|
رہبر عالم اسلام ولي امر مسلمين جہان حضرت آيت اللہ العظميٰ خامنہ اي
نے يکم شوال
1430
ہجري کو تہران ميں ايک عظيم الشان مرکزي نماز عيد کي اما مت فرمائي اور اُمت ِ
مسلمہ سے خطاب فرمايا۔
ادارہ نشر ولايت پاکستان اِس خطاب کي اہميت و افاديت کے پيش نظر نماز عيد الفطر
کے خطبوں کا خلاصہ قارئين کي خدمت ميں پيش کر نے کي سعادت حاصل کررہا ہے۔
ماہ ِ رمضان کي روحاني نعمتوں کي حفاظت!
صدارتي انتخابات کے بعد رونما ہونے والي صورتحال ميں عدليہ کا کردار
اورہماري اجتماعي ذمہ داري
يوم القدس کے عظيم الشان بين الاقوامي مظاہرے
خطبہ اوّل
بسم اللّٰہ الرحمن الرحيم
الحمد للّٰہ ربّ العالمين الحمد للّٰہ الّذي خلق السَّموات والارض و جعل
الظّلمات والنّور ثمّ الّذين کفروا بربّھم يعدلون،نحمدہ و نستعينہ و نومن بہ و
نتوکّل عليہ و نصلّي ونسلّم علي حبيبہ ونجيبہ وخيرۃ في خلقہ سيِّدنا ابي القاسم
المصطفي ٰ محمّد و علي آلہ الاطيبين الاطہرين المنتجبين سيّما بقيّۃ اللّٰہ في
الارضين وصلّ علي ائمۃ المسلمين وحماۃ المستضعفين وھداۃ المومنين۔
ماہ رمضان اور شب قدر ميں ايک مومن کے نئے سال کا آغاز
ميں تمام نماز گزار بہن بھائيوں،ايراني عوام اور تمام اُمت ِمسلمہ کو عيد سعيد
فطر کي مبارکباد پيش کرتا ہوں۔
ايک مسلمان،ماہ ِ رمضان کے خاتمہ کے ساتھ ايک خاص قسم کي نورانيت کے ساتھ خارج
ہوتا ہے۔جن ايک بندہ مومن ،ماہ ِ رمضان کے روزے ،دعاو ثنائے الٰہي ، تلاوت
ِقرآن اور اُس کي دوسري حسنات اورخوبيوں کے ساتھ ملاقات کر تاہے تووہ نہ صرف يہ
کہ يہ ماہ انسان کو نورانيبناتا ہے بلکہ اُس کے قلب وروح سے ميل اور زنگ کوبھي
صاف کرتا ہے۔ايک روزہ دار مومن انسان ،شب ِقدر کے ساتھ اپنے نئے سال کا آغاز
کرتا ہے ۔اِس شب ِقدر ميں آئندہ سال کيلئے کاتبان الٰہي کي جانب سے اُس کي
تقدير لکھي جاتي ہے اورشبِ قدر ميں داخل ہونے سے انسان ايک نئے سال،ايک نئے
مرحلے اور درحقيقت ايک نئي زندگي اور نئے جنم ميں داخل ہوجاتا ہے اوروہ ايک
ايسي راہ پر قدم اُٹھاتاہے جو صرف تقوائے الٰہي کے ذخيرے سے ہي طے کي جا سکتي
ہے ۔اِس راہ ميں اِس ماہ کے مقاصد کي جانب اِس انسان کي توجہ کي تجديد کيلئے
مختلف موڑ رکھے گئے ہيں کہ جن ميں سے ايک عيد الفطر ہے ،چنانچہ اِس دن کي قدر
وقيمت کو غنيمت شمار کرنا چاہیے۔
عيد الفطر کي نماز ماہ رمضان ميں خدا کي جانب سے عطا کردہ نعمتوںکا شکرانہ
عيد الفطر کي نماز دراصل ايک لحاظ سے ماہ رمضان ميں خدا وند عالم کي جانب سے
عطا کردہ نعمتوںکا شکرانہ ہے۔اِسي نماز ميں ہم کئي مرتبہ خد اکي بارگاہ ميں عرض
کرتے ہيں:’’اَدخِلنِي فِي کُلِّ خَيرٍ اَدخَلتَ فِيہِ مُحَمَّدًا وَّآلَ
مُحَمَّدٍ‘‘(خداوندا !ہميں ہر اُس خير وبھلائي ميں داخل فرما کہ جس ميںتونے
محمد
۰
و آل محمد کو داخل فرمايا)ہميں ايمان ،اخلاق اور عمل کي اُس نوراني جنت کہ جس
ميں تونے اپنے خاص بندوں کو داخل کيا ہے ،ہميں بھي داخل فرما۔’’وَاَخرِجنِي مِن
کُلِّ سُوئٍ اَخرَجتَ مِنہُ مُحَمَّدًا وَّآلَ مُحَمَّدٍ صَلَوَاتُکَ عَلَيہِ
وَ عَلَيھِم ‘‘(ہميں ہر اُس برائي سے نکال لے کہ جس سے تو نے محمد
۰
و آل محمد کو نکالا)اور عمل بد،اخلاق ناشائستہ اورنا درست عقيدے کي جہنم سے کہ
جس سے تو نے اِن عظيم ہستيوں کو محفوظ رکھا ،ہميں بھي خارج کردے ۔
يہ وہ عظيم ہدف ہے کہ جسے ہم روز ِ عيد الفطر اپنا نصب العين قرا ر ديتے
ہيںاوراُسے خدا سے اپنے لیے طلب کرتے ہيں۔البتہ اِس راہ ميں ہمارا بھي وظيفہ
اور ذمہ داري ہے کہ ہم صراط ِ مستقيم پر ثابت قدم رہنے کي کوشش کريں اوريہي چيز
تقويٰ ہے۔
ماہ ِ رمضان کا ايک بڑا نتيجہ ؛توبہ اور خدا کي جانب بازگشت
ماہ ِ رمضان کے بڑے نتائج و اثرات ميں سے سے ايک بڑا نتيجہ اوراثرتوبہ اور
انابہ ہے يعني خدا وند عالم کي جانب باز گشت و واپسي۔دعائے ابو حمزہ ثمالي
۲
ميںہم پڑھتے ہيں:’’وَاجمَع بَينِي وَ َبيَن المُصطَفَيٰ وَ انقُلنِي اِلٰي
دَرَجَۃِ التَّوبَۃِ اَلَيکَ‘‘يعني اَے خدا ہميں مقا م و درجہ توبہ تک پہنچا دے
تا کہ ہم غلط راہ ،عمل بد،باطل خيالات اوربرے اور نا پسنديدہ اخلاق سے پلٹ
آئيں۔
توبہ کيا ہے؟
امام زين العابدين دعائے وداع ماہ مبارک رمضان ميں خد ا کي بارگاہ ميں عرض کرتے
ہيں:’’اَنتَ الَّذِِي فَتَحتَ لِعِباَدِکَ بَاباً اِليٰ عَفوِکَ وَ سَمَّيتَہُ
التَّوبَۃ‘‘اے ميرے پروردگار تو نے خود اپنے بندوں کيلئے اپنے عفو کرم کي جانب
ايک دروازہ کھولا ہے اور اُس کا نام توبہ رکھا ہے ۔تاکہ ہم اِس دروازے سے داخل
ہو کر تيرے عفو وکرم کي جانب تيزي سے قدم بڑھائيں اور تيري رحمت سے بہرہ مند
ہوں،يہ توبہ ہے ،يعني عفوالٰہي کي جانب کھلنے والي ايک کھڑکي ۔
اگر خدا وندعالم اپنے بندوں کيلئے راہ ِ توبہ کو نہيں کھولتا تو ہم گناہگا
ربندوں کي صورتحا ل بہت زيادہ خراب ہوتي ۔انسان اپنے غرائز کے تحت نفساني
خواہشات کے ہاتھوں غلطي کا شکار ہو جاتا،لغزشوں کي کھائيوں ميں گر پڑتا اور
گناہ کي دلدل ميں دھنستا چلا جاتا۔اِن ميں سے ہر گناہ ہمارے قلب و روح پرايک
گہرا زخم لگاتے ہيں!اگر توبہ کا دروازہ نہ ہوتا تو اُس وقت ہم کيا کرتے ؟!
حضرت امير المومنين دعائے کميل ميں خدا کي بارگاہ ميں عرض کرتے ہيں:’’لاَاَجِدُ
مَفَرَّماً مِّمَّا کَانَ مِنِّي وََلَا مَفرَعاً اَتَوَجَّہُ اِلَيہِ فِي
اَمرِي غَيرَ قُبُولِکَ عُذرِي‘‘ (ميں اپنے گناہوں کي وجہ سے فرار کا کوئي
راستہ نہيں پاتا ہوںکہ اپنے امر(بخشش)ميںاُس کي جانب توجہ کروں مگر يہ کہ تو
ميرا عذر قبو ل کر لے)۔اگرخدا وند رحيم وکريم کي جانب عذر خواہي اورہمارے عذر
کے قبول کیے جانے کاامکان نہ ہوتا توہم گناہ،لغزش،خطا،خواہشات ِ نفساني کي
پيروري، قانون خدا سے انحراف ، حکم الٰہي سے پيچي اورگناہوں کے سنگين وزن کي
وجہ سے اپنے اوپر آنے والي آفتوں اور بلاوں سے کس طرح چھٹکارا پاتے ؟!ہمارے پا
س کوئي جائے پناہ اور فرار کي کوئي جگہ ہي نہيں ہوتي!خدا وند عالم نے اپنے لطف
و کرم سے ہمارے لیے يہ پناہ گاہ قائم کي ہے اور وہ توبہ ہے ،ہميں چاہیے کہ اِس
توبہ کي اہميت کو سمجھيں۔
خدا ،توبہ کرنے والے کااستقبا ل کرتا ہے!
ايک نوجوان اپني جہالت کي وجہ سے اپنے والدين کے گھر سے فرار کر جاتا ہے ليکن
تھوڑے ہي عرصے بعد والدين کي آغوش ميں لوٹ آتاہے اوراُن کے پيار و محبت اور
نوازش کا سامنا کرتا ہے ،اِسي کو توبہ کہا جاتا ہے ۔جب ہم رحمت ِالٰہي کي جانب
پلٹتے ہيںتو خدا اپنے پيار و نوازش کے ساتھ ہمارا استقبال کرتا ہے اورہمار ے
عذر و توبہ کو قبو ل کرتا ہے۔خدا وند عالم کي جانب يہ واپسي ماہ ِرمضان ميں ايک
مومن کيلئے خود بخود پيش آتي ہے اورہميں اِسے غنيمت شمار کرنا چاہیے۔
ماہ ِ رمضان کي روحاني نعمتوں کي حفاظت لازمي ہے
ميںنے ماہ ِرمضان ميںمنعقد ہو نے والي قرآني اُنس کي محفلوں،دعاوں،مجالس ميں مر
د و عورتوں اور نوجوانوں کو ديکھا کہ خد اوند عالم کي جانب توجہ سے اُن کے چہرے
پر آنسوں رواں ہيں،يہ وہ چيزيں ہيں کہ جن کہ بہت زيادہ اہميت و قدر وقيمت
ہے۔اِسي کو توبہ کہا جاتا ہے او ر ہميں اِس کي حفاظت کرني چاہیے۔ہم اپني خواہشا
تِ نفساني ا ورغافل دل کي وجہ سے غلطي اور گناہ کا شکا رہو جاتے ہيںتو ايسي
حالت ميں ماہ ِ رمضان نے ہمارے ہميں ايک ايسا موقع فراہم کيا ہے کہ ہم اپنے آپ
کو گناہوں سے پا ک کريں۔يہ اشک ہمارے دل کو گناہوں سے دھو ديتے ہيں ليکن اِس
چيز کي حفاظت کرنے کي ضرورت ہے ۔ہماري يہ بڑي بڑ ي ،خطرناک اور مہلک
بيمارياں،انانيت،تکبر،ظلم وتعدّي ،حسد،خيانت اور لا اُبالي پن وغيرہ سب ہمارے
بڑے بڑے درد ہيں اور ماہِ رمضان ميں اِن کے علاج معالجہ کا موقع ملتا ہے کہ يہ
صحيح ہو جائيں۔خدا وند عالم بھي ہم ا نسانوں کي جانب توجہ کرتا ہے اور اُس نے
توجہ کي ہے !
نوجوان ماہ ِرمضان ميں اپنے دھلے ہوئے قلوب کي حفاظت کريں!
ميں آپ نوجوانو ں کو اِس بات کي تاکيد کرتا ہوں کہ وہ اپنے نرم اورنوراني قلوب
کي حفاظت کريں،بڑي عمر ميں ايسے مواقع کم پيش آتے ہيں ليکن نوجواني ميں
نوجوانوں کواِس بات کا زيادہ موقع نصيب ہوتا ہے لہٰذا آ پ کو چاہیے کہ اپنے اِن
پاکيزہ اور گناہوں سے دھلے ہوئے قلوب کي حفاظت کريں۔اول وقت نماز،مساجد ميں
حاضري ،تلاو تِ قرآن،قرآ ن سے اُنس و محبت اوراہل بيت سے وارد دعاوں سے جو
اسلامي تعليمات و معارف کا گراں بہا خزانہ ہيں،سے اُنس و اُلفت کو غنيمت شمار
کريں۔
اخلاق حسنہ کے حصول کي کوشش
ہميں چاہیے کہ اِس بہترين فرصت ميں اپنے اخلاق کا خيال رکھيںاوراخلاق حسنہ کے
حصول کي کو شش کريں۔اخلاق کي اہميت ،عمل سے زيادہ ہے۔ہميں چاہیے کہ ہم اپنے
معاشرے کي فضا کو اُخوت و بھائي چارگي ،مہرباني ورحمدلي اور حسن ظن کي بنيادوں
پر قائم کريں۔ميں کسي بھي صورت ميں راضي نہيں ہوں کہ ہم معاشرے ميںايک دوسرے سے
بد گماني اور سو ظن کي فضا کو قائم کريں۔ہميں چاہیے کہ ہم اِن بري عادا ت و
اطوار کو خود سے دور کريں۔
معاشرے ميںاُخوت اور حسن ظن کي فضا قائم ہوني چاہیے
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اخبارات اور مختلف قسم کے ذرائع ابلاغ کي يہ
عادت ہو گئي ہے اورآج يہ صورتحال بہت وسيع اور پيچيدہ تر ہو گئي ہے کہ اُنہوں
نے ايک دوسرے پر الزام تراشي اورتہمت لگانے کي روش کو اختيار کيا ہو اہے ؛يہ
چيز کسي بھي حالت ميںصحيح نہيں ہے ،يہ چيز کسي بھي حالت ميں صحيح نہيں ہے ،يہ
ہمارے دل کو تاريک کرتي ہے اور معاشرے کي فضا کو مکدر اورظلماني بناتي ہے۔
اِس بات ميں کوئي منافات نہيں ہے کہ ايک گناہگا ر اور مجرم اپنے گناہ و جرم کي
سزا پائے ليکن اِس صورت ميں اِشاعہ فاحشہ اور گناہوں کو پھيلانے کي فضا نہيں ہو
ني چاہیے ،ايک دوسرے پر تہمت نہ لگائي جائے اور افواہوں اور من گھڑے خيالات سے
ايک دوسرے پر الزام تراشي نہ کي جائے ۔
حاليہ صدارتي انتخابات کے بعد رونما ہونے والے واقعات کي تحليل اور عدليہ کي
ذمہ داري؛
مجرم کا اپنے خلاف اعتراف قبول ہے ليکن دوسرے کے متعلق قبول نہيں!
ميں يہيں سے آپ کي خدمت ميں عرض کروں کہ حاليہ انتخابات کے بعد رونما ہو نے
والے آشوب اوربلووں کے ملزموںاورافراد کے بيانات ميں جو ٹي وي پر بھي نشر کیے
گئے ہيں،اگر کسي دوسري شخصيت کے متعلق کچھ کہا گيا ہے تواِس کي کوئي شرعي حجيت
اور حيثيت نہيں ہے !يہ ايک حرف مہمل ہے اور اِس کي کوئي قد رو قيمت نہيں ہے ۔ٹي
وي کے کيمرے کے سامنے عدالت ميں عقلائ اور عرف کے نزديک اگر کوئي لاکھوں ناظرين
کے سامنے اپنے ہي خلاف کسي چيز کا اعتراف اور کسي با ت کا اقرار کرے تو اُس کا
يہ اقرار و اعتراف عقلاً،شرعاً اور عُرفاً قابل قبول ہے اوراُس کے مطابق عمل
کيا جائے گاليکن اگر وہ کسي دوسرے کے متعلق (کہ جو اُس عدالت ميں موجود نہ ہو
يا جسے اپني صفائي کا موقع نہ ملے)کسي چيز کا اعتراف کرے تو وہ نہيں سنا جائے
گا۔اِس بنا پر معاشرتي فضا کو تہمت اور بد گماني سے پُر نہيں کرنا چاہیے۔قرآن
کريم فرماتا ہے:’’لو لا اِذسمعتموہ ظنّ المومنين والمومنات بآنفسھم
خيراً‘‘(سورہ نور ١٢)
مجرم کا کيفر کردار تک پہنچنا اور بات ہے اور اُ س کے خلاف تہمت و الزام تراشي
اور چيز!
جب ہم يہ ديکھتے ہيں کہ کسي پر الزام وتہمت لگائے جا رہے ہیں (تو ہم اُس پر
يقين کيوںکر ليتے ہيں ؟)ہم ايک دوسرے کے بارے ميںحسن ظن کيوں نہيں رکھتے ؟!
محکمہ عدليہ اور عدالتوںکاکام اوراُن کي ذمہ داري اپني جگہ محفوظ ہے ،عدليہ کو
چاہیے کہ وہ مجرم کا تعاقب کرے اوراُسي روش سے اُس کا جرم ثابت کريں کہ جو
ہمارے قانون اور اسلامي احکامات ميں بيان کي گئي ہے ،اُسے کيفرکردار تک
پہنچائيںاوراِس سلسلے ميںکسي بھي قسم کي سستي اور کوتاہي سے کام نہيں لينا
چاہیے۔ليکن قانوني طريقے سے کسي مجرم کے جرم کا ثابت ہونا اور بات ہے اورگمان
وخيال اور تہمت سے اُسے بد نام کرنا اور بات کہ ہم معاشرے ميں اُس کي شخصيت کو
تار تار کرديں۔اِس طرح کسي بھي حقيقت کو حاصل نہيں کيا جاسکتااورناہي يہ فضا
کوئي اچھي فضاہے ۔
بيرون ملک کے ذرائع ابلاغ کي باتوں کو قبول نہ کريں!
يا بيرون ملک طاقتيںاوراُن کے مغرض ذرائع ابلاغ ہمارے کسي شخص يا کچھ افرادکے
خلاف کچھ کہيں يا اِس بات کادعويٰ کريں کہ اِن لوگو ں نے فلاں مقام پر خيانت کي
تھي يا يہ لوگ فلاں جگہ غلطي کا شکارہو ئے تھے اورہم اُسے بعينہ نشر کرديں؛تويہ
(اُس فرد يا اُن شخصيات کے بارے ميں)ظلم ہے اورکسي بھي صورت ميں قابل قبول نہيں
ہے ۔
غيرملکي ذرائع ابلاغ ميں وہ کون ہے کہ جس کا دل ہمارے لیے دھڑکتا ہے؟!اُنہوں نے
کب چاہا ہے کہ ہمارے بارے ميں حقائق روشن ہو ںکہ اُنہوں نے اِس بار ے ميں حقيقت
گوئي اورسچائي سے کام ليا ہے؟!وہ تو بڑھ چڑھ کر باتيں کرتے ہيں ،بيانات ديتے
ہيںاور مختلف قسم کے دعوے کرتے ہيں تو ہميںيہ نہيں کہنا چاہیے کہ وہ جو کچھ کہہ
رہے ہيں وہ صحيح ہے اور شفافيت رکھتا ہے ؛يہ کسي بھي صورت ميںشفافيت نہيں بلکہ
معاشرے کي فضا کو آلودہ بنانا ہے ۔
شفافيت کيا ہے ؟
شفافيت کا معنيٰ تو يہ ہے کہ اسلامي جمہوري کا ايک ذمہ دار افسر اپني کار کردگي
کو واضح طور پر اپني عوام کے سامنے پيش کرے اورايسا ہي ہو نا چاہیے۔ليکن اگر ہم
کسي بات کے اثبات کے بغير کسي شخصيت پر تہمت لگانا شروع کر ديںيااُن چيزوں کي
اُس کي جانب نسبت ديں جو شايدحقيقت ميں صحيح ہوںليکن جب تک وہ قانوني لحاظ سے
ثابت نہيں ہوئي ہيں تو ہميں بھي حق حاصل نہيں ہے کہ ہم اُن باتوں کو اُس کے
بارے ميںبيان کريں،اُس پر تہمت لگائيں اور الزام تراشي سے کام ليںاوراپني بات
کي سچائي کيلئے برطانيہ کے مغرض ذرائع ابلاغ (بي بي سي)کي مثال پيش کريںاوراُس
کے بعد وہا ں ايک ايسا آدمي سامنے آجائے جو پورے اسلامي نظام کوايسي باتوں
اوراُمور سے جو اسلامي نظام کيلئے کسي بھي صورت ميں شائستہ نہيں،نسبت دیتے
ہيں،سے نسبت دے اورالزام لگائے !ايک شخص پر تمہت لگانا گناہ اور ايک اسلامي
نظام ميںبہت بڑا گناہ ہے !
پروردگارا!ہميں اپنے تقويٰ کے ذريعے سے اِن گناہوں سے دور کردے !
بسم اللّٰہ الرّحمٰن الرّحيم
والعصر اِنَّ الانسان لفي خسرٍ۔ اِلا الّذين آمنوا و عملوا الصّالحات ۔وتواصوا
با لحقّ وتواصوا بالصّبر۔
خطبہ دوّم
الحمد للّٰہ ربّ العالمين والصلوٰۃ والسّلام علي سيِّدنا ابي القاسم المصطفي ٰ
محمّدو علي آلہ لاطيبين الاطہرين سيّماامير المومنين و صديقۃ الطاھرۃ سيد ۃ
نسائ العالمين والحسن والحسين سبطي الرّحمۃ و امامي الہديٰ وعلي بن الحسين
ومحمد بن علي وجعفر بن محمد وموسي بن جعفر و علي بن موسيٰ ومحمد بن علي وعلي بن
محمد و حسن بن علي والخلف القائم المہدي صلوات اللّٰہ و سلامہ اجمعين وصلّ علي
ائمۃ المسلمين وحماۃ المستضعفين وھداۃ المومنين۔
اُو صيکم عباداللّٰہ بتقوي اللّٰہ۔
يوم القدس پر ايراني قوم کا شکريہ
اِس دوسرے خطبے ميں ميں جس چيز کو اپنا وظيفہ سمجھتا ہوں ،يہ ہے کہ ميں يوم
القدس کے دن ايراني قوم کے عظيم الشان مظاہرے پر اُس کا شکريہ ادا کروں کہ اُ س
نے پوري دنيا کے سامنے يہ عظيم کام انجام ديا۔ہمارے دشمن نے اِن سالوں ميںکتني
کوشش کي ہے کہ وہ باطل وظلم کے مقابلے ميں حق اور عدل کي صف بندي کو ظاہرکرنے
والے يوم القد س کو کمزور بنائے !يوم القدس،يوم فلسطين نہيں بلکہ يوم اُمت
ِمسلمہ ہے اوراستکباري طاقتو ں اورظالمو ں کے ہاتھوں امت ِ مسلمہ کے قلب ميںاُن
کے وجود کو خطرے ميں ڈالنے والے سرطاني جوثومے اسرائيل کے خلاف مسلمانوں کي
فريا د و احتجاج کا دن ہے ۔يوم القدس کوئي معمولي چيز نہيں ہے بلکہ يہ ايک بين
الاقوامي دن ہے اورايک بين الاقوامي پيغام کا حامل ہے۔
يوم القدس کے خلاف ہونے والي سازشوں کا جواب
يو م القدس اِس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اُمت ِ مسلمہ کسي بھي صورت ميں ظلم وستم
کو قبول نہيں کرنے والي؛خواہ اِس ظلم کي حمايت کرنے والي دنيا کي بڑي اور
استکباري طاقتيں ہي کيوں نہ ہوں!دشمن سالہاسال سے اِس کو شش ميں مصروف ہے کہ وہ
يوم القدس کو کمزور بنائے اوراِس سال تو اُس نے ايڑي چوٹي کا زور لگا دياليکن
اِس دن اسلامي جمہوريہ ايران خصوصاً تہران کے مظاہروں سے يہ بات ثابت کر دي کہ
ايراني قوم کا رُخ کہاں ہے اورو ہ کس سمت حرکت کر رہي ہے!اورايراني قوم نے يہ
ثابت کر ديا کہ اُس پر دشمن کے حملوں،فريب ومکاري ،پاني کي طرح رقم خرچ کیے
جانے اورتيروں کا کوئي اثر نہيں ہونے والا!
مغرب کے حکمرانوں اور سياستدانوںکا ايراني قوم کے بارے ميںدھوکا کھانا!
مغرب کے حکمرانوں اور سياستدانوںنے اِن چند ماہ ميں اپنے ہي ذرائع ابلاغ کے
ہاتھو ں دھوکا کھايااور وہ اپنے ہي مطبوعات اور ريڈيو اور ٹي وي کے تجزيہ
نگاروں اور مبصرين کے فريب کا شکا ر ہوئے اوريہ خيال کرنے لگے کہ وہ اِس مرتبہ
ايراني قوم کو مرعوب کر سکتے ہيںليکن آ پ نے يوم القدس يہ ثابت کر ديا کہ وہ
سراب کے پيچھے حرکت کر رہے تھے اورحقيقت يہي ہے۔ايراني قوم کي حقيقت بھي يہي ہے
کہ جسے اُس نے ماہ ِ رمضا ن کے آخري جمعہ يوم القدس کو دکھايا اوريہ ثابت کر
ديا کہ يہ عظيم جوش وخروش پوري دنيائے اسلامي ميں پھيلا ہو ا ہے اورصرف ايران
سے مخصوص نہيں ہے اور پوري دنيا ميں مسلمانو ں کو جہاں بھي موقع ملا اُنہوں نے
يوم القدس ظلم کے خلاف آواز ِاحتجاج بلند کي ۔
بسم اللّٰہ الرحمن الرحيم
اِنّا اعطيناکَ الکوثر فصلّ لربّکَ وانحر اِنَّ شانئکَ ھُو الابتر۔
والسلام عليکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ
|