امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی نما یاں اور ممتاز شخصیت

امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ بےمثال اور ممتاز خصوصیات کے مالک تھے آپکی شخصیت کے مختلف پہلو ؤں پر جتنا ھم غور کرتے ہیں اپکی شخصیت اور بھی نمایاں اور بےمثال دکھائی دیتی ھے۔ اگرچہ آج یہ داغ ہمارے دلوں کو تڑپارہاہے اور غم کی سنگینی یمارے دلوں پر بوجھہ بنی ہوئی ہے انکے فقدان کا کہیں زیادہ احساس کررہاہوں ۔
وزیراعظم اور کابینہ سے بیعت کے موقع ہر قائد انقلاب اسلامی کے بیانات سے اقتباس ۱۶۔۳۔۱۳۸۶

ارادہ الہی اور شرعی ذمہ داریوں کا محور

امام کی شخصیت بڑی حد تک انکی امنگوں کی بلندی اور اہمیت سے مربوط ہے۔ آپ اپنی بلند ہمتی کےباعث اعلیٰ اہداف کا انتخاب کیا کرتے تھے۔ عام لوگوں کے لیے ایسے اہداف کا تصور بھی دشوار تھا اور لوگ سمجھتے تھے کہ یہ اعلیٰ اہداف ناقابل حصول ہیں۔ لکین آپکی بلند ہمتی، ایمان و توکل،جہد مسلسل اور اس عظیم انسان کی ذات میں پوشیدہ بے پناہ صلاحیتیں اور توانائیاں اپنا کا م کرتیں اور وہ اپنے مطلوبہ اہداف و مقاصد کی سمت بڑھتے چلے جاتے اور اچانک سب دیکھتے کہ وہ اعلیٰ اہداف حاصل ہوگئے ہیں۔
ا
ٓپکے کام کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ آپ حکم الہی اور شرعی ذمہ داریوں کی ادائگی میں کھو جا یا کرتے تھے ۔ آپکے سامنے ذمہ داریوں کی ادائگی کے سوا اور کچھ نہی ہوتا تھا۔ آپ حقیقی معنوں میں ایمان اور عمل صالح کے مصداق تھے۔ آپکا ایمان پہاڑ کی مانند مستحکم تھا اور عمل صالح کی انجام دہی میں آپ حیرت انگیز حد تک نہ تھکنے والی شخصیت کے مالک تھے۔ (نیک) کاموں کی انجام دہی اور اسکے تسلسل میں آپ انتہائی قوی اور انتھک شخصیت کے مالک تھے کہ سب ہی حیران رہ جاتے تھے۔

وزیر اعظم اور کابینہ سے بیعت لینے کی تقریب سے قائد انقلاب اسلامی کے خطاب سے اقتباس۱۶۔۳۔۱۳۶۷

جامع صفات کی حامل عظیم شخصیت

ہمارے عظیم اور ہردلعزیز رہبر کبیر کی شخصیت حقیتا" انبیائے الہی اور آئمہ معصومین کے بعد کسی بھی شخصیت کے قابل موازنہ نہی ہے۔ وہ ہمارے لئے عطیہ الہی ، حجت خدا اور عظمت الہی کی نشانی تھے۔جب انسان انہیں دیکتھا تو بزرگان دین کی عظمت کا یقین حاصل کر لیتا۔ ہم رسول خدا، امیرالمومینین ، سید الشہداء امام جعفرصادق اور دیگر اولیاء کی عظمت کا صحیح تصور تک بھی نہی کرسکتے ۔ ہمارے ذہن اس سے کہیں چھوٹے ہیں جو ان عظیم ہستیوں کی عظمت ذاتی کا احاطہ کر سکیں اور یا اسے تصور میں لاسکیں ۔ لیکن جب کوئی شخص ہمارے امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ عظیم اور ہمہ جہتی شخصیت کودیکھتا ہے، قوت ایمانی، عقل سلیم، حکمت و دانا ئی، صبر و بردباری، سچائی و پاکیزگی ، تجملات دنیا سے بے اعتنائی،، زھدو تقویٰ و پرھزگاری، خوف خدا، اور خالص اللہ کے لئے عبادت ، جن تک پہنچنا دشوار ہے، اور جب وہ اس بات کا مشاہدہ کرتا ہے اس عظیم انسان آسمان ولایت کے خورشید تابناک کے سامنے کس طرح سے انکساری اور کم مائگی کا اظہار کرتا ہے اور خود کو انکے سامنے ذرہ بھی نہی سمجھتا، اس وقت انسان سمجھتا کہ انبیاء اور اولیاء معصومین کی ذات کس قدر عظیم ہے۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ارکان اور کمانڈروں سے بیعت لینے کی تقریب سے قائد انقلاب اسلامی کے خطاب سے اقتباس ۔
۱۷۔۳۔۱۳۶۷

فاتح فتح الفتوح

محاذجنگ پر اپ لوگوں کی ایک کامیابی کے موقع فرمایا :فتح الفتوح کا مطلب آپ ایسے انسانوں اور جوانوں کی تربیت کرنا ہے۔ درحقیقت اس فتح الفتوح کے فاتح وہ خود تھے۔ وہ تھے جنہوں نے ایسے انسانوں کو تیار کیا تھا۔ وہ تھے جنہوں نے یہ ماحول تیار کیا تھا۔ وہ ہی تو تھے جنہوں نے یہ راستہ بنایا تھا۔ یہ آپ (رح) ہی تھےجنہوں نے اسلامی اقدار کو زوال اور پس منظر میں چلے جانے کے بعد حیات نو بخشی۔ آپ (رح) کی میراث یہی اقدار ہیں اور اسلامی جمہوریہ ہے۔ ہم میں سے ہر شخص چاہے کسی بھی عہدے پر کیوں نہ ہوں ، اسلامی جمہوری نطام اور اسکی اقدار کے تحفظ کے لئے امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ اپنے عشق ومحبت کا ثبوت پیش کرنا چاہئے۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ارکان اور کمانڈروں سے بیعت لینے کی تقریب سے قائد انقلاب اسلامی کے خطاب سے اقتباس ۔
۱۷۔۳۔۱۳۶۷

تہجد میں گریہ کرنے والے عبد الصالح

( امام خمینی رہ) ایسی عظیم شخصیت کے مالک تھے کہ انبیااور آئمہ معصومین (علیم السلام ) کے علاوہ ایسی خصوصیات اور پہلوؤں کا تصور بھی دشوار ہے۔ اس عظیم انسان نے قوت ایمانی کو عمل صالح کے ساتھ، آہنی ارادے کو بلند ہمتی، اخلاقی شجاعت کو حکمت و تدبیر، صراحت اظہار و بیان کو سچائی و متانت ، معنوی اور روحانی پاکیزگی کو ہوشیاری و کیاست ، تقویٰ و پرہیز گاری کو تیز رفتاری و استحکام ، قائدانہ رعب و دبدے کو محبت و الفت کے ساتھ مختصر یہ کہ بہت سی پاکیزہ اور نادر صفات کہ جنکا صدیوں کے دوران بعض عظیم لوگوں میں جمع ہوجانا شاید ہی ممکن ہو، یہ ساری صفات آپکی نادر روزگار شخصیت میں موجود تھیں ، آپ کی شخصیت بے نظیر تھی اور آپکی انسانی عظمت افسانوی تصورات و تخیل سے بالا تر ہے۔
وہ ملت ایران کے رہبر ، پاب ، استاد، مقصود اور محبوب اور مستضعفین عالم ،خاص طورپرمسلمانوں کے روشن مستقبل کی امید تھے۔ وہ خدا کے صالح و متواضع بندے ، نیمہ شب میں گریہ کرنے والے ہمارے دور کی عظیم شخصیت تھے۔ وہ مسلم کامل کے لئے سر مشق عمل اور ایک اسلامی رہنماکا واضح نمونہ تھے۔ انہوں نے اسلام کو عظمت دی اور قران کے پرچم کو پوری دنیا میں لہرایا ۔ انہوں نے ملت ایران کو اغیار کی قید سے نجات دلائی اور انہیں حمیت ، تشخص اور خود اعتمادی عطا کی ۔ انہوں نے خود مختاری اور ا
ٓزادی کا نعرہ پوری دنیا میں لگایا اور دنیا کی ستم رسیدہ اقوام کے دلوں امید کی شمع روشن کی ۔ اور ایسے دور میں جہاں طاقتور سیاسی ہاتھ دین و روحانیت اور اخلاقی اقدار کو مٹانے پر کمر بستہ تھےا نہوں نے دین و روحانیت اور اخلاقی اقدار کی بنیادوں پر نظام قائم کیا اور اسلامی سیاست اور حکومت کی بنیاد رکھی۔ اور انہوں نے دس سال تک تیز ترین طوفانوں اور فیصلہ کن مراحل میں اسلامی جمہوریہ کی پوری طاقت سے حفاظت ، انتظام ااور رہنمائی کی اور اسے محفوظ مقام پر لا کھڑا کیا ۔ انکی دس سالہ قیادت کا دور ہمارے عوام اور حکام کے لئے نا قابل فراموش اور قیمتی ذخیرہ ہے ۔
ملت ایران کے نام پیغام سے اقتباس ۔
۱۸۔۳۔۱۳۶۸

نمایاں شخصیت

امام( رح) کی شخصیت کا دنیا کے کسی بھی رہنماسے موازنہ نہی کیا جاسکتا، صرف انبیاء اور آئمہ معصومین کے ساتھ موازنہ کیا جاسکتا ہے ۔ وہ ان ہی کے شاگرد تھے یہی وجہ ہے کہ( امام خمینی کا) دنیا کے کسی بھی لیڈر کے ساتھ موازنہ نہی کیا جاسکتا۔
اسلامی انقلاب کمیٹی کے ارکان اور کمانڈروں سے بیعت لینے کی تقریب سے قائد انقلاب اسلامی کے خطاب سے اقتباس۔
۱۸۔۳۔۱۳۶۸
حکیم و دانا اور دور اندیش انسان
امام (رح) انتہائی دانا، دوراندایش، انسان شناس،حکیم،تیز بین،حلیم الطبع اور مستقبل کو دیکھنے والے تھے،ان صفات میں سے کوئی ایک بھی صفت کسی بھی شخص کو اعلیٰ مرتبہ پر فائز کرنے اور دوسروں کے لئے قابل احترام بنا نے کے لیے کافی تھی۔ امام (خمینی رح ) ایسے متین، بردبار اور حلیم الطبع تھے کہ اگر کسی محفل میں سو ا
ٓدمی بات کر رہے ہوں اور انکی بات سے آپ متفق نہ ہوں تب بھی اگر ضروری نہ ہوتا توآپ کوئی بات نہی کرتے اور خاموش رہتے، حالانکہ اگر معمولی لوگوں کے سامنے انکے مزاج کے خلاف کوئی بات کی جائے تو ان میں فوری جواب دینےکا جذبہ کروٹیں لینے لگتا ہے ۔
اسلامی انقلاب کمیٹی کے ارکان اور کمانڈروں سے بیعت لینے کی تقریب سے قائد انقلاب اسلامی کے خطاب سے اقتباس۔
۱۸۔۳۔۱۳۶۸
ھواء نفس اور خواہشات پر مسلط انسان
حقیقتا" ہمارے ہردلعزیز امام( خمینی رح ) جیسے بے نظیر اور عظیم انسان کے لئے چنے ہوئے انسان ، ذہین ترین دماغ،پاکیزہ ترین دل و جان احساس تکریم اور احترام کریں ۔ ظاہری عہدے اور مقام کی بنا پر جن لوگوں کا احترام کیا جاتا ہے ان میں اور ایسے شخص میں جسکا اسکی شخصیت ،عظمت اسکی گہرائی اور گیرائی اور مختلف ا لنوع صفات، ہر معزز ، قوی اور دانا انسان کو اسکی تعظیم و احترام اور تعریف کرنے پر مجبور کرتی ہے، بڑا فرق ہے ۔
امام ( رح) مختلف النوع صفات کے مالک تھے: ا
ٓپ انتہائی خرد مند دانا منکسر المزاج ، زیرک و ہشیار و بیدار ، محکم مہربان بردبار اور متقی تھے۔ انکے سامنے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش نہی کیا جاسکتا تھا ۔وہ آہنی ارادے کے مالک تھے اور کوئی بھی چیز انکی راہ میں رکاوٹ نہی بن سکتی تھی۔۔ وہ انتہائی رحم دل اور مہربان تھے ، چاہے وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ملاقات کا وقت ہو یا انسانی زندگی ایسے مواقع ہوں جہان فطری طور پر دل محبت اور مہربانی پر مجبور ہوجاتا ہے۔ نفسانی خواہشات، مادی جھلملے انکے متقی وجود اعلی چوٹیوں کو نہی چھو سکتے تھے۔ وہ ہواء نفس اور خواہشات پر پوری طرح مسلط تھے، خواہشات ان پر غلبہ نہی کر سکتی تھیں۔ وہ صابر و برد بار تھے اور سخت سے سخت حالات میں بھی انکے بہر بے کراں میں تلاطم پیدا نہی ہوتا تھا ۔

تابناک شخصیت

میں تاریخ ایرن میں سورج کی ماند چمکنے والے اس عظیم انسان کے اعلی انسانی کمالات کو بیان کر نے سے قاصر ہوں ۔ میں برسوں تک آپکی خدمت می رہا ہوں۔ ۱۳۳۷ میں انسے ملا اور اور انکے درس میں شریک ہونے لگا۔ زندگی کے مختلف ادوار میں اور بحرانی حالات میں نے انکے جچے تلے اقدامات کا مشاہدہ کیا ۔ وہ غیر معمولی انسان تھے ، وہ ہم ایسے با لکل نہی تھے۔ حقیقتا اس عظیم انسان کی صفات اور خصوصیات کو میں بیان نہی کرسکتا۔
فوج میں امام خمینی کے نمائدے اور وزیر دفاع وغیرہ سے بیعت لینے کی تقریب سے قائد انقلاب اسلامی کے خطاب سے اقتباس۔
۱۸۔۳۔۱۳۶۸
مخلص اور عبادت گزار
اصل بات یہ ہے کہ اگر امام خمینی (رح) کی روحانی شخصیت خلوص اور بندگی نہ ہوتی تو وہ یہ کامیابیاں کبھی حاصل نہی کر پاتے ۔ یہ کارنامہ اسقدر عظیم ہے کہ خدا سے رابطے کے بغیر کوئی بھی شخص،تما متر خصوصیات کے باوجود بھی انجام نہی دے سکتا
امام(رح) دنیا میں جو یہ عظیم تحرک پیدا کرنے میں کامیاب ہو ئے، اسکی وجہ یہ کہ ا
ٓپکا خدا سے رابطہ تھا اور آپکو اس راستے میں کسی اور چیز کی پرواہ نہیں تھی ۔ آج جب وہ ہمارے درمیان نہی ہیں، انکی تعریفوں اور لوگوں کے تاثرات کا سیلاب امنڈ آیا ہے اور پوری دنیا انکے اس عظیم کارنامے کا، جس نے انسانوں کے سمندر کو موجزن بنا دیا ہے، اعتراف کررہی ہے۔
یہ عظیم کارنامہ صرف اور صرف استقامت، عزم ، ہوشیاری، بہادری،تیز بینی اور مستقبل شناسی کے ذریعے ہی ممکن تھا تاہم یہ صفات اس عظیم طوفان کے پیداکرنے سے قاصر تھیں ، اصل بات خدا سے رابطہ اور اس سے مدد مانگا تھا ۔ اور اسی چیز نے امام (رح) کے نام اور انکے کارنامے کو تاریخ میں ابدی بنا دیا ہے۔
تعمیری جہاد کے مجاہدین سے بیعت لینے کی تقریب سے قائد انقلاب اسلامی کے خطاب سے اقتباس۔
۲۰۔۳۔۱۳۶۸

ممتاز اور جامع صفات شخصیت

ہمارے عظیم رہبرو رہنما اور امام (رح) خلد آشیاں دنیا کی درخشاں شخصیت تھے۔ حقیقتا انکے جیسا نہ اس زمانے میں ہے اور نہ اس سے پہلے کوئی گزرا ہے ۔ دنیا کی معروف شخصیات کے درمیان ، انبیا اور اولیا علیھم السلام کے بعد ایسی عظیم ، ہمہ جہتی اور ہمہ گیر شخصیت دکھائی نہی دیتی۔ میں اس بات پر پورا یقین رکھتاہوں کہ اگر یہ عظیم انسان ، علم و یقین ، دانائی و بہادری اور مضبوط اردے جیسی تمام مثبت خصوصیات کے باوجود ، اخلاص(عمل)،خدا سے رابطے (۔تنزہ از شرک بہ معنای تجنب از اھوای خود و دیگران ۔نداشت)۔ تو وہ کبھی کامیاب نہی ہوسکتے تھے۔ یہ کامیابی ایسے حالات میں نصیب ہوئی جب دنیا میں تمام علامتیں دین کی تنہائی اسکی فرسودگی اور شیطانی و مادی افکار کے غلبے پر دلالت کررہی تھیں۔
نگہبان کونسل کے فقہا اور قانون دانوں سے بیعت لینے کی تقریب سے قائد انقلاب اسلامی کے خطاب سے اقتباس
۲۱۔۳۔۱۳۶۸
خلوص اور خدا سے رابطہ کا میابی کا راز
میرے خیال میں انکی ( امام خمینی رح) کی کامیابی کا اہم ترین اور فیصلہ کن راز انکا خلوص اور خدا سے رابطہ تھا ۔ ا
ٓپ " ایاک نعبد و ایاک نستعین " معنی پر عمل کرنےاور خدا کی لازوال طاقت کے سرچشمے سے رابطہ میں کامیاب رہے۔ جب کوئی ناچیز، کمزور اور محدود ظرفیت رکھنے والا انسان کسی بہر بے کراں سے متصل ہوجائے تو پھر کوئی مشکل اسکی راہ میں رکاوٹ نہی بن سکتی ۔ کوئی بھی انسان یہ کام کریگا تو ایسا ہی ہوگا، البتی ہر انسان کے لیے ایسا کرنا اتنا آسان بھی نہی ہے لیکن آپ( امام خمینی رح) نے ایسا کر دکھایا۔ ہمیں بھی اپنی صلاحیتوں کے مطابق کوشش کرنا چاہیے ۔ بزرگ ہستیاں چوٹیوں پر کھڑی ہیں ، ہمیں بھی پہاڑیوں کے دامن سے اوپر چڑھنا چاہیے اور اسی طرف جانا چاہیے ، اگرچہ ہم چوٹیوں تک نہ بھی پہنچ پائیں ، لیکن بہرحال عمل کرنا ہم سب کا فریضہ اور ذمہ داری ہے۔
نگہبان کونسل کے فقہا اور قانون دانوں سے بیعت لینے کی تقریب سے قائد انقلاب اسلامی کے خطاب سے اقتباس
۲۱۔۳۔۱۳۶۸

امام خمینی کے مشن کی خصوصیات

امام خمینی اپنے مشن جو بیان فرمایا کرتے تھے وہ اس طرح تھے ۔عالمی استکبارکے خلاف جدوجہد ، نہ مشرق نہ مغرب کے نعرے پر پوری قوت کے ساتھ اعتدال کو برقرار رکھنا ، قوموں کی ہمہ جانبہ اورحقیقی خودمختاری ، حقیقی معنوں میں خود کفالت ، دینی اصول و شرع وفقہ اسلامی کے تحفظ پر مسلسل اصرار اورعزم راسخ ، اتحاد ویکجہتی کی برقراری ، دنیاکی مسلمان اورمظلوم قوموں پر توجہ ، اسلام اور مسلمان اقوام کوعزت دینا اورعالمی طاقتوں کے مقابلے میں مرعوب نہ ہونا ، اسلامی معاشروں میں عدل وانصاف کا قیام ، معاشرے کے مستضعف وپسماندہ اورمحروم لوگوں کی بے دریغ حمایت اوران کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش ، ہم سب اس بات کے شاہد رہے ہيں کہ امام نے ہمیشہ ان خطوط پر بھرپورطریقے سے عمل کیا ہے اورکسی بھی طرح کے پس وپیش کے بغیران خطوط اورمشن کوآگے بڑھایاہے ، ہمیں چاہئے کہ ہم ان کی راہ واعما ل صالح اوران کی رفتارکی پیروی کریں۔

وزیراعظم اوران کی کابینہ کی طرف سے بیعت یاتجدید عہد کی تقریب میں رہبرانقلاب اسلامی کا بیان ،17 - 3 -1368-

امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ ہمارے عظیم امام کے مشخصات اورخصوصیات نے نئے دورکا آغازکردیاہے اورآج جب ہمارے دل اورہماری جانیں امت اسلامیہ کی اس بے مثال ہستی کے فراق میں غمزدہ ہیں ہماری سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ ان عصری خصوصیات کوکہ جن کا آغازامام خمینی نے کیاتھا اورپوری قوم کوجن سے آشناکردیاتھا اورپوری دنیاکوبھی جن سے متعارف کرایا پہچانیں اوران کو برقرار رکھیں ۔حقیقی عزاداری اسی وقت ہے جب کہ جب ہم ان فریضوں پرعمل کریں وہ عصر وہ دورجس کاآغازامام خمینی نے کیاتھا اس کی اپنی خصوصیات اورپہچان بھی ہے جن میں سے کچھ اس طرح سے ہيں قوم کے اندر عزت واستقلال وآزادی بے نیازی واعتماد بہ نفس پیداکرنا کہ سالہاسال جس سے کوشش کی گئی کہ یہ ساری چیزيں اس سے چھین لی جائیں اوردوسرے لوگ اس کی تقدیرکے مالک بن بیٹھیں ۔ اس دورکی ایک اورپہچان وخصوصیات کہ امام خمینی جس کے موجد وبانی تھے انسانی اقدارکااحترام اوراس کی جانب رجحان ، عدل وانصاف اورانسانوں کے لئے حریت وآزادی اورلوگوں کےنظریات اوران کی آراء کا احترام ۔ یہی عظیم شخصیت کہ پوری دنیاکے لوگ جس کا آج احترام سے نام لیتے ہيں اورجس کی عظمت وبزرگي کا اعتراف کرتے ہيں کہتی تھی اگرمجھے خدمت گزاریاخادم کہیں تواس سے بہترہے کہ مجھے رہبرکہیں ۔ صحیح فرماتے تھے اوراس میں کسی طرح کا تکلف اورتظاہرنہیں کرتے تھے وہ اس قدر لوگوں کااحترام کرتے تھے کہ خود کوان کا خدمت گزارکہتے تھے ہم اس طرح کی پوری دنیامیں کوئی نظیرومثیل نہیں رکھتے اورتاريخ میں اس جیسی شخصیت کی مثال نہيں ملتی ۔
فوجی کمانڈروں اورولی فقیہ کے نمائندوں کی طرف سے بیعت وتجدید عہد کی تقریب میں رہبرانقلاب اسلامی کا بیان 28-3-1368

امام خمینی کے مشن اورراستے کا تعیین جوامام نے انقلاب کے لئے معین کیاتھا اوردس برسوں سے ایرانی قوم اسی راستے اورخط پرچل رہی تھی اسلام اورمسلمانوں کی عظمت کا خط اورمحروموں پوری دنیاکے مستضعفوں کے دفاع کے لئے ایک خط اورراستہ ہے جس نے ایرانی قوم کوپوری دنیامیں ایک زندہ اورسرافرازوآزاد قوم میں تبدیل کرکے رکھ دیاہے ، اور قوم آج دنیاکی سب سے بیداراور فعال قوم کی صورت میں پہچانی جاتی ہے، اورہم سب کو ایک پسماندہ اوردوسروں سے وابستہ قوم کی حالت سے باہرنکال دیاہے ۔ یہ وہ خط ہے کہ جس نے اسلام کے تئیں لوگو ں کے دلوں میں عشق ومحبت کوجگایاہے اورانھیں اس راستے میں بے مثال فداکاریوں اورقربانیوں کے لئے حوصلہ دیا ہے یہ خط ، ہماری زندگی ہماراپوراوجود اورہماراانقلابی اورقومی تشخص ہے اورپرودگارعالم کے فضل وکرم سے یہ خط وراستہ پوری قوت طاقت وامید اوراسی جذبے کے ساتھ کہ جس کی امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے پوری تحریک کے دوران ہمیں تعلیم دی ہے آگے بڑھتارہے گا ہم امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی راہ اوران کے مشن ، ان کے انقلاب ان کی کوششو ں اورفداکاریوں کو دوام کے لئے آمادہ ہیں ۔ ہماری جان اورہمارا خون اس راہ اورخط پر قربان ہيں ۔ہماری سعادت وبھلائی اسی میں ہے کہ اپنی زندگی اسی راہ میں گذاريں اوراس راستے میں کسی بھی طرح کاکوئی شک وشبہہ نہیں ہے ۔
صدرکی تقرری اورتوثیق کی تقریب میں رہبرانقلاب کا خطاب 12 / 5 / 1368

گذشتہ گیارہ برسوں کے دوران اورامام خمینی کے بعد جو ہم نے ہدایت کرنے والے راستے کوطے کیاہے کوئی معمولی اورعام راستہ نہیں ہے جسے ہم نے فطری طورپر اورکسی ہدایت وحمایت اورالہی مدد کےبغیر طے کرلیا ۔ ہم عجیب وغریب پیچ وخم سے گذرے ہيں ۔اورامام خمینی کی قیادت ورہبری کی برکت کی وجہ سے عجیب وغریب نشیب وفرازکو عبورکیاہے اوراس راستے میں صرف ہدایت الہی نے ہی ہماری مدد کی ہے اورخود امام خمینی کابھی اسی بات پر یقین وعقیدہ تھا اورمیں نے خود ان کی زبانی سناتھا کہ وہ فرمایاکرتے تھے میں انقلاب کے آغازسے ہی اس بات کا احساس کررہاہوں کہ ایک ہدایت کرنے والا ہاتھ ہماری مدد کررہاہے اوریہ ہاتھ ہمارے آگے آگے چل رہاہے اورراستے ہمارے لئے آسان کررہاہے ) حقیقت بھی یہی تھی اورخداوند عالم نے ہماری مجاہدت ،خلوص وصفااورنورانیت کے عوض ہمیں عطاکیاہے ۔ یہ ہدایت الہی غافل انسان کومیسرنہیں ہوتی اوراسی مناجات شعبانیہ میں ارشادہوتاہے کہ ( وانرابصارقلوبنا بضیاء نظرھا الیک ) دل کی آنکھ کومنورکرنا اوربیداردل کے لئے حقائق کوروشن کرنا اورمومن کوچشم بصیرت عطاہونا یہ سب مفت اوربلاسبب انجام نہیں پاتا اوربغیرجدوجہد سعی وکوشش کے خداکے ساتھ ارتباط ممکن ہوپاتا ۔
امام حسین علیہ السلام کے یوم ولادت کے موقع پر پاسداروں کی بڑی تعداد سے ملاقات میں خطاب10-12-1368

امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کایہ دس سالہ دورایک انقلابی معاشرے کی حیات کے لئے نمونہ عمل ہے ۔ امام خمینی کی حیات مبارک کے یہ آخری دس سال ہمارے انقلابی معاشرے کے لئے ایک بہترین نمونہ عمل ہے اورانقلاب کے اصلی خطوط وراستے وہي ہيں جو امام خمینی نے ہمیں دکھائے ہیں ۔ خام خیالی میں مبتلا اوراندھے ہمارے دشمن یہ سمجھ رہے تھے کہ امام خمینی کی رحلت کے بعد امام خمینی کے مقررکردہ خطوط وراستے سے ہٹ کرکوئی راستہ اورخط ایران میں وجود میں آجائے گا یاحتی اس سے الگ کوئی نیادورشروع ہوچکاہے یہ ان کی بہت بڑی بھول ہے ۔امام خمینی ایک ہمیشہ زندہ رہنےوالی حقیقت کانام ہے ۔ان کانام اس انقلاب کاپرچم ، اوران کی راہ اس انقلاب کی راہ ، اوران کے اہداف اس انقلاب کے اہداف ہيں ۔امام خمینی کی امت اوران کے شاگرد جواس ملکوتی وجود کے سرچشمہ فیاض سے سیراب ہوئے ہیں اورجنھوں نے اپنی عزت وشرف اسلامی وانسانی اسی سرچشمہ ميں تلاش کی ہے اس وقت اس بات کامشاہدہ کررہے ہيں کہ دوسری قومیں حتی غیرمسلم قوميں بھی اس عظيم قائد ورہنماکے انقلابی تعلیم کے نسخے کواپنی نجات کاذریعہ سمجھ رہی ہیں اورانھوں نے اپنی آزادی اورعزت اسی میں پائی ہے ۔ آج اس دورکی اس بے مثال تحریک کی برکت سے پوری دنیاکے مسلمان بیدارہوچکے ہيں اورظالمانہ تسلط کے شاہی محل کھنڈرات میں تبدیل ہورہے ہیں ۔قوموں نے قومی تحریک کی اہمیت کودرک کرلیاہے اورانھوں نے شمشیرپر خون کے غلبہ کا تجربہ کرلیاہے اورسب لوگ ہرجگہ پر ایران کی دلیروبہادر قوم پر اپنی نظریں جمائے ہوئےہیں۔
امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت کی پہلی برسی کے موقع پر رہبرانقلاب اسلامی کے پیغام کا اقتباس 10 - 3- 1369

اسلامی جمھوریہ کی تشکیل کے بنیادی عناصر

پہلانکتہ - اسلامی جمھوری نظام کی تشکیل کا ایک بنیادی عنصر اسلام پسندی اورمستحکم اسلامی اورقرآنی مبانی پر تکیہ ہے - امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے اسلام پرتکیہ کیا اوراسلام کے نام ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اس بات پر ان کا اصرارتھا کہ ملک کے تمام سرکاری محکموں اورسماج کے اندر اسلامی قوانین اوراصولوں کونافذ ہوناچاہئے البتہ یہ ایک طویل المیعاد کام تھا ۔ امام بھی اس کوجانتے تھے کہ مختصرسے عرصے میں یہ مقصود حاصل نہيں کیا جاسکتا ، امام نے راستہ کھلا رکھا اوراپنی تحریک شروع کردی اورسمت کی بھی نشاندہی فرمادی اورسب یہ سمجھ گئے کہ تمام معنی میں اسلامی تعلیم اوراسلامی احکامات کی جانب ہی رخ کرناہے اورمعاشرے و نظام کواسلامی معاشرہ اورنظام بناناہے تاکہ انصاف قائم کیاجاسکے غربت کا خاتمہ کیاجاسکے اوربدعنوانیوں کوجڑسے اکھاڑپھینکاجاسکے اور قوم کوجوپرانادرد لاحق ہے اوراسے اس قوم پر مسلط کیا گياہے اس رفع کیا جاسکے ۔
دوسراعنصر جس پر امام خمینی بہت زیادہ توجہ فرماتے وہ عوامی عنصرتھا - امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ ایک ایسے عوامی نظام پر اعتقاد رکھتے تھے جو صحیح معنوں میں اسلامی ہو اورجس کا اصل عنصرعوام ہوں اوروہ عوام کو مختلف موقعوں پر خاص توجہ کا مرکزقراردیتے تھے پہلاموقع یامیدان عوام کی رائے پرمشتمل نظام تھا یعنی ان کا کہناتھا کہ نظام ایساہوناچاہئے جسے عوام پسند کرتے ہوں اورانہی کی مرضی کا نظام تشکیل دیاجائے گا ۔ دوسرامیدان عوام کے سلسلے میں حکام کی ذمہ داریوں کا میدان تھا - تیسرامیدان کہ یہ بھی عوام کے محورپر ہی حرکت کرتاہے وہ ملک کی ترقی وپیشرفت میں عوام کے افکارونظریات اورعمل سے استفادہ کرناتھا یعنی صلاحیتوں کواجاگرکرنااورانھیں بیکارنہ چھوڑنا
چوتھا میدا ن کہ یہ بھی عوام پر امام کی خاص توجہ سے عبارت سے ہے وہ یہ ہے کہ عوا م کوہمیشہ آگاہ رکھنا -
تیسراعنصر جوامام کے لئے خاص اہمیت رکھتاتھا وہ نظم وقانون کا عنصر تھا اسی لئے انقلاب کی کا میابی سے قبل ہی امام نے حکومت کا تعین کردیاتھا -
چوتھا بنیادی عنصرجسے امام نے اسلامی جمھوری نظام کی بنیاد قراردیا اوربحمد اللہ جس کی وجہ سے یہ نظام باقی ہے وہ دشمن کے مقابلے میں ڈٹے رہنے کا مسئلہ ہے اورتسلط کوقبول نہ کرناہے امام نے ایک لمحے کے لئے کہ بھی دشمن کے مکروحیلے سے خود کوغافل نہیں رکھا اورنہ حکام کوہی دشمن کے مکروحیلے سے غافل ہونے دیا ۔
امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے مرقدکے زائرین کے اجتماع سے رہبرانقلاب اسلامی کاخطاب 14-3-1380

امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک بڑاکارنامہ اورہنراپنی تحریک اور قوم کی مدد سے اس سیاسی نظام کاخاتمہ کرناتھا جو ایک فاسد اورپٹھوشاہی نظام تھا وہ ایک ایسانظام تھا کہ جس کے حکام اورعہدیداران قوم اور ملک کے جوانوں کے مستقبل کے بارے میں ذرابھی توجہ نہيں دیتے تھے اورملک وقوم کواغیارسے زیادہ سے زیادہ وابستہ کررہے تھے ان کے نزدیک عوام کی فلاح وبہبود کی تو کوئي اہمیت ہی نہیں تھی ملک کا انتظام وانصرام غلط اورنامناسب طریقے سے چلایاجارہاتھا یہ وہ نظم وانصرام تھا جس کی تھئوری دوسرے ملکوں سے لی گئی تھی اوروہ بھی ناقص اندازمیں لی گئی تھی اوراس پر بھی پوری طریقے سے عمل درامد نہیں ہوتاتھا یعنی ایک خالص ڈکٹیٹرشپ اورآمرانہ نظام ۔ جومختلف عناوین اورگوناگوں روشوں سے کہ جن میں سے کوئی بھی روش عوا م کے عزم وارادے کی آئینہ دارنہ تھی اورکوئی بھی روش ملک کے مفاد میں بھی نہ تھی ،چلایاجارہاتھا ۔
انقلاب سے قبل اس وابستہ اورپٹھونظام میں جومضمحل اوربالکل ناکارہ تھا عوام برائیوں اور بے راہ روی میں گھرے ہوئے تھے یادوسرے لفظوں میں اوربہتراندازمیں کہاجائے کہ عوام کواخلاقی برائیوں بے راہ روی اورخود فریبی وبے ایمانی کی ترغیب دلائی جاتی تھی ۔ یعنی عوام کواس راستے پرلگایاجاتاتھاکہ روزبروزملک میں بے ایمانی بدعنوانی اوربرائی کادوردورہ ہوتارہے اورلوگ صحیح معنوی ایمان سے بے بہرہ ہوکررہ جائیں اوربے راہ روی واخلاقی برائیوں میں گھرتے چلے جائیں اوراغیارکے مقابلے میں احساس کمتری میں اضافہ ہوتا جائے اورملک میں ثقافتی اوراقتصادی خود مختاری کا کوئي مفہوم ہی نہ رہ جائے ۔ اس فاسد و منسوخ نظام میں کلی جہت یہ تھی - اس مرحلے میں امام خمینی کا عظیم کارنامہ یہ تھاکہ اس فاسد نظام کی جگہ ایک ایسا سیاسی نظام قائم کیا جس میں عوام سے تغافل کے بجائے عوام سے محبت اورعشق کیاجانے لگا ۔قوم کی تقدیرسے لاپروائی کی بجائے ان کی تقدیر وسرنوشت پرسب سے زیادہ توجہ دی جانے لگی جس نظام میں عوام اورجوانوں کے مستقبل کوغیرمعمولی اہمیت دی جانےلگی ہے ۔اغیارکے مقابلے میں خودکوکمترسمجھے جانے کی بجائے عوام میں یقین وخود اعتمادی روزبروزبڑھتی جارہی ہے اوراغیارسے سیاسی ثقافتی اوراقتصادی وابستگی کی بجائے سیاسی ،ثقافتی اوراقتصادی خودمختاری کومقصد وہدف بنایاگیا ہے ۔
امام خمینی کے مرقد کے زائرین کے پرشکوہ اجتماع سے رہبرانقلاب اسلامی کا خطاب 14-3-1376

امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ مکتب قرآن کے شاگرد تھے اس عظیم الشان امام نے اس انقلاب کا منصوبہ بنانے اوراس انقلاب کی بنیادپر سیاسی نظام کی تدوین یعنی اسلامی جمھوری نظام اورحکومت کی تشکیل میں پرودگارعالم کے فضل وکرم سے اورہدایت الہی سے ایسی روش کا انتخاب کیا کہ جوپیغمبروں کی روش اورسرچشمہ غیب سے متصل بندگان خداکی روش تھی ۔ یہ اس لئے ہے کہ امام قرآن کودوست رکھتے تھے اورخود مکتب قرآن کے شاگرد تھے اوروہ قرآن سے مانوس تھے اورقرآن سے ہی مدد طلب کرتے تھے اوروہ قرآن کواپناضابطہ حیات سمجھتے تھے ، اوریہ اس حقیقت کے عظيم اور شاندار نتائج وآثارمیں سے ہے.
امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں دوسری بات جوہے اورجسے میں آج آپ لوگوں کی خدمت میں عرض کرناچاہتاہوں اورمختصرا عرض کروں گا وہ یہ ہے کہ اس طرح کی عظيم تحریک و اقدامات عام طورپر دوآفتوں تحجریعنی رجعت پسندی اورانفعال یا پسپائی جیسی آفتوں سے دوچارہوجاتے ہیں اس طرح کے عظيم کارناموں کے سامنے آفتیں بھی ہوتی ہیں اوراس طرح کے عظیم کارناموں کوتحجر وپسپائی میں سے کسی ایک آفت کا سامناتوضرورکرناپڑتاہے ۔تحجر کا مطلب یہ ہے کہ جوشخص اسلام کےمبانی اورفقہ اسلامی سے معاشرے کی بنیاد ڈالنے کے لئے استفادہ کرناچاہتاہے وہ ظواہرپرہی اکتفاکرتاہے اوروہ اسلامی احکام وتعلیمات کودرک نہیں کرسکتا اور کسی قوم کسی ملک اور کسی نظام کےلئے اسلامی تعلیمات سے اس کاعلاج تلاش نہيں کرسکتا جبکہ اسلامی تعلیمات کی ہرلمحے ضرورت رہتی ہے مگروہ شخص اس کودرک کرنے پر قادرہی نہيں رہتا یہ ایک بہت بڑی مصیبت ہے ۔ اگرایک ایسے سیاسی نظام کے سربراہوں میں جواپنے نظام کواسلامی بنیادوں پر استوارکرناچاہتے ہیں اس طرح کا جذبہ پایاجائے گا تویقینی طورپراسلام بدنام ہوجائے گا اوراسلامی احکام ومعارف کالازوال سرچشمہ معاشرے کوآگے نہیں بڑھاسکے گا ۔ امام نےخود کواس آفت سے مبراکرلیاتھا ۔
دوسری آفت وبلا جواس طرح کے مواقع پر حکام اورعہدیداروں کوخطرات سے دوچارکرتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ آفت حکا م کوپسپائی اوردفاعی حالت میں لاکھڑا کرتی ہے یہ ایک خطرہ ہے یہ ایک بڑاخطرہ ہے جو صاحبان فکرونظرکولاحق رہتاہے امام خمینی اس آفت کے مقابلے میں کوہ کے مانند ڈٹے رہے اورکوہسارکی مانند استواروثابت قدم رہے
(کالجبل لاتحرکہ العواصف ) امام اس نظام کی تشکیل سے لیکردیگرتمام قضایاتک پہاڑکی مانند ثابت قدم رہے ۔
امام خمینی کی برسی میں شریک زائرین سے رہبرانقلاب اسلامی خطاب14-3-1376

محروم اور مستضعف عوام اسلامی انقلاب کے لشکرہیں اوریہی امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی تحریک کا بنیادی نکتہ تھا اوردو چیزیں اس انقلاب کے گرانقدرسرمایہ تھے اورہيں ۔ ایک یہ ہے کہ انقلاب کا مقصد اسلام تھا دوسرے یہ کہ انقلاب کے سپاہی اوراس انقلاب کا لشکرمستضعف ، ومحروم طبقہ اورجوان نسل ہے ۔ انقلاب کو مستضعف اورغریب طبقے نے کامیابی سے ہمکنارکیاہے اور آٹھ سالہ اس طویل جنگ کو اس مملکت کے جوانوں نے نتیجہ خیزبنایا اورآج بھی ہمارے جوان اللہ اوراس کے دین کی راہ میں قدم بڑھارہے ۔آج بھی اگر انقلاب کوکوئی خطرہ لاحق ہوگا توسب سے پہلے میدان میں جولوگ اتریں گے وہ جوان ہوں گے ۔حوزہ علمیہ کے جوان یونیورسٹیوں کے جوان پورے ملک کے جوان اورمختلف طبقوں سے تعلق رکھنےوالے جوان اورافراد ہوں گے جواس انقلاب کی حفاظت کے لئے میدان میں قدم رکھیں گے ۔امام خمینی اپنے پورے وجود کےساتھ اسلام کادم بھرتے تھے اورآج سب لوگ پورے وجود کےساتھ امام کوچاہتے ہيں امام کی باتیں بہت ہی صاف وشفاف ہیں ان کے کلمات واضح کلمات ہيں ان کے کلمات محکمات اوربیناّ ت ہيں ۔ امام کی خطابات اوران کی باتیں آج فضامیں گونج رہی ہیں امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کا وصیت کا نامہ امت کے ساتھ ان امام کا دائمی میثاق ہے سب کوچاہئے کہ ان کی ان باتوں کوصحیح طریقے سے درک کریں اوران میں غوروفکرکریں تاکہ امام کی راہ کوپہچان سکیں اوراس راہ کوپہچاننے میں کوئی غلطی نہ کریں ۔جولوگ امام سے محبت کادم بھرتے ہيں لیکن امام کی فکر ان کی راہ وتعلیمات کوقبول کرنے کوتیارنہيں ہیں وہ غلطی کررہے ہيں ۔
امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی نويں برسی میں شریک سوگواروں کے عظیم الشان اجتماع سے رہبرانقلاب اسلامی کےخطاب سے اقتباس ۔14-3-1377

سماجی انصاف اورعوام پراعتماد

میں چند اہم خصوصیات اورخطوط جنھیں ہم امام کی راہ اوران کے خط سے تعبیرکرتے ہيں یہاں پر عرض کرتے ہيں کچھ باتیں امام ہمیشہ امام کے پیش نظر تھیں ، سب سے پہلے دین اوراسلام تھا امام اسلام سے بڑھ کرکسی بھی چیزکواہمیت نہيں دیتے تھے ۔ امام کی تحریک اورانقلاب اسی اسلام کی حاکمیت کے لئے ہی تھا اورعوام نے بھی کہ جنھوں نے اس نظام کوقبول کیا اس انقلاب کوبرپا کیا اورامام کو( رہبر ) تسلیم کیاتھا وہ سب اسلامی جذبے کی بنیادپر تھا - پس سب سےپہلی چیزجوامام کی نظرمیں اوران کے مشن میں سب سے اہم تھی وہ اسلام کے احکامات پر عمل آوری اورایمان وعمل کے میدان میں اسلام کی حاکمیت تھی ۔
دوسری بات عوام پر تکیہ اوراعتماد ہے ۔ جیساکہ میں نے عرض کیا ۔ کسی کو بھی اسلامی نظام میں عوام ،عوام کی رائے اورعوام کی خواہشات کونظراندازنہیں کرناچاہئے ۔ کچھ لوگ اب عوام کی رائے کوقانون اورجوازکی بنیاد قراردیتے ہيں کم ازکم عوام کی رائے کوقانون اورجوازکی بنیاد تومانتے ہيں ۔عوام کی رائے کے بغیر،عوام کی مشارکت کے بغیر اورعوامی خواہشات کا احترام کئے بغیر اسلامی نظام کا خیمہ اوراس کا ستون ٹھہرنہیں سکے گا اوراس کی بنیاد مضبوط نہیں ہوسکے گی ۔
البتہ عوام ، مسلمان ہيں اورعوام کا یہ ارادہ اوران کی خواہشات بھی اسلامی احکامات وقوانین کے دائرے میں ہی ہے -
امام کے مشن کی تیسری خصوصیت سماجی انصاف کاقیام اورمحروم ومستضعف افراد کی مدد کرناہے کہ امام انہی لوگوں کواس انقلاب کا وارث اوراس ملک کا مالک سمجھتے تھے ۔امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ غریب طبقے کواس انقلاب کی کامیابی کا سب سے اہم عنصر سمجھتے تھے -
ایک اورعنصر دشمن کوپہچاننا اوردشمن کے فریب میں نہ آناہے دشمن کا پہلاکام یہ ہے کہ وہ پروپیگنڈہ کرتاہے کہ کوئی بھی دشمن نہيں ہے ، یہ کیسے ممکن ہے کہ اسلامی نظام کاکوئی دشمن نہیں ہے ؟ اس اسلامی نظام نےعالمی لٹیروں کوجوسالہاسال اس ملک کی دولت کولوٹتے رہے ان کواب یہاں سے محروم کردیاہے ظاہرہے کہ وہ دشمن توہوں گے ہی ۔ اورہم دیکھ بھی رہے ہیں کہ وہ ہم سے دشمنی کررہے ہيں ۔ پروپیگنڈوں میں ، اقتصادی پابندیوں میں اورجہاں جہاں بھی ان سے ممکن ہوتاہے ہمارے نظام کے خلاف دشمنی کرتےہيں اوریہ بات وہ کھل کرکہتےبھی ہیں ۔
نمازجمعہ کے خطبہ کا اقتباس ۔14-3 -1378

تمام اصولوں کے محور اسلام اورعوام ہيں

امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے مشن کے تمام اصول وقواعد کامحور دوچیزوں میں خلاصہ ہوتاتھا ۔ایک اسلام اوردوسرے عوام ۔ عوام پراعتماد کانظریہ بھی امام نے اسلام سے حاصل کیا ۔ یہ اسلام ہے جو قوموں کے حقوق ، ان کی آراء ، اورجہاد کے اثراوران کی اہمیت پر تاکید کرتاہے اسی لئے امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے مشن کا محوراسلام اورعوام کوقراردیاتھا ۔یعنی اسلام کی عظمت عوام کی عظمت ، اسلام کااقتدارعوام کااقتدار، اسلام کا ناقابل تسخیررہناعوام کا ناقابل تسخیررہناہے ۔
اسلامی جمھوریہ ایران کے بانی کی چوتھی برسی کے موقع پر رہبرانقلاب اسلامی کے خطاب کا اقتباس 14-3-1382

امام کے سیاسی مکتب کی شناخت اورخصوصیات

میں امام کے سیاسی مکتب پر تکیہ کرناچاہتاہوں ۔امام کا سیاسی مکتب ان کی پرکشش شخصیت سے جدانہیں ہوسکتا ۔امام کی کامیابی کارازاس مکتب میں ہے جوانھوں نے متعارف کرایاہے اورجسے انھوں نے مجسم اورایک نظام کی شکل میں دنیاوالوں کے سامنے پیش کیا ۔ البتہ ہمارا عظیم اسلامی انقلاب عوام کے ہاتھوں کامیاب ہوا اورایرانی عوام نے اپنی بے پناہ توانائیوں اورصلاحیتوں کا مظاہرہ کیا لیکن امت امام کے بغیر اوران کے سیاسی مکتب کے بغیر اس عظیم کام کوانجام دینے پر قادرنہیں تھی ۔ امام کا سیاسی مکتب ایسامیدان کھولتاہے کہ جس کا دائرہ اسلامی نظام کی تشکیل سے بھی کافی وسیع ہے ۔ وہ سیاسی مکتب کہ امام نے جس کوپیش کیا اورجس کے لئے جدوجہد کی اس میں دنیاوالوں کے لئے ایک نئی بات ہے اوراس کے ذریعہ انھوں نے دنیاوالوں کے سامنے ایک نئی بات رکھی اورنئي راہوں کی نشاندہی کی ۔ اس مکتب میں ایسی چیزیں پائی جاتی ہیں کہ انسانیت جس کی تشنہ ہے اسی لئے یہ باتیں کبھی بھی پرانی نہيں ہوں گی ۔ جولوگ کوشش کررہے ہيں کہ امام کوایک ایسی شخصیت کے طورپرپیش کریں جوتاریخ کاحصہ بن چکی ہو اورجوماضي کی بات بن چکے ہوں وہ اپنی اس کوشش میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوپائیں گے ۔امام اپنے سیاسی مکتب میں زندہ ہيں اورجب تک یہ سیاسی مکتب زندہ ہے اس وقت تک امام کاوجود وحضور، امت اسلامیہ کے درمیان بلکہ بشریت کے درمیان باعث برکت بنارہے گااورجاوداں رہے گا ۔امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کا سیاسی مکتب بہت سی غیرمعمولی خصوصیات اورشناخت کا حامل ہے ۔میں یہاں پر ان مختلف مشن راستوں میں سے چند اہم اور نمایاں مشن کی جانب اشارہ کرناچاہوں گا ۔ان میں سے ایک مشن یہ ہے کہ امام کے سیاسی مکتب میں معنویت اورسیاست باہم آمیختہ ہيں اورامام کے سیاسی مکتب میں معنویت سیاست سے جدانہیں ہے ، سیاست وعرفان سیاست واخلاق ۔ امام جواپنے سیاسی مکتب کے مجسم نمونہ تھے ان کے اندرسیاست اورمعنویت ایک ساتھ جمع تھی امام کے تمام اعمال وافعال اوران کے تمام اصول ومواقف خدااورمعنویت کے محورکے گرد گھومتے تھے ۔امام کے اندرسیاست اورمعنویت باہم تھی اوراسی پرعمل کرتے تھے حتی اپنی سیاسی جدوجہد میں بھی وہ اپنامحورمعنویت کوہی قراردیتے تھے ۔ امام کا پروردگارعالم کےارادہ تشریعی پر اعتقاد اورخداوندعالم کے ارادہ تکوینی پر اعتماد تھا اوروہ جانتے تھے کہ جواللہ کی شریعت کی ترویج کے راستے میں قدم بڑھاتاہے الہی سنت اورقوانین الہی اس کی مددکرتے ہيں ۔امام کا یہ یقین تھا کہ (وللہ جنودالسماوات والارض وکان اللہ عزیزاحکیما) امام قوانین شریعت کوہی اپنے اقدام وتحریک کی بنیاد سمجھتے تھے اورقوانین الہی کوہی اپنی تحریک کی علامت سمجھتے تھے ۔امام کا ہر اقدام اور تحریک ملک وقوم کی فلاح وسعادت کے لئے تھی جو اسلامی اورشرعی تعلیمات کی بنیادپر تھی اسی لئے الہی فریضہ ہی امام کی نظرمیں سعادت وبھلائی کی کنجی تھی وہ یہی چیزامام کوبڑے بڑے اہداف تک پہنچانے میں مدد دیتی تھی ۔

دوسری خصوصیات وشناخت

عوام کے کردارپر پختہ اورسچایقین ۔ اوراسی طرح انسان کی شرافت اورانسان کے ارادے کے فیصلہ کن ہونے کے بارے میں یقین بھی امام کے مکتب کی ایک اہم خصوصیات میں سے تھا ۔ امام کے سیاسی مکتب میں انسانی تشخص گرانقدربھی ہے اورکرامت وشرف کا حامل ہے اوراسی طرح انسانی تشخص طاقتوربھی ہے اورکارسازبھی ہے۔انسانی تشخص کوگرانقدراورباشرف سمجھنے کا نتیجہ یہ ہے کہ انسان اور کسی معاشرے کا نظم ونسق چلانے میں عوام کی آراء کوبنیادی کردارکاحامل ہوناچاہئے ۔
اسی لئے ہمارے عظیم امام کے سیاسی مکتب میں عوام کی رائے کااحترام یاجمھوریت، اسلامی تعلیمات سے اخذ کی گئی تھی اوریہی حقیقی جمھوریت ہے ، امریکی جمھوریت اوراس جیسی جمھوریت نہيں ہے جس میں عوام کونعروں کے ذریعہ محض فریب دیاجاتاہے اورلوگوں کےذہنوں کواغواکیاجاتاہے ۔
امام کے سیاسی مکتب کی تیسری خصوصیت ، اس مکتب کا عالمی اوربین الاقوامی زاویہ نگاہ ہے ۔امام کےکلام اورسخن میں مخاطب انسانیت ہے نہ فقط ملت ایران ۔ ایران کی قوم نے امام کے اس پیغام کودل کی گہرائیوں سے قبول کیا اورسنا اوراس پرعمل کیا اوراس کے لئے جدوجہدکی اوروہ اسی کے سایہ میں عزت وخودمختاری حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی لیکن اس پیام کی مخاطب تمام بشریت ہے ۔ امام کا سیاسی مکتب ،یہ بھلائی وخودمختاری ، عزت وایمان پوری امت اسلامیہ اورپوری انسانیت کے لئے چاہتاہے ، یہ ایک مسلمان انسان کے کاندھے پر ایک ذمہ داری ہے ، البتہ امام میں اوران لوگوں میں جواپنے آپ ہی اپنے لئے عالمی ذمہ داری کے قائل ہیں یہ ہے کہ امام کا سیاسی مکتب توپ ٹینک اسلحہ اورشکنجہ کے ذریعہ کسی قوم کواپنی فکروراہ کا پیرونہیں بناناچاہتا ۔ امریکی کہتےہيں کہ ہماری ذمہ داری پوری دنیاکے لئے ہے کہ ہم دنیامیں جمھوریت اورانسانی حقوق کا قیام اور فروغ چاہتے ۔
کیا ڈیموکریسی کوپھیلانے کاطریقہ یہی ہے کہ ہیروشیماپر ایٹم بم گرایاجائے ؟ اوراسی طرح لاطینی امریکہ اورافریقہ میں حکومتوں کے خلاف بغاوت اورجنگ کی آگ بھڑکائی جائے ؟ آج بھی مشرق وسطی میں یہ سب فریب کاری ،سازش ،اورظلم وستم کابازارگرم ہے اس طرح سے وہ انسانی حقوق اوراپنی عالمی ذمہ داری کوپوراکرناچاہتے ہيں ۔جبکہ اسلام کاسیاسی مکتب صحیح فکرونئی بات پوری وضاحت کے ساتھ ذہن انسانی میں ڈالتاہے اورنسیم بہاری اورپھولوں کی خوشبوکی مانند ہرجگہ کومعطرکرتاہے ۔
امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے سیاسی مکتب کی ایک اوراہم خصوصیت ، اقدارکی پاسداری وحفاظت ہے کہ جس کا مظہرامام نے ولایت فقیہ کے مسائل بیان کرتے وقت واضح کردیا ہے ۔ اسلامی انقلاب کے آغازاوراسلامی انقلاب کی کامیابی واسلامی نظام کی تشکیل کے بعد سے ہی بہت زیادہ کوشش ہوئی کہ ولایت فقیہ کے مسئلہ کوغلط ،خراب اورحقیقت کے برخلاف بناکرپیش کریں حقیقت سے عاری ، جھوٹ اسلام کے سیاسی نظام سے جدا اور امام بزرگوار کے سیاسی نظريئے کے بالکل منافی مطالبات اور توقعات اور یہ جو آپ کبھی بھی دشمن سے مرعوب ڈھنڈورچیوں کی زبانی یہ کوئی نئي بات نہیں ہے شروع دن سے ہی یہ لوگ دوسروں کے کہنےمیں آکر اس طرح کی باتیں کرتے تھے ۔
امام کے سیاسی مکتب کی پہچان کے عنوان سے آخری بات جو میں یہاں بیان کرناچاہتاہوں وہ سماجی انصاف کا قیام ہے ۔ سماجی انصاف امام کے سیاسی مکتب کا ایک بہت ہی اہم عنصراور علامت سمجھا جاتا ہے ۔
حکومت کے تمام پروگراموں قانون سازی اوراس پر عمل درامد اورعدالتی امورغرض کہ ہرجگہ سماجی انصاف کومد نظر رکھا اورآپ اس سلسلے میں سماجی اورطبقاتی شکاف کوپر کرنے پر بہت زیادہ تاکید فرماتے اورامام کے سیاسی مکتب کا یہ ایک بہت بڑا ہدف تھا .
امام خمینی (رہ) کی رحلت کی پندرہويں برسی میں رہبرانقلاب اسلامی کے خطاب سے اقتباس 14-3-1383

ایرانی عوام کی فلاح وسعادت کی راہ ہماری راہ ہے

جیسا کہ اس عظیم مردمجاہد نے ہمیں بتایاہے یہ راستہ استقامت اوراسلامی نظام کے اہداف کے حصول کاراستہ ہے ۔ امام کے دورس کے مطابق ان کی وصیت کے مطابق قوم کاراستہ یہی ہے ۔ پورے ایران میں ہمارے بھائي اوربہنیں توجہ دیں کہ ایرانی عوام کی سعادت کی راہ اسلامی والہی احکام سے تمسک ہے ۔ایرانی قوم کی سعادت کا راستہ اپنے اوپربھروسہ اوراپنی توانائیوں اوراستعداد پریقین ہے قوم کی فلاح کاراستہ عالمی تسلط پسندطاقتوں سے قطع امید ہے اورساتھ ہی ان سے عدم خوف ۔ نہ توان سے ذرہ برابر خوف کھائيے اورنہ ہی ان سے ذرہ برابرامید رکھئے ۔عزیزان گرامی ، اس اسلامی انقلاب نے جوسب سے بڑاہدیہ قوم کودیاہے وہ یہ ہے فاسدوپٹھوحکومتوں کے شر سے جنھوں نے سالہاسالہا ملک و قوم پرتسلط جمایا اوراس کے الہی ذخائر پر قبضہ کررکھا تھا پورے ملک اور قوم کو نجات دلائي ۔ آج خداوندعالم کے فضل وکرم سے ملک ( کا انتظام ) کوچلانے والے خود اسی ملک کے لوگ ہيں آج ہماری قوم کی ہمت و فہم فراست سے ملک میں عوام کی منتخب کردہ حکومت بہترین شکل میں برسراقتدارہے ۔
امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت کی پانچویں برسی ميں رہبرانقلاب اسلامی کے خطاب کا اقتباس 14-3- 1373

ایران کے عوام کے کارناموں کے عظیم ثمرات

اگرایرانی قوم چاہتی ہے کہ اپنی عزت وشرف کی راہ کوجاری رکھے توجیساکہ بحمداللہ ان چند برسوں میں اسلامی جمھوری نظام کے پرتو میں سرکاری حکام اورخدمتگزاروں کی کوششوں سے مختلف میدانوں میں امورآگے بڑھ رہے ہیں کام تیزی کے ساتھ ہورہاہے اورترقی وپیشرفت کےثمرات دیکھے جارہے ہيں ۔ اگرایرانی قوم چاہتی ہے کہ یہ ترقی وپیشرفت اسی طرح سے جاری رہے اور قوم رفاہ وآسائش میں زندگی گذارے اورکسی مقام پر پہنچے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ دشمنوں اوراستکباری طاقتوں کے مقابلے میں استقامت اور پائمردی دکھاتی رہے ایرانی عوام نے ان گذشتہ چند برسوں میں بڑے بڑے کارنامے انجام دئے ہيں اوراس کے ثمرات بھی حاصل کئے ہيں اسی لئے اس کی ذمہ داری ہے کہ ان ثمرات کاتحفظ کرے ۔ ایرانی قوم اوربالخصوص حکام کوچاہئے اوران کی ذمہ داری ہے کہ اپنی تدبیر ،دانشمندی ، اور فہم فراست سے ایرانی عوام کے ان گرانقدرثمرات کوبرباد نہ ہونے دیں خواہ وہ کامیابیاں جوبراہ راست انقلاب کے ذریعہ قوم کی ملی ہیں ،جیسے عوامی حکومت ،عوامی صدر، عوامی نمائندے وغیرہ یا وہ ثمرات جوانقلاب سے متعلق ہيں مگربالواسطہ طورپراس قوم کے دئے گئے ہيں جیسے ملک کی ترقی وتعمیرکہ یہ سب انقلاب کی برکت کانتیجہ ہے اورانقلابی عناصرنے ان کارناموں کوانجام دیاہے اورجوسارے بنیادی کام مختلف شعبوں اورمیدانوں میں انجام پائے ہيں اس طرح کے ثمرات کوایرانی عوام اورحکام کوچاہئے کہ محفوظ رکھیں اور دل وجان سے ان کی حفاظت کریں ، یہ بات ظاہر ہے کہ ان ثمرات کے حفاظت اوران سے زیادہ بھی ثمرات اورکامیابیوں کے حصول کاراستہ یہ ہے کہ ملت ایران اورایران کے حکام اس خط ونشان کو جسے امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے عمل کے ذریعہ کھینچاہے یعنی دشمنوں کے مقابلے میں استقامت اورپائمردی کاخط اور ملک کے باہر جولوگ دریدہ دہنی کررہے ہيں ان کی دریدہ دہنی کے مقابلے میں ثبات قدم کا خط ۔ لیکن یہ جوباربارکہاجارہاہے کہ (امام کی راہ وخط)سےکیامرادہے ؟ اگرہم کہیں کہ (امام کاخط اسلام وانقلاب ہے ) تویہ ایک کلی بات ہے یہ بات تو ا ظہرمن الشمس ہے کہ امام کا خط اسلام وانقلاب کا خط ہے اورکوئی بھی شخص اسلام وانقلاب کامخالف نہیں ہے ۔
وہ عامل جو امام بزرگوار کے مقصود کوجو انقلاب کے معماراوربانی ہيں پوراکرسکے وہ استقامت ہے جسے انھوں نے اپنے عمل سے ثابت کیاتھا اورجس کاانھوں نے مظاہرہ کیاتھا وہ دشمن کے مقابلے میں سرموبھی پیچھے نہيں ہٹے ،دشمن سے ذرابھی نہيں ڈرے اورودشمنوں کی دھمکیاں ان کے ارادوں میں معمولی سا بھی خلل ایجاد نہ کرسکیں ۔
امام خمینی (رہ) کے مرقد مطہرپر زائرین کے اجتماع سے رہبرانقلاب اسلامی کے خطاب سے اقتباس 14-3-1375

امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی راہ اوران کے مشن کے نتا‏ئج وبرکات

آپ وہ روح اللہ تھے کہ جنھوں نے موسوی عصااوریدبیضاء سے اورمصطفوی بیان وفرقان سے مظلوموں کی نجات کے لئے کمرہمت باندھی ، انھوں نے وقت کے فرعونوں کے تخت وتاج کولرزہ براندام کردیا اورکمزوروں کے دلوں کو نورامید سے روشن ومنورکردیا ، انھوں نے لوگوں کوعزت اورمومنوں کو شرف عطاکیا اورمسلمانوں کوقوت وشوکت اورمادی وبے روح دنیاکومعنویت عطاکی اورعالم اسلام کو تحرک اورمجاہدین فی سبیل اللہ کو شجاعت ودلیری اوردرس شہادت سکھایا ۔
انھوں نے طاغوتی بتوں کوپاش پاش کردیا اورشرک آلود اعتقاد ات کوختم کردیا ، آپ نےپوری دنیاکویہ سمجھادیا کہ انسان کامل ہونا حضرت علی کے نقش قدم پر چلنا اورعصمت کی سرحدوں کے قریب تک پہنچناکوئی افسانہ نہیں ہے ۔انھوں نے قوموں کوبھی یہ باورکرادیاکہ قوی ہونااوراسیری چنگل سے نکلنا اورتسلط پسندوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کربات کرنا ممکن ہے ۔ قرب حق کی چمک کوصاحبان بصیرت لوگوں نے ان کے چہرہ منورپردیکھی ہے اوران کی حیات وممات کے دوران الہی نیکیوں کے خوان سے جوان پر نازل ہوتے تھے سب کو چکھاہے ۔ان کی دعائیں مستجاب ہوتی تھیں آپ کہتے تھے ( الہی لم یزل برّک علیّ ایام حیاتی ، فلاتقطع برّک عنی فی مماتی ) ۔
امام خمینی کے چہلم کی مناسبت سے عوام کے نام پیغام 23-4-1368

امام کے دس عظیم کارنامے

امام کاپہلاعظیم کارنامہ اسلام کی تجدیدحیات تھی ۔گذشتہ دوسوبرسوں سے سامراجی مشینریوں نے یہ کوشش کی کہ اسلام کوفراموش کردیاجائے
برطانیہ کے ایک وزیراعظم نے دنیاکے سامراجی سیاستدانوں کے اجتماع میں اعلان کیاتھا کہ ہمیں چاہئے کہ اسلام کواسلامی ملکوں میں گوشہ نشین کردیں ۔ اس سے پہلے بھی اوراس کے بعد اس کام کے لئے بےپناہ پیسے خرچ کئے گئے تاکہ اسلام پہلے مرحلے میں لوگوں کی زندگی سے ختم ہوجائے اوردوسرے مرحلے میں لوگوں کے دل ودماغ وذہن سے بھی نکل جائے کیونکہ سامراجی طاقتوں کویہ معلوم تھا کہ یہ دین بڑی طاقتوں کی لوٹ کھسوٹ اوراسی طرح سامراجی طاقتوں کے تسلط پسندانہ عزا‏ئم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔ ہمارے امام نے اسلام کودوبارہ زندہ کیا اسلام کوانھوں نے لوگوں کے ذہنوں اورعمل میں اوراسی طرح دنیاکے سیاسی میدان میں دخیل کیا ۔
امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کادوسرابڑاکارنامہ مسلمانوں کودوبارہ عزت نفس لوٹاناتھا
ایسانہیں تھاکہ اسلام فقط بحثوں تجزیوں اوریونیورسٹیوں اورعوام کی زندگی ومعاشرے میں ہی زیربحث آئے بلکہ امام خمینی کی تحریک کے نتیجے میں پوری دنیاکے مسلمانوں نے عزت وسربلندی کااحساس کیا ۔
ایک بڑے ملک کے ایک مسلمان شخص نے، جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں مجھ سے کہاکہ اسلامی انقلاب سے پہلے میں خود کو کبھی بھی دوسروں کے سامنے مسلمان ظاہرنہيں کرتاتھا ۔ اس ملک رسم و رواج کے مطابق سبھی لوگ وہاں کے مقامی نام رکھتے اگرچہ گھرکے اندرمسلمان اپنے بچوں کے نام اسلامی رکھتے لیکن گھرکے باہر وہاں کا مقامی نام پکاراجاتا اوراسلامی نام کوگھرکے باہرظاہرکرنے کی جرات بھی نہ ہوتی تھی اوراس کوبتانے سے گریزکرتھے اور ہم احساس شرمندگی کرتے ، لیکن اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ہمارے یہاں کے لوگ بڑے فخرکے ساتھ اپنااسلامی نام ظاہرکرتے ہيں اوراگران سے پوچھاجاتاہے کہ آپ کیاہیں اورآپ کون ہیں توفخرکے ساتھ پہلے اسلامی نام بتاتے ہیں ۔ بنابريں امام نے جوبڑاکارنامہ انجام دیاوہ یہ کہ مسلمانوں کوپوری دنیامیں عزت کا احساس ہونے لگا اوروہ اپنے مسلمان ہونے اوراسلامی ہونے پرفخرکرنےلگے ۔
امام خمینی کاتیسرابڑاکارنامہ ،یہ تھاکہ انھوں نے مسلمانوں کواسلامی امت کودرک کرنے کااحساس دلایا اس سے مسلمان جہاں بھی تھا اس کے لئے امت اسلامیہ نام کی کوئی چیزاہمیت نہیں رکھتی تھی آج تمام مسلمان پورے ایشیاء میں پورے افریقہ میں ، مشرق وسطی سے لے کریورپ تک اوریورپ سے لے کرامریکہ ولاطینی امریکہ تک اس بات کا احساس کررہے ہيں کہ وہ امت اسلامیہ کے نام کے ایک بڑے عالمی معاشرے کا حصہ ہيں ۔امام خمینی نے امت اسلامیہ کےتئیں شعورکااحساس جگایا جوعالمی استکبارکے مقابلے میں اسلامی معاشرے کے دفاع کے لئے سب سے بڑا وسیلہ ہے ۔
امام رحمۃ اللہ علیہ کاچوتھا بڑاکارنامہ ، علاقے اوردنیاکی ایک سب سے گندی سب سے زیادہ پٹھو اورسب سے زیادہ رجعت پسند حکومت کاخاتمہ تھا یعنی ایران میں شاہی حکومت کاخاتمہ تھا شاہی حکومت کا خاتمہ ان چند بڑے کاموں میں سے ایک ہے جن کاتصورکیاجاسکتاہے ۔ ایران علاقے اورمشرق وسطی میں استکبارکا سب سے بڑااورمضبوط قلعہ بن چکاتھا یہ مضبوط قلعہ ہمارے امام کے دست تواناسے ڈھہ گیا ۔
امام(رہ )کاپانچواں بڑاکارنامہ یہ تھا کہ انھوں نے اسلامی تعلیمات کی بنیادپر ایک اسلامی حکومت قائم کی یہ وہ چیزہے جوغیرمسلم توغیرمسلم مسلمانوں کے ذہن بھی نہيں سماتی تھی اوریہ ایک خوش نماخواب تھا جس کا سادہ لوح مسلمان تصور بھی نہیں کرسکتے اور نہ ہی دیکھ سکتے تھے ۔امام نے معجزاتی طورپر اس افسانہ کوحقیقت کالبادہ پہنایا ۔
امام کاچھٹا اہم کام ، پوری دنیامیں اسلامی تحریک کا قیام تھا اسلامی انقلاب سے قبل بہت سے ملکوں منجملہ اسلامی ملکوں میں مختلف گروہ، جوان ،ناراض عناصر ، حریت پسند اورديگرگروہ بائيں محاذ کی آئیڈیالوجی کے سہارے میدان عمل میں اترتے تھے ،لیکن اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد تحریکوں اورحریت پسندانہ قیام کامبنا اوربنیاد اسلام بن گیا آج عالم اسلام کے وسیع وعريض علاقے میں جہاں کہیں بھی کوئی بھی گروہ حریت پسند تحریک چلاتاہے اوراستکبارکے خلاف آوازاٹھاتاہے تواس کا مبنااسلام ہی ہوتاہے اوروہ اسلامی اصولوں کوہی اپنے کام کی بنیادبناتاہے اوراس کی فکراسلامی فکرہوتی ہے ۔
امام کاساتواں اہم کام ، فقہ شیعہ ميں ایک جدید سوچ کورواج دیناتھا اورشیعی فقہ میں نیانظریہ پیش کرناتھا ۔ہماری فقاہت کی بنیاد بہت ہی محکم اوراستوارتھی اورآج بھی ہے فقاہت شیعہ ایک محکم ترین فقہ اوربہت ہی مستحکم مبنا واصول وقواعد پر استوارہے ۔ ہمارے امام رحمۃ اللہ علیہ نے اس مستحکم فقہ کو مزید وسیع دائرے ميں اورایک نئے اندازمیں جوآفاقی اورحکومتی ہے پیش کیا اورفقہ کے پہلوؤں کوہمارے سامنے روشن کیا جواس سے پہلے روشن نہیں تھے ۔
امام کا آٹھواں اہم کام ، غلط عقائد کوباطل قراردینا جو انفرادی احکام میں رائج تھے ۔دنیامیں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ جولوگ سماج کے اعلی منصب پر فائزہوتے ہيں ان کا خاص طور طریقہ ہوتاہے ، کچھ تعلیّ وتکبربھی ہوتاہے عیش وعشرت کی زندگي ہوتی ہے اوراسی طرح ان کا اپناخاص ٹھاٹھ باٹ ہوتاہے اوران کااپناخاص اندازہوتاہے اس دورمیں اعلی حکام کے لئے پروٹوکول ہوتاہے اوروہ اپنے لئے اس کواپنی سرکاری زندگی کالازمہ سمجھتے ہیں اوریہ سب ایسی باتیں ہیں جن کودنیانے آج تسلیم بھی کرلیاہے کہ جولوگ اعلی منصب پر فائزہيں ان کا گویا یہ سب حق ہوتاہے حتی ان ملکوں میں جہاں انقلاب آیاہے وہاں کے انقلابی رہنما بھی جو کل تک خیموں اورقناتوں میں زندگی گذارتے تھے اورقید خانوں اورمخفی گاہوں میں روپوش رہتے تھے وہ جیسے ہی حکومت میں آتے ہيں ان کا رہن سہن عوض ہوتاہے اور رہن سہن بدل جاتاہے اوران کے حکومتی انداز بدل جاتے ہیں اوروہی سب کچھ اندازان کا بھی ہوجاتاہے جوان سے پہلے کے حکمرانوں کاہوتاتھا اورجس طرح سے دنیاکے دیگرسلاطین اورشاہان کا ہوتاہے ہم نے توقریب سے یہ ساری چیزیں دیکھي ہيں ہمارے عوام کے لئے بھی یہ کوئی نئی بات نہیں ہے اورتعجب کی بات بھی نہيں ہے ۔امام نے اس طرح کے نظریات وعقائد کوغلط قراردیا اوریہ ثابت کردیا کہ کسی قوم اورمسلمانوں کے محبوب قائد ایک زاہدانہ زندگی کے مالک ہوسکتے ہيں اورسادہ زندگی گذارکرسکتے ہيں اورعالیشان محلوں کےبجائے ایک امام بارگاہ میں اپنے ملنے والوں سے ملاقات کرسکتے ہيں اورانبیاء کی زبان واخلاق ولباس میں لوگوں سے مل سکتے ہیں۔اگرحکام اورحکومتی عہدیداروں کے دل نورمعرفت وحقیقت سے روشن ہوتے ہيں توظاہری چمک دمک ،ٹھاٹ باٹ ، اسراف ،عیش وعشرت کی زندگی ، خودنمائی ، تکبروغرورواکڑ اوراس جیسی ديگرتمام باتیں ان کی زمام داری کا جزء نہيں سمجھی جائيں گي ۔ امام کےمعجزات میں سے ایک یہ تھا کہ وہ اپنی ذاتی زندگي میں بھی اورجب آپ ملک اورقوم کے اعلی ترین رہبر تھے اس وقت بھی نورمعرفت وحقیقت ان کے پورے وجود میں متجلی تھا ۔
امام کانواں اہم کام ملت ایران کے اندر خود اعتمادی اورعزت نفس کااحیاءتھا ۔ برادران گرامی ، استبدادی اورفردواحد کی حکومتوں نے سالہاسال ہماری قوم کوایک کمزورقوم کی صورت میں تبدیل کرکے رکھ دیاتھا وہ بھی ایک ایسی قوم کو جس کے اندر غیرمعمولی صلاحیتیں پائی جاتی تھیں اورصدراسلام کے بعد سے پوری تاریخ میں اس کا شاندارعلمی اورسیاسی ماضی اورکارنامہ تھا ۔ غیرملکی طاقتوں نے کافی عرصے تک جن میں کبھی انگریزوں تو کبھی روسیوں نے اوراسی طرح یورپی حکومتوں نے اور پھراس کے بعد امریکیوں نے ہماری قوم کی تحقیرکی تھی اورہماری قوم کوبھی یہ یقین ہوگیاتھا کہ وہ بڑے بڑے کاموں کوانجام دینے کی صلاحیت اوراستعداد نہیں رکھتی ملک کی تعمیروترقی میں وہ کچھ بھی کرنے کی توانائی نہیں رکھتی ، کچھ نیاکرنے اورخلاقیت کے لئے اس کے پاس صلاحیت نہیں ہے بلکہ دوسرے ہی آئیں اور ان کے لئے کام کریں اوران پرحکومت کریں اور قوم سے سخت لہجے میں باتیں کریں اوراس طرح ہماری قوم سے ان کاقومی غرورووقارچھین لیاگياتھا اوراس کی عزت نفس کا خون کردیاتھا لیکن ہمارے امام نے ایران کے عوام میں قومی افتخار اورعزت نفس کودوبارہ زندہ کردیا ۔ البتہ ہماری قوم کے اندر قوم پرستانہ احساسات اورنخوتوں کوئی دخل نہيں ہے کہ جن کا محرک استکبار اورخود شاہ کی پہلوی حکومت جس کی مروج تھی ہماری قوم اس طرح کے غرورسے مبراہے لیکن اس کے اندرعزت وطاقت کا احساس بہرحال پایاجاتاہے ۔ آج ہماری قوم مشرق ومغرب کی مشترکہ سازشوں اوراپنے خلاف کسی بھی طرح کی دھونس ودھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوتی اورکمزوری کااحساس نہیں کرتی ۔ہمارے جوان اس بات کا احساس کررہے ہیں کہ وہ خود اپنے ملک کی تعمیروترقی میں کرداراداکرسکتے ہیں ۔لوگوں کویہ احساس ہے کہ وہ اس بات کی طاقت وتوانائی رکھتے ہيں کہ مغرب ومشرق دھمکیوں اور خطرات کے مقابلے میں کھڑے ہونے کی طاقت رکھتےہیں ،عزت نفس کا یہ جذبہ اوریہ خود اعتمادی وحقیقی قومی افتخارہمارے امام نے قوم میں دوبارہ زندہ کیا ہے
اورامام کادسواں بڑاکارنامہ ، اس بات کوثابت کرناتھا کہ نہ مشرق نہ مغرب کی پالیسی کو عملی اورممکن بنایاجاسکتاہے ۔دوسرے یہ سمجھ رہے تھے کہ یاتومشرقی بلا ک سے وابستہ ہوناپڑے گا یاپھر مغربی بلاک سے وابستہ ہوناپڑے گا یاتواس طاقت کی روٹی کھانی پڑے گی یاپھر ان کی چاپلوسی اورتعریف کرنی پڑے گی یاپھر اس طاقت کا گن گاناپڑے گا اوراس کی ہاں میں ہاں ملاناپڑے گی ۔ لوگ یہ نہیں سمجھ پارہے تھے کہ کوئی قوم کیسے مشرق سے بھی خود کوالگ رکھے اورمغرب سے بھی خود کوالگ رکھے اوردونوں سےبیزاری کااظہارکرے اورپھراپنے پیروں پر کھڑی بھی رہ جائے؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ کسی بھی بلاک سے وابستہ نہ ہواورکسی سے بھی ہاتھ نہ ملائے اورمضبوطی کے ساتھ اس دنیامیں اپنانام کرے ؟ مگرامام نے اس بات کردکھایا اوراس نکتہ کوثابت کردیا کہ مشرق ومغرب کی طاقتوں پر انحصارکئے بغیربھی زندہ رہاجاسکتاہے اور عزت وآبروکے ساتھ زندگی گذاری جاسکتی ہے ۔
نمازجمعہ کےخطبہ سے اقتباس 23-4-1368

امام بسیجی ہونے پرفخرکرتےتھے، جی ہاں امام (رہ) بسیجی ہونے پرفخرکرتے تھے رہبرکبیرانقلاب اسلامی خود کوبسیجی کہتے اورسمجھتے تھے اوراس پر فخربھی کرتے تھے انھوں نےپوری ایک دنیاکوعالمی استکباری طاقتوں اورظالموں کےمقابلے میں لاکھڑاکردیاتھا اورسب کوبسیج بنادیا یعنی سبھی رضاکارانہ طورپر اس فکرکے حامل ہورہے تھے کہ عالمی استکبار اورظالم طاقتوں کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوں امام نے اپنے اس اقدام سے جابر طاقتوں کی نیندیں حرام کردی تھیں اورقوموں کے دلوں میں نورامید کو جوتمام کامیابیوں اورپیشقدمیوں کی کنجی ہے روشن ومنورکردیا تھا بلا شبہ تمام تراستکباری مشینریاں بھی آسانی کے ساتھ اس بیج کوجمع نہيں کرسکتیں جو آپ نے بویاتھا یاجس عمارت کی آپ نے بنیاد رکھی اسے ڈھاسکیں گی اگرچہ پوری قوت وقساوت کے ساتھ امام کے عظیم جہاد کے ثمرات کوختم کرنے میں لگی ہوئی ہيں ۔
رضاکارفورس بسیج کے کمانڈروں کے اجلاس سے رہبرانقلاب کے خطاب کا اقتباس 2-9-1368

امام، انقلاب کی راہ ميں زندہ ہيں

جی ہاں ہمارے عظیم قائد امام خمینی (رہ) اگرچہ اس وقت ہمارے درمیان نہيں ہیں جس طرح سے ہمارے شہداء ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن امام بھی اورشہداء بھی ہمارے دلوں اورذہنوں میں اورہماری زندگي وہمارے انقلاب کی صراط مستقیم میں حاضروزندہ ہیں اورسرگرم وفعال ہيں ۔اس عظیم انسان اوران کےشہید ساتھیوں کے وجود کااثرفقط ان کے زمانۂ حیات سےہی متعلق نہیں تھا جس طرح سے ان کے وجود کااثر صرف ایران تک ہی محدود نہيں تھا ۔ آج ان کے وجود اوران کی مبارک عمراوراسی طرح سے ان کے شہید ساتھیوں کے وجود مبارک کی بدولت اسلام روزبروزتابندہ ودرخشاں ہوتاجارہاہے اورتحریفوں ،جہالتوں ، اورفتنوں کاابرغلیظ ہرروز چھٹتاچلاجارہاہے ۔ جوانقلاب امام نے برپاکیا اورشہیدوں نے اپنے خون سے اس کورنگینی عطاکی اوراسے بوئے گل سرخ عطاکیا اس وقت پوری دنیامیں مظلوم قوموں کی بیداری ، مسلم معاشروں کی تجدیدحیات ،معنویت کی بنیادوں کواستحکام بخشنے ، اورمادیت کاشیرازہ بکھیرنے ، اورالغرض حق کی سربلندی اورباطل کی نابودی میں اس نے خود کوپوری دنیاسے منوایاہے ۔انسان کے بام معنویت پرعروج کاپرچم جوآج دنیاکے گوشہ وکنارمیں بلندہے دراصل وہ ہمارے امام اوران کے شہید ساتھیوں کا پرچم ہے وہ لوگ زندہ ہيں اورہرروزپہلے سے بھی زیادہ زندہ ہوتے جائیں گے ۔
شہداء جانبازوں اور عراق میں قید غازیان اسلام کوخراج عقیدت پیش کرنے کےلئے رہبرانقلاب اسلامی کے پیغام سے اقتباس 19-11-1368

امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کا عظيم ہنر

امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک بڑاہنروفن اوران کی بے مثال خد مت یہ تھی کہ انھوں نے اسلام کوگوشہ نشینی سے نکالا مسلمان حتی اپنے گھروں اوروطن اورشہروں میں بھی اجنبی اورغریب الوطن تھے ۔دشمنان اسلام نے اپنی ملحد ثقافت برائیوں کورواج دے کر،اورطاغوتی حکومتوں کے ذریعہ مسلمانوں سے سوچنے اوراپنے بارے میں غورفکرکرنے کاموقع بھی چھین لیاتھا ۔ ان حالات میں امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے جوپیغمبراسلام کی پاک نسل کےتھے اورجن کے ہاتھوں میں خدانے الہی قوت عطاکی تھی اسلام کے چہرے غربت واجنبیت کی گرد صاف کی اورپوری دینامیں ایک بارپھر اسلام کاتابناک چہرہ پیش کیا ۔
امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی دوسری برسی میں شریک غیرملکی مہمانوں کے پہلے گروپ سے رہبرانقلاب اسلامی کے خطا ب کا اقتباس ۔ 15-3-1370-

امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ معلم انقلاب

انقلاب سے پہلے اورانقلاب کے بعد بھی ان کا درس تھا کہ ہم اہم سے اہم کام انجام دے سکتے ہيں ۔ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے ہم کویہ باورکرایاتھا کہ ہم خود اپناکام انجام دے سکتےہيں ہم کوخودکوشش کرنی چاہئے ہم خود اپنے ملک کی تعمیروترقی کے لئے کام کریں ہم خود تعمیروترقی اورمصنوعات کی پیداواراوراستعمال کا اصول وضع کریں جوکہ ہمارا طور طریقہ ہے ۔ ہمیں چاہئے کہ ان باتوں کو تعمیروترقی کے دورمیں بروئے کار لائیں ہم ہرگزدوسروں کےتجربات سے انکارنہیں کرتے اوران کی اہمیت سے منکرنہيں ہیں جس کے پاس جوبھی ہوعلم ہوٹکنالوجی ہو، وسائل ہوں ، فنی تکنیک ہو ، اگرہم ان سے استفادے کے لئے مجبورہوئے اوران سے اپنے اہداف کے تحت استفادہ کرسکیں گے توایک لمحے کے لئے بھی ان سے استفادے میں دریغ نہیں کریں گے ۔ ہم کوچاہئے کہ ہم ان سب چیزوں کواپنی صلاحیتوں کواجاگرکرنے کے لئے ایک پل کے طورپر استعمال کریں اورجتنابھی ممکن ہوملک کے اندرپیداوارکے لئے ان سے استفادہ کریں اورہميں چاہئے کہ اپنی پیداوارکوغیرملکی مصنوعات پرترجیح دیں ہمارے لئے اپنی مصنوعات غیرملکی مصنوعات سے زیادہ مبارک اوربہترہیں حتی یہ بھی بہترہے کہ دوسروں کے ہاتھوں سے اوردوسرے دروازے سے ہمارے ملک میں داخل ہوں ۔ وزارت پٹرولیم کے حکام اور ماہرین سے خطاب 12 / 9 / 1370

امام کی روشن بینی اورحالات کی تشخیص

تعمیروترقی کے محکمے، جہاد سازندگی کی جب بات ہوتی ہے توديگرمحکموں کے مقابلے میں یہ محکمہ سب سے زیادہ امام (رہ) کی یاد کوتازہ کردیتاہے ۔امام کس قدر اس جوان ،انقلابی ،مخلص اورکارآمد محکمے کواہمیت دیتے تھے اورکس قدرآپ خوش ہوتے تھے جب یہ سنتے تھے کہ جہادسازندگی کی وزارت نے جنگی محاذ اوردورافتادہ گاؤں اوردیہاتوں میں اتناکام کیااوریہ کارنامہ انجام دیا ہے ۔وہ عظیم دل ( امام خمینی ) یہ تمام کاوشوں اورکامیابیوں کودیکھ کرپرامید اورخوشحال ہوجاتا تھا اس عظیم شخصیت کی تیزبینی وروشن بینی اورتشخیص درست اوربجاتھی اورآپ جانتے تھے یہ محکمہ جومومن وانقلابی عناصر اورجوان وسرگرم اورکارآمد افراد سے تشکیل پایاہے کس حد تک ملک کے لئے مفید اورآپ کے لئے کارآمد ہے ۔ آپ لوگ جوامام کے عاشق تھے اورآج بھی ان سے عشق کرتے ہيں اورآپ لوگوں کی رگ حیات امام سے متصل تھی اوران سے ارتبا ط کوجہاد کے اصلی تشخص میں گردانتے تھے آپ کوچاہئے کہ ان کی روح کی خوشنودی کے لئے جوملکوت اعلی کوپروازکرچکی ہے اورہمارے اعمال وافعال پر ناظرہے اپنی کوششوں کودوگنا کریں اورملک کی ترقی وپیشرفت کے لئے زیادہ سے زیادہ کام کریں ۔
وزارت جہاد سازندگی کے حکام اور کارکنوں سے تجدید بیعت 20 / 3 / 1370

نمازجمعہ کاقیام امام خمینی (رہ) کے اہم ترین کاموں میں سے ایک ہے

آپ نے قوم کونمازجمعہ کاایک بہت ہی اہم معنوی تحفہ دیاہے برسوں سے ہم نمازجمعہ سے محروم تھے اوراگرکہیں کسی علاقے میں کسی وقت نمازجمعہ ہوتی بھی تھی توجوتاثیرنمازجمعہ ایک اسلامی حکومت میں رکھتی ہے کسی بھی وجہ سے وہ اثرنہیں رکھتی تھی اوربعض جگہوں پر نمازکے ذمہ داران ایسے نامناسب افراد تھے کہ جن کا ذکربھی یہاں مناسب نہیں ہے یہ نمازجمعہ کامسئلہ ہے ۔
دیدار با ائمہ جمعہ و جماعت 7 / 3 / 1369

امام( رحمۃ اللہ علیہ ) مسلمانوں کی قوت وعزت

آج چند باتیں روزروشن کی طرح عیاں ہیں جنھيں میں یہاں پر عرض کرناچاہتاہوں اوراس کے بعد ایک نتیجہ نکالوں گا جوملت ایران کے لئے بھی ہے اورپوری دنیاکے مسلمانوں کے لئے بھی ۔
پہلی حقیقت جس کاکوئی بھی انکارنہیں کرسکتا اورکوئي بھی منصف آدمی جس کاانکارنہيں کرسکتا یہ ہے کہ ہمارے عظیم قائد اورامام نے مسلمانوں کوقوت وعزت بخشی ۔دشمنان اسلام اسلام کوکمزورکرناچاہتے تھے ان کی یہ کوشش تھی کہ اسلام کومیدان عمل سے بلکہ مسلمانوں کے ذہنوں سے دورکردیں اورافسوس کے ساتھ یہ کہناپڑتاہے کہ دشمن اپنے اس مقصد میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے ہيں ۔اس گندی سیاست میں استکباری طاقتوں سے وابستہ اورپٹھو فاسدحکومتوں نے بھی دشمنان اسلام کا ساتھ دیا ہے اوران سے تعاون کیا ہے ۔ امام نے اپنے اس انقلاب سے مسلمانوں کوجوش وولولہ عطاکیا انھیں ہمت وجرات دی اوراسلام کوزندہ کیا ۔ آج بہت سے ملکوں میں اسلام جوانوں کی آرزواورامنگوں میں تبدیل ہوچکاہے اوربہت سےروشن فکر افراد اسلام کوگلے لگانےکے لئے بے تا ب نظرآرہے ہيں ان میں سے ایک مثال فلسطین کی ہے برسوں فلسطین کے موضوع پرباتیں ہوتی رہی ہیں اورجدوجہدہوتی رہی ہے لیکن ساری باتیں ناکام رہیں ۔مگرآج ملت فلسطین ، اسلام کےنام پر جدوجہد کررہی ہے اوراستقامت کامظاہرہ اس کی طرف سے اسلام کےنام پر ہورہاہے اسی لئے اب یہ جدوجہد تنظیموں گروہوں شخصیتوں اورحکام کے دائرے سے نکل کرعوام تک پہنچ چکی ہے ۔ اوراس طرح کا جہاد اورجدوجہد کبھی بھی ناکام نہیں ہوگی۔ عوامی جدوجہداگرباقی رہتی ہے توبلاشبہ اسے ایک دن ہرحال میں کامیابی نصیب ہوگی یہ اس اسلام کی برکت کانتیجہ ہے جسے امام نے دوبارہ زندہ کیا اورمسلمانوں کے اندراسلامی وجدان کوبیدارکیا ۔آج شمالی افریقہ کے اسلامی ملکوں میں کچھ گروہ اسلام کے نام پر اورایک اسلامی حکومت کے قیام کے مقصدسے جدوجہدکررہے ہيں ،اوروہ کسی حد تک اپنے مقصد میں آگے بھی بڑھے ہیں۔
امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی تحریک سے قبل کس کے ذہن میں یہ بات آتی تھی ؟ عالم اسلام کےمشرق سے لے کرمغرب تک آج مسلمان بیدارہوچکے ہيں یورپی اورغیریورپی ملکوں میں جہاں کفروالحاد کی حکومتیں ہیں مسلمان اپنی اہمیت کا احساس کررہے ہيں مسلمانوں کے اندراسلامی تشخص اورشناخت پیداہوچکی ہے یہ سب کچھ امام اوران کی اس عظيم تحریک کی برکت ہے ۔

تحریک میں صبر اور بصیرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ اور قوم کی کامیابی کا راز

دوسری حقیقت یہ ہے کہ جس چیز نے ہمارے عظيم الشان قائد امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ اور ہماری بہادر قوم کو اس عظيم تحریک میں کامیابی سے ہمکنار کیا وہ بصیرت اور صبر تھا ۔ایک ایسی استقامت جس میں بصیرت ساتھ تھی جیسا کہ حضرت علی (ع) نے فرمایا ۔یہ علم ، صرف صاحبان بصیرت و صبر ہی اٹھاسکتے ہیں ۔اس کا سبب یہ ہے کہ آج مقابلہ خالص کفر اور خالص نفاق سے نہیں ہے کہ افکار و نظریات واضح ہوں اور ایک دوسرے کے سامنے محاذ آرائی اور صف بندی بھی کھلم کھلا ہو، بلکہ آج مقابلہ نفاق ، دوروئی ، کھوکھلے دعووں ، مکر و فریب اور جھوٹ سے ہے جسے سامراج نے پورے عالم میں پھیلا رکھا ہے بہت سے لوگ انسانی حقوق کی طرفداری کا دعوی کرتے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں ، بہت سے لوگ اسلام کا دم بھرنے کا دعوی کرتے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں ۔ان کا اسلام ، سامراج کی مرضی و منشا کا تابع ہے ۔بہت سے لوگ انسانوں کے بیچ مساوات قائم کرنے کا دعوی کرتے تھے اور کرتے ہیں وہ جھوٹ بولتے تھے اور بولتے ہیں ۔اس لئے آج کل مقابلہ دشوار کام ہے ، نہ صرف سامراج کی دولت اور طاقت کے سبب بلکہ اس کی پروپیگنڈہ طاقتوں کے سبب کیونکہ سامراج اور اس کا ٹولہ اپنے غلط کاموں کا جواز پیش کرنے کےلئے ، پروپیگنڈہ کا سہارا لیتا ہے ۔بے بصیرت لوگ جلدی دھوکہ کھا جاتے ہیں ۔آج بھی بڑے اچھے لوگ ہیں جنہوں نے دھوکہ کھایا ہے اپنی اور دشمن کی صف میں تمیز نہیں کرپائے ۔ایران میں ہمارے عظیم الشان قائد امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے ،ایرانی قوم کی بصیرت سے کہ جس میں صبر اور پائداری بھی ساتھ تھی ، اس راستہ کو طے کیا اور وہ کامیابی تک پہنچے ۔خود انہوں نے لوگوں میں اس بصیرت و صبر کو پیدا کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔جہاں بھی دنیا میں کوئی تحریک ہورہی ہے اور کوئی نیک انسان لوگوں کو نجات دلانے کی کوشش میں لگا ہے اسے یہ جان لینا چاہئے کہ یہ راستہ صرف اور صرف ہوشیاری اور بصیرت نیز صبر و پائداری سے طے ہوسکتا ہے ۔
تیسری حقیقت یہ ہے کہ اسلامی ایران ، پوری دنیا کے مسلمانوں کی عظیم تحریک کامرکز ہے ۔نہ صرف مسلمان اور محروم و ستم رسیدہ لوگ بلکہ سامراج بھی اس بات کو سمجھ گيا ہے کہ آج دنیا میں جہاں کہیں بھی اسلامی اہداف کے لئے تحریک چل رہی ہے اس کا مرکز اسلامی جمہوریۂ ایران ہے اس لئے سب سے پہلے ساری دنیا میں دشمنی کا رخ ہماری طرف ہے ۔ہم لگی لپٹی باتوں کی آڑ میں چھپی ہوئي دشمنی و کینہ کو پہچانتے ہیں ۔ہم جانتے ہیں کہ سامراج کواسلامی جمہوریۂ ایران ،ایرانی قوم اور ہمارے عظيم الشان قائد امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ سے کتنی دشمنی ہے۔
دشمن چونکہ ان کےافکار و نظریات کو زندہ دیکھ رہا ہے اس لئے امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ اس کی دشمنی میں سرمو فرق نہیں آیا ہے ۔اگر سامراج اور اس کی پروپیگنڈہ مشنری یہ سوچتے کہ وہ انتقال کرگئے اور ان کا زمانہ ختم ہوچکا ہے توکبھی بھی اس شخص ( امام خمینی ) سے اور اس کے نام سے اتنی دشمنی نہیں کرتے جیسا کہ آج کررہے ہیں ۔امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کاایران ، انقلاب ایران ،اسلامی جمہوریۂ ایران ، مسلمانوں کی عالمی تحریک کا مرکز ہے اور اس لئے سب کی دشمنی کا نشانہ بنا ہوا ہے ۔اس چیز سے ہم غمگین ہونے کے بجائے خوش ہوتے ہیں ، ڈرنے کے بجائے ہمارے حوصلے بلند ہوتے ہیں کیوں کہ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ہم طاقتور ہیں اور سامراج ، چوروں و لٹیروں کے مفادات کے لئے بدستور خطرہ بنے ہوئے ہیں ۔سامراج کی دشمنی سے ہمیں مزيد اطمینان پیدا ہوتا ہے کہ ہم نے انقلاب کو آگے بڑھانے اور ملک و سماج کی تعمیر کے لئے جس راستہ کو چنا ہے وہ صحیح اور کامیابی کا راستہ ہے ۔اگر ہم نے انسانیت کے دشمنوں کے مفادات کے خلاف اور انقلاب و ملک کی مصلحتوں کی سمت میں غلط راستہ کا انتخاب کیا ہوتا ، تو دشمن ، ہم سے اتنی دشمنی نہیں کرتا ۔ پوری دنیامیں مختلف طریقوں سے ہمارے خلاف پروپیگنڈہ ہورہا ہے ۔ممکن ہے کہ کچھ ذرائع ابلاغ ہمیں صراحتا" برا بھلا نہ کہیں ، لیکن یہ ان کی دوستی کی علامت نہیں ہے ۔وہ یہ جانتے ہیں کہ اگر انہوں نے صراحتا" ہمیں برا بھلا کہا تو پوری دنیا کی اقوام کے دل ہماری طرف اور جھک جائیں گے ۔اس لئے وہ سیدھے طور پر برا کہنے کے بجائے ہم پر الزام لگاتے ہیں خود کو ہم سے نزدیک دکھاتے ہیں اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں جیسے ہم ان کے بارے میں اچھے خیالات رکھتے ہیں، یہ سب ان کے ہتھکنڈے اور خباثت ہیں ۔
امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے انتقال کی دوسری برسی کے موقع پر قائد انقلاب اسلامی کے بیان کا اقتباس
امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے قائد انقلاب اسلامی کے بیان کااقتباس
ہمارے عظيم الشان قائد امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کاکمال یہ تھا کہ انہوں نے اس انقلاب کے لئے ایک محکم فریمورک اور حدود و ضوابط بنائے اور انہوں نے اس بات کی اجازت نہیں دی کہ یہ انقلاب بڑی طاقتوں کے زير اثر آجائے اور مسلط کردہ سیاسی دھاروں میں بہہ جائے ۔
نہ شرقی ، نہ غربی ، جمہوری اسلامی یا خود مختاری ، آزادی ، جمہوری اسلامی جیسے نعروں نے ، امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات اور ان کی راہ کو عوام کے لئے واضح کیا اور ان نعروں کے معنی یہ تھے کہ یہ انقلاب ٹھوس اصولوں پر استوار ہے اس وقت کے مشرقی سوشلزم بلاک کے اصولوں سے اور نہ ہی مخرب کے لیبرل سرمایہ دارانہ نظام کے اصولوں سے وابستہ ہے ۔مشرق اور مغرب کی انقلاب سے دشمنی کا سبب بھی یہی ہے ۔ انقلاب کی بنیاد ٹھوس اصولوں پر ہے ،اس میں عدل و انصاف کے نفاذ ، ملک کی آزادی و خودمختاری اور معنویت و اخلاق جیسی عوام کے لئے سب سے زیادہ اہمیت رکھنے والی قدروں پر توجہ دی گئی ہے ۔یہ انقلاب ، انصاف ، حریت ، عوام کی حاکمیت ، روحانیت اور اخلاق پر مشتمل ہے ۔
امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی چودھویں برسی کے موقع پر قائد انقلاب اسلامی کے بیان کا اقتباس

امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے اسلام کی فراموش شدہ اقدار کو زندہ کیا ۔امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے سب سے اہم جو کام انجام دیا وہ یہ ہے کہ انہوں نے اسلام کے سیاسی اورسماجی پہلوؤں کو زندہ کیا۔جب سے سامراج نے اسلامی ملکوں میں قدم رکھا اس کی تمام تر کوشش یہی تھی کہ اسلام کو سیاسی ، سماجی عدل و انصاف ،حریت پسندی اور خود مختاری کے پہلو سے عاری دکھائے ۔سامراج و تسلط پسند طاقتوں کو قوموں کو دبانے اور اسلامی ملکوں کے ذخائر پر اپنا تسلط بڑھانے کے لئے ،اسلام کے سیاسی پہلوؤں کو اسلام سے الگ کرنے کے سوا اور کوئي چارۂ کار سمجھ میں نہیں آرہا تھا اور سامراج اسلام کے بارے میں یہ پروپیگنڈہ کیا کرتا تھا کہ اسلام حادثات اور واقعات کے سامنے تسلیم ہونے اور جارح قوتوں کے سامنے جھک جانے نیز ظالم و طاقتور دشمن کے سامنے سر جھکانے کا نام ہے ۔امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے اسلام کے فراموش شدہ حقائق کو زندہ کیا۔اسلام کی انصاف پسندی کو اجاگر کیا۔انہوں نے اس بات کو آشکار کیا کہ اسلام امتیازی سلوک سماجی اونچ نیچ اور اشرافیت کو ہرگز پسند نہیں کرتا ۔عظيم الشان قائد امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے پہلے دن سے زندگي کے آخری لمحہ تک ، غریب ، مستضعف اور محروم طبقوں کی حمایت کی اور ان پر بھروسہ کیا۔اسلامی نظام کی تشکیل کے آغاز سے اور اپنی بابرکت عمر کے دس سال اس نظام کی قیادت کے دوران تمام حکام اور ہم سب سے یہ زور دے کر کہتے تھے کہ غریبوں کا خیال رکھیں کیونکہ آپ کو جو یہ مقام ملا وہ اسی غریب طبقہ کی جد جہد کا مرہون منت ہے ۔
اے ایران کی عظيم قوم ہم نے امام ( خمینی رحمۃ اللہ علیہ ) کی اس نصیحت پر منصوبہ بندی ، قانون سازی ، لوگوں کو منصوبوں پر فائز کرنے اور انہیں معزول کرنے نیز جہاں جہاں اس پر عمل کیا،ہمیں کامیابی ملی عوام کے سلسلے میں امام ( خمینی رحمۃ اللہ علیہ ) نے جو سب سے اہم کام کیا وہ یہ تھا کہ جمہوریت کے مفہوم کو مغربی معنی و مفہوم سے یکسر الگ کردیا ۔
مغربی منصوبہ ساز اور ان کے پٹھوؤں کی کوشش یہ تھی کہ اس بات کو عام کردیں کہ جمہوریت دین کے ساتھ سازگار نہیں ہے ۔
امام ( خمینی رحمۃ اللہ علیہ ) نے اس مفہوم پر خط بطلان کھینچ دیا اور دینی بنیادوں پر جمہوریت یعنی اسی اسلامی جمہوریہ کو نمونہ کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا۔انہوں نے صرف قول اور علمی دلیل کی حد تک نہیں بلکہ عملا" اسے انجام دے کر دکھا دیا ۔