|
|
|
امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی نما یاں اور ممتاز شخصیت
امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ بےمثال اور ممتاز خصوصیات کے مالک تھے آپکی
شخصیت کے مختلف پہلو ؤں پر جتنا ھم غور کرتے ہیں اپکی شخصیت اور بھی
نمایاں اور بےمثال دکھائی دیتی ھے۔ اگرچہ آج
یہ داغ ہمارے دلوں کو تڑپارہاہے اور غم کی سنگینی یمارے دلوں پر بوجھہ
بنی ہوئی ہے انکے فقدان کا کہیں زیادہ احساس کررہاہوں ۔ ارادہ الہی اور شرعی ذمہ داریوں کا محور
امام کی شخصیت بڑی حد تک انکی امنگوں کی بلندی اور اہمیت سے مربوط ہے۔
آپ
اپنی بلند ہمتی کےباعث اعلیٰ اہداف کا انتخاب کیا کرتے تھے۔ عام لوگوں
کے لیے ایسے اہداف کا تصور بھی دشوار تھا اور لوگ سمجھتے تھے کہ یہ
اعلیٰ اہداف ناقابل حصول ہیں۔ لکین آپکی
بلند ہمتی، ایمان و توکل،جہد مسلسل اور اس عظیم انسان کی ذات میں
پوشیدہ بے پناہ صلاحیتیں اور توانائیاں اپنا کا م کرتیں اور وہ اپنے
مطلوبہ اہداف و مقاصد کی سمت بڑھتے چلے جاتے اور اچانک سب دیکھتے کہ وہ
اعلیٰ اہداف حاصل ہوگئے ہیں۔ وزیر اعظم اور کابینہ سے بیعت لینے کی تقریب سے قائد انقلاب اسلامی کے خطاب سے اقتباس۱۶۔۳۔۱۳۶۷ جامع صفات کی حامل عظیم شخصیت
ہمارے عظیم اور ہردلعزیز رہبر کبیر کی شخصیت حقیتا" انبیائے الہی اور آئمہ
معصومین کے بعد کسی بھی شخصیت کے قابل موازنہ نہی ہے۔ وہ ہمارے لئے
عطیہ الہی ، حجت خدا اور عظمت الہی کی نشانی تھے۔جب انسان انہیں دیکتھا
تو بزرگان دین کی عظمت کا یقین حاصل کر لیتا۔ ہم رسول خدا،
امیرالمومینین ، سید الشہداء امام جعفرصادق اور دیگر اولیاء کی عظمت کا
صحیح تصور تک بھی نہی کرسکتے ۔ ہمارے ذہن اس سے کہیں چھوٹے ہیں جو ان
عظیم ہستیوں کی عظمت ذاتی کا احاطہ کر سکیں اور یا اسے تصور میں لاسکیں
۔ لیکن جب کوئی شخص ہمارے امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ عظیم اور ہمہ جہتی
شخصیت کودیکھتا ہے، قوت ایمانی، عقل سلیم، حکمت و دانا ئی، صبر و
بردباری، سچائی و پاکیزگی ، تجملات دنیا سے بے اعتنائی،، زھدو تقویٰ و
پرھزگاری، خوف خدا، اور خالص اللہ کے لئے عبادت ، جن تک پہنچنا دشوار
ہے، اور جب وہ اس بات کا مشاہدہ کرتا ہے اس عظیم انسان آسمان
ولایت کے خورشید تابناک کے سامنے کس طرح سے انکساری اور کم مائگی کا
اظہار کرتا ہے اور خود کو انکے سامنے ذرہ بھی نہی سمجھتا، اس وقت انسان
سمجھتا کہ انبیاء اور اولیاء معصومین کی ذات کس قدر عظیم ہے۔ فاتح فتح الفتوح
محاذجنگ پر اپ لوگوں کی ایک کامیابی کے موقع فرمایا :فتح الفتوح کا
مطلب آپ
ایسے انسانوں اور جوانوں کی تربیت کرنا ہے۔ درحقیقت اس فتح الفتوح کے
فاتح وہ خود تھے۔ وہ تھے جنہوں نے ایسے انسانوں کو تیار کیا تھا۔ وہ
تھے جنہوں نے یہ ماحول تیار کیا تھا۔ وہ ہی تو تھے جنہوں نے یہ راستہ
بنایا تھا۔ یہ آپ
(رح) ہی تھےجنہوں نے اسلامی اقدار کو زوال اور پس منظر میں چلے جانے کے
بعد حیات نو بخشی۔ آپ
(رح) کی میراث یہی اقدار ہیں اور اسلامی جمہوریہ ہے۔ ہم میں سے ہر شخص
چاہے کسی بھی عہدے پر کیوں نہ ہوں ، اسلامی جمہوری نطام اور اسکی اقدار
کے تحفظ کے لئے امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ اپنے عشق ومحبت کا
ثبوت پیش کرنا چاہئے۔ تہجد میں گریہ کرنے والے عبد الصالح
( امام خمینی رہ) ایسی عظیم شخصیت کے مالک تھے کہ انبیااور آئمہ
معصومین (علیم السلام ) کے علاوہ ایسی خصوصیات اور پہلوؤں کا تصور بھی
دشوار ہے۔ اس عظیم انسان نے قوت ایمانی کو عمل صالح کے ساتھ، آہنی
ارادے کو بلند ہمتی، اخلاقی شجاعت کو حکمت و تدبیر، صراحت اظہار و بیان
کو سچائی و متانت ، معنوی اور روحانی پاکیزگی کو ہوشیاری و کیاست ،
تقویٰ و پرہیز گاری کو تیز رفتاری و استحکام ، قائدانہ رعب و دبدے کو
محبت و الفت کے ساتھ مختصر یہ کہ بہت سی پاکیزہ اور نادر صفات کہ جنکا
صدیوں کے دوران بعض عظیم لوگوں میں جمع ہوجانا شاید ہی ممکن ہو، یہ
ساری صفات آپکی
نادر روزگار شخصیت میں موجود تھیں ، آپ کی شخصیت بے نظیر تھی اور آپکی
انسانی عظمت افسانوی تصورات و تخیل سے بالا تر ہے۔ نمایاں شخصیت
امام( رح) کی شخصیت کا دنیا کے کسی بھی رہنماسے موازنہ نہی کیا جاسکتا،
صرف انبیاء اور آئمہ
معصومین کے ساتھ موازنہ کیا جاسکتا ہے ۔ وہ ان ہی کے شاگرد تھے یہی وجہ
ہے کہ( امام خمینی کا) دنیا کے کسی بھی لیڈر کے ساتھ موازنہ نہی کیا
جاسکتا۔ تابناک شخصیت
میں تاریخ ایرن میں سورج کی ماند چمکنے والے اس عظیم انسان کے اعلی
انسانی کمالات کو بیان کر نے سے قاصر ہوں ۔ میں برسوں تک آپکی
خدمت می رہا ہوں۔
۱۳۳۷
میں انسے ملا اور اور انکے درس میں شریک ہونے لگا۔ زندگی کے مختلف
ادوار میں اور بحرانی حالات میں نے انکے جچے تلے اقدامات کا مشاہدہ کیا
۔ وہ غیر معمولی انسان تھے ، وہ ہم ایسے با لکل نہی تھے۔ حقیقتا اس
عظیم انسان کی صفات اور خصوصیات کو میں بیان نہی کرسکتا۔ ممتاز اور جامع صفات شخصیت
ہمارے عظیم رہبرو رہنما اور امام (رح) خلد آشیاں
دنیا کی درخشاں شخصیت تھے۔ حقیقتا انکے جیسا نہ اس زمانے میں ہے اور نہ
اس سے پہلے کوئی گزرا ہے ۔ دنیا کی معروف شخصیات کے درمیان ، انبیا اور
اولیا علیھم السلام کے بعد ایسی عظیم ، ہمہ جہتی اور ہمہ گیر شخصیت
دکھائی نہی دیتی۔ میں اس بات پر پورا یقین رکھتاہوں کہ اگر یہ عظیم
انسان ، علم و یقین ، دانائی و بہادری اور مضبوط اردے جیسی تمام مثبت
خصوصیات کے باوجود ، اخلاص(عمل)،خدا سے رابطے (۔تنزہ از شرک بہ معنای
تجنب از اھوای خود و دیگران ۔نداشت)۔ تو وہ کبھی کامیاب نہی ہوسکتے
تھے۔ یہ کامیابی ایسے حالات میں نصیب ہوئی جب دنیا میں تمام علامتیں
دین کی تنہائی اسکی فرسودگی اور شیطانی و مادی افکار کے غلبے پر دلالت
کررہی تھیں۔ امام خمینی کے مشن کی خصوصیات امام خمینی اپنے مشن جو بیان فرمایا کرتے تھے وہ اس طرح تھے ۔عالمی استکبارکے خلاف جدوجہد ، نہ مشرق نہ مغرب کے نعرے پر پوری قوت کے ساتھ اعتدال کو برقرار رکھنا ، قوموں کی ہمہ جانبہ اورحقیقی خودمختاری ، حقیقی معنوں میں خود کفالت ، دینی اصول و شرع وفقہ اسلامی کے تحفظ پر مسلسل اصرار اورعزم راسخ ، اتحاد ویکجہتی کی برقراری ، دنیاکی مسلمان اورمظلوم قوموں پر توجہ ، اسلام اور مسلمان اقوام کوعزت دینا اورعالمی طاقتوں کے مقابلے میں مرعوب نہ ہونا ، اسلامی معاشروں میں عدل وانصاف کا قیام ، معاشرے کے مستضعف وپسماندہ اورمحروم لوگوں کی بے دریغ حمایت اوران کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش ، ہم سب اس بات کے شاہد رہے ہيں کہ امام نے ہمیشہ ان خطوط پر بھرپورطریقے سے عمل کیا ہے اورکسی بھی طرح کے پس وپیش کے بغیران خطوط اورمشن کوآگے بڑھایاہے ، ہمیں چاہئے کہ ہم ان کی راہ واعما ل صالح اوران کی رفتارکی پیروی کریں۔ وزیراعظم اوران کی کابینہ کی طرف سے بیعت یاتجدید عہد کی تقریب میں رہبرانقلاب اسلامی کا بیان ،17 - 3 -1368-
امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ ہمارے عظیم امام کے مشخصات اورخصوصیات نے
نئے دورکا آغازکردیاہے اورآج جب ہمارے دل اورہماری جانیں امت اسلامیہ
کی اس بے مثال ہستی کے فراق میں غمزدہ ہیں ہماری سب سے بڑی ذمہ داری یہ
ہے کہ ان عصری خصوصیات کوکہ جن کا آغازامام خمینی نے کیاتھا اورپوری
قوم کوجن سے آشناکردیاتھا اورپوری دنیاکوبھی جن سے متعارف کرایا
پہچانیں اوران کو برقرار رکھیں ۔حقیقی عزاداری اسی وقت ہے جب کہ جب ہم
ان فریضوں پرعمل کریں وہ عصر وہ دورجس کاآغازامام خمینی نے کیاتھا اس
کی اپنی خصوصیات اورپہچان بھی ہے جن میں سے کچھ اس طرح سے ہيں قوم کے
اندر عزت واستقلال وآزادی بے نیازی واعتماد بہ نفس پیداکرنا کہ
سالہاسال جس سے کوشش کی گئی کہ یہ ساری چیزيں اس سے چھین لی جائیں
اوردوسرے لوگ اس کی تقدیرکے مالک بن بیٹھیں ۔ اس دورکی ایک اورپہچان
وخصوصیات کہ امام خمینی جس کے موجد وبانی تھے انسانی اقدارکااحترام
اوراس کی جانب رجحان ، عدل وانصاف اورانسانوں کے لئے حریت وآزادی
اورلوگوں کےنظریات اوران کی آراء کا احترام ۔ یہی عظیم شخصیت کہ پوری
دنیاکے لوگ جس کا آج احترام سے نام لیتے ہيں اورجس کی عظمت وبزرگي کا
اعتراف کرتے ہيں کہتی تھی اگرمجھے خدمت گزاریاخادم کہیں تواس سے بہترہے
کہ مجھے رہبرکہیں ۔ صحیح فرماتے تھے اوراس میں کسی طرح کا تکلف
اورتظاہرنہیں کرتے تھے وہ اس قدر لوگوں کااحترام کرتے تھے کہ خود کوان
کا خدمت گزارکہتے تھے ہم اس طرح کی پوری دنیامیں کوئی نظیرومثیل نہیں
رکھتے اورتاريخ میں اس جیسی شخصیت کی مثال نہيں ملتی ۔
امام خمینی کے مشن اورراستے کا تعیین جوامام نے انقلاب کے لئے معین
کیاتھا اوردس برسوں سے ایرانی قوم اسی راستے اورخط پرچل رہی تھی اسلام
اورمسلمانوں کی عظمت کا خط اورمحروموں پوری دنیاکے مستضعفوں کے دفاع کے
لئے ایک خط اورراستہ ہے جس نے ایرانی قوم کوپوری دنیامیں ایک زندہ
اورسرافرازوآزاد قوم میں تبدیل کرکے رکھ دیاہے ، اور قوم آج دنیاکی سب
سے بیداراور فعال قوم کی صورت میں پہچانی جاتی ہے، اورہم سب کو ایک
پسماندہ اوردوسروں سے وابستہ قوم کی حالت سے باہرنکال دیاہے ۔ یہ وہ خط
ہے کہ جس نے اسلام کے تئیں لوگو ں کے دلوں میں عشق ومحبت کوجگایاہے
اورانھیں اس راستے میں بے مثال فداکاریوں اورقربانیوں کے لئے حوصلہ دیا
ہے یہ خط ، ہماری زندگی ہماراپوراوجود اورہماراانقلابی اورقومی تشخص ہے
اورپرودگارعالم کے فضل وکرم سے یہ خط وراستہ پوری قوت طاقت وامید
اوراسی جذبے کے ساتھ کہ جس کی امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے پوری تحریک
کے دوران ہمیں تعلیم دی ہے آگے بڑھتارہے گا ہم امام خمینی رحمۃ اللہ
علیہ کی راہ اوران کے مشن ، ان کے انقلاب ان کی کوششو ں اورفداکاریوں
کو دوام کے لئے آمادہ ہیں ۔ ہماری جان اورہمارا خون اس راہ اورخط پر
قربان ہيں ۔ہماری سعادت وبھلائی اسی میں ہے کہ اپنی زندگی اسی راہ میں
گذاريں اوراس راستے میں کسی بھی طرح کاکوئی شک وشبہہ نہیں ہے ۔
گذشتہ گیارہ برسوں کے دوران اورامام خمینی کے بعد جو ہم نے ہدایت کرنے
والے راستے کوطے کیاہے کوئی معمولی اورعام راستہ نہیں ہے جسے ہم نے
فطری طورپر اورکسی ہدایت وحمایت اورالہی مدد کےبغیر طے کرلیا ۔ ہم عجیب
وغریب پیچ وخم سے گذرے ہيں ۔اورامام خمینی کی قیادت ورہبری کی برکت کی
وجہ سے عجیب وغریب نشیب وفرازکو عبورکیاہے اوراس راستے میں صرف ہدایت
الہی نے ہی ہماری مدد کی ہے اورخود امام خمینی کابھی اسی بات پر یقین
وعقیدہ تھا اورمیں نے خود ان کی زبانی سناتھا کہ وہ فرمایاکرتے تھے میں
انقلاب کے آغازسے ہی اس بات کا احساس کررہاہوں کہ ایک ہدایت کرنے والا
ہاتھ ہماری مدد کررہاہے اوریہ ہاتھ ہمارے آگے آگے چل رہاہے اورراستے
ہمارے لئے آسان کررہاہے ) حقیقت بھی یہی تھی اورخداوند عالم نے ہماری
مجاہدت ،خلوص وصفااورنورانیت کے عوض ہمیں عطاکیاہے ۔ یہ ہدایت الہی
غافل انسان کومیسرنہیں ہوتی اوراسی مناجات شعبانیہ میں ارشادہوتاہے کہ
( وانرابصارقلوبنا بضیاء نظرھا الیک ) دل کی آنکھ کومنورکرنا
اوربیداردل کے لئے حقائق کوروشن کرنا اورمومن کوچشم بصیرت عطاہونا یہ
سب مفت اوربلاسبب انجام نہیں پاتا اوربغیرجدوجہد سعی وکوشش کے خداکے
ساتھ ارتباط ممکن ہوپاتا ۔
امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کایہ دس سالہ دورایک انقلابی معاشرے کی حیات
کے لئے نمونہ عمل ہے ۔ امام خمینی کی حیات مبارک کے یہ آخری دس سال
ہمارے انقلابی معاشرے کے لئے ایک بہترین نمونہ عمل ہے اورانقلاب کے
اصلی خطوط وراستے وہي ہيں جو امام خمینی نے ہمیں دکھائے ہیں ۔ خام
خیالی میں مبتلا اوراندھے ہمارے دشمن یہ سمجھ رہے تھے کہ امام خمینی کی
رحلت کے بعد امام خمینی کے مقررکردہ خطوط وراستے سے ہٹ کرکوئی راستہ
اورخط ایران میں وجود میں آجائے گا یاحتی اس سے الگ کوئی نیادورشروع
ہوچکاہے یہ ان کی بہت بڑی بھول ہے ۔امام خمینی ایک ہمیشہ زندہ رہنےوالی
حقیقت کانام ہے ۔ان کانام اس انقلاب کاپرچم ، اوران کی راہ اس انقلاب
کی راہ ، اوران کے اہداف اس انقلاب کے اہداف ہيں ۔امام خمینی کی امت
اوران کے شاگرد جواس ملکوتی وجود کے سرچشمہ فیاض سے سیراب ہوئے ہیں
اورجنھوں نے اپنی عزت وشرف اسلامی وانسانی اسی سرچشمہ ميں تلاش کی ہے
اس وقت اس بات کامشاہدہ کررہے ہيں کہ دوسری قومیں حتی غیرمسلم قوميں
بھی اس عظيم قائد ورہنماکے انقلابی تعلیم کے نسخے کواپنی نجات کاذریعہ
سمجھ رہی ہیں اورانھوں نے اپنی آزادی اورعزت اسی میں پائی ہے ۔ آج اس
دورکی اس بے مثال تحریک کی برکت سے پوری دنیاکے مسلمان بیدارہوچکے ہيں
اورظالمانہ تسلط کے شاہی محل کھنڈرات میں تبدیل ہورہے ہیں ۔قوموں نے
قومی تحریک کی اہمیت کودرک کرلیاہے اورانھوں نے شمشیرپر خون کے غلبہ کا
تجربہ کرلیاہے اورسب لوگ ہرجگہ پر ایران کی دلیروبہادر قوم پر اپنی
نظریں جمائے ہوئےہیں۔ اسلامی جمھوریہ کی تشکیل کے بنیادی عناصر
پہلانکتہ - اسلامی جمھوری نظام کی تشکیل کا ایک بنیادی عنصر اسلام
پسندی اورمستحکم اسلامی اورقرآنی مبانی پر تکیہ ہے - امام خمینی رحمۃ
اللہ علیہ نے اسلام پرتکیہ کیا اوراسلام کے نام ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ
اس بات پر ان کا اصرارتھا کہ ملک کے تمام سرکاری محکموں اورسماج کے
اندر اسلامی قوانین اوراصولوں کونافذ ہوناچاہئے البتہ یہ ایک طویل
المیعاد کام تھا ۔ امام بھی اس کوجانتے تھے کہ مختصرسے عرصے میں یہ
مقصود حاصل نہيں کیا جاسکتا ، امام نے راستہ کھلا رکھا اوراپنی تحریک
شروع کردی اورسمت کی بھی نشاندہی فرمادی اورسب یہ سمجھ گئے کہ تمام
معنی میں اسلامی تعلیم اوراسلامی احکامات کی جانب ہی رخ کرناہے
اورمعاشرے و نظام کواسلامی معاشرہ اورنظام بناناہے تاکہ انصاف قائم
کیاجاسکے غربت کا خاتمہ کیاجاسکے اوربدعنوانیوں کوجڑسے
اکھاڑپھینکاجاسکے اور قوم کوجوپرانادرد لاحق ہے اوراسے اس قوم پر مسلط
کیا گياہے اس رفع کیا جاسکے ۔
امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک بڑاکارنامہ اورہنراپنی تحریک اور قوم
کی مدد سے اس سیاسی نظام کاخاتمہ کرناتھا جو ایک فاسد اورپٹھوشاہی نظام
تھا وہ ایک ایسانظام تھا کہ جس کے حکام اورعہدیداران قوم اور ملک کے
جوانوں کے مستقبل کے بارے میں ذرابھی توجہ نہيں دیتے تھے اورملک وقوم
کواغیارسے زیادہ سے زیادہ وابستہ کررہے تھے ان کے نزدیک عوام کی فلاح
وبہبود کی تو کوئي اہمیت ہی نہیں تھی ملک کا انتظام وانصرام غلط
اورنامناسب طریقے سے چلایاجارہاتھا یہ وہ نظم وانصرام تھا جس کی تھئوری
دوسرے ملکوں سے لی گئی تھی اوروہ بھی ناقص اندازمیں لی گئی تھی اوراس
پر بھی پوری طریقے سے عمل درامد نہیں ہوتاتھا یعنی ایک خالص ڈکٹیٹرشپ
اورآمرانہ نظام ۔ جومختلف عناوین اورگوناگوں روشوں سے کہ جن میں سے
کوئی بھی روش عوا م کے عزم وارادے کی آئینہ دارنہ تھی اورکوئی بھی روش
ملک کے مفاد میں بھی نہ تھی ،چلایاجارہاتھا ۔
امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ مکتب قرآن کے شاگرد تھے اس عظیم الشان امام
نے اس انقلاب کا منصوبہ بنانے اوراس انقلاب کی بنیادپر سیاسی نظام کی
تدوین یعنی اسلامی جمھوری نظام اورحکومت کی تشکیل میں پرودگارعالم کے
فضل وکرم سے اورہدایت الہی سے ایسی روش کا انتخاب کیا کہ جوپیغمبروں کی
روش اورسرچشمہ غیب سے متصل بندگان خداکی روش تھی ۔ یہ اس لئے ہے کہ
امام قرآن کودوست رکھتے تھے اورخود مکتب قرآن کے شاگرد تھے اوروہ قرآن
سے مانوس تھے اورقرآن سے ہی مدد طلب کرتے تھے اوروہ قرآن کواپناضابطہ
حیات سمجھتے تھے ، اوریہ اس حقیقت کے عظيم اور شاندار نتائج وآثارمیں
سے ہے.
محروم اور مستضعف عوام اسلامی انقلاب کے لشکرہیں اوریہی امام خمینی
رحمۃ اللہ علیہ کی تحریک کا بنیادی نکتہ تھا اوردو چیزیں اس انقلاب کے
گرانقدرسرمایہ تھے اورہيں ۔ ایک یہ ہے کہ انقلاب کا مقصد اسلام تھا
دوسرے یہ کہ انقلاب کے سپاہی اوراس انقلاب کا لشکرمستضعف ، ومحروم طبقہ
اورجوان نسل ہے ۔ انقلاب کو مستضعف اورغریب طبقے نے کامیابی سے
ہمکنارکیاہے اور آٹھ سالہ اس طویل جنگ کو اس مملکت کے جوانوں نے نتیجہ
خیزبنایا اورآج بھی ہمارے جوان اللہ اوراس کے دین کی راہ میں قدم
بڑھارہے ۔آج بھی اگر انقلاب کوکوئی خطرہ لاحق ہوگا توسب سے پہلے میدان
میں جولوگ اتریں گے وہ جوان ہوں گے ۔حوزہ علمیہ کے جوان یونیورسٹیوں کے
جوان پورے ملک کے جوان اورمختلف طبقوں سے تعلق رکھنےوالے جوان اورافراد
ہوں گے جواس انقلاب کی حفاظت کے لئے میدان میں قدم رکھیں گے ۔امام
خمینی اپنے پورے وجود کےساتھ اسلام کادم بھرتے تھے اورآج سب لوگ پورے
وجود کےساتھ امام کوچاہتے ہيں امام کی باتیں بہت ہی صاف وشفاف ہیں ان
کے کلمات واضح کلمات ہيں ان کے کلمات محکمات اوربیناّ ت ہيں ۔ امام کی
خطابات اوران کی باتیں آج فضامیں گونج رہی ہیں امام خمینی رحمۃ اللہ
علیہ کا وصیت کا نامہ امت کے ساتھ ان امام کا دائمی میثاق ہے سب
کوچاہئے کہ ان کی ان باتوں کوصحیح طریقے سے درک کریں اوران میں
غوروفکرکریں تاکہ امام کی راہ کوپہچان سکیں اوراس راہ کوپہچاننے میں
کوئی غلطی نہ کریں ۔جولوگ امام سے محبت کادم بھرتے ہيں لیکن امام کی
فکر ان کی راہ وتعلیمات کوقبول کرنے کوتیارنہيں ہیں وہ غلطی کررہے ہيں
۔ سماجی انصاف اورعوام پراعتماد
میں چند اہم خصوصیات اورخطوط جنھیں ہم امام کی راہ اوران کے خط سے
تعبیرکرتے ہيں یہاں پر عرض کرتے ہيں کچھ باتیں امام ہمیشہ امام کے پیش
نظر تھیں ، سب سے پہلے دین اوراسلام تھا امام اسلام سے بڑھ کرکسی بھی
چیزکواہمیت نہيں دیتے تھے ۔ امام کی تحریک اورانقلاب اسی اسلام کی
حاکمیت کے لئے ہی تھا اورعوام نے بھی کہ جنھوں نے اس نظام کوقبول کیا
اس انقلاب کوبرپا کیا اورامام کو( رہبر ) تسلیم کیاتھا وہ سب اسلامی
جذبے کی بنیادپر تھا - پس سب سےپہلی چیزجوامام کی نظرمیں اوران کے مشن
میں سب سے اہم تھی وہ اسلام کے احکامات پر عمل آوری اورایمان وعمل کے
میدان میں اسلام کی حاکمیت تھی ۔ تمام اصولوں کے محور اسلام اورعوام ہيں
امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے مشن کے تمام اصول وقواعد کامحور دوچیزوں
میں خلاصہ ہوتاتھا ۔ایک اسلام اوردوسرے عوام ۔ عوام پراعتماد کانظریہ
بھی امام نے اسلام سے حاصل کیا ۔ یہ اسلام ہے جو قوموں کے حقوق ، ان کی
آراء ، اورجہاد کے اثراوران کی اہمیت پر تاکید کرتاہے اسی لئے امام
خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے مشن کا محوراسلام اورعوام کوقراردیاتھا
۔یعنی اسلام کی عظمت عوام کی عظمت ، اسلام کااقتدارعوام کااقتدار،
اسلام کا ناقابل تسخیررہناعوام کا ناقابل تسخیررہناہے ۔ امام کے سیاسی مکتب کی شناخت اورخصوصیات میں امام کے سیاسی مکتب پر تکیہ کرناچاہتاہوں ۔امام کا سیاسی مکتب ان کی پرکشش شخصیت سے جدانہیں ہوسکتا ۔امام کی کامیابی کارازاس مکتب میں ہے جوانھوں نے متعارف کرایاہے اورجسے انھوں نے مجسم اورایک نظام کی شکل میں دنیاوالوں کے سامنے پیش کیا ۔ البتہ ہمارا عظیم اسلامی انقلاب عوام کے ہاتھوں کامیاب ہوا اورایرانی عوام نے اپنی بے پناہ توانائیوں اورصلاحیتوں کا مظاہرہ کیا لیکن امت امام کے بغیر اوران کے سیاسی مکتب کے بغیر اس عظیم کام کوانجام دینے پر قادرنہیں تھی ۔ امام کا سیاسی مکتب ایسامیدان کھولتاہے کہ جس کا دائرہ اسلامی نظام کی تشکیل سے بھی کافی وسیع ہے ۔ وہ سیاسی مکتب کہ امام نے جس کوپیش کیا اورجس کے لئے جدوجہد کی اس میں دنیاوالوں کے لئے ایک نئی بات ہے اوراس کے ذریعہ انھوں نے دنیاوالوں کے سامنے ایک نئی بات رکھی اورنئي راہوں کی نشاندہی کی ۔ اس مکتب میں ایسی چیزیں پائی جاتی ہیں کہ انسانیت جس کی تشنہ ہے اسی لئے یہ باتیں کبھی بھی پرانی نہيں ہوں گی ۔ جولوگ کوشش کررہے ہيں کہ امام کوایک ایسی شخصیت کے طورپرپیش کریں جوتاریخ کاحصہ بن چکی ہو اورجوماضي کی بات بن چکے ہوں وہ اپنی اس کوشش میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوپائیں گے ۔امام اپنے سیاسی مکتب میں زندہ ہيں اورجب تک یہ سیاسی مکتب زندہ ہے اس وقت تک امام کاوجود وحضور، امت اسلامیہ کے درمیان بلکہ بشریت کے درمیان باعث برکت بنارہے گااورجاوداں رہے گا ۔امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کا سیاسی مکتب بہت سی غیرمعمولی خصوصیات اورشناخت کا حامل ہے ۔میں یہاں پر ان مختلف مشن راستوں میں سے چند اہم اور نمایاں مشن کی جانب اشارہ کرناچاہوں گا ۔ان میں سے ایک مشن یہ ہے کہ امام کے سیاسی مکتب میں معنویت اورسیاست باہم آمیختہ ہيں اورامام کے سیاسی مکتب میں معنویت سیاست سے جدانہیں ہے ، سیاست وعرفان سیاست واخلاق ۔ امام جواپنے سیاسی مکتب کے مجسم نمونہ تھے ان کے اندرسیاست اورمعنویت ایک ساتھ جمع تھی امام کے تمام اعمال وافعال اوران کے تمام اصول ومواقف خدااورمعنویت کے محورکے گرد گھومتے تھے ۔امام کے اندرسیاست اورمعنویت باہم تھی اوراسی پرعمل کرتے تھے حتی اپنی سیاسی جدوجہد میں بھی وہ اپنامحورمعنویت کوہی قراردیتے تھے ۔ امام کا پروردگارعالم کےارادہ تشریعی پر اعتقاد اورخداوندعالم کے ارادہ تکوینی پر اعتماد تھا اوروہ جانتے تھے کہ جواللہ کی شریعت کی ترویج کے راستے میں قدم بڑھاتاہے الہی سنت اورقوانین الہی اس کی مددکرتے ہيں ۔امام کا یہ یقین تھا کہ (وللہ جنودالسماوات والارض وکان اللہ عزیزاحکیما) امام قوانین شریعت کوہی اپنے اقدام وتحریک کی بنیاد سمجھتے تھے اورقوانین الہی کوہی اپنی تحریک کی علامت سمجھتے تھے ۔امام کا ہر اقدام اور تحریک ملک وقوم کی فلاح وسعادت کے لئے تھی جو اسلامی اورشرعی تعلیمات کی بنیادپر تھی اسی لئے الہی فریضہ ہی امام کی نظرمیں سعادت وبھلائی کی کنجی تھی وہ یہی چیزامام کوبڑے بڑے اہداف تک پہنچانے میں مدد دیتی تھی ۔ دوسری خصوصیات وشناخت
عوام کے کردارپر پختہ اورسچایقین ۔ اوراسی طرح انسان کی شرافت اورانسان
کے ارادے کے فیصلہ کن ہونے کے بارے میں یقین بھی امام کے مکتب کی ایک
اہم خصوصیات میں سے تھا ۔ امام کے سیاسی مکتب میں انسانی تشخص
گرانقدربھی ہے اورکرامت وشرف کا حامل ہے اوراسی طرح انسانی تشخص
طاقتوربھی ہے اورکارسازبھی ہے۔انسانی تشخص کوگرانقدراورباشرف سمجھنے کا
نتیجہ یہ ہے کہ انسان اور کسی معاشرے کا نظم ونسق چلانے میں عوام کی
آراء کوبنیادی کردارکاحامل ہوناچاہئے ۔ ایرانی عوام کی فلاح وسعادت کی راہ ہماری راہ ہے
جیسا کہ اس عظیم مردمجاہد نے ہمیں بتایاہے یہ راستہ استقامت اوراسلامی
نظام کے اہداف کے حصول کاراستہ ہے ۔ امام کے دورس کے مطابق ان کی وصیت
کے مطابق قوم کاراستہ یہی ہے ۔ پورے ایران میں ہمارے بھائي اوربہنیں
توجہ دیں کہ ایرانی عوام کی سعادت کی راہ اسلامی والہی احکام سے تمسک
ہے ۔ایرانی قوم کی سعادت کا راستہ اپنے اوپربھروسہ اوراپنی توانائیوں
اوراستعداد پریقین ہے قوم کی فلاح کاراستہ عالمی تسلط پسندطاقتوں سے
قطع امید ہے اورساتھ ہی ان سے عدم خوف ۔ نہ توان سے ذرہ برابر خوف
کھائيے اورنہ ہی ان سے ذرہ برابرامید رکھئے ۔عزیزان گرامی ، اس اسلامی
انقلاب نے جوسب سے بڑاہدیہ قوم کودیاہے وہ یہ ہے فاسدوپٹھوحکومتوں کے
شر سے جنھوں نے سالہاسالہا ملک و قوم پرتسلط جمایا اوراس کے الہی ذخائر
پر قبضہ کررکھا تھا پورے ملک اور قوم کو نجات دلائي ۔ آج خداوندعالم کے
فضل وکرم سے ملک ( کا انتظام ) کوچلانے والے خود اسی ملک کے لوگ ہيں آج
ہماری قوم کی ہمت و فہم فراست سے ملک میں عوام کی منتخب کردہ حکومت
بہترین شکل میں برسراقتدارہے ۔ ایران کے عوام کے کارناموں کے عظیم ثمرات
اگرایرانی قوم چاہتی ہے کہ اپنی عزت وشرف کی راہ کوجاری رکھے توجیساکہ
بحمداللہ ان چند برسوں میں اسلامی جمھوری نظام کے پرتو میں سرکاری حکام
اورخدمتگزاروں کی کوششوں سے مختلف میدانوں میں امورآگے بڑھ رہے ہیں کام
تیزی کے ساتھ ہورہاہے اورترقی وپیشرفت کےثمرات دیکھے جارہے ہيں ۔
اگرایرانی قوم چاہتی ہے کہ یہ ترقی وپیشرفت اسی طرح سے جاری رہے اور
قوم رفاہ وآسائش میں زندگی گذارے اورکسی مقام پر پہنچے تو اس کے لئے
ضروری ہے کہ دشمنوں اوراستکباری طاقتوں کے مقابلے میں استقامت اور
پائمردی دکھاتی رہے ایرانی عوام نے ان گذشتہ چند برسوں میں بڑے بڑے
کارنامے انجام دئے ہيں اوراس کے ثمرات بھی حاصل کئے ہيں اسی لئے اس کی
ذمہ داری ہے کہ ان ثمرات کاتحفظ کرے ۔ ایرانی قوم اوربالخصوص حکام
کوچاہئے اوران کی ذمہ داری ہے کہ اپنی تدبیر ،دانشمندی ، اور فہم فراست
سے ایرانی عوام کے ان گرانقدرثمرات کوبرباد نہ ہونے دیں خواہ وہ
کامیابیاں جوبراہ راست انقلاب کے ذریعہ قوم کی ملی ہیں ،جیسے عوامی
حکومت ،عوامی صدر، عوامی نمائندے وغیرہ یا وہ ثمرات جوانقلاب سے متعلق
ہيں مگربالواسطہ طورپراس قوم کے دئے گئے ہيں جیسے ملک کی ترقی وتعمیرکہ
یہ سب انقلاب کی برکت کانتیجہ ہے اورانقلابی عناصرنے ان کارناموں
کوانجام دیاہے اورجوسارے بنیادی کام مختلف شعبوں اورمیدانوں میں انجام
پائے ہيں اس طرح کے ثمرات کوایرانی عوام اورحکام کوچاہئے کہ محفوظ
رکھیں اور دل وجان سے ان کی حفاظت کریں ، یہ بات ظاہر ہے کہ ان ثمرات
کے حفاظت اوران سے زیادہ بھی ثمرات اورکامیابیوں کے حصول کاراستہ یہ ہے
کہ ملت ایران اورایران کے حکام اس خط ونشان کو جسے امام خمینی رحمۃ
اللہ علیہ نے اپنے عمل کے ذریعہ کھینچاہے یعنی دشمنوں کے مقابلے میں
استقامت اورپائمردی کاخط اور ملک کے باہر جولوگ دریدہ دہنی کررہے ہيں
ان کی دریدہ دہنی کے مقابلے میں ثبات قدم کا خط ۔ لیکن یہ
جوباربارکہاجارہاہے کہ (امام کی راہ وخط)سےکیامرادہے ؟ اگرہم کہیں کہ
(امام کاخط اسلام وانقلاب ہے ) تویہ ایک کلی بات ہے یہ بات تو ا ظہرمن
الشمس ہے کہ امام کا خط اسلام وانقلاب کا خط ہے اورکوئی بھی شخص اسلام
وانقلاب کامخالف نہیں ہے ۔ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی راہ اوران کے مشن کے نتائج وبرکات
آپ وہ روح اللہ تھے کہ جنھوں نے موسوی عصااوریدبیضاء سے اورمصطفوی بیان
وفرقان سے مظلوموں کی نجات کے لئے کمرہمت باندھی ، انھوں نے وقت کے
فرعونوں کے تخت وتاج کولرزہ براندام کردیا اورکمزوروں کے دلوں کو
نورامید سے روشن ومنورکردیا ، انھوں نے لوگوں کوعزت اورمومنوں کو شرف
عطاکیا اورمسلمانوں کوقوت وشوکت اورمادی وبے روح دنیاکومعنویت عطاکی
اورعالم اسلام کو تحرک اورمجاہدین فی سبیل اللہ کو شجاعت ودلیری اوردرس
شہادت سکھایا ۔ امام کے دس عظیم کارنامے
امام کاپہلاعظیم کارنامہ اسلام کی تجدیدحیات تھی ۔گذشتہ دوسوبرسوں سے
سامراجی مشینریوں نے یہ کوشش کی کہ اسلام کوفراموش کردیاجائے
امام بسیجی ہونے پرفخرکرتےتھے، جی ہاں امام (رہ) بسیجی ہونے پرفخرکرتے
تھے رہبرکبیرانقلاب اسلامی خود کوبسیجی کہتے اورسمجھتے تھے اوراس پر
فخربھی کرتے تھے انھوں نےپوری ایک دنیاکوعالمی استکباری طاقتوں
اورظالموں کےمقابلے میں لاکھڑاکردیاتھا اورسب کوبسیج بنادیا یعنی سبھی
رضاکارانہ طورپر اس فکرکے حامل ہورہے تھے کہ عالمی استکبار اورظالم
طاقتوں کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوں امام نے اپنے اس اقدام سے جابر
طاقتوں کی نیندیں حرام کردی تھیں اورقوموں کے دلوں میں نورامید کو
جوتمام کامیابیوں اورپیشقدمیوں کی کنجی ہے روشن ومنورکردیا تھا بلا شبہ
تمام تراستکباری مشینریاں بھی آسانی کے ساتھ اس بیج کوجمع نہيں کرسکتیں
جو آپ نے بویاتھا یاجس عمارت کی آپ نے بنیاد رکھی اسے ڈھاسکیں گی اگرچہ
پوری قوت وقساوت کے ساتھ امام کے عظیم جہاد کے ثمرات کوختم کرنے میں
لگی ہوئی ہيں ۔ امام، انقلاب کی راہ ميں زندہ ہيں
جی ہاں ہمارے عظیم قائد امام خمینی (رہ) اگرچہ اس وقت ہمارے درمیان
نہيں ہیں جس طرح سے ہمارے شہداء ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن امام بھی
اورشہداء بھی ہمارے دلوں اورذہنوں میں اورہماری زندگي وہمارے انقلاب کی
صراط مستقیم میں حاضروزندہ ہیں اورسرگرم وفعال ہيں ۔اس عظیم انسان
اوران کےشہید ساتھیوں کے وجود کااثرفقط ان کے زمانۂ حیات سےہی متعلق
نہیں تھا جس طرح سے ان کے وجود کااثر صرف ایران تک ہی محدود نہيں تھا ۔
آج ان کے وجود اوران کی مبارک عمراوراسی طرح سے ان کے شہید ساتھیوں کے
وجود مبارک کی بدولت اسلام روزبروزتابندہ ودرخشاں ہوتاجارہاہے
اورتحریفوں ،جہالتوں ، اورفتنوں کاابرغلیظ ہرروز چھٹتاچلاجارہاہے ۔
جوانقلاب امام نے برپاکیا اورشہیدوں نے اپنے خون سے اس کورنگینی عطاکی
اوراسے بوئے گل سرخ عطاکیا اس وقت پوری دنیامیں مظلوم قوموں کی بیداری
، مسلم معاشروں کی تجدیدحیات ،معنویت کی بنیادوں کواستحکام بخشنے ،
اورمادیت کاشیرازہ بکھیرنے ، اورالغرض حق کی سربلندی اورباطل کی نابودی
میں اس نے خود کوپوری دنیاسے منوایاہے ۔انسان کے بام معنویت پرعروج
کاپرچم جوآج دنیاکے گوشہ وکنارمیں بلندہے دراصل وہ ہمارے امام اوران کے
شہید ساتھیوں کا پرچم ہے وہ لوگ زندہ ہيں اورہرروزپہلے سے بھی زیادہ
زندہ ہوتے جائیں گے ۔ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کا عظيم ہنر
امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک بڑاہنروفن اوران کی بے مثال خد مت یہ
تھی کہ انھوں نے اسلام کوگوشہ نشینی سے نکالا مسلمان حتی اپنے گھروں
اوروطن اورشہروں میں بھی اجنبی اورغریب الوطن تھے ۔دشمنان اسلام نے
اپنی ملحد ثقافت برائیوں کورواج دے کر،اورطاغوتی حکومتوں کے ذریعہ
مسلمانوں سے سوچنے اوراپنے بارے میں غورفکرکرنے کاموقع بھی چھین لیاتھا
۔ ان حالات میں امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے جوپیغمبراسلام کی پاک نسل
کےتھے اورجن کے ہاتھوں میں خدانے الہی قوت عطاکی تھی اسلام کے چہرے
غربت واجنبیت کی گرد صاف کی اورپوری دینامیں ایک بارپھر اسلام کاتابناک
چہرہ پیش کیا ۔ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ معلم انقلاب انقلاب سے پہلے اورانقلاب کے بعد بھی ان کا درس تھا کہ ہم اہم سے اہم کام انجام دے سکتے ہيں ۔ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے ہم کویہ باورکرایاتھا کہ ہم خود اپناکام انجام دے سکتےہيں ہم کوخودکوشش کرنی چاہئے ہم خود اپنے ملک کی تعمیروترقی کے لئے کام کریں ہم خود تعمیروترقی اورمصنوعات کی پیداواراوراستعمال کا اصول وضع کریں جوکہ ہمارا طور طریقہ ہے ۔ ہمیں چاہئے کہ ان باتوں کو تعمیروترقی کے دورمیں بروئے کار لائیں ہم ہرگزدوسروں کےتجربات سے انکارنہیں کرتے اوران کی اہمیت سے منکرنہيں ہیں جس کے پاس جوبھی ہوعلم ہوٹکنالوجی ہو، وسائل ہوں ، فنی تکنیک ہو ، اگرہم ان سے استفادے کے لئے مجبورہوئے اوران سے اپنے اہداف کے تحت استفادہ کرسکیں گے توایک لمحے کے لئے بھی ان سے استفادے میں دریغ نہیں کریں گے ۔ ہم کوچاہئے کہ ہم ان سب چیزوں کواپنی صلاحیتوں کواجاگرکرنے کے لئے ایک پل کے طورپر استعمال کریں اورجتنابھی ممکن ہوملک کے اندرپیداوارکے لئے ان سے استفادہ کریں اورہميں چاہئے کہ اپنی پیداوارکوغیرملکی مصنوعات پرترجیح دیں ہمارے لئے اپنی مصنوعات غیرملکی مصنوعات سے زیادہ مبارک اوربہترہیں حتی یہ بھی بہترہے کہ دوسروں کے ہاتھوں سے اوردوسرے دروازے سے ہمارے ملک میں داخل ہوں ۔ وزارت پٹرولیم کے حکام اور ماہرین سے خطاب 12 / 9 / 1370 امام کی روشن بینی اورحالات کی تشخیص
تعمیروترقی کے محکمے، جہاد سازندگی کی جب بات ہوتی ہے توديگرمحکموں کے
مقابلے میں یہ محکمہ سب سے زیادہ امام (رہ) کی یاد کوتازہ کردیتاہے
۔امام کس قدر اس جوان ،انقلابی ،مخلص اورکارآمد محکمے کواہمیت دیتے تھے
اورکس قدرآپ خوش ہوتے تھے جب یہ سنتے تھے کہ جہادسازندگی کی وزارت نے
جنگی محاذ اوردورافتادہ گاؤں اوردیہاتوں میں اتناکام کیااوریہ کارنامہ
انجام دیا ہے ۔وہ عظیم دل ( امام خمینی ) یہ تمام کاوشوں اورکامیابیوں
کودیکھ کرپرامید اورخوشحال ہوجاتا تھا اس عظیم شخصیت کی تیزبینی وروشن
بینی اورتشخیص درست اوربجاتھی اورآپ جانتے تھے یہ محکمہ جومومن
وانقلابی عناصر اورجوان وسرگرم اورکارآمد افراد سے تشکیل پایاہے کس حد
تک ملک کے لئے مفید اورآپ کے لئے کارآمد ہے ۔ آپ لوگ جوامام کے عاشق
تھے اورآج بھی ان سے عشق کرتے ہيں اورآپ لوگوں کی رگ حیات امام سے متصل
تھی اوران سے ارتبا ط کوجہاد کے اصلی تشخص میں گردانتے تھے آپ کوچاہئے
کہ ان کی روح کی خوشنودی کے لئے جوملکوت اعلی کوپروازکرچکی ہے اورہمارے
اعمال وافعال پر ناظرہے اپنی کوششوں کودوگنا کریں اورملک کی ترقی
وپیشرفت کے لئے زیادہ سے زیادہ کام کریں ۔ نمازجمعہ کاقیام امام خمینی (رہ) کے اہم ترین کاموں میں سے ایک ہے
آپ نے قوم کونمازجمعہ کاایک بہت ہی اہم معنوی تحفہ دیاہے برسوں سے ہم
نمازجمعہ سے محروم تھے اوراگرکہیں کسی علاقے میں کسی وقت نمازجمعہ ہوتی
بھی تھی توجوتاثیرنمازجمعہ ایک اسلامی حکومت میں رکھتی ہے کسی بھی وجہ
سے وہ اثرنہیں رکھتی تھی اوربعض جگہوں پر نمازکے ذمہ داران ایسے
نامناسب افراد تھے کہ جن کا ذکربھی یہاں مناسب نہیں ہے یہ نمازجمعہ
کامسئلہ ہے ۔ امام( رحمۃ اللہ علیہ ) مسلمانوں کی قوت وعزت
آج چند باتیں روزروشن کی طرح عیاں ہیں جنھيں میں یہاں پر عرض
کرناچاہتاہوں اوراس کے بعد ایک نتیجہ نکالوں گا جوملت ایران کے لئے بھی
ہے اورپوری دنیاکے مسلمانوں کے لئے بھی ۔ تحریک میں صبر اور بصیرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ اور قوم کی کامیابی کا راز
دوسری حقیقت یہ ہے کہ جس چیز نے ہمارے عظيم الشان قائد امام خمینی رحمۃ
اللہ علیہ اور ہماری بہادر قوم کو اس عظيم تحریک میں کامیابی سے ہمکنار
کیا وہ بصیرت اور صبر تھا ۔ایک ایسی استقامت جس میں بصیرت ساتھ تھی
جیسا کہ حضرت علی (ع) نے فرمایا ۔یہ علم ، صرف صاحبان بصیرت و صبر ہی
اٹھاسکتے ہیں ۔اس کا سبب یہ ہے کہ آج مقابلہ خالص کفر اور خالص نفاق سے
نہیں ہے کہ افکار و نظریات واضح ہوں اور ایک دوسرے کے سامنے محاذ آرائی
اور صف بندی بھی کھلم کھلا ہو، بلکہ آج مقابلہ نفاق ، دوروئی ، کھوکھلے
دعووں ، مکر و فریب اور جھوٹ سے ہے جسے سامراج نے پورے عالم میں پھیلا
رکھا ہے بہت سے لوگ انسانی حقوق کی طرفداری کا دعوی کرتے ہیں اور جھوٹ
بولتے ہیں ، بہت سے لوگ اسلام کا دم بھرنے کا دعوی کرتے ہیں اور جھوٹ
بولتے ہیں ۔ان کا اسلام ، سامراج کی مرضی و منشا کا تابع ہے ۔بہت سے
لوگ انسانوں کے بیچ مساوات قائم کرنے کا دعوی کرتے تھے اور کرتے ہیں وہ
جھوٹ بولتے تھے اور بولتے ہیں ۔اس لئے آج کل مقابلہ دشوار کام ہے ، نہ
صرف سامراج کی دولت اور طاقت کے سبب بلکہ اس کی پروپیگنڈہ طاقتوں کے
سبب کیونکہ سامراج اور اس کا ٹولہ اپنے غلط کاموں کا جواز پیش کرنے
کےلئے ، پروپیگنڈہ کا سہارا لیتا ہے ۔بے بصیرت لوگ جلدی دھوکہ کھا جاتے
ہیں ۔آج بھی بڑے اچھے لوگ ہیں جنہوں نے دھوکہ کھایا ہے اپنی اور دشمن
کی صف میں تمیز نہیں کرپائے ۔ایران میں ہمارے عظیم الشان قائد امام
خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے ،ایرانی قوم کی بصیرت سے کہ جس میں صبر اور
پائداری بھی ساتھ تھی ، اس راستہ کو طے کیا اور وہ کامیابی تک پہنچے
۔خود انہوں نے لوگوں میں اس بصیرت و صبر کو پیدا کرنے میں بنیادی کردار
ادا کیا۔جہاں بھی دنیا میں کوئی تحریک ہورہی ہے اور کوئی نیک انسان
لوگوں کو نجات دلانے کی کوشش میں لگا ہے اسے یہ جان لینا چاہئے کہ یہ
راستہ صرف اور صرف ہوشیاری اور بصیرت نیز صبر و پائداری سے طے ہوسکتا
ہے ۔
امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے اسلام کی فراموش شدہ اقدار کو زندہ کیا
۔امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے سب سے اہم جو کام انجام دیا وہ یہ ہے کہ
انہوں نے اسلام کے سیاسی اورسماجی پہلوؤں کو زندہ کیا۔جب سے سامراج نے
اسلامی ملکوں میں قدم رکھا اس کی تمام تر کوشش یہی تھی کہ اسلام کو
سیاسی ، سماجی عدل و انصاف ،حریت پسندی اور خود مختاری کے پہلو سے عاری
دکھائے ۔سامراج و تسلط پسند طاقتوں کو قوموں کو دبانے اور اسلامی ملکوں
کے ذخائر پر اپنا تسلط بڑھانے کے لئے ،اسلام کے سیاسی پہلوؤں کو اسلام
سے الگ کرنے کے سوا اور کوئي چارۂ کار سمجھ میں نہیں آرہا تھا اور
سامراج اسلام کے بارے میں یہ پروپیگنڈہ کیا کرتا تھا کہ اسلام حادثات
اور واقعات کے سامنے تسلیم ہونے اور جارح قوتوں کے سامنے جھک جانے نیز
ظالم و طاقتور دشمن کے سامنے سر جھکانے کا نام ہے ۔امام خمینی رحمۃ
اللہ علیہ نے اسلام کے فراموش شدہ حقائق کو زندہ کیا۔اسلام کی انصاف
پسندی کو اجاگر کیا۔انہوں نے اس بات کو آشکار کیا کہ اسلام امتیازی
سلوک سماجی اونچ نیچ اور اشرافیت کو ہرگز پسند نہیں کرتا ۔عظيم الشان
قائد امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے پہلے دن سے زندگي کے آخری لمحہ تک ،
غریب ، مستضعف اور محروم طبقوں کی حمایت کی اور ان پر بھروسہ
کیا۔اسلامی نظام کی تشکیل کے آغاز سے اور اپنی بابرکت عمر کے دس سال اس
نظام کی قیادت کے دوران تمام حکام اور ہم سب سے یہ زور دے کر کہتے تھے
کہ غریبوں کا خیال رکھیں کیونکہ آپ کو جو یہ مقام ملا وہ اسی غریب طبقہ
کی جد جہد کا مرہون منت ہے ۔
|