|
طبي مسائل
حمل روکنا
س١٧٠۔ ١۔ کيا صحت مند خاتون کے لئے وقتي طور پر مانع حمل طريقوں سے يا
مواد کے ذريعے نطفہ نہ ٹھہرنے دينا جائز ہے؟
٢۔ وقتي طور پر مانع حمل آلات جنہين آئي، يو ، ڈي (I.U.D)(١٠)
کہا جاتا ہے استعمال کرنے کا کيا حکم ہے؟ جس کے مانع حمل ہونے کي کيفيت
پوري طرح ابھي تک معلوم نہيں ہوسکي ہے ليکن معروف يہ ہے کہ وہ نطفہ کو
ٹھہرنے نہيں ديتا۔
٣۔ کيا ايسي بيمار عورت جسے دائمي حمل سے جان کا خطرہ ہو وہ ہميشہ کے
لئے حمل روک ہيں؟
٤۔ کيا ايسي عورتوں کے لئے دائمي طور پر حمل روکنا جائز ہے جن ميں
جسماني اور نفساني موروثي بيماريوں کے حامل معذور بچے پيدا کرنے کي
قابليت ہو؟
ج۔ ١۔ شوہر کي اجازت کے ساتھ جائز ہے۔
٢۔ اگر نطفے کے ٹھہرنے کے بعد اسقاط کا سبب بنے توجائز نہيں ہے يا اگر
حرام طور پر لمس کرنے يا نظر کرنے کا سبب ہو تو بھي جائز نہيں ہے۔
٣۔ مذکورہ فرض ميں منع حمل جائز ہے بلکہ اگر ماں کي جان کے لئے خطرہ ہو
تو اختياري طور پر حاملہ ہونا جائز نہيں ہے۔
٤۔ اگر غرض عقلائي اور قابل توجہ ضرر سے محفوظ رہنے کے لئے ہو تو شوہر
کي اجازت کے ساتھ جائز ہے۔
س١٧١۔ کيا مرد کے لئے نس بندي کرکے نسل کے اضافہ کو روکنا جائز ہے؟
ج۔ اگر عقلائي مقاصد کے تحت ہو تو بذات خود مذکورہ عمل ميں کوئي حرج
نہيں ہے اس شرط کے ساتھ کہ قابل توجہ ضرر سے محفوظ رہے۔
س١٧٢۔ کيا ايسي صحت مند خاتون کے لئے جسے حمل سے کوئي نقصان نہيں ہے،
عزل ، (١١) پيچ نما آلے، دوائيوں اور رحم کے راستے کو بند کرکے منع حمل
کرنا جائز ہے يا نہيں؟ کيا شوہر عزل کے علاوہ دوسري راہوں سے منع حمل
کے لئے زوجہ کو مجبور کرسکتا ہے؟
ج۔ عزل اور دوسري اشيائ کے ذريعہ ذاتي طور پر منع حمل کرنے ميں بذات
خود کوئي حرج نہيں ہے اگر زوجين کي رضايت کے ساتھ ہو اور عقلائي غرض کے
لئے ہو اور قابل توجہ ضرر سے بھي محفوظ رہنے کا سبب ہو ليکن شوہر کے
لئے بيوي کو مذکورہ عمل پر مجبور کرنے کا حق نہيں ہے۔
س١٧٣۔ کيا حاملہ عورت کے لئے آپريشن کرنا جائز ہے تاکہ آپريشن کے دوران
رحم کا راستہ بند کرديا جائے؟
ج۔ رحم کے بند کرنے کا مسئلہ گزر چکا ہے۔ آپريشن کا جواز ضرورت يا
حاملہ عورت کے مطالبہ پر متوقف ہے بہر حال آپريشن کے دوران اور رحم کے
راستے کو بند کرنے کے دوران نا محرم کا لمس کرنا اور ديکھنا حرام ہے۔
س١٧٤۔ بعض مياں بيوي کي خوني بيماري ميں مبتلا ہوتے ہيں اور ان کے جنين
معيوب ہوجاتے ہيں جس کي نتيجے ميں وہ بچوں ميں بھي بيماري منتقل کرديتے
ہيں اس طرح کے والدين کے بچوں ميں شديد اور سخت بيماريوں ميں مبتلا
ہونے کا احتمال زيادہ ہوتا ہے لہذا يہ بچے پيد ائش سے لے کر آخري عمر
تک بہت ہي مشقت آور صورت ميں رہيں گے مثال کے طور پر ہو مو فيليا ميں
مبتلائ بيمار معمولي سي چوٹ لگنے سے شديد قسم کي خونريزي کے نتيجے ميں
يا فوت ہوجائيں گے يا مفلوج ہوجائيں گے۔ اب اس بات کو مد نظر رکھتے
ہوئے کہ حمل کے ابتدائي ، ہفتوں ميں اس قسم کي بيماري تشخيص ممکن ہے تو
کيا ايسے مواقع پر اسقاط حمل جائز ہے؟
ج۔ اگر بچے کي بيماري کي تشخيص يقيني ہو اور اس قسم کے بچے کي نگہداشت
حرج کا باعث تو اس صورت ميں روح آنے سے پہلے اسقاط جائز ہے ليکن بنابر
احتياط اس کي ديت ادا کرنا چاہئيے۔
س١٧٥۔ کيا زوجہ کے لئے شوہر کي اجازت کے بغير منع حمل کے طريقوں کا
استعمال کرنا جائز ہے؟
ج۔ اشکال رکھتا ہے۔
س١٧٦۔ چار بچوں کے باپ نے مني کي نالي کو بند کرواليا ہے آيا وہ
گناہگار ہے اگر اس کي بيوي مذکورہ فعل سے راضي نہ ہو؟
ج۔ گناہگار نہيں ہے اور مذکورہ عمل زوجي کي رضايت پر متوقف نہيں ہے۔
اسقاط حمل
س١٧٧۔ آيا معاشي مشکلات کي وجہ سے حمل ساقط کرنا جائز ہے؟
ج۔ صرف معاشي مشکلات کي وجہ سے اسقاط حمل جائز نہيں ہے۔
س١٧٨۔ حمل کے پہلے ماہ ميں ڈاکٹر نے خاتون کا معائنہ کرنے کے بعد يہ
کہا کہ اگر حمل باقي رہا تو ماں کي جان کو خطرہ ہے اور حمل کے باقي
رہنے کي وجہ سے بچہ معذور پيدا ہوگا لہذا ڈاکٹر نے حمل کو اسقاط کرنے
کا حکم ديا کيا مذکورہ عمل جائز ہے ؟ اور آيا حمل ميں روح آنے سے پہلے
اسقاط کرنا جائز ہے؟
ج۔ بچے کا معذور ہونا حتيٰ قبل از روح اسقاط کا جواز فراہم نہيں کرتا
ہاں ماں کي جان کا خطرہ اگر اسپيشلسٹ ڈاکٹر کے کہنے کے مطابق ہو تو قبل
از روح اسقاط حمل ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
س١٧٩۔ اسپيشلسٹ ڈاکٹر جديد آلات کو استعمال کرتے ہوئے اثنائ حمل بچے کي
بہت سے ناقص اعضائ کي تشخيص پر قادر ہيں پيدائش کے بعد معذور بچے جن
مشکلات کا شکار ہوتے اس مسئلہ کو سامنے رکھتے ہوئے کيا ايسے حمل کا
ساقط کرنا جائز ہے جس کے ناقص رہنے کي تشخيص مورد اعتماد اسپيشلسٹ
ڈاکٹر نے کردي ہو؟ اور کيا اس کے لئے کوئي عمر معين ہے؟
ج۔ صرف معذور ہونے کي وجہ سے اور يہ کہ زندگي ميں کن مشکلات کا سامنا
اسے کرنا پڑے گا اسقاط حمل کا جواز نہيں بنتا۔
س١٨٠۔ کيا مستقر اور ٹھہرے ہوئے نطفے کو علقہ بننے سے پہلے اسقاط کيا
جاسکتا ہے؟ جبکہ مذکورہ مدت چاليس روز ميں پوري ہوتي ہے بنيادي طور پر
درج ذيل مراحل ميں سے کون سے مرحلے ميں اسقاط حمل جائز ہے؟
١۔ رحم ميں نطفہ ٹھہرنے کے مرحلے ميں
٢۔ علقہ
٣۔ مضغہ
٤۔ ہڈي بننے کا مرحلہ قبل از روح
ج۔ رحم ميں نطفے کے ٹھہرنے اور اس کے بعد کے مراحل ميں سے کسي مرحلہ
ميں بھي اسقاط جائز نہيں ہے۔
س١٨١۔ بعض شوہروں کي تھيلي سيما کا موروثي مرض ہوتا ہے چنانچہ يہ
بيماري ان کي اولاد ميں بھي منتقل ہوتي ہے اور اس کا احتمال زيادہ ہے
کہ اولاد ميں بيماريوں کي شدت زيادہ ہو اور ايسے بچے ولادت سے لے کر
اپني آخري عمر تک مسلسل مشق آور کيفيت ميں زندگي بسر کريں گے مثلاً
ٹھيلي سيما کے بيمار کا معمولي سي چوٹ سے بھي اتنا خون بہنے لگتا ہے کہ
بعض اوقات موت يا مفلوج ہونے تک نوبت آپہنچتي ہے سوال يہ ہے کہ کيا
حاملگي کے پہلے چند ہفتوں ميں اگر اس بيماري کو تشخيص دے ديا جائے تو
ايسے مورد ميں سقط جنين جائز ہے؟
ج۔ اگر جنين ميں بيماري کي تشخيص قطعي ہو اور ايسے فرزند کا ہونا اور
اس کا رکھنا حرج کا سبب ہو تو جائز ہے کہ روح آنے سے پہلے جنين کو ساقط
کرديں ليکن احتياط کي بنا پر اس کي ولايت ادا کي جائے۔
س١٨٢۔ بذات خود حمل کے اسقاط کا کيا حکم ہے؟ اور اگر حمل کا باقي رکھنا
ماں کے لئے جان ليوا ہو تو کيا حکم ہے؟ اور جواز کي صورت ميں روح پدا
ہونے سے پہلے اور بعد ميں فرق ہے يا نہيں؟
ج۔ اسقاط حمل شرعاً حرام ہے اور کسي بھي حال ميں جائز نہيں ہے۔ ہاں اگر
حمل کي بقائ ماں کے لئے خطرناک ہو تو اس حالت ميں روح آنے سے پہلے
اسقاط ميں کوئي حرج نہيں ہے ليکن روح پيدا ہونے کے بعد جائز نہيں ہے
اگرچہ حمل کا باقي رہنا ماں کي جان کے لئے خطرناک ہي کيوں نہ ہو۔ ليکن
اگر حمل کے باقي رہنے ميں دونوں کي موت کا خطرہ ہو تو اس صورت ميں اگر
کسي صورت سے بچے کو بچانا ممکن نہ ہو اورتنہا ماں کي زندگي بچائي
جاسکتي ہو تو اسقاط جائز ہے۔
س١٨٣۔ ايک عورت نے زنا کے نتيجے ميں حاصل ہونے والے سات ماہ کے بچے کا
حمل اپنے باپ کے کہنے پر گراديا ہے تو کيا اس صورت ميں ديت واجب ہے؟
واجب ہونے کي صورت ميں کيا بچے کي ماں پر ديت واجب ہے يا اس عورت کے
باپ پر؟
ج۔ اسقاط حمل جائز نہيں ہے اگرچہ زنا کے ذريعہ ہو اور والد کا مطالبہ ،
اسقاط کا جواز مہيا نہيں کرتا اور اگر ماں نے خود يا کسي کي مدد سے
اسقاط کيا ہو تو اس پر ديت واجب ہے۔ جبکہ مورد سوال صورت ميںديت کي
مقدار ميں تردد ہے اور احتياط يہ ہے کہ مصالحہ کيا جائے اور يہ ديت اس
وراثت کا حکم رکھتي ہے جس کا کوئي وارث نہ ہو۔
س١٨٤۔ ڈھائي ماہ کے حمل کو اگر عمداً اسقاط کرديا جائے تو ديت کي مقدار
کتني ہے اور يہ ديت کسے دي جائے گي؟
ج۔ اگر علقہ ہو تو اس کي ديت چاليس 40دينار ہے اور اگر مغضہ ہو تو
ساٹھ60دينار ہے اور اگر بغير گوشت کے ہڈياں ہوں تو اسي 80دينار ہے اور
مذکورہ ديت حمل کے وارث کو دي جائے گي اور ارث کے طبقات کي رعايت کي
جائے گي۔ ليکن اسقاط کرنے والا وارث، ارث سے محروم رہے گا۔
س١٨٥۔ اگر حاملہ عورت دانتوں اور مسوڑوں کے علاج پر مجبور ہو اور
اسپيشلسٹ کي تشخيص کے مطابق آپريشن کي ضرورت ہو تو کيا اس کے لئے حمل
کو اسقاط کرنا جائز ہے؟ جبکہ يہ بات بھي معلوم ہے کہ دوران حمل بے ہوشي
اور ايکس رے کے ذريعے تصوير اتروانے کي وجہ سے بچہ (جنين) معذور ہوجائے
گا۔
ج۔ مذکورہ اسقاط حمل کا جواز فراہم نہيں کرتا۔
س١٨٦۔ اگر رحم ميں بچہ يقيني موت کے قريب ہوجائے اور اس کے رحم ميں
باقي رہنے کي وجہ سے ماں کي زندگي بھي خطرہ ميں ہو تو کيا حمل کو ساقط
کيا جاسکتا ہے؟ اگر خاتون کا شوہر کسي ايسے مجتہد کي تقليد کرتا ہے جو
مذکورہ صورت حال ميں اسقاط کو جائز نہيں سمجھتا جبکہ خاتون اور اس کے
اہل خانہ ايسے مرجع کي تقليد کرتے ہيں جو مذکورہ حالت ميں اسقاط کو
جائز سمجھتا ہے تو مذکورہ صورت ميں شوہر کيا کيا ذمہ داري ہے؟
ج۔ مذکورہ سوال ميں يہ فرض کيا گيا ہے کہ يا بچہ يقيناً مرجائے گا يا
بچہ اور ماں دونوں کي يقيني موت ہوجائے تو اسي صورت ميں اسقاط کے ذريعے
کم ازکم ماں کي زندگي بچانا ضروري ہے ۔ مذکورہ فرض ميں شوہر بيوي کو
اسقاط سے نہيں روک سکتا، ليکن اسقاط کا عمل تا حد امکان اس طرح سے
انجام دينا واجب ہے کہ بچے کا قتل کسي کي طرف منسوب نہ ہونے پائے۔
س١٨٧۔ کيا ايسے حمل کو اسقاط کرنا جائز ہے جس کا نطفہ غير مسلم کے وطي
بالشبہ مشتبہ مباشرت يا زنا سے ٹھہرا ہو؟
ج۔ جائز نہيں ہے۔
مصنوعي حمل
س١٨٨۔ آج کل رحم سے باہر ملائے گئے نطفے بعض مخصوص جگہوں پر محفوظ رکھے
جاسکتے ہيں تاکہ ضرورت کے وقت انہيں صاحب نطفہ کے رحم ميں قرار ديا
جائے آيا يہ عمل جائز ہے؟
ج۔ اس عمل ميں بذات خود کوئي حرج نہيں ہے۔
س١٨٩۔ ١۔ کيا شرعي طور پر شوہر اور بيوي کے نطفہ کو ٹيوب کے ذريعے
پيوند کاري کرنا جائز ہے؟
٢۔ برفرض جواز ، کيا مذکورہ عمل کو نامحرم ڈاکٹر انجام دے سکتا ہے؟ آيا
پيدا ہونے والا بچہ مذکورہ شوہر اور بيوي کا ہے؟
٣۔ اگر بذات خود يہ عمل جائز نہ ہو تو آيا اگر ازدواجي زندگي مذکورہ
عمل پر متوقف ہو تو کيا حکم ہے؟
ج۔ الف۔ بذات خود مذکورہ عمل جائز ہے ليکن شرعي طور پر حرام مقدمات سے
پرہيز کرنا واجب ہے۔ لہذا نا محرم شخص کے لئے يہ عمل انجام دينا جائز
نہيں ہے اگر لمس اور نگاہ حرام کا سبب بنے۔
ب۔ مذکورہ طريقے سے پيدا ہونے والا بچہ صاحب نطفہ ماں باپ کا ہوگا۔
ج۔ مذکورہ عمل کا جواز بذات خود بيان ہوگيا ہے۔
س١٩٠۔ بعض شوہر، زوجہ کے (ovum)
نہ ہونے کي وجہ سے جو کہ پيوند کاري کے لئے ضروري ہوتے ہيں ايک دوسرے
سے جدائي کے مرحلے پر پہنچ جاتے ہيں اور نفسياتي اور ازدواجي مشکلات کا
شکار ہوجاتے ہيں کيونکہ مرض کے علاج کا امکان نہيں ہے وہ صاحب اولاد
بھي نہيں ہوسکتے ايسي صورت ميں کسي اور عورت کے بيضہ (ovum)
لے کر سائينسي طريقے سے شوہر کے نطفے کے ساتھ پيوندکاري کے عمل کے بعد
جو کہ رحم کے باہر انجام پايا ہو مذکورہ پيوندکاري شدہ نطفہ، شوہر کي
بيوي رحم ميں رکھ ديا جائے؟
ج۔ مذکورہ عمل بذات خود شرعاً جائز ہے ليکن پيدا ہونے والے بچے کا صاحب
رحم عورت کا بچہ کہلانا مشکل ہے اور اسے صاحب نفطہ عورت کي طرف نسبت دي
جائے گي لہذا دونوں شوہر اور بيوي کو نسب کے خاص احکام کے سلسلے ميں
احتياط کرنا ہوگي۔
س١٩١۔ اگر شوہر کا نطفہ ليا جائے اور شوہر کے مرنے کے بعد اسے زوجہ کے
بيضہ (ovum)
کے ساتھ پيوندکاري کي جائے اور زوجہ کے رحم ميں رکھ ديا جائے تو کيا۔
١۔ مذکورہ عمل صحيح ہے؟
٢۔ مولود شرعاً شوہر کا بچہ کہلائے گا؟
٣۔ مولود صاحب نطفہ کا وارث بنے گا؟
ج۔ مذکورہ عمل بذات خود صحيح ہے اور بچہ صاحب رحم و نطفہ کا کہلائے گا
اور بعيد نہيں ہے کہ اسے صاحب نطفہ مرد سے بھي ملحق کيا جائے ليکن وارث
قرار نہيں پائے گا۔
س١٩٢۔ ايک شادي شدہ جو عورت جو صاحب اولاد نہيں ہوسکتي ايک اجنبي اور
نامحرم مرد کا نطفے کے ساتھ عورت کے نطفے کو ملا کر اس کے رحم ميں رکھ
ديا جائے کيا يہ عمل جائز ہے؟
ج۔ نامحرم مرد کے نطفے سے پيوندکاري بذات خود جائز ہے ليکن حرام مقدمات
مثلاً لمس، نگاہ کرنا وغيرہ سے اجتناب کرنا واجب ہے۔ بہر حال مذکورہ
طريقے سے جو بچہ پيدا ہوگا وہ شوہر کا بچہ نہيں کہلائے گا بلکہ صاحب
نطفہ مرد اور صاحب رحم و بيضہ بيوي کا بچہ کہلائے گا۔
س١٩٣۔ اگر ايک شادي شدہ عورت جو يائسگي وغيرہ کي وجہ سے نطفہ بنانے کے
قابل نہ ہو تو کيا اس شخص کي دوسري بيوي کے نطفہ کو شوہر کے نطفہ سے
ملا کر اس کے رحم ميں رکھنا جائز ہے کيا دوسري بيوي کے دائمي يا موقت
زوجہ کے لحاظ سے کوئي فرق ہے؟ دونوں ميں سے کونسي عورت اس بچے کي ماں
ہوگي صاحب نطفہ يا صاحب رحم؟
کيا مذکورہ عمل ايسي صورت ميں بھي جائز ہے جہاں بيوي کو سوکن کے نطفہ
کي اس لئے ضرورت ہو کہ اس کا اپنا نطفہ اس قدر ضعيف ہو کہ اگر شوہر کے
نطفہ سے پيوند کاري ہو بھي جائے تب بھي معذور پيدا ہوگا؟
ج۔ ١۔ مذکورہ عمل شرعي طور پر جائز ہے اور دونوں بيويوں کا دائمي ،
منقطع اور مختلف ہونے ميں کوئي فرق نہيں ہے۔
٢۔ بچہ صاحب نطفہ سے ملحق کيا جائے گا اور صاحب رحم سے ملحق ہونا مشکل
ہے لہذا نسب کے اثرات جائز ہونا گزشتہ مسئلہ ميں بيان کيا جاچکا ہے۔
س١٩٤۔ کيا مندرجہ ذيل حالات ميں زوجہ اور اس کے مردہ شوہر کے نطفہ ميں
پيوند کاري ہوسکتي ہے؟
١۔ وفات کے بعد ليکن عدت سے پہلے؟
٢۔ وفات اور عدت گذرنے کے بعد؟
٣۔ اگر پہلے شوہر کي وفات کے بعد شادي کرلے تو اس صورت ميں پہلے کے
نطفے سے پيوند کاري کرنا جائز ہے؟ اور کيا دوسرے شوہر کے مرنے کے بعد
پہلے شوہر کے نطفے سے پيوند کاري کي جاسکتي ہے؟
ج۔ مذکورہ عمل بذات خود جائز ہے اور اس بات ميں کوئي فرق نہيں ہے کہ
عدت کا وقت گزر چکا ہو يا باقي ہو شادي کرے يا شادي نہ کرے اور اگر
شادي کرے تو دوسرے شوہر کے حال حيات ميں ہونے اور مرنے ميں کوئي فرق
نہيں ہے ہاں اگر دوسرا شوہر زندہ ہو تو پيوندکاري کا عمل اس کي اجازت
اور اذن سے ہونا چاہئيے۔
س١٩٥۔ اضافي نطفہ کو رحم ضائع کرنے کا کياحکم ہے؟ جنہيں خاص طريقے سے
حفظ کيا جاسکتا ہے تاکہ بوقت ضرورت نطفہ کو اس عورت کے رحم ميں رکھ ديا
جائے جس کا يہ نطفہ ہو؟ جبکہ يہ بھي معلوم ہے کہ ايسے طريقے سے نطفہ کو
محفوظ کرنا بہت مہنگا پڑتا ہے۔
ج۔ بذات خود کوئي حرج نہيں ہے۔
تبديلي جنس
س١٩٦۔ کچھ لوگ ايسے ہوتے ہيں جن کا ظاہر مردانہ ہے ليکن نفسياتي طور پر
ان ميں زنانہ خصوصيات اور کامل طور پر زنانہ خواہشات پائي جاتي ہيں اگر
وہ اپني جنس تبديل نہ کرائيں تو فاسد ہوجائيں گے کيا ايسے اشخاص کا
آپريشن کے ذريعے علاج کيا جاسکتا ہے؟
ج۔ مذکورہ آپريشن ميں کوئي حرج نہيں ہے۔ اگر واقعي جنس کے انکشاف اور
اظہار کے لئے ہو ليکن اس شرط کے ساتھ کہ کسي اور فعل حرام کا سبب نہ
ہو۔
س١٩٧۔ خنثي ( ہيجڑا) کو مرد يا عورت ميں تبديل کرنے کے لئے آپريشن کرنے
کا کيا حکم ہے؟
ج۔ بذات خود جائز ہے ليکن حرام مقدمات سے دوري کرنا واجب ہے۔
پوسٹ مارٹم اور اعضائ کي پيوندکاري
س١٩٨۔دل اور شريانوں کے امراض کا مطالعہ اور اس سے مربوط مختلف موضوعات
پر تحقيق اور ان کے متعلق جديد مسائل کا انکشاف کرنے کے لئے مردہ اشخاص
کے دل اور شريانوں کو حاصل کرنے کي ضرورت ہوتي ہے تاکہ ان کا معائنہ
کيا جائے۔ جبکہ يہ بھي معلوم ہے کہ ايک دن يا چند دن کے تجربے کے بعد
انہيں دفن کرديا جاتا ہے تو اب سوال يہ ہے کہ :
١۔ اگر مردہ اجساد مسلمانوں کے ہوں تو کيا تشريح کا مذکورہ عمل انجام
دينا صحيح ہے؟
٢۔ کيا دل اور شريانوں کو جو کہ جسد سے جدا ہيں الگ دفن کيا جاسکتا ہے؟
٣۔ کيونکہ دل اور شريانوں کو الگ دفن کرنا مشکل ہے لہذا کيا انہيں کسي
اور جسد کے ساتھ دفن کيا جاسکتا ہے؟
ج۔ صاحب حرمت انسان کي جان بچانے اور علم طب ميں جديد انکشافات جن کي
معاشرے کو ضرورت ہے يا کسي ايسے مرض کا پتہ لگانے کے لئے جو انسانيت کے
لئے خطرناک ہو ميت کي تشريح کرنا جائز ہے ليکن حتيٰ الامکان مسلم ميت
کے جسد سے استفادہ نہ کرنا واجب ہے ۔ اور جداشدہ اعضائ کو اسي ميت کے
ساتھ دفن کرنا واجب ہے ليکن اگر اسي ميت کے ساتھ دفن کرنے ميں کوئي حرج
يا کوئي اور مشکل ہو تو الگ يا کسي دوسري ميت کے ساتھ دفن کرنا جائز
ہے۔
س١٩٩۔ اگر موت کے سبب ميں شک ہو تو کيا تحقيق کے لئے جسد کا پوسٹ مارٹم
کرنا جائز ہے؟ مثلاً نہيں معلوم کہ ميت نے زہر سے يا گلا گھٹنے وغيرہ
سے پائي ہے؟
ج۔ اگر حق کا واضح ہونا پوسٹ مارٹم پر متوقف ہوتو جائز ہے۔
س٢٠٠۔ ماں کے پيت ميں موجود بچے کے مختلف مراحل ميں ساقط ہونے والے حمل
کا پوسٹ مارٹم کرنے کا کيا حکم ہے؟ يہ ايمبريالوجي جسماني ساخت ميں
معلومات حاصل کرنے کے لئے کيا جاتا ہے دوسري طرف سے يہ بھي معلوم ہے کہ
ميڈيکل کالج ميں پوسٹ مارٹم کي کلاس ضروري ہے۔
ج۔ صاحب نفس محترمہ انسان کي جان بچانے، يا ايسے جديد طبي معلومات کے
حصول کے لئے جو کہ معاشرے کے لئے ضروري ہوں يا کسي ايسے مرض کے بارے
ميں معلومات حاصل کرنے کے لئے جو انسانيت کے لئے خطرناک ہو اور يہ
معلومات سقط شدہ بچے کے پوسٹ مارٹم پر متوقف ہوں تو پوسٹ مارٹم کرنا
جائز ہے ليکن جب تک ممکن ہو مسلمان يا جو شخص مسلمان کا حکم رکھتا ہو
اس کے سقط شدہ حمل سے استفادہ نہ کيا جائے۔
س٢٠١۔ آيا قيمتي اور نادر پلاٹينيم کے ٹکڑے کو بدن سے نکالنے کے لئے
قبل از دفن پوسٹ مارٹم کرنا جائز ہے؟
ج۔ مذکورہ فرض ميں ٹکڑا نکالنے ميں کوئي حرج نہيں ہے ليکن ميت کے لئے
ہتک آميز نہ ہو۔
س٢٠٢۔ ميڈيکل کالج ميں تعليم اور تعلم کے لئے قبريں کھود کر ہڈياں حاصل
کرنے کا کيا حکم ہے چاہے يہ قبريں مسلمانوں کي ہوں يا غير مسلمين کي؟
ج۔ مسلمانوں کي قبروں کو کھودنا جائز نہيں ہے۔ ہاں اگر غير مسلمانوں کي
ہڈياں حاصل نہ کي جاسکيں اور فوري طبي ضروريات کے تحت ہڈيوں کا حصول
بہت ضروري
ہو تو جائز ہے۔
س٢٠٣۔ کسي ايسے شخص کے سر پر جس کے بال جل گئے ہوں يا بال نہ ہونے کي
وجہ سے لوگوں کے سامنے جانے سے ہتک محسوس کرتا ہو تو بال اگانا جائز
ہے؟
ج۔ بال اگانے ميں بذات خود کوئي حرج نہيں ہے ہاں بالوں کو حلال گوشت
جانور يا انسان کا ہونا چاہئيے۔
س٢٠٤۔ اگر کوئي شخص بيمار ہوجائے اور ڈاکٹر اس کے علاج سے مايوس
ہوجائيں اور يہ کہيں کہ وہ قطعي طور پر مرجائے گا ايسي صورت ميں اس کے
بدن کے بنيادي اور حياتي قسم کے اعضائ جيسے دل گردہ وغيرہ کو اس کي
وفات سے پہلے نکال کر دوسرے انسان کے جسم ميں لگايا جاسکتا ہے؟
ج۔ اگر اس کے بدن سے اعضائ نکالنے سے موت واقع ہو تو يہ قتل کے حکم ميں
ہے اور اگر اعضائ نکالنے سے موت واقع نہ ہو اور اس شخص کي اجازت سے ہو
تو جائز ہے۔
س٢٠٥۔ آيا مردہ شخص کي شريانوں اور رگوں کو کاٹ کر بيمار شخص کے جسم
ميں گانے کے لئے استفادہ کيا جاسکتا ہے؟
ج۔ اگر ميت سے اس کي زندگي ميں اجازت لے لي ہو يا ميت کے اوليائ اجازت
دے ديں يا کسي نفس محترمہ کي جان بچانا اس پر متوقف ہو تو جائز ہے۔
س٢٠٦۔ ميت کے بدن سے آنکھ سياہ پتلي لے کر اسے کسي دوسرے شخص کو پيوند
کرنے کي کيا ديت ہے؟ جبکہ مذکورہ عمل اکثر اوقات ميت کے اوليائ کي
اجازت کے بغير انجام پاتا ہے اور اگر بالفرض واجب ہو تو آنکھ اور سياہ
پتلي کي کتني ديت ہے؟
ج۔ مسلم ميت کے بدن سے آنکھ کي سياہ پتلي نکالنا حرام ہے جو کہ ديت کا
سبب ہے اور ديت کي مقدار پچاس دينار ہے ليکن اگر ميت سے قبل از موت
اجازت لے لي جائے تو کوئي حرج نہيں ہے اور ديت بھي واجب نہيں ہے۔
س٢٠٧۔ آيا ايک عسکري ادارے کي جانب سے افراد کي شرمگاہ کا معاينہ جائز
ہے؟
ج۔ دوسروں کي شرمگاہ ديکھنا اور دوسروں کے سامنے شرمگاہ عريان کرنے پر
مجبور کرنا جائز نہيں ہے البتہ اگر قانون کي رعايت يا علاج کي غرض ہو
تو جائز ہے۔
س٢٠٨۔ ايک جنگي کے خصتين پر ضرب لگي جس کے نتيجے ميں انہيں کاٹ ديا گيا
اور وہ شخص عقيم ہوگيا، کيا ايسے شخص کے لئے ہارمونک دوائيوں کا کھانا
جائز ہے تاکہ وہ اپني جنس قدرت اور ظاہري مردانگي کي حفاظت کرسکے؟ اور
اگر مذکورہ نتائج کا واحد راہ حل جس سے اس ميں بچے پيدا کرنے کي قدرت
آجائے خصتين کي پيوند کاري ہو جو کہ دوسرے شخص سے لئے جائيں تو اس صورت
کا کيا حکم ہے؟
ج۔ اگر خصيہ کي پيوندکاري ممکن ہو اس طرح سے کہ پيوند کاري کے بعد اس
کے بدن کا زندہ جزئ بن جائے تو پھر نجاست، طہارت کے لحاظ سے کوئي حرج
نہيں اور نہ ہي بچے پيدا کرنے کي قدرت ميں کوئي حرج ہے اور بچہ بھي اسي
کا کہلائے گا اور اسي طرح جنسي قدرت اور ظاہري مردانگي کي حفاظت کے لئے
ہارمونک دوائياں استعمال کرنے ميں بھي کوئي حرج نہيں ہے۔
س٢٠٩۔ مريض کي زندگي بچانے کے لئے گردوں کي پيوندکاري کي بہت اہميت ہے
لہذا ڈاکٹر گردوں کا بينک بنانے کي فکر ميں ہيں اور اس کا معني يہ ہے
کہ بہت سے لوگ اختياري طور پر اپنے گردے ہديہ ديں گے يا فروخت کريں گے
تو آيا گردوں کا بخشنا يا فروخت کرنا يا اعضائ بدن ميں سے کوئي اور عضو
اختياراً بخشنا فروخت کرنا جائز ہے ؟ اور ضرورت کے وقت اس کا کيا حکم
ہے؟
ج۔ حال حيات ميں کسي کا اپنے گردے يا کوئي اور عضو فروخت کرنے يا بخشنے
ميں کوئي حرج نہيں ہے تاکہ دوسرے مريض استفادہ کريں اس شرط کے ساتھ کہ
اس کام سے اسے کوئي قابل توجہ ضرر نہ پہنچ رہا ہو بلکہ جب ايک نفس
محترمہ کو بچانا اس پر متوقف ہو ليکن خود اس شخص کو کوئي حرج اور ضرر
نہ ہو تو اعضائ دينا واجب بھي ہوجائے گا۔
س٢١٠۔ بعض افراد سر ميں چوٹ لگنے کي وجہ سے لا علاج ہوجاتے ہيں اور
اپني يادداشت کھوبيٹھتے ہيں اور بے ہوشي ان پر طاري ہوجاتي ہے ، سانس
لينے کي قدرت بھي نہيں رکھتے اور مادي اور شعاعي اشاروں کا جواب دينے
پر قادر نہيں ہوتے اور ايسي صورت ميں مذکورہ حالت کے بدل جانے کا
احتمال معدوم ہوجاتا ہے، دل کي دھڑکن مصنوعي طور پر کام کرتي ہے اور
مذکورہ حالت چند گھنٹے ، چند دن سے زيادہ باقي نہيں رہتي يہاں تک کہ
زندگي ختم ہوجاتي ہے اور ايسي کيفيت کو علم طب ميں دماغي موت کہا جاتا
ہے جس کے سبب سے شعوري احساس ، ارادي حرکت ختم ہوجاتي ہے ، جبکہ دوسري
طرف بہت سے ايسے مريض ہيں جن کي زندگي ، دماغي موت والے افراد کے اعضائ
سے استفادہ کرکے بچائي جاسکتي ہے، آيا دماغي موت والے مريضوں کے اعضائ
سے استفادہ کرکے دوسرے بيماروں کي زندگي بچانا جائز ہے؟
ج۔ مذکورہ صفات رکھنے والے مريض سے دوسرے بيماروں کے لئے استفادہ کرنا
اگر اس طرح ہو کہ مذکورہ اعضائ نکالنے سے ان کي موت جلدي واقع ہوجائے
اور زندگي تمام ہوجائے تو جائز نہيں ہے۔ ہاں اگر مذکورہ عمل اس کي
اجازت سے انجام پائے جو پہلے لي جاچکي ہو يا عضو ايسا ہو جس پر نفس
محترمہ کي زندگي کا دارومدار ہو تو جائز ہے۔
س٢١١۔ ميں اپنے جسم سے وفات کے بعد استفادہ کرنا چاہتا ہوں اور اپنے
اعضائ بخشا چاہتا ہوں جس کي اطلاع ميں نے متعلقہ افراد کو دے دي ہے اور
انہوں نے کہا ہے کہ ميں مذکورہ خواہش کو وصيت تحرير کردوں اور ورثا کو
بتادوں کيا ايسا کرنا ميرے لئے صحيح ہے؟
ج۔ جسد ميت کے بعض اعضائ سے دوسرے شخص کي جان بچانا يا مرض کے علاج کے
لئے پيوندکاري کرنا جائز ہے اور وصيت کرنا بلامانع ہے ليکن ايسے اعضائ
مستثنيٰ ہيں جنہيں جدا کرنے سے مثلہ کرنے کا عنوان صادق آتا ہو يا جس
کے کاٹنے سے عرفاً ميت کي ہتک حرمت ہوتي ہے۔
س٢١٢۔ خوبصورتي کے لئے پلاسٹک سرجري کا کيا حکم ہے؟
ج۔ بذات خود جائز ہے۔
طبابت کے مسائل
س ٢١٣:فوجي ادارے کے افراد کي طرف سے آيا شرمگاہ کي تفتيش کرنا جائز
ہے؟ تاکہ ختنہ شدہ نہ ہونے والے افراد کي ختنہ کي جائے اور بيماريوں کا
علاج کيا جاسکے اور کيا مذکورہ عمل پر انہيں مجبور کيا جاسکتا ہے۔
ج:دوسرے کي شرمگاہ ظاہر کرنا، نگاہ کرنا اور کسي کو شرمگاہ ظاہر کرنے
کے لئے مجبور کرنا جبکہ کوئي محترم شخص ديکھنے والا موجود ہو تو جائز
نہيں ہے۔ مگر يہ کہ شرمگاہ ظاہر کرنے کي ضرورت ہو جيسے ختنہ يا علاج
کرنا، ليکن مکلف کے ختنہ کیلئے دوسروں پر کوئي ذمہ داري نہيں ہے اور
ختنہ کرنا خود مکلف کي ذمہ داري ہے اور اسي طرح مرض کے علاج کے لئے
شرمگاہ ظاہر کرنا جائز نہيں ہے مگر يہ کہ بيمار کي زندگي خطرہ ميں ہو
تو جائز ہے۔
س٢١٤:ڈاکٹر کي طرف سے خواتين کو لمس کرنے پر نگاہ کرنے کے جواز کے ضمن
ميں لفظ ضرورت کا بار بار ذکر آتا ہے ضرورت کے کيا معني ہيں اور اس کي
حدود کيا ہيں؟
ج:علاج کے وقت ضرورت لمس و نظر کے معني يہ ہيں کہ مرض کي تشخيص اور
علاج عرفاً لمس اور نظر کرنے پر موقوف ہو اور ضرورت کي حدود حاجت اور
توقف کي مقدار کي حد تک ہيں۔
س ٢١٥:آيا ليڈي ڈاکٹر کسي عورت کے مرض کي تشخيص يا تفتيش کے لئے اس کي
شرمگاہ ديکھ سکتي ہے۔
ج:ضرورت کے وقت جائز ہے اس کے علاوہ جائز نہيں ہے۔
س ٢١٦:علاج کے لئے آيا مرد ڈاکٹر عورت کے جسم کو لمس کرسکتا ہے اور اس
پر نظر ڈال سکتا ہے؟
ج:اگر ليڈي ڈاکٹر سے علاج کرنا ميسر نہ ہو تو ضرورت کے وقت مرد ڈاکٹر
کے لئے اگر علاج لمس کرنے اور نگاہ کرنے پر ڈاکٹر کے سامنے بدن عريان
کرنا موقوف ہو تو جائز ہے۔
س٢١٧:ايسي صورت ميں جب ليڈي ڈاکٹر آئينہ کے ذريعے خاتون کا معائنہ
کرسکتي ہے خاتون کي شرمگاہ پر نگاہ ڈالنا اور شرمگاہ کو لمس کرنا جائز
ہے؟
ج:اگر آئينے کے ذريعے معائنہ کا امکان ہو اور لمس کرنے يا بلاواسطہ
نگاہ ڈالنے کي ضرورت نہ ہو تو جائز نہيں ہے۔
س٢١٨: بلڈ پريشر وغيرہ ميں مريض کا بدن لمس کرنا ضروري ہے اگر بلڈ
پريشر ديکھنے والا جنس مخالف سے تعلق رکھتا ہو اور مذکورہ عمل طبي
دستانے پہن کر انجام دينے کا امکان ہو تو آيا بغير دستانے کے مذکورہ
عمل انجام دينا جائز ہے؟
ج:اگر علاج کے لئے کپڑے يا دستانے پہن کر لمس کرنے کا امکان ہو تو مريض
کے بدن کو لمس کرنے کي ضرورت نہيں ہے جو کہ جنس مخالف سے تعلق رکھتا ہے
لہذا جائز نہيں ہے۔
س٢١٩:آيا ڈاکٹر کسي خاتون کے لئے پلاسٹک سرجري کرسکتا ہے جو کہ
خوبصورتي کے لئے ہو اگرچہ لمس اور نظر کا باعث بنے؟
ج:خوبصورتي کے لئے سرجري کرنا کيونکہ کسي مريض کا علاج نہيں ہے لہذا
نگاہ اور لمس جو کہ حرام ہے جائز نہيں ہے ياں اگر جلنے کے علاج کي وجہ
سے سرجري کي جائے اور اس صورت ميں لمس يا نظر کے لئے مجبور ہو تو جائز
ہے۔
س٢٢٠:آيا شوہر کے علاوہ عورت کي شرمگاہ پر مطلقاً نظر ڈالنا حرام ہے
حتيٰ ڈاکٹر کا نظر کرنا؟
ج:شوہر کے علاوہ حتيٰ ڈاکٹر اور ليڈي ڈاکٹر کا عورت کي شرمگاہ پر نظر
ڈالنا حرام ہے ہاں اگر علاج کے لئے مجبور ہو تو جائز ہے۔
س٢٢١:اگر مرد ماہر علاج نسواں ڈاکٹر ليڈي سے زيادہ ماہر ہو يا ليڈي
ڈاکٹر تک رسائي خواتين کے لئے حرج کي حامل ہو تو کيا مرد ڈاکٹر سے علاج
کرانا جائز ہے؟
ج:اگر علاج حرام نگاہ اور لمس پر متوقف ہو تو مرد ڈاکٹر سے علاج کرانا
جائز نہيں ہے۔ ہاں اگر ايسي ليڈي ڈاکٹر تک رسائي سے معذور يا رسائي
مشکل ہوجائے جو کہ معالجہ کے لئے کفايت کرتي ہے، تو مرد سے علاج کرانا
جائز ہے۔
س٢٢٢:آيا ڈاکٹر کے کہنے پر مني ٹسٹ کے لئے استمنائ کرنا جائز ہے؟
ج:اگر علاج اس پر متوقف ہو اور بيوي کے ذريعے مني نکالنا ممکن نہ ہو تو
معالجہ کے لئے جائز ہے۔
ختنہ
س٢٢٣:آيا ختنہ کرنا واجب ہے؟
ج:مرد کے لئے ختنہ کرنا بذات خود واجب ہے اور عمرہ اور حج کے طواف کے
صحيح ہونے کے لئے شرط ہے اور اگر ختنہ ہونے سے پہلے بالغ ہوجائے تو اس
پر واجب ہے کہ اپنا ختنہ خود کرے۔
س٢٢٤:ايک شخص نے ختنہ نہيں کيا ليکن اس کي سپاري مکمل طور پر ظاہر ہے
آيا اس پر ختنہ واجب ہے؟
ج:اگر سپاري پر کسي قسم کا کوئي غلاف نہيں ہے جس کا کاٹنا واجب ہو تو
ختنہ کا سوال ہي ختم ہوجاتا ہے۔
س٢٢٥:آيا لڑکيوں کا ختنہ واجب ہے؟
ج:واجب نہيں ہے۔
|