|
|
|
بسمہ تعالیٰ رہبر انقلاب اسلامی نے مجلس خبرگا ن کے اجلا س کے شرکاءعلماءو فقہا سے خطاب 24/09/2009
قومی ،اجتماعی اور سیاسی مسائل میں بصیرت اورعقلی و فہمی شجاعت کی ضرورت اور دشمن کی سر د(نرم )جنگ کی چالیںاوراُس میںکامیابی کی راہیں دشمن کی دشمنی کی تمام ابعاد و جہات کو سمجھے کی ضرورت
بسم اللّٰہ الرَّحمٰن الرَّحیم
قوم کے منتخب ، با بصیرت،روحانی اور اہل تقویٰ علما ءاور دانشوروں کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ مجلس خبرگان کا اہم امتیاز جو نکتہ آپ برادران کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ”مجلس خبر گان رہبری “کاایک بے مثل ونظیر امتیازیہ ہے کہ یہ کمیٹی ،اسلامی قوانین اور اسلامی انقلاب کی روشنی میںعمومی اور قومی مفادات کے بارے میں بحث کرتی ہے ۔اِس مجلس خبر گان میںسیاسی دھڑے بندیاں،لابیاںاورسیاسی رقابتیں اور سیاسی حریف و حلیف ہونے کا دور دور تک کوئی نشان نہیں ہے ،الحمد اللہ آج تک ایسا ہی تھا وراِس کے بعد بھی خدا وند عالم کی مدد سے ایسا ہی ہو گا۔یہی بات عوام کی نظروںمیں اِس مجلس خبرگان کی عزت و وقاراور متانت و اہمیت کی علامت ہے ۔یہی سبب ہے کہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ مجلس خبرگا ن سے دشمن کی دشمنی بہت زیادہ اور گہری ہے اور ہر تھوڑی مدت بعد وہ اِس کے خلاف ایک نئے انداز سے اپنے حملوں کا آغاز کرتے ہےں۔ خبرگان کا دائرہ کار؛ملک و قوم اور عالم اسلام کے مسائل پر بحث کرنا مجلس خبرگان پرعوام کے اعتماد کی علامت یہی ہے کہ وہ اِس بات کااحساس کرتے ہیںکہ اُن کی منتخب مجلس کردہ خبرگان سے تعلق رکھنے والے علماءجو علم دین کی وادی میں شہرت یافتہ اور مہارت کے حامل ہیں،یہاں بیٹھ کر عالم اسلام ،مسلمانوں اورہمارے ملک و معاشرے کے بنیادی اور اساسی مسائل کے بارے میں فکر کر تے ہیںاورانفردی اورسیاسی دھڑے بندیاں اوررقابتیں اِن کے فیصلے جات پر ذرہ برابر بھی اثر انداز نہیں ہو تیں۔اِس مجلس خبرگان کے کام و فعالیت کا دائرہ کار درحقیقت اُصول و قوانین اوراقدارکا دفاع ہے ،ممکن ہے کہ اِنہیں بیان اور حل کرنے کا انداز مختلف ہو لیکن حقیقت یہی ہے اوراُمید ہے کہ ان شاءاللہ یہ کام سنجیدگی اور استحکام کے ساتھ جاری و ساری رہے گا۔ پہلی بات:اہل سنت عالم دین کی شہادت سے دشمن اپنے مقاصد میںکامیا ب نہیں ہوگا! سب سے پہلے آپ کی خدمت میں ملا محمد شیخ الاسلام کی شہادت کی تسلیت پیش کر تا ہوں،یہ حقیقتاً بہت بڑا نقصان ہے ۔میں برادران اہل سنت کو اور اُن تمام افراد کو کو ملک میں اتحاد کی فضا کو قائم کے خواہشمند ہیں،تعزیت پیش کرتا ہوں۔سرحدوںپار سے اِس قسم کی دہشت گردی کو انجام دینے کے احکامات دیئے جاتے ہیں لیکن دشمن جان کے کہ ملا محمد شیخ الاسلا م کی شہادت سے دشمن اپنے مذموم مقاصد میں ہر گز کامیاب نہیں ہو سکے گا۔میں اُنہیںبہت قریب سے جانتا تھا،وہ نہ صرف یہ کہ وہ ملک اتحاد بین المسلمین کے سچے داعی تھے بلکہ ملک میں اسلامی انقلاب کی فکر کی ترویج کر نے کے ساتھ ساتھ اسلامی نظام کے اُصول وقوانین کے پابند بھی تھے۔ دوسری بات:ہر دور میںاسلامی انقلاب کے دشمن کاوجود اور اُس کی مختلف شکلیں دوسرانکتہ جو آپ بھائیوں کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں،یہ ہے کہ اسلامی نظام سے مقابلے اور جنگ کی تاریخ ،اسلامی انقلاب کی ابتداءسے تعلق رکھتی ہے یعنی تیس سال پرانی ہے اور یہ دشمنی کوئی نئی بات نہیں ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ اِن دشمنیوں اور حملوں کی شکلیں مختلف ہیںاوریہ اسلامی انقلاب کی ابتداءہی سے موجو د ہیں،کبھی شدت اختیار کر گئیں اور کبھی کمزور پڑ گئیںلیکن ہماری اندرونی صورتحال کے ساتھ ساتھ ہر زمانے میںاِن کا وجود رہاہے ۔ دشمن نے جہاں بھی اورجب بھی یہ محسو س کیا کہ وہ کہیں اپنے وجود کو ثابت کرے یا اُنہیں اپنے زعم وگمان کے مطابق اسلامی نظام پر کوئی کاری ضرب لگانی چاہی تو اُنہوں نے وہ کام انجام دیا۔لیکن یہ اسلامی انقلاب اِس قسم کے حملوں اور دشمنیوں کے مقابلے میں سیسہ پلائی ہو ئی دیوارکی مانند کھڑ ا ہے ؛نہ صرف یہ کہ یہ نظام کمزور نہیں ہو ا ہے بلکہ خدا کی مددا ور لطف وکرم سے ہمارا ملک اور اسلامی جمہوریہ کا نظام مستحکم سے مستحکم تر ہوتا رہا ہے۔ اگر ہم دشمن سے غافل بھی ہو جائیںتو دشمن ہم سے کسی بھی صورت میں غافل نہیں ہوتا! یہاں ایک اہم نکتے کی جانب توجہ ضروری ہے ،وہ یہ ہے کہ ہم نے اِس تمام مدت میںجب بھی اسلامی جمہوریہ کے نظام میںاپنی بنیادوں کو گہرا اور مستحکم کیااور اپنے کاموں کو مستحکم طریقے سے انجام دیا ہے تو اُس کے ساتھ ساتھ دشمن کی سازشیں اور چالیں بھی پیچیدہ سے پیچیدہ ہو تی رہی ہیںاوراِس نکتے کی جانب ہم سب کو توجہ رکھنے کی ضرروت ہے۔صحیح ہے کہ ہمارے پاس جو تجربات ہیں وہ ہم نے اپنے اوپر کےے جانے والے حملوں اوردشمنیوں سے حاصل کےے ہیںجو صرف ایک یا دو چیزوں سے متعلق نہیں ہیں بلکہ اِس تیس سال کی مدت میںاسلامی نظام کے تجربات، دشمن کی دشمنی اورجنگ و معارضے پر غلبہ پانے سے حاصل کےے گئے ہیں،لیکن ہمیںاِس جانب توجہ کرنی چاہےے اور جیسا کہ امام معصوم ؑ نے اپنے نورانی کلام میں اِس جانب اشارہ فرمایا ہے کہ ”مَن ´ نَامَ لَم ´ یَنَم ´ عَن ´ہُ“(جو سو جائے اوردشمن کی جانب سے غفلت کا شکار ہو جائے تو بھی اُس کادشمن اُس سے غافل نہیں ہوتا )،دشمن بیدار و چوکنّا رہتا ہے ۔
اگر دشمن کو مایوس و نااُمید کر نا ہے تو دنیا کے مختلف سیاسی اور خفیہ اداروں کی جانب سے ہمیں جو خبریں ملتی رہتی ہیں،اِس بات کی نشاندہی کرتی ہیںکہ ایک بہت بڑی مشینری بہت بڑے پیمانے پر ایکبڑے سرمائے کے ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اپنے کاموں کو مسلسل انجام دے رہی ہے اوروہ اپنے خاص نیت و ارادوں کے ساتھ فعالیت انجام د ے رہے ہیں کہ جن کو بارہا کہا گیا ہے اور جو مجھے اور آپ کو معلوم بھی ہیں۔کوئی ایسادن نہیں گزرتا کہ جس میں وہ اپنی فعالیت انجام نہ دیتے ہوں،ہر روز ایک نیا منصوبہ بناتے اور ایک نیا جال بچھاتے ہیںاور ہر دن اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف ایک نیا محاذ کھولتے ہیں۔وہ اپنا یہ کام جاری رکھیں گے مگر یہ کہ وہ مایوس ہو جائیںیعنی اُس وقت کہ جب اسلامی جمہوریہ ایران سیاسی، اقتصادی ،امن وامان،علمی اور اخلاقی میدانوں میں اپنے مشخص شدہ خاص نصاب و ہدف تک پہنچ جائے ۔جب تک ہمارا اسلامی نظام اِن میدانوں میں اپنے معین کردہ نصاب وہدف تک نہیں پہنچتا،دشمن کی دشمنیاں، چالیں اورحملے یونہی جاری رہیں گے اور جب ہم اُس ہد ف کو حاصل کر لیں گے تو دشمن ہم سے مایو س ہو جائے گااور حقیقت کو مکمل طور پر قبول کر لے گا۔بہر حال دشمن کی چالیں اورسازشیںآج کے دور میں بہت زیادہ پیچیدہ ہیں۔ ”سرد“ یا”نرم“(نفسیاتی ) جنگ اور فوجی حملوں کا بنیادی فرق! ہمیں چاہےے کہ ہم اِن سازشوں اورچالوں کا واضح جواب خود بھی جانتے ہوںاور دوسروںکو بھی پہچنوائیں اوریہ ہماری ذمہ داری ہے۔دور ِحاضر میں ہمارے لےے فوجی حملے کا امکان کم ہے ،میں یہ نہیں کہتا کہ وہ مکمل طور پر وجود ہی نہیں رکھتا ،لیکن آج ایک خاص نوعیت کی جنگ لڑی جا رہی ہے اوراِس جنگ کا خطرہ اگر فوجی حملوں سے زیادہ نہیں تو کسی بھی صورت میں کم بھی نہیں ہے اوراگراِن فوجی حملوںمیں زیادہ احتیاط کی ضرورت نہیںتو دوسری جنگ کے مقابلے میںکم بھی نہیں ہے ۔ فوجی حملوں میں دشمن ہماری ملکی سرحدوں کو اپنا نشانہ بناتا ہے اوراُنہیں منہدم کرنا چاہتا ہے تا کہ وہ ہمار ی ملکی سرحدوں میں نفوذ کر سکے ۔لیکن نفسیاتی جنگ میںکہ جسے آج کی زبان میں ”سرد یا نرم جنگ “کے نام سے پکارا جاتا ہے،دشمن ہمارے معنوی و روحانی (اورعقائدی محاذوںاورمورچوں)کو نابود کرنے کی کو شش کرتا ہے اوراِس جنگ میں اُس کا نشانہ ایک ملک اور نظا م مملکت میں موجود انسانوں کے ایمان،،معرفت و یقین،عزم وارادے ،بنیادیںاورملکی اُصول و قوانین ہو تے ہیں۔دشمن اِن کو اپنا نشانہ بناتا ہے اورمثبت و قوی نقاط کو اپنی پروپیگنڈا مشینری کے ذریعے منفی اور ضعیف نقاط میں تبدیل کر دیتا ہے اوراُس کی خواہش ہو تی ہے کہ وہ ایک ملک و قوم کے فرصت کے لمحات اور پیش رفت کے مواقع کو اُنہی کے خلاف استعمال کرے ۔ تیسری بات:دشمن کی نفسیات کے ابعاد و جہات کو سمجھنے کی ضرورت یہ وہ کام ہیں کہ جنہیںوہ انجام دے رہے ہیںاوراِس کام میں اُنہیں بہت زیادہ تجربات حاصل ہیں۔اِس کے علاوہ وہ اوربھی بہت زیادہ کوششیں کر رہے ہیں اوراُن کے امکانات و وسائل بھی بہت زیادہ ہیں۔ہمیں چاہےے کہ دشمن کی نفسیات کی ابعاد و جہات اور اُس کی دشمن کی سمت و جہت کو ہر صورت میں جانیں تا کہ اُس پر غلبہ پا سکیںاورمیدان میں شکست کا شکار نہ ہوں اوریہ بات بھی جان لیں کہ اگر ہم نے اِس بارے میں لازمی تدابیر سے کام نہیں لیا تو خد اکی غیبی امداد ہمارے شامل حال نہیں ہو گی! ”سرد“ یا”نرم“ جنگ میں دشمن کے حربے اور چالیں ہمارے ،اسلامی انقلا ب اور اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام کے دشمن کچھ خاص کاموں کو انجام دے رہے ہیںاوریہ تمام چیزیں اُن کے پروپیگنڈوں اور فعالیت میں واضح طور پر موجود اور قابل محسوس ہے ،یہ کوئی پوشیدہ اور پنہانی امر نہیں ہے اورہمیں چاہےے کہ ہم اپنے ذہن میں اِن تمام نکات کی جمع بندی کریں: الف:روشن وتابناک مستقبل سے وابستہ اُمید کے چراغوں کو بجھا نے کی کوشش! پہلی چیز یہ ہے کہ وہ اُمید کی تمام نشانیوں کو نابود اور اِس کے تمام چراغوں کوخاموش کرنا چاہتے ہیںاوراُن کی خواہش ہے کہہ ایسی تمام باتوں کو مخدوش کردیں جو ہمیں اُمیدوار بناتی ہیںاوراُن میں سے ایک چیز ”انتخابات“ہیں۔ صدارتی انتخابات میں ۵۸ فیصد عوام کی شرکت،اسلامی جمہوریہ پر اُن کے اعتماد کی علامت ہے! ملکی انتخابات میں عوام کی پچاسی فیصد شرکت ایک بہت اُمید بخش اور اہم بات ہے ۔جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا کہ ایک انقلاب کے وجود میں آنے کے تیس سال بعداُس ملک کے عوام آئیںاوراُس انقلاب سے حاصل ہونے والے ایک ملکی نظام کو بڑے پیمانے پر ووٹ ڈالیںتو اُن کی اِس بات کا اپنے ملکی نظام پراعتمادکرنے اوراُس سے قلبی لگاو ¿ رکھنے کے علاوہ کسی اور صورت میں معنیٰ نہیں کیاجاسکتا!یہ وہ حقیقت ہے جو سب کے سامنے جامہ حقیقت پہن چکی ہے ؛کہ عوام آئےں اورایک بڑی شرح کے حق رائے دہی سے اپنے ملکی صدرکاانتخاب کریں۔یہ ایک بے مثل ونظیر چیز ہے جو ہمارے ملک میںحقیقت حاصل کر چکی ہے۔
ملک میں موجوداُمیدافزا اور اُمید بخش امور اور نکات کی کثرت یہ بہت ہی اہم نقطہ ہے کہ جس کے بارے میں یہ بھر پور کو شش کی گئی کہ اِسے ضعیف و منفی نقطے میں اورمایہ اُمید کو مایہ شک و تردید میںتبدیل کر دیا جائے اور اُن کا یہ کام اُونٹ کے کینہ اور خصمانہ صفت کی عکاسی کرتاہے ۔ہمارے ملک میں اُمیدافزا اور اُمید بخش امور اور نکات بہت زیادہ ہیں۔ہمارے ملک میںفعالیت کی بنیادیں بہت زیادہ مستحکم ہیںاور اِن گزشتہ سالوںمیںبہت سے اہم نوعیت کے کام انجام دیئے گئے ہیںکہ جن کی وجہ سے آج ہمارا ملک ایک اہم مقام حاصل کرنے کیلئے آمادہ اورتیارہے ۔ہمارے ملک میں ہو نے والی علمی اورسائنسی پیش رفت اتنی زیادہ ہے کہ ہم سے سیاسی خصومت و دشمنی نہ رکھنے والے ممالک کے دانشور بھی اِن کا اعتراف کرتے ہیں! ۵۲۰۲ تک کا ایک ”اُفقِ ہدف“! ہم نے ۵۲۰۲ تک کا ایک ”اُفقِ ہدف“ قرار دیا ہے جو اِس بات کو مشخص کرتا ہے کہ ہم پیش رفت و ترقی کے لحاظ سے کہاں پہنچے ہیں اوریہ ایک بہت اہم چیز ہے ۔یعنی ہم نے یہ طے کیا ہے کہ اپنے اِس ”اُفقِ ہدف“ سے یہ معلوم کریں کہ ہمیں کہاں تک جانا اور حرکت کرنی چاہےے اورکس راستے اور کس طریقے و روش سے اپنے ہد ف کو حاصل کریں۔یہ ہیں اُمید کے عامل اور نقاط مثبت اورہمارا دشمن چاہتا ہے کہ وہ اِنہی کو یاس و نااُمید ی میں تبدیل کرے ۔ مثبت نقاط کو منفی اور ضعیف نقاط بنا کر پیش کرنا جب بھی اپنے مستقبل کے کئی سالوں پر محیط ”اُفقِ ہدف“ کی سند و حقیقت کی بات کی جاتی ہے تو ہمارے شمن(اوراُس سے وابستہ افراد) کہتے ہیںہے کہ جناب اِس کی سند اور حقیقت پر تو کوئی توجہ دی ہی نہیں گئی ،جب علمی پیش رفت سے متعلق بحث کی جاتی ہے توکہتے ہےں کہ اِن کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے !جب طے یہ ہوتا ہے کہ انتخابات سے متعلق بات کی جائے تو شکوک و شبہات سامنے لاتے ہیںاور اُس پر خدشات وارد کرتے ہیں،جب قرار ہوتا ہے کہ ملک کی نوجوان نسل کے بارے میں بات کی جائے تو ایک گوشے وکنار میںکچھ نوجوانوں کی جانب سے کی جانے والی غلطیوں کی جانب اشارہ کرتے ہیں؛دشمن اِنہی” مثبت نقاط “کو ضعیف اور کم رنگ کرنا چاہتا ہے ۔اِس کے ساتھ ساتھ وہ ہمارے اندر موجود چھوٹی سطح کے کمزور اور ضعیف نقاط کوبڑا بنا کر پیش کرتے ہےں یاکمزور نقاط کو سیاہ شکل میں سامنے لاتے ہےں اوراُن کی حقیقت سے کہیں زیادہ بڑھ کر بڑا بنا کر پیش کر تے ہےں اور اسلامی نظام سے متعلق بدبینی کے افکار کو معاشر ے میں رائج کر تے ہےں۔ معاشرے کی رگوں میںنااُمید ی اور مایوسی کے زہر کے داخل ہونے کے نقصانات آپ خود مشاہدہ کر رہے ہیں کہ وہ زور وزبر دستی سے نااُمید ی کے زہر کو معاشرے کی رگوں میں داخل کر نا چاہتے ہیں۔جب نااُمید ی اور یاس کا زہر معاشرے کی رگوں میں داخل ہو جائے تو معاشرے کا ارتقائی اور ترقی کاجانب اُس کاسفر رک جائے گا،تخلیقی صلاحیتیںرکھنے والے افراد، دانشور اورسائنسدان کنارہ کشی اختیار کر لیں گے ،وہ دل جمعی سے اپنی فعالیت انجام نہیں دیں گے ،اجتماعی اور قومی معاملات میں اُس کی مشارکت کی شرح کم ہو جائے گی اورمعاشرے کے ارتقاءکی باگ دوڑ اُس کے ہاتھ سے نکل جائے گی۔ یہ ہیںدشمن کی فعالیت کی راہیں،یعنی نااُمید کرنے اورراہ کے مسدود ہو نے کا مسلسل القاءکرنا۔ دشمن کے ذرائع ابلاغ کی بھرمار اور اُن کی کوششیں آپ دشمن کی جانب سے اُس کے پروپیگنڈے کے ذرائع ووسائل پرتوجہ کیجئے جو ہزاروں کی تعداد میںریڈیو،ٹیلی ویژن اور انٹر نیٹ کے دوسرے وسائل کی مدد سے مشخص شد ہ مراکز سے نااُمید ی کے زہر کو معاشرے میں اتارنے ،ترقی کی راہوں کے مسدود ہو نے ،بحرانی حالات اورملک کی صورتحال کوسیاہ بناکر پیش کرنے کا مسلسل القاءکر رہے ہیں۔اِس سلسلے میں اُنہیں جہاں کہیں بھی کوئی بھی جتنی مقدار میں سننے والا مل جائے جو اُن کی باتوں کو قبول کر سکے تو وہ اِن باتوں کو اُس کیلئے بیان کرتے ہیں؛یہ ہے دشمن کی فعالیت کی راہیں۔ ب:قومی سطح پرتفرقہ اور اختلافات کو وجود میںلانا دشمن کی فعالیت کا دوسرا راستہ تفرقہ اندازی او رپھوٹ ڈالنا ہے۔قومی سطح پر اتحاد واتفاق کا مسئلہ اور اِس کیلئے انجام دیئے جانے والا ہر کام بہت اہمیت کا حامل ہے ۔ہم قومی سطح پر اپنی عوام میںاتحا د واتفاق کی نشانیوں کو دیکھ رہے ہیں۔آپ نے (اکیس )ماہ ِرمضان کی نماز جمعہ کو دیکھا،یوم القد س کو ملاحظہ کیا ،پورے ملک میں نماز ِعید الفطر کے روح پروراجتماعات کا مشاہدہ کیاکہ اِن کی کتنی زیادہ عظمت و شان وشوکت تھی ! دین ومذہب کے مرکز پر عوام کا اجتماع! جب انسان مختلف شہروں میں ہونے والے انسانوں کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کودیکھتا ہے جو نماز عید کےلئے جمع ہوتے ہیں تو یہ اِس بات کی علامت ہے کہ اُن میں اتحاد واتفاق قائم ہے،لوگوں کے دل ایک دوسرے سے نزدیک ہیں ،یہ اِس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ لوگ آپس کے جزئی اور چھوٹی سطح کے اختلافات کے باوجود ایک مشترک مرکز کی جانب رجحان رکھتے ہیں اور اُن کے دل اِس ایک مرکز کے جانب مائل ہیں اور وہ مرکز دین ،اسلامی اصول و قوانین اور اعلیٰ دینی اقدار ہیں ۔ قومی سطح پر اتحاد کو قائم کرنے کی ضرورت! سب کو چاہےے کہ اِس اتحاد و اتفاق کے سامنے سر تسلیم خم کریں لیکن ہم دیکھتے ہیں اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کچھ لوگ ہیں جوہمیشہ اپنی جہالت سے یا غفلت سے اختلافات ہی کی باتیں کرتے ہیں !حق تو یہ ہے کہ یہ تمام چیزیں انسان کی غفلت سے ہی جنم لیتی ہیں اور یہ بہت اہم نوعیت کا مسئلہ ہے ۔قومی اور ملی سطح پر اتحادو اتفاق کو قائم کرنا،مذہبی اتحاد و یگانگت کو جنم دینا اور سیاسی اُمور کو انجام دینے کے طریقہ کار،روشوں اوراُن میں موجود سلیقوں میں وحدت کو وجود میں لانا بہت اہم بات ہے اور ہمیںاسی کےلئے کوشش کرنی چاہےے۔ دشمن کی فعالیت کی راہوں میں سے ایک راہ، تفرقہ اور پھوٹ ڈالنا ہے،اُنہیں جہاں بھی موقع ملے جتنا بھی موقع ملے،جس سطح پر بھی ان کا زور چلے اعلیٰ حکام ہوں یا عوام ہوں علماءہوں یا ملکی جامعات سے وابستہ افراد یا معاشرے کے دوسرے طبقات ،اِن کو کوشش یہی ہوتی ہے کہ وہ اختلافات کو وجود میں لائیں اور مختلف مذاہب اور مکاتب ِفکر کو آپس میں دست و گریباں کریں ۔ چوتھی بات:دشمن کی دشمنی سے افکار عمومی کو موڑنے کی دشمن کی جدید سازش! چوتھا نکتہ یہ ہے کہ ایک اور راہ کہ جس پر دشمن کھل کر سرمایہ گزاری کررہا ہے ،وہ دشمن کی دشمنی سے لوگوں کو غافل بنانا اور اُس سے افکار عمومی کو موڑنا ہے ۔ہم ہرگز اس بات کے منکر نہیں ہیں کہ معاشرے اور اُس کے افراد کی راہ میں آنے والی مختلف مشکلات اور امکانات و وسائل کی کمی کے پیچھے انفرادی اور اجتماعی تقصیر و کوتاہی وجودنہیں رکھتی ہیں ؛اس بات میں کوئی شک نہیں اور کوئی اس بات کا انکار نہیں کرتا ”مَآ اَصَابَکَ مِن ´ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰہِ وَمَآ اَصَابَکَ مِن ´ سَیِّئَةٍ فَمِن ´ نَّف ´سِکَ“اِس بات کو تو سبھی جانتے ہیں کہ اگر دشمن ہم پر کوئی حملہ کرے اور وہ حملہ ہمیںکوئی نقصان پہنچائے تو یہ بھی ”مِن ´ نَّف ´سِکَ “کا مصداق ہے،اس میں کوئی تردید نہیں ہے۔
دشمن کے ہاتھوں شکست نہ کھانے اور نقصان سے بچنے کی راہیں! جنگ اُحد میں دشمن نے حملہ کیا اور مسلمانوں پر کاری ضرب لگائی تودر حقیقت مسلمانوں نے اپنے ہی ہاتھوں شکست کھائی ۔اِس میںبحث کی ضرورت نہیں،فرق یہ ہے کہ اگر انسان یہ چاہتا ہے کہ وہ دشمن کے ہاتھوں حملے اور نقصان کا شکار نہ ہو تو اُسے دشمن کی روش اورطریقہ کار کوبغور دیکھنا چاہےے۔دشمن کے ہاتھوں نقصان سے بچنے کے لازمی اُمورمیں سے ایک یہ ہے کہ انسان اپنے دشمن جو ہمیں نقصان پہنچانا چاہتا ہے ،کو پہچانے اور اُسے غور سے دیکھے اور ایسا نہ ہو کہ دشمن ہمیں اِسی چیز سے غافل کردے۔ ملک ومعاشرے کی علمی اور خاص شخصیات کودشمن سے مرعوب اور غافل کرنا کسی ملک و معاشرے کی خاص واہم ،خاص اور علمی شخصیات کو دشمن سے مرعوب کرتے ہوئے اُ نہیںدشمن کی دشمنی سے غافل بنانا دشمن کے پرپیگنڈے اور دوسروں کے ذہنوں پر اپنی باتیںغیر محسوس طریقے سے ڈالنے کے راستوں میں سے ایک راستہ ہے ۔اِس سلسلے میں وہ مختلف روشوں کو اپناتے ہیں؛جب بھی کوئی کہتا ہے کہ دشمن نے یہ کام کیا تو فورا ہی کچھ لوگ سر اُٹھا کر یہ کہتے ہیں :جناب آپ ساری کی ساری ذمہ داری دشمن کی گردن پر ہی کیوں ڈال دیتے ہیں !! دشمن کواُس کی اتنی واضح نشانیوںکے باوجود کیوں نہیں دیکھتے ہو؟! (ہم ایسے افراد کے جواب میں کہیں گے کہ)کیوں نہیں ؛ دشمن ہے اور اُس کا اپنا ایک وجود ہے، آخر کیا ہوگیا ہے کہ ہم اپنے دشمن کو نہیں دیکھتے؟!انتخابات کے بعد وجود میں آنے والے واقعات ،بلووں،فسادات اور ہنگاموں کے ذریعے سے قومی سطح پر دشمن کے پیدا کردہ بڑی بڑی دراڑوںکو کیوں نہیں دیکھتے؟!دشمن ایسے افراد کی ہمت افزائی کرتا ہے جو اِن اختلافات اور آشوب و فتنے کے عامل اور اصلی سبب ہیں ۔ دوسری جانب سرحدوں پار ایک بڑے ملک کا صدر(ہمارے درمیان موجود) مختلف شخصیات کے نام لیتا ہے !یہ سب روشیں اِسی بات کیلئے لےے ہےں کہ ہمارے درمیان دشمنی کو وجود میں لایا جائے ۔وہ غیر ملکی صدر، اسلامی نظام کے مخالف افراد کا ذکر کرتا ہے ،اُن کی تعریف و تمجید کرتا ہے اور فلاں آدمی کی شجاعت کے گن گاتا ہے !یہ وہ باتیں ہیں کہ جن پر ہم نے تعجب کرتے ہیں،کیوں؟اِس لےے کہ اُس ملک کے صدر نے ایک ایسی بات کہی ہے کہ جسے سن کر (ہمارے درمیان موجود اسلامی نظام کے مخالف افراد)خوش ہوتے ہیں !اِن تمام چیزوں کو دیکھنا اور اِن کی طرف متوجہ ہونا چاہےے اور ہمیں کسی بھی صورت میں دشمن کی دشمنی سے غافل نہیں ہونا چاہےے۔ خبیث برطانوی سامراج کی ایران دشمنی پر مبنی دوسوسالہ سیاہ تاریخ دشمن کی دشمنی خلاف توقع نہیں لیکن ہماری غفلت ،خلاف توقع ہے ۔برطانوی حکومت کی دو سو سالہ تاریخ ،ہمارے ملک کے ساتھ اُن کے روابط وتعلقات اور ہمارے ملک میں مختلف شکلوں میں اُن کی موجودگی دراصل ایک ایسی کتاب ِ تاریخ ہے جوپہلے صفحے سے لے کر آخری صفحے تک سیا ہ و تاریک ہے۔حقیقت بھی یہی ہے کہ اِس دو سوسالہ تاریخ میں کہیں ایک مقام پر بھی یہ نہیں دکھایا جا سکتا کہ برطانوی حکومت نے ایرانی قوم کے نفع کےلئے ایک چھوٹا قدم بھی اُٹھایا ہو،جو کچھ بھی ہے وہ صرف ضرر و نقصان پر مبنی ہے اور اُن کے تمام اقدامات صرف اور صرف ہمیں نقصان سے پہنچانے سے ہی عبارت ہیں ۔ ایرانی قوم کی طرفداری اور اسلامی نظام سے مخالفت!! اِس کے باوجود یہ لوگ اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ ہم ایرانی قوم کے طرفدار ہیں ! امریکی حکومت اِس بات کا اعلان کرتی ہے کہ ہم ایرانی عوام کے طرفدار ہیں !یعنی اِس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام ی جمہوریہ کے نظام کے مخالف ہیںلیکن ہمیں وہاں کے (مظلوم)عوام سے محبت ہے!لیکن جناب والا! آپ کو یہ بات کان کھول کر سن لینی چاہےے کہ ایرانی عوام اِس اسلامی نظام کا حصہ ہیںاوریہ اسلامی نظام اپنی عوام سے کسی بھی صورت میں جد ااورالگ نہیںہے!یہ دشمن کی چالیں اوراُس کے نشتر کے وہ تیر ہیں کہ جنہیںوہ ہمارے قومی اتحاد کو نشانہ بنا رہا ہے اور یہ وہ چیزیں ہیں کہ جن کی ہمیں کامل شناخت حاصل کرنی چاہےے۔ توجہ رکھیئے کہ دشمن اپنی دشمن کرتا رہے گااوریہ ایک عام سی بات ہے لیکن اگر ہم اُس کی دشمنی اوراُس کی چالوںکو نہ سمجھیںاور اِس بات سے غافل ہو جائیں کہ وہ ہم سے دشمنی کر رہاہے ،یہ بات کسی صورت میں قابل قبو ل نہیں! دشمن کے پیش کر دہ معما کو حل کرنے کی کوشش سے دوری ایک وقت ایسامحسوس ہوتا ہے اور آپ یہ دیکھتے ہیں کہ آپ دشمن کی سازش کا شکار ہو گئے ہیں_جب انسان ایک معما اور پزل کو حل کر نا چاہتا ہے تو اُس پزل کی تمام تصویروں کو ایک ساتھ جوڑتا ہے تاکہ اُن سے ایک مجموعی شکل بن کرسامنے آئے _تو اگر آپ ددشمن کی جانب سے پیش کردہ اُس معما یاپزل کو حل کرنے میں اُس کی کسی ایک تصویر کو تلاش کرنے یا اُسے اُس کی صحیح جگہ رکھنے کی کو شش کریں گے تو یہ بات بہت بری ہے اورہمیں کو شش کرنی چاہےے کہ ہم کسی بھی صورت میں دشمن کی مدد نہ کریں۔بالکل اِسی پزل یا معما کی طرح جب ٹوٹے ٹوٹے الفاظ کو جب ایک ساتھ ملا کر جوڑا جاتا ہے تو اُس سے ایک جملہ بنتا ہے ۔ دشمن کیا کر رہا ہے اور کیا کرنا چاہتا ہے،کو سمجھنے کی ضرورت ہمارے دشمن نے بھی اِسی طرح کاایک معمابنایا ہے کہ جس کے الفاظ کو ایک ساتھ جوڑنے سے ایک جملہ بنتا ہے تا کہ ہم اُس جملے کی تشکیل کیلئے کسی ایک حرف یا لفظ کو اُس معما کو حل کرنے کیلئے اُس میں رکھیں!ہمیں اِس جانب توجہ دینی چاہےے ،ہمیں چاہےے کہ وہ دشمن کے دئےے ہوئے معما اور پز ل کی جانب نگاہ نہ کریںبلکہ یہ دیکھیں کہ دشمن کیا کام انجام دے رہا ہے اور کیا کام انجام دینا چاہتا ہے،یعنی ضرورت اِس بات کی ضرورت ہے کہ ہم دشمن کے ہدف اور ہماری دشمنی کیلئے اُس کی ہمارے درمیا ن موجودگی کو دیکھیں۔ بین الاقوامی سطح پر اپنے مخالفین کیلئے دشمن کا مو ¿ثرترین ہتھیار؛ذرائع ابلاغ
بین الاقوامی پرسطح دشمنوں اور مخالفین کے خلاف استعمال ہو نے والادورِحاضر کا سب سے مو ¿ثر ترین اسلحہ ،ذرائع ابلاغ اور پروپیگنڈے کا اسلحہ ہے ۔یہ آج کا سب سے زیادہ طاقتور ہتھیار ہے اور ایٹم بم سے بھی زیادہ خطرناک ہے ۔
انتخابات کے بعد کے فسادات میں اندرونی عناصر کی مسلسل راہنمائی کیاآپ نے دشمن کے اِس ہتھیار کو انتخابات کے بعد برپا ہو نے والے بلووں ،فسادات اور ہنگاموں میں نہیں دیکھا؟!دشمن اپنے اِسی ہتھیار کے ذریعے سے ایک ایک لمحے کی رپورٹنگ سے ہمارے ایک ایک واقعے کوزیر نظررکھے ہوا تھااور عوام میں موجود شیطانی عناصر کی راہنمائی کر رہا تھا۔”اِنَّ الشَّیَاطِی ´نَ لَیُو ´حُو ´نَ اِلیٰ اَو ´لِیٰا ئِھِم ´ لِیُجَادِلُو ´کُم ´“ (بے شک شیاطین اپنے دوستوںکو تفرقہ ڈالنے کیلئے مسلسل راہمنائی کرتے ہیں)۔وہ مسلسل اپنے دوستوں کی راہنمائی کر رہے تھے ۔(اِس نرم یا نفسیاتی جنگ میں)یہ بھی دشمن کی موجودگی کی ایک قسم ہے ،کیا دشمن کی موجودگی کو اِس سے بھی زیادہ واضح اورروشن صورت میں فرض کیا جاسکتا ہے؟
صاحبان ”حلّ و عقد“ کیلئے بصیرت کی ضرورت لہٰذا انسان کو صاحب ِبصیرت ہو نے کی ضرورت ہے اور ایک انسان کو اپنے معاشرے کے دانشوروں،اہل علم ،سیاسی میدان سے وابستہ افراد سے افراد و شخصیات سے جس چیز کی توقع ہے،یہی ہے کہ اِس قسم کے واقعات میںوہ دشمن کی جانب سے چلنے والی چالوں اور روش و طریقہ کار کا اپنی بصیرت سے مقابلہ کریں۔اگر انسان کے پاس بصیرت ہو گی تو اُس میں دشمن سے مقابلہ کرنے کا عزم بھی موجود ہوگااوراُس و قت ممکن ہے کہ ہمارے (اجتماعی اور انفرادی )کردار رعمل میں تبدیلی اور تغیر آجائے تواِس کے نتیجے میں ایک بہر صورتحال سامنے آئے گی ۔لیکن کیا کیا جائے کہ ہمارے بہت سے کام بے بصیرتی کی بنیادوں پر انجام پاتے ہیں!! اپنے بیانات ، عمل و اقدامات کا محاسبہ کرنے کی اشد ضرورت یہ تمام محور ی نکات کو آپ کی خدمت میں عرض کےے ،یعنی ہمیں چاہےے کہ دشمن کی چالوں،نئی روش جنگ اور جدید سے جدید طریقہ دشمنی کااپنے اپنے اعمال اور بیانات میںمحاسبہ کریںاوراِنہیں اپنے (انفرادی واجتماعی اور سیاسی )محاسبوں میںرکھیں،اگر ہم کسی چیز کے بارے میں اظہار نظر کرنا چاہتے ہیںیا کوئی بیان دینے کے خواہشمند ہیں،یا عمل کو انجام دینا یا کوئی اقدام کرنا چاہتے ہیںتو ہمیںاِ ن تمام نکات کی جانب توجہ رکھنی ہو گی اوریہ دیکھیں کہ کیا ہم اپنے اظہار ِ نظر ،بیانات یا کسی بھی قسم کے اقدامات و عمل سے دشمن کی مدد تو نہیں کررہے ہیں!!یہ نکتہ میری نظروں میں بہت زیادہ اہمیت کاحامل ہے۔ پانچویں بات:اسلامی انقلاب کی دواہم خصوصیات؛ اسلامی اور عوامی ہونا ایک اورنکتہ یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ کا یہ نظام جو اسلامی انقلا ب سے حاصل کیا گیاہے،ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس کے دو رُخ ہیں؛ایک اِس کا اسلا می ہونا اور دوسرا عوامی ہونا؛یہ اسلامی بھی ہے اور عوامی بھی۔عوامی ہے ،اِس لےے کہ یہ اسلامی ہے ،کیونکہ اسلام ایک اجتماعی اور معاشرتی دین ہے ۔ دین میں انسان کو اُس کی انفرادیت کے علاوہ اجتماعی اور معاشرتی حیثیت کو بھی مد نظر رکھا گیا ہے! دین ایک اجتماعی و معاشرتی ذمہ داری کا نام ہے جس میں معاشرے کے تمام افراد شامل ہو تے ہےں۔اسلام،تمام انسانوں اوراُ ن کی انفرادی حیثیت کا دین نہیں ہے ، صحیح ہے کہ اسلام میں انسانو ںکا یہ انفرادی پہلو بھی مد نظر ہے لیکن اسلام میں تمام انسانوں کو اُن کی اپنی اجتماعی اورمعاشرتی حیثیت کی وجہ سے مخاطب کیا گیا ہے !اسلام ایک عوامی دین ہے اوردین ایک ایسی ذمہ داری ہے کہ جس میں معاشرے کے تمام افراد شامل ہیں،بنا بریں ،اِس اسلامی انقلاب کے عوامی ہونے کی جڑیں اِس کے اسلامی ہو نے میں مستحکم و گہری ہیں۔ اسلام کی انفرادی واجتماعی ابعاد وجہات کو ایک ساتھ ملاحظہ کیا جائے یہ انقلاب، اسلامی بھی ہے کیونکہ خد اوند عالم نے اِسلسلے میں ہم پراحسان کیا ہے۔”بَلِ اللّٰہ یَمُنُّ عَلَی ´کُم ´ اَن ´ ھَداکُم ´ لِل ´اِی ´مَانِ“یہ اللہ کا احسان ہے کہ اُس نے تم سب کو ایمان کی جانب ہدایت کی ہے ۔خدا وندعالم نے ہماری عوام پر احسان کیا ہے کہ اُس نے اپنے دین کی جانب ہماری راہنمائی کی ہے اور یہی وجہ ہے ہماری عوام کی اکثریت ، اسلام کو ہی پسند کرتی اور اُسے چاہتی ہے ۔بنا بریں،ہمار ا یہ نظام ”اسلامی اورجمہوری “بھی ہے،ایک مجموعہ ہے اورایک ایسی حقیقت ہے کہ جس کی کئی ابعاد و جہات ہیں۔ضرورت اِس اِس بات کی ہے کہ اِن تمام ابعاد و جہات کو ایک ساتھ ملاحظہ کیا جائے تاکہ یہ ایک ساتھ قابل مطالعہ ہوں اوراِس کی اِسی ساخت و بافت پر ایک ساتھ توجہ دینے کی حفاظت کی ضرورت ہے ۔اگر اِس مجموعے کی کسی جہت و بُعد کا جداگانہ تصور کیا جائے یااُسے کمزور بنایا جائے تو اِس مجموعی کی اجتماعی اور کُل حیثیت کمزور ہو جائے گی۔
ولایت ِ معصومین ٪اورولایت ِ فقیہ کی حفاظت کی ضرورت مسئلہ ولایت کی پابندی بھی اِسی مجموعے سے تعلق رکھتی ہے؛خواہ یہ ولایت ِ معصومین ہو یا ولایت ِ فقیہ ہوکہ جو ولایت ِمعصومین ٪ کی ہی ولایت کا( عصر غیبت میں ) جاری ہونا ہے ۔(ولایت کی حفاظت ، اِس کے اُصو ل و قوانین کی پیروی اور اِس کے تقاضوں کے مطابق عمل پیر ا ہونااِسی مجموعہ سے تعلق رکھتی ہے)۔اِس سلامی نظام کے اُصول وقوانین کی پابندی دراصل اِس ملک اور اسلامی نظام میں اِس مجموعے کی حفاظت ہے کہ اِس کی کسی جہت کو کوئی نقصان نہ پہنچے ،اِسے کوئی مشکل پیش نہ آئے ،اِس نظام میں کوئی نقصان و طبقاتی نظام وجود میں نہ آئے اوریہ اپنی اِسی جامعیت کے ساتھ آگے بڑھے اور پیش رفت کرے۔امام خمینی ؒ نے حقیقی اسلام کی جو بات بیان کی ہے وہ اِسی جانب اشارہ کرتی ہے۔ امام خمینی ؒ کے بیان کردہ ”امریکی اسلام “کا کیا مطلب ہے؟ امام خمینی ؒ نے امریکی اسلام کے مقابلے میں حقیقی اسلام کی اصطلاح استعمال کی ہے ۔امریکی اسلام صرف یہ نہیں ہے کہ وہ امریکا کی پسند کا ہو ،ہروہ چیز جو حقیقی اسلام کے دائرے سے باہر ہو،وہ امریکی اسلام کہلائے گی۔سلطنتی اور بادشاہی اسلام بھی ایساہی ہے،مختلف نظریات کامجموعی اسلام (التقاطی اسلام)بھی ایسا ہی ہے،سرمایہ دارانہ اسلام بھی اِسی خصوصیت کا حا مل ہے ،سوشلزم اسلامی بھی ایساہی ہے،وہ تمام اسلام جو مختلف شکلوں اور رنگوں میں دنیا کے سامنے پیش کےے جاتے ہیںکہ جن میںحقیقی اسلامی روح کا دور دور تک کوئی نام و نشان موجود نہیں ہوتا ہے اورجو حقیقی اسلام کے مد مقابل اُس سے مقابلہ کرنے اوراُسے کمزور بنانے کیلئے پیش کےے جاتے ہیں،امریکی اسلام ہی ہیں۔ اسلامی انقلاب کے مقابلے کیلئے سامراج کی جانب سے رنگ برنگے ،جعلی اورناقص اسلاموں کو وجود میں لانا! اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد اِن تیس سالوں میںہمارے اسلامی نظام سے مقابلہ کرنے کیلئے جو راہ اپنائی گئی وہ یہی ہے کہ مختلف قسم کے ناقص اسلاموں کو وجود میں لایا گیا ،مختلف نظریات والے اسلام،سلطنتی اور بادشاہی اسلام،سوشلزم کا پرچار کرنے والے اسلام اوراِسی قسم کے دوسرے جعلی اسلاموں کوگڑھا گیا۔ کامل اور حقیقی اسلام؛انفرادیت و اجتماعیت کو ایک ساتھ پیش کرنے والا اسلام اسلام اور اُسے درک کرنے اور سمجھنے کے اِس نگا ہ وزاوےے سے ایک انسان کی انفرادی حیثیت اورایک معاشرے کی اجتماعی حیثیت کو ایک ساتھ ملاحظہ کیا جاتاہے ، معنویت و عدالت کو ایک ساتھ دیکھا جائے گا ،شریعت اورعقلانیت کا ایک ساتھ مطالعہ ہوگا اورہمدردی ،مہربانی اور رحمدلی کو سنجیدگی وقاطعیت کو ایک ساتھ دیکھا جائے گا۔یہ سب ہونا چاہےے ،قاطعیت وسنجیدگی اپنی جگہ اور ہمدردی و رحمدلی اپنی جگہ ،شریعت اپنی جگہ اور عقلانیت اپنی جگہ،البتہ عقلانیت بھی شریعت کی حدود سے خارج نہیں ہے ،اِن سب کو ایک ساتھ دیکھنا اور اِس سے استفادہ کرنا چاہےے ۔بنابریں اِیسے مستحکم اسلامی نظام سے انحراف درحقیقت اسلامی نظام سے انحراف کے مترادف ہو گا۔ چھٹی بات:فقیہانہ اور عال،مانہ فہم وفراست میں شجاعت کی ضرورت اگلا نکتہ یہ ہے کہ ہمیں صرف عمل کے میدان میں شجاعت کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہمیں فہم و فراست میں بھی شجاعت کی ضرور ت ہے ،فقیہانہ اور عالمانہ فہم میں شجاعت کی ضرورت ہے ۔اگر عقلی وفہمی شجاعت وجود نہ رکھتی ہوتو مسائل کو صحیح طور پر سمجھنے میں مشکل پیش آتی ہے اور انسان کسی بھی مسئلے کے ”صغریٰ وکبریٰ “کو سمجھنے میں مشکل کا شکار ہو جاتا ہے (صغریٰ اور کبریٰ ،علم منطق کی ایک اصطلاح ہے مثلاًصغریٰ :احمد ایک انسان ہے؛کبریٰ:ہر انسان کوموت آنی ہے؛نتیجہ:پس احمد کو بھی موت آنی ہے)۔کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان کسی مسئلے کے” صغریٰ“ کو صحیح سمجھتا ہے لیکن” کبریٰ“ کوسمجھنے میں غلطی کا شکار ہو جاتا ہے ۔ مختلف قسم کے خوف،انسان کی عقلی صلاحیتوں کو ناکارہ بنا دیتے ہیں دینی اُصول وقوانین،دینی مسائل وموضوعات اورکلّی اور عمومی مفاہیم یعنی” صغریٰ و کبریٰ“ پر قابل تطبیق خارجی مسائل کو صحیح طو رپر سمجھنے اوردرک کرنے کیلئے ہمیں شجاعت کی ضرورت ہے اور اِس سلسلے میںہمیں چاہےے کہ کسی بھی قسم خوف و ترس کا شکار نہ ہوں۔لیکن اگر اپنے مال ،جان ،عزت وآبروکا خوف ہو،دشمن سے مرعوب ہو کر رہنااورحالات کاخوف ہو،اگر ہم یہ بات کہیں گے تو وہ ہمار ے خلا ف ہو جائیں گے اوراگر وہ بات کریں تو وہ ہم پر تہمت لگائیں گے؛یہ وہ خوف وترس ہیں جو انسان کے سوچنے سمجھنے اور فہم و درک کی صلاحیت کو ناکارہ بنا دیتے ہیںاوراُس میں خلل ایجاد کرتے ہیں۔ راہِ خدا میں اللہ کے سوا کسی سے بھی خوف نہ کھانے کی اہمیت! کبھی ایسابھی ہوتا ہے کہ انسان اِس قسم کے خوفوں اوراِن خیالی چیزوں کوملاحظہ کرنے سے کسی مسئلے کی حقیقت کو صحیح طور پر نہیںسمجھتا ہے اوروہ اُس مسئلے کو نہ تو درک کرپاتا ہے اور نہ ہی اُسے حل کر نے پر قادر ہوتاہے اوریوں وہ غلطیوں کاشکار ہو جاتا ہے۔یہی وجہ ہے ”وَلَا یَخ ´شَو ´نَ اَحَداً اِلَّا اللّٰہ “(وہ اللہ کے سوا کسی اور سے نہیںڈرتے)بہت اہمیت کا حامل ہے۔اِس آیہ شریفہ سے”اَلَّذِی ´نَ یُبَلِّغُو ´نَ رِسَالَا ت ِ اللّٰہِ وَیَخ ´شَو ´نَہُ وَلَا یَخ ´شَو ´نَ اَحَداً اِلَّا اللّٰہ وَکَفیٰ بِاللّٰہِ حَسِی ´باً“(جو لوگ دین الٰہی کی تبلیغ کا کام انجام دیتے ہیںاوراللہ سے خوف کھاتے ہیںاوراللہ کے سوا کسی اور سے نہیں ڈرتے)معلوم ہوتا ہے کہ ابلاغ وتبلیغ کی شرط ،اللہ کے سوا دوسروں سے نہ ڈرنا ہے اور ”وَلَا یَخ ´شَو ´نَ اَحَداً اِلَّا اللّٰہ “(وہ اللہ کے سوا کسی اور سے نہیںڈرتے)کا جملہ اِسی جانب اشارہ کرتا ہے۔
حق کیلئے قیام کریں اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیں ایک انسان یہ کہتا ہے :جناب والا!اگر میں یہ کام انجام دوںتو ممکن ہے کہ مجھے دھوکا اور فریب دیا جائے ۔”وَکَفیٰ بِاللّٰہِ حَسِی ´باً“کا معنی یہی ہے کہ آپ حساب و محاسبہ کا کام خد اپر چھوڑ دیں۔اگرہم لوگوں کی باتوں،فیصلوں اورکڑوی کسیلی باتوں کو خدا کے قانون کا خیال رکھنے کی جگہ رکھ دیں تو مسئلہ کسی بھی صورت میں حل نہیں ہونے والا!اِس لے کہ اپنے کاموں میں خد اکا خیال رکھنا،تقویٰ کہلاتا ہے ۔
حق وباطل میں تشخیص کی صلاحیت ،تقویٰ سے حاصل ہو تی ہے اگر ہم نے خدا کا خیال اور تقویٰ کو ترک کر دیا اور اُس کی جگہ لوگوں سے خوف وترس آگیا تو وہ ”فرقانی “حالت کہ جسے خد اوند عالم نے بیان کیا ہے ،ہمیں حاصل نہیں ہو سکے گا؛”اِن ´ تَتَّقُوا اللّٰہَ یَج ´عَل ´ لَّکُم ´ فُر ´قَاناً “(اگرتم لوگ اللہ کا تقویٰ اختیا ر کرو گے تو وہ تمہارے لےے فرقان قرارد ے گا)،یہ فرقان (حق و باطل میں تشخیص پیداکرنے کی صلاحیت)تقویٰ ہی سے حاصل ہو تی ہے ،حقائق کا انسانی زندگی میںاُس کیلئے روشن اور واضح ہونا درحقیقت تقویٰ کا ہی نتیجہ ہے۔میری نظر میں یہ مسئلہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔
جان،مال او رعزت وآبرو کی حفاظت سے زیادہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے اوراُس سے ڈرنے کی اہمیت وضرورت! مال ،جان ،عزت و آبرو،لوگوں کی باتوں،تہمتوںاور اُسن کے الزامات سے خوف کھانااورڈرناایک اہم مسئلہ ہے ؛یہ مسئلہ اتنازیادہ اہمیت رکھتا ہے کہ خدا وند عالم اپنے پیغمبر سے خطاب کرتا ہے اوراُسے خبر دار کرتا ہے :”وَاِذ ´ تَقُو ´ لُ لِلَّذِی ´ اَن ´عَمَ اللّٰہُ عَلَی ´ہِ وَ اَن ´عَم ´تَ عَلَی ´ہِ اَم ´سِک ´ عَلَی ´کَ زَو ´جَکَ وَاتَّقِ اللّٰہَ وَتُخ ´فِی ´ فِی نَف ´سِکَ مَا اللّٰہُ مب ´دِی ´ہِ وَتَخ ´شَی النَّاسَ وَاللّٰہُ اَحَقُّ اَن ´ تَخ ´شٰاہُ “(اوراُس وقت کو یاد کرو کہ تم اُس شخص سے کہ جس پراللہ نے بھی نعمت نازل کی تھی اور تم نے بھی احسان کیا تھا، کہہ رہے تھے کہ اپنی زوجہ کوروکواوراللہ سے ڈرو اور تم اپنے دل میں اِس بات کوچھپائے ہوئے تھے جسے خدا ظاہر کرنے والا تھااورتمہیں لوگوں کے طعنوں کا خوف تھا حالانہ کہ خدا زایادہ حقدار ہے کہ اُس سے ڈرا جائے اور اُسی کا تقویٰ اختیار کیاجائے ۔احزاب ۳۳)لوگوں کی باتوں کو ،وہ جو تہمتیںلگائیں گے یا تماہرے بارے میں جو چیزیں کہیں گے ،اُن کی پرواہ نہیں کرنی چاہےے،”وَاللّٰہُ اَحَقُّ اَن ´ تَخ ´شٰاہُ“صرف خدا ہی کے تقویٰ کو مد نظر رکھنا چاہےے۔
امام خمینی ؒ کی فتوحات کاراز؛راہ ِ خدا میںاُن کی شجاعت میری نظر میں وہ چیز کہ جس کی وجہ سے اما م خمینی ؒ نے اپنی زندگی میں بہت سی فتوحات حاصل کیں،اُن کی یہی شجاعت تھی جو علمی،معنوی،سیاسی ،اجتماعی فتوحات اور لوگوں کے قلوب کا امام خمینی ؒ میں مجذوب ہونے کہ جو حقیقتاً ایک نہایت عجیب چیز ہے،کو وجود میںلا نے کا سبب بنی۔اُن کی شجاعت یہ تھی کہ وہ راہِ حق میںکسی بھی چیز کی پرواہ نہیں کرتے تھے ۔ (وہ راہ ِخدا میں ”بے خطر کو د پڑرآتش نمرود میں عشق “کی زندہ مثال تھے!) دشمن کا کام توڈرانا،خوف دلانااوراپنی رُعب ودھاک بٹھانا ہے اہل فساد وجنگ تو یہی چاہتے ہیںکہ وہ اپنے خوف و رُعب اوراپنی دھاک کو کسی قوم کے خاص (خواص)،اعلیٰ شخصیات کے دل پر خدا کے خدف کی جگہ بٹھا دیںاوراُن کی خواہش ہوتی ہے کہ اُنہی سے ڈرا اور خوف کھایا جائے ۔”اَلَّذِی ´نَ قَالَ لَھُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَد ´ جَمَعُو ´ا لَکُم ´ فَاخ ´شَو ´ھُم فَزَادَھُم ´ اِی ´مَاناً وَ قَالُو ´ا حَس ´بُنَا اللّٰہُ وَنِع ´مَ ال ´وَکِی ´لُ “(وہ لوگ جو لوگوں سے یہ کہتے ہیںکہ لوگ تمہارے خلاف جمع ہو گئے ہیںتو تم اُس سے ڈرولیکن یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کاایمان زیادہ ہی ہوتاہے اوروہ یہ کہتے ہیں کہ اللہ ہی ہمارے لےے کافی ہے اور وہ بہترین وکیل و حامی ہے)یعنی وہ مسلسل ہم سے یہی کہہ رہے ہیں کہ دشمن سر پر آپہنچا ہے ” اِنَّ النَّاسَ قَد ´ جَمَعُو ´ا لَکُم ´ فَاخ ´شَو ´ھُم“ لیکن اِس کا جواب یہی ہے کہ ” قَالُو ´ا حَس ´بُنَا اللّٰہُ وَنِع ´مَ ال ´وَکِی ´لُ“اورایسی بات کا نتیجہ بھی یہی ہو تاہے :”فَان ´قَلَبُو ´ا بِنِع ´مَةٍ مِّنَ اللّٰہِ وَفَض ´لٍ لَم ´ یَم ´سَس ´ھُم ´ سُو ´ئ µ“۔ بنابریں ہمیںاِس لازمی شجاعت کا حامل ہونا چاہےے۔
کسی معاشرے کے خاص اورمو ¿ثر افراد کی ذہنیت کو تبدیل کرنے کی دشمن کی حکمت عملی
دشمن مختلف قسم کے کام اور فعالیتیں انجام دے رہا ہے اوردورِحاضر میں اُس کے تما م حملوںاورہر قسم کی سازشوں کے ہدف ”معاشرے کے خاص افراد“ہیں۔دشمن بیٹھتے ہیںاورمنصوبہ بندی کرتے ہیںتا کہ وہ ہمارے خاص افرادکے اذہان کو تبدیل کریںتا کہ اُن کے ذریعے سے لوگوں کو کسی اور سمت کھینچ لیں،اِس لےے کہ کسی معاشرے کے خاص افراداپنے معاشرے کے لوگوں پر تاثیر رکھتے ہیں اور اُن کی باتیں لوگوں میں نفوذرکھتی ہیں۔میری نظر میں میرے اور آپ کے آج کے وظائف اور ذمہ داریوں میںسے ایک ذمہ داری یہی ہے کہ ہم مختلف اجتماعی مسائل میںاپنی بصیرت کو زیادہ کریںاور اِسی طرح ان شاءاللہ اپنے مخاطبین اور سامعین کی بصیرت کو بھی زیادہ کریں۔ امام خمینی ؒ ؛اسلامی انقلاب کے پیچھے ایک دست ِ غیبی موجود ہے! اسلامی انقلاب کی جڑیں بہت زیادہ گہری ہیں،بہت مستحکم ہیںاوراِس کے پائے اور ارکان بھی بہت مستحکم ہیںاور خدا وند عالم ہمار حامی وپشت پناہ ہے ۔میں نے بارہا امام خمینی ؒ سے نقل کیا ہے کہ اُنہوں نے فرمایا:”میںنے جب سے اِس (انقلاب کی تحریک) میںقدم رکھا ہے تو میں نے دیکھا اور اِس بات کو محسو س کیا کہ ایک غیبی قدرت اور دست ِ غیبی ہمارے کاموں کو آگے بڑھا رہا ہے !“حقیقت بھی یہی ہے جیسا کہ وہ فرماتے تھے ۔انسان (اگر صاب بصیر ت ہو تووہ )خدا کے دست ِ غیبی کو دیکھتا ہے ۔ خدا کی غیبی امدا د کو حاصل کرنے کی راہ؛اپنی ہر چیز کو خلوص سے خد اکی راہ میں پیش کرنا! لیکن یہاں ایک بات کی جانب توجہ ضروری ہے اور وہ یہ کہ اِس دست ِغیبی کے ہم سے کوئی قرابت داری نہیں ہے ،”مَن ´ کَانَ لِلّٰہ ِکَانَ اللّٰہُ لَہُ“جو اللہ کیلئے محنت و جد و جہد کرے گا اللہ بھی اُسی کا ہو جائے گا اوراُس کے بگڑے کاموں کو اپنے دست ِغیبی سے بنا دے گا؛”اِن ´ تَن ´صُرُوا اللّٰہَ یَن ´صُر ´کُم ´“(تم اللہ کی مددکرو وہ تمہاری مدد کرے گا)؛”وَلَیَن ´صُرَنَّ اللّٰہُ مَن ´ یَن ´صُر ´ہُ“(اللہ حتماً اور یقینا اُس کی مد د کرتا ہے جو اُس کی مدد کرتا ہے)۔ہمیں اِسی راہ پر قدم اُٹھانا چاہےے ،ہمارے پا س جوکچھ ہے ہم اُسے خلوص کے ساتھ خداکی راہ میں لے آئیںاور اُس کی راہ میںپیش کر دیںاور اپنی تمام کو شش ،جد جہد اور فعالیت کو اِسی راہ کیلئے وقف کر دیں۔اِس صورت میں خدا وند عالم بھی ہم پر اپنا فضل و کرم کی بارش کرے گا،لطف و کرم کرے گا،خدا نے آج تک اپنا فضل وکرم جاری رکھا ہو اہے اور یہی وجہ ہے کہ دشمن کی ہر چال اور ہر سازش ناکام ہو کر اُسی کی جانب لوٹ گئی ہے اور”اُلٹی ہو گئیں سب تدبیریں،کچھ نہ دوا نے کام کیا!“کا مصداق بنا ہو اہے اوروہ آج تک اپنی تمام چالوں اور سازشوں سے اپنے تمام مقاصد میں کامیاب نہیں ہو ئے ہیں۔
جون ۹۰۰۲کے انتخابات کے بعد رونما ہونے والی فسادات ،ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ تھے یہ تمام فسادات اور ہنگامے جو انتخابات کے بعد رونما ہوئے ،ماہرین اورآگاہ وہوشیار افراد کی جانب سے تیارکےے گئے تھے ،یعنی انسان اِن تمام واقعا ت کو کسی صاحب ِ بصیر ت اور فہم وفراست رکھنے والے افراد ملکی اور بین الاقوامی مسائل سے آشناشخصیات کے سامنے پیش کرے تو وہ بھی اِسی بات کی تائید کریں گے ۔دو دن قبل ہی میں نے اِن اہم شخصیات سے عرض کیا تھا کہ یہ تمام فسادات او رہنگامے پہلے سے تیارشدہ ایک سازش اور منصوبہ بندی کاحصہ تھے اوراُنہوں نے بھی اِسی بات کی تائید کی۔ سب اِسی حقیقت کو جانتے ہیںکہ یہ سب پہلے سے تیار شدہ ایک منصوبہ بندی کا نتیجہ تھے،ایسا نہیں تھا کہ ہویہ حالات اچانک پیش آگئے اور جیسے جیسے حالات آگے بڑھتے رہے یہ صورتحال سامنے آتی رہی !مثلاً کوئی اچانک کھڑا ہواوراُس نے کوئی بات کہی اور اُس کا ردّ عمل ظاہر ہوا!نہیں جناب!یہ پہلے سے تیار شدہ ایک سوچی سمجھی ساز ش تھی اور ایک مرکز کی جانب سے اِس کی ہدایت کی جارہی تھی لیکن اپنی تمام تیاری کے بعد اُنہوں نے شکست کھائی اوراِن شاءاللہ اُن کی یہ شکست جاری رہے گی،لیکن وہ مسلسل سازشیں تیار کر رہے ہیں۔ ”فتنے میں اُوٹنی کے بچے کی طرح ہو جاو ¿ “کا غلط معنیٰ
ایک اور نکتے کو بھی آپ کی خدمت میں وعرض کروں کہ کچھ کوگوں نے فتنے وفساد کی فضا میں امیر المومنین -کی اِس حکمت آمیز جملے ”کُن ´ فِی ال ´فِت ´نَةِ کَب ´نِ اللَّبُو ´نِ لَا ظَھ ´ر فَیُر ´کَبُ وَلَا ذَر ´ع فَیُح ´لَبُ“(فتنے و فسا د میں اُونٹ کے اُس بچے کی طرح ہو جاو ¿کہ جس کی پیٹھ پر نہ سواری کی جاسکے اور نہ اُس سے دودھ حاصل کیا جا سکے! )کو غلط انداز سے سمجھا ۔وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ جب بھی فتنے کی آگ بھڑکے اور معاشرتی فضا دھندلی ہو جائے تو فوراً کنارہ کسی اختیا رکر لو!(ظاہری طور پر نظر آنے والے حق وباطل کو چھوڑ دو، کیونکہ فضا دھندلی ہوتی ہے اور حق و باطل کا پتہ نہیں چلتا ،بالکل ابو موسیٰ اشعری کی مانند جس نے بالکل یہی کام انجام دیا تھا!!)۔اِس جملے میں یہ مطلب کہیں بھی بھی نہیں اخذ کیا جا سکتا کہ ”کنار ہ کش ہو جاو ¿!“اِس حکمت آمیز جملے کا مطلب یہ ہے کہ فتنہ کی آگ بھڑکانے والا کسی بھی صورت میں تم سے استفادہ نہ کر سکے اور کسی بھی راہ سے تمہیں استعمال نہ کرے! ،” لَا ظَھ ´ر فَیُر ´کَبُ وَلَا ذَر ´ع فَیُح ´لَبُ“نہ وہ تماہری پیٹھ پر سوار ہو اور ناہی تم سے کسی بھی قسم کا استفادہ کر سکے!انسان کو ہوشیار او رمراقب رہنا چاہےے۔
جنگ ِ صفین میں حضرت عمار یاسر کا کردارحقائق کو تمام لوگوں کیلئے روشن اور وواضح کرنا جنگ ِ صفین میں آپ حضرت عمار یاسر کے کر دار کو ملاحظہ کیجئے جو مسلسل لشکر کے اِس طر ف اور اُس طرف لوگوں کے مختلف گروہوں سے تقریراورگفتگو کرنے میں صروف تھے ۔چونکہ وہاں واقعاً فنہ تھااور مسلمانوں کے دو گروہ ایک دوسرے کے مد مقابل تھے ۔یہ اتنا بڑ افتنہ تھا کہ بہت تھا کہ بہت سے لوگوں کو اِس میں شرکت کرنے میں شک ہو نے لگا۔ حضرت عمار یاسرلوگوں کیلئے حقائق کو روشن اور واضح کرنے مسلسل میں مشغول تھے ،اِس طرف جاتے ،اُس طرف بیٹھتے اور لوگوں کیلئے تقریریں کرتے ۔یہ تمام واقعات تاریخ کے صفحات میں موجود ہیں۔ فتنوںمیں حقائق کو روشن کریں اور بصیر ت سے کام لیں دوسری جانب بھی کچھ لوگ تھے:”نَفَر µ مِن ´ اَص ´حَابِ عَب ´دِاللّٰہِ ب ´نِ مَس ´عُو ´د“ہیں،روایت میں ہے کہ یہ لوگ حضرت امیر المومنین - کی خد مت میں آئے اور کہا:”یَا اَمِی ´رَ ال ´مُو ¿مِنِی ´نَ “؛یعنی یہ لوگ قبول کرتے تھے کہ حضرت علی - ،امیر المومنین ہیں،”اِنَّا قَد ´ شَکَکَّنَا فِی ´ ھٰذَا ال ´قِتَالِ“(ہمیں مسلمانوں کے اِن دوگروہوں میں ہو نے والی جنگ میں شک ہے کہ یہ حق وباطل پر نہ ہویا کون حق پر ہے او رکون باطل پر؟!)،آپ ہمیں سرحدوں پر بھیج دیںکہ ہم اِس جنگ میں شریک نہ ہوں!جنگ میں شرکت نہ کرنا درحقیقت اپنے آپ کو اجتماعی اور مذہبی مسائل سے کنارہ کش کرنا اور اُن سے لا تعلق رہنا ہے !یہ وہی ”ذَر ´ع µ “ہے کہ جس سے دودھ دھویا جا سکتا ہے ،،یہ وہی ”ظَھ ´ر µ“ہے کہ جس کی پیٹھ پر سوا ر ہوا جا سکتا ہے !کبھی انسا ن خاموش رہنا ،کبھی اجتماعی مسائل سے کنارہ کش ہونا اور کبھی کوئی بات نہ کرنا بھی فتنے کی مدد ہوتا ہے !فتنے میں سب کا فریضہ ہے کہ وہ مسائل کو دوسروں کیلئے روشن اورواضح کریں اوراِس سلسلے میں سب کو بصیر ت کا مالک ہو نا چاہےے۔اُمید ہے کہ خدا وند عالم ہمیں اورآپ کو جو کچھ ہم کہتے ہیںاورجن چیزوں کی نیت کرتے ہیں،اُن پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اِس راہ میں کامیاب کرے۔
عید الفطرکے مسئلے میں علمی اور فقہی نظر کا الگ ہونا،ایک فطری امر ہے عید الفطر کے مسئلے میں بھی میری نظرہ یہی ہے کہ یہ جو سب کہتے ہیں کہ ایسا ہو جائے کہ پوری قوم ایک ہی دن عید الفطر منائے ،یہ ممکن نہیں،یعنی ہمارے فقہی قوانین کی رُو سے ممکن نہیںہے ۔یعنی تما فقہائے عالم ایک ہی فتوے پر جمع ہو جائیں،ممکن ہو کہ ایک فقیہ ایسا ہو کہ اُس کی نظر الگ ہو،بنابریں اِس مسئلے میں علمی اختلاف وجود میںآئے گا۔ ہمیں چاہےے کہ ہم اِس ختلاف کو بڑھا چڑھا کر پیش نہ کریں۔اِس بات میں آخر کون سی اتنی اہمیت کی بات ہے؟اِس میں کیا اشکال ہے؟ایک فقیہ ہے جس کا اپنا ایک فتویٰ ہے ، کچھ لوگ اُس کے مقلد ہوں یا نہیں ہوں،وہ اپنے فتویٰ پر عمل کر تا ہے ( اُسے علمی نکتہ نگاہ سے یہ کام کرنے کی اجازت ہے کہ اُس کا فتویٰ الگ ہو اور وہ اپنے فتویٰ پر عمل کرے)۔ مراجع اکرام کی جانب سے ”مسئلہ عید الفطر “میںہماری فقہی نظر کا احترام کرنے پر اُن کا شکریہ ادا کرتا ہوں! اِس سال بھی ہم نے مشاہدہ کیا کہ بہت سے علماو مراجع عظام کی عید کے چاند کے ثابت ہو نے میں علمی وہ فقہی نظر ہم سے مختلف تھی لیکن اُنہوں نے ہماری جانب سے عید کے چاند کے ثابت ہونے اور عید الفطر منانے کی کوئی مخالفت نہیں کی اور آپ نے دیکھا (کہ اُ نہوںنے کس طرح قومی اتحاد کی فضا کو قائم رکھنے میں مدد کی!)یہ بہت اہمیت کی بات ہے اور اِس بات کی بہت زیاد ہ قدر دانی کرنی چاہےے۔یہاں ایسا نہیں تھا کہ اتوار کے دن (ہمارے فتوے کے مطابق)ایک نما زعید بر پاہوئی اور پیر کے (دوسرے مراجع کے فتویٰ کے مطابق)دوسری نماز عید!یہاں ایسا کوئی کام نہیں ہوا۔ ہمارا عقید ہے اور آج بھی یہی ہے کہ اکابرین اور علما ءو مراجع اسلامی نظام اور اِس کے اُصول و قوانین کی حفاظت و پابندی میں بہت زیادہ خیال رکھتے ہیں۔جب انسان قومی و اجتماعی معاملات و مسائل میں علما وفقہا کے اِس مثبت کردا رکو دیکھتا ہے تو اِس کی قدر دانی کرنی چاہےے اور اِس کا شکریہ ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ میں اُن تمام علماءو فقہا اور مراجع عظام کہ جن کی فقہی نظر ہماری فقہی نظر اور فتویٰ سے مختلف تھی ،لیکن اُس کے باوجو داُنہو ں نے مخالفت نہیں کی ،یہ بہت اہم چیز ہے ،کاصدق دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ دشمن کی سازشوں سے ہوشیار رہیں اِس تمام ماجرا میںممکن ہے کہ دشمن کوئی بات کرے ،اِس علمی مسئلے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرے اور جنجال کرے اور اختلافات پیدا کرنئے کی کوشش کرے توہم دشمن کی باتوں کے تابع تو نہیں ہیں!ان شاءاللہ،خدا وندعالم ہم سب کو کامیاب و کامران کرے،اِن شاءاللہ ۔ والسلام علیکم ورحمة اللّٰہ وبر کاتہ
|
|
|