21 مارچ 2009 کومشہدميں موسم بہار کي آمداور نو روز کے آغاز پر
رہبر انقلاب اسلامي حضرت آيت اللہ العظميٰ خامنہ اي دامت برکاتہ
کے حرم حضرت امام رضا ميںايک عظيم الشان عوامي اجتماع سے خطاب کا خلاصہ
سخن حکيمانہ
پيش رفت اور اجتماعي عدل وانصاف کا حقيقي مفہوم
اسراف و فضول خرچي سے پرہيز
کفايت شعاري مہم کو اپنانے کا اصل ہدف
صدارتي انتخابات
امريکا ايران مذکرات و تعلقات ؛حقيقت و ہدف!

بسم اللّٰہ الرّحمٰن الرّحيم
آلحمدُ للّٰہ ربّ العالمين والصّلاۃُ والسّلامُ عليٰ سيّدنا و نبيّنا آبي القاسم المصطفٰي محمّد وعلي آلہ الآطيبين الآطھرين المنتجبين الھداۃ المعصومين المکرّ مين سيّما بقيّۃ اللّٰہ في الارضين
 


ميں تہہ دل سے خدا وند عالم کا شکر گزار ہوں کہ اُس نے اِس بندہ حقير کو يہ توفيق و عنايت مرحمت کي اوراِس بات کا موقع فراہم کيا کہ ميںايک بار پھر اِس عظيم ہستي کے حرم کي زيارت کر سکوں اور مجھے اِ س نوراني بارگاہ کے زائروں کي زيارت کا شرف حاصل ہو سکے۔ميںخدا سے دعا کرتا ہوں کہ وہ نوروز اور مو سم بہار کي آمداور اِس نئے سا ل کوہماري عوام کيلئے مبار ک قرار دے ۔
آئندہ دس سالوں ميں ہمار ي ترقي وپيش رفت کے امکانات
اِس سال کے آغاز سے اسلامي انقلاب کي چوتھي دہائي کا آغاز ہو گيا ہے جسے ’’پيش رفت اور عدالت‘‘کا نام ديا گيا ہے ۔ميں اِسي مناسبت سے اپنے کچھ عرائض، ملکي اور داخلي سطح کے کچھ اہم ترين مسائل اور کچھ بين الاقوامي مسائل آپ کي خدمت ميں پيش کروں گا۔
ہم نے اِس سال کے آغا ز پر اِس دہائي کو ’’پيش رفت و عدالت ‘‘کا نام د يا ہے۔حقيقت تو يہ ہے کہ اسلامي انقلاب کے آغاز سے ہي ايراني قوم نے اپني اسلامي تحريک کي ابتدا اور اسلامي جمہوريہ کا نظام قائم کرنے کے ساتھ ہي پيش ترفت و ترقي او راجتماعي عدل وانصاف کي بنيادوں پر قائم معاشرے کي تاسيس کيلئے کو ششيں شرو ع کر ديں تھيں۔ آخراِن آئندہ دس سالوںميں کيا خصوصيا ت ہيں کہ جن کام نام ’’پيش ورفت و عدالت کي دہائي ‘‘رکھا گيا ہے ؟
ہماري نظر ميں آئندہ دس سال ،گزشتہ دس سالوں سے اِس جہت سے فرق کرتے ہيںکہ آئندہ دس سالوں ميں پيش رفت و اجتماعي عدل وانصاف کے نتيجے ميں ترقي کي منازل طے کرنے اور کاميابي کي بلنديوں پر کمندڈالنے ميںہميں ابھي سے ايک بہترين صلاحيت حاصل ہو گئي ہے۔يہ آمادگي اور تياري ايراني قوم کو اِس سلسلے ميں اِس بات کا موقع فراہم کرے گي کہ وہ ايک بڑے قدم اور جست کي جانب پيش قدمي کرے۔ہماري قوم تمام شعبہ ہائے زندگي ميں پيش رفت و ترقي او راجتماعي عدل و انصاف کي جانب تيزي سے حرکت کر رہي ہے ۔
ہماري پيش رفت کے عوامل
اگر ہم چاہيں کہ اِس پيش قدمي اورآمادگي کے عوامل کو مشخص کريں تو ميں آپ کي خدمت ميں عرض کروں گااِس ميں چند عناصر زيادہ موثر ہيں:
سب سے پہلا عامل، ہماري تعليم يافتہ جوان نسل کا ملکي و اسلامي انقلاب کے مسائل ميں توجہ اور دلچسپي لينا اور ميدان عمل ميںاُس کي موجودگي ہے۔آج لاکھوں تعليم يافتہ نوجوان، ميدان علم و تحقيق اور سياسي و اجتماعي فعاليت کے شعبوں ميں ہمہ وقت حاضر ہيں۔
ہماري پيش رفت کادوسرا عامل،تجربہ ہے۔ہمارے ملک کے اعليٰ حکام ،دانشورو ں اور سائنسدانوںنے گزشتہ کئي سالوں سے مختلف شعبہ ہائے حيات ميں رکاوٹ بننے والي مشکلات کا مقابلہ کرنے کي بنا پر بہت ہي قيمتي تجربات حاصل کیے ہيںاوراب يہ تجربات ہماري قوم کے اختيار ميں ہيں۔
اگر اِس سلسلے ميںہم کوئي مثال دنيا چاہيں تو اُس کي ايک زندہ مثال ہمارے ملکي آئين کے مادہ ٤٤ کي ذيل ميں عمل درآمد کي جانے والي سياسي پاليسيا ں ہيں۔يہ تمام سياست و منصونہ بندي در حقيقت گزشتہ چند دہائيوں کے طولاني تجربات کا نتيجہ ہے جسے ہمارے ملک کے اعليٰ تعليم يافتہ افراداورمخلتف شعبوں کے ماہرين نے اِس مقام تک پہنچايا ہے۔
اِس کي دوسري مثال،حکو مت کي جانب سے عوام کي فلاح و بہبود کيلئے دي جانے والي ’’سب سٹي‘‘ کو ايک مستقل شکل دينا ہے جو خود ہمارے ملک کے اعليٰ تعليم يافتہ افراد کے بلند مدت تجربات کا نتيجہ ہے۔اِن طولاني تجربات سے ہم اِس نتيجے پر پہنچے ہيں کہ ’’بيت المال ‘‘سے يعني خود عوام کي جيب سے (اور اُن سے اخذکیے جانے والے ٹيکسوںکے ذريعہ سے)حاصل ہونے والي سب سٹي کو جو عوام کي فلاح وبہبود ہي سے تعلق رکھتي ہے ،ہر صور ت ميںمعاشرے کے اُس طبقے کيلئے استعمال ہونا چاہیے کہ جو سب سے زيادہ ضرورت مند ہے،يعني محرو م اورمعاشرے کي نچلي سطح کے طبقات ۔
ہماري ترقي کاتيسرا عامل،ملکي تعمير و ترقي کے بنيادي ڈھانچے کا استحکام ہے۔آج ہمارا ملک،اسلامي انقلاب کے بعد پہلي اور دوسري دہائي جيسا ملک نہيں ہے کہ جس ميں اُسے اپني تعمير و ترقي کي بنيادي سہوليات و امکانات بھي ميسر نہيں تھے۔ہماري موجودہ نوجوان نسل ،اعلي تعليم يافتہ اور پيشہ وارانہ صلاحيتوں کي مالک ہے اورہمارے سائنسدان، زندگي کے جس شعبے ميں بھي قدم رکھتے ہيں،وہاں بڑي بڑي خدمات انجام ديتے ہيں۔يہي وجہ ہے کہ آج ہمار ا ملک ارتباطات(کيمونيکيشن)،مواصلاتي نظام،علمي تحقيقات کے شعبوںاور ملکي تعمير و ترقي کے تمام شعبوں ميں جس چيز کا بھي محتاج ہے ،ہم اُس کے حصول کيلئے آماد ہ وتيار ہيں اور وہ ہمارے پاس موجود ہے۔ہم بين الاقوامي طور پر اپنے رابطوں کو مضبوط و مستحکم بنانے کيلئے ہوائي اڈوں کي تعمير،وائر ليس اوردوسرے ارتباطي سسٹم بنانے،مختلف قسم کي نيٹ ورکنگ اورڈيموں کي تعميرميں کسي بيروني ملک کے محتاج نہيں ہيں۔
ايک وہ دن بھي تھا جب کسي کے خواب وخيال ميں بھي يہ بات نہيں سما سکتي تھي کہ ہماري نوجوان نسل اور ملکي ماہرين بھي اپني مدد آپ کے تحت ڈيم کي تعمير کريںگے ،غلات کے گودام(Silo)بنا سکيں گے،بڑي بڑي شاہراوں کا جال بچھائيں گے،ہوائي اڈوں کي تعمير سے بين الاقوامي سطح پر اپنے رابطو ں او رتجارت کو مضبوط بنائيں گے اورفولاد سازي کے کارخانے لگائيں گے۔اسلامي انقلاب سے قبل ہم اِن تمام شعبوں ميں بيروني طاقتوں کے رحم وکرم پر تھے ۔ليکن جب اسلامي انقلاب کي برکت سے بيروني عوامل کي آمد و رفت اور مداخلت کا سلسلہ رک گيا تو بيروني امدا د کا سلسلہ بھي رک گيااورہم اُس وقت شديد محتاج تھے ليکن آج ہم خود کفيل ہو گئے ہيں۔آج ہماري يہي نوجوان نسل پيچيدہ سے پيچيدہ مصنوعات کے کارخانے لگي رہي ہے،گہرے علمي اور پيچيدہ ترين ٹيکنالوجي کے کاموں کو خود آگے بڑھا رہي ہے اورملکي ضروريات کو پورا کر رہي ہے۔يہ سب ايک طرف،اب ہمار ا ملک اِس مقام پر پہنچ گيا ہے کہ وہ اب تجارت،علمي ميدان اور ٹيکنالوجي ميں ضرورت مند دوسرے ممالک کوماہرين کي فراہمي ميں اُن کي امداد کر رہے ہيں۔اِس جہت سے ہمارا ملک ايک خاص شہر ت کا حامل ہو گيا ہے اور يہ پيش رفت وترقي کوئي چھوٹے درجے کي نہيں ہے۔
ايک وہ دن تھا کہ جب ہمارے نوجوان آر پي جي کے ايک راکٹ اور ايک گولي کو فائر کرنے سے نا بلد تھے ليکن آج يہي جوان ہيں جو فضا ميںمواصلاتي سيٹيلائٹ بھيج رہے ہيں کہ جس نے پوري دنيا کے سائنسدانوں کو حيرت زدہ کر تے ہوئے سب کواُس کي قابليت و صلاحيت کي جانب متوجہ کر ديا ہے۔ايک وہ زمانہ تھا کہ جب ہميںاپنے ملک کے مختلف پلانٹوں کيلئے بيرون ملک سے ماہرين بلانے کي ضرورت تھي ليکن آج ملک کے نوجوان سائنسدانوں نے صنعت ميں اتني ترقي اور پيش رفت کرلي ہے کہ وہ آئل ريفائنري ،بجلي گھر،مختلف پلانٹ اور مختلف قسم کي صنعتيںخود لگارہے ہيںاور ملکي پيداوار ميں روز بروز اضافہ کر رہے ہيں۔
ايک ايسا وقت بھي گزرا ہے کہ ملک ميں زندگي کے بنيادي خليوںاور زيست شناسي کے ميدا ن ميںہمارا ملک دوسروں کا محتاج اور دست نگر تھاليکن آج زندگي کے بنيادي خليوں کے علو م تک جو دنيا ميں نہايت اہم ہے،دسترسي حاصل کر لي ہے۔
پيش رفت اور ترقي کا اصل مفہوم!
اب ميں پيش رفت اور عدالت و عدل وا نصاف کے مفہوم کے بارے ميںکچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ميں يہاں صرف اجمالي طو رپر آپ کي خدمت ميں بيان کروںگا۔ پيش رفت سے ہماري کيا مراد ہے؟
پيش رفت و ترقي سے مراد کسي خاص جہت و سمت اور کسي خاص شعبے ميں ترقي نہيں بلکہ ہمہ جہت اور تمام شعبہ ہائے زندگي ميں پيش رفت و ترقي ہے۔يعني تمام شعبہ ہائے حيات ميںترقي او رپيش رفت سے مرادقومي دولت کي پيداوار بڑھانے ميں پيش رفت،علم اور ٹيکنالوجي ميں ترقي ،قومي سطح پر عوام کے اقتدار اور بين الاقوامي سطح پر ملک وقوم کي عزت ميں پيش رفت،اخلاق و معنويت ميں ارتقائي مراحل کا طے کیا جانا،ملک کے امن وامان ميں ترقي ، لوگوں کيلئے اجتماعي اور اخلاقي ميدانوں ميں پيش رفت اورقومي سطح پر فلاح و بہبود کے منصوبوں اورترقياتي کاموں ميں پيش رفت ہے ۔يعني جوکچھ ہمارے پاس اور ہمارے اختيار ميں ہے اُس سے بہتر طور پر استفادہ کريں۔تيل وقدرتي گيس کے ذخائر سے ، موجودہ صنعتوں اور کارخانوںسے مکمل اور صحيح فائدہ حاصل کريں۔
پيش رفت اور قانون کي بالادستي؛ساتھ ساتھ!
يہ پيش رفت اور ترقي قانون کي بالا دستي ،اجتماعي نظم و ضبط ميں بھي ہوني چاہیے۔اگر کوئي معاشرہ اور قوم لا قانونيت کا شکار ہو اور وہاں کے عوام کے ذہن و قلب پر قانون شکني کي فکر سوار ہوتواُس ملک و قوم کوکوئي بھي معقول قسم کي ترقي اور پيش رفت حاصل نہيں ہو گي۔قومي سطح پر اتحا د و يگانگت ،قومي بھائي چارے ميں بھي ترقي ہو ني لازمي ہے۔يہ وہي چيزہے کہ جس کے حصول ميں ہمارادشمن ،اوائل انقلاب سے کوشاں ہے ليکن ہماري قوم نے اُس کے سوئِ استفادے کي تمام راہوں کو اپني ہوشياري اور اتحاد سے مسددو کر دکے اُس ناکام و نامراد کر ديا ہے۔
قوم کے فلاح وبہبود اور ترقياتي کاموں ميںاِس طرح پيش رفت ہو کہ معاشرے کے تمام طبقات فلاحي کاموں سے بہرہ مند ہو سکيں۔سياسي ميدان ميں بھي آگے بڑھنے اور ترقي کرنے کي ضرورت ہے،اِسي طرح سياسي حالات و واقعات کا تجزيہ و تحليل کرنے اور سياسي فہم وبصيرت کو بڑھانے اور تيز کرنے ميں پيش رفت کي ضرورت ہے۔ سياسي مسائل کو بر موقع درک کرنے کي صلاحيت نے ايک فولادي حصار کي مانند ہماري قوم کو اپني پناہ ميں ليا ہو اہے۔
اجتماعي عدل و انصاف کاحقيقي مفہوم!
اب ميں عدالت اور اجتماعي عدل و انصاف کے بارے ميں کچھ نکات عرض کرنا چاہتا ہوں۔
پيش رفت او رترقي اگر عدل و انصاف کے ہمراہ نہ ہوتو اسلام ايسي پيش رفت و ترقي کو پسنديدگي کي نگاہ سے نہيںديکھتا ہے۔ہم اگرقومي دولت سے پيداوار کو بڑھا ئيں اور اُسے عمومي سطح پرايک اعلي درجے تک پہنچا ديںليکن ملک کے اندر طبقاتي نظام اوروسائل وامکانات کي غير عادلانہ تقسيم موجود ہو ،جہاں ايک طبقہ يا کچھ افراد لاکھوں اور کروڑوں ميں کھيليں اور کچھ لو گ فقر فاقہ ميں زندگي بسر کريںتويہ وہ چيز ہے جو اسلام کو مطلوب نہيں ہے۔
اجتماعي عدل وانصاف کو معاشر ے ميں قائم ہو نا چاہیے ۔عدل و انصاف کي فراہمي اور سستے انصاف کو معاشرے کے گھرگھرتک پہنچانے کا معني بہت وسيع اور گہرا ہے جسے اُس کے خاص راستوں سے ہي حاصل کيا جا سکتا ہے۔ہماري نظر ميں عدل و انصاف کي فراہمي در حقيقت ،طبقاتي نظام کو ختم کر کے معاشرے کے تمام طبقات کے درميان موجود فاصلوں کو ختم کرنا اورزميني اور جغرافيائي فاصلوں کومٹانے سے عبارت ہے۔ايسا نہ ہو کہ کوئي شہر ياصوبے کا مرکز يا کوئي صوبہ ملک کے کسي کونے ميں واقع ہواور اُس کا فاصلہ دوسرے شہروں سے زيادہ ہواور وہ امکانات و وسائل سے استفادہ کرنے کے لحاظ سے محروم ہو۔ليکن جو شہر يا صوبہ، ملکي دارالحکومت سے نزديک ہويا ملک کے مرکزي حصے ميں واقع ہوتو وہ زيادہ امکانات و مادي وسائل سے بہرہ مند ہو ۔يہ عدل وانصاف نہيں ہے ۔
طبقاتي نظام اور زميني اور جغرافيائي فاصلوں کو مٹانا!
عدل و انصاف کا حقيقي معنيٰ يہ ہے کہ جہاں طبقاتي نظام اور فاصلوں کو مٹانے کيلئے جدوجہد کي جائے وہيں زميني اور جغرفيائي فاصلوںکو بھي ختم کيا جائے اورملک کے تمام طبقات اور پوري عوام کيلئے امکانات و مادي وسائل سے استفادے کا موقع فراہم کيا جائے ۔ايسا نہ ہو کہ من پسند افراد، اقربائ پروري کے سائے ميں دوسروں پر مقدم کیے جائيںاور جھوٹے اور دھوکہ باز افراد سامنے آئيں۔ہميں ايساکام اور خدمت انجام ديني چاہے جس سے ملک کے تمام عوام ،ملکي وسائل سے بہرہ مند ہوں۔البتہ آپ کي خدمت ميں عرض کروں کہ يہ کام بڑے اہداف سے تعلق رکھتا ہے ليکن ايسا ہدف ہے جسے محنت و جد وجہد سے حاصل کيا جا سکتا ہے۔
عدل و انصاف کي فراہمي کے مصاديق ميں سے ايک مصداق ،مالي خورد برد اور مالي بے ضابطگياں ہے جس سے سنجيدگي سے نمٹنا چاہیے۔ميں نے کئي سال قبل بھي اِ س کو بيان کيا تھا اور بارہا اِس کي تاکيد کي ہے ۔اِس سلسلے ميںاچھے اقدامات بھي کیے گئے ہيںليکن کرپشن اور مالي خورد بر د سے مقابلہ ايک مشکل کام ہے او ريہ اُن امور سے تعلق رکھتاہے جو دوسروںکو انسان کا مخالف بنا ديتا ہے،لوگ يہ قدم اُٹھانے والے کے خلاف افواہيں پھيلاتے ہیں ، فرصت طلب افراد اُ س کيلئے جھوٹ بولتے ہيںاوريہ وہ خطرناک وادي ہے کہ جس ميںسب سے آگے آگے قدم اُٹھانے والاسب سے زيادہ حملوں کا نشانہ بنتا ہے۔يہ مقابلہ ضروري بھي ہے اور اِسے ہر صورت ميں انجام پانا چاہیے۔
وہ افراد جواِس عظيم کام کو خواہ وہ پيش رفت و ترقي کے ميدان ميں يا عدل وانصاف کي فراہمي کے ميدان ميںکو انجام دينا چاہتے ہيں اُنہيں لائق مدير اورمدبر ہونا چاہیے جو اِن چيزوں پر صدق دل کے ساتھ اعتقادرکھتے ہوں۔اِن کا ايسا يقين ہونا چاہیے کہ وہ معاشرے ميں ہر صورت ميں عدل و انصاف کو برقرارکرنے اورکرپشن ،مالي خوردبرد اورديگرمالي بے ضابطگيوں کا مقابلہ کريں۔ايسے افراد کو ايک خاص شجاعت کا حامل ہوناچاہیے، وہ اخلاص کي نورانيت سے منور ہوں، صاحب تدبير اورعزم راسخ کے مالک ہوںاوراُن کي کوشش يہ ہو کہ وہ اِن چيز وں کا عملي جامہ پہناسکيں۔
پيش رفت و ترقي اورعدل و انصاف کي فراہمي کے سلسلے ميں بنيادي قدم وہ مسئلہ ہے جسے ميں نے نوروز کے پيغام ميں اپني قوم کے سامنے عرض کيا اوروہ مسئلہ’’اسراف و تبذيرسے مقابلہ، فضول خرچي سے دوري اورملکي دولت اوربيت المال کو ضائع ہونے سے بچانے کیلئے کفايت شعاري کي مہم کو اپنانے ‘‘سے عبارت ہے ۔البتہ يہ پہلي مرتبہ نہيں ہے کہ ہم نے اس مسئلے کو عوام کے سامنے بيان کيا ہو۔ميں نے متعدد مقامات اورمختلف مناسبتوں پر اسراف وفضول خرچي اورعوامي دولت کي حفاظت کیلئے بہت سے مطالب بيان کیے ہيں ليکن يہ ايک ايسا مسئلہ ہے کہ جس ميں جنتا بھي بولا جائے ،کم ہے ۔
کفايت شعاري کي مہم کو اپنانے کا اصل ہدف
ميں اپني عوام کي خدمت ميں عرض کروں کہ کفايت شعاري کامطلب کسي چيز کو بالکل استعمال کرنا نہيں ہے بلکہ کفايت شعاري کا مقصد
’’ کسي بھي چيز کو صحيح طريقے سے استعمال کرنا، بجا استعمال کرنا،مال کو ضائع نہ کرنا اوراُس چيز کے استعمال کو کارآمداورثمر بخش بناناہے ۔‘‘
مال و دولت اوراقتصاد ميں اسراف اورفضول خرچي کا معنيٰ يہ ہے کہ انسان اپنے مال کو استعمال کرے اوراُسے خرچ کرے ليکن اُس کا يہ استعمال اورخرچ کرنا کارآمد اورموثر نہ ہو۔بیکار استعمال اوربے جا خرچ درحقيقت اپنے مال و دولت کو آگ لگانے کے مترادف ہے ۔ ہمارے معاشرے کو چاہیے کہ وہ اِس شعار کو ايک زندہ حقيقت کي حيثيت سے ہميشہ اپنے سامنے رکھے ۔اِس لیے کہ ہمارا معاشرہ استعمال کرنے اورخرچ کرنے کے لحاظ سے اچھي حالت ميں نہيں ہے ۔
ہماري عادت و اطوار اجتماعي قوانين ، معاشرتي ريت و روايت اورغلط روشيں کہ جنہيں ہم نے اِدھراُدھر سے سيکھ ليا ہے، ہميں چيزوں کے اِس طرح زيادہ استعمال کي جانب کھينچ لے جاتي ہيں جو اسراف و فضول خرچي کے زمر ميں آتا ہے ۔
ملکي پيداوار اوراُسے استعمال کرنے کے درميان ايک تناسب کا ہونا ضروري ہے ، ايسي نسبت جو پيداوار کے نفع ميں ہو يعني ملکي پيداوار ہميشہ ملک و معاشرے کي ضرورت سے زيادہ ہو۔ معاشرے کو چاہیے کہ وہ ملک کي موجودہ پيداوار سے استفادہ کرے اورجو چيز اُس کي ضرورت سے زيادہ ہو اُسے ملک کي تعمير و ترقي کیلئے استعمال ہونا چاہیے ۔آج ہمارا ملک ايسي حالت ميں نہيں ہے اوراشيا کو استعمال اورخرچ کرنے کي ہماري رفتار، ملکي پيداوار سے زياد ہ ہے ۔يہ وہ چيز يںہے جو ملک کو پيچھے دھکيلتي ہیں ، اقتصادي ميدان ميں ملک پر کاري ضربيں لگاتي ہیں اورمعاشرہ اقتصادي مشکلات ميں گھرجاتا ہے ۔
قرآن کريم کي متعدد آيات ميںاقتصادي ميدان ميں اسراف و فضول خرچي سے پرہيز کرنے کي جو تاکيد بيان کي گئي ہے ،وہ اسي وجہ سے ہے ۔اسراف و فضول خرچي نہ صرف يہ کہ ملک کے اقتصاد ومعيشت کي جڑوں کو کھوکھلا کرديتي ہے بلکہ ثقافتي اعتبار سے بھي اُس پرنقصان وارد کرتي ہے ۔وہ معاشرہ جو اسراف و فضول خرچي کي لعنت ميں گرفتار ہوجائے وہ ثقافتي لحاظ سے بھي منفي تاثير رکھتا ہے۔ بنابريں اسراف و فضول خرچي سے پرہيز اورکفايت شعاري کي مہم کو اپنانا صرف ايک اقتصادي مسئلہ نہيں ہے ،يہ اقتصادي بھي ہے اورا جتماعي بھي، ثقافتي بھي ہے اورايسا مسئلہ بھي ہے جس سے ملکي مستقبل کو خطرہ لاحق ہے ۔
انسان کي روز مرّہ زندگي ميں اسراف و فضول خرچي کي مثاليں
انسان کي روزمرہ انفرادي اور گھريلو زندگي ميں بھي استعمال کي چيزوں ميں انفرادي اسراف و فضول خرچي کي جاتي ہے۔شاہانہ ٹھاٹ باٹھ کي طرف جھکاواوررغبت،ايک دوسرے کي ديکھا ديکھي دنيا کي دوڑ ميں لگنا،افرادِ خانہ کي ہو او ہوس،گھر کا مرد،گھر کي خاتون اور گھر کا نوجوان سب ہي مختلف انداز ميں اور مختلف روشوں سے فضول خرچي کرتے ہيں۔غير ضروري چيزوں کي خريداري بھي اسراف و فضول خرچي کے زُمرے ميں آتي ہے۔تجملاتي زندگي اور اشراف زادوں کي روش پر زندگي کو گامزن کرنا،گھرکي آرائش کي چيزوں کي خريداري ، صوفہ سيٹ اوراندروني تزئين و آرائش کے لوازمات(جن پر لوازمات کا نام تو لگايا جاتا ہے ليکن اُن کا انساني زندگي سے کوئي تعلق نہيں ہوتا)يہ وہ چيزيں ہيں کي جن کي خريداري کيلئے ہم پيسہ خرچ کرتے ہيں۔يہي پيسہ جو ملکي پيداوار کو بڑھانے ميں کارآمد ثابت ہوسکتا ہے ،ملکي سرمايہ گزاري ميں ايک اہم کردا ر کو ادا کر سکتا ہے ،ملکي ترقي کو آگے بڑھانے ميں معاون ثابت ہو سکتا ہے اورفقرا و مساکين کا ہاتھ تھام سکتا ہے ۔ہم اِس تمام دولت کو اپني ہو او ہوس اور خواہشات نفساني ،ايک دوسرے کي ديکھا ديکھي اور خيالي عزت و آبرو سے سے جنم لينے والي چيزوں ميں خرچ کر ديتے ہيں۔غير ضروري سفر ،آنا جانا،دکھاوے او ر ظاہري شان وشوکت کو بڑھانے کيلئے دعوتيںمنعقد کي جاتي ہيں۔کبھي کبھي تو حج اور عمرے کے وليمے پر منعقد کي جانے والي دعوتوں کا خرچہ خود حج اور عمرے سے زيادہ ہو تا ہے!شادي بياہ کي تقريبات اور مجلس و عزا ميں پيش کیے جانے والے طعاموں کے اخراجات بالکل بيکار اور بغير کسي منطقي مقصد کے ہو تے ہيں۔رنگ برنگي غذائيں اور کھانے !آخر ايسا کيوں کيا جاتا ہے؟ہمارے ملک ميں ابھي بھي ايسے بھي افراد موجود ہيںجو زندگي کي ابتدائي سہوليات سے بھي محروم ہيں۔ہم يہ نہيں کہتے کہ آپ اپنا سارا مال و دولت اُٹھا کرخدا کي راہ ميں خرچ کر ديں.البتہ اگر انسان خدا کي راہ ميں انفاق کرے تو يہ بہترين کام ہے۔ليکن اگر آپ انفاق نہ بھي کريں تو تو يہ پيسہ جو اِس قسم کي فضول دعوتوں ميں ضائع ہو جاتا ہے،اِس سے اپنے کام و تجارت اور پيداوار کو بڑھائيں۔آپ اِسي پيسے سے اپنے ملک کے کارخانوں اور صنعت ميں شريک ہوکر اُس کي پيداوار بڑھانے ميں مدد کر سکتے ہيں۔ انفاق نہ بھي کرنے کي صورت ميں آپ کا پيسہ ملکي ضروريات کو پورا کرنے کے کام آسکتا ہے۔ليکن ہم اِس قسم کے مفيد کاموں کو انجام دينے کے بجائے فضول دعوتوں کا اہتمام کرتے ہيں،فضول خرچي والي مجالس عزا منعقد کرتے ہيں اورہر دن ايک نئے سے نئے قسم کے لباس و خوراک کا انتظام کرنے کي فکر ميں لگے رہتے ہيں؛ہم ايسا آخرکيوں کرتے ہيں؟آخر اِ ن چيزوں کي کيا ضرورت ہے؟عقلائے عالم بھي يہ کام انجام نہيں ديتے ہيں اوريہ بھي جان ليں کہ يہ صرف دين کي ہي بات نہيں ہے جو ہميں فضول خرچي سے پرہيز کرنے کي تاکيد کرتاہے۔
اسراف اورفضول خرچي سے پرہيزکرنے پرقرآن کي تاکيد
قرآن کريم اِس سلسلے ميں کہتا ہے:
’’وَلَا تُسرِفُوا اِنَّ اللّٰہَ لَا يُحِبُّ المُسرِفِينَ ‘‘
اوراسراف وفضول خرچي نہ کرو،بے شک اللہ تعاليٰ فضول خرچي کرنے والوں کو پسند نہيں کرتا۔
’’کُلُوا وَاشرَبُوا وَلَا تُسرِفُوا ‘‘
کھاو پيواو ر اسراف نہ کرو۔
ايک اور آيہ شريفہ ميں ارشاد ربّ العز ت ہو تا ہے:
’’کُلُوا مِن ثَمَرِہِ اِذَا اَثمَر َوَ اٰتُوا حَقَّہُ يَومَ حِصَادِہِ وَ لَا تُسرِفُوا اَنَّہُ لَا يُحِبُّ المُسرِفِينَ ‘‘
خدا وند عالم اسراف و فضول خرچي کرنے والوںسے محبت نہيں کرتا۔
ہم خدا کے بندے ہيں اوريہ دين و قرآن کي باتيں ہيںاورہميں خدا کا بندہ ہونے کي حيثيت سے خدا کي باتيں سنني اور اُن پر عمل کر نا چاہیے۔اِس سلسلے ميں بہت سي روايات موجود ہيں۔
ايک روايت ميں ہے:
’’کسي شخص نے آدھاپھل کھايا اور آدھاپھل چھوڑ کر اُسے پھينک ديا۔توامام نے اُسے سختي سے ڈانٹا کہ تم نے اسراف کيوں کيا۔ ‘‘
روايات ميں آيا ہے:
’’کھجور کي گٹھلي سے بھي استفادہ کرو۔ ‘‘
اسلام ہميں اِس حد تک اسراف و فضول خرچي سے پرہيز کرنے کي حکم ديتا اوراُس کي تاکيد کرتا ہے! ہميں چاہیے کہ روٹي کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو بھي استعما ل کريںاوراُس وقت ہوٹلوں اور ريسٹورنٹوں ميں روٹيوں کے ٹکڑوں کو اُٹھا کر پھينک ديا جاتا ہے!!کيا يہ ايک اسلامي معاشرے کے شايان شان ہے؟کيا اِس طرح اجتماعي عدل انصاف تک پہنچاجا سکتا ہے؟
زندگي کے دوسرے شعبوں مي اسراف کا معنيٰ
ہميں اپني اصلاح کرنے کي ضرورت ہے۔اِسي طرح ملک و معاشرے ميں اشيائ کے استعمال اور اخراجات کے نظام کي بھي اصلاح ہو ني چاہیے۔اشيا کو استعمال کرنے اور اخراجات کے سلسلے ميں ہمارا آئيڈيل غلط ہے ؛ہم کس طرح کھائيں ؟ہم کيا کھائيں؟کيسا لباس پہنيں؟بس ہم نے موبائيل فون کو اپني جيب ميں ڈال ليا ہے اور جيسے ہي ايک نئے ماڈل کا موبائيل فون بازار ميں آتا ہے تو ہم اُس پرانے ماڈل کے موبائيل فون کو اُٹھا کر دورپھينک ديتے ہيںاورہمارے ذہن ميں بس يہي فکرمسلط ہو تي ہے کہ کسي بھي طرح اُس نئے ماڈل کے موبائيل فون کوفوراً خريد ليں!آخر کيوں؟يہ خواہشات نفساني کي پيروي ہے جس کے دام ميں ہم گرفتار ہو چکے ہيں۔
اِس سلسلے ميں اعليٰ حکام پر سنگين ذمہ داري عائد ہو تي ہے۔اسراف و فضول خرچي صرف انسان کي انفرادي زندگي ميں ہي نہيں ہو تي ہے بلکہ فضو ل خرچي کا دائرہ کار ايک قوم کے کاموں کو بھي اپني پليٹ ميں لے ليتا ہے۔ہم نے بجلي اور انرجي (تيل ،قدرتي گيس وغيرہ )کے بارے ميں عرض کيا کہ اِس ميں بھي اسراف ہو تا ہے۔اِس اسراف کا زيادہ حصہ عوام کے دائرہ کار سے باہر ہے اور ملکي حکام کے ہاتھوں ميں ہے۔يہ کيمونيکيشن نيٹ ورک،بجلي کو منتقل کرنے والا نيٹ ورک او ربجلي کي تاريں جب پراني اور فرسودہ ہو جاتي ہيںتو اِن سے منتقل ہو نے والي بجلي ضائع ہو تي ہے۔ہم محنت و مشقت سے بجلي پيد اکريں اور اِس پرانے اور فرسودے نظام اور نيٹ ورک سے بجلي کو ضائع و برباد کرديں۔آب رساني کے ذرائع اگر پرانے ہو جائيںتو بہت سا پاني ضائع ہوتاہے۔يہ سب قومي اسراف و فضول خرچي کي مثاليں ہيںجو قومي سطح پر انجام پاتي ہيں۔
کفايت شعاري کي جس مہم کا اپنانا ہمارے لیے لازمي و ضروري ہے وہ پيداوارسے ملک و معاشرے ميں استعمال اور وہاں سے دوبارہ اُسے ملک و قوم کي تعمير و ترقي ميں استعمال کرنے سے عبارت ہے۔
ملکي مسائل
انتخابات،اسلامي نظام کي اساس و بنياد
ملکي مسائل ميں ميں سال رواں ميں منعقد ہو نے والے انتخابات ہيں کہ جن کے بارے ميں اشارہ کرنا چاہتا ہوں۔ميں يہاں صر ف چند نکات کي ياد آوري کا طالب ہوں۔
سب سے پہلي بات يہ کہ ہمار ے ملک ميں انتخابات کو ئي نمائشي ، ظاہري اورکھوکھلے انتخابات نہيں ہيں بلکہ يہ انتخابات ہمارے ملک کے اسلامي نظام کي اساس و بنياد ہيں۔ عوامي ديني حکومت واقتدارکو عملي جامہ پہناناکوئي ايسا مقصد و ہدف نہيں ہے کہ جسے صرف باتوں کے ذريعہ حاصل کيا جائے ۔عوامي ديني حکومت و اقتدار ،عوام کي شرکت ،اُن کي ملکي و بين الاقوامي مسائل ميں موجودگي اورملکي مسائل ميںفکري ،عقلي اور جذباتي تعلق و لگاو سے تشکيل پاتي ہے اور اِس چيزکا حصول بھي ايک منصفانہ انتخابات اور عوام کي بھر پور شرکت کے بغير ممکن نہيں ہے۔يہ عوامي حکومت و اقتدار درحقيقت ايراني قوم کي استقامت و ثابت قدمي کا عامل ہے۔
يہ آپ تھے کہ جنہوں نے اسلامي انقلاب ي کاميابي کے بعد اِن تيس سالوں ميںبڑي طاقتوں کي دھمکيوں سے ذرہ برابر بھي خوف محسوس نہيں کيااوريہ آپ کي استقامت کا نتيجہ ہے کہ بڑي طاقتيں بھي آپ کو صرف ڈر نے دھمکانے کے علاوہ کوئي اور کا م انجام نہيں دے سکيں۔اِ ن سب باتوں کا نتيجہ يہ ہو اکہ آج آپ کي قوم کے نوجوان مختلف شعبہ ہائے زندگي ميں قدم رکھتے ہوئے اپني شجاعت و خلوص کو ظاہر کر رہے ہيںجو بذات خود آپ کي عوامي ديني حکومت و اقتدار کا نتيجہ ہے۔ہميں اِ س کي بہت زياد قدر کرني چاہیے ۔
انتخابات ؛ملکي مسائل ميں ايک عظيم نوعيت کي سرمايہ گزاري!
انتخابات ،ملکي مستقبل کيلئے ايراني قوم کي بڑي اور عظيم نوعيت کي سرمايہ گزاري ہے۔اِس کي مثال بالکل ايسي ہي ہے کہ جيسے آپ کسي بينک ميں اپني خطير رقم کي سر مايہ گزاري کرتے ہيںاوربينک ميں اپنا’’ بچت کھاتہ‘‘(سيونگ اکاونٹ)کھول کراُس ميںاپني خطير رقم کر ڈالتے ہيں اوراُس کا منافع ١ حا صل کرتے ہيں،انتخابا ت بھي بالکل ايسي ہي چيز ہے۔ايراني قوم اِن انتخابات کے ذريعے ايک عظيم نوعيت کي سر مايہ گزاري کرتي ہے اوراپنے ’’بچے کھاتے‘‘ ميں اپني رقم رکھ کر اُس کا منافع حاصل کرتي ہے۔عوام ميں سے ايک ايک شخص کا ووٹ در حقيقت آپ کي سرمايہ گزاري اور بچت کھاتہ ہے۔آپ بليٹ بکس ميں اپنا ووٹ ڈالتے ہيںتو يہ بالکل ايسا ہي ہے جيسے آپ اپنے مستقبل کيلئے اُس بچت کي رقم کو ڈا ل رہے ہيں۔
انتخابات،ايک ملک و قوم کي مستقبل سے تعلق رکھتا ہے
انتخابا ت کے سلسلے ميںسب سے پہلے درجے پر ميري سب سے پہلي کو شش يہ ہے کہ ميں آپ سے عرض کرو ں کہ انتخابات ميں عوام کي شرکت بہت لازمي اور اہم ہے اور يہ اسلامي جمہوريہ کے اسلامي نظام کي تصديق وتائيد کرنے اور اُس کي بنيادوں کو مستحکم بنانے کے مترادف ہے۔انتخابات اور اُس ميں عوام کي بھرپور شرکت کا مسئلہ ايک قوم کاصرف سياسي ،ايک شخص کا انفرادي اوراخلاقي مسئلہ نہيں ہے بلکہ يہ ہمہ جہت مسئلہ ہے۔انتخابات ،عوام کي سرنوشت و تقدير سے سروکار رکھتا ہے اور خاص طور پر صدارتي انتخابات يعني جس ميں آ پ ملک کے موجودہ حالات او رمستقبل کي باگ ڈوراور اُس کي اجرائي قوت ايک آدمي اور اُس کي کابينہ کے ہاتھوں ميں دے دیتے ہيں جو کچھ سالوں کيلئے ملک کو چلاتے ہيں۔انتخابات اتنے زيادہ اہميت کے حامل ہيں۔
صدارتي اُميدواروںسے گزارش
ايک بات صدارتي انتخابات کے اُميدواروں سے عرض کرنا چاہتا ہوں۔
جو افراد صدارتي اُميد وار بننا چاہتے ہيں،اُنہيں يہ بات جانني چاہیے کہ انتخابات ملکي طاقت و توانائي کو بڑھانے اورقوم کو عزت و آبرو بخشنے کا ذريعہ ہيں؛انتخابات قدرت طلبي کا وسيلہ نہيں ہيں۔اگر طے يہ ہوکہ يہ انتخابات ہماري قوم کيلئے منعقد کیے جائيں تو اُميد واروں کو چاہیے کہ اِسے اہميت ديںاوراپني انتخابي مہم ميں ،اپنے بيانات ميںاوراپنے وجودسے اُس کي عملاًرعايت کريں۔کہيں ايسا نہ ہو کہ صدارتي انتخابات کے اُميد وار اپني انتخابي مہم کے دوران ايسا طرزِعمل اختيار کريںاورکوئي ايسي بات کريں يا کوئي ايسا بيان ديں جو دشمن کے حرص و طمع کو زيادہ کردے۔
اُنہيں چاہیے کہ صدراتي انتخابات ميںاپني رقابت اور مقابلے کو منصفانہ کريںاورانصاف کا دامن اپنے ہاتھ سے جانے نہ ديں۔ايک انتخابي اُميد وار کابيان دينا اوراپنے مد مقابل اُميد وار کي باتوں کو رد کرنا ايک انتخابي مہم کا لازمي اور فطري حصہ ہے او ر في نفسہ اِس ميں کوئي قباحت و اعتراض نہيں ہے۔ليکن يہ اِس بات سے مشروط ہے کہ اِس ميں بے انصافي نہ برتي جائے اورحقيقت کا کتمان کرنے سے پرہيز کياجائے۔يہ ميدان سب کيلئے کھلا ہوا ہے اوراُنہيں اِس بات کا پورا پورا موقع حاصل ہے کہ وہ آئيں اور اپنے آپ کو عوام کے سامنے پيش کريں۔انتخا ب کا حق اور اختيار ،عوام کے پاس ہے؛عوام جس طرح بھي سمجھے،اُنہو ںنے اچھے کو تشخيص ديا اوراُن کي ہوشياري نے اُ ن کي مدد کي تو وہ انشائ اللہ اُسي طرح عمل کريں گے۔
رہبر ،خدمت گزار حکومتوںکي حمايت اور اُن کا دفاع کرتاہے!
انتخابات کے سلسلے ميں ميں ايک اور اہم بات آپ کي خدمت ميں عرض کرتا چلوںاوروہ يہ ہے کہ انتخابات کے مسئلے ميں آپ کے رہبر گاہے بگاہے مختلف قسم کي گمان زني اورافواہوںوغيرہ کا نشانہ بنتا رہا ہے اور اوربنتا رہے گا۔
مير ابھي ايک حق رائے دہي اور ووٹ ہے جسے ميں بليٹ بکس ميں ڈالوں گااور صدارتي اُميدواروں کي فہرست ميں شامل ايک شخص کيلئے اپنا ووٹ استعمال کروں گا۔ميں کبھي بھي کسي سے بھي يہ نہيں کہوں گا کہ کس کو ووٹ دے او ر کس کوووٹ نہ دے،تشخيص دينا آ پ کا کام ہے۔
ميں کبھي کبھي حکومت اوراُن کے کاموں کي حمايت اوراُن کا دفاع کرتاہوںتو بعض لوگ کو شش کرتے ہيں کي ميري اِس حمايت کو نا درست اور جعلي قرار ديں۔ايسي بات نہيں ہے ،ميں ہميشہ بر سر اقتدار آنے والي حکومتوں کي حمايت و دفاع کرتا ہوں۔ہاں يہ بات ضرور ہے کہ جب کسي حکومت پر ملکي سياست کي وجہ سے زيادہ حملے ہوتے ہيںاورميں اِس بات کو محسوس کرتا ہوں کہ اُس پر غير منصفانہ حملے ہو رہے ہيںتو ميں اُس کازيادہ دفاع کرتا ہوں۔ميں عد ل وانصاف کي بالادستي چاہتاہوںاور يہي کہتا ہوں کہ ميںہميں ہميشہ منصف رہناچاہیے۔ہميں لوگوں کے اعمال او راخلاق و کردارپر توجہ کرني چاہیے اوراِس بات کا انتخابات سے کوئي تعلق نہيں ہے بلکہ يہ انصاف اور بے انصافي کي بات ہے۔ملک و قوم کي خدمت کرنے والے افراد کي حمايت ايک ايسا وظيفہ ہے جس ميں ميں بھي شامل ہوں اور دوسرے بھي اوراِس کا انتخابي بيان اورانتخابات ميںکسي اُميد وار کي ممکنہ کاميابي کيلئے عوام کواشارہ دينے سے کوئي تعلق نہيں ہے۔ميں ہر اچھے عمل،قدم ،ہر پيش رفت و ترقي ،عوام کيلئے کي جانے والي ہرخدمت ،معاشرے کے محروم اور پسماندہ طبقے کي دلجوئي و دستگيري کرنے اور ظلم و استکبارکے مقابلہ ميںاستقامت دکھانے جيسے کاموں کاکھلے دل اور خندہ پيشاني سے استقبال کرتاہوںاور جو بھي اِس کام کو انجام ديتاہے اُس کا شکريہ اور قدر داني کرتاہوں،وہ جو بھي حکومت ہو اور کوئي بھي شخص ہو،يہ ميرا وظيفہ ہے۔
بين الاقوامي مسائل:
ايران اور امريکا کے مذکرات و تعلقات!
بين الاقوامي مسائل کے سلسلے ميں ميں صرف ايک مسئلے کي جانب اشارہ کرتاہوںاوروہ ہمارا او رامريکا کے درميان تعلقات کا مسئلہ ہے۔اسلامي انقلاب کے اوائل ہي سے انقلاب اور ہم کو جن امتحانات اور آزمائشوں کاسامنا رہا ہے ،اُن ميں سے ايک امتحان و آزمائش يہي مسئلہ ہے۔جس دن سے اسلامي انقلاب کامياب ہو ا ہے ، اُسي د ن سے امريکي حکومت سے مقابلے ميں مختلف قسم کے معاملات کو ساز گار بنانے يا ہم پر ظلم و زيادتي کرنے کا ايک ميدان يہي تھا۔انقلاب کے پہلے ہي دن سے امريکي حکومت ،ايراني قوم کيلئے ايک بڑا امتحا ن او ربڑ اچيلنج بن کر سامنے آئي ہے۔انقلاب کي ابتدا ئي دنوں سے امريکي حکومت نے اِس اسلامي انقلاب سے اپناچہرہ کو بگاڑتے ہوئے ہماري مخالفت پر اپني کمر کو کس ليا ہے۔البتہ اُن کو اپني سياسي پاليسيوں اور سياسي حساب کتاب کے مطابق اِس بات کا حق بھي حاصل تھا۔
امريکا ،ايران کا مخالف کيوں ہے؟
اسلامي انقلاب سے قبل کا ايران اُن کي مٹھي ميں تھا،اُس کے تما م قدرتي اور معدني ذخائر امريکا ہي کے قبضہ قدرت ميں تھے ،ملک و قوم کے مستقبل کا فيصلہ کرنے والے اہم اداروں پر امريکا کا شديد اثر و نفوذ قائم تھا،حساس ادارو ں ميں افراد کے عزل و نصب کا اختيار بھي امريکيوں ہي پاس تھاالمختصر يہ کہ اسلامي انقلاب سے قبل کا ايران امريکيوں ، اُس کے فوجيوں اوردوسري بڑي اور لالچي طاقتوں کيلئے ايک چراگاہ کي حيثيت رکھتاتھا۔ليکن اسلامي انقلاب کے نتيجے ميں يہ ايران اُن کے چنگل سے نکل گيا۔وہ چاہتے تو اِس طرح اپني مخالفت و دشمني کا اظہار نہ کرتے ليکن امريکي حکومت نے خواہ وہ اُن کي جمہوري جماعت کے صدر ہويا پھرڈيموکريٹک پارٹي کے صدور ِ مملکت، اسلامي انقلاب کي ابتدا ہي سے اُنہوںنے ہمارے اسلامي نظام کے ساتھ برا سلوک اختيار کيااوريہ کوئي ايسي چيزنہيں ہے جو کسي پر پوشيدہ ہو ۔
ايران کے خلاف امريکادشمني کي چند زندہ مثاليں
١:ايران اورايران سے باہر منافقين اوردشمنوںکو پروان چڑھانا
سب سے پہلا اقدام جو امريکيوں نے اسلامي انقلاب کے خلاف انجام ديا وہ گوشہ وکنار ميں پھيلے ہوئے اسلامي جمہوريہ ايران کے دشمنوںکو ايران اوراُس کے نئے تاسيس شدہ اسلامي نظام کے خلاف اُکسانا اورملک ميںآزادي خواہي کي تحريکوں اوردہشت گرد عناصرکي امدادتھا۔ملک کے ہر گوشہ وکنار ميں جہاں بھي آزادي خواہ تحريکو ںکو اُکسانے اور پروان چڑھانے کي راہ ہموار تھي،ہم نے وہاں امريکہ کے قدموں کو نشانات کو ہي ديکھاہے؛کبھي اُن کے ڈالروں کو ديکھا اور کبھي خود امريکيوں کے منحوس وجود کا مشاہدہ کيا۔افسوس يہ کہ آج بھي اُن کي يہ فعاليت جاري و ساري ہے۔
پاکستان اور ايران کي سرحدوں پر موجود فتنہ وفساد برپا کرنے والے عوامل ،امريکيوں سے مرتبط ہيںيعني مواصلاتي نظام اوروائر ليس کے ذريعہ اُن سے باتيںکرتے اوراُن سے لائحہ عمل ليتے ہيں۔ہمارے ہمسايہ ملک ميں ايک ايسا آدم کش ،قاتل و سفاک دہشت گردگروہ موجود ہے جو امريکي افسروںسے ملاہوا ہے!افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اُن کي يہ فعاليت آج بھي جاري ہے۔يہ امريکيوں کے کام اور اسلامي انقلاب سے اُن کي دشمني کي ابتداتھي۔
٢:ايراني اثاثوں کو بيرون ملک ميں منجمد کرنا
اُس کے بعد اُن کي اسلامي نظام سے دشمني کا اگلامرحلہ بيرون ملک موجودايراني اثاثوں اور قومي دولت و ثروت کو منجمد کرنا تھا۔پہلوي حکومت نے بغير کسي حساب کتاب کے ايک خطير رقم امريکيوں کے پاس رکھوائي تھي تاکہ وہ اُن سے ہوائي جہاز ،ہيلي کاپٹراوردوسرا اسلحہ خريدے۔اِن ميں سے بعض کو تو ايران بھيجنے کيلئے تيار کر ليا گياتھاليکن جيسے ہي ايران ميں اسلامي انقلاب آيا تو اُنہوں نے وہ وسائل اور اسلحہ ہميں نہيں ديا اورہمارے اربوں ڈالرہڑپ کر گئے ۔
سب سے عجيب بات تو يہ کہ اُنہوں نے يہ سارے وسائل اور اسلحہ ايک گودا م ميں جمع کيا ہو اتھا اور وہاں اُن کي حفاظت کر رہے تھے ليکن اسلامي انقلاب آتے ہي اُنہوں نے اُس اسلحہ پر قبضہ جما ليااورخود اُس کے مالک بن بيٹھے اور ساتھ ہي ايران اور امريکا کے درميان ہو نے والے اسلحہ کے معاہدے سے الجزائر ميں موجود اسلحہ گودام کو سر بمہرکر ديا!يہ وہ اُن کي خصومانہ رفتار تھي جو اسلامي انقلاب کے بعد سے فوراً ہي شروع ہو گئي اورآج بھي جاري ہے۔اِن تمام سالوں ميں ہم نے جب بھي اُ ن سے رجوع کياآپ ہمارے مال و ثروت کو ہميں لوٹاديں،اِنہوںنے اسلحہ فروخت کرنے کے عوض ہم سے پيسہ ليا تھاتو يہ کہنے لگے کہ يہ سب تو امريکي لائسنس کے تحت ہے اور امريکي حکمراں اِس بات کي اجازت نہيں ديتے ہيں يوں آج بھي يہ ہماري قومي دولت اُن کے قبضے ميں ہے!
٣:صدام کو ايران کے خلاف جنگ پر اُکسانااوراُ س کي مکمل پشت پناہي
يہ وہ لوگ ہيں جنہوں نے صدام کو سبز باغ دکھائے اور اُسے ايران کے خلاف اُکسايا۔ يہ اسلامي جمہوريہ ايران کے خلاف حملہ کرنے کاامريکيوں کاايک اور قدم تھا۔صدام اگر امريکيوں کے اشارے پر ايران پر حملہ نہيں کرتاتو اِس بات کا امکان بعيد تھا کہ وہ ہمارے سرحدوںپر حملہ کرتا۔اِن طاقتو ںنے آٹھ سال تک ہم پر جنگ مسلط کي ۔ اِس جنگ ميں تقريباً تين لاکھ نو جوا ن اور عوام شہيد ہوئے ۔اِن آٹھ سالوں ميں خصوصاً جنگ کے آخري سالوں ميں امريکيوں نے کھل کر صدام کي مدد کي ،اُنہوں سے اپنے ڈالروں سے صدام کي مدد کي ،اسلحے سے اُس کے ہاتھ مضبوط کیے ،سياسي ماہرين کے ذريعے سے اُ س کي فتح و نصرت کو کامياب بنانے کي پوري پوري مدد کي اورميڈيااورذرائع ابلاغ کے ذريعہ سے اُس کو دنيا ميں مظلوم اورايران کو ظالم بنانے کي کوشش کي ۔يہ لوگ اپني سيٹيلائٹ کے ذريعہ سے ہماري فوج کے نوجوانوں کي نقل و حرکت کو ديکھ کر اُسے محفوظ کر ليتے تھے اور راتوں رات اُسے صدام کے پاس بھيج ديتے تھے اوروہ ہم پر حملہ کرتا تھا۔
٤:حلبچہ شہر پر کيميائي بموں سے حملہ
اِن لوگوں نے صدام کے جنگي اور ديگر جرائم کے مقابلے ميں اپني آنکھو ں کو بند کر ليا تھا۔حلبچہ شہر ميں صدام نے کيميائي بموں سے حملہ کيااور ہزاروں بے گناہ افراد کو شہيد کر ديا۔ہمارے متعدد شہروں ميں بسنے والے نہتے اوربے گناہ شہريوں کو ميزائيلوں سے کئي دفعہ نشانہ بنا يا گيا،گھروں کو مسمار کيا گيااورکيميائي ہتھياروں اور بموں سے حملے کیے گئے ليکن اِ ن سب نے اپني آنکھيں بند کي ہو ئيں تھيں۔يہ لوگ نہ صرف کويہ کہ صدام پر اعتراض نہيں کرتے تھے بلکہ اُس کي مدد کرتے تھے۔
٥:مسافر بردار ائير بس کو نشانہ بنانا
اِس کے بعد جنگ کے اواخر ميںخليج فارس پر سے گزرنے والے ہمارے مسافر بردار ائير بس طيار ے کو امريکي بحري بيڑے کے ايک افسر نے ميزائيل سے نشانہ لے کر اُس گراديا۔اُس طيارے ميں سوار تقريباًتين سو مسافر تھے جو سبھي ہلاک ہو گئے ۔اِس المناک واقعہ کے بعد بجائے اِس کے کہ اُس فوجي افسر کے اِس قبيح کام کي مذمت کي جاتي ،اُس وقت کے امريکي صدر نے اُسے شاباش دي اور اُسے انعام واکرام سے نوازتے ہوئے اُسے فوجي اعزاد يا!
کياہماري قوم اِن سب کو فراموش کردے؟کيا ہماري قوم اِن تمام حالات و واقعات کو بھول سکتي ہے؟ يہ وہ لوگ ہيں جنہوں نے اندرون ملک مرد و عورت ،بورھے و جوان اور بچوں پر بھي رحم نہ کرنے والوں،جماعتوں کو ہلاک کر نے والوں،بزرگ علما کو موت کے گھاٹ اتار نے والے منافقوں کي مکمل حمايت اور پشت پناہي کي اوراِنہيں اِس بات کي کھلي اجازت اور چھوٹ دي کہ وہ اُن کے ملک ميں فعاليت انجام ديںاوروہاں آزادانہ طورپر رہتے ہوئے ہمارے ملک کے خلاف زہر اُگليں۔اِس تمام مدت ميں تما م امريکي صدور مملکت نے خصوصاً آٹھ سالہ جنگ کے دوران امريکي صدر نے ہر وقت ہمارے ملک و قوم ،اعليٰ حکام اوراسلامي جمہوريہ ايران کے نظام کے خلاف جب بھي بات کي تو صرف بکواس کي اور بے سر و پير کي اُڑائي اورہماري عوام کي اہانت و تذليل کي۔
٦:مشرق وسطيٰ کے امن و امان کو خطرے ميں ڈالنا
يہي وہ طاقتيں ہيں جنہوں نے اِس خطے اورخليج فارس کے امن امان کو خطرے ميںڈالا،افغانستان اورعراق ميں قتل و غارت کا بازار گرم کيا،اسلامي جمہوريہ ايران سے مقابلہ کرنے کي غرض سے اور درحقيقت اپني اسلحہ ساز فيکٹريوں کي جيبوں کو بھرنے کيلئے انواع واقسام کے جديد اسلحے کا رُخ اِس خطے کي جانب موڑ ديا۔
غزہ ميں پانچ ہزار بے گناہوں کي قاتل صہيوني حکومت کي مکمل حمايت
يہ وہ لوگ ہيں جنہوں نے صہيوني حکومت کي بے قيد و شرط حمايت کي ۔يہ وہ ظالم حکومت ہے جس کے ايک ظلم و ستم کي مثال آپ نے دو تين ماہ قبل غزہ ميںصہيوني بربريت کي شکل ميں ملاحظہ کي۔اِس سفاک حکومت نے کتنے ہي معصوم بچوںکو موت کے گھاٹ اتارا،کتنے مر دو زن کو موت کي نيند سلا ديااور کل بائيس دنوں ميں اِنہوں نے گوليوں،بموں اور ميزائيلوں سے پانچ ہزار انسانوں کا خون کيا!اِس کے باوجود امريکا نے اِس حملے کے آخري لمحات تک صہيوني حکومت کي حمايت کي ۔جب بھي سلامتي کونسل نے صہيوني حکو مت کے خلاف قرارداد پاس کرنے کي کو شش کي توامريکا سينہ سپر کر کے سامنے آگياور اُس کا دفاع کرتے ہوئے اُنہيں قرارداد پاس کرنے کي اجازت نہيںدي۔
يہ وہ ہيںجنہوں نے موقع و بے موقع ہمارے ملک کو دھمکياںديں۔ہميشہ ڈراتے دھمکاتے رہے کہ ہم حملہ کرنے والے ہيں،جنگي حملوں کے نقشے ہماري ميزپر پھيلے ہوئے ہيںاور ہم ايسا کريں گے ويسا کريں گے۔ليکن اُ ن کي اِن دھمکيوںکا ہماري قوم پر کوئي اثر نہيں ہوا۔چند سال قبل ايک امريکي ذمہ دار افسر نے يہ اعلان کيا کہ’’اب ہر صورت ميںايراني قوم کي بنيادوں کو اُکھيڑ دينا چاہیے!‘‘
٧:اقتصادي محاصرے
اِنہوں نے اسلامي انقلاب کي کاميابي کے بعد اِن تيس سالو ں ميں ہمارا اقتصادي محاصرہ کياليکن يہ تمام اقتصادي محاصرے ہمارے نفع و فائدے پر ہي ختم ہوئے ۔ہم اِس سلسلے ميں امريکيوںکا شکريہ ادا کرتے ہيںکہ اگر وہ ہمارا اقتصادي محاصرہ نہيں کرتے تو آج ہم علم وٹيکنالوجي کي جس بلندي پر ہيں ،اُس پر نہيں پہنچ پاتے۔اِن اقتصادي محاصروں نے ہميشہ ہميں مجبور کيا کہ ہم ہوش ميں رہيں،اپني فکر کريںاوراپنے پيروں پر کھڑے ہوں۔وہ ہماري خدمت کرنے کے خواہاں نہيںتھے بلکہ وہ تو ہم سے دشمني کرنا چاہتے تھے ۔
امريکہ کي جانب سے ايران کيلئے مذکرات اوردوستي کا ہاتھ بڑھانے کا فلسفہ
کہتے ہيںکہ ہم نے اِن تيس سالوں ميں مسلسل ايران کي جانب دوستي کا ہاتھ بڑھايا ہے!
جناب والا ذرا اِس بات کي تو وضاحت کر ديجئے کہ يہ کون سي دوستي کا ہاتھ ہے؟ہاں اگر آپ کي جانب سے دوستي کا ہاتھ بڑھايا گيا ہے کہ جس پر آپ نے دستانے پہن رکھے ہوںاوراُس کي ظاہري جلدي بڑي نرم و ملائم ہوليکن اُس کے نيچے زہر اور دشمني ميں ڈوبا ہوا ہاتھ تو اِس ميں تو کوئي اچھي کي بات نہيں ہے۔ايک طرف ايراني قوم کو اُس کي عيد پر تبريک پيش کرتے ہيں اور دوسري جانب ايراني قوم کو دہشت گردي کا حمايتي و طرفدار، ايٹمي اسلحہ بنا نے ميں ملزم قرار ديتے ہوئے اُس پراِسي قسم کي دوسري چيزوں کا الزام لگاتے ہيں!
امريکي صدر صاحب !آپ کون سي تبديلي کي بات کر رہے ہيں؟
مجھے نہيں معلوم کہ امريکا ميںفيصلہ کرنے والا کون ہے؟امريکي صدر ياسينٹ؟يا پھرپس پردہ کوئي اور عناصر ؟ليکن ميںيہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے پاس عقل و منطق ہے اورہم نے منطق ہي کے ذريعہ آگے حرکت کي ہے۔ہم اہم مسائل کے بارے ميں جذباتي نہيں ہيں اور از روئے جذبات و احساسات فيصلے نہيں کرتے ہيں بلکہ ہم حساب کتاب سے فيصلے کرتے ہيں۔
امريکي ہم سے کہتے ہيںکہ آو مذکرات کرواوراچھے اور دوستانہ روابط برقرار کرواوراِس سلسلے ميں مختلف قسم کے نعرے لگاتے ہيں۔
جناب والا!پہلے يہ تو بتائيے کہ تبديلي کہاں واقع ہوئي ہے؟
آپ کون سے تبديلي اور تغير کي بات کر رہے ہيں؟
يہ تو ہمارے لیے واضح کر ديںکہ آپ نے اِس سالم دوستي کي فضا برقرارکرنے کيلئے کون سا کام انجام ديا ہے؟
کيا ايراني قوم سے آپ کي دشمني ختم ہو گئي ہے؟
اگر آپ کا جواب مثبت ميں ہے تو بتائيے کہ اِس کي نشاني کہاں ہے؟
کيا آپ نے ايراني قوم کے منجمد اثاثے آزاد کر دئيے؟
کيا آپ نے ايراني قوم پر لگائي جانے والي اقتصادي پابنديوں کو اُٹھا ليا؟
کيا آپ نے ہمارے خلاف اپنے زہريلے پروپيگنڈے کو ختم دے ديا ہے؟
کيا آپ نے صہيوني حکومت کي بے قيد و شرط حمايت و طرفداري کے خاتمے کا اعلان کر دياہے؟
بتائيے تو صحيح کہ آپ نے اپني کون سي عادت و اداکو تبديل کيا ہے؟
تبديلي کے نعرے نہيں بلکہ عملي تبديلي ضروري ہے
آپ تبديلي کے نعرے تو ضرور لگاتے ہيں ليکن يہ تبديلي آپ کے عمل وکردارميں مشاہدہ نہيں کي جاتي۔اِس تمام مد ت ميں ہم نے آپ کے عمل ميں کسي بھي قسم کي تبديلي کو نہيں ديکھا!حتيٰ آپ کے ادب و تہذيب ميں بھي کسي قسم کي کوئي تبديلي محسوس نہيں کي گئي ۔امريکا کے نئے صدر نے اپني صدارت کے آغاز سے ہي اپنے بيانات ميں ايران اور اسلامي جمہوريہ کے نظام و حکومت کي اہانت و تذليل کي ہے۔اگر آپ صحيح کہہ رہے ہيں کہ کوئي تبديلي واقع ہو ئي ہے تو ہميں بھي بتائيے کہ يہ تغير و تبدل کہاں واقع ہوا ہے اوراِس کي کيا نشانياں ہيں؟آخر ہميں کوئي تبديلي نظر کيوں نہيں آتي ؟
ميں آپ سے کہہ دوں اور امريکي ذمہ دار اعليٰ افسران کو يہ بات کان کھول کر سن ليني چاہیے اور دوسرو ں کو بھي يہ بات ذہن نشين کر ليني چاہیے کہ ايراني قوم کہ نہ تو دھوکہ و فريب ديا جا سکتا ہے اور نہ ہي اُسے ڈرا دھمکا کر اُس کے ہدف سے دور کيا جا سکتا ہے!
سب سے پہلي بات يہ کہ زباني کلامي تبديلي کے نعروں سے کچھ نہيں ہو نے والا۔حقيقت تو يہ ہے کہ ہم نے آپ کے الفاظ ميں بھي کسي تغير وتبدل کا مشاہدہ نہيں کيا!اِس قسم کي تبديليوں کوحقيقي ہونا چاہیے۔
ہم امريکي افسران اعليٰ سے يہ بات کہہ رہے ہيںکہ آپ جس تغير وتبدل کي بات کر رہے ہيں تو يہ تبديلي آپ کيلئے ضروري ولازمي ہے،آپ کے پاس اِس کے علاو ہ کوئي چارہ کار ہي موجو د نہيںہے کہ آپ حالات و فضا کو بدليں۔اگرآپ تبديل نہ کريں تو خدا وند عالم کے اٹل قوانين آپ کو تبديل کر ديں گے۔آپ کو ہر صورت ميں تبديلي کرني چاہیے ليکن يہ تغير تبدل لفظي نہ ہو۔
ايک وقت وہ يہ کہيں کہ ہم اپني سياست کو تبديل کرنا چاہتے ہيںليکن اپنے ہدف کو تبديل نہيں کرنا چاہتے،ہم صرف اپني حکمت عملي اور روش کو تبديل کرنا چاہتے ہيںتو جان ليجئے کہ يہ تبديلي ،تبديلي نہيں کہلائے گي بلکہ يہ دھوکہ و فريب ہے۔تبديلي اُس وقت تبديلي کہلاتي ہے جب اُسے عمل ميں مشاہدہ کيا جائے ۔
امريکي حکمرانوں ہوش کے ناخن لو!
ميں امريکي حکمرانوں کواورہر اُس شخص کو نصيحت کرتا ہوں جو امريکي سياست ميں صاحب اختيار ا رادہ اور فيصلہ کرنے والا ہے؛خواہ وہ امريکي صد رہو يا سينٹ يا پھر کوئي اور ادارہ،يہ صورتحال اور حالت جو ماضي ميں امريکا کي تھي ،وہ امريکي عوام اور امريکي حکومت کيلئے نقصاندہ اور ضرر کا باعث ہے ۔آج آپ اپني سياست کي وجہ سے دنيا ميں قابل نفرت ہو گئے ہيں اوراگر آپ اِس بات سے لا علم ہيں تو اب جان ليجئے ۔دنيا بھر ميں مختلف اقوام اپنے غم وغصے کي علامت کے طور پرآپ کے قومي پرچم کو نذر آتش کرتي ہيں۔پوري دنيا ميں جہاں بھي مسلمان اقوام آباد ہيں وہ ’’امريکا مردہ باد ‘‘کا نعرہ لگا کر آپ سے اپني نفرت کا اظہار کرتي ہيں۔کياآپ کو معلوم ہے کہ دنيا ميں آپ اور آپ کے نام اور قومي پرچم سے لوگوں کي نفرت کي کياو جہ ہے؟کيا آپ نے اِس بارے ميں کوئي تحقيق کي ہے؟کيا آپ نے اِس حقيقت کا تجزيہ و تحليل کيا ہے؟کياآپ نے دنيا ميں اپنے خلاف غم وغصے اور نفرت و مردہ باد کے نعروں سے درس عبرت ليا ہے؟
دنيا ميں امريکا سے نفرت کي اصل وجہ
اِس کي وجہ يہ ہے کہ آپ دنيا کے سرداربنتے ہيںا ور اُسے اپني جائيداد سمجھتے ہو ئے اُس سے ايسا برتاو کرتے ہيں،تکبر وغرور سے بات کرتے ہيںاورآپ چاہتے ہيں کہ اپنے ارادے کو تمام دنيا پر تھونپ ديں۔آپ چاہتے ہيں کہ ممالک کے اندروني معاملات ميں دخالت کريں،دنيا والوں سے دہري پاليسي رکھيں،دنيا کے ايک کونے ميں جہاں ايک فلسطيني نوجوان سخت ترين دباو اورحالات کے تحت مجبور ہو کر شہادت طلب کاروائي کو انجام ديتا ہے تو آپ اُس کو اپنے زہريلے پروپيگنڈے کا نشانہ بناتے ہيں!ليکن دوسري جانب صہيوني حکومت کو جو بائيس دنوں تک غزہ ميں دندناتي ہو ئي وہاں کے مظلوم اورنہتے عوام کا قتل عام کرتي ہے تواُن کے جنگي جرائم اور حملوں کو کوئي اہميت ہي نہيں ديتے!آپ اُس نوجوان کو دہشت گرد کا لقب ديتے ہيں اور اسرائيل کي دہشت گرد حکومت سے کہتے ہيں کہ ہم آپ کے ساتھ امن معاہدے ميں شريک ہيں۔يہ وہ چيزيں ہيں کہ جنہوں نے دنيا ميں آپ کو قابل نفرت بنا ديا ہے۔
امريکي حکمرانوں او ر سياستدانوں کو ميري نصيحت!
يہ ميري آپ کو نصيحت ہے،اپنے اپني خيرو بھلائي ،اپني اصلاح اور اپنے ملک کے مستقبل کیلئے اِس تکبر آميز لہجے کوبدليے،اپني متکبرانہ روش کو عوض کيجئے،دنيا ميں ہر جگہ چوہدري بننے کي خواہش سے دستبردار ہو جائيے،قوموں کے اندروني معاملات ميں دخالت مت کيجئے ،آپ اپنے حق پر ہي قانع ہو جائيے اوردنيا ميں ہر جگہ اپنے منافع کا رونا نہ
روئيے توآپ ديکھيں گے کہ دنيا ميںامريکا کا منفور چہرہ آہستہ آہستہ تبديل ہوکر ايک نئي شکل اختيا ر کر لے گا۔آپ کو چاہیے کہ يہ باتيں کا ن کھول کر سنيںاوراِن پر غور وفکر کريں۔آپ ہماري اِن باتوںکو ديںتا کہ آپ کيلئے ترجمہ کريں،البتہ آپ ہماري يہ باتيں صہيونيوں کو ترجمہ کيلئے نہ ديں،وہ ترجمہ نہيںکريں گے !آپ کو چاہیے کہ آپ عقلمند اور صحيح و سالم عقل رکھنے والوں سے مشورہ کريںاوراُن سے اُن کي رائے پوچھيں۔
جب تک امريکا اپني روش و عادت نہيں بدلے گا !
جب تک امريکي حکومت اپني روش اور طريقہ کارکو،اپني جہت و سمت کو اوراپني سياست کو جو اُس نے تيس سالوں تک ہمارے ساتھ رکھي ہو ئي ہے ،جاري رکھے ہو ئے ہے تو وہ بھي جان لے کہ ہم بھي تيس سال پراني وہي قوم ہيں۔ہماري قوم اِس بات سے کہ آپ دوبارہ يہ نعرہ لگائيں کہ ’’مذکرات اور دباو‘‘،ہم ايران سے مذکرات کرتے ہيں اور ساتھ ہي اُس پر دباو بھي ڈالتے ہيں؛يعني ايک طرف سے ڈرانا اور دوسري جانب سے لالچ دينا، سخت متنفر ہے ۔
آپ اِس طرح ہماري قوم کو نہيں دبا سکتے ۔ہميں نئي امريکي حکومت او ر نئے امريکي صدر کا تجربہ نہيں ہے،پہلے ہم آپ کو اور آپ کي پاليسيوںکوديکھيں گے او ربعد ميں فيصلہ کريں گے۔اگر اپنے آپ کو تبديل کر ليں تو ہم بھي اپنا اخلاق و برتاو تبديل کر ليں گے اور اگر آپ اپنے آ پ کو تبديل نہ کريں تو جان ليں کہ ہماري قوم اِن تيس سالوں ميں پہلے سے بہت زيادہ پکي،مضبوط،سخت،زيادہ قوت برداشت رکھنے والي اور با تجربہ ہو گئي ہے۔
پرودگارا!تجھے محمد ۰وآل محمد ۰کا واسطہ ،اِس قوم سے اپنا لطف کرم دور نہ فرما؛نہايت افسوس کے ساتھ آپ کي خدمت ميں عرض کروں کي حضرت امام خميني ۲ کي زوجہ محترمہ کا آج انتقال ہوگيا ہے۔ايراني قوم کيلئے يہ خاتون بہت عظمت کي حامل تھيں۔يہ خاتون دسيوں سال امام خميني ۲ کے شانہ بشانہ اُن کي تحريک ميں شريک رہي ہيںاورآپ نے تمام سخت امتحانات اور کٹھن حالات ميںصبر و استقامت کا دامن اپنے ہاتھ سے جانے نہيں ديا۔اُنہوں نے ہر مشکل اور کڑے وقت ميں امام خميني ۲ کا ساتھ ديا تھا اورواقعاً وہ ايک عظيم شخصيت کي مالک تھيں۔ميں اِن کے انتقال پُر ملال پر ايراني قوم اوراُن کے اعز ائ و اقربائ کو تعزيت پيش کرتا ہوںاوراُميد کرتا ہو ں کي خدا کي رحمت مغفرت اُن کے شامل حال ہو۔
خداوندا!اِن مرحومہ کو اپنے اوليا ئ کے ساتھ محشور فرما،امام خميني ۲ ،اُن کے دونوں بيٹوں اور اُن کي زوجہ محترمہ کو اپنے اوليائ کے جوار ميں جگہ عنايت فرما،
بارِ الٰہا !ہميں امام خميني ۲ کي قدر کرنے کي توفيق عنايت فرما،
خدايا!ہماري عوام خاص طور پر نوجوان نسل پر اپني ہدايت ورحمت ،دستگيري اور لطف وکرم کوناز ل فرما۔
والسّلام عليکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ
١ دنيا کے مختلف اورپاکستاني بينک اور مختلف اقتصادي ادارے عوام سے جو پيسہ لے کر ايک خاص اور پہلے سے مقرر شدہ منافع يا منافع کے نام پر مقرر شدہ نفع ديتے ہيں وہ اکثر فقہا کے نزديک حرام ہے ۔اِس سلسلے ميں رہبر معظم کي بات سے يہ خيال ذہن ميں نہ آئے کہ بينکوں سے ملنے والا منافع ،حلال ہے۔رہبر معظم کي يہ بات ايراني معاشرے سے تعلق رکھتي ہے جہاں بينک اور اقتصادي ادارے عوام سے معاملات کے وقت شرعي عقود کا خيال رکھتے ہو ئے اُنہيں يہ منافع ديتے ہيںاورجو فقہا کے نزديک حلال ہے۔بہر حال اِس مسئلے ميں آ پ کو اپنے مرجع تقليد کے فتوے کي جانب رجوع کرنا چاہیے۔(مترجم)