|
ظالم
حکومت ميں کام کرنا
س٢٧٥:آيا غير اسلامي حکومت ميں کام کرنا جائز ہے؟
ج:يہ اس بات پر منحصر ہے کہ وہ عمل بذات خود جائز ہو۔
س٢٧٦:ايک شخص عربي ممالک ميں ٹريفک پوليس کے ادارے ميں کام کرتا ہے
ٹريفک کے قوانين کي خلاف ورزي کرنے والوں کي فائل پر دستخط کرنے کا
افسر ہے تاکہ انہيں قيد خانے ميں ڈال ديا جائے اگر وہ دستخط کردے تو اس
مخالفت کرنے والے شخص کو جيل ميں ڈال ديا جائے گا آيا يہ نوکري صحيح ہے
؟ اور اس کي تنخواہ کا کيا حکم ہے جو وہ مذکورہ کام کے عوض حکومت سے
ليتا ہے؟
ج:معاشرتي قوانين اگرچہ غير اسلامي حکومت کے ہوں ان کي روايت کرنا ہر
حال ميں واجب ہے ، مذکورہ عمل کے عوض تنخواہ لينا حلال ہے اور اس ميں
کوئي حرج نہيں ہے۔
س٢٧٧:امريکہ يا کينيڈا کي شہريت لينے کے بعد آيا مسلمان وہاں کي فوج يا
پوليس ميں شامل ہوسکتا ہے؟ اور آيا حکومت کے دفاتر جيسے بلديہ اور
دوسرے دفاتر جو کہ حکومت کے تابع ہيں ان ميں نوکري کرسکتا ہے؟
ج:اگر فعل حرام ، ترک واجب اور کسي کا سبب نہ ہوتو جائز ہے۔
س٢٧٨:آيا ظالم کي طر ف سے منصوب قاضي کي کوئي شرعي حيثيت ہے؟ تاکہ اس
کي اطاعت کرنا واجب قرار پائے؟
ج:ايسے شخص کو جو جامع الشرائط نہيں ہے او رايسے شخص کي طرف سے منصوب
بھي نہيں ہے جسے قاضي نصب کرنا کا حق ہے قضي بننے اور لوگوں کے درميان
قضاوت انجام دينے کا حق نہيں ہے۔ او رلوگوں کا اسکي جانب رجوع کرنا
جائز نہيں ليکن حالت ضرورت ميں صحيح ہے اور اس کا حکم بھي نافذ نہيں۔
|