تجارت کے احکام


شرائط عقد


س٣٩٨:کيا خريد و فروخت معاطاتي (١٣) ايسے دوسرے تمام معاملات عقدي معاملہ کي طرح لازم (نافذ) ہيں؟
ج:لزوم (نفوذ) کے اعتبار سے عقدي اور معاطاتي معاملے ميں کوئي فرق نہيں ہے۔
س٣٩٩: اگر مکان اور زمين کا معاملہ(فروخت يا مصالحہ کے ذريعے) خاندان کے افراد کے درميان عام وثيقہ پر انجام پائے جبکہ نہ اسے اسٹامپ پيپر پر لکھا گيا ہو اور نہ ہي کسي عالم دين نے صيغہ جاري کيا ہو۔ آيا اس جيسے معاملے کو قانوني اور شرعي اعتبار سے صحيح کہا جاسکتا ہے؟
ج:معاملہ شرعي طور پر انجام پانے کے بعد صحيح اور لازم ہے اور قانوني تحرير کا نہ ہونا يا کسي عالم دين کا صيغہ جاري نہ کرنا معاملے کي صحت کے لئے مضرنہيں ہے۔
س٤٠٠:ايک قانوني اسناد کي حامل جائيداد کو عام وثيقہ تحرير کے ذريعہ شرعاً خريدنا جائز ہے؟ جبکہ قانوني طور پر خريدار کے نام سند تحرير نہ گئي ہو۔
ج:بنيادي طور پر خريدو فروخت کے انجام پانے کے لئے سرکاري و قانوني سند اور رجسٹري کي ضرورت نہيں ہے۔ بلکہ معيار يہ ہے کہ مالک ، کے وکيل يا مالک کے سرپرست کي طرف سے خريد و فروخت کے ذريعہ شرعاً صحيح طور پر نقل و انتقال انجام پاجائے۔ اگرچہ اس خريد و فروخت کے بارے ميں بالکل کوئي وثيقہ تحرير نہ کيا گياہو۔
س٤٠١:آيا خريدار اور فروخت کرنے والے کے درميان ايک سادہ وثيقہ تحرير کرنا معاملہ انجام پانے کے لئے کافي ہے اور اسے معاملے کي سند قرار ديا جاسکتا ہے؟ اور آيا دونوں کا قصد فروخت کرنا اور فروخت کرنے والے کا بعد ميں قانوني سند بنانے کا پابند ہونا اور خريداہوا مال خريدار کو تحويل دے دينا معاملہ صحيح ہونے کے لئے کافي ہے؟
ج:فقط قصد فروخت کرنا يا سادہ تحرير لکھنا معاملہ انجام پانے اور مال کے خريدار کي ملکيت ميں جانے کے لئے کافي نہيں ہے اور جب تک معاملہ صحيح طريقے سے انجام نہ پائے خريدار کے نام قانوني سند بنانا اور مالک کي جانب سے مال کي تحويل کا تقاضا ضروري نہيں ہے۔
س٤٠٢:اگر وہ شخص خريد و فروخت کے بارے ميں گفتگو کريں اور خريدار فروخت کرنے والے کو کچھ بيعانہ بھي دے دے اور ايک وثيقہ بھي تحرير کريں جس ميں اس بات کا ذکر ہو کہ اگر کسي نے معاملہ تمام کرنے سے انکار کرديا تو دوسرا شخص اس کے اتنا(فلاں) مبلغ ادا کردے گا۔ آيا فقط مذکورہ مکتوب کو سند فروخت سمجھا جائے گا يعني دونوں کي گفتگو اور خريد و فروخت کا ارادہ کرنا معاملہ کے طے پانے اور اس کے آثار مترتب ہونے کے لئے کافي ہے تاکہ جب بھي معاملہ کو يقيني بنانے سے گريز کرے تو دوسرا اسے شرط پر عمل کرنے کا پابند بناسکے؟
ج:فقط گفتگو و قصد فروخت کرنا اور وثيقہ تحرير کرنے کے ساتھ وعدہ کرنا معاملہ انجام پانے کے لئے کافي نہيں ہے اور مذکورہ شرط کي کوئي حيثيت نہيں ہے جب تک کہ شرط عقد اور معاملہ کے ضمن ميں نہ ہو يا جب تک شرط پر موقوف عقد منعقد نہ ہوجائے اور جب تک معاملہ اور نقل و انتقال صحيح شرعي طريقے سے انجام نہ پائے دونوں کو ايک دوسرے پر گفتگو اور وعدے کہ وجہ سے کوئي حق نہيں ہے۔
 

خريدار اور فروخت کرنے والے کي شرائط


س٤٠٣: اگر کسي شخص کو حکومت يا حاکم کے حکم سے اپني زمين يا گھر کے سامان کو فروخت کرنے پر مجبور کيا جائے تو آيا ايسے شخص کے لئے جو يہ جانتا ہے کہ وہ فروخت کرنے پر مجبو رہے مذکورہ اشيائ خريدنا جائز ہے؟
ج:اگر زمين اور گھر کا سامان فروخت کرنے کے لئے مجبور کرنا برحق ہو اور مجبور کرنے والا شرعاً حق اجبار رکھتا ہو تو اس صورت ميں دوسروں کے لئے مذکورہ اشيائ خريدنا جائز ہے۔ وگرنہ مذکورہ خريداري ، مالک کي اجازت پر موقوف ہوگي۔
س٤٠٤:زيد نے عمر کو اپنا مال و اسباب فروخت کرديا اور قيمت وصول کرلي۔ اس کے بعد عمر نے وہي سامان خالد کو فروخت کرديا اور قيمت وصول کرکے اسے اپني ضروريات ميں خرچ کرليا اس کے بعد زيد اپنے مال ميں ممنوع التصرف کرديا گيا اور اس کے مال کو قرقي کرديا گيا۔ آيا مذکورہ حکم اس مال و اسباب پر بھي جاري ہوگا جو اس نے ممنوع التصرف ہونے سے پہلے فروخت کرديا تھا؟ و بنا بر ايں اس کا فروخت کرنا باطل تھا؟
ج:اگر يہ ثابت ہوجائے کہ فروخت کرنے والا بيچنے کے وقت بحکم حاکم ممنوع التصرف تھا، يا مال ہاتھ ميں ہونے کے باوجود مالک کا مالک نہيں تھا بلکہ حاکم مذکورہ مال کو قرقي کرنے کا حقدار تھا تو اس صورت ميں بعد ميں قرقي کا حکم مذکورہ مال کے لئے بھي ہوگا۔ لہٰذہ اس کي سابقہ فروخت باطل ہوجائے گي۔ مذکورہ صورت کے علاوہ اس کي سابقہ فروخت شرعاً صحيح ہے اور اس صورت ميں بعد ميں قرقي کا حک سابقہ فروخت کو شامل نہيں ہوگا۔ لہٰذہ قرقي کے حکم سے پہلے مال کا فروخت کرنا صحيح ہے۔
س٤٠٥: معاشرتي تعلقات کي پيچيدگي اور لوگوں کے اقتصادي او رمعاشرتي مسائل بعض اوقات انہيں ايسے معاملات انجام دينے پر مجبور کرديتے ہيں جو غير عادلانہ، ظالمانہ يا کم ازکم عرفاً قابل مذمت ہوتے ہيں۔ آيا مذکورہ اظرار شرعي طور معاملات کے باطل ہونے کا سبب ہے يا نہيں؟
ج:فقہي لحاظ سے رضا اور دلي رغبت کے ساتھ جو معاملہ انجام ديا جائے اس کے صحيح و نافذ ہونے ميں اضطرار مانع نہيں ہے اس صورت ميں مذکورہ اضطرار معاملے کے صحيح اور نافذ ہونے کے لئے مضر نہيں ہے ليکن اخلاقي اور انساني لحاظ سے خريدار پر يہ فرض ہے کہ وہ مضطر کے حالات سے فائدہ اٹھائے اور حکومت کا بھي فرض ہے کہ ايسے قوانين وضع کرے جو عمومي طور پر اضطراري اسباب کا سدباب کرسکيں۔
 

بيع فضولي


س٤٠٦: ميں نے اپنے بھائي سے زرعي زمين کا کچھ حصہ بيع الشرائط کے طور پر خريدا ہے ليکن بھائي صاحب نے مذکورہ زمين دوبارہ کسي اور شخص کو فروخت کردي آيا دوسري بار فروخت کرنا صحيح ہے
ج:اگر پہلي مرتبہ معاملہ شرعاً طريقے سے انجام پاگيا تھا تو دوبارہ فروخت کرنے کا اسے حق نہيں ہے جب تک کہ وہ پہلے معاملے کو فسخ نہ کرے اور اگر مجدداً معاملہ انجام ديا گيا تو وہ پہلے خريدار کي اجازت پر متوقف ہوگا اور فضولي کہلائے گا۔
س٤٠٧: رعايتي طور پر گھر بنانے والي ايک کمپني کے اعضائ نے اپنے طور پر قيمت ادا کرکے زمين کا ايک ٹکڑا خريدا ليکن قانوني وثيقہ کمپني کے نام تحرير کيا گيا۔ چند روز قبل کي نئي بننے والي کمپني کے اعضائ نے مرکوزہ زمين سابقہ افراد کي اجازت کے بغير اصلي قيمت سے کم قيمت پر فروخت کردي ہے آيا يہ معاملہ درست ہے؟
ج:اگر زمين بعض معين افراد نے اپنے مال سے اپنے لئے خريدي تھي تو ان کي ملکيت ہے اور کسي کا اس ميں کوئي حق نہيں ہے کمپني کي منيجمنٹ کميٹي کا زمين کو فروخت کرنا فضولي ہے۔ ہاں اگر زمين کمپني کے سرمايہ سے خريدي گئي تھي جو کہ ايک حقوق شخصيت (١٥) ہے اور کمپني کے لئے خريدي گئي تھي۔ تو مذکورہ زمين کمپني کي ملکيت ہے اور اس صورت ميں کميٹي کمپني کے قوانين کے مطابق اس ميں تصرف کرسکتي ہے۔
س٤٠٨:ايک شخص نے سفر کے دوران اپنے بھائي کو خود اس کے اپنے اوپر يا کسي اور شخص پر گھر فروخت کرنے کے لئے اپنا قانوني وکيل بنايا ليکن سفر سے واپسي پر اس نے گھر فروخت کرنے کا ارادہ ترک کرديا اور خود جا کر اس کي اطلاع زباني طور پر اپنے بھائي کو دي۔ ليکن اسکے بھائي نے اس قانوني وکالت سے استفادہ کرتے ہوئے گھر کو اپنے نام کرواليا اور موکل کو قيمت دئيے بغير اور گھر کو تحويل ميں لئے بغير قانوني وثيقہ اپنے نام تحرير کرليا۔ آيا مذکورہ معاملہ صحيح ہے؟
ج:اگر ثابت ہوجائے کہ وکيل نے معزول ہونے کي اطلاع کے بعد اگرچہ يہ اطلاع شخصي طور پر خود موکل نے دي ہو گھر اپنے لئے فروخت کيا ہے تو مذکورہ معاملہ فضولي ہے اور موکل کي اجازت پر متوقف ہے۔
س٤٠٩:اگر مالک نے اپنا مال کسي کو فروخت کرديا اور پھر اسي چيز کو ايک دوسرے شخص کو فروخت کرديا جبکہ اسے پہلا معاملہ فسخ (١٦) کرنے کا حق نہيں تھا۔ آيا فروخت صحيح ہے؟ اور اگر مذکورہ مال مالک کے پاس ہو تو دوسرے خريدار کو فروخت کي بنائ پر مالک سے مال کا مطالبہ کرنا صحيح ہے؟
ج:مال کو فروخت اول کے بعد دوبارہ خريدار اول کي اجازت کے بغير فروخت کرنا فضولي ہے اور خريدار اول کي اجازت پر متوقف ہے پہلے خريدار کے لئے جائز ہے کہ وہ مذکورہ مال کو جہاں بھي ملے اٹھالے جب تک کہ اس نے دوسرے معاملے سے اظہار رضايت نہ کيا ہو اور دوسرے خريدار کو مالک سے مال کے مطالبہ کا حق نہيں ہے۔
س٤١٠:ايک شخص نے دوسرے کے مال سے کچھ جائيداد خريدي ہے آيا مذکورہ جائيداد صاحب مال کي ملکيت ہے يا خريدار کي؟
ج:اگر جائيداد دوسرے شخص کے عين مال سے خريدي گئي ہے اور صاحب مال نے معاملہ کي اجازت بھي دے دي ہو تو يہ معاملہ خود اسي کي جانب سے انجام پائے گا خريدار کا اس ميں کسي قسم کا حق نہيں ہوگا اور اگر صاحب مال اجازت نہ دے تو مذکورہ معامل باطل ہے۔ ہاں اگر خريدار نے زمين اپنے لئے اور اپنے ذمہ پر خريدي ہو اور پھر دوسرے شخص کے مال سے قيمت اد اکي ہو تو اس صورت ميں زمين خريدار کي ہوگي۔ ليکن خريدار فروخت کرنے والے کا مقروض ہے اور صاحب مال کے مال کا ضامن بھي ہے جو کہ اس نے فروخت کرنے والے کو ادا کيا ہے فروخت کرنے والے پر واجب ہے۔ غصب شدہ قيمت جو اس نے وصول کي ہے اسے اصل مالک تک پہنچائے۔
س٤١١:اگر کوئي شخص دوسرے کا مال فضولتاً فروخت کردے اور حاصل شدہ قيمت کو اپني ضروريات ميں استعمال کرلے پھر ايک طويل مدت کے بعد صاحب مال کو اس کے بدلے ميں مال دينا چاہتا ہے۔ آيا اس پر ديسي رقم دينا واجب ہے جو اس نے مال فروخت پر حاصل کي تھي؟ يا اس وقت کي قيمت ادا کرنا ہے؟ يا معاوضہ دينے کے وقت کي قيمت اد اکرنا ہوگي؟
ج:اگر مالک معاملہ کي اجازت کے بعد قيمت وصول کرنے کي اجازت بھي دے دے تو فضولي پر وصول شدہ قيمت مالک وک ادا کرنا واجب ہے اگر مالک معاملہ کي اجازت نہ دے تو فضولي کو مع الامکان عين مال کا مالک کو واپس کرنا واجب ہے اور اگر عين مال واپس کرنا ممکن نہ ہو تو عوض کے طور پر اس کي مثل يا قيمت ادا کرے گا اور احوط يہ ہے کہ روز فروخت اور روز ادا کي قيمت پر مالک سے مصالحہ کرے۔
 

اوليائ تصرف


س٤١٢:اگر والد اپنے چھوٹے بھائي کے لئے کوئي جائيداد خريدے اور صيغہ شرعي کو جاري کرلے تو آيا والد کا بعنوان سرپرست قبضہ لينا، معاملہ صحيح ہونے کے لئے کافي ہے؟
ج:صحيح طريقے سے خريداري تمام ہونے کے بعد والد کي طرف سے بعنوان سرپرست قبضہ لينا بچوں کے لئے معاملہ کے انجام پانے اور اس کے آثار مرتب ہونے کے لئے کافي ہے۔
س٤١٣:ميرے سرپرست نے ميرے بچپن ميں ميري زمين فروخت کردي اور خريدار سے بيعانہ لے ليا مجھے نہيں معلوم کہ ان کے مابين معاملہ تمام ہوگيا تھا يا نہيں۔ہاں زمين خريدار کے قبضے ميں ہے اور وہ اس ميں تصرف کرتا ہے۔ آيا مذکورہ معاملہ صحيح ہے او رمجھ پر نافذ ہے يا مالک اصلي ہونے کے عنوان سے مجھے زمين واپس لينے کا حق ہے؟
ج:اگر ثابت ہوجائے کہ اس وقت ولي نے بعنوان سرپرست زمين فروخت کي تھي تو معاملہ شرعاً صحيح ہے اور آپ کے لئے حال حاضر ميں زمين واپس لينا جائز نہيں ہے۔ جب تک برحق طور پر معاملے کا فسخ کرنا ثابت نہ ہوجائے۔
س٤١٤:اگر ميت کے ارث ميں سے کچھ نقد مال بچ جائے اور (سرپرست) قيم مال اپنے پاس رکھ لے اور اس مال سے کوئي کام انجام نہ دے تو آيا قيم کو بينک کا 13% منافع يا بازار اور عرف عام کے مطابق منافع بچوں کو ادا کرنا چاہئيے؟ اور اگر قيم مذکورہ مال سے تجارت کرلے اور منافع بھي حاصل ہو ليکن منافع کي مقدار معلوم نہ ہو تو اس صورت ميں کيا حکم ہے
ج:قيم فرضي کا ضامن نہيں ہے۔ ہاں اگر بچوں کے مال سے تجارت کرے تو تمام منافع بچوں کے لئے ہے اور قيم (سرپرست) فقط اس صورت ميں اجرت مثل کا حقدار ہے جب شرعاً بچوں کے مال سے تجارت کرنے کا حق رکھتا ہو۔
س٤١٥:آيا کسي زندہ شخص کي طرف سے جو کہ ممنوع التصرف نہيں ہے اس کے داماد يا بچوں کا اس کي املاک و اموال فروخت کرنا جائز ہے؟ جبکہ وہ اجازت اور وکالت کے حامل بھي نہ ہوں؟
ج:مال غير کو بغير اجازت کے فروخت کرنا فضولي ہے اور مالک کي اجازت پر موقوف ہے۔ اگرچہ فروخت کرنے والا اس کا داماد ہي کيوں نہ ہوں۔ لہٰذہ جب تک مالک کي اجازت حاصل نہ ہو خريدو فروخت موثر نہيں ہوگي۔
س٤١٦:ايک شخص کا دماغ کام کرنا چھوڑ گيا اور وہ حواس کھوبيٹھا۔ اس حالت ميں اس کي اولاد کا اس کے مال ميں تصرف کرنے کا کيا حکم ہے؟ اور اس طرح ايک فرزند کا دوسري اولاد اور حاکم شرعي کي اجازت کے بغير مال ميں تصرف کرنے کا کيا حکم ہے؟
ج:اگر اختلال حواس اس درجے کا ہو کہ عرف کے نزديک مجنون کہلائے تو اس صورت ميں حاکم شرعي کو ولايت حاصل ہے اور کسي کا بھي يعني اس کي اولاد کا حاکم شرعي کے اذن کے بغير مال ميں تصرف کرنا جائز نہيں ہے اور اگر اجازت سے قبل تصرف کيا تو غاصب ے اور موجب ضمان ہے اور خريدو فروخت کے معاملات فضولي ہيں جو اجازت پر متوقف ہيں۔
س٤١٧:ایک شخص نے شہیدکي بیوہ سے شادي کي ہے اور اس کے یتیموں کي تربیت کا کفیل ہے آ یا اس کے لیے یا اس کي اولاد یا شہید کي بیوہ کے لئے ان اشیائ سے استفادہ کرنا جائز ہے جنہیں شہید فاونڈیشن کے شہید کي اولاد کو عطا کر دہ مال سے خریدا گیا ہے؟اور اسي طر ح شہید فاؤ نڈیشن کي طرف سے مقرر کردہ ماہا نہ اور (شہید کي اولاد کے لئے) دئیے گئے سامان اور مالي امداد کو کیسے استعمال کیا جائے؟
ج:وہ اموال جو شہید کے بچوں کے اخرا جات کے لئے ہوں یا انکي مصلحت کي خا طر دوسروں کے استعمال کے لئے ہوں ان میں تصرف کے لئے بچوں کے شرعي ولي سے اجازت لینا ضروري ہے ۔
س٤١٨:ان اشیائ کا کیا حکم ہے جنہیں شہید کے دوست شہید کي اولاد کے لئے تحفے کے طور پر لاتے ہیں؟آ یا مذ کو رہ اشیائ شہید کے چھو ٹے بچوں کے مال کا حصہ قرار پا ئيںگي؟
ج:اگر تحائف شہید کي اولاد کے لئے ہوں تو ان کے شرعي سرپرست کے قبول کرنے کے بعد ان کا مال کہلائيں گے اور ان ميں تصرف کے لئے ان کے ولي شرعي سے اجازت لينا ضروري ہے۔
س٤١٩:ميرے والد ايک تجارتي دکان کے مالک تھے ان کي وفات کے بعد ہمارے چچا نے اس پر قبضہ کرليااور ہميں کرايہ کے عنوان سے ماہانہ ايک معين رقم دينے لگے۔ کچھ مدت بعد ميري والدہ ( قيمہ) نے کچھ رقم ايک چچا سے قرض لي تو انہوں نے ماہانہ رقم ادا کرنے کي بجائے قرض کے بدلے شمار کرنا شروع کر دي۔ اس کے بعد انہوں نے مذکورہ دکان کو ( مال اطفال کو بلوغ تک محفوظ رکھنا) کے قانون کے خلاف ورزي کرتے ہوئے ميري والدہ نے خريد ليا اور ميں بعض حکومتي افراد کے ذريعے انجام پائي۔ حال حاضر ميں (بعد از انقلاب) ہماري کيا ذمہ داري ہے ؟ آيا گذشتہ تصرفات اور خريد فروخت صحيح ہيں؟ يا ہميں شرعاً معاملہ کو فسخ کرنے کا حق ہے اور آيا وقت گذرنے سے حق طفل ساقط ہوجاتا ہے۔
ج:دکان کا کرايہ پر دينا اور کرايہ کي رقم کو قرض کے بدلے لے لينا صحيح ہے اور اسي طرح دکان کا فروخت کرنا صحيح ہے۔ ہاں اگر شرعي اور قانوني طريقے سے ثابت ہوجائے کہ بچوں کا حصہ فروخت کرنا اس وقت بچوں کے لئے مصلحت آميز نہيں تھا يا بچوں کا قيم فروخت کرنے کا حق نہيں رکھتا تھا اور يہ کہ بچوں نے بھي مذکورہ معاملے کو بلوغ کے بعد صحيح شمار نہيں کيا تو اس فرض پر کہ معاملے کا باطل ہونا ثابت ہوجائے تو وقت کا گزرنا بچوں کے حق کو ساقط نہيں کرتا۔
س٤٢٠:ميرا شوہر ايک ٹريفک کے حادثہ ميں انتقال کرگيا۔ گاڑي کا ڈرائيور شوہر کا دوست تھا۔ اس حادثہ کے بعد ميں بچوں کي قانوني اور شرعي قيم بن گئي۔
١۔ آيا مجھ پر ڈرائيور سے ديت کا مطالبہ کرنا واجب ہے؟ يا اس سے انشورنس کي رقم مطالبہ کرنا ميرے لئے واجب ہے؟
٢۔ آيا ميرے لئے بچوں کے والد کي مجالس عزائ ميں بچوں کا خيال خرچ کرنا جائز ہے؟
٣۔ آيا ميرے لئے بچوں کے حق الديہ سے دستربردار ہونا جائز ہے؟
٤۔ اور اگر ميں بچوں کے حق سے دست بردار ہوگئي اور وہ بالغ ہونے کے بعد مذکورہ عمل سے راضي نہ ہو تو آيا ميں ديت کي ضامن ہوں؟
ج:١۔ اگر ڈرائيور يا کوئي اور شخص شرعاً ديت کا ضامن ہو تو بچوں کي سرپرست ہونے کے اعتبار سے بچوں کا شرعي حق محفوظ کرنے کے لئے ديت کا مطالبہ کرنا لازم ہے۔ اور اسي طرح اگر قانوني طور پر انشورنس کي رقم بچوں کے لئے ہے تو اس کا مطالبہ بھي لازم ہے۔
٢۔ بچوں کے والد کي مجلس ترحيم ميں بچوں کا مال ارث خرچ کرنا جائز نہيں ہے ۔ اگرچہ مذکورہ مال والد ہي سے منتقل ہوا ہو۔
٣،٤۔ بچوں کے حق سے تمہارا دستردار ہونا کيوں کہ ان کي مصلحت کے خلاف ہے جائز نہيں اور وہ بالغ ہونے کے بعد ديت کا مطالبہ کرسکتے ہيں۔
س٤٢١:ميرے شوہر کا انتقال ہوگيا ہے اور ہمارے چھوٹے چھوٹے بچے ہيں عدالت کے فيصلے کے مطابق ان کا دادا ان کا ولي اور قيم بن گيا ۔ اب اگر ايک بچہ بالغ ہوجائے تو آيا وہ باقي بھائيوں کا سرپرست بن جائے گا؟ اور اگر ايسا نہ ہو تو آيا ميں حق رکھتي ہوں کہ اولاد کي سرپرست بن جاوں؟ اور يہ کہ ان کا دادا عدالت کے فيصلے کے مطابق ارث کا چھٹا حصہ لينا چاہتا ہے حکم شرعي کيا ہے؟
ج:بچوں کے بالغ ہونے تک عدالتي فيصلے کے بغير بھي ولايت اور سرپرستي کا حق دادا کو ہے ليکن اس کا بچوں کے مال ميں تصرف کرنا بچوں کي مصلحت اور فائدہ ميں ہونا چاہئيے۔ لہٰذہ اگر دادا بچوں کي مصلحت کے برخلاف کوئي کام انجام دے تو عدالت کي طرف رجوع کرسکتے ہيں اور وہ بچہ جو رشيد اور بالغ ہوجائے گا دادا کي سرپرستي اور ولايت سے خارج ہوجائے گا اور خود اپنے نفس کا مالک قرار پائے گا۔ ہاں والدہ اور بالغ ہونے والے بچے کو دوسرے بچوں پر حق ولايت نہيں ہے اور کيونکہ ميت کے مال ميں سے دادا کا چھٹا حصہ ہے لہٰذہ اس کے لئے چھٹا حصہ لينا بلا مانع ہے۔
س٤٢٢:ايک شادي شدہ خاتون قتل ہوگئي اس کے تين بچے ماں، باپ اور شوہر بقيد حيات ہيں۔ عدالت نے شوہر کے بھائي کو خاتون کا قاتل قرار ديا اور مقتول کے اوليائ کو ديت دينے کا حکم ديا۔ ليکن بچوں کا والد جو کہ ان کا ولي شرعي ہے يہ خيال کرتا ہے کہ اس کا بھائي قاتل نہيں ہے لہٰذہ وہ اپنے لئے ديت لينے سے انکار کررہا ہے آيا ايسا کرنا اس کے لئے جائز ہے؟
٢۔ آيا بچوں کے باپ دادا کے ہوتے ہوئے کسي اور کو اسي مسئلہ ميں مداخلت کا حق ہے؟ اور وہ کہ مقتولہ کي اولاد کے لئے ان کے چچا سے ديت پر اصرار کرے؟
ج:اگر بچوں کے والد کو يقين ہے کہ اس کا بھائي جس پر قتل کا الزام ہے اس کي زوجہ کا قاتل نہيں ہے اور ديت ادا کرنے کا حقيقي مقروض وہ نہيں ہے تو اس کے لئے ديت کا مطالبہ کرنا اور بچوں کے لئے ديت لينا جائز نہيں ہے۔
دادا اور باپ کے ہوتے ہوئے جنہيں بچوں پر ولايت حاصل ہے کسي اور کو ان کے امور ميں مداخلت کا حق نہيں ہے۔
س٤٢٣:اگر مقتول کے فقط چھوٹے بچے ہوں اور حاکم شرعي کي طرف سے منصوب شدہ سرپرست مقتول کے خون کے ورثائ ميں سے نہيں تھا۔ آيا مذکورہ شخص کے لئے قاتل کو معاف کرنا يا قصاص کو ديت ميں تبديل کرنا جائز ہے؟
ج:اگر شرعي ولي کي جانب سے منصوب شدہ قيم کو اختيارات و اگذار کردئيے گئے ہوں تو وہ بچوں کے فائدے اور نقصان کي رعايت کرتے ہوئے قاتل کو معاف يا قصاص کو ديت ميں تبديل کردے۔
س٤٢٤:چھوٹے بچے کي کچھ رقم بينک ميں ہے۔ بچہ کا سرپرست مذکورہ مال ميں سے کچھ رقم کي طرف سے تجارت کرنے کے لئے لينا چاہتا ہے تاکہ بچے کے اخراجات مہيا ہوسکيں آيا ايسا کرنا جائز ہے؟
ج:بچے کے ولي اور سرپرست کے لئے بچے کي طرف سے خود يا کسي اور قابل اعتماد امين شخص کے ذريعے بچے کي مصلحت ميں مضاربہ انجام دينا جائز ہے اور اگر وہ شخص امانتدار نہ ہو تو سرپرست بچے کے مال کا ضامن ہے۔
س٤٢٥:اگر مقتول کے بعض وارث يا تمام ورثائ نابالغ ہوں اور حاکم ان کے حق کا مطالبہ کرنے کا ولي ہو تو اگر حاکم مجرم کے تنگدست ہونے کا يقين کرلے تو اس صورت ميں کيا حاکم ديت حاصل نہ ہونے کي وجہ سے حق قصاص کو معاف کرسکتا ہے؟
ج؟:اگر اس صورت ميں حاکم شرع بچوں کي مصلحت اس ميں جانے کہ حق قصاص کو ديت ميں تبديل کردے تو يہ اس کے لئے جائز ہے۔
س٤٢٦:آيا حاکم شرعي بچے کے جبري شرعي ولي کو اس صورت ميں معزول کرسکتا ہے جب اس کے لئے ثابت ہوجائے کہ ولي نے بچے کے مال کو نقصان پہنچايا ہے۔
ج:اگر حاکم کے لئے شواہد اور قرائن کے ذريعے آشکار ہوجائے کہ جبري شرعي ولي کي ولايت اور تصرفات کا استمرار بچے کے مال کے لئے نقصان دہ ہے تو حاکم پر ولي کو عزل کرنا واجب ہے۔
س٤٢٧: ولي کي جانب سے بچے کے حق ميں کئے جانے والے ہبہ، بلامعاوضہ صلح يا اس قسم کے ديگر نفع بخش امو رکے قبول کرنے سے انکار کرنا آيا بچے کو نقصان پہنچانے يا اس کے فائدہ مصلحت کو نظر انداز کرنے کے زمرے ميں شمار ہوگا؟
ج:ہبہ اور صلح غير معوض کا قبول نہ کرنا بچے کو نقصان پہنچانے يااس کي مصلحت کو مدنظر رکھنے کے مترادف نہيں ہے اور صرف ايسا کرنا بذات خود بلا مانع ہے۔ اس لئے کہ ولي پر بچے کے لئے تحصيل مال واجب نہيں ہے بلکہ ہوسکتا ہے کہ مذکورہ انکار بچے کي مصلحت ميں ہو۔
س٤٢٨:اگر حکومت شہدائ کي اولاد کے لئے کوئي زمين يا مال مختص کرے اور وہ اشيائ ان کے نام کردي جائيں ليکن بچوں کے ولي نے کاغذات پر دستخط کرنے سے انکار کرديا۔ آيا حاکم بچوں کے لئے ولي ہونے کے لحاظ سے مذکورہ عمل انجام دے سکتا ہے؟
ج:اگر بچوں کے لئے تحصيل اموال کرنا ولي کے دستخط پر موقوف ہو تو ولي پر دستخط کرنا واجب نہيں ہے اور ولي شرعي کے ہوتے ہوئے حاکم کو ان پر ولايت حاصل نہيں ہے۔ ہاں اگر بچوں سے مختص مال کي حفاظت کرنا دستخط کرنے پر موقف ہو تو اسے انکار نہيں کرنا چاہئيے اور اگر وہ انکار کرے تو حاکم اس پر لازم قرار دے گا کہ وہ دستخط کرے يا خود حاکم مذکورہ عمل ولي ہونے کے ناطے انجام دے گا۔
س٤٢٩:آيا بچے کا ولي ہونے کے لئے عدالت شرط ہے؟ اگر بچے کا ولي فاسق ہو اور بچے کے فاسد اور اس کے مال ہونے کا خوف ہو تو اس صورت ميں حاکم کي کيا ذمہ داري ہے؟
ج:دادا اور باپ کے ولي ہونے ميں عدالت شرط نہيں ہے۔ ليکن جب بھي حاکم کے لئے قرائن اور احوال سے معلوم ہوجائے کہ وہ دونوں بچے کے لئے مضر ہيں انہيں معزول کردے گا اور انہيں بچے کے مال ميں تصرف کر نے نہيں دے گا۔
س٤٣٠:اگر قتل عمد ميں مقتول کے اوليائ بچے يا مجنون ہوں تو کيا قہري ولي (باپ يا دادا) يا عدالت کي جانب سے منتخب شدہ قيم قصاص يا ديت کے مطالبہ کا حق رکھتاہے۔
ج:بچے يا مجنون اوليائ کي ولايت کي مجموعي دليلوں سے استفادہ ہوتا ہے کہ شارع مقدس کي طرف سے ان کے لئے ولايت کا قرار دينا، مولي عليہ (جن کے وہ ولي ہيں) کي مصلحت کي خاطر ہے لہٰذہ اس مسئلے ان کے شرعي ولي کو ان کے فائدے اور نقصان کا لحاظ کرتے ہوئے اقدام کرنا چاہئيے اور وہ قصاص يا ديت يا کسي چيز کے عوض ميں عفو يا بغير عوض کے عفو کا انتخاب کرسکتا ہے واضح ہے کہ يا کسي چيز کے عوض ميں عفو يا بغير عوض کے عفو کا انتخاب کرسکتا ہے واضح ہے کہ صغير اور مجنون کي مصلحت کي تشخيص تمام پہلووں من جملہ سن بلوغ سے ان کا نزديک يا دور ہونے کو مدنظر رکھ کر کي جائے۔
س٤٣١:اگر ايک بالغ شخص مجروح کرديا جائے تو آيا باپ ، دادا کے لئے ديت کا مطالبہ کرنا اور مجروح کے لئے وصول کرنا جائز ہے؟ جبکہ اس سے اجازت بھي نہ لي گئي ہو؟ يعني کيا مجرم پر دونوں ميں سے کسي ايک کے مطالبہ پر مجروح کي ديت لينا واجب ہے؟
ج:بالغ و عاقل مجروح پر دونوں کو ولايت حاصل نہيں ہے لہٰذہ اس کي اجازت کے بغير ديت کا مطالبہ کرنا جائز نہيں ہے۔
س٤٣٢:آيا بچوں کے ولي کو ولي ہونے کي بنائ پر بچوں کے مورث کي ثلت سے زيادہ وصيت کي اجازت دينا جائز ہے؟
ج:شرعي ولي بچوں کے فائدے اور نقصان کي رعايت کرتے ہوئے اجازت دے سکتا ہے۔
س٤٣٣ :آيا يہ باپ کو بچے پر ولايت ميں ماں کي نسبت اولويت حاصل ہے؟ اور اگر باپ يا دادا کو اولويت حاصل نہ ہو اور والدين مساوي طو رپر بچے پر حق رکھتے ہوں تو اختلاف کے وقت ماں اور باپ ميں سے کسي کا قول مقدم کيا جائے گا؟
ج:مختلف حقوق کے حوالے سے جواب مختلف ہوگا۔ بچے پر ولايت باپ اور دادا کا حق ہے ماں دو سال تک لڑکے پر اور سات سال تک لڑکي پر حضانت کا حق رکھتي ہے اس کے بعد حق حضانت باپ کا حق ہے۔ بچے کي طرف سے اطاعت او رتنگ نہ کرنے ميں والدين مساوي ہيں بچے کو والدہ کا زيادہ خيال رکھنا چاہئيے کيونکہ روايت ميں وارد ہوا ہے کہ جنت مان کے پاوں تلے ہے۔
س٤٣٤:ميرا شوہر شہيد ہوگيا ہے اور اس کے دو بچے ہيں ميرے شوہر کے بھائي اور ماں نے دونوں بچوں کو تمام ساز و سامان کے ساتھ مجھ سے چھين ليا ہے اور انہيں واپس دينے سے انکار کررہے ہيں۔ اس بات کو نظرميں رکھتے ہوئے کہ ميں ان بچوں کي وجہ سے کبھي بھي شادي نہيں کروں گي۔ ان کي اور ان کے مال کي سرپرستي کرنا کس کا حق ہے؟
ج:شرعي طور پر بالغ ہونے تک يتيم بچوں کي حضانت کرنا ماں کا حق ہے اور بچوں کے مال پر حق ولايت والد کي طرف سے معين کردہ شرعي قيم کا ہے اگر والد نے کوئي قيم معين کيا ہو تو اور اگر وصي مقرر نہ کيا ہو تو حاکم شرعي ولي ہے اور بچوں کے چچا اوردادي کو نہ حضانت کا حق ہے اور نہ ہي ان کے مال پر ولايت حاصل ہے۔
س٤٣٥ نابالغ بچوں کے بعض اوليائ ميت کي زوجہ کے شادي کرلينے کے بعد اور اسے اور اس کے بچوں کو جن کي وہ حضانت کررہي ہے گھر اور ضروري اشيائ سے جو کہ ان کے والد نے بطور ارث اور ان کے حصے کے عنوان سے چھوڑا ہے استفادہ کرنے سے روک ديتے ہيں۔ آيا کوئي شرعي طريقہ ہے جس کے ذريعے ان پر لازم قرار ديا جائے کہ وہ بچوں کے حصہ کو ان کي والدہ کي تحويل ميں دے ديں جن کي وہ حضانت کررہي ہيں يا نہيں؟
ج:شرعي ولي کے اقدامات کا بچوں کي مصلحت ميں ہونا ضروري ہے اور مصلحت کي تشخيص بھي اسي پر ہے چنانچہ اگر مصلحت کے خلاف عمل کرے اور اختلاف کا سبب قرار پائے تو حاکم کي جانب سے رجوع کيا جائے۔
س٤٣٦:آيا بچوں کے قيم کے ساتھ معاملہ کرنا صحيح ہے ؟ جبکہ مذکورہ معاملہ سے بچوں کي منفعت بھي محفوظ ہے ؟
ج:بچوں کي مصلحت و مفاد کي رعايت کرتے ہوئے کوئي اشکال نہيں رکھتا۔
س٤٣٧ :دادا، چچا ، ماموں اور بيوي کے ہوتے ہوئے کسي اور کو بچوں پر ولايت اور قيمومت کا حق ہے؟
ج:يتيم اور اس کے مال پر حق ولايت دادا اور حق حضانت ماں کا حق ہے جبکہ چچا اور ماموں کو کوئي حق حاصل نہيں ہے۔
س٤٣٨ :کيا اٹارني جنرل يا وکيل عام (١٩) کي اجازت سے يتيم کے مال کو ماں سے ہاتھ ميں ديا جاسکتا ہے جبکہ اس کے عوض ماں نے حضانت کو قبول کيا ہے اور اس صورت ميں ان کے دادا کو ذاتي طور پر مداخلت کا حق نہيں ہو بلکہ وہ فقط نظارت کرسکتے ہوں؟
ج:دادا کي موافقت کے بغير جو کہ بچوں کا شرعي ولي ہے يتيموں کے مال کو ماں سے اختيار ميں قرار دينا جائز ہے ہاں اگر دادا کے ہاتھ ميں مال کا رہنا بچوں کے لئے نقصان کا باعث ہے تو حاکم کو حق حاصل ہے کہ دادا کو اموال ميں تصرف کرنے سے روک کر کسي اور ذي صلاحيت آدمي کو ولايت تفويض کردے وہ چاہے ماں ہو يا کوئي اور۔
س٤٣٩ :آيا بچے کے ولي پر بچے کو ملنے والي ديت لينا واجب ہے؟ ديت سے بچے کے حصے ميں حاصل ہونے والي رقم سے بچے کے حق ميں فائدہ حاصل کرنا اگرچہ وہ بينک ميں رکھنے سے ہي کيوں نہ واجب ہے؟
ج:ولي پر مجرم سے بالغ ہونے تک ديت لينا واجب ہے اگر ديت کا سبب جراحت ہو اور بچے کے بالغ ہونے تک ديت کا حفظ کرنا واجب ہے ليکن مال ديت سے تجارت کرنا اس پر واجب نہيں ہے اور نہ ہي بنک ميں اکاونٹ کھولنا واجب ہے تاکہ بينک سے نفع حاصل ہو ہاں اگر بچے کے فائدہ کے لئے مذکورہ عمل انجام دينا چاہے تو جائز ہے۔
س٤٤٠:اگر کمپني کے شرکائ ميں سے ايک شريک مر جائے اور اس کے چھوٹے بچے ہوں تو وہ کمپني کے باقي اعضائ کے ساتھ اپنے حصے کے مطابق شريک ہو جائيں گے ايسي صورت ميں باقي شرکائ کے لئے مال ميں تصرف کرنے کي نسبت سے کيا ذمہ داري ہے؟
ج:بچوں کے حصے کي بابت انہيں ان کے شرعي ولي کي طرف رجوع کرنا چاہئيے يا اٹارني جنرل يا حاکم شرع کي طرف رجوع کرنا چاہئيے جو کہ اسلامي جمہوريہ ميں ان کا سرپرست اور قانوني ذمہ دار ہے۔
س٤٤١:کيا دادا کے شرعي ولي ہونے کي وجہ سے تمام ارث کا مال اس کے حوالے کرنا واجب ہے؟ تاکہ وہ مذکورہ مال کي حفاظت کرے اور اگر ايسا کرنا واجب ہو تو بچے اپني ماں کے ساتھ کہاں رہيں گے ؟ اور کہاں سے کھائيں گے ؟ جبکہ وہ ابھي چھوٹے ہيں اورزير تعليم ہيں اور ان کي والدہ فقط گھر کا کام کرتي ہے۔
ج:بچوں پر ولايت کے معني يہ نہيں ہيں کہ بچوں کے بالغ ہونے تک انہيں اموال سے محروم رکھا جائے اور تمام اموال ولي کي تحويل ميں دے ديا جائے بلکہ اس کے معني يہ ہيں کہ ولي ان کي سرپرستي کرے ان کے مال کي ديکھ بھال کرے اور ان کے مال ميں تصرف کرنا ولي کي اجازت پر موقوف ہے ولي پر واجب ہے کہ وہ ان کي حاجت کے مطابق ان پر خرچ کرے اور اگر ولي کي نظر ميں مصلحت يہ ہو کہ مال کو والدہ يا بچوں کے ہاتھ ميں دے ديا جائے تاکہ وہ استفادہ کرسکيں تو وہ ايسا کرسکتا ہے۔
س٤٤٢: باپ اپنے عاقل و بالغ فرزند کے مال ميں کس حد تک تصرف کرسکتا ہے او راگر وہ ايسے مال ميں تصرف کرے جو کہ اس کا نہيں تھا تو آيا ضامن ہے؟
ج:باپ کو عاقل و بالغ فرزند کے مال ميں بغير اجازت تصرف کا حق نہيں ہے اور اگر بغير اجازت تصرف کرے تو حرام ہے اور ضامن بھي ہے سوائے ان موارد کے جنہيں مستثنيٰ کيا گيا ہے۔
س٤٤٣:ايک مومن اپنے يتيم بھائيوں کي کفالت کرتا ہے اس کے پاس يتيموں کا کچھ مال تھا، اس نے مذکورہ مال سے ان کے لئے بغير سند اور تحريري معاہدے کے ايک زمين خريدي اس اميد کے ساتھ کہ بعد ميں سند وغيرہ مل جائے گي۔ يا يہ کہ وہ اس زمين کو زيادہ قيمت ميں فروخت کردے گا۔ ليکن اب اسے خطرہ محسوس ہورہا ہے کہ کہيں اس زمين پر کوئي اور دعويٰ نہ کردے يا کوئي بڑا آدمي اس پر قبضہ نہ کرلے اور اگر وہ زمين کو حال حاضر ميں فروخت کرديتا ہے تو قيمت خريد سے کم قيمت وصول ہوگي۔ ايسي صورت ميں اگر کم قيمت پر زمين کو فروخت کرے يا کوئي غاصب ، زمين غاصب کرلے تو کيا وہ ضامن ہوگا؟
ج:اگر وہ يتيموں کا شرعي سرپرست تھا اور ان نے زمين ان کے فائدے کے لئے خريدي تھي تو اس کے ذمہ کچھ نہيں ہے اور اگر وہ شرعي سرپرست نہيں تھا تو مذکورہ زمين خريدنا فضولي کہلائے گا لہٰذہ ولي شرعي کي اجازت يا يتيموں کے بالغ ہونے کے بعد ان کي اجازت پر موقوف ہے اور اس صورت ميں مال يتيم کا ضامن بھي ہے۔
س٤٤٤:آيا والد بچوں کے مال ميں سے قرض لے سکتا ہے ؟ اور کيا کسي کو بھي بچوں کے مال ميں سے قرض دے سکتا ہے؟
ج:بچوں کي مصلحت و مفاد کي رعايت کرتے ہوئے اشکال نہيں رکھتا۔
س٤٤٥:اگ بچے کو کپڑے يا کھلونے ہديہ کے طور پر مليں بعد ميں بچہ بڑا ہوجانے يا کسي اور وجہ سے ان سے استفادہ ممکن نہ ہو تو آيا ولي شرعي مذکورہ اشيائ کو صدقہ کے طور پر دے سکتا ہے؟
ج:بچے کے ولي کے لئے بچے کي مصلحت کے مطابق تصرف کرنا جائزہے۔
 

خريد و فروخت ہونے والي اشيائ کي شرائط


س٤٤٦ :کيا انسان کسي خاص عضوئ کے محتاج انسان کو اپنے جسم کے اعضائ فروخت کر سکتا ہے مثلاً گردہ وغيرہ؟
ج:اگر مذکورہ عضو کا کاٹنے ميں عضو دينے والے کي زندگي گويا کسي اور قابل توجہ ضرر کا خطرہ نہ ہو تو اہدائ کرنے ميں کوئي حرج نہيں ہے مثلاً اگر کوئي دو صحيح و سالم گردوں کا مالک ہے تو وہ اپنے ايک گردہ دے سکتا ہے اور ا س کے عوض رقم لينا بھي بلا مانع ہے۔
س٤٤٧:ايسي اشيائ جن کي عام لوگوں کے نزديک کوئي حيثيت نہيں ہے جبکہ ايک خاص طبقے کے نزديک اس کي بہت زيادہ قيمت ہے مثلاً حشرات اور زبنور وغيرہ جن پر يونيورسٹي اور تحقيق مراکز ميں تحقيقات کي جاتي ہيں آيا ايسي اشيائ پر ماليت رکھنے والي اشيائ کے احکام جاري ہوں گے يعني ملکيت ، خريد و فروخت اور ضائع کرنے کي صورت ميں ضمانت وغيرہ؟
ج:کسي شئے کي ماليت کے لئے عرفاً يہ کافي ہے کہ عقلائ اس شئے ميں اظہار رغبت کريں اور شرعي طور پر حلال اور قابل توجہ اغراض کے لئے استعمال کريں۔ اگرچہ اس چيز کو ايک خاص طبقہ فائدے کي نگاہ سے ديکھے لہٰذہ ايسي چيز ماليت کي حامل ہے اور اس کے عوض رقم دينا جائز ہے اور مذکورہ شئے پر ماليت رکھنے والي دوسري تمام اشيائ کے احکام جاري ہوں گے جيسے جواز ملکيت، خريد و فروخت ، ضمان و يا ضائع کرنے پر مورد ضمان ہونا وغيرہ ليکن وہ اشيائ جن کي شرعاً کوئي ماليت کوئي نہيں ہے ان پر مذکورہ احکام جاري نہيں ہوں گے اور زنبور اور حشرات کي معاملے ميں احوط يہ ہے کہ مال کو مذکورہ اشيائ پر حاصل حق يا اس سے دستبردار ہونے کے بدلے قرار ديا جائے۔
س٤٤٨:فروخت ہونے والے شئے کے لئے عيني (جسماني) ہونے کي شرط کي بنائ پر جيسا کہ اکثر فقہائ کي رائے يہي ہے آيا فني علوم کا فروخت کرنا صحيح ہے؟ جيسا کہ آج کل ملکوں کے درميان ٹيکنالوجي کے تبادلے کے معاہدے اسي بنياد پر ہوتے ہيں؟
ج:فروخت ہونے والي شئے کا عيني (جسماني) ہونا اختلافي ہے لہٰذہ بعض فقہائ عين ہونے شرط قرار نہيں ديتے اور فني علوم سے استفادہ کرنا اس کے خريدنے وغيرہ کے ذريعے مالک بننے پر موقوف نہيں ہے بلکہ فني علوم کے مطابق بني ہوئي مصنوعات کو خريد کر يا مذکورہ علوم کے بارے ميں تدوين شدہ کتب يا اس فن کے ماہر سے تعليم لے کر بھي استفادہ کيا جاسکتا ہے او راسي طرح مذکورہ علوم کو مصالحہ بالعوض کے ذريعے مبادلہ کيا جاسکتا ہے اور مذکورہ طريقے شرعاً جائز ہيں۔
س٤٤٩:کسي ايسے شخص کو زمين يا کوئي اور چيز فروخت کرنے کا کيا حکم ہے جو کہ چوري کرنے ميں مشہور ہو؟ اس لئے کہ احتمال ہے جو رقم وہ بعنوان قيمت فروخت کرنے والے کو دينا چاہتا ہے وہ چوري کي ہو؟
ج:ايسے شخص کے ساتھ جو حرام کے ذريعے کسب مال کرنے ميں معروف ہو فقط اسي وجہ سے لين دين کرنے ميں کوئي حرج نہيں ہے ليکن اگر فروخت کرنے والے کو يقين ہوجائے کہ جو مال اس نے معاوضہ کے عنوان ديا ہے وہ مال حرام ہے تو فروخت کرنے والے کا لينا جائز نہيں ہے۔
س٤٥٠:ميرے پاس ايک زرعي زمين کو ٹکڑا تھا جو کہ بعنوان مہر مجھے ملا تھا چند روز قبل ميں نے اسے فروخت کرديا۔ ليکن اب ايک شخص دعويٰ کررہا ہے کہ يہ زمين 200سال سے زيادہ عرصے سے وقف ہے۔ ميرا فروخت کرنا کيا حکم رکھتا ہے؟ ميرے شوہر کي کيا ذمہ داري ہے جس نے مذکورہ زمين بعنوان مہر مجھے دي تھي؟ اس شخص کي کيا ذمہ داري ہے جس نے مجھ سے زمين خريدي ہے؟
ج:جب تک زمين کے وقف ہونے کا مدعي شرعي عدالت ميں يہ ثابت نہيں کرتا کہ مذکورہ زمين وقف ہے اور وہ بھي ايسا وقف جس کا فروخت کرنا ممنوع ہے اس وقت تک وہ تمام معاملات جو زمين پر انجام پائے ہيں صحيح ہيں۔ اور اگر برفرض مذکورہ دونوں امر ثابت ہوجائيں تو تمام معاملات باطل ہوجائيں گے او رآپ پر واجب ہے کہ اس کي رقم خريدار کو واپس کرديں اور زمين وقف پر پلٹ جائے گي اور آپ کا شوہر آپ کے مہر کا ضامن ہے۔
س٤٥١:خليجي ممالک ميں ايراني جزيروں سے مويشي لائے جاتے ہيں اور يہاں کے تاجر يہ کہتے ہيں کہ مذکورہ مويشيوں کا ايران سے برآمد کرنا ممنوع ہے لہٰذہ انہيں اسمگل کرکے لايا جاتا ہے بنابرايں کيا ان مويشيوں کا ان ممالک سے بازار سے خريدنا جائز ہے؟
ج:غير قانوني طور پر مويشيوں کو ملک سے باہر لے جانا اگرچہ حکومت اسلامي کے قوانين کے خلاف ہے اور شرعاً ممنو ع ہے۔
س٤٥٢: ميرے والد نے ايک گھنٹے کي مقدار کا پاني جو کہ ان کي زمين کے لئے مخصوص تھا فروخت کرديا جوزرعي اصلاحات کے قانون کے مطابق طے شدہ تھا اور اس کے عوض کوئي رقم نہيں لي جيسا کہ خريدار نے اعتراف کيا ہے اور ہمارے والد سے يہ بھي نہيں سنا گيا کہ انہوں نے پاني کي قيمت خريدار کو بخش دي ہے۔ آيا ہميں حق ہے کہ خريدار سے قيمت کا مطالبہ کريں؟
ج:اگر آبياري کا حق اور متعلقہ زمين فروخت کرنے والے کي شرعي ملکيت ہو تو خود اس کے لئے اور اس کے مرنے کے بعد ورثائ کے لئے خريدار سے قيمت کا مطالبہ کرنا جائز ہے۔
س٤٥٣:ايسا شخص جسے بزنس چيمبر ہاو س سے مال درآمد کا جواز مل گيا کيا وہ اس کے ذريعے کوئي کام کئے بغير اسے آزاد بازار ميں فروخت کرسکتا ہے؟
ج:مذکورہ عمل بذات خود صحيح ہے اگر حکومت اسلامي کے قوانين کے خلاف نہ ہو۔
س٤٥٤:آيا حکومت کي طرف سے جاري کردہ تجارتي لائسنس کو فروخت کرنا يا کرايہ پر دينا جائز ہے؟
ج:تجارتي لائسنس کو مفت يا معاوضہ کے بدلے کسي کو دينا يا دوسروں کا اس سے استفادہ کرنا حکومت اسلامي کے قوانين کے تابع ہيں۔
س٤٥٥ :ايسا مال جسے قانوني طور پر نيلام عام کے ذريعے فروخت ہوتا ہے اگر نيلام کے لئے رکھا جائے اور قيمت لگانے والا قيمت بيان کردے ليکن خريدار نہ ہونے کي وجہ سے آيا مذکورہ شئے کو کم قيمت پر فروخت کيا جاسکتا ہے؟
ج:قيمت لگانے والے ماہر کا قيمت لگانا فروخت کرنے کے لئے معيار نہيں ہے لہٰذہ اگر مال قانوني او رشرعي، صحيح طريقے سے نيلام کيا جائے تو سب سے زيادہ قيمت دينے والے کو فروخت کرنا صحيح ہے۔
س٤٥٦: ہم نے نامعلوم زمين پر گھر تعمير کئے ہيں آيا گھر کي عمارت کو فروخت کرنا جائز ہے؟ جبکہ خريدار راضي ہو اور يہ بھي جانتا ہو کہ زمين نامعلوم مالک کي ہے اور يہ کہ فروخت کرنے والا فقط عمارت کا مالک ہے؟
ج:اگر نامعلوم مالک کي زمين پر حاکم شرع کي اجازت سے عمارت تعمير کي گئي ہے تو عمارت کے مالک کے لئے زمين کے بغير عمارت فروخت کرنا جائز ہے اور اگر خريدار اس صورت حال کا علم نہ رکھتا ہو تو اسے زمين کے بارے ميں بتانا واجب ہے۔
س٤٥٧ :ميں نے ايک شخص کو اپنا گھر فروخت کيا اور اس نے قيمت کے ايک حصے کے عوض مجھے ايک چيک ديا ليکن بينک نے اس کے اکاونٹ ميں رقم نہ ہونے کي وجہ سے چيک کو کيش نہيں کيا جبکہ روز بروز پيسے کي قيمت گررہي ہے اور خريدار سے چيک کي رقم لينے ميں قانوني مراحل کرتے کرتے کچھ مدت گذر جائے گي۔ آيا مجھے مذکورہ ايام گذرنے کے بعد فقط چيک کي رقم لينا چاہئيے يا چيک کي رقم وصول کرنے کے دن تک پيسے کي قيمت کم ہونے کي شرح کا مطالبہ کرنا بھي ميرا حق ہے۔
ج:بيچنے والے کو مال کي قيمت سے زيادہ مطالبہ نہيں کرنا چاہئيے ليکن اگر قيمت کے دير سے ملنے کي وجہ سے اسے نقصان ہوا ہے جس کا ذمہ دار خريدار ہے اور جس کي وجہ سے پيسے کي قيمت کم ہوئي ہے تو احوط يہ ہے کہ خريدار کو بيچنے والے کے ساتھ کم شدہ پر مصالحت کرنا چاہئيے۔
س٤٥٨: ميں نے ايک شخص سے رہائشي فليٹ خريدا جسے ايک خاص معين مدت ميں ميري تحويل ميں دينا تھا اور ہم نے معاہدے
Contractکے دوران اس بات پر اتفاق کيا کہ گھر کي 15% قيمت مزيد بڑھ سکتي ہے ليکن بيچنے والے نے اب اپني طر ف سے 31% قيمت کے اضافے کا اعلان کيا ہے اور کہا ہے کہ 31% قيمت مزيد ادا کرنے پر گھر آمادہ کرکے دے گا آيا اس کے لئے ايسا کرنا جائز ہے؟
ج:اگر معاہدہ کرتے وقت پوري قيمت معين نہيں کي گئي تھي اور تعين قيمت کو قبضہ لينے والے دن تک موخر کرديا گيا تھا تو معاملہ باطل ہے اور بيچنے والا فروخت کرنے سے انکار کرسکتا ہے اور جتني چاہے قيمت لے سکتا ہے اور دونوں کا قبضہ دينے والے دن کي قيمت پر پہلے سے راضي ہوجانا معاملے کے صحيح ہونے کے لئے کافي نہيں ہے۔
س٤٥٩:ميں نے پلاسٹک کي ايک فيکٹري کا پانچواں حصہ بطور مشاع ايک معين قيمت پر خريدا اور اس قيمت کا ايک چوتھائي حصہ ميں نے نقد دے ديا اور تين چوتھائي رقم کے برابر تين چيک دے دئيے۔ جن ميں سے ہر چيک ايک چوتھائي قيمت کي برابر تھا جبکہ فيکٹري، رقم اور چيک ابھي تک بيچنے والے کے ہاتھ ميں ہيں۔ آيا شرعي طو رپر معاملہ پورا ہوگيا ہے اور آيا ميرے لئے بيچنے والے سے اپنے حصے کا منافع کا مطالبہ کرنا جائز ہے؟
ج:معاملہ کے صحيح ہونے کے لئے بيچنے والے کا تمام قيمت وصول کرنا اور خريدار کا مذکورہ شئے کو قبضے ميں لينا شرط نہيں ہے۔ لہٰذہ اگر مالک شرعي يا اس کے وکيل يا اس کے ولي سے پانچواں حصہ صحيح طريقے سے خريدليا گيا ہے تو خريدار پانچويں حصے کا مالک ہے اور اس پر ملکيت کے آثار جاري ہوں گے اور اسے فيکٹري کي آمدني سے اپنے حصے کا مطالبہ کرنے کا حق ہے۔
 

معاملے کے دوران شرائط


س٤٦٠:ايک شخص نے اپنا باغ دوسرے شخص کو اس شرط پر فروخت کيا کہ جب تک وہ زندہ ہے باغ کے فوائد اسي کي ملکيت رہيں گے کيا مذکورہ شرائط کے ساتھ معاملہ صحيح ہے؟
ج:اگر کسي چيز کي شرعاً عرفاً ايک مدت تک فوائد کے بغير ماليت ہو تو اس کا فروخت کرنا بلا مانع ہے اگرچہ مدت مذکورہ کے اختتام کے بعد اس سے فائدہ اٹھايا جاسکے ليکن اگر مدت کي مقدار کے نامعلوم ہونے کي وجہ سے اصل قيمت معلوم نہ ہوسکے جيسا کہ مذکورہ سوال ميں مثال کو بيان کيا گيا تو معاملہ غرر(دھوکہ) کي وجہ سے باطل ہے۔
س٤٦١:اگر معاملے کے دوران خريدار بيچنے والے سے اس شرط پر کوئي شئے خريدے کہ اگر اس نے فروختہ شدہ شئے معينہ مدت کے بعد دي تو اسے ايک معين رقم خريدار کو ديني ہوگي۔ کيا شرعاً فروخت کرنے والا مذکورہ شرط کا پابند ہے يا نہيں؟
ج:مذکورہ شر ط صحيح ہے لہٰذہ اگر فروخت کرنے والا فروختہ شدہ چيز معينہ مدت تک دينے ميں تاخير کرے تو مذکورہ شرط پر عمل کرنا واجب ہے اور خريدار کے لئے بھي مطالبہ کرنا جائز ہے۔
س٤٦٢:اگر کوئي شخص اس شرط پر تجارتي مرکز فروخت کرے کہ اس کي چھت فروخت کرنے والے کي ملکيت رہے گي اور اس کے اوپر عمارت بنانے کا حقدار رہے گا کيا مذکورہ شرط کے ساتھ خريدار کو چھت پر کوئي حق ہے؟ اور يہ بھي معلوم ہے کہ اگرمذکورہ شرط نہ ہوتي تو خريد و فروخت ہي انجام نہ پاتي۔
ج:معاملے کے دوران چھت کو استثنائ کرنے کے بعد خريدار کا اس پر کوئي حق نہيں ہے۔
س٤٦٣ :ايک شخص نے نامکمل گھر اس شرط پر خريدا کہ فروخت کرنے والا گھر خريدار کے نام کرتے وقت کسي چيز کا مطالبہ نہيں کرے گا ليکن وہ اب گھر کے نام کرانے کے عوض کچھ رقم مانگ رہا ہے کيا وہ اس مطالبہ کا حقدار ہے؟ اور کيا خريدار پر رقم دينا واجب ہے۔
ج:فروخت کرنے والے پر واجب ہے کہ جن شرائط کے تحت معاملہ انجام پايا تھا ان پر عمل کرے اور گھر تحويل دينے کے ساتھ ساتھ اس کے نام بھي کروائے اور جن شرائط پر معاملہ انجام پايا تھا اس سے زيادہ کسي چيز کے مطالبے کا حق نہيں رکھتا۔ ہاں اگر اس نے خريدار کے کہنے سے کوئي کام انجام ديا ہو جس کي عرفاً قيمت ہے اور يہ عمل معاملہ کے دوران متفق عليہ شرائط سے جدا ہو تو خريدار مطلوبہ رقم کا حقدار ہے۔
س٤٦٤:ايک زمين معين قيمت پر فروخت ہوئي اور ا سکي تمام قيمت دے دي گئي اور عقد کے دوران يہ طے پايا کہ خريدار فروخت کرنے والے کو سرکاري کاغذات اس کے نام کراتے وقت ايک معين رقم دے گا اور يہ تمام شرائط ايک سادے کاغذ پر تحرير کي گئيں ليکن فروخت کرنے والا اب مذکورہ رقم سے بہت زيادہ رقم کا مطالبہ کررہا ہے کيا اس کے لئے ايسا مطالبہ کرنا جائز ہے؟
ج:خريدو فروخت کرنے والا معاملے کے وثيقہ کي تدوين کرتے وقت اس بات پر متفق کريں کہ دونوں مذکورہ معاملے سے روگرداني نہيں کريں گے اور اگر خريدار نے معاملہ پر دستخط کرنے کے بعد روگرداني کي تو اس کا ديا ہوا بيعانہ فروخت کرنے والا واپس نہيں کرے گا اور اگر فروخت کرنے والے نے دستخط کرنے کے بعد روگرداني کي تو بيعانہ واپس کرنے کے ساتھ رقم کي ايک معين مقدار بھي خريدار کو خسارے سے دے گا۔ آيا مذکورہ طريقہ سے خيار شرط اور اقالہ کرنا صحيح ہے؟ اور کيا مذکورہ شرط کے ذريعے حاصل شدہ مال دونوں کے لئے حلال ہے؟
س٢٦٥:اگر خریدار اور فروخت کرنے والا معاملے کے وثیقہ کي تدوین کرتے وقت اس بات پر اتفاق کریں کہ دونوں مذکورہ معاملے سے رو گرداني نہيں کریں گے اور اگر خریدار نے معاملہ پر دستخط کے بعد روگرداني کي تو اس کا دیا ہوا بیعانہ فروخت کرنے والا واپس نہيں کرے گا اور اگر فروخت کرنے والے نے دستخط کرنے کے بعد روگرداني کي تو بیعانہ واپس کرنے کے ساتھ رقم کي ایک معین مقدار بھي خریدار کو خسارے کے عنوان سے دے گا۔آیا مذکورہ طریقہ سے خیار شرط اور قالہ (٢١)کرنا صحیح ہے ؟ اور کیا مذکورہ شرط کے ذریعے حاصل شدہ مال دونوں کے لئے حلال ہے ؟
ج:مذکورہ شرط اقالہ اور خيار شرط اور فسخ نہيں ہے بلکہ روگرداني کي صورت ميں رقم ادا کرنے کي شرط ہے اور ايسي شرط کا جب تک عقد کے ضمن ميں ذکر نہ ہو تو اس کا معاملے کے وثيقہ کي تدوين کے وقت ذکر کرنا يا تحرير کرنے کا کوئي اثر نہيں ہے۔ ہاں اگر مذکورہ شرط کو عقد کے ضمن ميں ذکر کيا جائے اور دستخط کرنے يامذکورہ شرط کي بنا پر معاملہ انجام پائے تو يہ شرط صحيح ہے اور اس پر عمل کرنا واجب ہے اور مذکورہ شرط کي وجہ سے حاصل ہونے والي رقم لينا بھي صحيح ہے۔
س٤٦٦ :خريد و فروخت کے کاغذات ميں يہ عبارت تحرير کي جاتي ہے۔ اگر دونوں ميں سے ايک نے معاملے کو فسخ کيا تو مثلاً اتني رقم بعنوان جرمانہ دوسرے کو ديني ہوگي اب سوال يہ ہے
١۔ آيا مذکورہ عبارت خيار فسخ کو بيان کرتي ہے؟
٢۔ کيا اس جيسي شرط صحيح ہے يا نہيں؟
اگر مذکورہ شرط باطل ہو تو عقد بھي باطل ہوجائے گا يا نہيں؟
ج:يہ شرط خيار فسخ نہيں ہے بلکہ معاملہ کرنے سے روگرداني کي صورت ميں مقررہ رقم ادا کرنے کي شرط ہے۔ ہاں اگر مذکورہ شرط عقد لازم کے دوران رکھي جائے يا اس کي بنا پر عقد انجام ديا جائے تو شرط صحيح ہے۔ ليکن ايسي شرط کي مدت کو معين کرنا ضروري ہے جو کہ قيمت ميں مداخلت رکھتي ہے ورنہ شرط باطل ہے۔
 

خريدو فروخت کے متفرقہ احکام


س٤٦٧ :بعض لوگ اپني بعض جائيداد کو فروخت کرتے ہيں تاکہ دوبارہ زيادہ قيمت پر اسي چيز کو خريدليں کيا يہ خريد و فروخت صحيح ہے؟
ج:اس جيسا بناوٹي معاملہ کيونکہ سودي کے حصول کے لئے حيلہ کے طور پر انجام ديا جاتا ہے لہٰذہ احرام اور باطل ہے ہاں اگر شرعي اور حقيقي طور پر اپنے مال کو فروخت کرے اور پھر(کسي وجہ سے) دوبارہ اسے نقد يا ادھار خريدنے پر تيار ہوجائے چاہے اسي قيمت پر خريدے يا زيادہ قيمت ادا کرے تو جائز ہے۔
س٤٦٨ :بعض تاجر دوسرے بعض تاجروں کي طرف سے نيابت ميں بينک کي قابل اعتماد چھٹي
LC
کے ذريعے مال درآمد کرتے ہيں اور مال کے وصول کرنے کے بعد بينک کو قيمت ادا کرديتے ہيں ليکن يہ عمل اصلي صاحب مال کي طرف سے انجام ديتے ہيں اور مذکورہ معاملے ميں مقررہ في صد کميشن ليتے ہيں۔کيا يہ معاملہ صحيح ہے يا نہيں؟
ج:اگر مذکورہ تاجر نے مال اپنے لئے درآمد کيا ہو اور پھر اسے خريدار کو مال کي قيمت کے مقررہ في صد منافع پر فروخت کردے تو معاملہ صحيح ہے اور اسي طرح اگر درآمد ايسے شخص کے لئے انجام پائي ہو جس نے بعنوان جعالہ مال طلب کيا ہو اور فعل و عمل کي اجرت کي مذکورہ في صد مقدار کو معين کيا ہو تو بھي معاملہ صحيح ہے۔ ليکن اگر مذکورہ درآمد بعنوان وکيل انجام پائي ہو او روکالت کي اجرت مورد نظر ہو تو اس صورت ميں وکالت کي اجرت کامعلوم ہونا وکالت کي صحت کے لئے ضروري ہے۔
س٤٦٩:پہلي زوجہ کي وفات کے بعد ميں نے گھر کا کچھ سامان فروخت کرديا اور کچھ پيسے ملا کر دوسرا سامان خريد ليا آيا ميرے لئے مذکورہ سامان سے دوسري بيوي کے گھر ميں استفادہ کرنا جائز ہے؟
ج:اگر فروخت شدہ سامان آپ کي ملکيت تھا تو اس کي قيمت سے خريدا ہوا سامان بھي آپ کي ملکيت ہے۔
س٤٧٠:ايک شخص نے ايک تجارتي مرکز کو کرائے پر ليا جسے اس کے مالک نے بلديہ کي اجازت کے بغير تعمير کيا تھا اب بلديہ تعميراتي قوانين کي مخالفت کرنے پر جرمانہ ادا کرنے کا مطالبہ کررہي ہے۔ آيا مذکورہ جرمانہ ادا کرنا مالک پر واجب ہے جس نے بلا اجازت عمارت تعمير کي ہے يا کرايہ دار پر؟
ج:مالک پر تعميراتي قوانين کي مخالفت پر جرمانہ ادا کرنا واجب ہے۔
س٤٧١:ميں نے ايک کاشت کار سے زمين خريدي جس نے گذشتہ دور ميں اصلاحات اراضي کے قوانين کے تحت زمين حاصل کي تھي ليکن ميں نہيں جانتا کہ زمين فروخت کرنے والا زمين کا شرعي مالک تھا يا نہيں؟ اور کافي عرصہ پہلے فوت ہو چکا ہے۔ ليکن اب اس کے وارث کي قيمت کا مطالبہ کررہے ہيں۔ حکم کيا ہے؟
ج:اگر بيچنے والے نے جب زمين فروخت کي زمين پر دست ملکيت رکھتا تھا اور ظاہري طو رپر زمين کا مالک تھا تو اس سے زمين خريدنا صحيح ہے اور زمين کي قيمت مالک يا اس کے ورثائ کو ادا کرنا کافي ہے اور جب آپ نے مالک کو يا اس کي اولاد کو زمين کي قيمت ادا کردي تو انہيں مزيد مطالبہ کا حق نہيں ہے۔
س٤٧٢:ميں نے ايک جائيداد کسي شخص سے خريدي اور ايک دوسرے شخص کو فروخت کر دي ليکن فروخت کرنے والے نے مجھ سے تحرير شدہ وثيقہ ليا اور زمين کو دوبارہ کسي اور شخص کو فروخت کرديا اور کيونکہ ميں مذکورہ وثيقہ کے چھينے جانے کو ثابت نہيں کرسکا تو آيا وہ معاملہ صحيح ہے جو ميں نے انجام ديا ہے يا وہ معاملہ صحيح ہے جو اس نے انجام ديا ہے؟
ج:مالک کي طرف سے شرعي طور پر صحيح فروخت کے ثابت ہوجانے کے بعد خريدار اس شئے کے امور کا مالک ہے اور وہ اسے جسے چاہے فروخت کرسکتا ہے اور پہلے فروخت کرنے والے کو اس شئے ميں تصرف کرنے کا حق نہيں ہے بلکہ اگر وہ کسي اور کو مذکورہ شئے فروخت کر بھي دے تو يہ معاملہ فضولي کہلائے گا اور پہلے خريدار کي اجازت کا محتاج ہے۔
س٤٧٣:ميں نے اپنے بھتيجے سے وعدہ کيا تھا کہ وہ جب بھي تمام قيمت مجھے ادا کردے گا ميں اپني زمين کا ايک حصہ اسے فروخت کردوں گا ليکن بعض دفتري مشکلات کي وجہ سے ميں نے فروخت سے پہلے ہي زمين اس کے نام کرادي اور اس نے خود اقرار کيا تھا کہ ميں زمين کا مالک نہيں ہوں ليکن کچھ عرصہ گزرنے کے بعد زمين اس کے نام ہونے کي وجہ سے زمين کا مطالبہ شروع کرديا ہے۔ آيا مجھے اس کے مطالبے کا مثبت جواب دينا چاہئيے؟
ج:جب تک صحيح شرعي طريقے سے خريد و فروخت انجام نہ پائے مدعي کا مذکورہ زمين ميں کوئي حق نہيں ہے اور زمين اس کے نام کرتے وقت اس کا يہ صريحاً اقرار کرنا کہ زمين ميري ملکيت نہيں ہے مذکورہ تحرير سے استفادے کے حق کو سلب کرليتا ہے۔
س٤٧٤:يہاں پر ايک شخص کي زمين تھي ہمارے دفتر کي کواپيريٹو سوسائيٹي نے اس پر قبضہ کرليا اور اس کي پلاننگ کرکے دفتر کے ملازمين ميں تقسيم کرنا شروع کرديا اور اس کے بدلے کچھ رقم بھي لے لي اور يہ دعويٰ بھي کيا کہ مذکورہ رقم ہم نے زمين کے مالک کو دے دي ہے اور زمين کے مالک کو راضي کرليا ہے ليکن ايک شخص نے خود مالک سے يہ سننے کا دعويٰ کيا ہے کہ وہ راضي نہيں ہے جبکہ مذکورہ زمين پر مسجد اور مکانات تعمير ہوچکے ہيں۔ بنابرايں مندرجہ ذيل سوالات پيش آتے ہيں۔
١۔ آيا مسجد کي زمين اور اس کي تعميرات کے جاري رکھنے کے لئے زمين کے مالک سے اجازت لينا ضروري ہے؟
٢۔ اس زمين کي نسبت سے جس پر ملازمين نے مکانات تعمير کرلئے ہيں ان کي کيا ذمہ داري ہے؟
ج:اگر ثابت ہوجائے کہ کوپيريٹو سوسائٹي کے نمائندوں نے (جو کہ مالک سے زمين خريدنے پر مامور تھے) صحيح طريقے سے مالک کے ساتھ معاملہ انجام ديا ہے اور مالک کي رضايت حاصل کرلي ہے تو ان کا مالک سے زمين خريدنا صحيح ہے اور اسي طرح اگر وہ زمين تقسيم کرتے وقت اس بات کا دعويٰ کريں کہ انہوں نے زمين کے مالک سے شرعي طريقے سے زمين حاصل کي ہے تو جب تک ان کے جھوٹ بولنے کا علم نہ ہوجائے ان کا عمل صحت کا حامل ہے اور زمين کي تقسيم بھي صحيح ہے اور آثار ملکيت بھي حاصل ہيں اور جنہوں نے زمين مذکورہ سوسائٹي سے لے لي ہے ان کا اس ميں تصرف کرنا بھي صحيح ہے اور اسي طرح شرکائ کي اجازت سے مسجد تعمير کرنا بھي صحيح ہے اور جب تک ان لوگوں کے جھوٹ کا علم نہ ہوجائے جنہوں نے صحيح طريقے سے زمين کے حصول کا دعويٰ کيا ہے سابق مالک کے عدم رضايت کے دعويٰ کا کوئي اثر نہيں ہے۔
س٤٧٥ :ايک شخص نے شہيد کي زوجہ سے کہا کہ وہ شہدائ کي اولاد کو دئيے جانے والے کوپن حاصل کرلے جس کے ذريعے گاڑي حاصل کي جاتي ہے تاکہ وہ شخص اپنے لئے مذکورہ کوپن کے ذريعے گاڑي خريد لے۔ شہيد کي زوجہ نے بچوں کي سرپرست ہونے کي وجہ سے قبول کرليا اب گاڑي خريدنے کے بعد شہيد کے فرزند دعويٰ کررہے ہيں کہ يہ گاڑي ہماري ہے کيونکہ يہ شہدائ کے کوپن کے ذريعے خريدي گئي ہے۔ کيا يہ دعويٰ صحيح ہے يا نہيں؟
ج:اگر گاڑي فروخت کرنے والے نے کوپن ديکھ کر خود خريدار کو گاڑي فروخت کي ہے اور خريدار نے بھي گاڑي اپنے مال سے اپنے لئے خريدي ہے تو گاڑي اسي کي ملکيت ہے ليکن خريدار شہدائ کے کوپن کي قيمت کا ضامن ہے۔
س٤٧٦:ميں نے ايک زمين وکيل کي حيثيت سے ساديہ وثيقہ پر ايک شخص کو فروخت کي اور قيمت کا ايک حصہ لے ليا اور يہ طے پايا کہ خريدار جب تمام قيمت ادا کردے گا تو ميں زمين اس کے نام کردوں گا ابھي تک زمين فروکت کرنے والے موکل کے نام ہے اور خريدار کے نام نہيںہوئي ہے اس عرصے ميں خريدار نے مذکورہ زمين پر متعدد تجارتي مرکز قانوني اجازت کے بغير تعمير کئے جس کي وجہ سے مذکورہ زمين پر مختلف ٹيکس لگا دئے گئے مثلاً کرائے پر دينے اور تعاوني ٹيکس وغيرہ ۔ 12سال قبل ميں نے يہ زمين سادہ وثيقہ کے ذريعے جب فروخت کي تھي تو يہ خالي اخراجات خريدار ہي ادا کرے گا ۔ آيا مذکورہ ٹيکس فروخت کرنے والے کے ذمہ ہے يا خريدار کے؟
ج:خود زمين فروخت کرنے کي وجہ سے جو ٹيکس لگائے گئے ہيں ان کا ادا کرنا فروخت کرنے والے کي ذمہ داري ہے اور جو ٹيکس زمين پر تعميرات کي وجہ سے لگائے گئے ہيں تو وہ زمين پر تعميرات کرنے والے خريدار کو ادا کرنے ہيں جس نے مذکورہ زمين پر تجارتي مراکز تعمير کئے ہيں اور اگر ضمن عقد ميں يہ شرط قبول کرلي گئي ہو کہ ٹيکس ايک طرف کے ذمہ ہے تو اس شرط پر عمل کريں گے۔
س٤٧٧ :ايک شخص نے ايک گھر قيمت اور معاملہ کي شرائط طے ہوجانے کے بعد نقد اور قسطوں پر خريد ليا اور پھر انہي خريدي ہوئي شرائط پر مذکورہ گھر ايک اور شخص کو فروخت کرديا اس شرط پر کہ باقي قسطيں دوسرا خريدار ادا کرے گا۔ آيا ايسي صورت ميں پہلے فروخت کرنے والے کو معاملے کي شروط سے پلٹ جانے کا حق ہے؟ اور يہ کہ گذشتہ معاہدہ کالعدم قرار پاسکتا ہے؟
ج:معاملہ انجام پانے کے بعد فروخت کرنے والے کو معاملے اور اس کي شرائط سے رو گرداني کا حق نہيں ہے اور اسي طرح خريدار کا کسي اور شخص کو تمام اقساط ادا کرنے سے پہلے گھر کا فروخت کرنا بلا مانع ہے۔ ليکن اسے يہ حق نہيں ہے کہ وہ اپنے ذمہ کي قسطوں کو دوسرے خريدار کے حوالے کردے۔ ہاں اگر فروخت کرنے والا قبول کرلے تو کوئي حرج نہيں ہے۔
س٤٧٨:ايک دوکاندار نے قرعہ کے ذريعے ايک ٹيليويژن کو فروخت کرنے کے لئے پيش کيا اور مذکورہ قرعہ ميں 130افراد ميرے ساتھ شريک تھے ۔ قرعہ ميرے نام نکل آيا اور ميں نے ٹيلي ويژن خريد ليا۔ آيا مذکورہ طريقے سے خريدنا صحيح ہے؟ اور کيا اس سے استفادہ کرنا جائز ہے؟
ج:اگر قرعہ نکلنے کے بعد خريد و فروخت انجام پائے تو مذکورہ طريقے سے خريدنا صحيح ہے اور استفادہ کرنا بھي جائز ہے۔
س٤٧٩:ايک شخص نے کسي کو اپنا پلاٹ فروخت کرديا خريدار نے مذکورہ پلاٹ کسي اور شخص کو فروخت کرديا اس بات کو نظر ميں رکھتے ہوئے کہ آج کل جديد قوانين کے مطابق ہر معاملے پر ٹيکس وصول کيا جاتاہے۔ آيا پہلے بيچنے والے پر واجب ہے کہ زمين پہلے خريدار کے نام کرائے اور پھر پہلا خريدار دوسرے خريدار کے نام کرائے يا اس کے لئے جائز ہے کہ دوسرے خريدار کے نام کرادے تاکہ پہلا خريدار ٹيکس دينے سے معاف ہوجائے؟ اور اگر پہلے خريدار کے نام کرادے تو پہلے خريدار کو جو ٹيکس دينا پڑے گا آيا وہ (پہلا فروخت کرنے والا) اس کا ضامن ہے ؟ اور آيا اس پر پہلے خريدار کے اس مطالبہ پر عمل کرنا واجب ہے کہ زمين بغير واسطے کے دوسرے خريدار کے نام کرادي جائے۔
ج:اگر قانون کے خلاف ورزي نہ ہوتو پہلے فروخت کرنے والے کو اختيار ہے کہ وہ زمين پہلے خريدار کے نام کرائے يا دوسرے خريدار کے نام اور اسے اس بات کا بھي حق ہے کہ وہ ملکي قانون کي پابندي کرتے ہوئے اس معاونت پر حق زحمت کا خريدار سے مطالبہ کرے اگر زمين پہلے خريدار کے نام کرائے تو پہلے خريدار سے لئے جانے والے ٹيکس کا ضامن نہيں ہے اور نہ ہي بلاواسطہ دوسرے خريدار کے نام زمين کرانا اس پر لازم ہے۔
 

تجارت کے مختلف مسائل


س٥٣٧:بعض کارخانوں ميں دوسرے کارخانوں کے بنے ہوئے پرزے جوڑ کر آلات بنائے جاتے ہيں اور پھر انہيں غير ملکي معروف کمپني کے نام بازار ميں فروخت کرديا جاتا ہے آيا مذکورہ عمل دھوکہ بازي شمار کيا جائے گا ؟ اور اگر دھوکہ بازي کہلائے تو خريدار کو اس بات کا علم نہ ہونے کي صورت ميں ان آلات کي خريد و فروخت صحيح ہے يا باطل ہے؟
ج:اگر مذکورہ پرزے اس قابل ہيں کہ خريدار ان کي شناخت کرسکتا ہے تو مذکورہ عمل پر دھوکہ بازي کا عنوان منطبق نہيں ہوتا ليکن غلط بياني سے کام لينا جھوٹ اور حرام ہے اور اگر مذکورہ اشيائ کو غلط اوصاف کے ساتھ فروخت کيا جائے تو خريد و فروخت صحيح ہے ہاں اگر خريدار حقيقت سے آگاہ ہوجائے تو اسے معاملہ فسخ کرنے کا اختيار ہے۔
س٥٣٨:آيا کارخانے او ردکان کے مالکوں کے لئے جائز ہے کہ اپنے کارخانے يا دکان پر غير ملکي زبان ميں بورڈ لگائيں؟ يا خريداروں کي جلب توجہ کے لئے بچوں کے کپڑوں پر غير ملکي حروف لکھيں يا غير ملکي تصويريں چھاپيں؟
س٥٣٩:غير مسلمين کے ساتھ مالي يا علمي فوائد کے حصول کے لئے دھوکہ بازي ، جھوٹ وغيرہ سے کام لينے کا کيا حکم ہے جب وہ اس سے لاعلم ہوں؟
ج:معاملات ميں جھوٹ ، دھوکہ بازي او ربدديانتي سے کام لينا بالکل جائز نہيں ہے۔ اگرچہ غير مسلم کے ساتھ معاملہ کيا جائے۔
س٥٤٠:چيزوں کي خريد و فروخت ميں کس قدر منافع لينا جائز ہے؟
ج:بذات خود منافع کے لئے کوئي حد معين نہيں ہے لہٰذہ جب تک ظلم کي حد تک نہ پہنچ جائے اور حکومت اسلامي کے قوانين کے خلاف نہ ہو تو جائز ہے۔ ليکن بہتر بلکہ مستحب يہ ہے کہ اتنا منافع لے جو کہ اس کے اخراجات کے لئے کافي ہو۔
س٥٤١:ايک شخص کئي لوگوں سے پاني خريد کر مختلف قيمتوں پر فروخت کرتا ہے۔ مثلاً ايک شخص سے خريدے ہوئے حصے کو دس ہزات تومان اور اسي مقدا رکي پاني کو دوسرے شخص کے حصے سے پندرہ ہزار تومان ميں فروخت کرتا ہے جبکہ پاني کے مذکورہ تمام حصے ايک ہي کاريز چشمے يا کنويں سے حاصل کئے ہيں۔ آيا ہم پاني کي مختلف قيمت پر اعتراض کرنے کا حق رکھتے ہيں؟
ج:اگر فروخت کرنے والا پاني کا مالک يا شرعاً صاحب حق ے اور اس نے پاني کے ہر حصہ کو طرف مقابل سے اتفاق شدہ قيمت پر فروخت کيا ہے تو دوسروں کو قيمت کے اختلاف پر اعتراض کا حق نہيں ہے۔
س٥٤٢:اگر ميں مرکز تعاون (يوٹيليٹي اسٹور) سے کوئي چيز حکومت کي مقرر کردہ کم قيمت پر حاصل کروں تو آيا ميں مذکورہ مال کو آزاد مارکيٹ ميں مہنگي قيمت پر فروخت کرسکتا ہو يہاں تک اگر قيمت فروخت تين گنا ہوجائے؟
ج:اگر حکومت کي طرف سے کوئي ممنوعيت نہ ہو اور قيمت ميں اضافہ خريدار کے لئے بحد ظلم تک نہ پہنچ جائے تو کوئي حرج نہيں ہے۔
س٥٤٣:ميں اليکٹرونک آلات اسمبل کرتا ہوں کيا ميرے لئے جائز ہے کہ ميں جس قيمت پر چاہوں فروخت کروں؟ ايسي قيمت جو بازار ميں ضرورت، طلب و رسد کے مطابق ہو؟
ج:اگر حکومت کي طرف سے اس کي کوئي قيمت مقرر نہيں ہے جس قيمت پر بھي خريدار اور فروخت کرنے والا اتفاق کريںصحيح ہے۔
س٥٤٤ :اسلام ميں سرمايہ داري کا کيا حکم ہے؟ اور اس کي کيا حدود ہيں ؟ کيا فقرائ اور مساکين کے حقوق ادا ئ کرنے کے بعد بھي انسان بہت امير انسان بن سکتا ہے؟ کيا اسلام کا سرمايہ داري سے جنگ کرنا ايسے انسان سے جنگ کرنا ہے جو خمس اور زکوٰۃ ادا نہيں کرتا يا ايسے لوگوں کو بھي شامل ہے جو خمس اور زکوٰۃ ادائ کرنے کے سات ساتھ بڑي ثروت جمع کرسکتا ہے؟
ج:ثروت مند لوگوں کے مال ميں حقوق شرعيہ فقط خمس اور زکوٰۃ تک محدود نہيں ہيں اور اسلام کثرت مال کا مخالف نہيں ہے اگرمال شرعي طريقے سے تمام مالي حقوق ادائ کرنے کے ساتھ ساتھ جمع کيا جائے اور اسلام و مسلمين کے فائدے ميں ہو تو کوئي حرج نہيں ہے اور اس طريقے سے بھاري ثروت حاصل کرنا بھي بلا مانع ہے۔
س٥٤٥:ہمارے ہاں يہ رائج ہے کہ ايک شخص دوسرے شخص کو اپني گاڑي خريدنے کے لئے کہتا ہے اور دوسرا شخص مثلاً دس لاکھ روپے ميں گاڑي خريد ليتا ہے اب يہ شخص پہلے آدمي سے کہتا ہے کہ گاڑي کي قيمت گيارہ لاکھ اور اضافي قيمت دلالي کي محنت کا عوض شمار کرتا ہے کيا مذکورہ خريد و فروخت صحيح ہے؟
ج:اگر دوسرا شخص پہلے شخص کا گاڑي خريدنے ميں وکيل تھا اور خرداري موکل کے لئے تھي تو اسے اضافي قيمت لينے کا حق نہيں ہے ہاں اسے وکالت کي رائج اجرت لينے کا حق ہے اور اگر اس نے اپنے مال سے اپنے لئے گاڑي خريدي تھي اور پھر اس نے گاڑي ايسے شخص کو فروخت کرنے کا ارادہ کيا جس نے اس سے گاڑي خريدنے کا تقاضا کيا تھا تو اس صورت ميں دونوں کے مابين طے پانے والي قيمت پر گاڑي فروخت کرسکتا ہے البتہ گاڑي کي قيمت خريد کے بارے ميں جھوٹ بولنا جائز نہيں ہے ليکن جھوٹ بولنا معاملہ کے صحيح ہونے پر اثر انداز نہيں ہوتا۔
س٥٤٦:بعض دوست موٹر مکينک کا کام کرتے ہيں اور ان کے پاس گاڑيوں کے تاجر آتے ہيں اور ان سے صحيح طريقے سے مرمت نہيں کرواتے اس گمان کے ساتھ کہ گاڑي کا ظاہري طور پر اچھا ہونا گاڑي کو خريدار کے سامنے پيش کرنے کے لئے کافي ہے، کيا ان دوسروں کے لئے مرمت کرنا صحيح ہے؟
ج:اگر دھوکے کا سبب ہو اور انہيں علم ہو کہ گاڑي کا مالک ان عيوب کو خريدار سے مخفي رکھے گا تو مرمت کرنے والے کے لئے مذکورہ کام جائز نہيں ہے۔

 

استفتاآت (٢)
حرام معاملات
طبّي مسائل
تعلیم و تعلم اور فن کاري کے حقوق
میڈ یکل
طبا عت ،تالیف اور فن کاري کے حقوق
غیر مسلمین کے سا تھ تعلقات
ظالم حکومت ميں کام کرنا
لباس کے احکام
مغربي ثقا فت کي پیروي
ہجرت کرنا اور سیا سي پناہ لینا
جاسوسي،چلغوري اور اسرارکا فاش
سگریٹ نوشي اور نشہ آور اشیائ
داڑھي اور مونچھ
محفل گناہ ميں حاضر ہونا
تعویذ اور استخارہ
دیني رسومات کا احیائ
ذخیرہ اندوزي اور اسراف
تجارت کے احکام
احکام خیارات
تجارت کے مختلف مسائل
سود کے احکام
حق شفاعت