|
حج خالص توحید کا مرکز و محور
تمام بھائیوں اور بہنوں کے لئے سزاوار ہے کہ وہ اس عظيم و گرانقدر
سرمایہ پر اپنی توجہ مبذول کریں اور اس فرصت سے بھر پور فائدہ اٹھائیں،
اس معنوی مقام پر مادی زندگي کے بارے میں اپنے دلوں کو مشغول نہ کریں
کیونکہ یہ تو ہمارا دائمی مشغلہ ہے۔اس مقام پر خدا کی یاد اس کی بارگاہ
میں توبہ و استغفار ، تضرع و زاری ، پاک و پاکیزہ کردار، سچائی اور نیک
فکرپر اپنا عزم بالجزم کریں اور خداوند متعال سے اس سلسلے میں مدد و
نصرت طلب کریں اور اپنے دل کو توحید اور معنویب کی خالص فضا میں پرواز
کا موقع فراہم کریں، خدا کی راہ و صراط مستقیم پر پائدار رہنے کے لئے
توشہ فراہم کریں ۔
یہاں حقیقی اور خالص توحید کا مرکز و محور ہے ۔ یہ وہی مقام ہے جہاں
حضرت ابراہیم (ع)نے اپنے نفس پر غلبہ پیدا کرتے ہوئے توحید کا سبق دیا
اور پروردگارکا حکم بجالانےاور اپنے پارہ جگر کو اس کی راہ میں قربان
کرنے کے لئے منی میں حاضر کیا اور اپنے اس عمل کو عالمی تاریخ کے تمام
موحدوں کے لئے یادگار بنادیا ،یہ وہی مقام ہے جہاں سرور کونین حضرت
محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے طاقت و دولت کے نشے میں مخمور
متکبروں کے سامنے توحید کا پرچم بلند کیا ۔اور خداوند متعال پر ایمان
کے ساتھ طاغوتی طاقتوں سےبیزاری کو مسلمانوں کی نجات و رستگاری و فلاح
و بہبود کی شرط قراردیا : فمن یکفر بالطاغوت و یؤمن باللہ فقداستمسک
بالعروۃ الوثقی۔۔۔
حج ان عظیم دروس کو یاد کرنے اور سمجھنے کا مقام ہے ۔ مشرکوں ، بتوں
اور بت گروں سے بیزرای و نفرت ، مؤمنین کے حج کی روح رواں ہے مؤمنین کی
طرف سے اپنے دل کو خدا کے سپرد کرنے کی تلاش وکوشش اور شیطان سے برائت
و بیزاری، اس پر رمی کرنا اور اس کے مد مقابل محاذ قائم کرنا حج کے ہر
مقام پرنمایاں ہے ۔ اور مسلمانوں کےدرمیان باہمی اتحاد و انسجام
ویکجہتی اور حقیقی اخوت و برادری اور ایمانی طاقت کے جلوے اورقومی و
قبائلی اور قدرتی واعتباری تفاوتوں کےختم ہونےکے آثار حج کے ہر مقام پر
نظر آتے ہیں ۔
یہ وہ دروس ہیں جو دنیا کے ہر خطے کے رہنے والے مسلمانوں کو یاد کرنا
چاہیے اور ان دروس کی بنیاد پر اپنی زندگي اور اپنےمستقبل کے پروگراموں
کو استوار کرنا چاہیے۔
حجاج بیت اللہ الحرام کے نام پیغام ، 18/12/2007
حج میں شیطان کے خلاف مشترکہ رد عمل
مؤمنین کے درمیان مہر و عطوفت امت اسلامی کی موجودہ حالت کو بہتر بنانے
کی دوسری علامت ہے ۔ امت اسلامی کے بعض حصوں میں اختلافات اور تفرقہ
ایک خطرناک بیماری ہے ۔ اور اس بیماری کاپوری طاقت کے ساتھ علاج ضروری
ہے۔ اسلام دشمن عناصر طویل مدت سے اس سلسلے میں اپنی کوششیں جاری رکھے
ہوئے ہیں اور اب وہ امت اسلامی کی بیداری سے سخت خوف و ہراس میں مبتلا
ہیں ۔ لہذا اس نے امت اسلامی کے درمیان اختلافات کو ہوا دینے کی کوششیں
بھی مزید تیز تر کردی ہیں۔قومی ہمدردی رکھنے والے افراد کا یہی کہنا ہے
کہ تفاوتوں کو تضاد میں اور مختلف النوع ہونے کو آپسی دشمنی ،جھگڑے اور
لڑائی میں نہیں بدلنا چاہیے ۔
ایرانی عوام نے اس سال کو اسلامی اتحاد و یکجہتی کا سال قراردیا ہے یہ
نام درحقیقت دشمنوں کے شوم پروپیگنڈوں نیز ان کی طرف سے امت اسلامی کے
درمیان اختلافات ڈالنے کی سازشوں کے پیش نظر رکھا گیا ہے ۔ دشمن کی یہ
سازشیں فلسطین ، لبنان ، عراق ، پاکستان اور افغانستان میں کار گر ثابت
ہوئی ہیں جہاں ایک مسلمان ملک کے لوگ اپنے ہی بھائیوں کے خلاف صف آرا
ہوگئے اورانھوں نے ایک دوسرے کا خون بہانے پر کمر ہمت باندھ لی ،ان
تمام تلخ اور دردناک حوادث میں دشمن کی سازشیں آشکار تھیں اور تیز
نگاہوں نے ان سازشوں کے پیچھے دشمن کا ہاتہ دیکھ لیا ۔
حکم خدا " رحماء بینھم " کا مطلب یہ ہے کہ آپسی دشمنی اور لڑائیوں کا
سلسلہ ختم ہو ۔ آپ ان مبارک ایام میں ، دنیا کے مختلف علاقوں سے آئے
ہوئے لوگوں کو دیکھ رہے ہیں کہ وہ سب ایک ہی گھر کے ارد گرد طواف کررہے
ہیں ، ایک ہی کعبہ کی طرف نماز ادا کررہے ہیں ، شیطان کی علامتوں پرمل
کر پتھر پھینک رہے ہیں،قربانی کرنے کی منزل میں ایک جیسا عمل انجام دے
رہے ہیں ، عرفات و مزدلفہ میں ایکدوسرے کے ساتھ ملکرخدا کی بارگاہ میں
تضرع وزاری کررہے ہیں ، اسلامی مذاہب اصلی ترین فرائض و احکام اور
عقائد میں ایک دوسرے کے اس قدر نزدیک ہیں اس عظیم اتحاد کے بعد معمولی
تعصبات اور قبل از وقت فیصلوں کی بنا پر کیوں مسلمانوں کے درمیان فتنہ
و فساد اور جھگڑے کی آگ پھیلائی جائے ؟!۔ جبکہ دشمن بھی اس آگ پر مزید
تیل چھڑکنے کا کام کرتا ہے ۔ آج وہ لوگ جو بے عقلی ، نادانی اور جہالت
کی بنا پر مسلمانوں کے ایک بہت بڑے طبقے پر کفر و شرک کا الزام عائد
کرتے ہیں ،اور انکا خون بہانا جائز سمجھتے ہیں وہ لوگ خواہ نخواہ ،
سامراجی طاقتوں اور کفر و شرک کی خدمت کررہے ہیں بہت سے لوگ جنھوں نے
پیغمبر اسلاماور آئمہ طاہرین کی عزت و تکریم کو کفر وشرک قراردیا اور
وہ خود کافروں اور ستمگاروں کے حامی اور مددگار بن گئے ۔جبکہ پیغمبر
اسلام (ص) اور اہلبیت اطہار ، اور اولیاء خدا کی عزت و تکریم حقیقی
دینداری ہے ۔
حجاج بیت اللہ الحرام کے نام پیغام ، 18/12/2007
|