|
نئے ايراني سال ،موسم بہار اور نوروز کے آغا ز پر
اسلامي انقلاب کے رہبر،حضرت آيت اللہ العظميٰ خامنہ اي دامت برکاتہ
کے پيغام کا خلاصہ
نئے سال کاشعار
’’کفايت شعاري کي مہم؛مذہبي وقومي شعار‘‘
20/03/2009
بسم اللّٰہ الرّحمٰن الرّحيم
يَا مُقَلِّبَ القُلُوبِ وَ الا َبصَارِ يَا مُدَبِّرَ اللَّيلِ وَ النَّہَارِ
يَا مُحَوِّلَ الحَولِ وَ الاَحوَالِ حَوِّل حالَنا اليٰ اَحسَنَ الحَالِ
ميں اِسي نئے ايراني شمسي (١٣٨٨)سال اور نوروز کے مبار ک و مسعود ايام کو جو
حضرخاتم الانبيا اور حضرت اما م جعفر صادق کے ايام ولادت با سعادت سے نزديک ہے
اور جس نے اِن مبارک ايام کي وجہ سے زيادہ شرافت و پاکيزگي حاصل کي ہے ،آپ سب
کو ،اپنے تمام ہم وطنوں کو اور اُن تمام افرا دکو جو نوروز کو ايک خاص جو ش و
خروش کے ساتھ مناتے ہيں اورخاص طور پر شہدا کے گھر والوں کو ہديہ تبريک پيش کر
تا ہوں۔مجھے اُميد ہے کہ آپ سب کايہ نيا سال با برکت ہوگا۔
١٣٨٧ شمسي کا سال اندروني اور بين الاقوامي سطح پر رونماہو نے والے حالات و
واقعات کے لحاظ سے ايک اہم سال تھا۔اِس سال بين الاقوامي سطح پربہت سے اہم
واقعات رونما ہوئے ہيں جنہوں نے مجموعي طور پر عالمي سياست پر گہر ے نقوش مرتب
کیے ہيں۔اُن من جملہ واقعات ميں سے ايک اہم ترين واقعہ،اقتصاد ومعيشت کے ميدان
ميںامريکا سے شروع ہو نے والاعالمي مالي اور اقتصادي بحرا ن ہے جويورپ کو لپيٹ
ميں ليتا ہوااورکئي ممالک کو متآثر کرتے ہوئے ہمارے خطے کے کئي ممالک تک پہنچ
گيا ہے۔
مالي اور اقتصادي بحران کا مسئلہ، دنيا کے لوگوں کيلئے نہ صرف اُن کي روز مرّہ
زندگي ميںمشکلات اور اقتصاد و معيشت کي منصوبہ بندي اور اقدامات ميں رکاوٹ بن
رہا ہے بلکہ يہ اقتصاد و سرمايہ گزاري اور اقتصادي نظريا ت سے متعلق اُن کي سوچ
او رانداز ِ فکر پر بھي گہرے اور انمنٹ نقوش مرتب کرے گا۔خوش قسمتي سے ہمارے
ملک و قوم نے عالمي سطح پر اُٹھنے والے اِس زياں بار طوفان سے خود کو محفوظ کر
ليا ہے ليکن اِس سلسلہ ميں ہميں لازمي مراقبت اور سخت قسم کي ديکھ بھال کي اشد
ضرورت ہے۔
عالمي سطح او ر خطے ميں رونما ہو نے والے من جملہ واقعات ميں سے ايک اہم ترين
واقعہ ،غزہ پر اسرائيل کا حملہ تھاجس نے تمام دنيا کو اپني جانب متوجہ کيا ۔بعض
لوگ اِس مسئلے کو اِس زاویے سے ديکھ رہے تھے کہ وہ مسئلہ فلسطين اور فلسطين
ميںاسلامي تحريک و انتفاضہ سے بغض و عناد اورپراني دشمني رکھتے ہيںجن ميں زيادہ
ترمغربي ممالک کے سياستدان شامل ہيں۔دوسرے کچھ لوگ اِس مسئلے کو فلسطيني عوام
او رغزہ پر ہونے والي اسرائيلي جارحيت کے مسئلے کواپني حمايت و طرفداري کي نگاہ
وزاویے سے ديکھ رہے تھے۔
اِس ظالمانہ اور سفاکانہ حملے کے نتائج نے اہل عالم کو حيرت زدہ کر ديا۔غزہ کے
نہتي اور مظلوم عوام نے بائيس دنوں تک سيسہ پلائي ہو ئي ديوار کي مانند
اسرائيلي جارحيت کاڈٹ کر مقابلہ کيااوربھر پور استقامت دکھائي ۔دوسري جانب سے
صہيوني حکومت نے اپنے تمام فوجي ساز وسامان اورجديد ترين اسلحے کے ساتھ بائيس
دنوں تک غزہ پر حملہ کياليکن اِس نابرابرجنگ کا اختتام، صہيوني حکومت کي ذلت و
ہزيمت اوراُس کي بدترين تاريخي شکست پر ہوا۔
دنيا کي ظالم طاقتوں اوردوسري اقوام و ممالک پر تسلط و قبضہ جمانے والے ممالک
کے ظلم وستم کے سامنے دنيا کي عوام کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے سلسلے ميںيہ دنيا
کي عوام کيلئے ايک بہت ہي اہم ترين تجربہ تھا۔اِس کے علاوہ خطے ميں او ربين
الاقوامي سطح پر اور بہت سے واقعات بھي رونما ہوئے جن کے بيان سے ہم صرف نظر
کرتے ہيں۔
١٣٨٧شمسي (٢١مارچ٢٠٠٨تا٢١مارچ٢٠٠٩عيسوي)کا سال ايٹمي انرجي کي خوشخبري کے ساتھ
شروع ہوااورايراني قوم کو ا ِس بات کا اندازہ ہو گيا کہ اُس کي قوم کے تعليم
يافتہ اور قابل سائنسدانوںنے عالمي برادري کي جانب سے لگائي جانے والي اقتصادي
پابنديوں کے باوجودايٹمي انرجي کے مسئلے ميں اپني توانائي کو ثابت کر
دکھايااوروہ اِس بات ميں کامياب ہو گئے کہ وہ اِس اہم ترين مسئلے ميںتما م دنيا
کے سامنے اپني ذہانت اور قابليت کو ثابت کر سکيں۔
اِس کاميابي نے نہ صرف يہ کہ علمي ميدان ميںبلکہ ديگر شعبہ ہائے زندگي ميںدنيا
کي نظروں ميں ايراني قوم کيلئے عظمت و سر بلندي کو مجسم کر ديا۔ايٹمي انرجي کے
مسئلے ميں اِسي سال کے آخر ميںبوشہر کے ايٹمي پلانٹ نے آمازئشي طور پر اپني
فعاليت کا آغاز کر ديا ہے اوريہ بذات خود ايک بڑي اور اہم خبر ہے۔يہ سب ہمارے
ملک کے پيشہ وارانہ سائنسدانوں کي صلاحيت و قابليت کے نتائج ہيں کہ جنہوں نے
دنيا کو قانع کر ديا کہ ايٹمي انرجي کے ميدان ميں ايراني قوم کي ترقي و پيش رفت
کا راستہ کسي بھي صورت ميںنہيں روکا جا سکتا۔
علمي ،فني اور تيکنيکي ميدانوں ميں منعقد ہو نے والي خصوصي نمائشگاہوں ميں ميں
نے بہت نزديک سے اپني قوم کي علمي پيش رفت اورترقي کي رفتارکو بغورديکھا ہے اور
آفرين ہے اُن نوجوانوں پر کہ جنہوں نے انقلاب اسلامي کي کاميابي کے بعد تيس
سالوں ميں چاروں طر ف سے اسلامي انقلاب کے خلاف ہو نے والے پروپيگنڈے اور مختلف
قسم کے محاصروں کو ناکام بناتے ہوئے ترقي کي منازل کو طے کيا ۔
اِس سلسلے ميں سب سے اہم ترين علمي اور فني پيش رفت ’’اُميد ‘‘سيٹيلائٹ کا فضا
ميں بھيجا جانا تھا۔اِس عظيم ا وربڑے قدم کي وجہ سے ہمارا ملک انگليوں پر گنے
جانے والے دنيا کے چندممالک کي فہرست ميں شامل ہو گيا ہے۔اِس سيٹيلائٹ سے پوري
دنيا ايران کي جانب متوجہ ہو ئي کہ ايراني قوم کي علمي ترقي اور جو ش و جذبہ
اُس کا اپنا ہے اور اُس کے اندر سے جنم ليتا ہے اورايراني قوم کي پيش رفت و
ترقي ،محدود نہيں ہے۔
اقتصادي ميدان ميں ميں اپني قوم کے سامنے عرض کرنا چاہتاہوں کہ عالمي سطح پر
ظاہر ہونے والے اقتصادي بحران اورطوفان کے باوجود ہم نے ايٹمي انرجي کے ميدان
ميں ترقي و پيش رفت کي۔ ہمارے اعليٰ حکام نے اپنے اوپر لگنے والي اقتصادي
پابنديوں کے باوجوداِس بحران کاڈٹ کر مقابلہ کيا ،اِس کے منفي اثرات کوملک ميں
ظاہر ہونے سے کامياب انداز سے روکا او ر اپني قوم کواِس بات کا پورا پورا موقع
فراہم کياہے کہ وہ اِن تند و تيز ہواوں کے جھکڑوں اور طوفاني لہروں کا مقابلہ
کرتے ہوئے اپنے پيروں پر کھڑي ہو سکے۔
يہ نيا سال بھي اپنے آغاز ہي سے بہت اہم سال ہے اور ہميں اُميد ہے کہ اِس سال
بھي ايراني قوم، خدا کي ذات پر ايمان رکھتے ہوئے تمام تر مشکلات پر قابو پالے
گي اور اِس نئے سال ميں عالمي سطح اور خطے ميں رونما ہو نے والے واقعات ايراني
قو م کے فائدے اورنفع ميں ختم ہوں ۔
ميں آپ کي خدمت ميں عرض کرتا ہوں کہ ہم نے نئے سال کي ابتد اميں جو دعا پڑھي
،اُس ميں ہم نے خدا سے عرض کيا:
’’ يَا مُحَوِّلَ الحَولِ وَ الاَحوَالِ _حَوِّل حالَنا اليٰ اَحسَنَ
الحَالِ‘‘يعني اے حالات و اسباب کو بدلنے والي ذات ،ہماري حالت کو سب سي بہترين
حالت اور اچھے حال ميں تبديل کردے۔
ہم خدا سے دعا کرتے ہيںاوريہ خدا وندعالم کا ارادہ ہے ليکن اِس سلسلے ميں ہماري
قوم کي محنت و جد و جہد بھي لازمي او رضروري ہے اوريہ محنت و جدو جہد ،خدا کي
رحمت اورلطف و کرم کو اپنے زندگي ميں شامل کرنے کيلئے اشد ضروري ہے۔ہميں اپني
زندگي ،اپنے حالات ،ذہن ودل اور دنيا و آخرت کو نيک اور اچھا بنانے کيلئے ہمت
سے کام لينااور محنت اورجد وجہدکرني چاہیے۔
معنويت و رحانيت کے اعليٰ درجات کے حصول اور انساني فکر و خيال ميں موجود افکار
و نظريات کو عملي جامہ پہنانے تک اور اِس دوران جو کچھ بھي انسان کي روز مرہ
اور انفرادي و اجتماعي زندگي ميںاُس کے امتحان و آزمائش سے عبارت ہے ،اِن سب
ميں ہميں اِسي دعا کي تکرار کر ني چاہیے ۔اچھے اور بہتر حالات کے حصول کے مصداق
ميں ميں يہاں صرف ايک چيز کو بيان کر رہا ہوں اور وہ تما م چيزوں،ملکي ذخائر و
معدنيات اور زندگي سے مربوط چيزو ں ميں اسراف و تبذير اورفضول خرچي سے دوري اور
کفايت شعاري کي مہم کو اپنانا ہے۔
کفايت شعاري نہ صرف يہ کہ اسلام کي نگاہ ميں بلکہ تما م عقلائے عالم کي نظر ميں
ايک ايسي فائدہ مند چيزہے جسے ہر صور ت ميں عقل کے تحت کام کرنا چاہیے ۔ہوا و
ہوس اور نفساني خواہشات کے ذريعہ سے اسلامي مديريت کو عملي جامہ نہيں پہنايا جا
سکتا۔
ميں اپني عوام اور اعليٰ حکام سے درخواست کر تا ہوں کہ سال رواں اپني فعاليت کو
زيادہ کريںتا کہ کفايت شعاري کي مہم کو عملي جامہ پہنايا جا سکے ۔
والسّلام عليکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ
|