداروں کے ساتھ جنگ اُحد ميںرسول اللہ ۰ کے مد مقابل کھڑ ے تھے۔اُنہوں نے
کہا:’’آج بنو اُميہ کے پرچم تلے تم جن لوگوں کو کھڑا ديکھ رہے ہو،يہي کل اُحد
کے ميدان ميں رسول اللہ ۰کے مقابلے پر جمع ہوئے تھے۔ميں نے اُنہيں خو داپني
آنکھوںسے ديکھا تھا۔اِس طرف کہ امير المومنين ہيں ،جو اپنے اِسي پرچم ،پرچم بنو
ہاشم کے زير سايہ کل بھي جنگ اُحد وبدر ميں کھڑے تھے اورآج جو اصحاب اور اُن کے
ساتھ ہيں وہ کل بھي اِسي پرچم تلے کھڑے تھے۔‘‘اِس سے بہتر اور کيا علامت ہو
سکتي ہے ؟ديکھئے کہ يہ کتني اچھي علامت بيان کي ہے۔ايک محاذ پرپرچم وہي پرچم ہے
اورانسان بھي وہي انسان ہيںجبکہ دوسري جانب پر چم ، جنگ اُحد کا پرچم ہے اور
آدمي بھي وہي ہيں۔صرف فرق يہ ہے کہ جنگ بدر واُحد ميںوہ لوگ دعويٰ کرتے تھے ،
اِس بات کے معترف تھے اور اِس با ت پر افتخار کرتے تھے کہ وہ کافر ہيںاور آج
وہي لوگ اُسي پرچم تلے اِس بات کا دعويٰ کر رہے ہيںکہ مسلمان ہيںاورپيغمبر ۰اور
قرآن کے طرفدار ہيں!انسان وہي انسان ہيں اور پرچم وہي پرچم ہے۔يہ ديکھنے کيلئے
بصيرت کي ضرورت ہے ۔يہ جو ہم بارہا کہتے ہيں کہ بصيرت بصيرت،تو يہي وہي بصيرت
ہے ۔
اسلام،اسلامي انقلاب اور اما م خميني ۲ کے ماضي و حال کے دشمن ؟!
اسلامي انقلاب کي ابتد ائ سے وہ کون تھے جو امام خميني ۲ اور اسلام سے مقابلے
کے پرچم تلے جمع تھے ؟اُس پرچم تلے امريکا اوربرطانيہ تھا،مستکبرين عالم اُس
پرچم تلے جمع تھے ،نظام استکبار سے وابستہ وہ تمام لوگ اُس پرچم تلے جمع تھے
جواسلامي نظام کي بنيادوں کو خراب کر کے شہنشاہي نظام واپس لانے کے خواہشمند
تھے اورآج بھي ايسا ہي ہے ۔ آپ ديکھئے کہ جون ٢٠٠٩ کے صدارتي انتخابات سے قبل
اِن آٹھ ماہ ميں امريکا کہاں کھڑ اہے ؟برطانيہ کا محاذ کہاں ہے ؟صہيونزم سے
وابستہ خبر رسا ں ايجنسياںاور ذرائع ابلاغ کس پرچم تلے جمع ہيں؟اِسي طرح ملک کے
اندر بھي دين کے مخالف گروہ اور جماعتيں، (اسلامي انقلاب کي ابتدا ميں سر
اُٹھانے والي آزادي طلب کميونسٹ )تودہ پارٹي سے لے کر سلطنت طلب او رشہشاہي
نظام کے خواہاںافراد اور تمام اقسام کي بے دين تحريکيں اور جماعتيںکہاں کھڑي
ہيں؟يعني وہي تمام افراد جو اسلامي انقلاب کي ابتدا ميں انقلاب اور امام خميني
۲ سے دشمني کرتے تھے ،حملے کرتے تھے ،گولياں چلاتے تھے اورملک ميں دہشت گردي
کرتے تھے !١١ فروري ١٩٧٩ کو اسلامي انقلاب کامياب ہوا اور اُس کے تيسرے دن ہي
يہ لوگ اپنے اِنہي ناموں کے ساتھ آئے اورامام خميني ۲ کي اقامت گاہ کے سامنے
جمع ہو کر اسلامي انقلاب کي مخالفت ميں نعرے لگانے لگے!اورآج بھي يہي لوگ (اور
اسلامي انقلاب کي ابتدا ميں اُس سے مخالفت کرنے والوں کي صفات و خصوصيات کے
حامل افراد)آکر سڑکوں پراسلامي نظام اور اسلامي انقلاب کے خلاف نعرے لگاتے
ہيں!!سمجھ جائیے کہ کو ئي چيز بھي تبديل نہيںہوئي ہے!کل بھي اُن کا ليبل
’’بائيں بازو کي جماعت ‘‘تھا اور اُن کا حمايتي اور طرفدار امريکا تھا،اُن کا
نام سوشلسٹ تھا،لبرل ازم کے حامي تھے ، (دل خواہ)آزادي کے طلبگار تھے اوراُن کے
پيچھے دنيا کے تمام چھوٹے بڑے استکبار واستبداد اور اسلامي نظام کي جگہ شہشاہي
نظام کو لانے والي تمام لابياں، افراد اورجماعتيں جمع تھیںاور آج بھي حقيقت يہي
ہے!يہ ہے علامت و نشاني اور سب سے اہم بات يہ ہے کہ ہماري قوم اِن علامات کو
پہچانے۔يہ وہ چيزہے کہ انسان جس کا صد مرتبہ بھي شکر بجا لائے تو کم ہے ،ہميں
سجدہ شکر بجا لانا چاہیے۔
اسلامي انقلاب و اسلامي نظا م کامحافظ ،بصيرت وآگاہي
آپ اِس ملک کے گوشہ وکنار ميں پھيلي ہوئي قوم کو ديکھئے کہ جو حالات و واقعات
کو اچھي طرح جانتي ہے اور يہ بہت بڑي نعمت ہے !يہ جو ميں نے عرض کيا کہ ٣٠
دسمبر کا دن ايک تاريخي دن ہے تو اِسي وجہ سے ہے ۔يہاں عوام بيدار و ہوشيار ہے
اور يہي وہ چيز ہے کہ جس نے ملک کي حفاظت کي ہوئي ہے۔ميرے دوستوں!يہي وہ چيز ہے
کہ جس نے آپ کے اسلامي انقلاب کو محفوظ بنايا ہوا ہے اوراِسي چيز نے عالم
استکبار کے سر کردہ افراد سے جرآت کو چھين ليا ہے جو يہ چاہتے ہيںکہ ايران پر
حملہ کريں،وہ آپ سے اور آپ کي بيداري و ہوشياري سے خوف زدہ ہيں۔اب کھسيانے
ہوکراپني پروپيگنڈ امہم ميں کچھ افراد کو سامنے لے کر آتے ہيں ،اپني خبر رساں
ايجنسيوں سے بمباري کراتے ہيںليکن حقيقت کچھ اورہي ہے!اُن کا حقيقي دشمن ہماري
قوم اور اُس کاايمان و بصيرت ہے ،اُن کا حقيقي ہدف ہماري نوجوان نسل کي ديني
غيرت ہے ۔يہي وجہ ہے کہ اُن کي سمجھ ميں کچھ نہيں آرہا کہ کيا کريں؟ايک وقت چپ
ہو کر بيٹھ جاتے ہيں،صبر کرتے ہيںاور ايک وقت ميدان ميں آکر مقابلہ کرتے ہيں۔
ملک کے اندروني حالات ،عالمي حالات کا ہي تسلسل ہے!
ملک کے اندر رونما ہو نے والے واقعات و حادثات کي تحليل،بين الاقوامي سطح پر
ہونے والے واقعات کي تحليل سے الگ نہيں ہے ،عالمي واقعا ت اور خطے (اورايران )
ميں رونما ہو نے والے واقعات دراصل ايک ہي سلسلے کي کڑي ہيںاوراِن ميں کچھ
ہمارے ملک سے متعلق ہيںجو اساسي اور اصلي حيثيت کے حامل ہيں۔وجہ يہ ہے کہ عالمي
سامراج يہاں اپني دال گلتا نہيں ديکھ رہا ہے اور يہ اِس بات کي علامت ہے کہ ايک
قوم اِس سلسلے ميں کتنے موثر کردار کي حامل ہوتي ہے۔
امام خميني ۲ اُمت ِمسلمہ کو مخاطب کيوں کرتے تھے ؟
يہ جو امام خميني ۲ اپنے خطبات وتقارير ميں اُمت ِ اسلامي کو مخاطب قرار ديتے
تھے تو وہ اِسي حقيقت کي وجہ سے تھاکہ ايک قوم اگربيدار اور ايسے متحداور
ہوشيار ہو جائے تو وہ عالمي سطح پر اپنے خلاف تيار ہونے والي سازش اور دشمن کي
تمام تياريوں کومليا ميٹ کر دسکتي ہے۔اُنہوں نے کسي ملک ميںجوايک کارخانہ لگايا
ہے اور اپنے استکبار ي اہداف کو عملي جامہ پہنانے کي خاطرجوترقياتي کام انجام
ديئے ہیں وہ ايک قوم کي کي بيداري و ہوشيار ي کو سرعت بھي بخش سکتے ہیں يا کُند
وخراب کرنے کا باعث بھي بن سکتے ہیں۔اگر تمام مسلمان اقوام ميدان عمل ميں کود
پڑيں تو کيا نتيجہ ہوگا؟ اگر تما م مسلمان اقوام اِسي بيداري ،آمادگي وتياري
اور ميدان عمل ميںکودنے کيلئے تيار ہو جائيںتو دنيا ميں کيسا انقلاب بر پا ہو
گا؟دشمن اِس بيداري سے ڈرتا اور خوف کھاتا ہے۔يہي وجہ ہے کہ وہ چاہتاہے کہ ميري
اور آ پ کي آواز دب جائے اور اقوام عالم کے کانوں ميں نہ جائے ۔وہ يہ چاہتے ہيں
کہ ايسا کوئي کام انجام ديںکہ دوسري اقوام يہ نہ سمجھيں کہ عالمي حالات کا رُخ
موڑنے ميں ايک قوم کي بيداري و ہوشيار ي اوربصيرت کيا تاثير رکھتي ہے!
انقلابي نوجوانوں سے ايک ضروري بات!!
ميں يہا ںاپنے انقلابي نوجوانوں اور فرزندانِ انقلاب اور بسيج کے نوجوانوں سے
ايک بات کہنا چاہتا ہوں:ملک کے گوشہ وکنار سے دشمن کي جانب سے جب اُن کے ايمان
پر تہمتيں لگائي جاتي ہيںيا وہ اپني آنکھوں سے اِس بات کا مشاہدہ کرتے ہيں کہ
عاشور کے دن ايک گروہ سڑکوں پر آکر اُس دن کي توہين کرتا ہے ،امام حسين کي
اہانت اوراُن کے عزداروں کي تذليل کرتا ہے تو اِن نوجوانوں کے دلوں ميں درد
اُٹھتا ہے اور اُن ميں غم وغصے کي لہر دوڑ جاتي ہے جو ايک فطري بات ہے
اوراُنہيں اِس بات کا حق بھي حاصل ہے۔ليکن ميں اُن کي خدمت ميںعرض کروںکہ وہ
ہوشيار رہيںکہ وہ ايسا کوئي افراطي کام يا تند مزاجي سے کوئي عمل انجام نہ
ديںجودشمن کي مد دکرے۔يہاں دفتر ميں نوجوان ٹيليفون کرتے ہيں،اُن کي ٹيليفوں
کالوں اور خطوط کو خلاصہ کرکے مير ے سامنے پيش کيا جاتا ہے اور مجھے معلوم ہے
کہ وہ کيا کہنا چاہتے ہيں،ميں اُن کے خطوط کا مطالعہ کرتا ہوں،ہر روز ميرے
سامنے ايسے کئي خطوط اورکالوں کاخلاصہ لايا جاتا ہے اور ميں ہر روز اُنہيں چيک
کرتا او ر پڑھتاہوں۔ميں ديکھتا ہوںکہ نوجوان گلا مند ہيں،ناراض ہيں اور غصے کا
اظہار کرتے ہيں اور کبھي کبھي تومجھ سے بھي گلامند ہوتے ہيں کہ ميں کيوں صبر کر
رہا ہوں؟ميں ايسے حالات و واقعا ت پرکيوں خاموش ہوں اور اُنہيں برداشت کیے
جارہا ہوں؟
دشمن ايک بڑ کھيل شروع کر رہا ہے!!
ميں اُن کي خدمت ميں عرض کروں کہ اِن موجودہ حالات ميں دشمن اپنے تمام تر
امکانات و وسائل کے ساتھ ايک بڑے فتنے کي تياري کررہاہے اور ايک بڑا کھيل شروع
کرنا چاہتاہے تو ايسے وقت ميںہميںبہت زيادہ ہوشيار رہنے کي ضرورت ہے کہ ہم اپنے
کسي بھي جذباتي عمل سے اُس کي مدد نہ کريں۔ايسے مرحلے اور حالات ميںبہت زيادہ
ہوشياري وبيداري ، احتياط و تدابير سے اورمستحکم اور بھر پور فيصلے کے ساتھ
وارد ِ عمل ہونے کي ضرورت ہے ۔
تمام حالات ميں قانون کي پيروي ضروري ہے
اعليٰ حکام موجود ہيں،عدليہ موجودہے ،قانون موجود ہے لہٰذا سب کو قانون کے
مطابق عمل کرنا اور قدم اُٹھانا چاہیے ۔يہي وجہ ہے ايسے نازک حالا ت ميں ايسے
لوگوں کا ميدان ميں کودنا اور کوئي جذباتي عمل انجام دينا اِس بات کا سبب بنے
گا کہ وہ حالات کو مزيد بگاڑ دے۔خدا وند عالم نے سورہ مائدہ کي آيت ٨ ميںارشاد
فرمايا ہے:’’ولايجرمنّکم شنئان قوم علي آن تعدلوا اعدلوا ھو آقرب
للتّقويٰ‘‘ايسا نہ ہو کہ ايک قوم کي دشمني تم کواِس بات پر آمادہ کردے کہ اُس
کے ساتھ عدالت کا سلوک نہ کرو،عدل وانصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑو کيونکہ يہ
تقويٰ سے نزديک ہے۔صحيح ہے کہ ايک گروپ، دشمني کر رہاہے ،ايک گروہ خباثت دکھا
رہا ہے اورکچھ خبيث افراداُن کي پشت پناہي کر رہے ہيں ليکن اِن سب کے باوجود
ہميں ہوشيار رہنے کي ضرور ت ہے ۔اگر انسان بغير سوچے سمجھے کسي عمل ميں قدم
رکھے تو (دشمن کے عمل سے بيزار )افراد اوربے گناہ انسان بغير سوچے سمجھے قدم
اُٹھانے والوں کے عمل سے متنفر ہو جاتے ہيں۔ايسے کسي واقعے کو رونما نہيں ہونا
چاہیے۔ميں اپنے انقلابي فرزندوں اور اپنے نوجوانوں کو خبر دار کرتاہوںکہ وہ خود
سرانہ کوئي عمل انجام نہ ديں بلکہ تمام حرکات و سکنا ت کو قانون کے مطابق انجام
ديں۔
ہماري قوم نے ہم سب پر اتمام حجت کر ديا ہے!
ملک کے اعليٰ حکام کي آنکھيں کھلي ہيںاوروہ يہ ديکھ رہے ہيں کہ قوم کہاں جا رہي
ہے اور اُس کا کيا مطالبہ ہے۔ہم سب پر حجت تمام ہو گئي ہے ۔٣٠ دسمبر کے عظيم
الشان ملک گيرمظاہروں نے ہم سب پر اتمام حجت کر دي ہے۔صدارتي کابينہ ہو يا
پارليمنٹ يا پھر عدليہ سب ہي جانتے ہيںکہ عوام ميدان عمل ميں موجود ہے اور وہ
کيا چاہتے ہيں؟تما م اداروں کو چاہیے کہ وہ اپنے اپنے وظائف و ذمہ داريوں کو
ادا کريں،وہ مفسدين (في الارض)،بلوائيوں،دہشت گردوںاور امن وامان خراب کرنے
والوں اور اسلامي انقلاب کے دشمنوںکے مقابلے ميں اپني اپني ذمہ داريوں کو ادا
کريں اورملک کيلئے بھي اپني خدمات پيش کريں۔اِن سب اداروں کو چاہیے کہ وہ ملک
کو آگے بڑھائيں۔دشمن کي کوشش ہے کہ وہ اِس قسم کے واقعات و حادثات سے ملک کے
ترقياتي کاموں کي رفتار کو روکے ،علمي پيش رفت کي راہ ميں رکاوٹيں کھڑي کرے
اوراُسے متوقف کر دے ،لہٰذا اپنے کسي بھي جذباتي وافراطي کام اور بغير تدبير کے
عمل سے دشمن کي مد د نہيں کرني چاہیے۔
دشمن ملکي پيش رفت اور قو م کے اتحاد و بصيرت کو نشانے پر لیے ہوئے ہے !
ايک ملکي نظام کي سب سے بڑي دولت يہ ہے اُس کي عوام اُس کي حمايت کرے اور اُس
کا ساتھ دے۔دشمن کھل کر سامنے آگيا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ عوامي کي اِس تحريک
کو خراب کرے۔دشمن کے ميڈيا نے ٣٠ دسمبر کے عوامي اجتماعات او رمظاہروں کو عوامي
مظاہرے کہا!!يہ بیوقوف نہيں سمجھ رہے ہيںکہ وہ اپني اِنہي باتوں سے ہماري حکو
مت کي تعريف کر رہے ہيں!يہ کيسي حکومت ہے کہ جس نے دو دن ميں اتنے بڑے اجتماعات
او رمظاہرے منعقد کرائے ۔روز عاشور ،اتوار کے د ن تھا اور يہ ملک گير مظاہرے
بدھ کے دن ہوئے ،يعني يہ کيسي طاقتور،عظيم اور عوامي حکومت ہے کہ جس نے دو دن
کے فاصلے سے ملکي عوام کو تيار کرکے اُنہيں سڑکوں پر لے آئي ؟!دنيا ميں ايسي کو
ن سے حکومت ہے جو ايسا کا م انجام دے۔دنيا کي بڑي بڑي حکومتيںاپنے تمام تر مال
و ثروت کے باوجود جو دنيا ميں دہشت گردي اور جاسوسي کيلئے مال ،پاني کي طرح خرچ
کرتي ہيں،اپني تمام تر کوششوں کے باوجود بھي دو دن ميں اپني قوم کے ايک لاکھ
آدميوں کو بھي تيار نہيں کرسکتیں تو کئي لاکھوں آدميوں کي بات تو چھوڑ ديجئے
!اگر ہماري قوم اپني حکومت کے اعلان پر سڑکوں پر نکلي ہے (جيسا کہ دشمن تجزيہ
کر رہا ہے )تو يہ ايک بہت طاقتور حکومت ہے !حقيقت تو يہ ہے کہ ہمارے ملک
ميںحکومت او رعوام وجود ہي نہيں رکھتے بلکہ دونوںايک ہي ہيں۔تمام اعليٰ حکام سے
لے کر اِس بندہ حقير تک سب اِسي قوم کے بحر بيکراںکا ايک قطرہ ہيں۔
خدا کي رحمت ہو اما م خميني ۲ اور شہدا پر!
خدا کي بے شمار رحمت ناز ل ہو امام خميني ۲ پر کہ جنہوں نے سب سے پہلے يہ قدم
اُٹھايااور ہمارے شہدا پر بھي خدا کي رحمت ہو،يہي وہ لوگ تھے کہ جو ہراول دستہ
تھے ،يہ وہ تھے کہ جنہوں نے اِس راستے کو کھولا اوراُسے ہموار کيا۔ہماري قوم
اورہمارے ملک کے نوجوانوں پر بھي خدا کي رحمت و برکت ناز ل ہوکہ جنہوں نے اپني
بصيرت اور دشمن کے مقابلے ميں اپني تياري کو ثابت کرديا ہے اور اپنے ملک ونظام
اور اسلامي انقلاب کو نابود کرنے کي دشمن کي سازش کو ناکام بناتے ہوئے اُسے
مايو س کر رہے ہيں۔خد اوند عالم آپ سب کا حامي و محافظ ہو۔
والسلام عليکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ
|