|
|
|
افواج کے وجود کا فلسفہ یہ ہے کہ ان کے زیر سایہ عوام احساس تحفظ کریں، قائد انقلاب 13-05-2009
قائد انقلاب اسلامی نے صوبہ کردستان میں بدھ تیئيس اردیبہشت تیرہ سو اٹھاسی
ہجری شمسی مطابق تیرہ مئی دو ہزار نو عیسوی کو مسلح فورسز
کی ایک مشترکہ تقریب سے خطاب میں اسلامی جمہوری نظام میں مسلح فورسز کے خاص
کردار کی وضاحت کی اور ساتھ ہی دشمنوں کی سازشوں اور سرگرمیوں کی جانب سے ہمیشہ
ہوشیار اور جوابی کاروائی کے لئے تیار رہنے کی ضرورت پر تاکید فرمائی۔ تفصیلی
خطاب پیش خدمت ہے: بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہ تعالی کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس جگہ مسلح فورسز کے با شعور اور ہر لحاظ
سے آمادہ جوانوں سے جو اس شجاعت خیز سرزمین جہاد کے نمونے کا درجہ رکھتے ہیں
ملاقات کی توفیق عطا کی۔ عصری تاریخ میں کردستان ایثار اور جذبہ شہادت کے لحاظ
سے بے مثال سرزمین ہے۔ دشمن نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اپنی معاندانہ
پالیسیوں کے تسلسل میں اس خطے پر اپنی توجہ مرکوز کی، اپنے آلہ کاروں کو مختلف
شکلوں میں مختلف طریقوں سے اس علاقے میں پہنچایا اور اسلامی جمہوری نظام کو، جو
مومن انسانوں کے جذبہ ایمانی اور حمیت و غیرت پر تکیہ کئے ہوئے ہے، بڑا سخت
امتحان دینا پڑا جس سے وہ سرخرو ہوکر باہر نکلا۔ اس صوبے میں فوج، پاسداران
انقلاب فورس اور پولیس کے اہلکاروں نے مختلف شکلوں میں کارہائے نمایاں انجام
دئے۔ کردستان کے عوام نے رضاکار فورس "بسیج" اور "پیش مرگان" سے موسوم دستوں کی
شکل میں میدان کارزار میں اپنے جذبہ ایمانی اور جوش و ولولے کا وہ منظر پیش کیا
جو ملت ایران کی شجاعت کی یادگار داستانوں میں ہمیشہ نمایاں رہے گا۔ علاقے کے
عوام نے مسلح فورسز کے ساتھ بھرپور تعاون کیا اور ملک کے گوشہ و کنار سے آکر
جمع ہو جانے والے جوانوں پر استوار مسلح فورسز نے بھی ثابت کر دیا کہ وہ اسلامی
نظام میں عوام کی محافظ اور سکیورٹی کی پاسباں ہیں۔ یہ بنیادی نکتہ ہے۔ معاشروں
کی تاریخ میں اگر مسلح افواج کی تشکیل جہاں طاقتوں اور طاقتور افراد کی حفاظت
کے لئے کی جاتی رہی وہیں اسلامی نظام میں مسلح فورسز عوام کے تحفظ اور عام
لوگوں کی زندگی کو بے خطر بنانے پر مامور ہیں۔ مسلح فورسز کا فلسفہ وجودی یہ ہے
کہ ان کے زیر سایہ عوام احساس تحفظ کریں۔ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد سے
ہی اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج میں یہ فریضہ بحمد اللہ بخوبی عیاں رہا۔
اس علاقے، اس صوبے، ملک کے مغربی حصے اور اس جیسے دیگر علاقوں میں جو کردار
مسلح فورسز نے ادا کیا وہ مسلح فورسز کے فلسفہ وجودی کا حقیقی نمونہ تھا۔ آج
بھی ایسا ہی ہے۔ اس میدان میں موجود آپ تمام عزیز بھائیوں اور با شعور نوجوانوں
سے خواہ آپ کا تعلق رضاکار فورس "بسیج" سے ہو جو مقامی لوگوں پر مشتمل ہے، یا
فوج، پاسداران انقلاب فورس اور پولیس فورس سے ہو، پورے ایقان و وثوق کے ساتھ
کہنا چاہوں گا کہ اسلامی نظام مسلح فورسز کو عوام کے تحفظ کی خدمت میں دیکھنا
چاہتا ہے۔ علمی پیش رفت، فوجی تربیت کی تکمیل، جنگی صلاحیتوں میں اضافے اور
فوری و بر وقت اقدام کے لئے آپ کی ہر کوشش ایک نیک عمل سے عبارت ہے، یہ اللہ
تعالی کے نزدیک پسندیدہ اقدام ہے اس کے لئے آپ "قصد قربت" بھی کر سکتے ہیں۔ یہ
ہمارے ایثار پیشہ نوجوانوں، ہمارے مسلح جوانوں اور کمانڈروں کے لئے بہت بڑی
خصوصیت ہے۔ والسّلام عليكم و رحمةاللَّه و بركاته
|
|
|