|
تہران ميں منعقد ہو نے والي بين الاقوامي وحدت
کانفرنس سے
رہبر عالم اسلام حضرت آيت اللہ العظميٰ خامنہ اي
کا عالم اسلام کے مفکروں،دانشوروں،اسلامي ممالک کے سفيروںاورشيعہ سني علمائے
اکرام سے
فکر انگيز خطاب
دور حاضر کي اہم ضرورت؛
اتحاد بين المسلمين اور عالم استکبار کے خلاف مسلمانوں کا مشترکہ محاذ
15/03/2009
بسم اللّّہ الرّحمٰن الرّحيم
ميںايران کے تما م اعلي حکام ،ہفتہ وحدت ميں شرکت کر نے والے آپ تمام
مہمانوں،اسلامي ممالک کے سفيروں،ايراني عوام ،اُمت مسلمہ بلکہ دنيا کے تمام
حريت پسندوںاورتمام انسانيت کو عيد ميلا دالنبي
۰
کي مبارکباد پيش کر تا ہو ں۔
آج شيعہ محدثين کي مشہور و معروف روايت کے مطابق حضرت خاتم الانبيا
۰کا
يوم ولادت باسعادت ہے۔اِسي طرح آج ہي کے دن ٨٣ ہجري ميں حضرت امام جعفر صادق کا
بھي يو م ولادت ہے اوريہ دن دنيائے اسلام ميں بہت زيادہ اہميت کا حامل ہے۔
حضرت رسول اکرم
۰
کي ولادت ورسالت کا حقيقي معنيٰ!
حضرت رسول اکرم
۰
کي ولادت صرف ايک تاريخي واقعہ ہي نہيں ہے بلکہ يہ انسانيت کے راستے اور اُس کي
سمت و جہت کا تعين کرنے والا واقعہ ہے۔آپ
۰
کي ولادت باسعادت کے موقع پر جو تاريخي واقعات نقل کيے گئے ہيں وہ خود اِس
ولادت کے اصلي معنيٰ اور حقيقت کي جانب اشارہ کرتے ہيں۔جيسا کہ نقل کيا گيا ہے
کہ حضرت ختمي مرتبت
۰
کي ولادت کے وقت کفر و شرک کي بہت سي نشانياں مٹ گئيںتھيں؛فارس کے آتشکدہ ميں
جلنے والي ہزار سالہ آگ بجھ گئي ،عبادت گاہوں ميں رکھے ہو ئے بت گر گئے اوربت
خانوں کے خدمت گزار اور راہب حيران وپريشان ہو گئے کہ يہ کيسا واقعہ رونما ہو
رہا ہے !
يہ کفر و شرک اور ماديت پرستي پر آنحضرت
۰
کي ولادت با سعادت کا پہلا ظاہري حملہ تھا۔دوسري جانب ايران کي مشرک شہنشاہيت
بھي ايک حادثے کا شکا ر ہو گئي اور مدائن ميں اُس کے محل کے چودہ ستو ن گر گئے
۔يہ اِس ولادت عظميٰ کا ايک اور ظاہري اشارہ تھااوردنيا ميں تمام ظلم و ستم اور
طاغوت سے مقابلہ کرنے کي زمين کے ہموار ہو نے کا آغاز تھا!
معنويت و روحانيت اورانسان کي قلبي و فکري ہدايت،عالم انسانيت کي علمي اور
اجتماعي ہدايت وراہنمائي ،ظلم وستم ا ورطاغوت سے مقابلہ، لوگوں پرظلم وستم کرنے
والي حکومتوں سے مقابلہ،يہ سب اِس عظيم انسان کي ولادت کے ظاہري آثار ہيں۔
حضرت علي کي زباني رسالت سے قبل جزيرۃ العرب کي صورتحال
نہج البلاغہ ميںحضرت امير المومنين رسول اکرم
۰
کے زمانے اورخورشيد اسلام کے ظہور و طلوع کرنے کے بارے ميں متعد د جگہ ارشادات
موجود ہيں،اُن ميں سے ايک جملہ يہ ہے:
’’وَالدُّنيَاکاَسِفَۃ النُّورِ وظَاہِرَۃ الغُرُورِ‘‘ ١
دنيا کي زندگي ميں انسان و انسانيت نام کي کوئي چيز موجو دنہيں تھي ،انسان ظلمت
و تاريکي ميں زندگي بسر کر ہے تھے اورانسانيت جہالت کے اندھيروں،طغيان و سر کشي
کي تاريکيوں اورگمراہي کي ظلمت ميںڈوبي ہو ئي تھي۔
اِن تمام ظلمت و تاريکيوں کا مرکزو محوروہ جگہ تھي کہ جہاں سرکار دو عالم
۰
نے اپني آنکھيں کھوليںاوردرجہ رسالت وپر مبعوث ہوئے يعني جزيرۃ العرب کا
خطہ۔جزيرۃ العرب کي اجتماعي زندگي ميں موجود ہر قسم کي جہالت اورظلمت و تاريکي
کي ايک زندہ مثال شہر مکہ ميں موجود تھي۔ہر قسم کي فکري اور اعتقادي گمراہي
،انسان کو انسانيت کے درجہ سے گرادينے والا شرک،اُس معاشرے کا سخت اورکھدرے قسم
کا برتاو او راخلاق،وہ بے رحمي ،سفاکيت اور قساوت قلبي کہ جس کي جانب قرآن
اشارہ کرتا ہے: ’’و اذا بُشِّر احدُہم بالآنثيٰ ظلَّ وجہُہُ مسودًّا و ہو کظيم�
يتواري من القوم من سوئٍ ما بشِّر بہ ا يمسہ عل ہون ام يدسّہ من التّراب الا
سآئ ما يحکمون‘‘ ٢ ۔يہ ہے پيغمبر اکرم
۰
کي ولادت اوراُس سے پہلے کے زمانے کا اخلا ق وکردار۔
’’وَ کَا نَ بَعدَہُ ھُدًي مِّنَ الضِّلَال و َ نُوراً مِّنَ العَميٰ ‘‘ ٣
اندھي انسانيت ،بينا اور با بصيرت ہو گئي پورا عالم جوتاريکيوں ميں ڈوبا ہوا
تھا،پيغمبر اکرم
۰
کے وجود مقدس کے نور سے منور ہو گيا۔يہ ہے اُس عظيم ہستي کي ولادت اور بعثت کا
معنيٰ۔ خدا وند عالم نے اِس عظيم ہستي کے وجو د مقدس کے طفيل صرف ہم مسلمانوں
پر ہي اپني اِس نعمت اور عظيم احسا ن کونازل نہيں کيابلکہ اُس کا تمام انسانيت
پر يہ احسان ہے۔
چودہ سو سالوں سے روشن چراغ ہدايت
صحيح ہے کہ آپ۰
کي رسالت کے بعد بھي اِن چودہ سو سالوں ميںآپ۰
کي ہدايت کي روشني ابھي تک تمام عالم ميں نہيں پھيلي ہے اور ابھي تک تمام
انسانيت اُس سے منور نہيں ہو ئي ہے ۔ليکن آپ
۰
کا يہ روشن چراغ اور مشعل ہدايت، صديوں سے انسانيت کے درميان موجود ہے جو تمام
انسانيت کواِس نوراني چشمے کي جانب ہدايت کر رہے ہيں۔اگر آپ پيغمبر اسلام
۰کي
ولادت با سعادت اور رسالت پر مبعوث ہونے کے بعد کي تاريخ کا ملاحظہ کريں توآپ
اِسي تدبير کا مشاہدہ کريںگے کہ انسانيت ،’’اقداراوراُن کي پابندي و عمل‘‘کي
جانب مسلسل حرکت کررہي ہے ،اُس نے اعلي انساني اقدار کي شناخت حاصل کر لي ہے
اور اِس شناخت اور عمل کا دائرہ روزبروزپھيلتا چلا جارہا ہے،يہاں تک کہ انشائ
اللہ’’لِيُظہِرَہُ عَلَي الدِّينِ کُلّہ وَلَوکَرِہَ المُشرِکُونَ‘‘٤ يہ نور
ہدايت پو ري دنيا پر چھا جائے گااورانسانيت ،ہدايت کے راستے اور خدا کے مقرر کي
ہو ئي صراط مستقيم پر اپنے حقيقي سفر کا آغاز کر دے گي۔ حقيقت ميں انساني زندگي
کا پہلا دن وہي ہو گا کہ جب تمام انسانوں پر خدا کي حجت تمام ہو جائے گي اور
بشريت را سعادت و ہدايت پر گامزن ہو جائے گي۔
عام مسلمانوں کي ذمہ داري
آج ہم اُمت مسلمہ کي حيثيت سے خد اوند عالم کي اِس نعمت کا احساس کر رہے ہيں
لہذا ہميں اِس نعمت سے بھر پو ر استفادہ کر نا چاہیے ۔ہميں چاہیے کہ اپنے دل
کو،دين وفکر کو ،دنيا و زندگي کو اور اپنے معاشرے کو اِس دين مقدس کي تعليمات
کي برکت سے روشن ومنور کريں۔اِس لیے کہ يہ نور اور بصيرت وروشني ہے لہذاہم خود
کو اِس سے نزديک کر کے اِس سے بہرہ مند ہو سکتے ہيں۔يہ تمام مسلمانوں کي ايک
عام نوعيت کي ذمہ داري ہے۔
اتحاد بين المسلمين؛وقت کي ايک اہم ضرورت!
آج ميں جس نکتے کو اپني تقرير کے محور و مرکزي نکتے کي حيثيت سے پيش کر رہا ہوں
اورجو ہم مسلمانوں کي اولين ذمہ داري ہے،وہ’’اتحاد بين المسلمين‘‘ہے۔ہم نے ١٢
سے ١٧ ربيع الاول کواسلامي انقلاب کي ابتداہي سے ’’ہفتہ وحدت ‘‘سے موسوم کيا
ہے۔اِس ہفتہ کي وجہ تسميہ يہ ہے کہ ١٢ ربيع الاول ہمارے اہل سنّت بھائيو ں کے
نزديک رسول اکرم
۰
کي تاريخ ولادت ہے جبکہ ١٧ ربيع الاول ،اہل تشيّع کے علما کے نزديک سب سے مشہور
روايت ہے ۔اِن دونوں دنوں کے درميا ني ايام کو ايراني مسلمانوں اور ايران کے
اعلي حکام نے اسلامي انقلاب کي ابتدا ہي سے ہفتہ وحد ت کا نام ديا ہے اور اِسے
مسلمانوں کے اتحاد و اتفاق کي ايک علامت قرا ر ديا ہے۔ ليکن صرف ہفتہ قراردينا
کافي نہيں،صرف ايک ہفتہ کا نام رکھنے سے اتحا د قائم نہيں ہو جاتا بلکہ اِس
سلسلہ ميں عملي اقدامات کي ضرورت ہے اورہميں اتحا بين المسلمين کي جانب عملي
قدم اُٹھانا چاہیے۔آج دنيائے اسلام کو اتحا د و اتفاق کي اشد ضرورت ہے۔آج
مسلمانوں ميں فرقہ واريت اور تفرقہ اندازي کے عوامل موجود ہيںاورہميںاُن عوامل
پر غالب آنا چاہیے۔
تمام بڑے ہدف و مقصد ميں محنت و مشقت اور سخت قسم کا مقابلہ کرنے کي ضرورت ہو
تي ہے۔کوئي بھي بڑا ہد ف و مقصد ايسا نہيں ہے جو سخت محنت و جد وجہد کے بغير
حاصل ہو جائے اِسي طرح اتحاد بين المسلمين بھي جد و جہد اورمحنت کے بغير حاصل
نہيں ہو نے والا!يہ ہم سب کي ذمہ داري ہے کہ ہم سب مل کر اتحا د و اتفاق کيلئے
کام کريں۔اِس اتحاد کے ذريعہ سے بہت سے مشکلات کو دور کيا جا سکتاہے اوراُمت
مسلمہ کايہ اتحاد اسلامي معاشروں اور مسلمان اقوام کو عزت و سر بلندي دے سکتا
ہے۔
آج آپ اسلامي ممالک کي موجودہ صورتحال کاجائز ہ ليجئے ۔ديکھئے کہ مسلمان جو
دنيا کي ايک چوتھائي آبادي کا حصہ ہيں،اُن کي کيا حالت ہے ؟عالمي سياست ميں حتي
کہ اپنے داخلي مسائل کے حل ميں بھي اِن کا اثر انداز ہونا بين الاقوامي بيروني
طاقتوں اوربري نيت کے حامل ممالک کي بہ نسبت بہت کمزورہے۔اِ س کمزوري کي وجہ
صرف بيروني طاقتوںکا عمل دخل ہي نہيں ہے کيونکہ يہ توو ہ طاقتيںہيں جن کے بارے
ميں ہم خود کو اوردوسرو ں کو ہوشيار کرتے رہتے ہيںکہ يہ برے ارادے رکھتے ہيں
،يہ دوسري اقوام و ممالک پر قبضہ اورتسلط جمانے کے خواہشمند ہيں،يہ چاہتے ہيںکہ
مسلمان اقوام کواپنے سامنے ذليل و خوار کريںاوراُنہيں صرف اپني ہي اطاعت پر
مجبور کريں۔
اِس قسم کے کھلے ہو ئے برے ارادوں ، ظلم وستم اور دوسروں پر قبضہ و تسلط جمانے
کي نيت و ارادے کے سامنے دنيا کے پچاس سے زيادہ اسلامي ممالک اورمسلمان اقوام
کے قيام کرنے کا راستہ کيا ہے؟کيا ہمارے اتحاد کے علاوہ کوئي اور راستہ بھي
موجود ہے ؟!ہميں ايک دوسرے سے ہر صورت ميں نزديک ہو نا چاہیے ۔
اتحاد و اتفاق کے سلسلہ ميں دو عامل ہيں کہ جن پر سختي سے عمل درآمد ہو نا
چاہیے:
پہلا عامل:اپنے مسلک کے اُصولوں کي پابندي اور دوسرے مسالک کے عقائد و نظريات
کا احترام
سب سے پہلا عامل خود ہمارا اندروني عامل ہے جوہر مسلک و ہر مکتبہ فکر کي اپني
تعليمات و عقائد پر حساسيت رکھنے اور اُن پرسختي سے کا ربند رہنے سے عبارت
ہے۔اِس ميدان ميں ہميں ہر صورت ميںکامياب ہو نا چاہیے۔اپنے اُصو ل و عقائد ي
بنيادوں پر صدق دل سے ايمان و يقين رکھنا ايک پسنديدہ امر ہے اوراُس پر سختي سے
عمل کرنا اچھي بات ہے ۔ليکن اِسے اثبات کي سرحد سے نفي کي سرحد تک اور دوسرو ں
سے دشمني و عداوت تک نہيں بڑھنا چاہیے۔
اسلامي اُمت ميںشامل تما م بھائيوں کو چاہیے کہ وہ ايک دوسرے کا احترام
کريں۔اگروہ اپنے عقائد کي بھي حفاظت کرنا چاہتے ہيں تو حفاظت کريں ليکن ساتھ ہي
دوسروں کا حترام بھي کرنا لازمي ہے۔دوسرے مسالک و مکاتب فکرکي حدود کا خيال
رکھيں،اُن کے حقوق اور افکار و عقائد کا بھي احترام کريںاور بحث و جدل کو علمي
محافل کيلئے رکھ چھوڑيں۔ہر مسلک و مکتبہ فکر کے علما اور اہل فن حضرات اگر آپس
ميں بيٹھ کر مذہبي مسائل کے بارے ميں مباحثہ اور علمي بحث کرنا چاہتے ہيں تو وہ
يہ کام انجام ديں۔ليکن ايک علمي محفل ميں ايک ہونے والے علمي مباحثہ اوراُس بد
گوئي ميں بہت فرق ہے جس ميںمعاشرے کي عوامي سطح پر آکراُن افراد کے سامنے جن
ميںعلمي مسائل کا تجزيہ و تحليل کرنے کي صلاحيت نہيں ہے ،دوسرے مکاتب فکر کر
اعلي اعلان برا کہا جائے۔ہر مکتبہ فکر اور مسلک کے علما اورہر ملک کے اعليٰ
حکام کو چاہیے کہ وہ اِس قسم کے کاموں کو مہار کريں۔يہ تما م مسلمانوں اور تما
م مکاتب فکر کا وظيفہ ہے ۔اِس سلسلہ ميں شيعہ بھي ذمہ دار ہيں اور سني بھي اور
دونوں کو اتحاد کي جانب قدم اُٹھانے کيلئے عملي اقدامات کر نے چاہئيں۔يہ ہے
پہلا عامل جو اندروني ہے۔
دوسرا عامل:دشمن کي سازشوں سے ہو شيار رہنے کي ضرورت
دوسرا عامل بيروني عامل ہے جس ميں مغرض دشمن ،فرقہ واريت اورمسلکي اعتقادات کي
بنا پر ايک دوسرے کے خلاف دشمني کي آگ کو بھڑ کانا چاہتے ہیں ۔اِس سے کسي بھي
صورت ميں غفلت نہيں کرني چاہیے۔يہ مسئلہ صرف آج کا نہيں ہے بلکہ يہ فرقہ واريت
اور اختلافات اُس وقت سے موجود ہیں کہ جب سے دنيا پر قابض سياسي طاقتو ں نے اِس
بات کا احساس کيا کہ وہ اقوام عالم پر اثر انداز ہو سکتي ہيں اورآج يہ اختلافات
اور بھي شديد ہو گئے ہيں۔
عصر حاضر کے جديد قسم کے امکانات اورمختلف قسم کے ذرائع ابلاغ ايک دوسرے کي مدد
کرتے ہيں تاکہ يہ آ گ مزيد بھڑکائي جائے۔يہ وہ چيزيں ہيں جو جلتي پر تيل کا کام
کرتي ہيں۔يہ طاقتيں مختلف حوالوں سے اورمختلف شکلوںميںفرقہ وارانہ اختلافات کو
ہوا ديتي ہيں۔اِس سلسلہ ميں آگاہ و ہوشياررہنے کي ضرورت ہے ۔افسوس کے ساتھ کہنا
پڑتا ہے کہ آج مسلمان اقوا م اور اسلامي مما لک ميں مٹھي بھر کچھ افراد جمع ہو
کر دشمن کو اُس کے مذموم مقاصد ميں کامياب ہو نے اور اُسے عملي جامہ پہنانے کا
وسيلہ بن گئے ہيں۔
حز ب اللہ کے ہاتھوں تاريخي شکست کا بدلہ ؛شيعہ سني اختلافات کو ہوا دنيا
يہ عبرت آموزي کا مقام ہے۔آپ ملاحظہ کيجئے کہ آج سے دو سال قبل جب حزب اللہ
اورلبنان کي مقاومت اسلاميہ کے نوجوانوں نے اسرائيل سے جنگ ميں صہيوني حکومت
پرفتح حاصل کي اور اُسے تاريخي شکست دے کردنيا ميں ذليل و خوار کياتو اُن کي يہ
فتح و نصر ت پوري دنيا ميںمسلمانوں کي کاميابي کي ايک علامت بن گئي ۔اِس فتح کے
فوراً بعد ہي اُنہوں نے لبنا ن ميں،مشرق وسطيٰ ميں اور پوري دنيائے اسلام ميں
فرقہ واريت کو ہوا دي،شيعہ سني کے مسئلہ کو اُٹھايااورديني تعصبات کو ہوا ديني
شروع کر دي۔
يہ شيعہ سني کا مسئلہ ايسے اُٹھا رہے ہيں کہ گويا شيعہ سني کا مسئلہ آج ہي وجود
ميں آيا ہو!وہ اپنے اِ ن ہتھکنڈو ں سے يہ چاہتے ہيں کہ مسلمانوں کوحاصل ہو نے
والي عالمي سطح کي کاميابي کے مزے کو کافور کر ديں جس نے اُنہيں ايک دل و ايک
زبان بنا ديا ہے ۔يہ دو سال قبل کي بات ہے ۔
غزہ ميں تاريخي شکست کے بعد عالم استکبار کي طرف سے عرب و عجم اور قوميت کا
مسئلہ کواُٹھانا
ابھي دو ماہ پہلے ہي اُمت مسلمہ کو ايک اور بڑي نوعيت کي کاميابي نصيب ہوئي ہے
اور غزہ ميں فلسطينيوں کي استقامت و ثابت قدمي کے نتيجہ ميںصہيوني دشمنوں
پرکاميابي ہے ۔يہ بہت ہي بڑي اور اہم نوعيت کي کاميابي ہے۔اِس سے بڑھ کر اور کو
ن سے کاميابي ہو سکتي ہے کہ دنيا کي سب سے زيادہ اسلحے سے يس فوج جس نے١٩٦٧ ئ
سے ٩٧٣ا ئ تک دنيا کے تين بڑے ممالک کي مشترکہ فوج کو شکست سے دوچار کيا تھا،اب
بائيس دنوں ميں اپني ايڑي چوٹي کا پورا زور لگا نے کے باوجود بھي غزہ کے نہتے
عوام ،سر بکف نوجوانوں اور ايمان رکھنے والے سر فروش مجاہدو ں کو عقب نشيني پر
مجبورنہ کرسکي اوراُنہيں شکست نہ دے سکي؟!
دنيا کي يہ بڑي اور نامور فوج آخر کار خالي ہاتھ ناکام لوٹ گئي جس پوري دنيا
ميں صہيوني حکومت اور اُس کے حاميوں کي جن ميں سر فہرست امريکا ہے، کي عزت و آ
برو خاک ميں مل گئي ۔يہ دنيا کے تمام مسلمانوں کيلئے ايک بہت بڑي کاميابي تھي
جس نے اُن کے دلوں کو ايک دوسرے سے نزديک کر ديا۔وہ يہاں شيعہ سني اختلافات کو
ہوا نہيں دے سکے لہذا اُنہوں نے يہاں قوميت کے مسئلے کو اُٹھايا،عرب و غير عرب
اور عجم کا مسئلہ۔اُنہوںنے اِس بات کو ہوا دي کہ فلسطين کا مسئلہ صرف عربو ں کا
اپنا داخلي مسئلہ ہے اور يہ صرف عربوں ہي سے مخصوص ہے ۔چنانچہ غير عربوں کو
کوئي حق نہيں ہے کہ وہ اِس مسئلہ ميں داخلت کریں!ہم کيوںداخلت نہ کريں؟اِس لیے
کہ مسئلہ فلسطين ،دنيائے اسلام کا مسئلہ ہے اور اِس کا عرب و عجم سے کوئي تعلق
نہيں ہے۔
قوميت کے مسئلہ سے دنيائے اسلام کا شيرازہ بکھرنے کا انديشہ
دنيائے اسلام ميں جہاں بھي قوميت کا مسئلہ اُٹھايا جائے تو جان ليجئے کہ وہاں
تفرقہ کا ايک بہت بڑا عامل وجود رکھتا ہے ۔جب يہ طاقتيں دنيائے اسلام کے مسائل
ميں قوميت کا مسئلہ لے کر آتي ہيںتواِن کي خواہش ہو تي ہے کہ وہ عربوں کو جدا
کر ديں،ايرانيوںکو اسلامي مسائل سے دور کرديں،ترکوں کي طاقت کو اسلام کيلئے
استعمال ہو نے سے روک ديں،انڈونيشي عوام کو اسلامي مسائل ميں بولنے سے باز
رکھيںاورپاکستاني اور ہندوستاني مسلمانوں کو اُمت مسلمہ کے مسائل ميں اپني طاقت
و قدرت کو شامل ہو نے سے روک ديں۔اگر وہ يہ سب کرنے ميں کامياب ہو جائيںتو باقي
کيا بچے گا؟اِس طرح کے ہتھکنڈے اور روشيں در اصل دنيائے اسلام کي مشترکہ طاقت
وقدرت اور اُس کي توانائي کو ضائع کرنے کے مترادف ہیں۔
قوميت کا نعرہ درحقيقت استکباري چال ہے او رافسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ
دنيائے اسلام ميں بہت سے افراد اِس جال ميں پھنسے ہو ئے ہيں۔يہ دشمن نہيں چاہتا
کہ لبنان ميں حزب اللہ کي فتح کي مٹھاس اور غزہ ميں فلسطينيوں کي کاميابي کي
شيريني مسلمانوںميںايک لمحہ کيلئے بھي باقي رہے لہذ افوراًہي اختلاف و تفرقہ کا
ايک عامل وجود ميں لے آتے ہيںتا کہ مسلمانوں کي متحد قوت و طاقت کو ٹکڑے ٹکڑے
کر ديں۔
قوميت کي آواز ،دشمن کي آواز ہے!
اُمت مسلمہ کو بيدار و ہوشيار رہنے کي ضرورت ہے اور اُسے چاہیے کہ دشمنو ں کي
اِن سازشوں کے مقابلہ ميں کھڑي ہو جائے۔سب سے پہلے اسلامي ممالک کے سياستدانوں
کے کندھوںپر سنگين ذمہ داري عائد ہو تي ہے ،ساتھ ہي اسلامي ممالک کے حکمراں
طبقہ اوراعليٰ حکام کو بھي ہو ش ميں آنا چاہیے۔عين ممکن ہے قوميت کا مسئلہ
اُٹھانے کي بات ہمارے ہي کسي سياست داں کے منہ سے نکلے ليکن ہميں غلطي کا شکا ر
نہيں ہو نا چاہیے ۔ہم اِس غلطي کے اصلي عامل کي شناخت ميں غلطي کا شکار نہيں ہو
ں گے۔صحيح ہے کہ قوميت کا نعرہ ہمارے اپنے ہي کسي کے منہ سے نکلے ليکن يہ بات ا
ور الفاظ دسرو ں کے ہيںاوراستکباري طاقتوں سے متعلق ہيں۔يہ وہ لوگ ہيں جو اُمت
مسلمہ کے اتحا دو اتفاق کے مخالف ہيں۔اگر اُمت مسلمہ کسي شخص کے منہ سے ايسي کو
ئي بات نکلے تو جان ليجئے کہ وہ دشمن کے فريب کا شکار ہو گئے ہيں،يہ اِن کي
آواز نہيں ہے بلکہ يہ شمن کي آواز ہے اور ہم دشمن کي آوا ز کو اچھي طرح پہچانتے
ہيں۔
اہل علم وآگاہي کي ذمہ داري
سب سے پہلے اسلامي ممالک کے سياستدانوں اور اعلي ٰ حکام کي ذمہ داري ہے ،ساتھ
ہي دانشوروں پر بھي ذمہ داري عائد ہوتي ہے جو عوام کے ذہن و قلب سے سروکار رہتے
ہيں؛يعني علمائے دين،روشن فکر،مصنفين،کالم نگار ،صحافي حضرات ،شعرائ و اُدبائ
اور مفکروں کي ذمہ داري ہے کہ وہ اپني عوام کے سامنے اُن افراد کو بے نقاب
کريںجو مسلمانوں کے اتحاد کو ختم کرنا چاہتے ہيںاورخدا وند عالم کے اِس مستحکم
رسي کو اپنے ہاتھوں ميں لينے کے خواہشمند ہيں۔
قرآن کااعلان؛سب مل کر خدا کي رسي کو تھامو!
قرآن واشگاف الفاظ ميں ہم سے کہتا ہے:’’وَاعتَصِمُوا بِحَبلِ اللّٰہِ جَمِيعاً
وَلَا تَفَرَّقُوا‘‘٥ ايک دوسرے کے ہاتھ ميں ہاتھ دے کر خدا کي رسي کو مضبوطي
سے تھامیں۔حبل الٰہي کو ہر شخص تن تنہا بھي پکڑ سکتاہے ليکن قرآن کہتاہے:
’’وَاعتَصِمُوا بِحَبلِ اللّٰہِ جَمِيعاً ‘‘ تم سب متحد رہواور’’وَلَا
تَفَرَّقُوا‘‘تفرقہ ميں نہ پڑويہاں تک کہ خدا کي رسي کو بھي مضبوطي سے پکڑنے
ميں بھي متحد رہو۔تو جو لو گ خدا کي رسي کو اورجو لوگ شيطان کي رسي کو مضبوطي
سے تھامناچاہتے ہيں اُ ن کي تو بات چھوڑ ديجئے۔قرآن تو کہہ رہا ہے کہ اگر تم
خدا کي رسي اور حبل الٰہي کو مضبوطي سے تھامنا چاہتے ہو تو ’’جَمِيعاً‘‘تو سب
آپس ميں مل کر اور متحد ہو کرخدا کي رسي کو تھامواورايک دل ہم زبان ہو کر يہ
کام انجام دو۔يہ اُمت مسلمہ کا بہت بڑا مسئلہ ہے۔
مجھے اُميدہے کہ خدا وند عالم پوري اُمت مسلمہ ،مسلمان اقوام اور تمام مسلمان
حکومتوں کو اِس بات کي تو فيق عنايت کرے گاکہ وہ ’’اتحا د بين المسلمين‘‘کے
مسئلہ پر اُ س کي اہميت او ر قدر قيمت کے ساتھ توجہ ديتے ہوئے اُس پر عمل پيرا
ہوں گے۔خدا وند عالم کي رحمت و برکت حضرت امام خميني
۲
پر نازل ہو کہ جنہوں نے ہمارے دور ميںاتحا دبين المسلمين کا علم بلند
کيااوردنيا کے تمام مسلمانوں کو اِس اتحاد کي جانب عملي دعوت دي۔ہميں اِس بات
کي بھي پوري اُميد ہے کہ خداوند عالم اپني ہدايت و دعوت سے زيادہ سے زيادہ ہميں
آشنا و مانوس کرے او راُمت مسلمہ کے مستقبل کو اُس کے ماضي سے بہتر قرار دے۔
والسّلام عليکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
1 ۔نہج البلاغہ، خطبہ 89
2 ۔نحل: 58 و 59
3 ۔مفاتيح الجنان، دعا ندبہ
4 ۔توبہ: 33
5 ۔ ل عمران: 103
|