تعليم و تعلم اور ان کے آداب


س٢٢٦:کيا روز مرہ پيش آنے والے مسائل شرعيہ کو نہ سيکھنا گناہ ہے۔
ج:اگر نہ سيکھنے کي وجہ سے ترک واجب يا فعل حرام کا مرتکب ہو تو ترک واجب اور فعل حرام پر گناہ گار ہوگا۔
س٢٢٧:اگر طالب علم سطحيات تک کے مراحل طے کرلے اور اگر جدوجہد کرلے تو درجہ اجتہاد تک پہنچ سکتا ہے تو کيا ايسے شخص کے لئے تعليم کا جاري رکھنا واجب عيني ہے۔
ج:علوم دين کا طالب ہونا بذات خود اور اسي طرح تعليم کو جاري رکھنا يہاں تک کہ درجہ اجتہاد حاصل کرے عظيم فضيلت ہے، ليکن درجہ اجتہاد پر فائز ہونے کي قدرت و صلاحيت کے سبب ( علم کو جاري رکھنا) واجب عيني نہيں ہوتا۔
س٢٢٨:اصول دين ميں حصول يقين کا کيا طريقہ ہے؟
ج:غالباً برھان و عقلي دلائل سے حاصل ہوتا ہے۔ غايت امر يہ ہے کہ مکلفين کے ادراک و فہم ميں اختلاف مراتب کي وجہ سے برہان اور دليل کا ادراک مختلف ہوتا ہے۔ لہذا اگر کسي شخص کو کسي بھي طريقے سے يقين حاصل ہوجائے تو يہ بہر حال کافي ہے۔
س٢٢٩:حصول علم ميں سستي کرنے کا کيا حکم ہے؟ اور اسي طرح وقت کا ضائع کرنا ؟ آيا وقت کا ضائع کرنا حرام ہے؟
ج:بے کار رہنے اور وقت ضائع کرنے ميں اشکا ل ہے اگر طالب علم طلاب کے لئے مخصوص وظائف سے استفادہ کرتا ہے تو اسے درسي پروگرام کے تحت علم حاصل کرنا چاہئيے وگرنہ اس کے لئے مذکورہ وظائف اور عطيات سے استفادہ کرنا جائز نہيں ہے۔
٢٣٠:اکنامکس کي کلاس کے دوران استاد سودي قرض سے متعلق بعض مسائل پر گفتگو کرتا ہے اور تجارت اور صنعت ميں سود کے استفادہ کے طريقوں کا مقايسہ کرتا ہے مذکورہ تدريس اور اس پر اجرت لينے کا کيا حکم ہے؟
ج:صرف تدريس اور سودي قرضے سے استفادہ کرنے کے طريقوں کا جائزہ لينا حرام نہيں ہے۔
س٢٣١:اسلامي جمہوريہ ميں ماہرين تعليم کو دوسروں کو تعليم دينے کا کونسا صحيح طريقہ اختيار کرنا چاہئيے ؟ اور وہ لوگ کون ہيں جو حساس ٹيکنيکي علوم اور معلومات حاصل کرنے کے مستحق ہيں؟
ج:کسي شخص کا کوئي بھي علم حاصل کرنا اگر مشروع اور بامقصد ہو اور کسي قسم کا فاسد ہونا يا فاسد کرنا لازم نہ آتا ہو تو بلا مانع ہے مگر يہ کہ حکومت اسلامي نے بعض علوم اور معلومات کے لئے خاص قوانين اور ضوابط بنائے ہوں۔
س٢٣٢:آيا ديني مدارس ميں فلسفہ پڑھنا اور پڑھانا جائز ہے۔
ج:ايسے شخص کے لئے فلسفہ کي تعليم اور تعلم جائز ہے جو کہ فلسفہ کي تعليم سے اپنے ديني اعتقادات ميں تزلزل نہ آنے سے مطمئن ہو بلکہ بعض موارد ميں تعليم فلسفہ واجب ہے۔
س٢٣٣:گمراہ کن کتابوں کي خريد و فروخت اور مطالعہ کرنا کيسا ہے؟ مثلاً کتاب آيات شيطانيہ؟
ج:گمراہ کن کتابوں کا خريدنا، بيچنا اور رکھنا جائز نہيں ہے ہاں اگر اس کا جواب دينے پر علمي لحاظ سے قادر ہو تو اس مقصد کے لئے جائز ہے۔
س٢٣٤:حيوانات اور انسانوں کے بارے ميں ايسے خيالي قصوں کي تعليم اور انہيں بيا کرنا کيا حکم رکھتا ہے جن کے بيان کرنے پر فوائد مرتب ہوں؟
ج:اگر قرائن سے معلوم ہورہا ہو کہ داستان تخيلي ہے توکوئي حرج نہيں ہے۔
س٢٣٥:ايسي يونيورسٹي يا کالج ميں پڑھنے کا کيا حکم ہے جہاں ايسي عورتوں کے ساتھ مخلوط ہونا پڑتا ہے جو پردے کے بغير آتي ہيں؟
ج:تعليمي مراکز ميں تعليم و تعلم کے لئے جانے ميں کوئي حرج نہيں ہے ۔ ليکن خواتين اور لڑکيوں پر پردہ کرنا واجب ہے اور مردوں پر ان کي طرف حرام کرنا جائز نہيں ہے اور ايسے اختلاط سے بچنا ضروري ہے جو کہ فساد اور حرام ميں مبتلائ ہونے کا سبب ہو۔
س٢٣٦:آيا خاتون کا نامحرم مرد سے ايسے مقام پر جو ڈرائيونگ کے لئے مخصوص ہے ڈرائيونگ سيکھنا جائز ہے؟ جبکہ خاتون شرعي پردے اور عفت کي پابند ہو؟
ج:نا محرم سے ڈرائيونگ سيکھنے ميں کوئي حرج نہيں ہے اگر پردے اور عفت کا خيال رکھا جائے اور فساد ميں نہ پڑنے کا اطمينان ہو ہاں اگر کوئي محرم بھي ساتھ ہو تو بہتر ہے بلکہ اس سے بھي بہتر يہ ہے کہ نامحرم مرد کي بجائے کسي عورت يا اپنے کسي محرم سے ڈرائيونگ سيکھے۔
س٢٣٧:کالج، يونيورسٹي ميں جوان لڑکے اور لڑکياں ايک ساتھ تعليم کي وجہ سے آپس ميں ملتے ہيں اور کلاس فيلو ہونے کي بنياد پر درس وغيرہ کے مسائل پر گفتگو کرتے ہيں ليکن بعض اوقات بغير لذت اور برے قصد کے بغير ہنسي ، مذاق بھي ہوجاتا ہے آيا مذکورہ عمل جائز ہے؟
ج:اگر پردے کي پابندي کي جائے بري نيت بھي نہ ہو اور فساد ميں نہ پڑنے کا اطمينان ہو تو جائز ہے ورنہ جائز نہيں ہے۔
س٢٣٨:حاليہ دور ميں کس علم کا ماہر ہونا اسلام اورمسلمانوں کے لئے بہترہے؟
ج:بہتر يہ ہے کہ علمائ ، اساتيد اور يونيورسٹي کے طلبائ اس علم کو اہميت ديں جو مفيد ہو اور مسلمانوں کي ضرورت ہو تاکہ مسلمان غيروں سے بالخصوص اسلام دشمنوں سے بے نياز ہوسکيں۔ مفيد ترين علم کي تشخيص متعلقہ مسؤلين موجودہ شرائط کو مد نظر رکھ کر کرديں گے۔
س٢٣٩:گمراہ کن کتابوں اور دوسرے مذاہب کي کتابوں کا مطالعہ کرنا کيسا ہے؟ تاکہ ان کے دين اور عقائد کے بارے ميں زيادہ اطلاعات اور معرفت حاصل ہوسکے؟
ج:فقط معرفت اور زيادہ اطلاعات کے لئے جائز ہونا مشکل ہے ہاں اگر کوئي شخص گمراہ کنندہ مواد کي تشخيص دے سکے اور اس کے ابطال اور اس کا جواب دينے پر قادر ہو توجائز ہے البتہ اس شرط کے ساتھ کہ اپنے بارے ميں مطمئن ہو کہ حق سے گمراہ نہيں ہوگا۔
س٢٤٠:بچوں کو ايسے اسکولوں ميں داخلہ دلانے کا کيا حکم ہے جہاں بعض فاسد عقائد تدريس کئے جاتے ہوں اس فرض کے ساتھ کہ بچے ان سے متاثر نہيں ہوں گے؟
ج:اگر ديني عقائد کے فاسد ہونے کا خوف نہ ہو اور باطل افکار کي ترويج کرنے کا امکان نہ ہو اور فاسد اور گمراہ کن مطالب سے دوري کرنے کا امکان ہو تو جائز ہے۔
س٢٤١:ميڈيکل کالج کا طالب علم چار سال سے ميڈيکل کالج ميں زير تعليم ہے جبکہ اسے ديني علوم کا بہت شوق ہے ، آيا اس پر واجب ہے کہ تعليم جاري رکھے يا اسے ترک کرکے علوم ديني حاصل کرے؟
ج:طالب علم کو اپنے علمي شعبہ اختيار کرنے کا حق حاصل ہے ليکن جو مسئلہ قابل توجہ ہے وہ يہ ہے کہ ديني علوم اس لئے قابل اہميت ہيں کہ اسلامي معاشرے کي خدمت کرنے کي قدرت حاصل ہو جبکہ ميڈيکل کي تعليم بھي امت اسلامي کے لئے علاج ، صحت اور ابدان کو نجات ديتي ہے اور اس کي بھي بہت اہميت ہے۔
س٢٤٢:استاد نے کلاس ميں ايک طالب علم کو سب سے کے سامنے بہت شدت سے ڈانٹا طالب علم بھي ايسا کرسکتا ہے يا نہيں؟
ج:طالب علم کے لئے اس طرح جواب دينا جو مقام استاد کے لائق نہ ہو جائز نہيں ہے، استاد کي حرمت کا خيال رکھنا چاہئيے کلاس کے نظم کو برقرار رکھنا چاہئيے البتہ شاگرد قانوني چارہ جوئي کرسکتا ہے اسي طرح استاد پر واجب ہے کہ وہ بھي طالب علم کي حرمت کا دوسرے طلاب کے ساتھ پاس رکھے اور تعليم و تربيت کے اسلامي آداب کي رعايت کرے۔

 

استفتاآت (٢)
حرام معاملات
طبّي مسائل
تعلیم و تعلم اور فن کاري کے حقوق
میڈ یکل
طبا عت ،تالیف اور فن کاري کے حقوق
غیر مسلمین کے سا تھ تعلقات
ظالم حکومت ميں کام کرنا
لباس کے احکام
مغربي ثقا فت کي پیروي
ہجرت کرنا اور سیا سي پناہ لینا
جاسوسي،چلغوري اور اسرارکا فاش
سگریٹ نوشي اور نشہ آور اشیائ
داڑھي اور مونچھ
محفل گناہ ميں حاضر ہونا
تعویذ اور استخارہ
دیني رسومات کا احیائ
ذخیرہ اندوزي اور اسراف
تجارت کے احکام
احکام خیارات
تجارت کے مختلف مسائل
سود کے احکام
حق شفاعت