|
ذخيرہ
اندوزي اور اسراف
س٣٨٦:کن چيزوں کي شرعاً ذخيرہ اندوزي کرنا حرام ہے؟ اور آيا آپ کي نظر
ميں ذخيرہ اندوزي کرنے والوں پر مالي تعزير(مالي جرمانہ) کرنا جائز ہے
يا نہيں؟
ج:جن اشيائ ميں ذخيرہ اندوزي حرام ہے جيسا کہ روايات ميں وارد ہو اہے
اور مشہور فقہا کي بھي يہي رائے ہے وہ غلات اربع(گندم ، جو ، خرما،
کشمش) اور سمن و زيت(گھي اور تيل) جن کي ضرورت معاشرے ميں مختلف طبقات
کو ہوتي ہے۔ ليکن اسلامي حکومت مصلحت عامہ کے تحت لوگوں کي تمام
ضروريات زندگي پر ذخيرہ اندوزي کو ممنوع قرار دے سکتي ہے اور اگر حاکم
شرع مناسب سمجھے تو ذخيرہ اندوزوں پر مالي تعزيرات لاگو کرسکتاہے۔
س٣٨٧:کہا جاتا ہے کہ ضرورت سے زيادہ بجلي استعمال کرنا اسراف کے زمرے
ميں شمار نہيں ہوتا کيا يہ بات درست ہے؟
ج:بلا شک ہر چيز کا ضرورت سے زيادہ استعمال اور خرچ کرنا حتيٰ بجلي اور
بلب کي روشني اسراف شمار کياجاتا ے وہ قول جو صحيح ہے وہ يہ کہ رسول
اللہ نے فرمايا ’’ لاسرف في خير‘‘ کارخير ميں اسراف نہيں ہوتا۔
|