|
نماز جمعہ
11 09 2009
21رمضان المبارک 1430 ہجري کو رہبر عالم اسلام حضرت آيت اللہ العظميٰ خامنہ اي دامت برکاتہ نے تہران ميں ايک عظيم الشان نماز جمعہ کي امامت فرمائي اور اپنے خطبات ميں امير المومنين حضرت امام علي کي سيرت طيبہ پر روشني ڈالتے ہوئے اُس کي حکومت اور سياست کي روش و طريقہ کار کو امت مسلمہ خاص طور پر مسلمان حکمرانوں کيلئے سرمشق قرار ديا آپ نے دوسرے خطبے میں ایران کے داخلی حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے امام خمینی کی سیرت کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی مجموعی پالیسی کا اعلان فرمایا۔ نشر ولايت پاکستان يہاںاُن کے خطبات کے اہم نکات کا ترجمہ پيش کر رہا ہے۔
سياست و حکومت ِ علوي کي ممتاز ومنفردخصوصيات
اور
اجتماعي اختلافات کے حل کيلئے امام خميني ۲ کا ديا ہوافارمولااور
اسلامي جمہوريہ ايران کي مجموعي پاليسي کا اعلان
خطبہ اوّل
بسم اللّٰہ الرحمن الرحيم
الحمد للّٰہ ربّ العالمين ،نحمدہ و نستعينہ و نومن بہ و نتوکّل عليہ و نصلّي ونسلّم علي حبيبہ ونجيبہ وسيِّدہ خلقہ بشير رحمتہ ونذير نقمتہ سيِّدنا ابي القاسم المصطفيٰ محمّد و علي آلہ الاطيبين الاطہرين المنتجبين سيّما بقيّۃ اللّٰہ في الارضين اللّٰھمّ صلّ علي ائمۃ المسلمين وحماۃ المستضعفين وھداۃ المومنين۔
تقوائے مجسم کي سيرت کو اُسوہ قرار دينا
آپ تمام نما ز گزار بہن بھائيوں کو تقويٰ کي تاکيد و سفارش کرتا ہوں،يہ مہينہ ،تقويٰ کے حصول کا مہينہ ہے اور آج ماہ ِ رمضان المبارک کي اکيس تاريخ ہے ،آج اُس شخصيت کا دن ہے جو مجسم تقويٰ ہے ،اِس لیے کہ اميرالمومنين مجسم تقويٰ تھے،ہميں چاہیے کہ ہم حضرت امير المومنين سے درس ليںاورتقويٰ کو دنيا و آخرت کاتوشہ قرارديں۔
اِس خطبہ اول ميںحضرت امير المومنين سے متعلق کچھ عرائض بيان کروں گا۔آج حضرت امير المومنين کا دن ہے ۔شب ِ اکيس ماہِ رمضان کو بشريت نے علي کو کھو ديا ۔حضرت امير المومنين کا جسم،آپ کي صدا،آپ کي سانسيں اورآپ کي دل ميں اُتر جانے والي نگاہيںاُس دن بشريت سے لے لي گئيں۔ليکن اِن سب کے باوجود علي کو اپنے ساتھ اور اپني ہدايت کيلئے اپنا راہنمااوراُنہيں اپني حرکت اوراُس کے آگے چلنے والا قرار ديا جا سکتا ہے،بس اِس کي شرط يہ ہے کہ ہم امير المومنين کي سيرت وکردار کو اپني زندگي کيلئے سر مشق قرار ديں۔آج ميں حضرت امير المومنين کي زندگي کے ايک حصے اوراُن کي افتخار آميزمختصرمگر درخشاںحکومت کے ايک گوشے کو آپ کيلئے بيان کروں۔
سياست،اخلاق ومعنويت کے ساتھ ہو تو سرمايہ کمال ہے!
ميں نے اپني بحث کو امير المومنين کي سياسي روش ومنش کے محور پر چند نکات ميں تقسيم کيا ہے۔اِس نکتے کي جانب توجہ ضروري ہے کہ حضرت امير المومنين کي سياسي روش اورزندگي اُن کي معنوي اور روحاني زندگي سے جدا نہيں ہے اورحضرت امير المومنين کي سياست اُن کي معنويت وروحانيت اوراخلاق سے متصل ہے بلکہ اُن کي سياسي زندگي کا منشا اُن کي معنويت اور اخلاق ہي ہے۔سياست اگر اخلاق سے سرچشمہ حاصل کرے اور معنويت سے سيراب ہو تووہ سياست اپنے زير سايہ موجود افراد کيلئے وسيلہ کمال ہو گي اوراُن کيلئے جنت کے راستے کا درجہ رکھتي ہو گي۔ليکن اگرسياست ،اخلاق ومعنويت سے الگ ہو جائے تو اُس وقت سياست ،سياست بازي ہو جائے گي اوراُس کا مقصد يہ ہو گاکہ اُس کے ذريعے سے ہر قيمت پرقدرت و ثروت کو حاصل کيا جائے اور اپني ذاتي منفعت کا سامان تيار کيا جائے ۔ايسي سياست ،انسان اور ايک ملک و قوم کيلئے آفت و بلا بن جاتي ہے ،نہ صرف يہ کہ خود سياست کيلئے بلکہ خود عوام کيلئے بھي وزرو وبال کا سبب ہوتي ہے جو اُس سياست کے زير سايہ زندگي بسر کرتے ہيں۔
حکومت، حضرت امير المومنين کي نگاہ ميں
آپ نہج البلاغہ ميں ملاحظہ کيجئے کہ امير المومنين اِس حکومت کاکہ جس ميں تين مفصل جنگيں ہوئي اور ہزاروںافرادمارے گئے ،مختلف تعبيروں سے تعارف کراتے ہيں جو اُس کي تحقير کي جانب نشاندہي کرتي ہيں۔ايک جگہ ابن عباس ۱ سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کو اپنے ٹانکے لگے ہوئے پرانے جوتے کے برابر قرار ديتے ہيں۔ايک جگہ اِسي حکومت کے بارے ميں فرماتے ہيں:’’لآلفَيتُم دُنيٰکُم ھٰذَہ آَزھَدُ عِندِي مِن عَفطَۃِ عَنزٍ‘‘يعني اُسے ايک بکري کي چھينک کے وقت اُس کي ناک سے نکلنے والے پاني سے بھي زيادہ کم حيثيت ہے۔تصور کيجئے کہ بکري کي نا ک سے نکلنے والے پاني کي کيا حيثيت و وقعت ہو تي ہے!فرماتے ہيںکہ مسند ِ خلا فت پر علي کيلئے بيٹھنااِس سے بھي زيادہ کم اہميت رکھتا ہے۔
اِسي خطبے ميں ايک اور جگہ حکومت کو قبول کرنے کے دلائل کو بيان کرتے ہوئے فرماتے ہيں:’’لَو لاَ حُضُورُ الحَاضِرِ وَقِيَامُ الحُجَّۃِ بِوُجُودِ النَّاِصِر‘‘جب ميں ديکھا کہ لوگ آئے ہيں اور اصرار کرتے ہوئے اپني نصرت کا اعلان کر رہے ہيں تو ميں نے قبول کر لياليکن اِس کے ساتھ استدلال کرتے ہوئے فرماتے ہيں: ’’وَ مَا اَخَذَاللّٰہُ عَلَي العَلَمَآئِ اَن لاَ يُقَارُّوا عَليٰ کِظَّۃِ ظَالِمِ وَ سغَبِ مَظلُوم‘‘(نہج البلاغہ ؛خطبہ ٣)يعني خدا نے علما اور اہل علم ودانش پر واجب کيا ہے کہ وہ ظالم کي سيري اورمظلوم کي بھوک اور تہيدستي پر صبر نہيں کريںگے۔يہ وہ چيزيں ہيں جن کي وجہ سے امير المومنين حکومت کو قبول کرتے ہيںاوريہي وہ چيزيں ہيں جو اُن کو اِن افراد کے خلاف استقامت کرنے کيلئے دعوت ديتي ہيں جو اُن کے خلاف ظلم وستم کو اپناتے ہيںورنہ تو دوسري صورت ميں حکومت ،امير المومنين کيلئے کسي بھي اہميت کي حامل نہيں ہے۔
امير المومنين کي حکومت کي خصوصيات؛
پہلي خصوصيت؛مکر و فريب سے دوري
امير المومنين کي سياست کي ايک سب سے بڑي خصوصيت يہ ہے کہ وہ مکر و فريب ے دور ہے۔حضرت امير المومنين سے ايک جملہ نقل کيا گيا ہے:’’لَو لَا التُّقيٰ لَکُنتُ اَدھَي العَرَبِ‘‘(اُصو ل کافي؛جلد٨ ،صفحہ٢٢)يعني اگر ميں اہل تقوي ٰ نہ ہوتا تو ميں پورے عرب کے اہل مکر و فريب ميں عرب ميں سب سے زيادہ مکر و فريب جاننے والا ہوتا۔ايک اور جگہ اپنا اور معاويہ کا مقائسہ کرتے ہوئے فرماتے ہيں اِس لیے کہ معاويہ، مکر و فريب سے حکومت کرتا تھا،جيسا کہ نقل کيا گيا ہے:’’وَاللّٰہِ مَا مُعَاوِيَۃَ بِآَدھَيٰ مِنِّي‘‘(نہج البلاغہ ؛خطبہ ٢٠٠)يعني معاويہ مجھ سے زيادہ چالاک اور ہو شيار نہيں ہے۔ليکن اِس حالت علي کيا کر سکتے ہيں؟جب طے يہ ہوکہ وہ سياست ميں تقويٰ اور اخلاق کي رعايت کريں تو وہ وہ سب کچھ نہيں کر سکتے جو دوسرے آزادانہ طور پرانجام ديتے ہيں۔
امير المومنين کي روش يہ ہے کہ اگر انسان تقويٰ کي رعايت نہ کرے تواُس کے ہاتھ اور زبان کھلے ہيںاور وہ سب کچھ کہہ سکتا ہے ،حقيقت کے خلاف اپني زبان استعمال کر سکتا ہے ،تہمت لگا سکتاہے ،لوگوں سے جھوٹ بو ل سکتا ہے،اُصول وقوانين اورمعاہدوں کو پامال کر سکتا ہے اورصراطِ مستقيم کے دشمنوں سے قريب ہو سکتا ہے؛يعني جب تقويٰ کي رعايت نہ کي جائے تو ايسا ہي ہوتا ہے۔اميرالمومنين فرماتے ہيں کہ ميں نے سياست کو تقويٰ کے ساتھ انتخاب کيا ہے،امير المومنين کي روش مکاري ،حيلہ گري اور اِسي طرح کے اُوچھے ہتھکنڈوں سے پاک ہے ۔
اخلاق ومعنويت سے دور سياست؛ذاتي منفعت کے حصول کا ذريعہ
دين کي سياست سے جدائي کے خطرات ميں سے ايک خطرہ کہ کچھ لوگ جس کي دنيائے اسلام ميں ترويج کر تے رہے ہيں اورافسوس ہے کہ ہمارے ملک ميں بھي کچھ افراد،دين کي سياست سے جدائي کا راگ الاپتے رہتے ہيں،يہي ہے کہ جب سياست ،دين سے جدا ہو جائے تو وہ اخلاق اور روحانيت و معنويت سے بھي جدا ہو جائے گي۔سيکولر نظام ہائے حکو مت او ر دين سے دور نظاموں ميں زيادہ تراوراکثر مواقع پر اخلاق اور اخلاقي قدروں کو پامال کر ديا گيا ہے۔ہاں اگراِن نظاموں ميں کہيں ايک اخلاقي عمل ديکھنے ميں آتا ہے تو يہ ايک استثنائي واقعہ ہو گااور ايسا ہو نا ممکن ہے۔ليکن جب دين، سياست سے جدا ہو جائے تو سياست ،غير اخلاقي ہو جائے گي اور اُس کے تمام معاملات،مادي اور ذاتي منفعت کي بنيادوں پر قائم ہوں گے ليکن امير المومنين کي سياست کي بنياديںمعنويت پر قائم ہيں اور اُس کي معنوي و روحاني روش ومنش سے جدا نہيں ہیں۔
حکو مت وسياست ِ اما علي کي دوسري خصوصيت؛دشمنوں اور مخالفوں سے حتي الامکان مداراکا سلوک
سياست ميںحضرت امير المومنين کي روش يہ تھي کہ وہ حتي الامکان اپنے مخالفوں اورحتيٰ اپنے دشمنوں سے مدارا کرتے تھے ۔يہ جو آپ ملاحظہ کرتے ہيں کہ اُن کي تقريباً پانچ سالہ حکومت ميںاُنہوں نے تين بڑي جنگيں لڑيںتو يہ سب اُس وقت ہوا کہ اُنہوںنے اپنے مد مقابل افراد سے حتي الامکان مدارا کيا تھا۔امير المومنين اُن افراد ميں سے نہيں تھے جو مخالفوں سے لازمي مدارا کیے بغير تلوار ہاتھ ميں اُٹھا ليں۔اِس بارے ميں خود امير المومنين سے کچھ جملے سنيے۔
ايک مقام پر اُن کي خلافت کے ابتدائي دور ميں کچھ لوگ اُن کے پا س آئے اورکچھ لوگو ں کي جانب اشارہ کرتے ہوئے اُن سے کہنے لگے :’’اِ ن افراد کا حساب کتاب برابر کر ديں!‘‘حضرت امير المومنين نے اُنہيں جواب ميں صبر کرنے کي نصيحت کي۔
اُن من جملہ نصائح ميں سے ايک نصيحت يہ تھي:يہ جو تمہاري نظر ہے ،يہ ايک نظر ہے؛’’فِرقَۃ� تَرَيٰ مَا َترَونَ‘‘،کچھ لوگ ہيں جو تمہاري اِس نظر کو قبول نہيں کرتے،’’فِرقَۃ� تَرَيٰ مَالاَ تَرَونَ‘‘،کچھ لوگ ہيں جو ايسي بات کو مانتے ہيں کہ جس کو تم قبول نہيں کرتے اور کچھ ايسے بھي ہيں:’’وَفِرقَۃ� لاَ َترَيٰ ھٰذَا وَ لاَذَاکَ‘‘،جو نہ اِس طر ف ہيں اورنہ اُس طرف اور اُن کي اپني ہي ايک تيسري نظر ہے۔’’فاصبروا‘‘صبر کرو تا کہ ميں اپني حکمت سے کام انجام دوں۔ ’’حَتّيٰ ......تُوخَذُ الحُقُوقُ مَسمَحَۃ ً‘‘صبرکروکہ ہم حقوق کونرمي اور آساني سے ثابت کريں اور حاصل کريں۔’’وَاِذَا لَم اَجِد بُدّاً فَآخِرُ الدَّوَآئَ الکيُّ‘‘(نہج البلاغہ ؛خطبہ ١٦٨)جہاں تک ہو سکے حق کو نرمي و ملائمت اور مدارا سے پلٹا ديں اور اگر ديکھا کہ وہ حق کو تسليم نہيںکرتے اور کوئي چارہ نہيں بچا تو ’’فَآخِرُ الدَّوَآئَ الکَيُّ‘‘،يہ ايک عربي ضرب المثل ہے يعني استقامت اور بھرپور طريقے سے اُن کا جواب ديں گے۔جب تک ہو سکے گا مرہم پٹي سے کام چلائيں گے اور زخم کا علاج کريں گے اورشفا ديں گے ليکن جب يہ سب کار گر ثابت نہ ہوا تواُس وقت زخم کو داغيں گے۔
جنگ صفين ميں جنگ کے شروع ہونے سے قبل بہت سے لوگ ناراضگي کي علامت کے طورپر اِس بات کا اظہار کر رہے تھے کہ امير المومنين آپ حملہ کيوں شروع نہيں کررہے ہيں؟امير المومنين نے اُنہيںجواب ديا:’’فَوَاللّٰہِ مَا دَفَعتُ الحَربَ يَوماً اِلّا اَنَا اَطمَعُ اَن تَلحَقَ بِي طَائِفَۃ� فَتُھتَديٰ ِبي‘‘(نہج البلاغہ ؛ خطبہ٥٥)فرماتے ہيں:ميں جنگ کا نہيں ہدا يت کا طالب ہوں،اگر ميں ايک دن بھي جنگ ميں تاخير کرتا ہوںتو اِس کا مطلب يہ ہے کہ شايد کچھ لوگ حقيقت کي جانب مائل ہو جائيںاور صراط مستقيم پر آجائيں۔ليکن جب ہم اُن سے مايو س ہو جائيں گے کہ اُن ميں سے کوئي حق کي جانب نہيں آنے والاتو اُس وقت تلوار اُٹھا کر جنگ شروع کريں گے۔
جنگ جمل ميں بھي حضرت امير المومنين کا ايک بڑ اامتحان تھا، اہل جمل کيلئے فرمايا:’’اِنَّ ھٰوُلآئِ قَد تَمَالَوُوا عَليٰ سَخطَۃِ اِمَارَتِي‘‘،يہ سب اِس کیے جمع ہوئے ہيں اور ايک دوسرے کے ہاتھوں ميں ہا تھ دئيے ہيںتا کہ امير المومنين کي اِس حکومت کے خلاف اپنے غصے کا اظہار کريں۔’’سَآَصبِرُ‘‘ميں صبر کروں گا،ليکن کب تک؟’’مَا لَم اَخِف عَليٰ جَمَاعَتِکُم‘‘(نہج البلاغہ ؛خطبہ١٦٩)اُس وقت تک کہ جب ميں يہ ديکھوں کہ يہ مسلمانو ں ميں اختلاف ايجاد کر رہے ہيں،بھائيوں کو ايک دوسر ے کے مد مقابل قرار دے رہے ہيں،تو ميں اُس وقت ميدان عمل ميں قدم رکھوں گا اور اِس فتنے کا علاج کروںگا۔ليکن اُس وقت تک صبر اور نصيحت سے کام لوں گا۔
حکومت و سياست ِ امير المومنين کي تيسري خصوصيت؛دشمنوں اور مخالفين سے استدلالي گفتگو
سياسي ميدان ميں حضرت امير المومنين کي ايک روش يہ تھي کہ وہ اپنے دشمنوں اورمخالفوں سے استدلال سے بات کرتے تھے۔معاويہ کے نام لکھے جانے والے خطوط ميں حالانکہ آپ اور معاويہ کے درميان شديد دشمني تھي اوروہ آپ کے نام اپنے خط ميں آپ
|