|
تعويذ اور
استخارہ
س ٣٥٠:آيا تعويذ لکھنے کے عوض پيسے دينا اور لينا جائز ہے؟
ج:ماثورو منقول تعويذ کي کتابت کے عوض پيسے دينے اور لينے ميں کوئي حرج
نہيں ہے۔
س٣٥١:ايسي دعاوں کا کيا حکم ہے جن کے لکھنے والے يہ دعويٰ کرتے ہيں کہ
يہ دعائيں قديم دعاوں کي کتابوں سے لي گئي ہيں ؟ آيا مذکورہ دعائيں
شرعاً معتبر ہيں؟ اور ان سے استفادہ کرنے کا کيا حکم ہے؟
ج:اگر مذکورہ دعائيں آئمہ عليہم السلام سے مروي ہوں يا ان کا مضمون
صحيح ہے تو ان سے طلب برکت کرنے ميں کوئي حرج نہيں ہے اور اسي طرح
مشکوک دعاوں سے اس اميد کے ساتھ کہ آئمہ عليہم االسلام کي طرف سے نقل
ہوئي ہيں طلب برکت کرنے ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
س٣٥٢:آيا استخارے پر عمل کرنا واجب ہے؟
ج:استخارہ پر عمل کرنا شرعاً واجب نہيں ہے ليکن بہتر يہ ہے کہ استخارے
کي مخالفت نہ کي جائے۔
س٣٥٣: اس قول کي بنائ پر کہ عمل خير کے انجام دينے ميں استخارے کي
ضرورت نہيں ہے تو مذکورہ عمل کي کيفيت يا دوران عمل پيش آنے والي متوقع
مشکلات کے بارے ميں استخارہ کرنا جائز ہے؟ اور آيا استخارہ غيب کي
معرفت کا ذريعہ ہے جسے اللہ تعاليٰ کے علاوہ کوئي نہيں جانتا؟
ج:استخارہ مباح اعمال ميں تردد اور حيرت دور کرنے کے لئے کيا جاتا ہے۔
اب يہ تردد خود عمل ميں ہو يا کيفيت عمل ميں لہٰذہ وہ اعمال نيک جن ميں
کوئي تردد نہيں ہے ان ميں استخارے کي گنجائش نہيں ہے اور استخارہ کسي
عمل اور شخص کے مستقبل کي معرفت کا ذريعہ نہيں ہے۔
س٣٥٤:آيا طلاق دينے اور نہ دينے کے لئے قرآن سے استخارہ کرنا صحيح ہے؟
اور اس صورت کا کيا حکم ہے جب کوئي شخص استخارہ کرے اور اس کے مطابق
عمل نہ کرے؟
ج:قرآن اور تسبيح سے استخارہ کرنا کسي خاص موضوع سے مختص نہيں ہے کسي
بھي مباح کام ميں استخارہ حيرت اور تردد کو دور کرنے کے لئے ہے جب
انسان کسي امر کا فيصلہ کرسکے لہٰذہ اس صورت کے علاوہ استخارہ کرنے کي
گنجائش نہيں ہے اور استخارے پر شرعاً عمل کرنا واجب نہيں ہے اگرچہ بہتر
يہ ہے کہ اس کي مخالفت نہ کرے۔
س٣٥٥:آيا تسبيح اور قرآن کے ذريعہ زندگي کے اہم مسائل ميں استخارہ کرنا
جائز ہے مثلاً شادي وغيرہ؟
ج:جس مسئلہ ميں انسان کوئي فيصلہ کرنا چاہتاہے اسے چاہئيے کہ اس مسئلہ
ميں پہلے اچھي طرح غور و فکر کرے يا پھر تجربہ کار اور بااعتماد افراد
سے مشورہ کرے اگرمذکورہ امور سے اس کي حيرت برطرف نہ ہو تو استخارہ
کرسکتا ہے۔
س٣٥٦:ايک مسئلہ ميں ايک سے زيادہ مرتبہ استخارہ کرنا صحيح ہے؟
ج:استخارہ کيونکہ تردد برطرف کرنے کے لئے ہے لہٰذہ ايک بار تردد برطرف
ہونے کے بعد دوبارہ استخارے کي ضرورت نہيں ہے ہاں اگر موضوع تبديل
ہوجائے تو کوئي حرج نہيں ہے۔
س٣٥٧:کبھي کبھي مساجد اور اہلبيت عليہم السلام کے مزاروں پر زيارت کي
کتابوں ميں بعض چيزيں لکھي ہوئي ملتي ہيں مثلاً امام رضا عليہ السلام
کا معجزہ اور اس طريقے سے مذکورہ مکتوب کو لوگوں کے درميان پھيلايا
جاتا ہے اور اس کے آخر ميں يہ لکھا ہوتا ہے کہ جو بھي اسے پڑھے اتني
مرتبہ اسے تحرير کرے اور تقسيم کرے تو اس کي حاجت پوري ہوجائے گي ؟ آيا
يہ امر صحيح ہے؟ اور آيا پڑھنے والے پر لکھنے والے کے بيان شدہ امر پر
عمل کرنا واجب ہے؟
ج:ايسي چيزوں کي کوئي شرعي حيثيت نہيں ہے اور مذکورہ طريقے کے مطابق
پڑھنے والے کے لئے عمل کرنا لازم نہيں ہے۔
|